70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 70:1–4

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگا2 ایک مانگنے والے نے عذاب پڑنے والا

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

منکروں کے واسطے کوئی نہیں اس کو ہٹانے والا

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

آئی اللہ کی طرف سے جو چڑھتے درجوں والا ہے

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

چڑھیں گے اس کی طرف فرشتے اور روح اس دن میں جس کالنباؤ پچاس ہزار برس ہے

2:۔ ” سال سائل “ للکفرین، واقع سے متعلق ہے۔ ” من اللہ “ دافع سے متعلق ہے یعنی اس عذاب کے اللہ کی طرف سے وقوع کو کوئی روکنے والا نہیں یا واقع سے متعلق ہے۔ ” ذی المعارج “ سیڑھیوں والا مراد آسمان ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کی طرف اشارہ ہے۔ فی یوم، تعرف سے متعلق ہے۔ فرشتے جب اپنے اپنے مخصوص مقامات میں واپس جاتے ہیں، تو ان کو اتنا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے جسے طے کرنے کے لیے انسانوں کو پچاس ہزار سال کا عرصہ درکار ہو، لیکن فرشتے اس فاصلے کو چند لمحوں میں طے کرلیتے ہیں۔ ای عروج الملائکۃ الی المکان الذی ھو محلہم فی وقت کان مقدارہ علی غیرہم لو صعد خمسین الف سنۃ (قرطبی ج 18 ص 281) ۔ الروح سے جبریل امین (علیہ السلام) مراد ہیں (روح) ۔ یہ معاندین اللہ سے عذاب مانگتے ہیں، وہ عذاب جو لا محالہ کافروں پر آنے والا ہے جسے کوئی روکنے والا نہیں، بڑی عظمت و شان والے اللہ کی طرف سے، جس کی جانب فرشتے انسانوں کے حساب سے پچاس ہزار سال کا فاصلہ طے کر کے پہنچتے ہیں۔ یا فی یوم، واقع سے یا، یقع مقدر سے متعلق ہے اور مراد قیامت کا دن ہے یعنی وہ عذاب اس دن میں واقع ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی ای یقع العذب بہم فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ یعنی یوم القیامۃ (مظہری ج 10 ص 61) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہ بطور تہکم و استہزاء فرمایا کہ اس عظیم الشان بادشاہ سے مانگنے والے نے کیا مانگا ؟ عذاب، جو ان پر آنے ہی والا ہے اس کو مانگیں یا نہ مانگیں۔ واہ ! شاباش ! کیا ایسے شہنشاہ سے ایسی چیزیں مانگی جاتی ہیں ؟
Ayahs 70:5–7

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

سو تو صبر کر3 بھلی طرح کا صبر کرنا

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

وہ دیکھتے ہیں اس کو دور

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم دیکھتے ہیں اس کو نزدیک

3:۔ ” فاصبر صبرا “ تسلیہ برائے نبی کریم ﷺ مشرکین کا مطالبہ عذاب ازراہ عناد و استہزاء ہے۔ آپ ان کے تعنت وعناد اور تکذیب و انکار پر صبر و تحمل سے کام لیں۔ وہ عذاب کو عقل و امکان سے بعید سمجھتے ہیں، لیکن ہم اسے بالکل نزدیک دیکھ رہے ہیں جو چیز لا محالہ آنے والی ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے۔
Ayahs 70:8–10

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن4 ہوگا آسمان جیسے تانبا پگھلا ہوا

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور ہوں گے پہاڑ جیسے اون رنگی ہوئی

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور نہ پوچھے گا دوست دار دوست دار کو

4:۔ ” یوم تکون السماء “ تخویف اخروی۔ ظرف کا متعلق محذوف ہے جو سوال مقدر کا جواب ہے۔ یعنی وہ عذاب کب آئیگا ؟ جواب دیا گیا جب آسمان تانبہ گداختہ کی مانند ہوجائیں گے۔ کانہ قیل متی یقع ذلک العذاب ؟ یقع یوم تکون السماء الخ، افاہ الشیخ قدس سرہ۔ یا یہ ” قریبا “ سے متعلق ہے یا یقع مقدر سے۔ مراد اس سے قایمت کا دن ہے۔ قیامت کا منظر نہایت ہولناک ہوگا۔ قیامت کے دن آسمان پگھلی ہوئی دھات کی مانند سرخ ہوجائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئ روئی کے گالوں کی مانند ہوں گے۔ اس دن کوئی مخلص سے مخلص دوست بھی اپنے کسی دوست کی خبر نہیں لے گا، حالانکہ سب دوست آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے مگر کچھ کر نہیں سکیں گے۔
Ayahs 70:11–18

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

سب نظر آجائیں گی ان کو چاہے گا5 گناہگار کسی طرح چھڑوائی میں دے کر اس دن کے عذاب سے اپنے بیٹے کو

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اور اپنی ساتھ والی کو اور اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے گھرانے کو جس میں رہتا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور جتنے زمین پر ہیں سب کو پھر اپنے آپ کو بچا لے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ تپتی ہوئی آگ ہے

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کھینچ لینے والی کلیجہ

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

پکارتی ہے اس کو جس نے پیٹھ پھیرلی اور پھر کر چلا گیا

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور جوڑا اور سینت کر رکھا

5:۔ ” یود المجرم لو یفتدی “ سے لے کر ” ثم ینجیہ “ تک یود کا مفعول ہے۔ قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور عبرتناک ہوگا کہ اس دن مشرک کی تمنا ہوگی کہ آج وہ اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو، اپنے خاندان کو جو دنیا میں اس کا ناصر و حامی تھا، بلکہ دنیا میں رہنے والی ساری مخلوق کو بطور فدیہ دے کر عذاب سے اپنی جان بچالے۔ ” کلا “ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور عذاب سے کسی طرح کا بھی چھٹکارہ نہیں ہو سکے گا۔ ” انہا لظی “ وہ دوزخ کی آگ بھڑکتا ہوا شعلہ ہوگی اور دوزخیوں کی کھال ادھیڑ دے گی جنہوں نے دنیا میں دین حق سے منہ پھیرا اور اعراض کیا مال و دولت کا ذخیرہ کیا اور راہ حق میں اس کو کرچ نہ کیا، وہ ان کو اپنی طرف بلائے گی اور کہے گی، او مشرک، او منافق، ادھر آ۔ فتقول النار الی یا مشرک، الی یا منافق، الی الی۔ (مظہری ج 10 ص 64) ۔
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک آدمی6 بنا ہے جی کا کچا

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب پہنچے اس کو برائی تو بےصبرا

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب پہنچے اس کو بھلائی تو بےتوفیقا

6:۔ ” ان الانسان “ یہ زجر ہے۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے۔ کافر کا دل نہایت کمزور اور ضعیف ہوتا ہے۔ خیر و شر میں آپے سے باہر ہوجاتا ہے جنانچہ جب اس کا حال برا ہو تو بری طرح جزع فزع کرتا اور ناامید ہوجاتا ہے اور جب خوشحال ہو تو اتراتا ہے اور کار خیر میں خرچ نہیں کرتا۔ پچھلی دونوں آیتیں پہلی آیت کی تفسیر ہیں (ان الانسان خلق ھلوعا) ثم فسرہ بقولہ (اذا مسہ الشر جزوعا) ای اذا اصابہ الضر فزع وجزع وانخلع قلبہ من شدۃ الرعب وایس ان یحصل لہ بعد ذلک خیر (واذا مسہ الخیر منوعا) ای اذا حصلت لہ نعمۃ من اللہ بخل بھا علی غیرہ و منع حق اللہ تعالیٰ فیہا (ابن کثیر ج 4 ص 421) ۔
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ7 نمازی

7:۔ ” الا المصلین “ الا بمعنی لکن ہے اور استثناء منقطع ہے۔ الا بمعنی لکن، ناصب اسم اور راع خبر ہوا کرتا ہے، اس کی خبر کبھی محذوف ہوتی ہے، کبھی مذکور، یہاں مذکور ہے۔ المصلین الخ اس کا اسم ہے اور اولئک فی جنات منکرمون اس کی خبر ہے (رضی شرح کافیہ) اور یہ بعذاب واقع ہوگا لیکن مصلین (نمازی) جو اللہ کے مقبول بندے ہیں وہ جنات نعیم میں ہوں گے۔ یہ ان الانسان خلق ھلوعا کے ساتھ متعلق نہیں، تاکہ یہ معنی بن جائے کہ انسان دل کے خام ہیں، مگر نمازی اس سے مستثنی ہیں، کیونکہ دل کے خام تو سب ہیں۔ افادہ الشیخ (رح) تعالی۔ یہاں دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے اس سے محفوظ رہنے والے اللہ کے مقبول بندوں کی صفتیں حسب ذیل ہیں۔
Ayahs 70:23–28

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو8 اپنی نماز پر قائم ہیں

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

مانگنے والے اور ہارے ہوئے کا

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو یقین کرتے ہیں انصاف کے دن پر

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کے عذاب سے کسی کو نڈر نہ ہونا چاہیے

8:۔ ” الذین ھم علی صلاتہم دائمون “ وہ نمازوں کو قائم کرتے ہیں یعنی نمازوں کو تمام آداب وفرائض کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ دائمون ای مواظبون (روح) ۔ دائمون ای مقیمون (صراح) ۔ ان کے اموال و مواشی میں فقراء و مساکین کا معین حق ہے۔ مراد زکوۃ فریضہ ہے وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی احسان کرتے ہیں۔ ” السائل “ وہ فقیر جو سوال کر کے لے لے اور ” المحروم “ سے مراد وہ فقیر ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتا اور محروم رہتا ہے۔ اس لیے ایسے مستحقین کی جستجو، رکھنی چاہئے اور خود بخود ان کو دینا چاہئے۔ ” والذین یصدقون “ وہ قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے عذاب سے ترساں ولرزاں رہتے ہیں۔ ” ان عذاب ربھم غیر مامون “ جملہ معترضہ ہے جس میں عذاب خداوندی کی شدت و عظمت کی طرف اشارہ ہے یعنی اللہ تعالٰ کا عذاب ایک ایسی چیز ہے جس سے کسی کو بھی بےخوف نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہر ایک کو خواہ وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اس سے ڈرتے رہنا چاہئے۔
Ayahs 70:29–31

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور جو9 اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

مگر اپنی جوروؤں سے یا اپنے ہاتھ کے مال سے سو ان پر نہیں کچھ الاہنا

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے

9:۔ ” والذین ھم لفروجہم حافظون “ وہ اپنی شرمگاہوں کو بدکاری سی محفوظ رکھتے ہیں اور ناجائز طریق پر ان کو استعمال نہیں کرتے، البتہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے استمتاع کرتے ہیں۔ جو شخص بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ شہوت رانی کی کوئی اور راہ تلاش کرے گا وہ حد سے تجاوز کرے گا۔ استمناء بلید، وطی فی الدبر اور نکاح متعہ وغیرہ ناجائز طریقوں میں داخل ہیں۔ نکاح متعہ کی تحقیق سورة مومنون کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ص 754 ص حاشیہ 7 ۔
Ayahs 70:32–35

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور جو لوگ10 کہ اپنی امانتوں اور اپنے قول کو نباہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز سے خبردار ہیں

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

وہی لوگ ہیں باغوں میں عزت سے

10:۔ ” والذین ھم لاماناتہم وعھدھم راعون “ وہ امانتوں کی حفاظت اور عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی ظلم نہیں کرتے اور وہ اپنی شہادتیں پوری پوری ادا کرتے ہیں اور گواہی میں کمی بیشی اور ہیرپھیر نہیں کرتے اور وہ نمازوں کی پوری پوری حفاظت کرتے ہیں۔ اولئک فی جنت مکرمون۔ یہ الا بمعنی لکن کی خبر ہے۔ ان صفتوں سے متصف اللہ کے مقبول بندے جنت کے باغوں میں نہایت عزت و شان سے رہیں گے۔
Ayahs 70:36–37

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پھر کیا11 ہوا ہے منکروں کو تیری طرف دوڑتے ہوئے آتے ہیں

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

داہنے سے اور بائیں سے غول کے غول

11:۔ ” فمال الذین “ زجر برائے کفار۔ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں نماز پڑھتے اور قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین دوڑتے ہوئے آتے اور ٹولیوں کی صورت میں آپ کے ارگرد جمع ہو کر استہزاء کرتے اور کہتے اگر یہ لوگ جنت میں چلے گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ مھطعین ای مسرعین، عزین عزۃ کی جمع ہے ای جماعات فی تفرقۃ، مہطعین اور عزین، الذین کفرو سے حال ہیں۔ عزین مہطعین کی ضمیر سے حال ہے یا یہ کان محذوف کی خبر ہے ای کانوا عن الیمین الخ۔ اہل عرب بسا اوقات کان کو مع اسم حذف کر کے خبر کو باقی رکھتے ہیں کما قال ابن مالک فی الفیت یحذفونہا ویبقون الخبر بعد ان ولو کثیرا اشتہر افادہ الشیخ قدس سرہ۔ یعنی ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ آپ کی طرف دوڑ کر آتے اور چاروں طرف سے ٹولیاں بن کر گھیرا ڈال دیتے ہیں اور کلام الٰہی کا تمسخر اڑاتے ہیں۔
Ayahs 70:38–39

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا طمع12 رکھتا ہے ہر ایک شخص ان میں کہ داخل ہوجائے نعمت کے باغ میں

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہرگز نہیں ہم نے ان کو بنایا ہے جس سے وہ بھی جانتے ہیں

12:۔ ” ایطیع “ یہ مشرکین کے قول باطل کا جواب ہے کہ اگر یہ لوگ جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ کیا ان میں کا ہر آدمی یہ امدی رکھتا ہے کہ وہ دوزخ سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائیگا ؟ ہرگز نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ وہ ہم سے بھاگ کر جنت میں نہیں داخل ہوسکیں گے حالانکہ ہم نے ان کو ایک چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ خوب جانتے ہیں یعنی ناپاک نطفہ سے تو یہ ناپاک نطفہ جب تک ایمان اور عمل صالح سے اپنی حد کمال کو نہ پہنچ جائے جنت میں داخل نہیں ہوسکتا (روح)