76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 76:1–2

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کبھی2 گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز جو زبان پر آتی

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے بنایا آدمی کو ایک دو رنگی بوند سے ہم پلٹتے رہے اس کو پھر کردیا اس کو ہم نے سننے والا دیکھنے والا

2:۔ ” ھل اتی “ ھل یہاں باتفاق مفسرین تاکید کے لیے بمعنی قد اتفقوا علی ان ھل ھہنا وفی قولہ تعالیٰ ھل اتاک حدیث الغاشیۃ بمعنی قد (کبیر ج 8 ص 384) ۔ یہاں حشر و نشر پر بطور دلیل انسان کی پیدائش کو بطور نمونہ پیش کیا گیا۔ ہر انسان پر طویل عرصی ایسا آچکا ہے کہ اس عرصہ میں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا۔ ” انا خلقنا الانسان “ امشاج مفرد ہے، جمع نہیں جیسا کہ اس کی بناء سے وہم ہوتا ہے کیونکہ وہ نفۃ مفرد کی صفت واقع ہوا ہے۔ جیسا کہ برمۃ اعشار، ثوب اخلاق اور ارض سباسب اور امشاج کے معنی ہیں۔ مختلط یعنی باہم ملا جلا چونکہ انسان ماں باپ کے نطفوں کے اختلاط سے پیدا ہوتا ہے اس لیے نطفہ کو امشاج سے متصف فرمایا۔ سمع وبصر، عقل و دانش اور فہم وتمیز سے کنایہ ہے پہلے ہر انسان کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ پھر ہم نے اس کو ماں باپ کے مخلوط نطفہ سے پیدا کیا اور اس کو عقل وتمیز کی نعمتوں سے سرفراز کیا تاکہ اس کی آزمائش کریں کہ وہ خداداد عقل و فہم سے کام لے کر اللہ کی ہدایت کو قبول کرتا ہے یا عقل و خرد سے کام نہ لے کر خدا سے بغاوت کرتا ہے۔ یہ۔ یہ حشر و نشر کیلئے ایک نمونہ ہے۔ انسان کو عدم سے وجود میں لانا اور ایک معمولی قطرہ منی سے اس کو پیدا کرنا پھر اس کو عقل و خرد اور فہم و تمییز ایسی خوبیوں سے متصف کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ایک کرشمہ ہے۔ اسی طرح انسانوں کو قیامت کے دن دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ قادر ہے۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو3 سجھائی راہ یا حق مانتا ہے اور یا ناشکری کرتا ہے

3:۔ ” اناھدیناہ “ شاکرا اور کفورا، ھدیناہ میں ضمیر منصوب سے حال ہیں۔ ہم نے انسان کو خواہ شاکر (مومن) ہو یا کفور (کافر) ہر حال میں سیدھی راہ دکھا دی ہے۔ عقل و تمییز بھی عطا کی پھر دلائل کائنات کی کتاب اس کے سامنے کھول کر رکھدی کہ اس میں غور و فکر کر کے حق بات سمجھنے کی کوشش کرے اور پھر ساتھ ہی اپنے پیغمبروں کو ہدایات دے کر ان کے پاس بھیجدیا تاکہ وہ ان کو سمجھائیں اور ان کو اللہ کی راہ دکھائیں اب ان کی مرضی شاکر بنیں یا کفور۔
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے4 یار کر رکھی ہیں منکروں کے واسطے زنجیریں اور طوق اور آگ دہکتی

4:۔ ” انا اعتدنا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ہم نے منکرین کے لیے بیڑیاں، طوق اور بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ قیامت کے دن ہم ان کو پابہ زنجیر کر کے ان کے ہاتھوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ جکڑ کر جہنم کے بھڑکتے شعلوں میں پھینک دیں گے۔ اس مختصر تخویف کے بعد طویل بشارت کا ذکر ہے۔
Ayahs 76:5–6

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

البتہ5 نیک لوگ پیتے ہیں پیالہ جس کی ملونی ہے کافور

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

ایک چشمہ ہے جس سے پیتے ہیں بندے اللہ کے چلاتے ہیں وہ اس کی نالیاں

5:۔ ” ان الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور نیک بندوں کو ایسے خوشذائقہ مشروب کے ساغر پیش کیے جائیں گے جن میں عرق کافور کی آمیزش ہوگی جس سے اس کی فرحت افزا قوت، اس کی خوشبو اور برودت میں اضافہ ہوجائیگا۔ ” عینا یشرب “ یہ کافورا سے بدل ہے یعنی کافور جنت میں ایک چشمہ ہوگا جس کی آمیزش سے اللہ کے بندے جنت کے مشروبات کا لطف اٹھائیں گے اور وہ جہاں چاہیں گے نہایت آسانی سے اس کا چشمہ خود جاری کرلیں گے۔ یجرونھا اجراء سہلا حیث شاء وا من منازلہم وقصورھم (مظہری ج 10 ص 150) ۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

پورا کرتے ہیں6 منت کو اور ڈرتے ہیں اس دن سے کہ اس کی برائی پھیل پڑے گی

6:۔ ” یوفون بالنذر “ یہ ماقبل کی علت ہے ان آیتوں میں مومنوں کے ان اعمال صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو مذکورہ بالا جزاء وثواب کا موجب ہوں گے۔ ” یوفون بالنذر “ نذر سے وہ تمام عقود و عہود مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عائد فرمائے ہو یا انسان کود اپنے اوپر لازم کرلے النذر ھنا عام لما اوجبہ اللہ تعالیٰ وما اوجبہ العبد فیدخل فیہ الایمان و جمیع الطاعات (بحر ج 8 ص 395) ۔ المراد من النذر العہد والعقد الخ (کبیر ج 8 ص 390) ۔ ” ویخافون یوما “ اعمال صالحہ بجا لانے میں ان کی نیت بخیر ہوتی ہے اور وہ محض خدا کی رضاء جوئی کے لیے اور اس کے عذاب سے ڈر کی وجہ سے اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کے اہوال وشدائد اور جس کی سختیاں ہمہ گیر ہوں گی۔ ابرار و مومنین اگرچہ قیامت کی سختیوں سے بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہیں گے لیکن شدت ہول محشر سے خائف اور مرعوب ضرور ہوں گے۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور کھلاتے ہیں7 کھانا اس کی محبت پر محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو

7:۔ ” ویطعمون “ حبہ کی ضمری مجرور الطعام کی طرف راجع ہے یعنی وہ طعام کی محبت اور اس کی طلب و اشتہاء کے باوجود خود نہیں کھاتے بلکہ مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھلا دیتے ہیں۔ یا ضمیر مجرور ذات باری تعالیٰ سے کنایہ ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں۔ قال ابن عباس و مجاھد علی قلتہ وحبھم ایاہ وشہوتہم لہ وقال۔۔۔۔ علی حبہ اللہ (قرطبی ج 19 ص 126) ۔
Ayahs 76:9–10

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ہم جو تم کو8 کھلاتے ہیں سو خالص اللہ کی خوشی چاہنے کو نہ تم سے ہم چاہیں بدلہ اور نہ چاہیں شکر گزاری

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم ڈرتے ہیں اپنے رب سے ایک دن اداسی والے کی سختی سے

8:۔ ” انما نطعمکم “ جب وہ مساکین وغیرہم کو کھانا کھلاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہیں محض لوجہ اللہ اور اس کی رضا جوئی کیلئے کھانا کھلا رہے ہیں اور تم سے اس کا معاوضہ یا شکریہ نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور اس کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنے والوں کی نیت ایسی ہی ہوتی ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے اس کی جزاء کے طالب نہیں ہوتے۔ ” انا نخاف من ربنا عبوسا “ یوما کی صفت ہے یعنی وہ دن جس میں کافروں کے چہرے شدت ہول سے بگڑ جائیں گے۔ قمطریرا سخت اور شدید یہ بھی یوما کی صفت ہے وہ کہتے ہیں ہم تو اللہ کی طرف سے اس کٹھن اور شدید دن سے ڈرتے ہیں جس کے عذاب کی شدت اور ناگواری سے کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ یعنی وہ اہوال قیامت پر شدید ناگواری اور ترشروئی کا مظاہرہ کریں گے۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پھر بچا لیا ان کو اللہ نے برائی سے9 اس دن کی اور ملا دی ان کو تازگی اور خوش وقتی

9:۔ ” فوقاھم “ فاء سببیہ ہے اور مستقبل کو لفظ ماضی سے قطعی اور یقینی ہونے کی وجہ سے تعبیر کیا گیا ہے (مظہری) ۔ یعنی خوف خدا اور موجبات عذاب سے اجتناب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے شدائد سے محفوظ رکھے گا۔ ولقاھم نضرۃ وسرورا، اور عبوست و ترشروئی کے بجائے ان کو تازگی اور خوشی عطا فرمائے گا۔ آخرت کی کامیابی پر ان کے چہرے فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں گے۔ نضرۃ، تازگی، رونق۔ سرور، خوشی اور شادمانی۔
Ayahs 76:12–13

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور بدلہ دیا ان کو10 ان کے صبر پر باغ اور پوشاک ریشمی

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

تکیہ لگائے بیٹھیں اس میں تختوں کے اوپر نہیں دیکھتے وہاں دھوپ اور نہ ٹھر

10:۔ ” وجزاھم “ ایمان وطاعت پر ثابت قدم رہنے اور اللہ کی راہ میں شدائد و مصائب برداشت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو جنت اور ریشمی لباس بطور جزاء وانعام عطاء فرمائے گا۔ متکئین، ھم ضمیر منصوب سے حال ہے۔ ارائک، رایکۃ کی جمع ہے یعنی تکیہ دار تخت جو پر تکلف فروش اور پرندوں سے آراستہ ہوں۔ شمس، گرمی، دھوپ۔ زمہریر، سردی۔ اھل جنت پر تکلف اور عالیشان تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور جنت میں وہ سردی اور گرمی کی شدت کا نام و نشان نہیں پائیں گے یعنی وہ گرمی اور سردی کی ایذاء و مضرت سے محفوظ رہیں گے۔
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور جھٹک رہیں ان پر11 اس کی چھائیں اور پست کر رکھے ہیں اس کے گچھے لٹکا کر

ٖف 11:۔ ” و دانیۃ “ یہ جنۃ پر معطوف ہے اور جنۃ مقدر کی صفت ہے یا یہ متکئین پر معطوف ہے اور حال واقع ہے۔ قال الزجاج ھو ھال عطفا علی متکئین وقال ایضا ویجوز ان یکون صفۃ للجنۃ فالمعنی وجزاھم جنۃ دانیۃ (بحر ج 8 ص 396) ۔ جنت کے درختوں کے سائے ان سے بالکل قریب ہوں گے اور ان کے اس طرح تابع ہوں گے کہ جب وہ چاہیں گے لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہاتھ بڑھا کر آسانی سے میوے تناول کرسکیں گے۔ (وذللت) سخرت للقائم والقاعد والمتکئ (مدارک) ۔
Ayahs 76:15–16

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور لوگ لیے پھرتے ہیں ان12 کے پاس برتن چاندی کے اور آب خورے جو ہو رہے ہیں شیشے کے

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے ہیں چاندی کے ناپ رکھا ہے ان کا ناپ

12:۔ ” ویطاف علیہم “ اکواب کی دو صفتیں ذکر کی گئی ہیں۔ اول، قواریر۔ دوم، من فضۃ، وہ پیالے بنے ہوئے تو چاندی کے ہوں گے، لیکن چمک اور صفائی میں شیشہ کی مانند ہوں گے جس طرح اب بھی دھاتوں میں ایسی صفائی اور چمک پیدا کرلی جاتی ہے کہ آئینہ کی طرح ان میں سے چہرہ نظر آتا ہے۔ غلمان جنت، اہل جنت کو چاندی کے برتنوں میں ماکولات پیش کریں گے اور مشروبات چاندی کے ایسے ساغروں میں پیش کریں گے جو صفائی اور چمک میں آئینہ کی مانند ہوں گے اور ان میں مشروبات کی مقدار بالکل صحیح ان کے اشتہاء کے مطابق ہوں گی۔ نہ کم نہ زیادہ۔
Ayahs 76:17–18

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان کو وہاں پلاتے ہیں پیالے13 جس کی ملونی ہے سونٹھ

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

ایک چشمہ ہے اس میں اس کا نام کہتے ہیں سلسبیل

13:۔ ” ویسقون فیہا “ اہل جنت کو وہاں ایک اور مشروب پیش کیا جائیگا جس میں عرق زنجبیل (سونٹھ) کی آمیزش ہوگی۔ جنت میں زنجبیل کا بھی ایک چشمہ جاری ہوگا جس کو سلسبیل کہا جائیگا۔ جس کے معنی خوشگوار اور آسانی کے ساتھ حلق سے اترنے والے کے ہیں۔ قال مجاھد حدیدۃ الجری سلسلۃ سھلۃ المساغ (روح) کبھی ان کو عرق کافور کی آمیزش والا اور کبھی عرق زنجبیل کی آمیزش والا مشروب پیش کیا جائے گا۔
Ayahs 76:19–20

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور پھرتے ہیں ان کے پاس14 لڑکے سدا رہنے والے جب تو ان کو دیکھے خیال کرے کہ موتی ہیں بکھرے ہوئے

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور جب تو دیکھے وہاں تو دیکھے نعمت اور سلطنت بڑی

14:۔ ” ویطوف علیہم “ ان کی خدمت کے لیے حسین و جمیل لڑکے ان کے آگے پیچھے ہوں گے ان کا حسن و جمال اور جذبہ خدمت دائمی ہوگا اور ان کی خوبیوں میں کبھی کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ یہ غلمان جنت اس قدر حسین و جمیل ہوں گے کہ ان کو دیکھ کر ان کے چہروں کی صفائی اور چمک دمک کی وجہ سے ان پر سچے موتیوں کا گمان ہوگا اور ایسا معلوم ہوگا کہ جنت میں سچے اور آبدار موتی بکھرے پڑے ہیں۔ واذا رایت ثم، شرط۔ رایت نعیما الخ، جزاء۔ جبتم اس جگہ کو دیکھو گے تو وہ کوئی معمولی جگہ نہ ہوگی بلکہ وہاں تم ہر نعمت فراواں پاؤ گے اور وہاں تم ایک عظیم ملک اور سلطنت دیکھو گے۔ ہر مومن کو جو جنت ملے گی وہ اپنی جگہ ایک نہایت وسیع اور عظیم ملک ہوگا۔ جس میں ہر نعمت اور آسائش میسر ہوگی۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اوپر کی پوشاک ان کی کپڑے ہیں باریک ریشم15 کے سبز اور گاڑھے اور ان کو پہنائے جائیں گے کنگن چاندی کے اور پلائے ان کو ان کا رب شراب جو پاک کرے دل کو

15:۔ ” عالیہم “ عالی یہاں چونکہ فوق کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اس لیے اعراب میں بھی اسی بناء پر (بنا بر ظرفیت) منصوب ہے اور یہ خبر مقدم ہے اور ثیاب سندس مع معطوفات مبتداء موخر ہے (کبیر) ۔ ” سندس “ باریک دیباج ” استبرق “ موٹا دیباج (مظہری) ۔ اہل جنت کے اوپر یعنی ان کے زیب تن باریک ریشم کا سبز لباس ہوگا اور جب چاہیں گے موٹے اور غف ریشم کا لباس زیب تن کریں گے اور ان کو ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنچائے جائیں گے اور ان کو شراب طہور پلایا جائے گا۔ شراب طہور ایک ایسا مشروب ہوگا جسے وہ کھانا تناول کرنے کے بعد پئیں گے تو تمام کھانا فورًا ہضم ہو کر کستور کا پسینہ بن جائیگا اور ان کی طبیعتیں بالکل ہلکی پھلکی ہوجائیں گی۔ (قرطبی) ۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ ہے16 تمہارا بدلہ اور کمائی تمہاری ٹھکانے لگی

16:۔ ” ان ھذا “ جنت کی یہ تمام نعمتیں اور آسائشیں تمہارے ایمان و عمل کی جزاء ہے اور تمہاری تمام نیک کوششوں کی قدر کی گئی اور یہ سب اسی کی جزاء ہے۔ دنیا میں تم نے اپنے ایمان و عمل کا کسی سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا اور نہ کسی سے اپنے عملوں پر شکر گذاری اور خراج تحسین کی خواہش کی۔ آج ہم نے تمہارے تھوڑے کاموں پر زیادہ اجر وثواب عطا کیا ہے۔
Ayahs 76:23–24

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

ہم نے اتارا17 تجھ پر قرآن سہج سہج اتارنا

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو تو انتظار کر اپنے رب کے حکم کا اور کہنا مت مان ان میں سے کسی گناہ گار کا یا ناشکر کا

17:۔ ” انا نحن “ یہ سورت کا دوسرا حصہ ہے۔ ہم نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل کیا ہے۔ تاکہ آپ لوگوں کو تبلیغ کریں۔ مسئلہ توحید ان کو سمجھائیں حشر و نشر اور جزاء سزا سے ان کو آگاہ کریں۔ ” فاصبر لحکم ربک “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر تبلیغ توحید اور ادائے رسالت کا جو حکم صادر فرمایا اس کی خاطر مخالفین کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں اور تکلیفوں پر صبر کیجئے اور راہ حق میں آنے والے شدائد و مصائب کو مردانہ وار برداشت فرمائیے۔ ان مشرکین میں سے کسی مجرم اور کفر و شرک کے داعی کی بات نہ مانئے گا۔ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ آپ توحید کی تبلیغ سے باز آجائیں اور رسالت کا کام چھوڑیں تو ہم مال و دولت اور حسب منشاء شادی سے آپ کو راضی کردیں گے۔ اس آیت میں آپ کو ان فساق وفجار کی بات ماننے سے منع کیا گیا ہے۔
Ayahs 76:25–26

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور لیتا رہ نام18 اپنے رب کا صبح اور شام

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور کسی وقت رات کو سجدہ کر اس کو اور پاکی بول اس کی بڑی رات تک

18:۔ ” واذکر اسم ربک “ یہ اصل دعوی یعنی مسئلہ توحید کا بیان ہے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی دعا پکار میں لگا رہ اور اللہ تعالیٰ کی شرک سے تنزیہ و تقدیس میں مصروف رہ۔ سجدہ، رکوع اور ہر قسم کی عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بجا لا۔ اس کی توحید کی تبلیغ کر اور شرک سے لوگوں کو دور رہنے کی تلقین کر۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ان آیتوں میں پانچوں نمازوں اور نماز تہجد کی طرف اشارہ ہے۔ ” بکرۃ “ سے نماز فجر، ” اصیلا “ سے نماز ظہر و عصر، ” من اللیل “ سے نماز مغرب و عشا اور ” سبحہ لیلا طویلا “ سے نماز تہجد کی طرف اشارہ ہے (کبیر) ۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں جلدی ملنے والے کو19 اور چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو

19:۔ ” ان ھؤلاء “ یہ منکرین توحید و قیامت پر زجر ہے اور اس میں سورة قیامت کی آیتوں “ کلا بل تحبون العاجلۃ۔ وتذرون الاخرۃ “ کے مضمون کا اعادہ ہے۔ یہ لوگ صرف دنیا کے منافع چاہتے ہیں اور قیامت کے کٹھن اور ہولناک دن کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ وہ دنیوی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اس لیے ان کی تمام تگ و دو دنیا کی تحصیل کیلئے ہے اور آخرت پر چونکہ ان کا ایمان ہی نہٰں، اس لیے وہ اس سے بےاعتنائی برت رہے ہیں اور اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کر رہے۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو بنایا20 اور مضبوط کیا ان کو جوڑ بندی کو اور جب ہم چاہیں بدل لائیں ان جیسے لوگ بدل کر

20:۔ “ نحن خلقنہم “ ہم ہی نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کی خلقت کو محکم اور استوار بنایا ہے اور جب ہم چاہیں گے ان کی جگہ ان کی مانند اوروں کو لے آئیں گے۔ پیدا کرنے اور پھر مارنے اور مرنے والوں کی جگہ دوسروں کو لانے کا یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی کا کرشمہ ہے اور اس سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ جس طرح ہم نے ان کو پہلے پیدا کرلیا اسی طرح جب چاہیں گے قیامت کے دن ان کو دوبارہ پیدا کرلیں گے ای واذا شئنا بعثناہم یوم القیامۃ وبدلناھم فاعددنا ھم خلقا جدیدا (ابن کثیر ج 4 ص 458) ۔
Ayahs 76:29–30

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصیحت ہے21 پھر جو کوئی چاہے کر رکھے اپنے رب تک راہ

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم نہیں چاہو گے مگر جو چاہے اللہ بیشک اللہ ہے سب کچھ جاننے والا حکمتوں والا

21:۔ ” ان ھذہ “ یہ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ عبرت و نصیحت کے لیے کافی ہے۔ اب جو چاہے اس کو مان کر اور اس پر عمل کر کے اللہ تعالیٰ کا راستہ یعنی اسلام اور توحید کا راستہ اختیار کرلے۔ ” وما تشاءون “ لیکن تمہارا ارادہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے صرف وہی ہدایت پر آئے گا جس کے ہدایت پر آنے کے ساتھ ارادہ خداوندی متعلق ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ صرف ان لوگوں کی ہدایت سے متعلق ہوتا ہے جو منیب ہوں اور انصاف و اخلاص کے ساتھ راہ ہدایت کے طالب ہوں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” ویھدی الیہ من ینیب “ (شوری رکوع 2) ۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

داخل کرلے22 جس کو چاہے اپنی رحمت میں اور جو گناہ گار ہیں تیار ہے ان کے واسطے عذاب دردناک

22:۔ یدخل من یشاء یہ مومنوں کے لیے بشارت ہے وہ جسے چاہتا ہے یعنی جو اس کی طرف انابت کرتے ہیں ان کو اپنی رحمت میں داخل فرما لیتا ہے اور ان کو قبول حق کی اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطاء فرما دیتا ہے۔ ” والظالمین اعد لہم “ یہ کافروں کے لیے تخویف ہے اور کفار و مشرکین کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ سورة الدہر میں آیات توحید۔ 1 ۔ واذکر اسم ربک۔ تا۔ وسبحہ لیلا طویلا۔ نفی شرک فی العبادۃ۔ سورة الدہر ختم ہوئی