74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 74:1–31

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے (محمد ﷺ جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور ہدایت کرو

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ناپاکی سے دور ہو

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کیلئے صبر کرو

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

جب صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ جو مشکل کا دن ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

یعنی کافروں پر آسان نہ ہوگا۔

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور مال کثیر دیا۔

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے (بیٹے) دیئے

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

ابھی خواہش رکھتا ہم کہ اور زیادہ دے

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے فکر کیا اور تجویز کی

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر تامل کیا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) متصل ہوتا آیا ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کرینگے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

(اور) بدن کو جھلس کر سیاہ کر دیگی

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس داروغہ ہیں

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصود کیا ہے ؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لیے نصحیت ہے

حکم اعلان توحید و رسالت سید المرسلین ﷺ وتہدید ومذمت براعراض مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر ........ الی ....... الا ذکری للبشر “۔ (ربط) سورة مزمل کے آخر میں بالخصوص احکام خداوندی کی اطاعت کا حکم فرمایا گیا تھا اور یہ کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان نمازیں قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کرتے رہیں اور حق تعالیٰ کی راہ میں انفاق وایثار سے کبھی بھی گزیر نہ کریں یہ تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک قرض حسن سے جو بڑی ہی برکتوں اور زیادتیوں کے ساتھ قرض دینے والوں کو واپس ملے گا اور دار آخرت کے واسطے بہترین ذخیرہ ہے جو دنیاوی زندگی میں ہی آخرت کے لیے مہیا کیا جاتا ہے اور وہ خداوند عالم اپنے بندوں کے اعمال پر بہترین اجر وثواب عطا فرمانے والا ہے ان تمام مقاصد کی تکمیل کے لئے اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا اور انکو جامع شریعت اور کامل ہدایت سے نوازا تو اس مناسبت سے حق تعالیٰ شانہ اپنے پیغمبر ﷺ کو منصب رسالت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے خطاب فرما رہے ہیں۔ (آیت) ” یایھا المدثر قم فانذر “۔ اے چادر میں لپٹنے والے کھڑے ہوجائیے اور پوری مستعدی وسرگرمیوں کے ساتھ منصب رسالت کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے تیار ہوجائیے پھر لوگوں کو ڈرائیے عذاب آخرت سے اگر وہ خالق کائنات اور رب العالمین پر ایمان نہ لائے اور اسکی اطاعت وفرماں برداری نہیں کی، اور اپنے رب کی کبریائی و عظمت بیان کرتے رہیے تاکہ خداوند عالم کی عظمت و شوکت کو سن کر اور اس کو سمجھ کر منکرین ومشرکین اس کی توحید کی طرف مائل ہوسکیں اور یہ سمجھ لیں کہ شرک وبت پرستی کی وجہ سے جو عذاب خداوندی واقع ہوگا یہ ہمارے بت اسکو دفع نہ کرسکیں گے اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیئے اور جب کہ کپڑوں کو بھی نجاست سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے تو لامحالہ بدن اور اجزاء بدن کو بھی ہر طرح کی ظاہری اور معنوی عملی اور حسی گندگی سے پاک رکھنا چاہئے اور جب بدن کو بھی ہر قسم کی نجاست سے پاک رکھنا لازم ہے تو بلاشبہ قلب پر بھی ادنی درجہ کی گندگی عقائد باطلہ اور اخلاق ذمیمہ نیز کفروشرک کی ہرگز نہ ہونی چاہئے اور جو حکم آپ کو کپڑوں کی پاکی کا دیا جارہا ہے اس حکم سے اور اس کے نتائج ولوازم سے اے ہمارے پیغمبر دوسروں کو بھی آگاہ کردیجئے۔ 1 حاشیہ 1 (لباس سے بطور کنایہ حالت اور طرز زندگی بھی مراد لیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے کپڑوں اور لباس کی پاکی کا حکم گویا طرز زندگی اور اعمال واخلاق کی پاکی اختیار کرنے کا حکم ہے جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) ” و لباس التقوی ذلک خیر “۔ تو اس سے ظاہر ہوا کہ ہر عملی حالت گویا پیکر لباس ہے 12۔ ) اور گندگی سے دور رہئے اور سب سے بڑی گندگی شرک وبت پرستی ہے تو اس سے بھی بد ستو را جتناب کیجئے جیسے کہ آپ ﷺ اب تک اس سے دور اور محفوظ ہیں۔ 2 حاشیہ 2 (مراد یہ ہے کہ یہ امر کے صیغے انشاء امر کیلئے نہیں بلکہ دوام کے لیے ہیں یعنی مطلوب ان چیزوں کا دوام ہے، حضرت شیخ الاسلام (رح) فرمایا کرتے تھے کہ حضرت شیخ الہند (رح) ان آیات کے ترجمہ میں اس طرح کے الفاظ کا اہتمام فرمایا کرتے تھے اور اس کے خلاف انشاء امر کے طور پر یہ ترجمہ کپڑے پاک کیجئے سوء ادبی شمار فرماتے تھے۔ ) اور احسان نہ کیجئے اس لیے کہ آپ اس کے ذریعہ بدلہ زائد چاہیں کیونکہ انسان طبعی کمزوری یا مال ومنال کی حرص کے باعث بسا اوقات احسان اس توقع یا تصور پر کرتا ہے کہ مجھے اس کا بدلہ زائد ملے گا تو آپ ﷺ اس طرح کے تصور سے بھی اپنے اپنے قلب کو پاک رکھیئے اور اپنے رب ہی کے لیے اس کے دیئے ہوئے پر بس صابر رہئے صبر وشکر اور قناعت انسانی کمالات میں عظیم تر وصف ہے ان پر آپ ﷺ قائم رہئے ، دعوت وتبلیغ کی راہ میں شدائد پیش آتی ہی ہیں تو ان چیزوں کو اللہ کے لئے صبر و تحمل سے برداشت کرتے رہیں پھر جب آواز ہوگی ایک کھوکھری چیز میں اور صور پھونکا جائے گا جس پر قیامت برپا ہوگی تو یہ دن بہت ہی دشوار ہوگا کافروں پر کسی طرح بھی آسان نہ ہوگا بلکہ اسکی دشواری بڑھتی ہی جائے گی چہ جائیکہ اس میں کسی طرح کی سہولت اور آسانی ہو اس لئے اے ہمارے پیغمبر آپ اپنے کام میں صبر و استقامت سے لگے رہیے اور منکرین و مخالفین کی عداوت اور سازشوں کی قطعا فکر نہ کریں۔ پس چھوڑ دیجئے مجھ کو اور اس کو جسے میں نے پیدا کیا ہے۔ حاشیہ (مفسرین بیان فرماتے ہیں کہ ان آیات میں ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے جو اپنے اکلوتے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا مال و دولت اور دنیوی عزت وجاہ میں وحیدا اور یکتا شمار ہوتا تھا قریش مکہ اسکو وحید اور ریحانۃ القریش کہا کرتے دنیوی نعم کی کوئی کمی نہ تھی تجارت اور زمین و باغات کی آمدنی کی حد نہ تھی طائف میں اس کا بہت بڑا باغ تھا جس کے پھل موسم گرما اور سرما ہمیشہ رہتے تھے دس بیٹے تھے جو ہمیشہ باپ کے سامنے رہتے اور اس کی توقیر وتعظیم بڑھاتے رہئے۔ تو اس بدبخت نے اللہ کے انعامات کو ناشکری اور غرور وتکبر میں بدل ڈالا کبھی شکر کی تو کیا توفیق ہوتی شرک اور بت پرستی میں منہمک رہا اور آنحضرت ﷺ کی عداوت اور دشمنی زیادہ سے زیادہ کرنے لگا آنحضرت ﷺ کسی وقت قیامت اور بہشت کا ذکر فرماتے تو یہ کہتا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو اور قیامت آئے گی تو وہاں بھی مجھے اسی طرح مال واولاد اور نعمتیں ملیں گی۔ مفسرین فرماتے ہیں قریش مکہ نے جب یہ دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید و ایمان روز بروز قبولیت حاصل کرتی جارہی ہے تو انہوں نے ولید کی طرف رجوع کیا اور کہا کہ بتاؤ محمد ﷺ کی بات کس طرح بےاثر کی جائے اس پر ولید نے مشورہ دیا کہ آپ ﷺ کو ساحر (جادوگر) کہو چناچہ خود ہی مکہ کی ہر گلی کوچہ میں یہی کہتا پھرتا کہ محمد تو ساحر (جادوگر) ہے تو اسکے رد میں یہ آیات نازل ہوئیں ولید کی تحقیر وتذلیل سورة ن میں (آیت) ” حلاف مھین ھمازمشآء بنمیم “۔ جیسے کلمات سے فرمائی ہے۔ ) تنہا کہ جس کے ساتھ پیدائش کے وقت کوئی بھی چیز نہ تھی ہر انسان ماں کے پیٹ سے اسی طرح پیدا ہوتا ہے کہ مال واولاد لشکر و سامان کچھ بھی وہ ساتھ نہیں لاتا یہ جو کچھ دنیا میں انسان کو ملتا ہے وہ خدا کی عطا اور بخشش ہے اس پر مغرور ہونا اسکو زیب نہیں دیتا چناچہ ایسے انسان کو ہم نے یہ سب کچھ نعمتیں عطاکیں اور بنا دیا اسکے واسطے پھیلا ہوا مال اور دے دیئے ہیں اسکو بیٹے جو مجلس میں حاضر رہنے والے ہوئے اور جمادی اسکے واسطے ایک مسند عزت و ریاست کی خوب اچھی طرح جما دینا پھر بھی وہ اپنی طبعی حرص و لالچ کے باعث طمع کرتا ہے کہ میں اسکو اور بھی دونگا عزت وسربلندی حتی کہ وہ یہ بھی جرأت کرنے لگا کہ آخرت میں بھی اسکو یہ سب کچھ مل جائے گا جو دنیا میں ملا ہوا ہے خبردار ! ہرگز ایسا نہیں آخرت میں تو کیا وہ توس دنیا میں بھی دیکھ لے گا کہ کیسا ذلیل و خوار ہوتا ہے اس لئے کہ وہ تو ہماری آیتوں کا بڑا ہی مخالف ہے اور بغض وعناد رکھنے والا ہے۔ اب عنقریب میں اسکو چڑھاؤں گا بڑی ہی دشوار چڑھائی پر ذلت ومصائب اور سخت ترین دشواریاں جو پہاڑ کی طرح دشوار گذار ہوں گی اور وہ مشقتیں اور دشواریاں اس سے جھیلی نہ جائیں گی جیسے کہ کوئی انسان کسی دشوار گذار پہاڑ کی چوٹی پر نہیں چڑھ سکتا۔ حاشیہ (روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کے نزول کے بعد فورا یہ بدبخت یعنی ولید بن مغیرہ طرح طرح کی مصیبتوں اور دشواریوں میں مبتلا ہوگیا پے درپے مالی نقصانات پیش آتے رہے تجارت برباد ہوگئی باغات ضائع ہوگئے آخر فقیر ہو کر ذلت کے ساتھ مرا۔ 12 فوائد عثمانی) مگر افسوس شقاوت اور بدبختی کی حد ہوگئی اس نے کچھ سوچا پھر دل میں کچھ ٹھہرایا سو یہ بدبخت ہلاک ہو کہ اس نے کیسی بےہودہ بات دل میں ٹھہرائی پھر ہلاک و غارت ہوکیسی بات اس نے ٹھہرائی جب کہ اہل قریش نے اس سے کہا آخر کوئی بات تو بتا کہ ہم کس طرح لوگوں کو محمد ﷺ سے بھٹکائیں تو اس نے بڑے ہی انداز تدبروتفکر سے کچھ سوچا اور پھر دل میں کچھ طے کرکے کہا تھا کہ بس یہ کہو کہ محمد ﷺ ساحر ہیں اور یہ کلام بھی جو سناتے ہیں سحر ہے تو اس نے پھر ایک نگاہ ڈالی اپنی جماعت پر جیسا کہ عیار لوگ جب اپنی مکاری کے جال میں لوگوں کو پھانسنا چاہیں تو دیکھا کرتے ہیں اور نظریں گھمایا کرتے ہیں۔ پھر منہ بنایا تیوری چڑھائی اور ایسا منہ بنایا جیسے کسی ناگوار چیز سے انسان اظہار کراہت کے لئے منہ بناتا ہو پھر پیٹھ پھیری اور غرور کیا اور ایسے انداز یعنی اظہار نفرت وکراہت اور غرور وتکبر کو اختیار کرتے ہوئے پھر بولا بس یہ تو اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ایک جادو ہے جو نقل درنقل اور نسلا بعد نسل چلا آتا ہے پہلے بھی اسی طرح جادوگر تھے اور اب یہ بھی اسی قسم کا جادو اس کلام کی شکل میں پیش کررہے ہیں یہ کچھ نہیں سوائے اسکے کہ ایک آدمی کا کہا ہوا ہے نہ کہ وحی اور خدا کا کلام پروردگار عالم اس مکار و عیار اور بدبخت کی یہ باتیں نقل کرکے فرمارہا ہے اچھا میں عنقریب ہی اس بدبخت کو گھسیٹ کرڈالوں گا جہنم کی آگ میں اور اس کے سارے عناد تکبر اور غرور کا مزا چکھا دوں گا اور اسے مخاطب کیا تو جانتا بھی ہے کہ کیسی آگ ہے وہ ؟ وہ آگ ایسی ہے نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی بلکہ دوزخیوں کی ہر چیز کو جلائے گی اور کوئی بھی حصہ جلنے سے بچ نہ سکے گا اور پھر اس حالت پر کہ وہ جل بھن گئے ہوں باقی نہ چھوڑے گی بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹا دیا جائے گا تاکہ پھر جلیں اور جلنے اور جلنے کی اذیت کا مزہ چکھتے رہیں جیسے کہ سورة نساء میں فرمایا گیا (آیت) ” کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلودا غیرھا لیذوقوا العذاب “۔ یہ آگ جھلسنے والی ہوگی بدن کی کھال جس سے انکے حلیے ہی بگڑجائیں گے اس جہنم پر انیس۔ حاشیہ (جہنم پر مقرر کردہ فرشتوں کی تعداد انیس بیان کرتے ہوئے یہ فرمانا (آیت) ” وما یعلم جنود ربک الا ھو “۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ انیس فرشتے جو داروغہ جہنم مقرر کئے گئے ہیں تو یہ بحیثیت افسران بالا ہوں گے ہر ایک افسر کے تحت کس قدر عملہ ہوگا یہ تو خدا ہی جانتا ہے یہ اسکے لشکر میں جن کو کوئی ہی نہیں جان سکتا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز قدس اللہ سرۂ نے انیس کے عدد کی حکمتیں بڑی عجیب اور لطیف بیان کی ہیں حضرات اہل علم مراجعت فرمالیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کے عذاب دینے کے سلسلہ میں انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سر کردگی میں ہوگی، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی انجام نہیں دے سکتے لیکن ہر فرشتہ کی قوت اور اسکی عملی مصروفیت اسی دائرہ میں محدود کردی گئی جس کے لیے وہ نامور ہے مثال کے طور پر سمجھ لیجئے کہ ملک الموت لاکھوں انسانوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) چشم زدن میں وحی لاسکتے ہیں لیکن پانی برسانی ان کا کام نہیں جسطرح انسان کی قوتوں کو قدرت خداوندی نے محدود کر رکھا ہے کان لاکھوں آوازیں تو سن سکتا ہے لیکن وہ ایک چیز کو بھی دیکھ نہیں سکتا آنکھیں بیشمار چیزوں کو دیکھ کر نہیں تھکیں گی لیکن وہ ایک آواز بھی سننے پر قادر نہیں اسی طرح جو فرشتہ بھی عذاب پر مقرر ہوگا وہ فرشتہ صرف اسی قسم کا عذاب دے گا جس قسم کے عذاب پر وہ مامور ہے دوسری قسم کا عذاب دینے کی اس کو قطعا قدرت نہ ہوگی تو اس طرح انیس قسم کے عذاب ہوں گے کوئی ضرب سے عذاب دیتا ہوگا کوئی جلانے سے کوئی توبیخ وملامت سے کوئی زقوم اور صدید وحمیم کے کھلانے اور پلانے پر مقرر ہوگا اس طرح یہ انیس فرشتے اپنے مقرر کردہ عذاب کی انجام دہی میں مصروف ہوں گے، واللہ اعلم بالصواب۔ ) (تفیصل کے لئے تفسیر عزیزی کی مراجعت فرمائیں) فرشتے مقر رہیں جو اللہ کے احکام اور جہنمیوں کو سزا دینے کی ذمہ داری ادا کرتے ہوں گے اور نہیں بنایا ہے ہم نے جہنم کے نگران مگر فرشتوں کو کہ ان ہی کو جہنم کا داروغہ مقرر کیا گیا ہے اور نہیں بنایا ہم نے انکی اس تعداد کو مگر آزمائش کافروں کیلئے کہ وہ کس طرح اس تعداد کو سن کر مذاق اڑائیں گے انکار کریں گے قیل وقال اور حجت بازی، کہ اس عدد میں کیا مصلحت ہے لیکن اس کے بالمقابل یہ تعداد اس لئے ہے کہ یقین کرلیں وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی اور ایمان والوں کے ایمان میں اور اضافہ ہوجائے اور کسی قسم کا دھوکہ نہ کھائیں وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی اور وہ جو اہل ایمان ہیں کیونکہ وہ اللہ کی ہر بات پر یقین کریں گے اور اس پر ایمان لائیں گے اور یہ تعداد اس وجہ سے بھی ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے وہ یہ کہیں کہ اللہ نے کیا ارادہ کیا ہے اس چیز کو مثل بنانے سے اور بطور عدد اس کو بیان کرنے سے اسکی کیا غرض ہے بھلا یہ کیا بات ہے اور کون اسکو مان سکتا ہے اور نہیں جانتا ہے اے ہمارے پیغمبر آپ کے رب کے لشکر مگر بس وہی پروردگار اور نہیں ہیں یہ باتیں مگر وعظ ونصیحت دنیا کے انسانوں کے لیے کہ وہ جہنم اور عذاب جہنم اور اللہ کے لشکر اور جہنم پر مقرر انیس کی تعداد میں داروغہ کا ذکر سن کر عبرت ونصیحت حاصل کریں غضب الہی سے ڈریں اور نافرمانی سے بچیں۔ : بعض روایات میں ہے کہ جب یہ (آیت) ” علیھا تسعۃ عشر “۔ نازل ہوئی اور مشرکین نے انیس کا عدد سنا تو مذاق کرنے لگے اور ایک دوسرے سے قہق ہے لگاتے ہوئے کہنے لگے یہ انیس ہمارا کیا کرلیں گے ہم تو ہزاروں ہیں اگر کچھ ہوا بھی تو زیادہ سے زیادہ ہم میں سے دس دس ایک ایک کے مقابلہ کے لیے ڈٹ جائیں گے ان میں ایک پہلوان تھا وہ کہنے لگا بھائی سترہ کو تو میں اکیلا ہی کافی ہوں باقی جو (2) دو رہ جائیں گے ان سے تم نمٹ لینا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وما جعلنا اصحب النار الا ملئکۃ “۔ کہ یہ انیس تم جیسے کوئی انسان نہیں بلکہ یہ تو فرشتے ہیں اور فرشتوں کی طاقت کا یہ حال ہے کہ ایک ہی فرشتہ نے قوم لوط کی پوری بستی کو ایک ہی بازو پر اٹھا کر پٹک دیا تھا۔ رب سموت وارض کے لشکر بس وہی جانتا ہے : حافظ عماد الدین ابن کثیر الدمشقی (رح) اپنی کثیر میں آیت مبارکہ (آیت) ” وما یعلم جنود ربک الا ھو “۔ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ حدیث معراج (جو صحیحین میں موجود ہے) سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ’ البیت المعمور “ کی صفت وکیفیت ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بیت معمور ساتویں آسمان میں ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور پھر ان کو لوٹنے کی نبوت نہیں آتی یعنی ملائکہ ہجوم و کثرت اس قد ر ہے کہ ان ستر ہزار کے طواف کرنیکے بعد پھر انکے طواف کی نوبت ہی نہیں آتی، تو جس پروردگار کی یہ عظمت وشان ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے فرشتوں کا لشکر کسے معلوم ہوسکتا ہے۔ امام احمد بن حنبل (رح) نے حضرت ابوذر غفاری ؓ کی وہ معروف حدیث تخریج فرمائی ہے جس میں حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آسمانوں میں انگشت کے برابر کوئی جگہ ایسی نہیں کہ جہاں کوئی فرشتہ بارگاہ رب العزت میں سربسجود نہ ہو اور فرمایا اے لوگو ! اگر تم کو وہ بات معلوم ہوجائے جو مجھے معلوم ہے تو تمہارا یہ حال ہوجائے کہ تم کثرت سے رونے لگو اور ہنسنا کم کردو اور تم اپنے بستروں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے جنگلوں اور بیابانوں میں نکل جاؤ اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے آہ وزاری کرتے ہوئے گڑ گڑانے لگو۔ یہ وہی حقیقت ہے جو قرآن کریم کی اس آیت میں واضح کردی گئی (آیت) ” وما منا الا لہ مقام معلوم وانا لنحن الصفون وانا لنحن المسبحون “۔ حافظ ابن کثیر (رح) نے ایک اور روایت بیان فرمائی عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز عمر فاروق ؓ نماز کے لیے تشریف لائے جب کہ جماعت کھڑی ہورہی تھی تو آپ نے دیکھا کہ تین آدمی بیٹھے ہوئے ہیں جو نماز کے لیے اٹھے نہیں جن میں ایک شخص ابو جحش لیثی تھا آپ نے فرمایا اٹھو نماز کے لیے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھو تو ان میں سے دو آدمی تو کھڑے ہوگئے اور تیسرے یعنی ابو جحش نے کہا میں اس وقت تک نہیں کھڑا ہوں گا جب تک کوئی شخص مجھ سے زیادہ طاقتور بازؤں والا اور مجھ سے قوی گرفت والا نہ آجائے اور وہ مجھے پٹخ دے اور میرے چہرہ کو مٹی میں رونددے تو بس میں اس وقت ہی اٹھ سکتا ہوں حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس خبیث کو زمین پردے مارا اور اس کا چہرہ مٹی میں رگڑا وہ شخص عثمان غنی ؓ کے پاس آیا اور یہ قصہ بتایا تو عثمان ؓ نے مجھے روکا عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ میں غصہ بھرا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر عمر ؓ اس پر راضی ہوا تو (خیر بہتر ہے) میں تو اے عمر ؓ یہ چاہتا تھا کہ تم اس خبیث کا سر قلم کرکے میرے پاس لاتے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر ؓ میں تم کو بتاتا ہوں خداوند عالم اس ابو جحش کی نماز سے بےنیاز ہے اللہ کے لیے تو آسمانوں میں فرشتے ہمہ وقت عبادت و بندگی میں اس طرح مصروف ہیں کہ ایک لمحہ بھی اسکی بندگی سے خالی نہیں گزرتا آسمان دنیا میں وہ فرشتے ہیں جو ہمہ وقت سربسجود ہیں اور وہ قیامت تک سجدہ سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے اور جب قیامت پردہ اٹھیں گے تو کہتے ہوں گے ما عبدناک حق عبادتک “۔ اسی طرح آسمان پر فرشتوں کی ایک ایک عبادت رکوع و سجود اور قیام اور تسبیح وتحمید کا ذکر فرمایا کہ وہ اسی حالت میں قیامت تک رہیں گے تفصیل تفسیر ابن کثیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ تفسیر ابن کثیر جلد 4)