Ayahs 71:1–32:۔ ” انا ارسلنا “ دلیل نقلی تفصیلی از نوح علیہ السلام۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ وہ اپنی قوم کو سمجھائیں کہ دردناک عذاب کے آنے سے پہلے ہی دعوت توحید کو مان لو۔ ” قال یقوم “ چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تم کو واضح اور کھلے لفظوں میں خبردار کرنے آیا ہوں کہ ” اعبدو اللہ واتقوہ “ تم صرف اللہ کی عبات کرو۔ صرف اسی کو برکات دہندہ سمجھو اور حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ اس کے عذاب سے ڈرو اور میری اطاعت کرو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو مسئلہ سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر ہلاک کردئیے گئے۔ اے اہل مکہ، آؤ مسئلہ مان لو ورنہ تم پر بھی خدا کا عذاب آئیگا۔
Ayah 71:43:۔ ” یغفرلکم “ مجزوم بوجہ جواب امر۔ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اجل مسمی یعنی موت تک تم کو بلا عذاب مہلت دے گا۔ لیکن اگر تم ایمان نہ لائے تو خدا کا عذاب آجائے گا اور پھر کسی صورت ٹل نہیں سکے گا۔ اجل مسمی سے مراد موت ہے۔ اور اجل اللہ سے دنیوی عذاب کا معین وقت مراد ہے (جلالین) ۔ فرشتوں کے یہاں بطور تقدیر معلق لکھا ہوتا ہے کہ اگر مان لیں تو بہتر، ورنہ ان پر فلاں وقت میں عذاب نازل ہوگا۔ ومعناہ ان اللہ تعالیٰ کان قضی قبل خلقہم انھم ان امنوا بارک فی اعمارھم، وان لم یومنوا عوجلوا بالعذاب (قرطبی ج 18 ص 299) ۔ لوکنتم تعلمون اگر تم جانتے ہوتے کہ ایمان نہ لانے کی صورت میں جب اللہ کا عذاب آگیا تو وہ ٹل نہیں سکے گا تو ایمان کی طرف دوڑتے اور اس میں ذرا تاخیر نہ کرتے۔ لو بمعنی ان ہے یا اپنے اصل پر بمعنی تمنی ہے، اس صورت میں جواب کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 71:5–74:۔ ” قال رب “ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی تبلیغی جدو جہد اور مشرکین کے عناد و تعنت کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت توحید دینے میں نہ دن دیکھا ہے، نہ رات، جب انہیں موقع ملا انہوں نے ان کو سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مگر میں جتنا ان کو توحید کی طرف بلاتا ہوں وہ اتنا ہی دور بھاگتے ہیں۔ ” وانی کلما دعوتہم “ میں نے جب بھی ان کو توحید کی طرف دعوت دی تاکہ وہ ایمان لے آئیں اور تو ان کے گناہ معاف فرما دے تو غور سے سننے اور ماننے کے بجائے انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری آواز سن ہی نہ پائیں اور اپنے معبودوں کی توہین نہ سن سکیں اور اپنے اوپر کپڑے لپیٹ کر اپنے کو خوب ڈھانپ لیا کہیں مجھ پر ان کی نظر نہ پڑجائے کیونکہ جو شخص ان کے معبودوں کے بارے میں کہتا ہو کہ وہ برکات دہندہ نہیں ہیں وہ اس کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے یہ ان کے خیال میں ان کے معبودوں کی بےحرمتی ہے یعنی ماننا تو درکنار انہیں تو مجھ سے اس قدر نفرت ہے کہ وہ میری بات سننا اور میری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ کفر و شرک پر مصر ہیں اور میری دعوت کو قبول کرنے اور میری بات کو ماننے سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔
Ayahs 71:8–95:۔ ” ثم انی دعوتہم “ عموم وقت کے بعد عموم کیفیت کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح میں نے دعوت کے لیے کوئی وقت نہیں چھوڑا اسی طرح میں نے دعوت و تبلیغ کا ہر طریقہ اور ہر انداز اختیار کیا تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح مان لیں۔ چناچہ میں نے منادی کے ذریع ان کو ایک جگہ جمع کر کے بھی ان کے سامنے دعوت توحید پیش کی۔ ” ثم انی اعلنت لہم “ پھر ان کی بھری مجلسوں میں خود جا جا کر بھی ان کو سمجھایا۔ ” واسررت لہم اسرارا “ پھر ایک ایک کو فرداً فرداً سمجھانے کی بھی کوشش کی۔ میں نے دعوت و تبلیغ میں ترغیب و ترہیب سے بھی کام لیا اور عقلی دلائل سے بھی مسئلہ واضح کیا مگر اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لاتے۔
Ayahs 71:10–126:۔ ” فقلت استغفروا “ یہ ترغیب ہے۔ ” مدرارا یرسل “ کا مفعول مطلق ہے۔ من غیر لفظہ یا یہ صیغہ مبالغہ ہے اور السماء سے حال ہے السماء سے مراد بادل یا بارش ہے (مظہری، روح) ۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ ایمان لے آؤ اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، وہ معاف کرنے والا ہے وہ تم پر موسلا دھار بارانِ رحمت نازل فرمائے گا۔ ” ویمددکم باموال “ تمہارے مال واولاد میں برکت عطاء فرمائے گا، تمہارے لیے پھلوں اور میووں کے سرسبز و شاداب باغات پیدا فرمائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔
Ayah 71:137:۔ ” مالک لا ترجون “ یہ ترہیب اور دلائل عقلیہ کا ذکر ہے۔ ترجون کے معنی ہیں، تخافون یا تعتقدون اور وقار کے معنی ہیں عظمت و جلالت۔ تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے ہو جس نے تمہیں اس قدر نعمتوں سے مالا مال فرمایا ہے اور معبودان باطلہ کو کیوں نہیں چھوڑتے ہو اور ان کو برکات دہندہ کیوں سمجھتے ہو۔
Ayahs 71:14–168:۔ ” وقد خلقکم “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان عقلی دلائل کی طرف بھی قوم کو متوجہ کیا کہ اپنی پیدائش پر غور کرو اور دیکھو اللہ نے تمہیں کس طرح مختلف احوال سے گذار کر پیدا فرمایا۔ ” الم تروا کیف خلق اللہ “ اپنی پیدائش کے علاوہ ذرا اوپر کی طرف آسمانوں کو تو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی قدرت و صنعت سے تہ بتہ سات آسمانوں کو پیدا فرمایا اور ان میں چاند اور سورج کو روشن کیا۔ قمر کو نور اور شمس کو سراج (چراغ) فرما کر اس طرف اشارہ کیا کہ چاند کی روشنی سورج سے مستفاد ہے، کیونکہ اندھیرے میں روشنی چراغ سے مستفاد ہوتی ہے اور چراغ کی روشنی خود اس کے اندر ہوتی ہے کسی دوسری چیز سے مستفاد نہیں ہوتی ولعلہ فی قولہ تعالیٰ جعل القمر فیھن نورا وجعل الشمس سراجا اشعار بان نور القمر مستفاد من الشمس فان النور انم ایستفاد من السراج (مظہری ج 10 ص 75) ۔
Ayahs 71:17–209:۔ ” واللہ انبتکم “ نباتا مفعول مطلق ہے من غیر بابہ، جیسا کہ تبتل الیہ تبتیلا میں ہے انسان کو زمین سے پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سب کے بابا حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔ یا مطلب یہ ہے کہ جن نطفوں سے تم کو پیدا کیا گیا ہے وہ زمین سے حاصل ہونے والی غذا سے پیدا ہوتے ہیں پھر موت کے بعد تمہیں دوبارہ زمین میں لوٹائے گا اور تم قبروں میں دفن کیے جاؤ گے پھر قیامت کے دن تمہیں زندہ کر کے قبروں میں سے نکالے گا۔ ” واللہ جعل لکم الارض بساطا “ پھر نیچے دیکھو زمین کو اس نے کس طرح نرم اور ہموار بنادیا ہے جس میں تم کھلے راستے اور چوڑی چوڑی سڑکیں بناتے اور ان میں چلتے ہو۔ ان تمام صفات کا جو مالک ہے اور جس نے یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہی تم سب کا معبود حقیقی ہے، اس کی توحید پر ایمان لاؤ اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت کو چھوڑ دو ۔
Ayah 71:2110:۔ ” قال نوح “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے مزید عرض کیا میرے پروردگار، انہوں نے میری نافرمانی کی ہے اور میری کوئی بات نہیں مانی اور ان رؤسا اور صنادید کفر کی پیروی میں لگ گئے جنہیں مال و اولاد سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ بلکہ مال و اولاد اور تمام دنیوی ساز و سامان ان کے لیے سراسر خسارہ اور نقصان کا باعث ہے۔ کیونکہ مال واولاد کی وجہ سے وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوگئے اور ایمان سے استکبار کیا اس طرح دنیوی وجاہت ان کے لیے اخروی خسارے کا باعث بن گئی۔ ” اتبعوا “ سے عوام مشرکین مراد ہیں اور ” من “ سے رؤسائے مشرکین۔ ای واستمروا علی اتباع رؤسائہم الذین ابطرتہم اموالہم وغرتہم اولادہم وصار ذلک سببا لزیادۃ خسارہم فی الاخرۃ الخ (روح ج 29 ص 76) ۔
Ayah 71:2211:۔ ومکرو، اتبعوا پر معطوف ہے یا لم یزد پر اور جمع کا صیغہ من کے مفہوم کے اعتبار سے لایا گیا ہے۔ عوام کا مکر یہ تھا کہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہر طرح سے تکلیف و اذیت پہنچاتے اور رؤساء مشرکین کا مکر یہ تھا کہ وہ اپنے عوام کو توحید سے روکنے اور ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کی ایذاء پر اکساتے تھے (مظہری) ۔ کبار، کبیر کا مبالغہ ہے ای کبیرا فی الغایۃ (روح) حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کافروں نے اعتراض کیا تھا کہ ” کُبَّار “ اور ” عجائب “ غیر فصیح ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی بڈھے آدمی کو لاؤ، جب لے کر آئے تو آپ نے فرمایا اسے دو چار مرتبہ اٹھاؤ بٹھاؤ، اس پر اس بڈھے نے کہا یا محمدا تتخذنی ھزوا، ان ھذا لشیئ عجاب وانی شیخ کبار، واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 71:23–2412:۔ ” وقالوا لاتذرن “ ان مشرکین نے میری دعوت کو قبول کرنے کے بجائے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے تمام معبودوں کی عبادت ہرگز نہ چھوڑیں خصوصاً ان پانچ بڑے معبودوں کو تو کسی قیمت پر نہ چھوڑیں یعنی ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر، یہ پانچوں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے معبود تھے۔ جنہیں وہ اپنی حاجتوں اور مصیبتوں میں پکارتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں، اسماء رجال صالحین من قوم نوح (علیہ السلام) (صحیح بخاری ج 2 ص 732) ۔ یہ پانچوں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں خدا کے نیک اور برگزیدہ بندے تھے۔ جب وہ فوت ہوگئے تو ان کے متعلقین اور معتقدین نے بہت غم کیا۔ ابلیس انسانی شکل میں ان کے پاس پہنچا اور خیر خواہی کے رنگ میں کہنے لگا تم غم نہ کرو میں تمہاری تسلی کا سامان کردیتا ہوں چناچہ وہ ان کی شکلوں پر ان بزرگوں کے بت بنا کر ان کے پاس لے آیا اور کہنے لگا ان بتوں کو ان بزرگوں کے عبادت خانوں میں نصب کر دو اور وقتاً فوقتاً ان کی زیارت کر کے دلوں کو تسلی دے لیا کرنا۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ ان کی عبادت ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعوت توحید دے کر مبعوث فرمایا۔ (قرطبی، البدایہ والنہایہ) ۔ ” وقد اضلوا کثیرا “ اور ان رؤسائے مشرکین نے تیری بہت سی مخلوق کو گمراہ کر ڈالا ہے اور ان کو راہ راست پر آنے سے روکا ہے۔ ” ولا تزد الظالمین الا ضلالا “ ضلال سے توحید کے خلاف منصوبوں میں ناکامی مراد ہے۔ اے میرے پروردگار ! ان ظالموں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنادے اور ان کی آرزوئیں خاک میں ملا دے۔ ولعل المطلوب ھو الضلال فی ترویج مکرھم ومصالح دنیاھم لا فی امر دینہم الخ (بیضاوی ج 2 ص 401) ۔
Ayah 71:2513:۔ ” مما خطیئتہم “ یہ تخویف ہے اور من سببیہ ہے۔ ” فادخلوا “ میں فاء تعقیب بلا تاخیر کے لیے ہے۔ ” من دون اللہ “ سے ان کے خود ساختہ معبود ” ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر “ وغیرہ مراد ہیں۔ یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کو ان کے گناہوں کی وجہ سے غرق کردیا گیا پھر فورًا ہی ان کو آگ میں داخل کردیا گیا۔ تو اللہ کے سوا جن کو وہ پکارتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ یہ آیت عذاب قبر کے اثبات پر اہل سنت کی محکم دلیل ہے۔ کیونکہ غرق کے فورًا بعد ان کو جس آگ میں داخل کیا گیا وہ آخرت کی آگ نہیں، کیونکہ قیامت تو تاہنوز قائم ہی نہیں ہوئی، اس لیے اس سے لامحالہ عالم برزخ کا عذاب ہی مراد ہے جسے اصطلاح شریعت میں عذاب قبر سے تعبیر کیا گیا ہے (فادخلوا نارا) فی عالم البرزخ المسمی بالقبر فانہ روضۃ من ریاض الجنۃ او حفرۃ من حفرات النیران فھذہ الایۃ دلیل علی اثبات عذاب القبر لان الفاء للتعقیب (مظہری ج 10 ص 77) (فاخلوا نارا) ھی نار البرزخ والمراد عذاب القبر (روح ج 29 ص 79) ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہو اور فادخلوا سے مراد فحکم بدخولہم النار فی الاخرۃ (الشیخ (رح) تعالی) ۔ یا اغراق اور ادخال جہنم کے درمینی عرصے کو غیر معتد بہ قرار دے کر ادخال پر فاء داخل کی گئی ہو (روح) ۔
Ayahs 71:26–2714:۔ ” وقال نوح “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے آخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی : میرے پروردگار ! ان مشرکین میں سے اس دھرتی پر ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑ۔ ” انک ان تذرھم “ اگر تو ان کو ہلاک نہیں کرے گا اور ان کو زندہ چھوڑ دے گا تو وہ تیرے مومن بندوں کو بھی مکر و فریب سے گمراہ کردیں گے اور ان کی نسلوں میں بھی مشرکوں اور فاجروں کے سوا کوئی مومن اور موحد نہیں ہوگا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعاء پہلے تھی، قوم کی غرقابی بعد میں ہوئی۔ لیکن نظم قرآن میں دونوں کا ذکر معکوس ہے یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ واوؤ مطلق جمع کے لیے ہوتی ہے اور ترتیب کی مقتضی نہیں۔ اہل بدعت کہتے ہیں اس آیت سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا غیب دان ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ مشرکین تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کی نسلوں میں فساق و فجار کے سوا کوئی نہیں ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مطلع فرما دیا تھا کہ اب ان میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا اور نہ ان کی نسل سے کوئی مؤمن پیدا ہوگا۔ چناچہ ارشاد ہے۔ واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن۔ الایۃ (ہود رکوع 4) اور جو علم وسائل سے حاصل ہو وہ علم غیب نہیں ہوتا۔
Ayah 71:2815:۔ ” رب اغفرلی “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے خواہ ان کی امت کے ہوں یا دوسرے پیغمبروں کی امتوں سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے لیے مغفرت کی دعا کی اور مشرکین کے لیے تباہی و بربادی کی بد دعاء کی۔ مشرکین پر ان کی بد دعاء تو قبول ہوچکی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں کہ تمام مومنوں کے حق میں بھی ان کی دعاء کو قبول فرما لے۔ قد دعا (علیہ السلام) دعوتین دعوۃ علی الکافرین ودعوۃ للمومنین وحیث استجیبت لہ الاولی فلا یبعد ان تستجاب لہ الثانیۃ واللہ تعالیٰ اکرم الاکرمین (روح ج 29 ص 81) ۔
سورة نوح (علیہ السلام) میں آیات توحید
1 ۔ ” اعبدوا اللہ واتقوہ “ نفی شرک ہر نوع، تخصیص ہر نوع عبادت بذات باری تعالیٰ
2 ۔ ” وقد خلقکم اطوارہ۔ تا۔ لتسلکوا منہا سبلا فجاجا “ نفی شرک اعتقادی۔
3 ۔ ” فلم یجدوا لہم من دون اللہ انصارہ “ نفی شرک فی التصرف۔
سورة نوح ختم ہوئی