76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 76:1–22

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھا

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو نطفہ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

(اور) اسے راستہ بھی دکھایا (اب) خواہ وہ شکر گزار ہو خواہ ناشکرا

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

جو نیکوکار ہیں وہ ایسا مشروب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکال لیں گے

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور باوجود یہ کہ ان کو خود طعام کی خواہش (اور حاجت) ہے فقیروں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور کہتے ہیں کہ) ہم تم کو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے عوض کے خواستگار ہیں نہ شکر گزاری کے (طلبگار)

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم کو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر لگتا ہے جو (چہروں کو) کری المنظر اور (دلوں کو) سخت (مضطر کردینے والا ہے)

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

تو خدا انکو اس دن کی سختی سے بچا لے گا

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور انکے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کریگا

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

ان سے (ثمر دار شاخیں اور) انکے سائے قریب ہونگے اور میوں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہونگے

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور وہاں ان کو ایسے مشروب پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) آئیں گے جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوے موتی ہیں

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

ان (کے بدنوں) پر دیبا کے سبز اور اطلس کے کپڑے ہونگے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار انکو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی

ابتداء ہستی انسان در عالم وعطأ صلاحیت برائے فرق درمیان حق و باطل مع ذکر انعامات ابرار ومتقین وتعذیب مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین ....... الی ....... سعیکم مشکورا “۔ (ربط) گزشتہ سورة قیامہ میں احوال قیامت کا ذکر تھا اور ان منکرین کا دلائل وحقائق کے ساتھ رد تھا جو روز آخرت کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات کرتے تھے اب اس سورت میں قدرت خداوندی کا بیان ہے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے ایک ناپاک قطرہ کو انسانی وجود بخشتا ہے انسان کا کتم عدم سے ہستی میں آجانا اللہ رب العزت کی عظیم تر دلیل ہے پھر یہ کہ اس انسان کے سامنے دونوں راستے ہدایت اور گمراہی کے واضح کرکے رکھ دیئے گئے اسکو ہوش و حواس شعور وادراک اور عقل کی صلاحیتیں پوری طرح عطا کردی گئیں اب اگر وہ حق وہدایت کا راستہ اختیار کریگا تو خدا کے عظیم انعامات کا مستحق ہوگا اور اگر عقل و فطرت کے تقاضوں کو فراموش کرکے گمراہی کا راستہ اختیار کریگا تو خدا کے عذاب کا مستحق ہوگا، ابرار ومتقین کی جزائیں اور انعامات کیا ہوں گے اور فساق وفجار اور مجرمین کیسی ذلت میں مبتلا ہوں گے ؟ آگے اسکی تفصیلات ہیں چناچہ ارشاد فرمایا۔ کیا نہیں گذرا ہے انسان پر ایک ایسا وقت زمانہ میں سے کہ وہ نہیں تھا ایسی چیز جو قابل ذکر ہو اس کا کوئی نام ونشان بھی نہ تھا بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ایک قطرہ منی سے جو ملی ہوئی ہے عورت کی منی سے یا وہ مخلوط ہے مختلف قسم کی غذاؤں سے اور ان کا جوہر و خلاصہ ہے جس کو ہم لوٹاتے پلٹاتے رہے پھر ہم نے اسکو پیدا کیا اس حال میں کہ وہ سننے اور دیکھنے والا ہے بعد اس کے کہ نطفہ سے خون کا جماہوا ٹکڑا بنایا پھر اسکو گوشت کا لوتھڑا پھر اس کی شکل و صورت اور اعضاء کی ساخت کی اور اس میں جان ڈالی حس وحیات اور ادراک و شعور کی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کی اور اس بناء پر ہر انسان میں اللہ نے فطری استعداد اور صلاحیت کے علاوہ عقل وفکر کا مادہ رکھا ہے بیشک ہم نے انسان کو دکھا دیا راستہ حق اور ہدایت کا اب اس کے بعد یا تو وہ شکر گذار ہے اپنے پروردگار کا اور اس کا فرماں بردار یا ناشکری کرنے والا ہے۔ نیکی اور تقوی کا راستہ بتانے اور اسکو اختیار کرنے کے لئے عقل وفہم اور ادراک و شعور عطاء کرنے کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی اطاعت وفرماں برداری اور عطا کردہ نعمتوں کا شکر گزار ہوتا لیکن افسوس اس انسان کی بدنصیبی پر کہ ان فطری دواعی اور تقاضوں کو ٹھکرا کر خدا کا نافرمان اور ناشکر گذار رہا ظاہر ہے نافرمانوں اور مجرموں پر جرم کی سزا جاری کرنی چاہئے تو اس بناء پر بیشک ہم نے تیار کر رکھی ہیں نافرمانوں کے واسطے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ اور بلاشبہ ایسے نافرمان جنہوں نے رسم و رواج اور ادہام کی زنجیریں میں اپنے آپ کو جکڑے رکھا اور غیر اللہ کی پرستش کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالا اور حق نیز حق پرستوں کے خلاف عداوت ودشمنی اور بغاوت وسرکشی کی آگ بھڑکاتے رہے وہ اسی کے مستحق ہیں کہ طوق وسلاسل میں جکڑے جائیں اور دہکتی ہوئی آگ میں ہمیشہ جلتے رہیں مگر انکے بالمقابل مطیعین وفرماں بردار اللہ کے انعامات اور اعزاز واکرام کے مستحق ہوں گے اس وجہ سے بیشک نیکوکار لوگ پیں گے ایسے جام سے جس کی ملاوٹ کافور ہوگی اور جنت کا یہ کافور نہایت ہی لذیذ وخوشگوار اور خوشبو سے مہکتا ہوگا یہ ایک خاص چشمہ ہوگا جس سے اللہ کے خاص برگزیدہ بندے پیتے ہوں گے اس طرح کہ وہ اللہ کے خاص بندے بہاتے ہوں گے اس چشمہ کو بہت سی نالیوں اور نہروں کی صورت میں کہ جہاں چاہیں گے اس شراب طہور کی نالیاں اور جو دل بہتے چلے جائیں گے، یہ اللہ کے برگزیدہ بندے وہ ہیں جو پورا کرتے ہیں اپنی نذر کو جو بھی اللہ کے لیے وہ نذر مان لیں کسی خیر کے حاصل ہونے پر یا کسی مصیبت اور تکلیف کے ٹلنے پر اور ان کے ایمان وتقوی کا یہ عالم ہے ڈرتے ہیں اس دن سے جس کی مصیبت اور برائی پھیلنے والی ہے کہ کوئی گنہگار اس کی تکلیف وشدت سے نہیں بچ سکتا اور کوئی بھی اس کی ہیبت و پریشانی سے مستثنی نہیں ہوسکتا جو آسمان و زمین کو محیط ہوگی ان لوگوں میں ایمان وتقوی اور فکرآخرت کے ساتھ ایثار وہمدردی کا یہ جذبہ ہے کہ کھلاتے ہیں کھانا اس کے محبوب۔ حاشیہ (آیت) ” علی حبہ “ کی ضمیر اکثر حضرات مفسرین کی رائے میں طعام کی طرف ہے اسی لحاظ سے یہ ترجمہ کیا گیا اور حب مصدر بمعنی محبوب بھی آتا ہے اس وجہ سے محبوب ہونے کے باوجود لفظ کی تصریح کردی اور ساتھ ہی لفظ مرعوب کا اضافہ کرکے یہ ظاہر کیا گیا کہ مراد یہ ہے کہ جس وقت انسان کو اس کھانے کی رغبت و ضرورت ہے یا وہ اس کا محتاج ہو اس وقت کھلانا اور زائد فضیلت اور کمال کی صفت ہے گویا یہ اس آیت کا مفہوم ہوگیا (آیت) ” ویؤثرون علی انفسم ولو کان بھم خصاصۃ “۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے بروایت مجاہد (رح) یہ بیان کیا کہ ائمہ مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے اور اسکی تصریح آیت مبارکہ (آیت) ” واتی المال علی حبہ “۔ اور ” لن تنالو البرحتی تنفقوا مماتحبون “۔ میں ہے۔ بعض مفسرین نے حبہ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع کی ہے یعنی علی حب اللہ تعالیٰ جس سے اخلاص اور آخرت کے اجر وثواب کی غرض کی طرف اشارہ کیا گیا یعنی دنیا میں اسکا کوئی عوض نہیں چاہتے ہوں گے۔ و مرغوب ہونے باوجود ہر مسکین ویتیم اور قیدی کو جو کسی بھی مصیبت میں گرفتار ہو۔ حاشیہ 1 (لفظ اسیرا کے ترجمہ میں مصیبت میں گرفتار “ کا لفظ بڑھا کر یہ اشارہ کیا گیا کہ اس اسیر وقیدی سے صرف وہی قیدی مراد نہیں جو جیل خانہ میں قید ہو بلکہ عام ہے خواہ یہ ظاہری اور حسی قیدی ہو یا معنا قیدی ہو یعنی مصائب وآلام میں گرفتار ہو۔ سعید بن جبیر (رح) اور حسن بصری (رح) سے منقول ہے قیدی سے اہل اسلام مراد ہے لیکن ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے قیدیوں سے مراد وہ قیدی بھی ہیں جو مشرکین میں سے مسلمانوں کی قید میں ہوں چناچہ اسکی تائید وہ روایت کرتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی چناچہ اس حکم کی تعمیل میں حضرات صحابہ نے بدر کے قیدیوں کو بہتر سے بہتر کھانا کھلانا شروع کردیا اور بعض تو انکو اپنے ساتھ کھلاتے حالانکہ وہ مسلمان نہ تھے اسیر کے مفہوم میں مقروض بھی داخل ہیں کیونکہ وہ بھی ایک طرح قید ہیں۔ عکرمہ ؓ سے منقول ہے اس سے مراد غلام ہیں اور متعدد احادیث میں غلاموں کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید فرمائی گئی) (تفسیر ابن کثیر) انتہائی مروت اور اخلاص کے جذبہ سے یہ سب کچھ کرتے ہیں ان غرباء مساکین اور یتامی کو کہہ دیتے ہیں اے لوگو ! ہم کھلاتے ہیں تم کو صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے ہم نہیں چاہتے ہیں تم سے کسی قسم کے بدلہ کو تم ہمیں اس کا کوئی مالی بدلہ دو یا ہماری توقیر وتعظیم کرو اور ہم نہیں چاہتے ہیں تم سے شکر گذاری کہ تم ہمارا شکر یہ ادا کرو ہم تو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اس دن کی سختی اور ہیبت سے جو سخت اداسی اور چہروں کی گھٹن کا سبب ہوگا اس طرح کہ انسان کا چہرہ اس کلفت اور کوفت سے بگڑا ہوا نظر آنے لگے پیشانی سکڑ کر اوپر ہوجائے اور انکھیں پھٹی ہوئی ہوں تو یہ مخلصین اپنی اس ہمداردی واعانت اور انفاق پر غرور تو کیا بلکہ ڈرتے ہوں گے ایسے ہیبت و جلال کے دن سے (جو ہر ایک انسان کو اس طرح مرعوب وبدحواس بنادینے والا ہوگا) معلوم نہیں ہمارا یہ عمل ہمارا یہ صدقہ قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ 2 حاشیہ (یہ تشریح گویا اس آیت مبارکہ کے مضمون کے مطابق ہوسکے گی جو ارشاد فرمایا (آیت) ” کانوا قلیلا من الیل مایھجعون وبالاسحار ھم یستغفرون “ کہ بہت کم رات کا حصہ ہوتا ہے کہ اس میں وہ لیٹیں پوری رات ہی انکے پہلو بستر سے جدا رہتے ہیں اور اس انہماک فی العبادۃ کے باوجود حالت یہ ہوتی ہے کہ جب سحر کا وقت ہونے لگتا ہے تو خدا سے معافی مانگتے ہوتے ہیں۔ 12) یقیناً ایسے لوگ خداوند عالم کی طرف سے بڑے ہی اعزاز واکرام کے مستحق ہیں جس کے باعث بس خدا نے انکو بچا دیا اس دن کی تکلیف و برائی سے اور یہ فیصلہ کردیا کہ عطا کردے گا انکو تازگی اور سرور جو انکے چہروں پر برس رہا ہوگا اور مسرت و خوشی سے انکے چہرے جگمگا رہے ہوں گے اور ان تمام نعمتوں اور کرامتوں کے علاوہ دیدار خداوندی سے شاداں وفرحاں ہوں گے اور بدلہ دے گا اللہ انکو اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا دنیا کی شدتیں برداشت کیں خواہشات نفس کو روکا اور شکر و قناعت کرتے ہوئے غرباء و مساکین پر ایثار کیا ایک وسیع باغ کا جس کے پھل اور رزق سے انکی زندگی عیش و راحت کی ہوگی اور ریشمی پوشاک کا کہ زندگی کے عیش و راحت اور ہر لذت کے ساتھ لباس کی یہ عظمت انکو اور زیادہ بلندی و تقرب کا مقام بخشنے والی ہوگی اطمینان و سکون کا یہ عالم ہوگا کہ تکیہ لگائے ہوں گے اپنی مسندوں پر جو مزین اور مرصع تخت ہوں گے وہاں آرام و راحت کی یہ شان ہوگی کہ ادنی کلفت اور تعب کا نام ونشان بھی نہ ہوگا چناچہ نہیں دیکھتے ہوں گے وہاں دھوپ اور گرمی نہ ہی شدید سردی بلکہ وہاں کا موسم معتدل ہوگا نہ دھوپ کی تمازت ہوگی اور نہ ٹھہر جس سے انسانی بدن کو تکلیف ہوا کرتی ہے اور آرام و راحت نیز نعمتوں کی فراوانی کا یہ عالم ہوگا جھکے ہوئے ہوں گے ان پر اس کے سائے اور نیچے کردیئے گئے ہوں گے اس کے خوشے لٹکا کر تاکہ جب بھی اہل جنت کسی پھل اور خوشہ کے لینے کا ارادہ کریں بلاتکلف ہاتھ بڑھا کرلے لیں اور گھمائے جاتے ہوں گے ان پر برتن چاندی کے اور آبخورے جو معلوم ہورہے ہوں گے شیشے چمک اور لطافت میں درحقیقت۔ 1 حاشیہ 1 (ترجمہ میں ان الفاظ کا اضافہ اس لیے کیا گیا کہ عریبت کی رو سے قواریر کے بعد دوسری دفعہ قواریر ما قبل سے بدل اور بمنزلہ بیان ہے۔ 12) وہ شیشے ہی ہوں گے چاندی کے جن کا اہل جنت اندازہ کریں گے اندازہ کرنا کہ جس قدر چاہیں گے ان آبخوروں اور جام میں شراب طہور سما جائے گی کم وزائد طبیعت کے تقاضا اور خواہش کے مطابق وہ بھر جاتے ہوں اور یہ اس لیے کہ اہل جنت کو کسی طرح بھی طبعی گرانی نہ ہو جیسا کہ انسان کو دنیا میں پیش آتی ہے مثلا پیاس کی زیادتی پر گلاس چھوٹا ہو اور طبعی خواہش پوری نہ ہونے پر ذہنی کوفت ہوتی ہے یا کسی وقت تھوڑی مقدار کی خواہش ہے لیکن منہ کے سامنے ایک بہت بڑا لبریز پیالہ آجائے تو اس طرح کی معمولی الجھنوں سے بھی وہ بےفکر ہوں گے جیسا چاہیں گے اور جتنا چاہیں گے وہ جام شراب طہور سے بھرے ہوں گے اور پلائے جائیں گے وہ لوگ ایک اور جام۔ 2 حاشیہ 2 (یہ لفظ اس بات کی طرف اشارہ ہے یہاں دوبارہ (آیت) ” کا سا “ نکرہ کی صورت میں استعمال کیا جانا غیر الاولی کی نوعیت سے ہے تو ایک قسم شراب طہور کی وہ ہوگی جس میں زنجبیل ہوگی اور کوئی تعجب نہیں کہ جنت کے کھانوں سے قبل جو شراب طہور دی جائے وہ کافور کی خوشبو اور تاثیر کے ساتھ کھانوں اور پھلوں کی خواہش کو پیدا کرنے والی ہو تاکہ بھوک اور اشتہاء کی حالت میں جنت کے اطعمہ کھاتے جائیں کیونکہ ہر لذیذ طعام اور پھل کی لذت خواہش اکل پر موقوف ہے۔ کھانے کی خواہش کے بغیر لذیذ کھانا بھی مرغوب نہیں ہوتا اور کھانوں سے فراغت کے بعد ضرورت ہے کہ معدہ سے غذا کا انہضام ہوتا کہ طبعیت پر گرانی واقع نہ ہو تو اس وجہ سے یہ بعد کی شراب طہور زنجبیل والی ہوگی سبحان اللہ کیسا عجیب تناسب رکھا گیا، اللہم اجعلنا منھم وارزقنا بفضلک وکرمک من نعماء الجنۃ واسقنا من کوثر وسلسبیل آمین یا رب العالمین، ) جس میں ملا ہوگا زنجبیل (سونٹھ) جو ایک چشمہ ہے جنت میں جس کا نام لیا جاتا ہوگا سلسبیل اہل جنت اس نام سے اس چشمہ کا ذکر کرتے ہوں گے اور اعزاز واکرام کا یہ عالم ہوگا کہ گشت کرتے ہوں گے انکے سامنے خدمت گزار لڑکے جو ہمیشہ اپنے حسن و جمال پر قائم رہیں گئے جو حسن و جمال اور لطافت وصفاتی میں ایسے خوش منظر ہوں گے کہ اے دیکھنے والے جب تو انکو دیکھے تو انکو یہ سمجھے کہ یہ تو زمین پر بکھرے ہوئے خوبصورت موتی ہیں اور جنت کا حال کیا بیان کیا جائے اللہ اکبر ! بس یہ ہے کہ جب تو وہاں نظر ڈالے تو دیکھے گا تو بہت ہی عظیم نعمتیں اور بڑا ہی عظیم الشان ملک ہے کہ ان نعمتوں کی خوبی کا اندازہ ہوسکتا ہے اور نہ وہاں کی اس سلطنت کی شان و شوکت کا کوئی تصور ہوسکتا ہے اور ان اہل جنت پر ریشمی لباس ہوں گے سبز رنگ کے نہایت ہی قمتی گاڑھے ریشمی کپڑے بھی مزید ہوں گے تاکہ باریک لطیف اور دبیرہر قسم کے لباس استعمال کریں جو انکی عظمت ووقار کو اور بلند کرنے والے ہوں گے اور پہنائے جائیں گے انکو کنگن چاندی کے۔ 1 حاشیہ (ایک آیت میں ہے کہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” یحلون فیھا من اس اور من ذھب ولؤلؤا “ ممکن ہے کہ اہل جنت کے درجات کے لحاظ سے بعض کو سونے کے اور بعض کو چاندی کے دیئے جائیں۔ 12) تاکہ ریشمی اور قیمتی لباس کی آرائش کے ساتھ زیور سے انکو مزین کردیا جائے اور یہ زیور جنت کی شان کے مناسب ہوگا اور اس وجہ سے کہ مردودں نے اللہ کے حکم کی اطاعت میں اس قسم کی آراستگی وزینت سے دنیا میں پرہیز کیا تھا اب اللہ تعالیٰ اس نوع کی تمام زینتیں جنت میں حسا بھی عطا فرمادے گا اور پلائے گا انکو انکا پروردگار ایک خاص جام شراب طہور کا جو دونوں قسم کے جام کے علاوہ ہوگا جن کا ذکر پہلے ہوچکا اور ہوسکتا ہے کہ تمام نعمتوں کے بعد یہ خاص جام محبوب حقیقی کی طرف سے ایک خاص اعزاز کے ساتھ عطا کیا جائے جو خوشبو اور لطافت ولذت کے ساتھ طہوریت کا وصف بھی رکھتا ہوگا اور یہ طہوریت ایسی کامل اور مؤثر ہوگی جو اپنے پینے والے کو بھی ہر گندگی اور کدورت سے پاک وصاف کردے اس کا گھونٹ پیتے ہی قلب وبدن پاک وصاف ہوجائے اور پسینہ نکلے جس کی مہک مشک کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہوگی اور اس جام طہور کا نوش کرنیو الا اس کی تاثیر سے (آیت) ” ونزعنا ما فی صدورھم من غل “۔ کا مصداق اکمل ہوجائے گا اہل جنت کے سامنے شراب طہور کو پیش کرتے ہوئے کہا جاتا ہوگا اے جنتیو ! بیشک یہ ہے بدلہ تمہارے ایمان و اعمال صالحہ کا اور تمہاری کوشش اور عملی جدوجہد قابل قبول ہوئی اور محنت کارآمد ہوئی اور تمہارے رب کی بارگارہ میں اس کو سراہا گیا۔ حاشیہ (یہ وہی مضمون ہے جو آیت مبارکہ (آیت) ” ونودوا ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا بما کنتم تعملون “۔ صدق اللہ العظیم “ میں بیان فرمایا گیا۔ 12) جس کو سن کر جنتی اس قدر خوش ہوں گے کہ انکی یہ خوشی جنت کی لذت سے زیادہ خوشگوار ہوگی۔ نسل انسانی کا عدم سے وجود میں آنا : (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین من الدھر “۔ سے واضح طور پر یہ بیان فرمادیا گیا کہ نسل انسانی نہ اپنے مادہ کے لحاظ سے اور نہ ہی اپنی اس صورت وضعیہ کے ساتھ ہمیشہ سے تھی بلکہ اس پر ایک وقت گذرا ہے کہ اس کا کوئی وجود اور نام ونشان ہی نہ تھا اس کا سلسلہ پیدائش تخلیق آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوا اسکے بعد نسل انسانی بصورت توالد وتناسل بڑھتی رہی جیسے کہ ارشاد فرمایا گیا (آیت) ” انا خلقنا کم من ذکر وانثی وجعلنا کم شعوبا وقبائل لتعارفوا “۔ اور فرما دیا (آیت) ” الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونسآء “۔ بہرکیف اس کی پیدائش کی یہ ابتداء ہے یہی عقیدہ جملہ اہل کتاب کا ہے اور بعض دیگر مذاہب بھی اسکے قاتل ہیں، حکماء یونان اور فلاسفہ نوع انسانی کو قدیم زمانی کہتے ہیں دہریہ بھی مادہ کے قدیم ہونے کا قول اختیار کرتے ہوئے اوضاع فلکیہ اور تاثیر نجوم سے تجردات و انقلابات کے قائل ہیں یہ تمام باتیں محض ادہام اور تخیلات ہیں جن کو فلسفیانہ رنگ دے کر بیان کیا گیا حقیقت بس وہی ہے جو خداوندعالم خالق کائنات نے بیان کردی۔ بہرکیف اس آیت شریفہ سے صاف طور پر واضح ہے کہ انسان کوئی ایسی ہستی نہیں کہ جس کی خلقت اور پیدائش کی ابتداء نہ ہو اور وہ ہمیشہ سے اسی طرح چلا آیا ہو جیسا کہ فلاسفہ کا قول ہے کہ انسانی ہستی کی کوئی ابتداء نہیں اور وہ ہمیشہ سے پیدا ہوتا چلا آرہا ہے یعنی یہ سلسلہ ہمیشہ سے ہے کہ نطفہ سے انسان اور انسان سے نطفہ پیدا ہوتا ہے اور اس سلسلہ کی نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ کوئی انتہاء ہے اور نہ اس طریقہ کے خلاف پیدائش ہوسکتی ہے۔ حق جل شانہ نے اس آیت میں اور دیگر آیات قرآنیہ میں فلاسفہ کے اس قول کی تردید کی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ ان کا یہ قول بالکل غلط ہے بلکہ ایک وقت ایسا تھا کہ انسان کا نام ونشان بھی نہ تھا ہم نے اپنی قدرت سے اس سلسلہ کا اس طرح آغاز فرمایا کہ سب سے پہلے آدم (علیہ السلام) کو (آیت) ” حما مسنون “۔ بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر اس میں روح ڈالی اس کے بعد ان کے بائیں پہلو سے انکی بیوی حوا (علیہ السلام) کو پیدا کیا بعد ازاں ہم نے یہ سلسلہ جاری کردیا کہ ایک ناپاک اور گندے پانی یعنی قطرہ منی سے انسان کو پیدا کرتے ہیں یہ ہماری قدرت ہے ہمارے سوا کسی میں قدرت نہیں کہ پانی کے ایک ناپاک اور بدبودار قطرہ سے ایسی زیبا شکل بنا سکے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ دہد نطفہ راصورتے چوں پری کہ کر دست برآب صورت گری۔ غرض یہ کہ انسان ابتداء میں معدوم تھا اور اسکو کسی قسم کا عقلی یا حسی وجود حاصل نہ تھا پھر خدا ہی نے اسکو وجود کا خلعت پہنایا انسان خود بخود وجود میں نہیں آگیا جیسا کہ فلاسفہ اور دھریہ کہتے ہیں کہ نوع انسانی اور صورت انسانی کا ظہور مادہ اور نیچر (فطرت) اور اسکے حرکت کا رہن منت ہے مسلمان یہ کہتا ہے کہ مادہ تو ایک بےشعور چیز ہے جو علم اور ادراک اور ارادہ واختیار سے بالکل عاری اور کو را ہے اس کی غیر شعوری اور غیرارادی اور غیر اختیاری حرکت سے یہ ذی شعور اور ذی علم اور ذی عقل انسان کس طرح وجود میں آگیا اور ایک گونگے اور بہرے مادہ (ایتھر اور نیچر) سے سمیع وبصیر اور متکلم یعنی سننے والا اور دیکھنے والا اور بولنے والا کیسے پیدا ہوگیا جس کمال اور جمال کا وجود خود اس مادہ کی ذات میں نہیں وہ کمال و جمال دوسروں کو کیا دے سکتا ہے کیا ایک برہنہ اور نادار اور بھوکا فقیر بھی کسی کو امیر اور مالدار بنا سکتا ہے مادہ پرستوں کو بھی اس کا اقرار ہے کہ مادہ میں کسی قسم کا کمال نہیں اور کوئی فیلسوف اور کوئی حکیم آج تک اس بات کا قائل نظر نہیں آیا کہ جس نے مادہ اور عناصر میں علم اور ادراک اور ارادہ اور اختیار کو تسلیم کیا ہو بلکہ تمام مادیین اس بات کو مانتے چلے آتے ہیں کہ جو افعال اس سے سرزد ہوتے ہیں وہ بےشعور اور بےاختیار صادر ہوتے ہیں۔ اب غور تو کیجئے کہ رحم مادر میں جب نطفہ قرار پکڑتا ہے اور لڑکا یا لڑکی بنتا ہے تو ماں کو بھی خبر نہیں کہ میرے پیٹ میں کی صنعت گری ہو رہی ہے اور نقاش قدرت میرے شکم میں کیا کیا نقش ونگار کررہا ہے لڑکا بنا رہا ہے یا لڑکی اور ظاہر ہے وہ نطفہ تو ایک قطرہ آب ہے اسے تو کچھ بھی خبر نہیں اب حیرت کہ مجھ میں کیا تغیرات اور انقلابات ہورہے ہیں۔ معدے میں غذا ہضم ہورہی ہے اور کیا کیا ہورہا ہے مگر معدے کو کچھ خبر نہیں اب حیرت کا مقام ہے کہ انسان میں تو حسن و جمال بھی ہو اور فضل و کمال بھی ہو اور عقل وادراک بھی ہو اور وہ چیز یعنی مادہ جس کو منکرین خدا اس انسان کا بلکہ سارے عالم کا خالق سمجھتے ہیں اس میں یہ تمام صفات کمال بالکلیہ نیست ونابود ہوں کیا عقل سلیم اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو ایسی چیز عطا کردے جس کا خود اسکی ذات میں نام ونشان نہ ہو ہرگز نہیں معلوم ہوا کہ کسی زبردست اور بااختیار حکیم وعلیم نے انسان کو یہ کمالات عطاکئے ہیں وہی خدا اور واجب الوجود ہے اور وہی ذات بابرکات واہب الوجود ہے جس نے انسان کو وجود عطا کیا ہے اور وہی اس کے وجود کا رب اور مربی ہے جس کی عنایت اور رحمت کا ہر لمحہ اور ہر لحظہ یہ انسان محتاج ہے اسی کو ہم اللہ اور خدا کہتے ہیں۔ افسوس اور صدا افسوس ہے ان محرو میں عقل پر جواب بھی یہ سمجھیں کہ کوئی واجب الوجود اور واہب الوجود نہیں بلکہ اس بےشعور مادہ کے طبعی تاثیرات سے تمام کارخانہ عالم چل رہا ہے اس صورت حال پر بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح بت پرست بےجان پتھروں کے سامنے سرجھکائے ہوئے انکو معبود بنائے ہوئے ہیں اسی طرح یہ مادہ پرست ایک بےجان اور بےشعور مادہ کو اپنا صانع اور مدبر اور مربی سمجھے ہوتے ہیں کیا یہ رونے کا مقام نہیں۔ بریں عقل و دانش بباید گریست۔ اس لحاظ سے قرآن کریم میں جتنے مضامین بت پرستوں کے حق میں نازل ہوئے ہیں وہ سب ان دہریوں اور منکرین خدا پر صادق آتے ہیں۔ ڈارون کا عجیب و غریب نظریہ : انیسویں صدی عیسوی میں سرزمین مغرب میں ایک مادی فلسفی شخص گذرا ہے جس کا نام ڈارون تھا اس نے اپنی فلسفیانہ تحقیقات میں ایک یہ انکشاف کیا کہ انسان اصل میں بندر تھا بتدریج ارتقائی مراحل طے کرتے کرتے بالآخر انسان بن گیا۔ مغربیت سے مرعوب اذہان نے بلادلیل اور بغیر اسکے کہ اپنی عقل اور فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اس نظریہ کو قبول کرلیا اور اس کو پھیلانا شروع کردیا حالانکہ اس پر آج تک نہ کوئی دلیل عقلی پیش کی جاسکی اور نہ ہی کوئی دلیل تجربی۔ ہر صاحب عقل ادنی تعقل سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ نظریہ صرف ایسا شخص ہی پیش کرسکتا ہے جو فاتر العقل ہو اور ایسا شخص ہی اسکو قبول بھی کرسکتا ہے، سمجھنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیشمار انواع و اقسام کی مخلوقات پیدا کی ہیں جانوروں میں گدھا، کتا، خنزیر، سانپ، بچھو، کیڑے مکوڑے چرند، پرند غرض حیوانوں میں بروبحر اور فضاء کی یہ بیشمار مخلوقات میں ہر ایک کی طبیعت اور فطرت بالکل جدا ہے یہ کہنا کہ فلاں حیوان یعنی بندر ترقی کرکے انسان بن گیا ایسی ہی مہمل تخیل کو تھیوری کہنا اور بھی خلاف عقل بات ہے۔ کیا اس تھیوری کے قاتلین اس کا جواب دیں گے کہ یہ ارتقاء صرف ایک نوع حیوان میں کیوں ہوا دیگر حیوانات اس سے کیوں محروم رہے۔ پھر (2) یہ بھی بتائیں کہ نوع حیوان کے علاوہ نباتات و جمادات بھی ہیں ان میں یہ ارتقائی مراحل کیوں نہیں واقع ہوئے ایک نوع کا ارتقاء اسی کی حدود میں محدود رہتا ہے ایک گھاس کا تنکا ارتقاء کے بعد تناور درخت تو ہوسکتا ہے لیکن پہاڑ نہیں بن سکتا علی ھذا القیاس زمین کی سطح پر ابھرنے والا ٹیلا پہاڑ تو ہوجائے گا لیکن وہ کوئی اور نوع کی شکل اختیار کرکے اس میں تبدیل ہوجائے یہ ناممکن اور خلاف عقل ہے۔ پھر یہ نظریہ رکھنے والے یہ بتائیں بالفرض اگر بندر نے ارتقاء کرکے انسانی پیکر اور وضع اختیار کرلی تو یہ ارتقاء نوعی تھا یا ارتقاء فرد تھا ظاہر ہے کہ چند بندروں کے ارتقاء کا تو مسئلہ بھی نہیں نوع من حیث النوع کے ارتقاء کا دعوی ہے تو اصولا یہ بات ہے کہ کوئی بھی چیز تغیر وتبدل قبول کرنے کے بعد اپنی پہلی صورت کو چھوڑ دیتی ہے تو یہ کس قسم کا ارتقاء ہوا کہ دنیا میں بندر بھی موجود اور ارتقائی شکل اختیار کرنے والے انسان بھی موجود (تفصیل کی گنجائش نہیں) بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں بہت سے مہمل اور خلاف عقل نظریات ظاہر ہوتے ہیں لیکن ایسا مہمل اور خلاف عقل اور مضحکہ خیز نظریہ کوئی بھی سننے میں نہیں آیا کہ اچھے خاصے عقل وفہم اور شعور و تدبر رکھنے والی اشرف المخلوق حسن و جمال اور کمالات و فضائل کے جوہر سے آراستہ انسانوں کو بندر کی اولاد تجویز کردیا جائے (بریں عقل و دانش بباید گریست) غرض عقل اور فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ اسی پر ایمان لایاجائے جو رب العالمین نے انسانی تخلیق کے بارے میں فرما دیا کہ (آیت) ” خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونسآء “۔ اور (آیت) ” انا خلقنا الانسان میں نطفۃ امشاج نیتلیہ “ صدق اللہ العظیم ونحن علی ذالک من الشاھدین ولموقنین وعلی ذالک آمنا وعلیہ نحی ون موت ونبعث عند رب العالمین “۔ عجب بات ہے کہ اس نظریہ کے قائلین ایک طرف تو بندر کے ترقی کرکے انسان بن جانے کو تسلیم کرتے ہیں دوسری طرف جب قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے واقعات میں انکے نافرمان افراد کے مسخ کے واقعہ کا ذکر آتا ہے کہ انکو مسخ کرکے بندر بنادیا گیا تو اسکو خلاف فطرت اور خلاف عقل کہہ کر رد کردیتے ہیں ایسے لوگوں کو تو سہولت سے یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ جب بندر ترقی کرکے انسان بن سکتا ہے تو ضرور ایسا ہونا چاہئے کہ انسان تنزل کرکے بندر بن جائے بلکہ یہ شکل تو آسان ہے بہ نسبت پہلی صورت کے کیونکہ انکے قانون کے مطابق یہ صورت توکل شیء یرجع الی اصلہ کے تحت آسکتی ہے۔
Ayahs 76:23–31

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بدعمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کو بڑی رات تک اسکے آگے سجدے کرو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑ دیتے ہیں

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا کیا اور انکے مفاصل کو مضبوط بنایا اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے انہی کی طرح اور لوگ لے آئیں

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ تو نصحیت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو بیشک خدا جاننے والا حکمت والا ہے

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کیلئے اس نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

عظمت کلام رب العالمین وتاکید برپابندی احکام و دوام ذکر و بندگی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القران ...... الی .......... عذابا الیما “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی تخلیق کا ذکر تھا اور یہ کہ اسکو عقل وفہم کی صلاحیتوں سے آراستہ کرکے ہدایت وگمراہی کا فرق بتادیا گیا لیکن اسکے بعد اسکی بدنصیبی ہے کہ وہ عقل و شعور کو بالائے طاق رکھ کر گمراہی میں پڑجائے اسکے بالمقابل سعادت و کامیابی ہے ان انسانوں کی جو خدا کو پہچان کر اس کی عبادت و بندگی میں مصروف ہوگئے ساتھ ہی ہر دو گروہ کے احوال بھی بیان کردیئے گئے اب ان آیات میں قرآن کریم کی عظمت اور احکام ہدایت کا کامل مجموعہ ہونا بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ کے احکام کی پابندی اور اس کے ذکر وتسبیح میں مصروف رہنا اور عبادت کا دوام ہی انسان کی نجات کا ذریعہ ہے اور آخرت کی کامیابی اور ابدی زندگی کی راحت اسی میں مضمر ہے اور یہ کہ انسان کی یہ بہت بڑی غلطی اور چوک ہے کہ دنیا کی محبت میں آخرت برباد کردے تو ارشاد فرمایا۔ بیشک ہم نے اتارا ہے آپ قرآن نہایت ہی محفوظ طریقہ پر اتارنا کہ ہر وحی اور آیت کے نزول کے ساتھ ایک پہرہ ہوتا ہے اور فرشتوں کی مکمل حفاظت ہوتی ہے جس کے بعد ممکن نہیں ہوسکتا کہ اس میں کوئی پر بھی مارے اس کتاب الہی قرآن میں انسانی ہدایات کے جامع احکام نازل کیئے گئے جن کی اطاعت وپیروی انسان کو سعادت و کمال کے اعلی مقام تک پہنچانے والی ہے اگر کوئی قوم اس کتاب الہی پر ایمان نہیں لاتی اور اسکے احکام نہیں مانتی تو اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ اس پر بےچین ومضطرب نہ ہوں بس آپ انتظار کریں اپنے رب کے حکم کا اور اسکے فیصلہ کا جو اس نے حق کی فتح اور اپنے پیغمبر کی کامیابی کا کر رکھا ہے اور اس راہ میں مخالفت کرنے والے اگر مخالفت کرتے ہیں تو کرنے دیجئے آپ ﷺ کسی عارضی اور ظاہری مصلحت کے خیال سے ان میں سے کسی بھی نافرمان اور ناشکرگزار کی موافقت ہر گزنہ کیجئے، حق لوگوں پر خود واضح ہوجائے گا یہ مجرمین اگر آپ ﷺ سے چکنی چپڑی باتیں کریں یا دنیا کی دولت کا لالچ دین تو ہرگز انکی طرف توجہ بھی نہ دیجئے آپ نے جو فیصلہ کر رکھا ہے بس اسی کا انتظار کریں اور ذکر کرتے رہیں اپنے رب کے نام کا صبح وشام۔ حاشیہ (صبح وشام سے مراد ہمہ وقت ہے کیونکہ یہ اوقات خصوصیت سے انسان کے غفلت یا آرام یا کاروبار یا کھیل تماشے کے ہوتے ہیں تو انکو اہمیت کے لحاظ سے ذکر کردیا گیا اور (آیت) ” من الیل “ سے بظاہر تہجد کی نماز مراد ہے اور تہجد کے ساتھ تسبیح اور ذکر خداوندی کی تاکید اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذاکرین کو تہجد کے علاوہ رات کا طویل حصہ ذکر وتسبیح میں گذارنا چاہئے۔ 12) اور رات کے حصوں میں سے کچھ حصہ میں بھی بس اسی کے لئے سر بسجود رہئے اور اسی کی تسبیح و پاکی بیان کرتے رہئے رات کے طویل حصہ تک شب کی تنہائی اور سکون میں ذکر اللہ کی حلاوت اور اسکے باطن پر عجیب کیفیت محسوس ہوگی اور اہل اللہ اس وقت وہ لذت محسوس کریں گے کہ دنیا کی کوئی لذیذ سے لذیذ چیز بھی اس سے زیادہ محبوب وپسندیدہ نہیں ہوسکتی۔ حاشیہ (چنانچہ مشہور ہے اہل اللیل فی لیلھم ھم الذین اہل العیش فی عیشھم کہ راتوں کو بیدار رہنے والے عابدین وذاکرین کو ذکر اللہ سے وہ لذت محسوس ہوتی ہے جو عیش پرستوں کو اپنے عیش عشرت میں نصیب نہیں ہوسکتی۔ 12) محبوب رکھتے ہیں جلدی حاصل ہونے والی چیز کو یعنی دنیا اور دنیا کی راحت ولذت اور چھوڑ رہے ہیں اپنے پیچھے ایک بہت ہی بھاری دن کو جس کی ہیبت وگرانی کسی سے برداشت نہ ہوگی غفلت و لاپرواہی سے اس دن کو بھلا دیا اور موجودہ لذتوں میں منہک ہو کر عذاب خداوندی کو دعوت دے رہے ہیں کس ظلم کی بات ہے کہ اپنے خالق کو بھلا دیا جائے ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے ہم نے ہی انکو پیدا کیا ہے اور مضبوط بنائے ہیں انکے جسم کے تمام جوڑ تو جس قدرت و حکمت سے ہم نے انکو پیدا کیا انکے جسم کی ہڈیاں اور جوڑ بڑی خوبی اور حکمت سے بنائے اسی قدرت سے ہم سب کچھ کرسکتے اور انکو فنا کرکے جب چاہیں انکے بدلے ان جیسے لوگ لے آئیں ہمیں اس ارادہ سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ظاہر ہے کہ جب ہم مجرمین ونافرمانوں کو ہلاک کرکے انکی جگہ دوسروں کو لائیں گے تو وہ ان جیسے مجرم ونافرمان نہیں ہوں گے بلکہ وہ مطیع وفرماں بردار ہوں گے، بہرحال یہ ایک پیغام نصیحت ہے جو ہم نے بڑی وضاحت سے دنیا کو پہنچا دیا اب جس کا دل چاہے گمراہی اختیار کرلے اور اصل راز یہ ہے کہ ہدایت وگمراہی قدرت کی طرف سے انسانوں کے لیے طے کردی گئی ہے اس لئے تم نہیں چاہو گے کوئی چیز مگر وہی جو اللہ چاہے اللہ بیشک سب کچھ جاننے والا بڑی ہی حکمتوں والا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کو اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے وہ اپنی استعداد وصلاحیت سے بتوفیق خداوندی ہدایت کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں اور رہا ظالموں کا معاملہ ؟ جو اپنی کجروی اور عقل و فطرت کے تقاضوں کو ٹھکرا کر گمراہی اختیار کرلیں اور نہ کسی ہادی کی بات کو سنیں اور نہ حق کو سمجھیں تو ان کے واسطے ایک درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے بس مرنے کی دیر ہے جسم سے روح نکلتے ہی ان مجرموں کو اپنا انجام نظر آجائے گا اور جس عذاب کا انکار کرتے تھے اسکی گرفت سے کسی طرح نہ بچ سکیں گے۔ فائدہ : سورت کی ابتداء اس بات سے تھی کہ انسان پر ایک ایسا وقت گذرا ہے کہ وہ نسیت ونابود تھا پھر اس کو حق تعالیٰ نے محض اپنی قدرت سے پیدا کیا کہ ایک قطرہ منی کو مختلف ادوار و مراحل سے نشوونما عطا کیا ہوش وحواش ادراک و شعور کی صلاحیتوں کے ساتھ اسے پیدا کیا اور اسکے سامنے دونوں راستے کھول کر رکھ دیئے گئے کہ یہ ہدا یت کا راستہ ہے اور دوسرا گمراہی کا اب اس کے بعد جو انسان اپنی فطری صلاحیت سے ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ آخرت میں جنت اور انعامات خداوندی کا مستحق ہے اور جو دیکھتی آنکھوں ہلاکت وگمراہی کا راستہ اختیار کرلیتا ہے تو بس اسکے واسطے دردناک عذاب ہی ہونا چاہئے جو اسکے رب نے تیار کر رکھا ہے تو اس طرح سورت کا آغاز اور سورت کی انتہاء باہم نہایت ہی مربوط واقع ہوئی ہے اور یہ ربط قرآن کریم کے اعجاز اور کمال بلاغت کی دلیل ہے، تم بحمد اللہ تفسیر سورة الدھر۔