Ayahs 74:1–32:۔ ” یا ایہا المدثر “ اصل میں متدثر تھا۔ فائے تفعل میں دال واقع ہونے کی وجہ سے تائے تفعل کو دال سے بدل کر ادغام کردیا گیا۔ یہ دثار سے ماخوذ ہے۔ دثار اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو بدن سے متصل ملبوسات کے اوپر اوڑھا جاتا ہے مثلا موٹی چادر یا کمبل وغیرہ۔ المتدثر وھو الذی یتدثر بثیابہ لینام او لیستدفئ (کبیر ج 8 ص 347) ۔ پہلی وحی کے بعد رسول اللہ ﷺ حسب معمول غار حرا میں تشریف لے گئے جب اپنے معمول سے فارغ ہو کر پہاڑ سے نیچے اترے تو کسی نے آپ کو آواز دی آپ نے آپ نے ہر طرف دیکھا لیکن آپ کو کوئی شخص نظر نہ آیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کو فضا میں کرسی پر بیٹھا ہوا وہی فرشتہ نظر آیا جو غار حرا میں پہلی بار آپ کے پاس آیا تھا آپ اس کو دیکھ کر ڈر گئے اور آپ پر لرزہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ گھر تشریف لائے اور گھر والوں سے فرمایا ” دثرونی “ مجھے کپڑا اوڑھا دو ۔ آپ کپڑا اوڑھ کر لیٹ گئے تو اسی حالت میں یہ سورت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، روح) ۔ سورت کی ابتداء ہی میں سورت کا دعوی مذکور ہے، فرمایا کپڑوں میں ملبوس آرام و استراحت فرمانے والے اب آرام کا وقت نہیں اب اٹھ کر ہمت باندھ اور مخلوق خدا کو جو شرک میں مبتلا ہے خدا کے عذاب سے ڈرا ان کو شرک سے منع کر اور ان کو توحید کی دعوت دے۔ الانذار دعائہم الی التوحید لانہ المقصود بہا (النبوۃ) (قرطبی ج 19 ص 60) ۔ ” وربک فکبر “ اپنے رب کی عظمت وکبریائی کا اعلان کر اور مشرکین کے شرک اور افتراء سے اس کی تقدیق و تنزیہ فرما۔ المقصود الاولی من الامر بالقیام ان یکبر ربہ وینزہہ من الشرک (ابو السعود ج 8 ص 350) ۔ ومعنی کبر عظمہ عن الحدوث و عن سمات النقص والزوال و عن التشریک فی وجوب الوجود والالوھیۃ والتشریک فی العبادۃ الخ (مظہری ج 10 ص 124) ۔
Ayahs 74:4–53:۔ ” وثیابک فطہر “ اپنے عمل کی اصلاح کر اور اپنے نفس کو اخلاق فاضلہ اور شمائل جمیلہ سے آراستہ کرتا کہ تبلیغ و انذار کے مقصد میں کامیابی کی راہ ہموار ہوجائے۔ انہ امر لہ ﷺ بالتخلق بالاخلاق الحسنۃ الموجبۃ لقبول الانذر بعد امرہ علیہ الصلاۃ والسالم بتخصیصہ ربہ عز وجل بالتکبیر الخ (روح ج 29 ص 118) ۔ ” والرجز فاھجر “ رجز سے اوثان اور معبودان باطل مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس، ابن زید، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ سے منقول ہے۔ قال مجاھد وعکرمۃ یعنی الاوثان، دلیلہ قولہ تعالیٰ فاجتنبوا الرجس من الاوثان، وقالہ ابن عباس وابن زید (قرطبی ج 19 ص 65) ۔ یعنی معبودان باطل کی عبادت چھوڑے رہو۔ ” فاھجر “ سے احداث ہجران مراد نہیں یعنی یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ اب آپ عبادت اوثان چھوڑ دیں کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) تو صغیرہ گناہوں سے بھی معصوم ہوتے ہیں بلکہ مراد ہے دوام ہجران یعنی آپ عبادتِ اوثان کے ترک پر قائم اور ثابت قدم رہیں۔ المراد الدوام والثبات علی ھجر ذلک (روح) ۔ یا بتقدیر مضاف اہل رجر یعنی مشرکین مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے دور ہو۔ تائید : ” ولا تکونن من المشرکین “ (القصص رکوع 9) ۔ حاصل یہ ہے کہ آپ توحید کی دعوت و تبلیغ کا کام سرانجام دیں جو آپ کا فریضہ ہے اس میں ذرہ بھر کوتاہی اور نرمی نہ ہونے پائے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayahs 74:6–74:۔ ” ولا تمنن “ تسکثر مرفوع ہے اور لاتمنن کے فاعل سے حال ہے یہ نہی کا جواب نہیں ورنہ مجزوم ہوتا۔ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کی طرف سے تبلیغ پر مامور ہوں۔ اس لیے آپ لوگوں پر نبوت اور تعلیم و تبلیغ کا احسان نہ دھریں کہ آپ کو بکثرت دولت حاصل ہو۔ آپ کا اجر وثواب اللہ کے ذمہ ہے قال ابن زید معناہ لاتمنن بالنبوۃ علی الناس فتاخذ علیہا عوضا واجرا من الدنیا (مظہری ج 10 ص 125) یعنی آپ محض لوجہ اللہ تبلیغ کریں، کسی سے اجر و معاوضہ کی توقع نہ رکھیں اور نہ کسی کو دعوت و تبلیغ کا احسان جتائیں۔ ” ولربک فاصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے کہ کفار و مشرکین کی طرف سے تبلیغ و توحید پر تکلیفیں آئیں تو ان سے آزردہ نہ ہوں، بلکہ محض اللہ کی رضا کیلئے تکالیف نبوت، ادائے تبلیغ اور ایذائے مشرکین پر صبر کریں۔ ای لوجہ ربک امرہ بالصبر فیتناول الصبر علی تکالیف النبوۃ وعلی اداء طاعۃ اللہ وعلی اذی الکفار (بحر ج 8 ص 372) ۔
Ayahs 74:8–105:۔ ” فاذا نقر “ تخویف اخروی۔ نقر ای نفخ، یعنی پھونکا جائے گا۔ فلذلک الخ جملہ جزائے شرط ہے۔ یومئذ، ذلک سے بدل ہے اور اسم غیر متمکن کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے یوم مبنی علی الفتح ہے۔ یوم عسیر، ذلک کی خبر ہے۔ علی الکافرین، عسیر سے متعلق ہے۔ غیر یسیر، عسیر کی تاکید ہے (روح) ۔ جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی تو یہ دن کفار و مشرکین پر نہایت سخت اور دشوار ہوگا۔ اس دن میں کسی قسم کی آسانی، رعایت اور راحت ان کو میسر نہ ہوگی۔
Ayah 74:116:۔ ” ذرنی ومن خلقت “ یہ زجر ہے۔ ان آیتوں سے ہر کافر، معاند، سرکش اور متکبر مراد ہے۔ یا یہ ولید بن مغیرہ مخزومی کے حق میں ہیں۔ لکن العبرۃ لعموم المعنی لا لخصوص المورد۔ ” وحیدا “ ذرنی میں ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی مجھے چھوڑ دو میں تنہا ہی اس سے انتقام لے لوں گا۔ یا خلقت کی تا سے حال ہے یعنی میں نے تنہا ہی اس کو پیدا کیا ہے اور میں تنہا ہی بلا مدد غیرے اس کو ہلاک بھی کرلوں گا یا یہ ضمیر منصوب مقدر سے حال ہے جو مَنْ کی طرف عائد ہے ای من خلقتہ وحیدا یعنی میں نے اس کو امل و اولاد سے تنہا پیدا کیا ہے بوقت ولادت اس کے پاس نہ مال تھا نہ اولاد تھی یہ نعمتیں بعد میں میں نے ہی اس کو دیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ وحید، ولید بن مغیرہ کا لقب تھا اللہ تعالیٰ بطور استہزاء اسے اس کے مشہور لقب سے ذکر فرمایا ہے۔ (بحر، قرطبی، روح) ۔
Ayahs 74:12–167:۔ ” وجعلت لہ “۔ ممدود، کثیر۔ شھود، حاضر باش۔ سفر وحضر میں اور تجارت و تصرف میں اس کے ساتھ حاضر رہنے والے یا اپنی وجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے، ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست ووجاہت و قابلیت کی وجہ سے مجلسوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے۔ ” ومہدت لہ “ ہم نے اس کے دنیوی جاہ و وقار اور اس کی ریاست و وجاہت کو خوب وسعت دی۔ ہم نے جب اس کو پیدا کیا تو وہ تنہا تھا ذلیل اور بےمال تھا پھر ہم نے اس کو کثیر دولت عطا کی، اس کو لائق اور قابل اولاد دی۔ لوگوں پر اس کی وجاہت و ریاست کا سکہ بٹھا دیا۔ لیکن اس نے ناشکری کی، اللہ کے شریک بنائے اور اس کے دین سے استہزاء کیا اور پھر بھی اسے یہ امید ہے کہ ہم ابھی اس کو مزید انعامات سے نوازیں گے، ہرگز نہیں ای خلقتہ منفردا ذلیلا قلیلا لا مال لہ ولا ولد فاتاہ اللہ تعالیٰ المال والولد فکفر نعمتہ واشرک بہ و استہزا بدینہ (بحر ج 8 ص 373) ۔ ” انہ کان لایتنا عنیدا “ وہ ہماری آیتوں کا منکر اور معاند ہے اب اس پر مزید انعام نہیں ہوگا بلکہ اب اسے کفر وعناد اور جحود و انکار کی سزا دیجائے گی۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلت و سوائی اور تنگدستی میں مبتلا کردیا اور آخرت کا عذاب آگے مذکور ہے۔
Ayahs 74:17–258:۔ سارھقہ صعودا۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ صعود دوزخ میں آگ کا نہایت ہی بلند پہاڑ ہے جس پر چڑھنے کے لیے جہنمیوں کو مجبور کیا جائے گا۔ یہ بھی ایک قسم کا نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ ” انہ فکر “ یہ اس کی سزا کی علت ہے اس نے قرآن اور پیغمبر کے بارے میں غور و فکر کیا کہ ان کی حقیقت کیا ہے پھر اپنے ذہن میں ایک بات طے کرلی کہ یہ قرآن جادو ہے اور محمد ﷺ جادوگر ہے (العیاذ باللہ) ۔ اس ملعون اور راندہ درگاہ ایزدی نے یہ فیصلہ کس طرح کرلیا۔ اس کے بعد اس نے نظر اٹھا کر دیکھا، ترش رو ہوا اور سخت ناک بھوں چڑھائی اور پھر پیٹھ پھیر کر غرور و نخوت سے چل دیا اور کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو بابل کے جادوگروں سے چلا آرہا ہے اور لوگ اسے سیکھتے سکھاتے چلے آرہے ہیں یہ بھی کہیں سے سیکھ کر آگیا ہے اور یہ قرٓان جسے وہ خدا کا کلام بتاتا ہے خدا کا کلام نہیں یہ انسانی کلام ہے جسے وہ خود بنا کر یا کسی سے بنوا کر لاتا ہے۔ ولید بن مغیرہ نے اپنی قوم بنی مخزوم سے کہا تم کہتے ہو محمد دیوانہ ہے، کیا تم نے کبھی اس پر دیوانگی کا دور پڑتے دیکھا ہے ؟ اور تم کہتے ہو وہ کاہن ہے، کیا تم نے کبھی اسے کاہنوں کی سی باتیں کرتے سنا ہے ؟ نیز تم کہتے ہو وہ شاعر ہے، کیا تم نے کبھی اسے شعر پڑھتے یا بناتے سنا ہے ؟ اور تمہارا خیال ہے کہ وہ جھوٹا ہے کیا تم نے کبھی اس کو جھوٹ بولتے سنا ہے ؟ ہر سوال کے جواب میں سب نے کہا : نہیں، پھر کہنے لگے تو بتاؤ ناں آخر یہ کیا معاملہ تو غور و فکر کے بعد کہنے لگا وہ جادوگر ہے کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے خاوند بیوی باپ بیٹے اور اور بھائی بھائی میں جدائی ڈال دی ہے۔ اس جواب سے تمام ملعونین بہت خوش ہوئے۔ (مدارک) ۔ ” ثم قتل “ تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ یعنی میں پھر کہتا ہوں کہ اس ملعون نے یہ کس طرح اندازہ لگایا کہ آپ جادوگر ہیں۔ ثم نظر، یعنی پہلے تو آنکھیں بند کر کے سوچا، پھر آنکھوں کھول کر دیکھا پھر ترش رو ہوا اور سخت ناک بھوں چڑھائی اور پھر متکبرانہ انداز میں پشت پھیر دی جیسا کہ آج کل کے متکبر کرتے ہیں۔ قالہ الشیخ (رح)۔
Ayahs 74:26–309:۔ ” ساصلیہ سقر “ یہ تخویف اخروی ہے۔ میں اس کو سقر میں داخل کروں گا۔ سقر ایسی تیز اور سخت آگ کا دوزخ ہے کہ ” لا تبقی ولا تذر “ کہ ہڈی پسلی چھوڑے گی نہ گوشت پوست ” لواحۃ للبشر “ بشرۃ کی جمع ہے، سقر کی آگ دوزخیوں کے چمڑوں کو جلا کر سیاہ اور بد شکل بنا دے گی۔ دوزخ پر ہم نے انیس فرشتے یا فرشتوں کی انیس صفیں مقرر کر رکھیں ہیں۔ والاول اصح۔ اور پھر یہ دوزخ کے خزان آدمی یا جن نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو طاقت و قوت میں جن وانس پر فائق ہیں۔ اہل دوزخ جن وانس کے لیے ان کے دلوں میں رحمت و شفقت کا کوئی جذبہ نہیں ہوگا اور نہ دوزخیوں کے بارے میں احکام خداوندی کی تعمیل میں کوتاہی کا احتمال ہی ہوگا۔
Ayah 74:3110:۔ ” وجعلنا “ فتنۃ، آزمائش یا گمراہی کا سبب۔ لیستیقن میں لام عاقبت کا ہے۔ اتنی کثیر تعداد میں دوزخیوں پر قابو پانے کے لیے فرشتوں کی تھوڑی سی جماعت کا مقرر کرنا اور پھر اس تعداد کا اظہار کفار و مشرکین کی آزمائش کے لیے ہے کہ وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں یا اس کا انکار کرتے ہیں اس کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ یہ آیت سن کر ابو جہل نے قریش سے کہا : قریش کے بہادر اور سخت گیر پہلوانو ! کیا تم میں سے دس دس جوان بھی ایک ایک پر قابو نہیں پا سکو گے ؟ اس پر ابولاشد بن اسید جمحی بولا : فکر کی کوئی بات نہیں سترہ کو تو میں اکیلا ہی سنبھال لوں گا، باقی دو کو تم سب مل کر سنبھال لینا، چونکہ کتب سابقہ میں بھی خزان جہنم کی یہی تعداد ذکر کی گئی ہے۔ اس لیے جب اہل کتاب اس آیت کو سنیں گے تو اس سے ان کو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کی سچائی کا یقین آجائیگا کیونکہ خبر ان کی مسلمہ کتابوں، تورات اور انجیل کے موافق ہے۔ ” ویزداد الذین امنوا “ اور اس سے مومنوں کو مزید اطمینان ہوجائے گا اور ان کے ایمان کو اور تقویت ملے گی۔ کیونکہ اہل کتاب نے بھی اسے مان لیا ہے۔ نیز وہ یہ آیت سن کر فوراً بول اٹھیں گے کہ یہ خبر اللہ تعالیٰ نے دی ہے اس لیے سچی ہے، ہم اس پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ ” ولا یرتاب الذین اوتوا الکتب والمومنون “ یہ مضمون سابق کی تاکید ہے یعنی اہل کتاب اور مؤمنین کو اس خبر کی سچائی میں شک باقی نہ رہے۔
11:۔ ” ولیقول “ لیکن منافقین اور کفار ازراہ استہزاء و تمسخر کہیں گے کہ اس قلیل تعداد کے بیان سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے ؟ کیا اتنے تھوڑے سے فرشتے ان بےحد و حساب دوزخیوں پر قابو پالیں گے ان فرشتوں کی تعداد تو کروڑوں سے بھی زیادہ ہونی چاہئے۔ یہ سورت مکیہ ہے اور مکہ میں کوئی منافق نہیں تھا اس لیے مطلب یہ ہے کہ بعد میں جب مدینہ کے منافق سنیں گے تو وہ اسی قسم کی باتیں کریں گے (قرطبی، روح) ۔ ” کذلک یضل اللہ “ اس طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے جیسا کہ ابو جہل اور دیگر مشرکین کو کیا اور جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے جیسا کہ اصحاب رسول ﷺ کو دکھائی۔ ایک ہی چیز بعض لوگوں کی گمراہی کا سبب ہوئی اور بعض لوگوں کے ایمان ویقین میں اضافہ اور قوت کا باعث بنی۔ جو شخص اپنے اختیار سے گمراہی پر رہنا چاہے اسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے اور جو اپنے اختیار سے راہ ہدایت کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سیدھی راہ دکھتا ہے کسی پر جبر واکراہ نہیں یضل اللہ تعالیٰ من یشاء اضلالہ لصرف اختیارہ حسب استعدادہ السیئ الی جانب الضلال ویھدی من یشاء ھدایتہ لصرف اختیارہ حسب استعدادہ الحسن الی جانب الہدایتہ (روح ج 29 ص 128 محصلہ) ۔
12:۔ ” وما یعلم “ اللہ تعالیٰ کے لشکروں کی تعداد کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ انیس تو صرف دوزخ کے نگران اعلی ہیں ان کے ماتحت اور ان کے علاوہ زمین و آسمان میں جو فرشتوں کے لشکروں کے لشکر موجود ہیں وہ حد و حساب سے باہر ہیں، صحیح گنتی اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ ” وماھی الا ذکری للبشر “ یہ دوخ تو خلق خدا کے لیے عبرت اور نصیحت کا باعث ہے اس سے انہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کا اندازہ لگانا چاہیے اس کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اور انہیں سیدھی راہ، دین اسلام پر چلان چاہیے تاکہ اس کے دردناک عذاب سے بچ جائیں۔
Ayahs 74:32–3413:۔ ” کلا “ برائے ردع ہے اور کفار و مشکرین کو زجر ہے کہ ان کو قرآن کے مقابلہ میں اس قسم کی سفیہانی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ یا بمعنی حقا ہے المعنی حقا والقمر (قرطبی) ۔ اس صورت میں یہ مابعد کی تاکید ہوگی۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک یہی راجح ہے۔ ” ولقمر، واللیل، والصبح “ تینوں قسمیں جو جواب قسم پر شاہد ہیں۔ جواب قسم محذوف ہیں یعنی لترکبن طبقا عن طبق، چاند پر پورا مہینہ مختلف حالتیں آتی ہیں، اسی طرح رات کی بھی کئی حالتیں ہوتی ہیں، شروع ہوتی ہے، گھپ اندھیرا ہوجاتا ہے۔ اور اس میں سے صبح نمودار ہوتی ہے۔ چاند اپنے محتلف اور گوناگوں احوال سے اس پر شاہد ہے، رات کی ظلمت اور صبح کی نمود اس پر گواہ ہیں کہ تم پر بھی کئی حالات آئیں گے۔ رات کے اندھیرے کی طرح شدائد وآلام سے بھی دو چارہونا پڑے گا آخر تمام اندھیرے چھٹ جائیں گے اور فتح و کامرانی اور فوز و فلاح کی صبح نمودار ہوگی۔ تائید : ” فلا اقسم بالشفق۔ واللیل وما وسق۔ والقمر اذا اتسق۔ لترکبن طبقا عن طبق۔ (پ 30 سورة الانشقاق) ۔ اور انھا لاحدی الکبر استیناف ہے۔ افادہ الشیخ (رح) تعالی۔ یا انھا لاحدی الکبر جواب قسم ہے۔
Ayahs 74:35–3714:۔ نذیرا، مصدر ہے بمعنی انذار اور یہ حدا الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار اور یہ احدی الکبر کی تمییز ہے یعنی انذار و تخویف کے اعتبار سے دوزخ شدید ترین سزاؤں اور عقوبتوں میں سے ایک ہے یا یہ حال ہے اور تائے تانیث محذوف ہے (روح) ۔ دوزخ شدید ترین عقوبات میں سے ایک ہے۔ خلق کو ڈرانے والی ہے تاکہ وہ اس کے ڈر سے خدا کی اطاعت کریں۔ لمن شاء الخ، یہ للبشر سے بدل ہے۔ وہ ڈرانے والی ہے اس کو جو تم میں سے چاہے کہ نیکی اور بھلائی کی طرف بڑھے نیز اس کو جو گناہ و معصیت میں پیچھے رہے۔ من شاء ان یتقدم فی الخیر والطاعۃ ومن شاء ان یتاخر فی الشر والمعصیۃ (مظہری ج 10 ص 131) ۔