Ayah 73:12:۔ ” یا ایہا المزمل “ اصل میں ” المتزمل “ تھا۔ فاء تفعل کی جگہ زاء آگئی اس لیے تاء کو زاء سے بدل کر زاء میں ادغام کردیا گیا۔ ” المزمل “ کپڑوں کو اپنے اوپر خوب لپیٹنے والا۔ آنحضرت ﷺ کپڑے لپیٹ کر رات کو سو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسی ہیئت سے خطاب فرما کر قیام اللیل کا حکم دیا۔ کان النبی ﷺ نائما باللیل متزملا فی ثیابہ فامر بالقیام للصلوۃ الخ (مدارک) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کے زندیک پہلے قیام اللیل سب پر فرض تھا اس کے بعد اس کی فرضیت منسوخ کردی گئی اور بعض علماء کے نزدیک شروع ہی سے حکم استحبابی تھا البتہ بعد میں اس میں مزید تخفیف کردی گئی۔
Ayahs 73:2–33:۔ ” قم اللیل “ لفظ ” قلیل “ محاورہ میں نصف سے کم پر بولا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفلان علی الف درہم الا قلیلا میں قلیلا سے مراد پانچ سو سے کم ہوں گے۔ اب اگر نصفہ کو قلیلا سے بدل بنایا جائے تو یہ ترکیب قلیلا کے مذکور استعمال کے خلاف ہوگی۔ امام نسفی صاحب مدارک نے اس کے دو جواب دئیے ہیں۔ (1) نصف کو کل اللیل (تمام رات) کے اعتبار سے قلیل کہا گیا ہے، اس اعتبار سے تینوں صورتیں قلیلا میں داخل ہوجائیں گی۔ نصف، نصف سے کم اور نصف سے زائد۔ (2) نصفہ مستثنی منہ مؤخر ہے اور اللیل سے بدل ہے۔ اور قلیلا مستثنی مقدم ہے اصل میں یوں تھا قم نصف اللیل الا قلیلا من نصف اللیل مگر اس صورت میں تکرار لازم آتا ہے، کیونکہ قم نصف اللیل الا قلیلا اور اوانقص منہ (من النصف) قلیلا کا مفہوم ایک ہی ہے۔ صاحب مدارک نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اصل میں تو نصف رات سے کم قیام کا حکم دیا گیا پھر اس میں کچھ وقت بڑھانے میں تخییر فرما دی۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ قلیلا سے مراد ثلث ہے جسے اللیل سے مستثنی کیا گیا لہذا مقصد یہ ہے کہ رات کے دو ثلث قیام کرو۔ اور نِصْفَہٗ کسی لفظ سے بدل نہیں، بلکہ مستقل فعل مقدر کا مفعول ہے المراد بالقلیل فی قولہ قم اللیل الا قلیلا ھو الثلث فاذا قولہ قم اللیل الا قلیلا معناہ قم ثلثی اللیل ثم قال نصفہ والمعنی او قم نصفہ (کبیر ج 8 ص 333) ۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ الا قلیلا کا مطلب یہ ہے کہ کسی رات کو نہ اٹھو اور نصفہ، اللیل سے بدل ہے نصفہ او انقص الخ جملہ ماقبل کی تفسیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ نصف رات قیام کرو یا اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ۔ حضرت شاہ صاحب کے نزدیک یہ توجیہہ پسندیدہ ہے کیونکہ اس سے مذکورہ بالا اشکال بھی ختم ہوجاتا ہے اور کسی تکلف کے ارتکاب کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔
Ayah 73:44:۔ ” ورتل القران “ ترتیل سے قرآن مجید کے ہر ہر لفظ کو جدا جدا اور واضح کر کے پڑھنا، خوبصورتی اور صحت سے ان کو ادا کرنا اور غور و تدبر سے سمجھ کر پڑھنا مراد ہے (قرطبی، مظہری) ۔
Ayah 73:55:۔ ” انا سنلقی “ قول ثقیل سے مراد قرآن ہے اسے ثقیل (بھاری، کٹھن، مشکل) اس لیے فرمایا کہ اس کے مضامین توحید، حشر و نشر وغیرہ مشرکین پر نہایت شاق ہیں یا اس کے احکام وفرائض اور شرائع و حدود پر عمل کرنا نہایت مشکل ہے۔ (مدارک، قرطبی) ۔
Ayah 73:66:۔ ” ان ناشئۃ اللیل “ یہ قم اللیل کی علت ہے، ناشئۃ، نشابمعنی قام کا مصدر ہے جیسا کہ عافیۃ ہے۔ مراد قیام اللیل ہے۔ وطا، مواطاۃ موفاقت، قیلا سے قراءۃ قرآن مرد ہے۔ (روح، قرطبی) ۔ آپ کو رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ رات سکون و اطمینان کا وقت ہوتا ہے شور وشغب نہیں ہوتا، اس لیے آدمی جو کچھ زبان سے پڑھتا ہے دل پورے یقین کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس طرح دن کی نسبت رات کے وقت دل اور زبان میں زیادہ مواقت کا موقع فراہم ہوجاتا ہے نیز یکسوئی اور سکون کی وجہ سے تلاوت بہت زیادہ درست اور صحیح ادا ہوتی ہے۔
Ayah 73:77:۔ ” ان لک فی النہار “ سبحا طویلا، مہمات میں طویل تصرف و اشتغال یعنی دن بھر آپ دوسرے مہمات و مشاغل میں مصروف رہتے ہیں اور عبادت کے لیے بالکلیہ فارغ نہیں ہوسکتے، اس لیے رات کے لمحات کو غنیمت جانیں اور رات کو اٹھ کر اللہ کی عبادت بجا لائیں (سبحا طویلا) ای تقلبا وتصرفا فی مہماتک واشتغالا بشواغلک فلا تستطیع ان تتفرغ للعبادۃ فعلیک بھا فی اللیل (روح ج 29 ص 105) ۔
Ayah 73:88:۔ ” واذکر اسم “ بیان دعوائے توحید۔ ہر وقت اللہ کی یاد میں، اس کی تسبیح و تہلیل اور تمجید و تقدیس میں مصروف رہو، مہمات میں صرف اسی کو پکارو، ماسوی سے منقطع ہو کر اللہ کے ہو رہو۔ خالص اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ ادعہ باسمائہ الحسنی (قرطبی) ۔ ودم علی ذکرہ فی اللیل والنہار وذکر اللہ یتنال التسبیح والتہلیل والتکبیر والصلاۃ وتلاوۃ القران ودراسۃ العلم (مدارک) ۔ (و تبتل الیہ تبتیلا) ای اخلص لہ العبادۃ (ابن کثیر) ۔ ای انقطع بعبادتک الیہ ولا تشرک بہ غیرہ (قرطبی ج 19 ص 43) ۔ تائید : ” واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ و دون الجہر من القول بالغدو والاصال ولا تکن من الغافلین “ (اعراف رکوع 24) ۔
Ayah 73:99:َ ” رب المشرق “ یہ مبتدا مقدر کی خبر ہے۔ ای ھو رب المشرق۔ مشرق و مغرب تمام کائنات سے کنایہ ہے۔ ” فاتخذہ “ میں فا فصیحہ ہے جب ساری کائنات کا رب اور املک وہی ہے اور اس کے سوا کوئی الہ اور معبود نہیں تو پھر صرف اسی کی اپنا کارساز بناؤ اور اپنے تمام مہمات میں اسی پر تکیہ کرو اور تمام امور میں صرف اسی کو پکارو۔ فالمعنی انہ لما ثبت انہ لا الہ الا ھو لزمک ان تتخذوہ وکیلا وان تفوض کل امورک الیہ (کبیر ج 8 ص 340) ۔
Ayah 73:1010:۔ ” واصبر “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ مشرکین کی خرافات اور ان کی تکلیف دہ باتوں کو آپ صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کریں اور ان کا معاملہ اپنے کارساز کے حوالے فرما دیں اور عمدہ پیرایہ میں ان سے الگ رہیں۔ دل سے اور عمل سے ان کی مخالفت کریں اور ظاہری مدارات برقرار رکھیں والھجر الجمیل ان یجانبھم بقلبہ وھواہ و یخالفہم فی الافعال مع المداراۃ والاغضاء وترک المکافاۃ (کبیر ج 8 ص 340)
Ayah 73:1111:۔ ” وذرنی “ زجر و تخویف دنیوی یا اخروی۔ نعمۃ، عیش و عشرت۔ یہ اسلوب اس سے کنایہ ہے کہ آپ فکر نہ کریں ہم خود ان معاندین سے نمٹ لیں گے۔ ان عیش و عشرت کے دلدادہ جھٹلانے والوں کو چھوڑ دو اور ان کا معاملہ میرے حوالہ کردو اور تھوڑی سی ان کو مہلت دیدو پھر دیکھو ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ تھوڑی سی مہلت سے مراد مدت حیات ہے یا جنگ بدر تک کا وقت مراد ہے۔ ان معاندین کو میدانِ بدر میں ذلت آمیز عذاب کا مزہ چکھایا گیا اور جو اس عذاب سے بچ گئے وہ مرتے ہی عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔
Ayahs 73:12–1312:۔ ” ان لدینا “ تخویف دنیوی۔ انکال، نکل (بکسر نون وفتحہا) کی جمع ہے بھاری اور وزنی بیڑیا۔ ذاغصۃ، گلا گھونٹنے والا، حلق سے نہ اترنے والا۔ دنیوی عذاب کے علاوہ آخرت میں بھی ہم نے ان کے لیے مختلف انواع و اقسام کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر ان کو بھڑکتی آگ میں ڈال دیا جائے گا اور کھانے کے لیے زقوم، صدید، غسلین اور دیگر خاردار قسم کی چیزیں ہوں گی جن کو حلق سے اتارنا ہی دشوار ہوگا۔ اس کے علاوہ کئی قسم کی دردناک سزائیں ہوں گی۔
Ayah 73:1413:۔ ” یوم ترجف “ یوم کا عامل مقدر ہے۔ ای استقر ذلک العذاب لدینا وظھر یوم تضطرب الارض والجبال وتتزلزل (روح ج 29 ص 108) ۔ ترجف، شدید جھٹکے اور زلزلے سے دو چار ہوں گے۔ کثیبا، ریت کا ڈھیر، مہیلا، نرم، پاؤں کی ٹھوکر سے اڑنے والا۔ یہ عذاب ہمارے پاس تیار ہے اور اس دن ان پر پڑے گا جب زمین اور پہاڑ قیامت کے شدید ترین زلزلے سے دو چار ہوں گے۔ اور پہاڑ نرم ریت کا ڈھیر بن جائیں گے اور آخر زمین کے ساتھ ہموار ہوجائیں گے یہ قیامت کے دن کا منظر ہے۔
Ayahs 73:15–1614:۔ ” انا ارسلنا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ شاھد، حق بیان کرنے والا، بتانے والا (شاہ عبدالقادر) ۔ لفظ شاہد سے گواہ مراد لے کر اس سے آنحضرت ﷺ کے حاضر ناظر ہونے پر استدلال درست نہیں۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے (ص 70) ۔ خطاب مشرکین سے ہے۔ وبیلا، شدیدا غلیظا (مدارک) ۔ جس طرح ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول (موسی علیہ السلام) بھیجا جس نے فرعون اور اس کی قوم کو توحید کی دعوت دی اسی طرح ہم نے تمہارے پاس بھی ایک عظیم الشان رسول (محمد مصطفیٰ ﷺ بھیجا ہے جو تمہیں توحید کی دعوت دیتا اور سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ فعصی فرعون، فرعون اور اس کی قم نے اس رسول (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور اس کی دعوت کو رد کردیا تو ہم نے ان پر سخت گرفت کی اور ان کو دریا میں غرق کردیا۔ اب تم بھی اپنے رسول کی نافرمانی اور اس کی مخالفت کر رہے ہو۔ اگر تم اسی عصیان و طغیان پر قائم رہے تو تمہیں بھی درد ناک سزا دی جائے گی۔ چناچہ میدان بدر میں ان معاندین کو قتل و قید کے رسوا کن عذاب کا مزہ چکھنا پڑا۔
Ayahs 73:17–1815:۔ ” فکیف تتقون “ تخویف اخروی، ہول قیامت کی شدت وفظاعت کا بیان ہے۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو کسی مصلحت سے دنیا میں نہ پکریں تو قیامت کے عذاب سے تم کسی طرح نہیں بچ سکتے۔ یہ دن نہایت کٹھن اور ہولناک ہوگا۔ شدت ہول اور کثرت حزن و غم میں یہ دن ضرب المثل ہوگا۔ اس دن کی شدت سے آسمان بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور ایسا ضرور ہوگا۔ اللہ کے فیصلے میں تخلف نہیں۔ ” یجعل الولدان شیبا “ محاورہ ہے جو شدت سے کنایہ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ یوم یشیب نواصی الاطفال (کبیر) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اگر بالفرض یہ معاندین بچے ہوں تو شدت ہول سے بوڑھے ہوجائیں کیونکہ حزن و غم کی کثرت اور خوف و ہراس کی شدت انسان کو بہت جلد بڑھاپے سے ہمکنار کردیتی ہے۔ تائید : ” یوم ترونہا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت “ (حج رکوع 1)
Ayah 73:19ف 16:۔ ” ان ھذہ تذکرۃ “ یہ تمام مذکورہ بالا بیان عبرت و نصیحت ہے جو شخص چاہے اس سے نصیحت حاصل کر کے اللہ کی بارگاہ میں باریابی اور تقرب کی راہ اختیار کرلے یعنی ایمان لے آئے اور نیک کام کرے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔
Ayah 73:2017:۔ ” ان ربک یعلم “ یہ ابتدائے سورت سے متعلق ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہ سورت ابتداء سورت میں مذکورہ حکم کی ناسخ ہے کیونکہ اس میں حکم سابق میں تخفیفی کردی گئی ہے لیکن حضرت شاہ ولی اللہ کے نزدیک حکم سابق منسوخ نہیں پہلے بھی حکم استحبابی ہی تھا اس میں مزید تخفیف کردی گئی کہ نصف اور ثلث وغیرہ کا تم صحیح اندازہ نہیں کرسکتے، اس لیے جس قدر قیام کرسکتے ہو اسی قدر کرلیا کرو، مذکورہ مقداروں کی پابندی ضروری نہیں۔ فرمایا ہمیں معلوم ہے کہ آپ رات کا تہائی حصہ، نصف اور تقریبا دو تہائی تک قیام کرتے ہیں اور آپ کے صحابہ ؓ کی ایک جماعت بھی ایسا کرتی ہے۔ لیکن رات دن گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں اسلیے تم ان مقداروں کا صحیح اندازہ نہیں کرسکتے اس لیے جس قدر آسانی سے پڑھ سکو اتنا ہی پڑھ لیا کرو۔
18:۔ ” علم ان سیکون “ یہ فتاب علیکم کی علت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم میں بیمار اور ضعیف بھی ہوں گے اور مسافر اور مجاہد فی سبیل اللہ بھی جو اپنے ضعف اور اپنی دن کی مصروفیات سفر وہ جہاد کی وجہ سے قیام اللیل نہیں کرسکتے اس لیے جس قدر آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لیا کرو۔ البتہ صلوۃ فریضہ کی ہر حال میں پابندی کرو۔ ” واتوا الزکوۃ “ یہ سورت چونکہ مکیہ ہے اور زکوۃ مدینہ یا مکی زندگی کے اواخر میں فرض ہوئی، اس لیے زکوۃ سے یہاں زکوۃ الفطر مراد ہے (کبیر) یا تزکیہ عقائد باستقامت بر لا الہ الا اللہ (حضرت شیخ (رح)) ۔
19:۔ ” واقرضوا “ اس سے صدقات نافلہ مراد ہیں یا ذکر جہاد کے بعد اس میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب ہے۔ ” وما تقدموا “ جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے وہ تمہارے لیے ذخیرہ آخرت ہے اس لیے بہتر ہے کہ موت کے آثار ظاہر ہونے سے پہلے ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرلو۔ کیونکہ جو خیرات تم موت سے پہلے کرلوگے وہ خدا کے نزدیک اجر وثواب میں اس خیرات سے کہیں زیادہ افضل و اعلی ہے جو تم موت کے وقت کرو۔ قال ابن عباس تجدوہ عنداللہ ھو خیر و اعظم اجرا من الذی توخرہ الی وصیتک عند الموت (کبیر ج 8 ص 346) ۔ اعمال صالحہ میں اپنی کوتاہیوں اور تقصیروں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو بیشک وہ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے توبہ کرنے والوں اور گناہوں پر پشیمان ہونے والوں کو محض اپنی رحمت سے معاف فرما دیتا ہے۔ ربنا اغفر لنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا و ثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین۔
سورة مزمل میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ ورتل القران ترتیلا۔ قرآن کی تلاوت سے مسئلہ توحید پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔
2 رب المشرق والمغرب لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا۔ نفی شرک فی التصرف۔
سورة المزمل ختم ہوئی