Ayahs 75:1–40احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو سوائے ملال و حسرت کے اور کوئی چارہ کار نہ ہوگا تو ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
قسم کھاتا ہوں میں قیامت کے دن کی جس کے صدق اور وقوع پر دلائل قطعیہ قائم ہوچکے اور ہر صاحب عقل انسان پر اس کا ماننا لازم ہوچکا خواہ وہ مانے یا نہ مانے اور قسم کھاتا ہوں میں ملامت کرنے والے نفس کی جس کی ملامت و حسرت کی کیفیات انسان ہر محرومی وناکامی کے مرحلہ پر محسوس کرتا ہے اور ایسے ہر مرحلہ پر یہ احساس قدرت خداوندی اور اس کے دین کی حقانیت کی اعلی اور روشن تر دلیل ہے۔
کیا گمان کرتا ہے انسان یہ کہ ہم اسکے مرنے کے بعد نہیں جمع کرسکیں گے اسکی ہڈیاں ؟ ہرگز نہیں اس کا یہ خیال باطل ہے بلکہ ہم تو قادر ہیں اس بات پر کہ اس کی انگلیوں کی پوریاں بھی برابر کردیں جو انسان کے بدن میں نازل ترین ہڈیاں اور اجزاء ہیں تو جب ہم ایسی نازک اور باریک ہڈیاں اور جوڑ بھی درست کرسکتے ہیں تو پھر تمام اجزاء اور ہڈیوں کا جوڑنا کیا مشکل ہے اصل بات یہ نہیں ہے کہ ہماری قدرت کی نشانیاں اور دلائل واضح نہیں ہوئے بلکہ یہ انسان ارادہ کرتا ہے کہ ڈھٹائی کے ساتھ فسق وفجور کرتا رہے اس سے پہلے اور قیامت کا خیال تک دل میں لانے کیلئے تیار نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ قیامت اور حشر ونشر کے تصور سے بھی اسکے عیش و عشرت اور نفس کی لذتوں میں خلل پڑجائے گا وہ بس یہی چاہتا ہے کہ اعمال کے حساب و کتاب اور جزاء وسزا کے خیال سے لاپرواہ ہو کر نفس کی خواہشات اور لذتوں میں منہمک رہے اس لیے بطور استہزاء سوال کرتا ہے کب آئے گا قیامت کا دن ؟ ایسے مسخرے کو معلوم ہونا چاہئے کہ قیامت کوئی کھیل تماشا نہیں وہ تو ایسی ہولناک ساعت ہوگی جب چندھیا نے لگے آنکھ تجلیات کی شدت و عظمت سے اور حیرت سے نگاہیں خیرہ ہوں گی سورج سر کے قریب ہوگا اور بےنور ہوجائے چاند گہن لگنے کی طرح اور جمع کردیا جائے سورج اور چاند کہ نفخ صور کے بعد دونوں کو بےنور کرکے اور آسمان و زمین کا تمام نظام جو شمسی وقمری نظام پر قائم ہے درہم برہم کردیا جائے اور اس آسمان و زمین کے بجائے دوسرے آسمان و زمین بنادیئے جائیں گے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “۔ تو قیامت کا دن اے سوال کرنے والے انسان ! ایسا ہیبت ناک دن ہوگا جس میں بدحواسی کا یہ عالم ہوگا انسان کہتا ہوگا، کہاں ہے بھاگنے کی جگہ کہ میں ان پر یشانیوں سے بچ نکلوں نہیں ہرگز نہیں خبردار کہیں نہیں بچنے کی کوئی جگہ کوئی طاقت ہی نہیں کہ انسان خدا کی گرفت سے بچ کر نکل سکے۔
بس اے انسان تیرے پروردگار ہی کی طرف اس دن ٹھیرنے کا مقام ہے کہ اسی رب کی عدالت کی حاضری اور پیشی سب کو بھگتنی ہے اور وہیں سب کو پیش ہونا ہے نہ کوئی امکان ہے اور نہ ہی کوئی مکان ہے کہ انسان وہاں پناہ لے سکے ہر انسان کو جتلا دیا جائے گا اس دن جو کچھ اس نے پہلے کیا اور جو کچھ اس نے بعد میں کیا یا جو کچھ اس نے پیچھے چھوڑا، نامہ اعمال پیش ہوگا اور زندگی کا ہر عمل اسکے سامنے ہوگا جس کا نہ انکار کرسکے گا اور نہ اس میں کسی قسم کی حجت بازی ممکن ہوگی اور نامہ اعمال کی پیشی کی ضرورت ہی کیا ہے بلکہ انسان تو اپنے نفس کو خوب سمجھتا ہوگا اور اس کے بدن کا ہر ہر جزء ہر اس عمل کی گواہی دیتا ہوگا جو اس نے کیا (آیت) ” الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون “۔ اگرچہ وہ پیش کرنے لگے اپنے اعذار اور بہانے اور خواہ کچھ ہی بات بناتے حیل وحجت کرے لیکن کچھ کام نہ چلے گا حتی کہ اس کا یہ کہنا بھی (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین “۔ کسی درجہ میں سفید نہ ہوگا۔ اے ہمارے پیغمبر مت حرکت دیجئے۔
حاشیہ (صحیح بخاری اور دیگر روایات میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء وحی میں آنحضرت ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ جبریل امین (علیہ السلام) جس وقت اللہ کی وحی لیکر آتے اور وحی آپ ﷺ پر نازل ہوتی تو آپ ساتھ ساتھ ہر ایک لفظ اپنی زبان سے پڑھنے لگتے اس ڈر سے کہ کہیں کوئی لفظ ذہن اور یاد سے نکل نہ جاوے اور اس وجہ سے آپ ﷺ اپنے اوپر کافی مشقت برداشت فرماتے تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ ﷺ کو اس طرح کی محنت ومشقت سے روک دیا گیا اور وعدہ کرلیا گیا کہ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ اس کلام کو آپ ﷺ کے دل میں جمع اور محفوظ کردیں اور پھر آپکی زبان سے اسکی تلاوت وقراءت کرا دیں جس کو لوگ سن کر آپ سے یاد کرلیں اور یہ بھی ہمارے ذمہ ہے کہ اس کلام کی توضیح وبیان اور اس سے متعلقہ احکام کی تفصیل وتشریح بھی کرادیں اس وجہ سے آپکو چاہئے کہ جب ہم اسکو بزبان فرشتہ پڑھیں تو آپ ﷺ اسکی اتباع کریں یعنی خاموش رہیں اور کان لگا کر سنیں چناچہ پھر آپ ایسا بھی کرتے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کے وحی لانے پر خاموش رہ کر سنتے اور جب جبرئیل (علیہ السلام) چلے جاتے تو اسی طرح بلاکسی زبر زیر کے فرق کے آپ پڑھنے لگتے اور ظاہر ہے کہ یہ چیز اللہ کی قدرت کا ایک عظیم نمونہ ہے کہ ایک سینہ میں کلام محفوظ کردیا جائے اور پھر اسکو جب چاہو اعادہ کرلو اور زبان سے اسی ترتیب کے ساتھ ظاہر کردیا جائے تو جس طرح خدا کے پیغمبر کے سینہ میں یہ کلام محفوظ ہورہا ہے اور پھر تلاوت کیا جارہا ہے اور پڑھا جارہا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ انسان کے اعمال محفوظ رکھے اور قیامت کے روز ان اعمال کو اسی ترتیب سے جس طرح سے کہ وہ کئے گئے ہیں انسان کے سامنے ظاہر کردے بلکہ ہر انسان کے قلب میں کسی چیز کا محفوظ ہونا پھر اس کا زبان سے اسی ترتیب سے بیان وظاہر کرنا قیامت کے روز اعمال کی پیشی اور گواہی کا نمونہ ہے غرض اس توضیح سے (آیت) ” لا تحرک بہ لسانک “ کا جو شان نزول مفسرین نے بیان کیا اور احادیث میں اسکو ذکر کیا گیا اسکا ربط سورة قیامہ کے اس مضمون سے اور ماقبل وما بعد آیات سے واضح ہورہا ہے۔ 12)
آپ اپنی زبان کو تاکہ جلدی سے اسکو محفوظ کرلیں آپ ﷺ کو اس محنت ومشقت کی ضرورت نہیں جو آپ ﷺ جبرئیل امین (علیہ السلام) کے پڑھنے کے ساتھ اپنی زبان سے بھی وہی کلمات پڑھنے کی مشقت اٹھاتے ہیں بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کردینا آپ کے سینہ میں اور اس کا پڑھنا زبان سے اس لئے جب ہم اسکو پڑھیں فرشتہ کی زبان سے تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی نہ کیجئے خاموشی سے سنیئے اور اپنی زبان کو حرکت نہ دیجئے پھر ہمارے ذمہ ہے اسکا واضح کرنا اور بتلانا اور آپکے ذریعہ اسکے معانی ومضامین کا دنیا تک پہنچا دینا۔
یہ مناظر اور حقائق تو اس بات کے واسطے کافی ہیں کہ انسان آخرت اور آخرت میں اعمال کی پیشی کو سمجھ لے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ انسان فکر آخرت سے بالکل ہی لاپرواہ ہوچکا ہے اور یہ اس بناء پر نہیں کہ آخرت اور قیامت کے دلائل واضح نہیں یا انسان کی عقل و فطرت اسکو سمجھ نہیں سکتی بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اے لوگو تم پسند کرتے ہو جلدی کی چیز کو جو دنیا میں اسی زندگی میں مل جائے اسی زندگی کی لذتوں اور عیش و عشرت کا خواہاں ہو جس میں انہماک وشغف نے تم کو فکر آخرت سے بےپرواہ بنا دیا اور چھوڑئے ہو آخرت کو اور آخرت کی نعمتوں اور لذتوں کو کاش کہ فکر آخرت نصیب ہوئی اور آخرت کی نعمتوں کی قدرت ومنزلت کا شعور ہوتا جانتے بھی ہو وہاں کے احوال کیا ہوں گے ؟ روز قیامت یہ ہوگا کہ کچھ چہرے اس روز ترو تازہ و شاداب ہوں گے جو اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن اداس اور مرجھائے ہوئے بدحواس اور بےرونق ہوں گے جو گمان کرتے ہوں گے اب ان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے گا جو کمر توڑ دینے رونق ہوں گے جو گمان کرتے ہوں گے اب انکے، ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے گا جو کمر توڑ دینے والا ہو اور ایسی شدت وکرب کی کیفیت محسوس کریں جو انکی کمر ہی توڑڈالے۔
خبردار اے غافل انسانو ! قیامت کی شدت کا کیا کہنا وہاں کا عذاب و سختی تو کیا برداشت کی جاسکے گی یہ دنیا میں موت کی گھڑی کچھ دور نہیں اور سفر آخرت کی یہ پہلی منزل ہی اس قدر شدید ہے کہ بڑے سے بڑے طاقت ور انسان برداشت نہیں کرسکتے تو ظاہر ہے کہ قیامت اور محشر کی شدت کا کیا عالم ہوگا اور انسان عجیب ہے کہ آخرت تو کیا موت جو قریب کی چیز ہے اور اس کا منظر روز اسکی نظروں کے سامنے ہے اسکو بھی بھی بھلائے ہوئے ہے تو اے انسان آخر کیوں اس بات کو نہیں سوچتا کہ بس تیرے رب ہی کی طرف گھسیٹ کر تجھے لے جانا ہے اور ہر شخص میدان حشر کی طرف لے جایاجائے گا جیسے جانوروں کو ہنکایا جارہا ہو۔
یہ باتیں بہت کافی ہیں کہ انسان ان پر غور کرکے عبرت ونصیحت حاصل کرے حق اور ہدایت کو تسلیم کرے لیکن افسوس بدنصیب ہے وہ انسان جس نے یقین نہ کیا کہ اللہ اور اسکے رسول کی بات پر ایمان لے آتا اور نہ نماز پڑھی اپنے رب کی اطاعت و بندگی کرتے ہوئے ہاں البتہ اس نے اللہ کی باتوں کو جھٹلایا اور منہ موڑا غرور وتکبر سے نافرمانی کرتے ہوئے پھر لوٹا وہ اپنے گھر کی طرف اکڑتا ہوا اے مغرور وبدنصیب انسان ہلاکت و بربادی ہو تیرے واسطے پھر ہلاکت و بربادی پھر تباہی ہو تیری اور پھر تباہی۔
حاشیہ (یہ کلمات (آیت) ” اولی لک فاولی “۔ کے مفہوم کی توضیح کے لیے ہیں علماء عربیہ سے منقول ہے کہ کلام عرب ہیں (آیت) ” اولی لک فاولی “ ہلاکت و بربادی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
حافظ ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں موسیٰ بن ابی عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے سعید بن جبیر (رح) سے (آیت) ” اولی لک فاولی “۔ کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا یہ وہ الفاظ تھے جو آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے ابوجہل لعین کے انکار وتکبر اور گستاخی کے مظاہرہ پر نکلے جب کہ وہ انتہائی غرور کے ساتھ آپ کی شان میں بدتمیزی اور گستاخی کرتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چلا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جیسے ہی یہ الفاظ آنحضرت ﷺ کی زبان سے نکلے جبریل امین (علیہ السلام) ان ہی لفظوں کے ساتھ یہ آیت لے کر اترے ان الفاظ کا تکرار تباہی وذلت اور عذاب کی شدت پر دلالت کررہا ہے اور یہ کہ ایسے مغرور ونافرمان کو یہ سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی جہاں جہنم کی شدتیں اور آگ کی لپٹیں ہر ایک جانب سے احاطہ کئے ہوئے ہوں گی۔ )
کہ دنیا میں ذلت ونحوست اور ہلاکت ہو اور پھر آخرت میں بھی عذاب جہنم میں مبتلا ہو آخرت کے عذاب اور قیامت کی شدت سے کون بچ سکتا ہے ہر صاحب عقل کو اس کی فکر اور تیاری میں لگ جانا چاہیے اور جب تک دنیا میں ہے ان لمحات زندگی کو غنیمت سمجھنا چاہئے تو کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسکو آزاد ہی چھوڑ دیا جائے گا کہ جو چاہے کرے نیک وبد اور حلال و حرام کا فرق بالائے طاق رکھ کر اپنی خواہشات اور نفس ہی کی پیروی کرتا رہے اور یہ تصور بھی نہ کرے کہ اسکی ذمہ داری کیا ہے اور کس لئے پیدا کیا گیا اور اگر وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا تو اپنے خالق ومالک کو کیا جواب دے گا ایسا انسان آخرکیوں نہیں قیامت پر ایمان لاتا اور اللہ کی قدرت پر کیوں یقین نہیں کرتا کیا وہ نہیں تھا منی کا قطرہ ٹپکا ہوا رحم میں اور پھر یہ ناپاک قطرہ منی کس طرح نشوونما پاتا رہا پھر وہ خون کا لوتھڑا بنا پھر اسکو نشوونما دیا اور بتدریج نہایت ہی تناسب کے ساتھ اعضاء بنائے ہاتھ پاؤں شکل و صورت بنائی اس طرح کہ نطفہ سے خون کا لوتھڑا بنا اور خون کے لوتھڑے کو شکل و صورت بخشی متناسب اعضاء بنادیئے پھر اس سے بنائے جوڑے مذکر ومؤنث کہ کسی نطفہ کو لڑکے کی شکل دیدی اور کسی کو لڑکی بنادیا اور ظاہر ہے کہ ایک قطرہ منی سے یہ تصرفات اور تغیرات خود بخود نہیں ہورہے ہیں اور نہ کوئی عقل والا اس کا دعوی کرسکتا ہے بلکہ ہر ایک مرحلہ اور حالت بتارہی ہے کہ یہ سب کچھ کسی بڑے ہی زبردست علیم و حکیم اور قادر وخلاق کی قدرت کی کرشمہ سازی ہے ورنہ یہ کون سے مادہ اور طبیعت کا اقتضاء ہے کہ ایک قطرہ ایسے تغیرات قبول کرتا جارہا ہے پھر اعضاء بن رہے ہیں شکل و صورت تیار ہورہی ہے اور اس میں کوئی حمل لڑکے کی شکل اختیار کررہا ہے تو کوئی لڑکی آخر یہ تفاوت کیوں ہورہا ہے اور کون یہ صناعی کررہا ہے اور کون اس گوشت کے لوتھڑے کو شکل و صورت دیکر آنکھ، ناک، کان اور ان میں ادراک کی صلاحیتیں پیدا کررہا ہے تو کیا ایسا قادر مطلق اور خلاق عظیم قادر نہیں ہے اس بات پر کہ مردوں کو زندہ کردے اور قیامت کے روز میدان حشر میں سب کو جمع کردے ؟ کیوں نہیں ضرور بالضرور اور بلاشبہ وہ اس پر قادر ہے اور جب کہ ہر انسان کی تخلیق بلکہ ہر گھاس کا تنکا اور زمین کی تہوں میں سے ہر تخم کی روئیدگی بعث بعد الموت کا نمونہ ہے تو قیامت پر ایمان لانے میں کیا تامل ہوسکتا ہے متعدد اسانید سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سورة قیامہ کی یہ آخری آیت تلاوت فرماتے تو آپ ﷺ فرماتے (آیت) ” بلی “ اور بعض روایات میں ہے (آیت) ” سبحانک بلی “۔ کہ بیشک اے پروردگار کیوں نہیں آپ ضرور قادر ہیں۔
جیسا کہ سورة والتین کے بعد بلی وانا علی ذالک من الشاھدین “۔ اور سورة مرسلت کے ختم (آیت) ” فبای حدیث بعدہ یؤمنین “ پر آپ ﷺ یہ فرماتے (آیت) ” امنا باللہ “۔ ان آیات کی تلاوت پر ان کلمات کا پڑھنا ایمان ویقین کی تقویت اور اضافہ کا باعث ہے اس لئے احادیث میں آنحضرت ﷺ سے ان کلمات کے پڑھنے کی ہدایت وارد ہوئی ہے۔
نفس کی حقیقت اور اس کی قسمیں :
نفس کی حقیقت پر امام غزالی (رح) نے مفصل کلام کیا ہے۔
اکثر فلاسفہ اور معتزلہ نفس اور روح کی حقیقت ایک ہی قرار دیتے ہیں اور بعض حضرات فلاسفہ اجمالا اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ نفس سے مراد جان یا روح انسانی ہے وہی مدرک ہے اور وہی دراصل انسان ہے اور یہ جسم اکتساب کمالات کے لئے اس کا آلہ ہے اور، نفوس انسانیہ اپنی استعداد وفیضان کے لحاظ سے مختلف مراتب اور درجات پر ہوتے ہیں حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے نفوس، نفوس قدسیہ ہوتے ہیں ان کے بعد درجہ اولیاء کرام کا ہے ایسے نفوس کو حق تعالیٰ سے قرب کا مقام حاصل ہونے کے باعث طمانیت و سکون کی نعمت حاصل ہوجاتی ہے جیسے کہ ارشاد ہے (آیت) ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “۔ تو یہ نفوس مطمئنہ کہلاتے ہیں جو عام مومنین وصالحین کے مقام سے بہت بلند تر ہوتے ہیں۔
حافظ ابن عبد البر (رح) نے التمہید میں ایک حدیث نقل کی ہے اسی کو امام احمد بن حنبل (رح) نے اپنی مسند میں بھی تخریج فرمایا۔
ان اللہ تعالیٰ خلق ادم وجعل فیہ نفسا وروحا فمن الروح عفافہ وفھمہ، وحلمہ وجودہ وسخاۂ ووفاۂ ۔ ومن النفس شھوتہ وغضبہ وسفھہ وطیشہ :
کہ اللہ رب العزت نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور اس میں نفس بھی رکھا اور روح بھی تو روح سے انسان کی عفت و پاکدامنی اس کا علم وفہم اور اس کا وجودوکرم اور وفاء عہد ہے اور نفس سے اس کی شہوت اس کا غضب اور برافروختگی ہے۔
حدیث کا مضمون نفس اور روح مختلف ہونے دلالت کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان میں اللہ تعالیٰ نے دو متضاد اور مختلف قوتیں پیدا کی ہیں ایک قوت اس کو خیر پر آمادہ کرنیو الی ہے جس کا نام روح ہے اور دوسری قوت شر پر آمادہ کرنے والی ہے اس کو نفس کہتے ہیں اسی چیز کو متکلمین نے اختیار کیا ہے اور نصوص قرآنیہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے ائمہ محدثین اور حضرات عارفین یہی بیان فرماتے ہیں۔
استاذ ابو القاسم قشیری (رح) فرماتے ہیں اخلاق حمیدہ کے معدن اور سر چشمہ نفس کا نام روح ہے اور اخلاق ذمیمہ کا سر چشمہ نفس ہے جسم لطیف ہونے میں اگرچہ دونوں مشترک ہیں لیکن ایک طاقت انسان زندگی کے لیے محرک خیر ہے اور دوسری طاقت محرک شر ہے اسی وجہ سے قرآن کریم نے روح کو امر رب فرمایا جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی “۔ اور یہی وجہ ہے کہ اخلاق ذمیمہ اور بری خصلتوں کو روح کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔
چناچہ ارشاد ہے (آیت) ” ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم “۔ اور فرمایا (آیت) ” واحضرت الانفس الشح، واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی “۔ تو ان آیات میں شہوت حرص اور ہوا (خواہشات نفس) کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا ان مواقع میں کسی جگہ بھی لفظ روح یا ارواح نہیں بولا گیا اسی طرح (آیت) ” ومن یرغب عن ملۃ ابرھم الا من سفہ نفسہ “۔ میں بھی سفاہت کو نفس کی طرف منسوب فرمایا علی ھذا القیاس ایک حدیث میں یہ فرمانا، اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک۔ کہ اے انسان سب سے بڑا تیرا دشمن وہ تیرا نفس ہے جو تیرے دو پہلوؤں کے درمیان ہے تو اس موقعہ پر نفس کو انسان کا دشمن فرمایا کہیں قرآن کریم میں یہ فرمایا (آیت) ” حسدا من عندانفسھم “۔ اور لقد استکبروا فی انفسھم “۔ جس سے حسد اور کبر کا نفس کی طرف ہونا بیان فرمادیا۔ علامہ ابن الجوزی نے ” زاد المسیر “ میں سورة زمر کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔
عن ابن عباس ؓ ۔ ابن آدم نفس وروح فالنفس العقل والتمیز والروح نفس والتحریک فاذا نام العبد قبض اللہ نفسہ ولم یقبض روحہ “۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انسان مجموعہ ہے نفس اور روح کا نفس سے تو انسان ادراک و امتیاز کرتا ہے اور روح سے سانس لیتا ہے اور حرکت کرتا ہے اور جب انسان سوجاتا ہے تو اللہ اس کے نفس کو قبض کرلیتے ہیں مگر روح کو قبض نہیں فرماتے۔
یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن کریم میں اس طرح فرمایا (آیت) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا “۔ الایۃ ابن جریج فرماتے ہیں کہ انسان میں روح اور نفس ہے اور انکے درمیان ایک پردہ حائل ہے سوتے وقت اللہ تعالیٰ نفس کو قبض کرلیتے ہیں اور بیداری کے وقت اسکو واپس کردیتے ہیں اور جب اللہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی کو سونے کی حالت میں موت دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو نفس کو واپس نہیں کرتے اور روح کو قبض کرلیتے ہین۔
بہرکیف ان تصریحات سے یہی چیز واضح ہے کہ نفس اور روح ایک چیز نہیں اور نفس انسانی زندگی میں شر اور برائیوں پر آمادہ کرنے والی قوت کا نام ہوا اسی وجہ سے نفس کی اس اصل خصوصیت اور تاثیر کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم نے فرمایا (آیت) ” ان النفس لامارۃ بالسوٓء “۔ کہ نفس امارہ بالسوء یعنی برائیوں پر خوب آمادہ کرنے والا ہے تو یہ حالت نفس کی اصل حالت ہوئی لیکن اس نفس کو جب تربیت دی جائے اور اصلاح کی جائے تو پھر اس میں یہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ برائی کو برائی سمجھے اور اگر برائی سرزد ہوجائے تو اس پر انسان شرمندہ ہو اور نفس ملامت کرنے لگے تو یہ نفس لوامہ ہوا پھر جب تعلیم وتربیت اور ریاضت کے آثار سے قلب لطافت و پاکیزگی حاصل کرلے تو وہ نفسہ مطمئنہ ہوجاتا ہے جس کو آیت مبارکہ (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک “ میں بیان فرمایا گیا۔
نفس کی مثال امام رازی (رح) نے کلب اور کتے کی سی بیان فرمائی اور فرمایا لیکن وہ کلب جو معلم ہو یعنی شکاری کتا تعلیم وتربیت اسکی درندگی کو ختم کرکے اس کے شکار کر حلال اور پاک بنادیتی ہے جب کہ کسی بھی جانور پر کتے کا منہ مارنا اس کو ناپاک اور مردار بنا دیتا ہے تو اسی طرح نفس تعلیم و تربیت کے بعد جب مطمئنہ ہوجائے گا تو اس کے عمل اور تحرک میں بھی خیر اور پاکیزگی آجائے گی جب کہ اس کے بغیر نفس کی ہر تحریک اور عمل شر ہی شر تھا۔
روح کی بحث سورة اسراء کی تفسیر میں گذر چکی ہے وہاں مراجعت فرمالی جائے۔
فائدہ :
یوم قیامہ کی قسم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا تحقق اور وقوع قطعی اور یقینی امر ہے جو مخبر صادق کی خبر اور دلائل قطعیہ سے ثابت ہوچکا ہے اگرچہ اسکے مخاطب ہو مشرکین تھے جو قیامت کا انکار کرتے تھے لیکن ان کا انکار روز قیامت کے قطعی الثبوت ہونیکے باعث ایسا ہی قرار دیا گیا جیسے کوئی احمق انسان دن کی روشنی میں سورج کا انکار کرے اقسام قرآن کی بحث پہلے گذر چکی۔
شیخ الاسلام حضرت علامہ عثمانی (رح) اپنے فوائد میں فرماتے ہیں ” واضح ہو کہ دنیا میں کئی قسم کی چیزیں ہیں جن کی لوگ قسم کھاتے ہیں اپنے معبود کی کسی معظم ومحترم ہستی کی، کسی مہتم بالشان چیز کی، کسی محبوب کی یا نادر شے کی اس کی خوبی اور ندرت جتانے کے لئے پھر بلغاء یہ بھی رعایت کرتے ہیں کہ مقسم بہ مقسم علیہ کے مناسب ہو یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ مقسم بہ مقسم علیہ کے لیے شاہد ہے جیسے کہ ذوق نے کہا ہے۔
اتنا ہوں تیری تیغ کا شرمندہ احسان
سرمیرا تیرے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا۔
یہاں اپنے سر کے اٹھ نہ سکنے پر محبوب کے سر کی قسم کھانا کس قدر موزوں ہے شریعت حقہ نے غیر اللہ کی قسم کھانا بندوں کے لئے حرام کردیا لیکن اللہ کی شان بندوں کی شان سے جدا ہے وہ اپنے غیر کی قسم کھاتا ہے اور عموما ان چیزوں کی جو اسکے نزدیک محبوب یا نافع یا وقیع ومہتم، بالشان ہوں یا مقسم علیہ کے لیے بطور حجت و دلیل کام دے سکیں یہاں یوم قیامت کی قسم اس کے مہتم بالشان ہونے کی وجہ سے ہے اور جس مضمون پر قسم کھائی ہے اس سے مناسبت ظاہر ہے (کذافی الفوائد العثمانیہ)
تم بحمد اللہ تفسیر سورة القیامۃ “۔