Ayahs 72:1–22:۔ ” قل اوحی “ دلیل نقلی از جنات۔ آنحضرت ﷺ پر ابتداء وحی سے شیاطین کا آسمان پر جا کر فرشتوں کی باتیں سننا بند ہوگیا۔ پہلے وہ اوپر جا کر بیٹھ جاتے اور فرشتوں کی باتیں سنتے تھے، لیکن اب جو اوپر جاتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ شیاطین اس سے پریشان ہوئے اور ابلیس سے سارا معاملہ بیان کیا۔ اس نے کہا ضرور کوئی نئی بات رونما ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمہارا آسمان پر جانا محال ہوگیا ہے ابلیس نے جنوں کی جماعتیں منظم کر کے مختلف سمتوں میں روانہ کردیں تاکہ وہ اصل حقیقت کا سراغ لگائیں۔ جنوں کی ایک جماعت تہامہ کی طرف روانہ کی گئی۔ یہ جماعت پھرتی پھراتی مقام نخلہ میں پہنچی تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز باجماعت ادا فرما رہے ہیں۔ چناچہ وہ خاموشی کیساتھ بغور قرآن سننے لگے۔ چناچہ وہ قرآن سن کر ایمان لے آئے اور سمجھ گئے اس وحی کو ہماری دسترس سے محفوظ رکھنے کے لیے ہم پر آسمان پر جانے کی راہیں بند کردی گئی ہیں۔ جنوں کی یہ جماعت اسی جگہ سے اپنی قوم کے پاس واپس پہنچی اور انہیں تبلیغ کرنے لگی۔ جنوں کی اس جماعت نے اپنی قوم کو جو تبلیغ کی اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع دی۔ اسی طرح جنوں کے آنے اور قرآن سننے کی اطلاع بھی آپ کو وحی کے ذریعے ہی دی گئی۔ یہی تفصیل یہاں سورة جن میں مذکور ہے (مظہری، روح) ۔
ٖف 3:۔ ” فقالوا “ یہ جنات جب رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن مجید سن کر اور ایمان لا کر اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو اپنی قوم سے کہا کہ ہم ایک عجیب و غریب کلام سن کر آئے ہیں جو حسن نظم، اسلوب بیان اور تاثیر کے اعتبار سے انسانی کلام سے مختلف ہے اور وہ توحید اور راہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم تو دل و جان سے اس پر ایمان لا چکے ہیں اور ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم آئندہ کے لیے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ ھو عجب فی نفسہ لفصاحۃ کلامہ وحسن مبانیہ ودقۃ معانیہ وغرابۃ اسلوبہ وبلاغۃ مواعظہ (بحر ج 8 ص 347) ۔ اور الرشد سے مراد عام ہے حق و صوب یا خاص توحید الی الحق والصواب وقیل الی التوحید والایمان (روح) ۔
Ayah 72:34:۔ ” وانہ تعالیٰ “ یہ بھی جنات کا کلام ہے اور ” انا سمعنا “ پر معطوف ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ اگر قائل کا قول بعینہ نقل کیا جائے تو اِنَّ مک سورة ہوگا، اور اگر اس کے کلام کا مضمون نقل کیا جائے تو اَنَّ مفتوحہ ہوگا۔ الجَدُّ ، معنی عظمت و جلال کے ہیں۔ جنوں نے اپنی تقریری میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور اس کے استغناء تام کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہمارے پروردگار کی عظمت بہت بلند اور اس کی جلالت شان نہایت اعلی وارفع ہے اور وہ ایسا بےنیاز اور مستغنی ہے کہ انہ اس کے بیوی ہے جس کی موانست کا وہ محتاج ہو، نہ بیٹا جس کے تعاون و تناصر کی اس کو ضرورت ہو۔ اس کی عظمت و جلالت اور اس کے استغناء تام کا تقاضا یہ ہے کہ اس ساری کائنات میں وہ بلا شرکت غیرے خود ہی متصرف و مختار ہے اور تصرف میں اختیار میں اس کا کوئی شریک اور نائب نہیں۔ تائید : تعالیٰ عما یقولون علوا کبیرا (بنی اسرائیل رکوع 5) ۔
Ayah 72:45:۔ ” وانہ کان یقول “ سفیھنا سے مراد ابلیس ہے یا سرکش اور مشرک جن۔ ان جنوں نے ان مشرک اور سرکش جنوں کی شرارت کا بھی ذکر کردیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی بات کہتے ہیں جو حق سے بعید اور حد سے گذری ہوئی ہے۔ مراد ہے خداوند تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد تجویز کرنا (روح) ۔ حاصل یہ کہ جنوں میں سے جو خدا کے لیے بیوی یا بیٹا تجویز کرتا ہے وہ کم عقل اور نادان ہے۔ بھلا اللہ تعالیٰ جس کی عظمت و جلالت کی کوئی انتہاء نہیں وہ بیوی بیٹوں کا کب محتاج ہے ؟ شططا ای قولا ذا شطط وھو البعد ومجاوزۃ الحد (بیضاوی) ۔
Ayahs 72:5–66:۔ ” وانا ظننا “ واعظین جن اپنی طرف سے معذرت پیش کرتے ہیں کہ وہ ابتک کیوں ان نادانوں کی بات مان کر گمراہی اور شرک میں پھنسے رہے۔ انہوں نے کہا ہم تو اب تک اس خوش فہمی اور حسن ظن میں مبتلا رہے ہیں کہ جن و انس اللہ تعالیی کی طرف کوئی جھوٹی اور غلط بات منسوب نہیں کرسکتے۔ اس لیے ہم یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے یہ رہنما جو خدا کے لیے شریک اور نائب تجویز کر رہے ہیں وہ درست اور حق پر ہیں۔ مگر اب قرآن سننے سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ وہ جھوٹے اور مفتری ہیں اور اللہ تعالیٰ شریک سے پاک ہے۔ ” وانہ کان رجال من الانس “ یہ اس طرف اشارہ ہے جو مشرکین کا دستور تھا کہ جب کسی جنگل بیابان میں داخل ہوتے شریر جنوں سے ان کے سردار کی پناہ مانگتے اور کہتے اعوذ بسید ھذا الوادی من شر سفہاء قومہ (بیضاوی) اور وہ سمجھتے کہ اب وہ شاہ جنات کی پناہ میں ہیں اس یلے اب انہیں جنوں کی طرف سے کوئی اذیت نہیں پہنچے گی۔ جب جنات ان کی بات سنتے تو ان کے کبر و غرور اور تعنت و طغیان میں مزید اضافہ ہوجاتا اور وہ اپنے کو بڑی شان کے مالک سمجھنے لگے۔ ” فزادوھم “ میں ضمیر فاعل سے انس اور ضمیر مفعول سے جنات مراد ہیں اور ” رھق “ کے معنی طغیان اور سرکشی کے ہیں یا ضمیر فاعل جنات سے اور ضمیر مفعول انس سے کنایہ ہے اور رھق کے معنی گمراہی کے ہیں۔ المعنی فزاد الجن الانس غیابان اضلوھم حتی استعاذوا بہم (مظہری ج 10 ص 86) ۔ ہادیان جن پہلے تو خود بھی ایسے ہی تھے، لیکن اب ان پر اس گمراہی کا انکشاف ہوا تو اپنی قوم کو اس سے روکنے لگے۔
Ayahs 72:7–97:۔ ” وانھم ظنوا “ ضمیر انس کی طرف راجع ہے۔ ” ظننتم “ خطاب جنات سے ہے اے قوم شرک کے علاوہ تم حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے اس طرح بنی آدم کا بھی یہی خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ نہیں کرے گا۔ ” وانا لمسنا السماء فملئت حرسا شدیدا “ جنات نے مزید کہا کہ پہلے ہم آسمان کی طرف جاتے تھے اور قریب ہی اطمینان سے بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے کوئی روک ٹوک نہ تھی اور نہ کوئی چوکیدار وہاں مقرر تھے، لیکن ہم اب آسمان کے قریب جاتے ہیں تو وہاں نہایت سخت پہرہ لگا ہے اور جنوں کو بھگانے کے لیے چمکتے شہا بےموجود ہیں اس لیے اب اگر کوئی آسمان کی طرف وہاں کی باتیں سننے کے لیے جائے تو شہاب ثاقب اس کے تعاقب کے لیے تیار اور گھات میں ہوتا ہے۔ یہ سارا انتظام اس لیے کیا گیا ہے کہ اب اللہ کا رسول آچکا ہے تاکہ آپ کا معجزہ ظاہر ہو اور کاہن آسمانوں کی کوئی خبر دینے سے عاجز رہیں۔
Ayah 72:108:۔ ” وانا لاندری “ یہ ماقبل سے متعلق نہیں، بلکہ علیحدہ کلام ہے حاصل یہ کہ رسول کی بعثت کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک ہدایت اور ثواب یعنی جو لوگ پیغمبر کی ہدایت قبول کرلیں وہ اجر وثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ دوم جو لوگ پیغمبر کی تکذیب کریں ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے اب یہ رسول آچکا ہے اس لیے اس کی بعثت میں بھی یہی دو مقصد ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ قرآن سننے سے پہلے ہم نہیں جانتے تھے کہ اب آسمانوں کی حفاظت اور نگرانی سے اللہ تعالیٰ کا کیا اراد ہے ؟ کیا اس سے مخلوق کی بھلائی مقصود ہے یا برائی ؟ لیکن اب قرآن سننے سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی بعثت کی وجہ سے اب آسمان کو محفوظ کردیا گیا ہے تاکہ جنات کاہنوں کو آسمان کی خبر لا کر نہ دے سکیں حاصل یہ ہوا کہ اس سے مقصود مخلوق کے لیے رشد و ہدایت اور خیر و فلاح ہے۔ (مظہری) ۔
Ayahs 72:11–129:۔ ” وانا منا الصالحون “ یعنی ہم جنات میں سے بعض مشرک ہیں، اور بعض موحد، جنات یہ وعظ اپنی قوم کو کر رہے ہیں۔ ” کنا طرائق قددا “ قدد کے معنی متفرق و مختلف کے ہیں۔ یعنی ہماری قوم بھی مختلف طریقوں پر ہے یعنی کچھ تو احکام پر عامل ہیں اور کچھ عامل نہیں ہیں۔ صیغہ ماضی سے ماضی کا معنی مراد نہیں۔ ” وانا ظننا ان لن نعجز اللہ “ ظننا “ بمعنی علمنا ہے۔ واعظ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں تو اب یقین آگیا ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اور ہم اس کو زمین کے کسی بھی حصے میں عاجز نہیں کرسکتے اور نہ کہیں بھاگ کر اس کی گرفت سے بچ سکتے ہیں۔
Ayahs 72:13–1510:۔ ” وانا لما سمعنا “ ہم نے جب قرآن سنا جو سراپا ہدایت ہے، تو ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور جو بھی اپنے پروردگار کی توحید پر ایمان لے آئیگا وہ اپنے عملوں کا پورا ثواب پائیگا، نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائیگی اور نہ اس کی برائیوں میں اضافہ کیا جائیگا۔ ” بخسا “ نیکیوں میں کمی اور ” رھقا “ سیئات میں اضافہ۔ ” وانا منا المسلمون “ ہم میں سے کچھ تو مسلمان ہیں جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ ظالم اور بےانصاف ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ ” فمن اسلم “ جس شخص نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا، صرف ایک اللہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ شرک نہ کیا تو اس نے سیدھی راہ تلاش کرلی۔ ” واما القاسطون “ یہ تخویف اخروی ہے لیکن ظالم اور مشرک جہنم کا یندھن ہوں گے۔
Ayahs 72:16–17ف 11:۔ ” وان لو استقاموا “ یہ ” انہ استمع “ پر معطوف ہے اور مستقل وحی ہے، یہ جنات کا کلام نہیں۔ اس میں اہل مکہ کی طرف التفات ہے۔ ” غدقا کثیرا “ یعنی بکثرت، وافر، مراد خوشحالی ہے۔ یہ بات بھی آپ کی طرف وحی کی گئی کہ اگر اہل مکہ طریقہ مستقیمہ یعنی ملت اسلام پر قائم ہوجائیں، تو ہم دنیا میں ان پر روزی فراخ کردیں گے تاکہ ان کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کون شکر کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ ” ومن یعرض عن ذکر ربہ “ یہ تخویف ہے۔ صعدا، شاقا، یعنی سخت دچوار اور جو شخص اللہ کی کتاب اور اس کی توحید سے اعراض کرے گا اسے وہ نہایت سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ صعدا شاقا یعلوا المعذب یغلبوہ (مظہری ج 10 ص 91) ۔
Ayah 72:1812:۔ ” وان المساجد “ یہ بھی انہ استمع پر معطوف ہے۔ یہ گذشتہ سورتوں میں بیان شدہ دلائل عقلیہ ونقلیہ کا ثمرہ ہے۔ مساجد سے یا مسجدیں اور عبادت خانے مراد ہے یا اس سے اعضاء سجدہ مراد ہیں۔ یعنی مسجدیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مختص ہیں، اسی طرح اعضاء سجود کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے حاجات و مشکلات میں اللہ کے سوا کسی کو غائبانہ مت پکارو۔
Ayah 72:1913:۔ ” وانہ لما قام “ عبدا اللہ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں جب آپ توحید کی دعوت دیتے اور تبلیغ کرتے ہیں تو مشکین مخالفت کے لیے آپ پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ تفسیر حسن، قتادہ اور ابن زید رحمہم اللہ سے منقول ہے۔ ومعناہ علی ما قال الحسن وقتادۃ وابن زید انہ لما قام عبداللہ بالدعوۃ الی التوحید کاد الجن والانس یکونون مجتمعین لابطال امرہ (مظہری ج 10 ص 93) ۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ صرف اللہ ہی کو پکارتا ہے اور اس کی عبادت بجا لاتا ہے تو لوگ کمال ذکر و عبادت کی وجہ سے اس بندہ خدا کو کارخانۃٔ خدائی میں دخیل سمجھنے لگتے ہیں اور اپنی حاجات کے لیے اس پر ہجوم کر آتے ہیں۔ کوئی اس سے بیٹا مانگتا ہے، کوئی روزی طلب کرتا ہے اور کوئی اس سے حاجت بر آری اور مشکل کشائی کی درخواست کرتا ہے۔ اس میں جن وانس دونوں فریق شریک ہیں۔ آنحضرت ﷺ چونکہ دونوں کی طرف رسول ہیں اس لیے آپ کو حکم دیا کہ اگر آپ کو ثقلین سے یہ اندیشہ ہے کہ وہ آپ کو بھی خدا کا شریک بنائیں گے۔ اور حاجات ومصائب میں آپ کو پکاریں گے تو آپ واشگاف الفاظ میں اعلان فرما دیں کہ میں تو خود صرف اللہ ہی کو پکارتا ہوں اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتا اور میں تمہارے نفع ونقصان کا بھی مالک ومختار نہیں ہوں (تفسیر عزیزی پارہ 29 ص 169، 170) ۔
Ayahs 72:20–2114:۔ ” قل انما ادعوا “ یہ سورة ملک اور حوامیم کا خلاصہ ہے۔ آپ اعلان کردیجئے کہ میں حاجات و مصائب میں غائبانہ نہ صرف اپنے رب ہی کو پکارتا ہو اور اس کی دعاء و پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتا ہوں پھر اس سے بطور ترقی حکم دیا ” قل انی لا املک لکم ضرا ولا رشدا “ فرمایا یہ بھی اعلان کردو کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک و مختار نہیں اور نہ تمہاری گمراہی اور ہدایت میرے اختیار میں ہے۔ جیسا کہ جن و انس کے گمراہ کن راہنما عوام کو اپنے مالک نفع و ضرر ہونے کا یقین دلاتے۔ اگر کوئی کسی حادثہ مصیبت میں آپ کی پناہ لے تو آپ صاف فرما دیں کہ میرا اپنا حال یہ ہے کہ میں خود خدا کے غضب سے اس کی پناہ کے بغیر نہیں بچ سکتا اس لیے دوسروں کو کس طرح پناہ دے سکتا ہوں ؟ (تفسیر عزیزی ص 170) ۔
Ayahs 72:22–2315:۔ ” قل انی لن یجیرنی “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ کفار کہتے تھے کہ تم اپنی تبلیغ کو ترک کیوں نہیں کردیتے تو جواب دینے کا حکم دیا گیا کہ میں تبلیغ پر خدا کی طرف سے مامور ہوں۔ اگر میں تبلیغ ترک کردوں تو اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا اور نہ اس کے سوا میرا کوئی ٹھکانا ہوگا۔ تائید : ” انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم “ (الانعام ) ۔ ” الا بلغا من اللہ “ یہ ” لا املک “ کے مفعول سے استثناء ہے۔ یعنی مجھے کسی چیز کا اختیار نہیں سوا اللہ تعالیٰ کے پیغامات کی تبلیغ کے میں نافع وضار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات کا مبلغ ہوں۔ ” ومن یعص اللہ ورسولہ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اللہ کی کتاب اور اس کی توحید پر ایمان نہیں لائیگا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔
Ayah 72:2416:۔ ” حتی اذا راو “ یہ اب تو نہیں مانتے اور ضد وعناد کی وجہ سے انکار و جحود پر اڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ جب عذاب موعود کو دیکھ لیں گے تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ کن کا مددگار اور حامی وناصر کمزور اور عاجز ہے اور کن کے اعوان و انصار کی تعداد کم ہے ؟ مشرکین کی یارسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی یہ حقیقت میدان بدر میں مشرکین پر منکشف ہوئی جبکہ مٹھی بھر اور بےسرو سامان مسلمانوں کے ہاتھوں تین گنا مشرکین نے ذلت آمیز ہزیمت اٹھائی حالانکہ وہ ہر قسم کے سامان جنگ سے آراستہ تھی۔ مسلمانوں کی اللہ نے مدد فرمائی اور فرشتوں کو بھیج کر ان کے حامیوں میں اضافہ فرمایا مگر مشرکین کے مزعومہ کارساز اور مددگار ان کی مدد کو نہ پہنچے۔ یا اس سے قیامت کے دن کا عذاب مراد ہے (روح) ۔
Ayah 72:2517:۔ ” قل ان ادری “ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، فرمایا جواب میں کہہ دیجئے یہ تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ وعدہ بہت جلد پورا ہوگا یا اس میں دیر ہے البتہ یہ بات یقینی اور حتمی ہے کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو وعدہ کے مطابق عذاب ضرور آئے گا۔
Ayahs 72:26–2818:۔ ” عالم الغیب “ یہ جملہ ماقبل کے لیے علت ہے اور ھو مبتداء مقدر ہے ” الا من ارتضی “ مستثنی منقطع ہے۔ ’ من ارتضی الخ “ مبتدا اور ” فانہ یسلک الخ “ اس کی خبر ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آپ فرما دیجئے مجھے معلوم نہیں کہ قیامت قریب ہے یا بعید، کیونکہ میں عالم الغیب نہیں ہوں اور نہ مجھ کو غیب پر غلبہ ہی دیا گیا ہے کہ جب چاہوں جو چیز چاہوں جان لوں۔ عالم الغیب تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا۔ البتہ جن بندوں کو اس نے رسالت کے لیے چن لیا ہے ان کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر فرما دیتا ہے تاکہ ان فرشتوں کی شہادت سے ظاہر فرما دے کہ میرے رسولوں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ علم کے لیے کسی ذریعہ اور وسیلہ کا محتاج نہیں اس کا علم ان سب کی معلومات پر حاوی ہے اور ہر ہر چیز اس کے علم محیط میں موجود ہے۔
تحقیق آیت ” عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی (الایۃ)
لفظ اظہار مختلف معنوں میں مستعمل ہے۔ 1 ۔ ظاہر کرنا۔ 2 ۔ غالب کرنا۔ 3 ۔ مطلع کرنا۔ 4 ۔ ظہر کے وقت جانا۔ یہاں چوتھا معنی مناسب مقام نہیں جیسا کہ ظاہر ہے اسی طرح پہلا معنی بھی یہاں مراد نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس صورت میں اس کا استعمال صلہ کے بغیر ہوتا ہے اور ” غیبہ “ کو منصوب ہو کر اس کا مفعول ہونا چاہئے تھا اب رہ گئے دو معنی، غالب کرنا۔ یہ دونوں یہاں مراد ہوسکتے ہیں۔
سورة جن میں آیات توحید
1 ۔ ” وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا۔ تا۔ ولن اجد من دونہ ملتحدا “ نفی شرک اعتقادی۔
2 ۔ ” عالم الغیب فلایظہر علی غیبہ احدا “ نفی شرک فی علم الغیب۔
سورة الجن ختم ہوئی