75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 75:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

ہم کو روز قیامت کی قسم۔

(لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔ (لآ) یہاں نافیہ ہے نہ زائدہ۔ اسے صرف استفتاح اور مابعد کلام کے اہتمام کے لیے لایا گیا ہے قسم کے ساتھ کثرت سے اس کو لانے کی بنا پر استفتاح کے لیے اس کا استعمال نادر نہیں ہے، اگرچہ اس کو استفتاح کلام کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ اس مقام پر جس چیز کی قسم کھائی گئی ہے وہی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا۔ لوگوں کو ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا پھر اللہ کے حضور ان کو کھڑا کیا جائے گا اور وہ اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔
Ayah 75:2

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر کھڑے کئے جائیں گے)

(وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ) اور نفس لوامہ کی قسم۔ اس سے مراد تمام نیک اور بد نفوس ہیں۔ نفس کو اس کے کثرت تردد، اے ملامت کرنے اور اپنے احوال میں سے کسی حال پر بھی اس کے عدم ثبات کی بنا پر (لوامہ) سے موسوم کیا گیا ہے نیز اس بنا پر اس کو لوامہ کہا گیا ہے کہ یہ موت کے وقت انسان کو اس کے افعال پر ملامت کرے گا مگر مومن کا نفس اسے دنیا ہی میں اس کو تاہی، تقصیر اور غفلت پر ملامت کرتا ہے جو حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس سے ہوتی ہے۔
Ayahs 75:3–6

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں۔

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟

پس اللہ تعالیٰ نے جزا کی قسم، جزا پر قسم اور مستحق جزا کو جمع کردیا، پھر اس کے ساتھ ساتھ آگاہ فرمایا کہ بعض معاندین قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں، چناچہ فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ ) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ؟ یعنی مرنے کے بعد جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا (قال من یحی العظام وھی رمیم۔ یٰس۔ 78) کہنے لگا جب ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ عطا کرے گا ؟ پس اپنی جہالت اور عدوان کی بنا پر اس نے اللہ تعالیٰ کے ہڈیوں کی تخلیق پر، جو کہ بدن کا سہارا ہیں قادر ہونے کو بہت بعید سمجھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریع سے اس کا رد کیا (بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ) ۔ کیوں نہیں۔ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کریں مراد ہے اس کی انگلیوں کی اطراف اور اس کی ہڈیاں اور یہ بدن کے تمام اجزا کی تخلیق کو مستلزم ہے، کیونکہ جب انگلیوں کے اطراف اور پورو جود میں آگئے تو مکمل جسد کی تخلیق ہوگئی۔ اس کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کرنا کسی دلیل پر منحصر نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو، یہ بات تو اس سے صرف اس بنا پر صادر ہوئی ہے کہ اس کا ارادہ اور قصد قیامت کے دن کو جھٹلانا ہے جو اس کے سامنے ہے یہاں (فجور) کا معنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے احوال کا ذکر کیا۔
Ayah 75:7

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

جب آنکھیں چندھیا جائیں

یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو عظیم دہشت کی بنا پر نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی، اور جھپکیں گی نہیں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے 0 انما یوخرھم لیوم۔۔۔۔ تا۔۔۔ ھوآء۔ ابراہیم 42، 43) ان کو تو صرف اس دن تک مہلت دیتا ہے جس دن دہشت کے مارے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور لوگ منہ اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف نہ لوٹ سکیں گی اور (خوف کی وجہ سے) ان کے دل ہوا ہورہے ہوں گے۔
Ayah 75:8

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے

(وَخَسَفَ الْقَمَرُ ) چاند کی روشنی اور اس کی طاقت زائل ہوجائے گی۔
Ayah 75:9

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں

(وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ) اور سورج اور چاند جمع کردیے جائیں گے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ کبھی اکٹھے نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو جمع کرے گا، چاند گہنا جائے گا اور سورج کو بےنور کردیا جائے گا اور ان دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے گا تاکہ بندے دیکھ لیں کہ چاند اور سورج بھی اللہ تعالیٰ کے مسخر ہیں تاکہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے تھے وہ دیکھ لیں وہ جھوٹے تھے۔
Ayahs 75:10–11

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

بیشک کہیں پناہ نہیں

(يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ ) ان دن انسان کہے گا، یعنی جب وہ بےقرار کردینے والے زلزلے دیکھے گا تو پکار اٹھے گا (اَيْنَ الْمَفَرُّ ) آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ جو مصیبت ہم پر نازل ہوئی ہے اس سے گلو خلاصی اور نجات کہاں ہے ؟ (کلا لاوزر) کوئی پناہ گاہ نہیں۔ یعنی اللہ کے ٹھکانے کے سوا کسی کے لیے کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔
Ayahs 75:12–13

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانہ ہے

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے ہونگے سب بتادئیے جائیں گے

(اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرُّ ) اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانہ ہوگا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ وہ چھپ سکیں یا اس جگہ سے بھاگ سکے۔ اسے وہاں ضرور ٹھہرایاجائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا وسزا دی جائے، اس لیے فرمایا (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ) اس دن انسان کو بتادیا جائے گا کہ جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔ انسان کو اس کے اول وقت اور آخر وقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کردیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کرسکے گا۔
Ayah 75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

(بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ) بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔ یعنی گواہ اور محاسب ہے۔
Ayah 75:15

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ عذر و معذرت کرتا رہے

(وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ ) ، خواہ معذرت پیش کرے۔ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اقرا کتابک بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ بنی اسرائیل 14) ۔ اپنا اعمال نامہ پڑھ آج تو خود ہی اپنا محاسب کافی ہے بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار سے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے نیز رضامندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہوگیا۔ (فیومئذ لاینفع الذین ظلموا معذرتھم ولاھم یستعتبون۔ الروم 57) ۔ اس روز ظالموں کو، ان کی معذرت کوئی فائدہ دے گی نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔
Ayah 75:16

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ وحی کے پڑھنے کیلئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اسکو جلد یاد کرلو

جب حضرت جبرائیل وحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ (حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر حضرت جبرائیل کے فارغ ہونے سے پہلے ہی جلدی سے جبرائیل کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کردیتے پس اللہ نے آپ کو اس سے روک دیا اور فرمایا (ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ۔ طہ 114) اور قرآن جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔ یہاں فرمایا (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ ) وحی کے پڑھنے کے لیے اپنی زبان جلدی نہ چلایا کریں کہ اسے جلد یاد کرلو۔ پھر اللہ تبارک وتعالی نے آپ کو ضمانت دی کہ آپ ضرور اس کو حفظ کرلیں گے اور اس کو پڑھ سکیں گے اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے سینے میں جمع کردے گا۔
Ayah 75:17

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

اسکا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے

چناچہ فرمایا (اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه ٗ ) اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھوا دینا ہمارے ذمے ہے یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کردی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔
Ayah 75:18

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم اسکو سنا کرو اور پھر اس طرح پڑھا کرو

( فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ ) یعنی جبرائیل قرآن کی قرات مکمل کرلیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے تب اس وقت جبرائیل نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کی اتباع کیجئے اور قرآن کو پڑھیے۔
Ayah 75:19

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر اس (کے) معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

(ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ ) یعنی اس کے معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے۔ رسول اللہ نے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہذا اس کے بعد جبرائیل آپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتے اور جب جبرائیل قرات سے فارغ ہوجاتے تو پھر آپ پڑھتے۔ اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ سے فارغ ہوجائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو مستحسن ہو تو اس کلام سے فارغ ہونے سے قبل اس کو رد یا قبول کرنے میں جلدی نہ کرے تاکہ اس میں جو حق یا باطل ہے وہ اچھی طرح واضح ہوجائے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تاکہ اس میں صواب کے پہلو سے کلام کرسکے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے امت کے سامنے جس طرح قرآن کے الفاظ کو بیان فرمایا ہے، اسی طرح آپ نے اس کے معانی کو بھی ان کے سامنے بیان فرمایا۔
Ayahs 75:20–21

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو

وہ چیز جو تمہاری غفلت اور اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر سے روگردانی کی موجب ہے یہ ہے کہ تم (تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ) دنیا کو پسند کرتے ہو، اور تم اس کو حاصل کرنے اور اس کی لذت وشہوات میں کوشاں رہتے ہو، تم آخرت پر اس کو ترجیح دیتے اور آخرت کے لیے عمل کرنا چھوڑ دیتے ہو کیونکہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلد مل جاتی اور انسان جلد مل جانے والی چیز کا گرویدہ ہوتا ہے۔ آخرت کے اندر ہمیشہ رہنے والی جو نعمتیں ہیں، ان میں تاخیر ہے اس لیے تم ان سے غافل رہو اور ان کو چھوڑ بیٹھے ہو، گویا کہ تم ان نعمتوں کے لیے پیدا ہی نہیں کیے گئے یہ دنیا کا گھر ہی تمہارا دائمی ٹھکانہ ہے جس میں قیمتی عمریں گزاری جا رہی ہیں اس دنیا کے لیے رات دن بھاگ دوڑ ہورہی ہے اور اس سے تمہارے سامنے حقیقت بدل گئی اور بہت زیادہ خسارہ حاصل ہوا۔ اگر تم نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہوتی اور تم نے ایک صاحب بصیرت اور عقل مند شخص کی طرح انجام پر غور کیا ہوتا تو تم کامیاب ہوتے، ایسا نفع حاصل کرتے جس کے ساتھ خسارہ نہ ہوتا اور تمہیں ایسی فوزوفلاح حاصل ہوتی جس کی مصاحبت میں بدبختی نہیں ہوتی۔
Ayah 75:22

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہونگے

پھر اللہ تعالیٰ نے اہل آخرت کے احوال اور ان میں تفاوت کو بیان کرتے ہوئے ان امور کا ذکر کیا ہے جو آخرت کی ترجیح کی طرف دعوت دیتے ہیں چناچہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ) اس دن کئی چہرے حسین اور خوبصورت ہوں گے، ان کے دلوں کی نعمت، نفوس کی مسرت اور ارواح کی لذت کے باعث انکے چہروں پر رونق اور نور ہوگا۔
Ayah 75:23

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

(اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہونگے

(اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ) اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ یعنی وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق اپنے رب کا دیدار کریں گے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہر روز صبح وشام اپنے رب کا دیدار کریں گے اور کچھ لوگ ہر جمعہ ایک مرتبہ دیدار کر پائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے کریم چہرے اور اس کی بےپناہ جمال سے، جس کی کوئی مثال نہیں، متمتع ہوں گے جب وہ اپنے رب کا دیدار کریں گے تو وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جو انہیں حاصل ہوں گی انہیں اس دیدار سے ایسی لذت اور مسرت حاصل ہوگی جس کی تعبیر ممکن نہیں، ان کے چہرے بارونق ہوں گے اور ان کی خوبصورتی اور جمال میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ہم اللہ کریم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں کی معیت سے سرفراز کرے۔
Ayah 75:24

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے منہ اس دن اداس ہونگے

پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا (وَوُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍۢ بَاسِرَةٌ) اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔
Ayah 75:25

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

خیال کرینگے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے

(تَظُنُّ اَنْ يُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ) خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے، یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔
Ayahs 75:26–27

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنیوالا ہے

اللہ تبارک وتعالی قریب المرگ شخص کا حال بیان کرکے اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے جب کہ اس کی روح ہنسلی کی ہڈی ( حلق) تک پہنچ جائے گی۔ (التراقی) سے مراد وہ ہڈیاں ہیں جنہوں نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے پس اس وقت نہایت شدید درد ہوگا اور انسان ہر وہ سبب اور وسیلہ تلاش کرے گا جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے شفا اور راحت حاصل ہوگی۔ اس لیے فرمایا (وقیل من راق) یعنی کہا جائے گا کہ کون ہے جو اس پر جھاڑ پھونک کرےَ ؟ کیونکہ اسباب عادیہ پر ان کی امیدیں منقطع ہو کر اسباب الٰہیہ پر لگ گئی ہیں مگر جب قضا وقدر کا فیصلہ آجاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔
Ayah 75:28

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اس (جاں بلب) نے سمجھا کہ اب سے جدائی ہے

(وَّظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ ) اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اب دنیا سے جدائی ہے۔
Ayahs 75:29–30

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے

(وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ) اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ یعنی تمام سختیاں جمع ہو کر لپٹ جائیں گی، معاملہ بہت بڑا اور کرب بہت سخت ہوجائے گا، خواہش ہوگی کہ بدن سے روح نکل جائے جو اس سے لپٹی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہے پس روح کو اللہ تعالیٰ کے پاس لے جایا جائے گا تاکہ وہ اس کو اس کے اعمال کی جزا دے اور اس کے کرتوتوں کا اقرار کرائے یہ زجر وتوبیخ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ؟ فلوں کو اس منزل کی طرف سے لے کر چلتی ہے جس میں ان کی نجات اور ان امور سے روکتی ہے جن میں ان کی ہلاکت ہے مگر وہ معاند حق جسے آیات کوئی فائدہ نہیں دیتیں، وہ اپنی گمراہی، کفر اور عناد پر جمارہتا ہے۔
Ayahs 75:31–32

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

تو اس (ناعاقبت اندیش نے تو کلام خدا کی) تصدیق کی نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

(فَلَا صَدَّقَ ) پس نہ اس نے تصدیق کی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لایا۔ ( وَلَا صَلّٰى) اور نہ اس نے نماز ہی پڑھی۔ بلکہ اس نے حق کی تصدیق کرنے کے بجائے تکذیب۔ اور امر ونہی سے روگردانی کی یہی وہ شخص ہے جس کا دل مطمئن اور اپنے رب سے بےخوف ہے بلکہ وہ چلا جاتا ہے۔
Ayahs 75:33–35

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

(اِلٰٓى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰى) اپنے گھروالوں کی طرف اکڑتا ہوا۔ یعنی اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سنائی فرمایا (اولی لک فاولی، ثم اولی لک فاولی) افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے، پھر افسوس ہے تجھ پر، پھر افسوس ہے۔ یہ وعید کے کلمات ہیں اور تکرار وعید کے لیے ان کو مکرر کہا ہے۔
Ayah 75:36

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا

(پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلائی، چناچہ فرمایا (اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى) یعنی کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا، اسے نیکی کا حکم دیا جائے گا نہ برائی سے روکا جائے گا، اسے ثواب عطا کیا جائے گا نہ عقاب میں مبتلا کیا جائے گا ؟ یہ باطل گمان اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوئے ظن ہے جو اس کی حکمت کے لا ئق نہیں۔
Ayahs 75:37–38

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اسکے اعضاء کو درست کیا)

(اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْـنٰى۔ ثُمَّ كَانَ ) کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے پھر ہوگیا۔ ؟ یعنی منی کے بعد (علقۃ) خون کا لوتھڑا (فخلق) پھر اللہ نے اس سے جان دار پیدا کیا اور اسے درست کیا یعنی اس کو مہارت سے محکم کرکے بنایا۔
Ayah 75:39

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

(فَجَــعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْاُنْثٰى) پھر اس سے نر اور مادہ جوڑے بنائے کیا نہی وہ یعنی وہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو ان مختلف مراحل سے گزارا۔
Ayah 75:40

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا اس کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے ؟

(اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى) کیا نہیں اس پر قادر کہ وہ مردوں کو زندہ کردے ؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔