Ayahs 75:1–22:۔ ” لا اقسم “ لا زائدہ ہے جو کلام عرب میں تاکید کے لیے آتا ہے جواب قسم محذوف ہے بقرینہ ما بعد ای لتبعثن ولتحاسبن (مظہری) ۔ یعنی تم ضرور دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے اور تم سے ضرور حساب لیا جائے گا۔ اس لیے قیامت کو مان لو اور اعراض نہ کرو۔ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں ثبوت قیامت پر دو قسمیں بطور شہادت پیش کی گئی ہیں۔ اول خود یوم قیامت کو قیامت پر بطور شاہد پیش فرمایا ہے۔ ہزاروں لاکھوں انسان قیامت کے ہول اور اس کے شدائد سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں تو آخر وہ کوئی چیز تو ہے ہی جس سے وہ خائف ہیں۔ تائید : ” رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ۔ تا۔ یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار “ (نور رکوع 5) ۔ دوم، نفس لوامہ بھی قیامت پر شاہد کیونکہ لاکھوں بندگان خدا کے نفوس لوامہ ان کو قیامت کے ڈر سے اعمال صالحہ میں کوتاہی پر ملامت کر رہے ہیں۔ تو کیا یہ بات اس امر کی دلیل نہیں کہ قیامت ایک حقیقت ہے۔
Ayahs 75:3–43:۔ ” ایحسب الانسان “ یہ سورت کا دعوی ہے اور منکرین قیامت پر زجر ہے۔ منکرین قیامت کا خیال ہے کہ ہم ان کو بوسیدہ اور مٹی میں مل کر معدوم ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ جمع نہ کرسکیں گے اس لیے وہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں، گویا حشر و نشر کو وہ ہماری قدرت سے بعید تصور کرتے ہیں۔ بلیٰ کے بعد نجمع مقدر ہے اور قادرین اس کے فاعل سے حال ہے۔ بنان، بنانۃ کی جمع ہے یعنی انگلیوں کی پوریں یا خود انگلیاں (روح) کیوں نہیں ہم ضرور ہڈیاں جمع کرلیں گے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کی پوریں بھی برابر کرلیں گے تو کیا اس کی ہڈیوں کے ڈھانچے کو ہم استوار نہ کرسکیں گے ؟۔
Ayahs 75:5–64:۔ ” بل یرید “ یہ ماقبل یعنی ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ سے بطور ترقی ہے۔ لیفجر ای لیکر و یکذب۔ امامہ ای ما یاتی امامہ۔ یعنی جو کچھ آگے آنے والا ہے مراد حساب کتاب اور جزاء وسزا ہے۔ یہ منکرین نہ صرف دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کرتے ہیں، بلکہ حقیقت میں وہ جزاء و سزا کا انکار کرنا چاہتے ہیں جو اس کے بعد ہے جو حشر و نشر کا اصل مقصد ہے۔ قال ابن عباس : یعنی الکافر یکذب بما مامہ من البعث والحساب وقالہ عبدالرحمن بن زید (قرطبی ج 19 ص 93) ۔ ” یسئل ایان یوم القیامۃ “ بطور استہزاء و تمسخر پوچھتا ہے۔ اجی ! وہ قیامت کب آئے گی جس سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں۔
Ayahs 75:7–10ف 5:۔ ” فاذا برق “ یہ تخویف اخروی ہے اور اس میں قیامت کے بعض احوال واہوال کا ذکر ہے۔ جب آنکھیں ہیبت اور شدت خوف سے حیران ہوجائیں گی، چاند بےنور ہوجائے گا۔ سورج اور چاند کو اکٹھا کردیا جائے گا دونوں بےنور ہوجائیں گے اور اکٹھے ہی مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اس دن انسان کہے گا آج کوئی بھاگنے کی جگہ ہے جہاں بھاگ کر پناہ لی جاسکے اور آج کے شدائد واہوال سے جان بچائی جاسکے ؟ قال ابن عباس و ابن مسعود جمع بینھما ای قرن بینھا فی طلوعہما من المغرب اسودین مکورین مظلمین الخ (قرطبی ج 19 ص 93) ۔
Ayahs 75:11–126:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے قیامت کے عذاب سے بچنے کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔ (کلا) ردع عن طلب المفر (لاوزر) لا ملجا (مدارک) ۔ الی ربک یومئذ المستقر، اس دن صرف تیرے پروردگار ہی کی ذات جائے پناہ ہوگی اس کے سوا کوئی ملجا و ماوی نہ ہوگا ای لا ملجا وماوی نہ ہوگا ای لا ملجا و منجی لھم غیرہ عز وجل (روح) ۔
Ayahs 75:13–157:۔ ” ینبؤ الانسان “ ماقدم، جو کچھ اس نے کیا ہے اور اپنے لیے آگے بھیجا ہے۔ اچھا ہو یا برا۔ واخر، جو اس نے ترک کیا، خیر ہو یا شر۔ یا وہ طریقہ حسنہ یا سیئہ جو اس نے جاری کیا جس پر اس کی موت کے بعد بھی عمل ہوتا رہا (قرطبی، بیضاوی، کبیر) ۔ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال حسنہ وسیئہ سے آگاہ کردیا جائے گا۔ ” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے یعنی اس دن کسی کو اس کے اعمال کی خبر دینے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی، بلکہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود بخود عالم اور ان پر شاہد ہوگا۔ اگرچہ وہ ہر معذرت اور اپنے بچاؤ کا ہر بہانہ بھی پیش کردے یعنی ہر ممکن طریق سے اپنے بچاؤ کی کوشش کرنے کے باوجود اس کا دل گواہی دے گا کہ وہ مجرم ہے اس لیے بچنا ناممکن ہے ای ھو علی نفسہ حجۃ وھو شاھد علیہا ولو اتی بکل عذر فی الذب عنہا ففیہ تنبیہ علی ان الذب لا رواج لہ (روح ج 29 ص 141) ۔
Ayahs 75:16–198:۔ ” لا تحرک “ یہ جملہ معترضہ ہے۔ روافض کہتے ہیں ان آیتوں کا ما قبل اور ما بعد سے کوئی تعلق نہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں تغیر و تبدل ہوچکا ہے اور ان آیتوں کو ان کے موزوں مقام سے اٹھا کر یہاں رکھ دیا گیا ہے۔ لیکن یہ اعتراض سراسر باطل ہے، کیونکہ یہ ترتیب توقیفی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے آپ کی زندگی ہی میں مکمل ہوچکی تھی۔ اس پر امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا اجماع ہے اور قرآن میں تغیر و تبدل اور زیادۃ و نقصان کا قول کفر ہے۔ باقی رہی ان آیتوں کی سیاق وسباق سے مناسبت تو اس میں کئی وجوہ ہیں۔ وجہ اول، ممکن ہے گذشتہ آیتوں کے نزول کے وقت آنحضرت ﷺ نے ساتھ ساتھ پڑھنا شروع کردیا ہو تاکہ یاد ہوجائے اور کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے تو اللہ تعالیٰ نے اسی وقت یہ آیتیں نازل فرما کر آپ کو اس سے روک دیا ہو (کبیر) ۔ وجہ دوم، یہ آیتیں ایک لطیف نکتہ بیان کرنے کے لیے یہاں لائی گئی ہیں جب اللہ تعالیٰ ایسا قادر ہے کہ ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال کی خبر دے سکتا ہے تو وہ آپ کے سینے میں قرآن کو بھی جمع کرسکتا ہے اس لیے آپ غم نہ کریں (حضرت الشیخ قدس سرہ) ۔ وجہ سوم، جس طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اپنی وحی فرشتے کے چلے جانے کے بعد پوری ترتیب کے ساتھ حرف بحرف بدوں ادنی فروگذاشت اپنے پیغمبر کے سینے میں جمع کردے کیا اس پر قادر نہیں کہ بندوں کے اگلے اور پچھلے اعمال جن میں سے بعض کو کرنے والا بھی بھول چکا ہوگا سب جمع کر کے ایک وقت میں سامنے کردے اور ان کو خوب طرح یاد دلا دے اور اسی طرح ہڈیوں کے منتشر ذرات کو سب جگہ سے اکٹھا کر کے ٹھیک پہلی ترتیب پر انسان کو از سر نو وجود عطا فرما دے بیشک وہ اس پر اور اس سے کہیں زیادہ پر قادر ہے (تفسیر عثمانی) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں تین باتوں کی ذمہ داری لی ہے۔ اول قرآن کو آپ کے سینہ مبارک میں محفوظ رکھنا۔ دوم، پھر جس طرح اترا ہے اسی طرح آپ کی زبان مبارک سے اس کو پڑھوانا اور ادا کرانا۔ سوم، قرآن مجید کے معانی اور اس کے احکام کا بیان۔ فرمایا نزول قرآن کے وقت اسے جلدی یاد کرلینے کی غرض سے آپ ساتھ ساتھ نہ پڑھا کریں، بلکہ زبان بھی نہ ہلائیں کیونکہ قرآن کو آپ کے سینے میں جمع کرنا اور پھر اسی طرح آپ کی زبان سے اسے پڑھوانا بھی ہمارے ذمہ ہے اس لیے ساتھ ساتھ پڑھنے کے بجائے جب ہماری طرف سے اس کی تلاوت ختم ہوجائے اس کے بعد آپ تلاوت فرمایا کریں۔ ہم آپ کی زبان پر اس کی صحیح صحیح تلاوت جاری کردیں گے۔ پھر قرآن کے معارف و معانی کی تشریح اور اس کے احکام کی تفصیلات کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اہل سنت و جماعت کا اس پر اجماع ہے کہ اس قرآن کو جس کیفیت اور کمیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے سینہ مبارک میں جمع فرمایا تھا اسی کیفیت وکمیت کے ساتھ آپ نے صحابہ کرام ؓ کو اس کی تعلیم دی اور وہ بعینہ بلا تغیر وتبدل، بلا تقدیم وتاخیر اور بلا زیادۃ و نقصان آج ہمارے سینوں اور سفینوں میں محفوظ ہے۔ اور قرآن میں کسی بھی قسم کی تحریف کو تسلیم کرنا صریح کفر ہے۔
Ayahs 75:20–219:۔ کلا، حرف ردع ہے۔ بل تحبون العاجلۃ، یہ بل یرید الانسان لیفجر امامہ سے متعلق ہے یعنی قیامت کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔ تمہیں چاہئے کہ تم آخر پر ایمان لا کر دنیوی زندگی میں ایمان و عمل سے توشہ آخرت تیار کرو مگر تم ایسا نہیں کرتے ہو بلکہ دنیا کو پسند کرتے ہو اور آخرت کو نظر انداز کرتے ہو۔ دنیا کی خاطر تو بھاگ دوڑ میں مصروف ہو، لیکن آخرت کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہو۔
Ayahs 75:22–2510:۔ ” وجوہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ ” ناضرۃ “ تروتازہ، خوش و خرم، ہشاش بشاش، قیامت کے دن کچھ چہرے (یعنی مومنوں کے چہرے) نہایت تروتازہ اور خوش وخرم ہوں گے اور دیدار خداوندی سے محظوظ ہوں گے۔ ” ووجوہ یومئذ باسرۃ “ بےرونق، ادا، بگڑے ہوئے۔ ” فاقرۃ “ کمر توڑ دینے والی سختی۔ اور کچھ چہرے (یعنی کافروں کے) اس دن حسرت و یاس میں بےرونق اور بگڑے ہوئے ہوں گے اور انہیں یقین ہوگا کہ آج ان کا انجام نہایت ہولناک ہوگا، وہ شدید ترین عذاب میں گرفتار ہوں گے اور کمر توڑ دینے والے مصائب کا نشانہ بنیں گے۔
Ayahs 75:26–3011:۔ ” کلا اذا “ کلا حرف ردع ہے اور بل تحبون العاجلۃ سے متعلق ہے یعنی دنیا سے محبت نہ کرو اور آخرت کی فکر کرو۔ یا بمعنی حقا ہے اور الی ربک یومئذن المساق سے متعقل ہے ای حقا ان المساق الی اللہ (قرطبی) ۔ مَنْ پر سکتہ ہے جب انسان کی روح موت کے وقت ہنسلیوں تک آپہنچے گی تو اس کے پاس موجود لوگ کہیں گے کون کون ؟ وہ کہے گا کوئی ہے دم اور جھاڑ پھونک جاننے والا جو اس وقت اس مصیبت سے بچا سکے۔ اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب دنیا سے اٹھنے اور اعزہ و اقارب سے جدا ہونے کا وقت ہے اب اس کی پنڈلی پنڈلی کے ساتھ جڑ جائے گی یقینا یہ دن خدا کی طرف کوچ اور روانگی کا دن ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیل من کا قائل اور ہے اور راق کا قائل اور ہے۔
Ayahs 75:31–3512:۔ ” فلا صدق، یہ منکرین حشر و نشر اور جاحدین جزاء وسزا پر زجر ہے۔ اس نے نہ تو توحید و رسالت اور حشر و نشر کو مانا، ایمان لایا نہ نماز پڑھی، نہ دوسرے اعمال صالحہ کی طرف توجہ دی بلکہ تمام ضروریات دین، توحید، رسالت، قیامت وغیرہا کا انکار کیا اور قرآن و ایمان سے اعراض کیا اور کبر و غرور سے اکڑتا ہو اپنے اہل کی طرف چلا گیا تو اب اس کے لیے ہلاکت و تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اولی لک فاولی، ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے، تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت پھر کہتا ہوں تمہارے لیے ہلاکت ہے ہلاکت، تھدید بعد تھدید ووعید بعد وعید (قرطبی ج 19 ص 112) ۔
Ayah 75:3613:۔ ” ایحسب “ یہ زجر ہے اور ابتداء سورت۔ ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ سے متعلق ہے۔ سدی، بےکار، مہمل۔ جس پر نہ کوئی ذمہ داری عائد اور نہ اسے جزاء سزا ہو۔ (سدی) مہملا لا یکلف ولا یجازی (بیضاوی) ۔ کیا منکرین قیامت کا خیال ہے کہ ان کو ویسے ہی بےکار اور بےمقصد پیدا کیا گیا ہے ؟ اور مرنے کے بعد جزاء وسزا کے لیے ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا نہیں نہیں، ان کی طرف پیغمبر مبعوث کر کے ان کو ایمان وعمل کا مکلف کیا گیا ہے اور ان پر قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ ایمان و تصدیق کی صورت میں وہ ثواب کے مستحق ہوں گے اور انکار وجحود پر عذاب کے مستحق ہوں گے وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اپنے عملوں کے مطابق جزاء وسزا پائیں گے۔
Ayahs 75:37–4014:۔ ” الم یک “ یہ ثبوت قیامت پر عقلی دلیل ہے۔ انسان اپنی پیدائش سے پہلے منی کا ایک قطرہ تھا جو باپ کی پشت سے رحم مادر میں آیا نطفہ نے قدرت خداوندی سے جمے ہوئے خون اور پھر گوشت کی صورت اختیار کی پھر اللہ نے اس کامل و مکمل انسان کی شکل میں پیدا فرمایا اور اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھو کہ ایک ہی نطفہ سے نر و مادہ کو پیدا کیا۔ تو کیا جو ایسا قادر وعلیم اور صانع و حکیم ہے وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا ایسے قادر مطلق کی قدرت سے باہر نہیں۔ انسان کی پیدائش کو تسلیم کرنا حالانکہ وہ حشر و نشر سے زیادہ عجیب و غریب ہے اور قیامت کا انکار کرنا کمال حماقت یا کمال عناد کا نتیجہ ہے۔ انکار جوار البعث مع مشاھدۃ ما ھو اعجب منہ یقتضی کمال الحمق او العناد (مظہری ج 10 ص 146) ۔
سورة قیامت ختم ہوئی