Ayahs 73:1–14حکم قیام اللیل وتاکید ترتیل وتحسین درتلاوت کلام اللہ تعالیٰ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا المزمل ......... الی ........... کثیبا مھیلا “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں جنوں کا قصہ ذکر فرمایا گیا تھا کہ وہ قرآن کریم کو سن کر کیسے اس پر فریفتہ اور گرویدہ ہوئے اور اس پر ایمان لائے اور ایمان وہدایت کا رنگ ان پر اس قدر غالب آیا کہ اپنی قوم کے واسطے داعی اور ہادی وناصح بن کر لوٹے اب اس سورت میں جو کہ ابتداء نبوت کے زمانہ میں نازل ہوئی اس میں مشرکین مکہ کی بےرخی اور آپ ﷺ کی شان میں توہین و گستاخی کا ذکر کرکے آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے اور انکی ایذاؤں وزیادتیوں پر صبر کی تلقین کی جارہی ہے۔
مشرکین مکہ آپ ﷺ کو مختلف القاب سے یاد کرکے تمسخر و مذاق کرتے کوئی آپ ﷺ کو کاہن کہتا، کوئی ساحر وجادوگر تو اسکے بالمقابل اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو ایسے پیارے لقب سے پکارا کہ اسکی حلاوت نے ان تمام کلفتوں اور ذہنی کوفت کا ازلہ کرڈالا جو مشرکین کے بےہودہ اور طعن وطنز آمیز عنوانات سے قلب پر واقع ہوئی تھی اور جیسے بحالت رنج وغم کپڑوں میں لپٹ کر کوئی لیٹا ہو آپ بھی مشرکین کی ان بےہودہ باتوں پر کپڑوں میں لپٹے ہوئے تھے کہ وحی الہی نازل ہوئی اور اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو نہایت ہی انداز ملاطفت میں اس عنوان سے پکارا (آیت) ” یایھا المزمل “ کہ اے چادر میں لپٹنے والے جس طرح کہ حضرت علی ﷺ ایک مرتبہ گھر سے کسی بات پر، رنجیدہ ہو کر باہر چلے گئے اور مسجد کے صحن میں زمین پر لیٹ گئے آنحضرت ﷺ نے معلوم کرایا کہ علی ؓ کہاں ہیں معلوم ہونے پر آپ ﷺ قریب تشریف لائے اور شانہ پر دیکھا کہ مٹی لگی ہوئی ہے اس کو اپنے دست مبارک سے صاف کرتے ہوئے یہ فرماتے جارہے تھے۔ قم یا ابا تراب۔ قم یا ابا تراب۔ اے ابوتراب یعنی مٹی میں لتھڑے ہوئے اٹھ جاحضرت علی ؓ اس پیار وملاطفت کو زندگی بھر یاد کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے خدا کی قسم اس لقب سے مجھ کو پکارا جانا جس قدر محبوب ہے اتنا کسی بھی نام سے مجھ کو پکارا جانا محبوب نہیں تو اسی طرح (آیت) ” یایھا المزمل “ کا عنوان اللہ رب العزت کی طرف سے اس حال میں جبکہ آپ ﷺ رنج وغم کے عالم میں کپڑوں میں لپٹے ہوئے تھے، بارگاہ خداوندی سے ملاطفت و محبت کا پیکر اعظم ہے تو فرمایا۔
اے چادر میں لپٹنے والے کھرا رہ رات کو تہجد و عبادت خداوندی میں مصروف رہتے ہوئے۔
حاشیہ (اس ترجمہ میں یہ اشارہ ہے کہ (آیت) ” الاقلیلا “۔ استثناء باعتبار عددلیل ہے یعنی ہر رات کے لیے یہ حکم ہے لیکن اگر کسی رات قیام اللیل نہ ہوسکے کسی عذر وبیماری کے باعث تو کوئی حرج نہیں بعض مفسرین کی رائے میں (آیت) ” قلیلا “ کا استثناء باعتبار اوقات وزمان اللیل ہے جس کا بیان اور تفسیر بعد میں اس طرح کی گئی (آیت) ” نصفہ اوانقص منہ قلیلا اوزدعلیہ “۔ )
مگر کسی رات کہ اتفاقا یا کسی عذر سے نہ ہوسکے تو کوئی حرج نہیں آدھی رات قیام کریں یا اس سے کچھ کم کر دین یا اس پر کچھ زائد کردیں جیسا بھی طبیعت کے نشاط اور ہمت کے لحاظ سے کرسکیں اور آہستگی وحسن صوت کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر قرآن کی تلاوت کریں قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے اسکی عظمت وادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے پڑھیں۔
بیشک ہم آپ پر ڈال رہے ہیں بہت ہی وزن والا قول یعنی وحی الہی جس کی عظمت وہیبت کا قوائے بشر یہ تحمل نہیں کرسکتے یہ تو اللہ کے پیغمبر کو خدا کی طرف سے عطا کردہ قوت حاصل ہوتی ہے وہ اس کا تحمل کرلیتا ہے۔ 1
حاشیہ 1 (حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اپنی قدر ومنزلت کے اعتبار سے بہت قیمتی اور وزن دار اور اپنی کیفیات ولوازم کے اعتبار سے بہت ہی بھاری اور گرانبار ہے احادیث میں ہے کہ نزول قرآن کے وقت آپ ﷺ پر بہت گرانی اور سختی گزرتی سردی کے موسم میں بھی آپ ﷺ پسینہ پسینہ ہوجاتے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے حارث بن ہشام (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے بیان کیا فرماتی تھیں کہ نزول وحی کے وقت شدید سردی میں بھی آپ کی پیشانی مبارک پسینہ پسینہ ہوجاتی تھی اور اگر آپ ﷺ کسی سواری پر ہوتے تو سواری برداشت نہ کرسکتی ایک مرتبہ آپکی فخذ مبارک حضرت زید بن ثابت ؓ کے زانو پر رکھی ہوئی تھی اس حالت میں وحی نازل ہونے لگی تو زید بن ثابت ؓ کی ران پر اس قدر بوجھ محسوس ہوا کہ ڈرے کہ کہیں ران بوجھ سے چورا چورا نہ ہوجائے 12) (فوائد عثمانی)
بیشک رات کی بیداری بہت ہی سخت ہے نفس کو روندنے کے لحاظ سے اور بہت ہی درست ہے بات کہنے کے لحاظ سے۔ 2
حاشیہ (بالعموم اہل عرب ناشئتہ اللیل رات کی ساعتوں اور یکے بعد دیگرے پیش آنے والی گھڑیوں کو کہتے ہیں ناشئتہ اور ناشئی وضع لغت کی رو سے تو پیدا ہونے والی چیز کو کہا جاتا ہے محاورات عرب میں کہتے ہیں نشأت نشأۃ اسی سے انشاء بمعنی پیدا کرنا ہے ابوعبید (رح) بیان کرتے ہیں کہ ناشءۃ اللیل رات میں رونما اور پیدا ہونے والی چیز کو کہیں گے تو انسان کا نفس بھی سونے کے بعد بیدار ہوا تو گویا کہ وہ دوبارہ پیدا ہوا ہے اس نسبت سے ناشءۃ اللیل قیام اللیل کے لیے استعمال کیا گیا ہے ابن الاعرابی (رح) کہتے ہیں اول شب سونے کے بعد بیدار ہونے کو ناشءۃ اللیل کہا جائے گا شب میں بیدار ہونے کے بعد روح پر غیبی انواردارد ہوتے ہیں۔
” وطاء “۔ واؤ کے فتح کے ساتھ بمعنی روندنا تو اس معنی وضعتی کے لحاظ سے یہ ترجمہ کیا گیا کہ ” بہت ہی زیادہ سخت ہے نفس کو روندنے کے لحاظ سے “۔ محاورات میں بولا جاتا ہے، اشتدت علی القوم وطاء السلطان، یعنی قوم پر بادشاہ کی گرفت اور تعدی بہت شدید ہوگئی ہے اس معنی کے پیش نظر آنحضرت ﷺ کی ایک دعا میں یہ لفظ وارد ہوا۔ اللہم اشد دوطاتک علی مضر “۔ یعنی اے اللہ تو اپنی گرفت قوم مضر پر سخت کردے تو جب انسان رات کی وہ نیند جو سب سے زیادہ مرغوب چیز ہوتی ہے قربان کرے گا تو لامحالہ نفس کو شاق ہوگا اور نفس اس طرح روندا جائے گا اس وصف کی عظمت و خوبی کا اندازہ فرمان خداوندی (آیت) ” تتجا فی جنوبھم عن المضاجع “۔ سے بخوبی ہورہا ہے مجاہد (رح) اور ابن ابی ملیکہ ؓ وطأۂ کے معنی مواطاۃ یعنی موافقت بیان کرتے ہیں اور (آیت) ” اشد وطاء “۔ کے معنی کرتے ہیں، اشد مواطاۃ اللسان بالقلب کہ رات کی بیداری زیادہ سے زیادہ قلب کے ساتھ زبان کی مطابقت کا وقت ہے اخیر شب کی بیداری اور تہجد کے فضائل کتب احادیث میں کثرت سے ذکر فرمائے گئے ہیں سب سے بڑھ کر یہ نعمت اور شرف کہ تہائی رات باقی رہنے پر اللہ رب العزت آسمان دنیا پر نزول فرما کر اپنے بندوں کو پکاریں کہ ہے کوئی گناہوں سے معافی مانگنے والے کہ میں اسکو معاف کروں ہے کوئی رزق کا طالب کہ میں اسکو رزق دوں ہے کوئی عافیت مانگنے والا کہ اسے عافیت دوں۔
حضرات عارفین فرماتے ہیں تہجد گذار کے چہرے پر عجیب قسم کا نور نمایاں ہوتا ہے اور یہ بھی فرمایا اس کی قبر میں کبھی اندھیرا نہ ہوگا اسکی مشکلات آسان ہونگی اور اس کو دنیا کی ہر ایک ظلمت سے نجات ملے گی خواہ وہ ظلمت مصائب وآفات کی ہو یا افکار وفتن کی ہو واللہ اعلم 12۔ ) (تفسیر ابن کثیر جلد رابع، تفسیر روح البیان، تفسیر روح المعانی، تفسیر فتح المنان)
کہ رات کی بیداری نفس کو چونکہ نہایت شاق ہے اس لحاظ سے وہ نفس کو روندنا اور کچلنا ہوا اور یہ وقت چونکہ رات کی تاریکی اور خلوت کا ہے اس لحاظ سے جو بات بھی زبان سے نکلے گی وہ ذکر وتسبیح ہو یا دعا و استغفار، اخلاص اور اللہ رب العزت کی طرف خاص توجہ اور رجوع کی کیفیت سے ہی ہوگی پھر یہ وقت اللہ رب العزت کے آسمان دنیا پر نزول کا اور اپنے بندوں کی طرف خاص عنایت و رحمت کے ساتھ توجہ کا ہوتا ہے تو روحانی برکات سے اور زائد اسکی زبان اور اسکے قول میں درستگی اور اثر پیدا ہوگا۔
بیشک آپ کے واسطے دن میں تو بڑی ہی طویل مشغولی ہے تعلیم وتبلیغ دین احکام الہی کے بتانے کی اور انکے مطابق عمل کی تلقین وتربیت پھر کسی فردیا جماعت کیلیے نہیں بلکہ پوری امت اور جملہ عالم کے اس نظام کو بتانے اور چلانے کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری اور اس کا انجام دینا کوئی معمولی بات نہیں بلاشبہ یہ بہت بڑی مصروفیت ہے اور ان مصروفیات کی تکمیل کے ساتھ جو کہ اصل مقصد رسالت اور فرائض نبوت ہیں اپنے رب کے ساتھ تنہائی میں مناجات عبادت ودعا بس رات کے ان ہی حصوں میں ہوسکتی ہے کہ خلوت ویکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرلیں اور اس طرح تہجد کے ذریعہ ریاضت اور صفاء باطن کے اعلی مدارج و مراتب طے فرماتے رہیں اور یاد کیجئے اپنے رب کا نام اور تسبیح وتحمید کی صورت میں اسی کا ذکر کرتے رہئے اور تمام شواغل وعلائق سے منقطع ہو کر بس اسی کی طرف متوجہ ہوجائیے ،
دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہوجانے سے انسان کو ذرہ برابر بھی یہ تصور نہ کرنا چاہئے کہ میں اس مادی دنیا میں پھر اپنی زندگی کیونکر بسر کروں گا وہ تو مشرق ومغرب اور کائنات کے ہر ہر گوشہ کا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بس اسی کو اپنا کارساز بنا لیجئے جو ہر مخلوق کو عالم میں پالتا ہے یقیناً وہ اپنے اس بندے کے سارے کام بھی سوار دے گا بالخصوص جو بندہ دنیا سے کٹ کر اپنے رب کی طرف رخ کرچکا ہے دنیا اور اہل دنیا سے منہ موڑ کر اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرنا نفس کے لیے بڑا ہی دشوار کام ہے اور اس میں بڑی رکاوٹیں اور تکلیفیں پیش آئی ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کو بعثت کے بعد پیش آئیں مشرکین مکہ بڑی دل آزار حرکتیں اور باتیں کرنے لگے تو فرمان خداوندی نے ہمت دلائی کہ اور صبر کیجئے ان باتوں پر جو وہ کہتے ہیں اور چھوڑ دیجئے انکو مناسب طریقہ سے نہ دل میں کینہ رکھئے اور نہ ہی غیظ وغضب ہو اور نہ ہی رنج وفکر بلکہ بڑی ہی خوبی اور حوصلہ کے ساتھ ان سے صرف نظر کرلیجئے اور جھٹلانے والے مالداروں کو میں ایسے تکذیب وتردید کرنے والے متکبر مالداروں سے خود نمٹ لوں گا اور مہلت دیں انکو کچھ تھوڑی سی حق وصداقت کو جھٹلانے والے جو دنیا میں عیش و آرام کی زندگی گذار رہے ہیں انکی یہ حالت ہمیشہ نہیں رہے گی یہ لوگ خدا کی گرفت اور عذاب سے نہ دنیا میں بچ سکیں گے، نہ آخرت میں بیشک ہمارے پاس بڑی سخت بیڑیاں ہیں اور دہکتی ہوئی آگ ہے اور ایسا کھانا ہے جو حلق میں پھنس جانے والا ہو اور بھی اس کے علاوہ دردناک عذاب، سانپ اور بچھو جن کے زہر سے پتھر بھی چورا چورا ہوجائے جس کی ابتداء اس دن سے ہوجائے گی جب کہ زمین کانپنے لگے گی اور پہاڑ بھی جن کی جڑیں زلزلہ سے کانپ کر ڈھیلی ہوجائیں گی اور زمین پر گر کر وہ پہاڑ ہوجائیں گے ریت کے تودے جن پر قدم نہ جمتے ہوں گے۔
بلاشبہ اس وقت کے شدید عذاب کو کسی کی طاقت اس کا قبیلہ اور مال و دولت نہیں ٹلا سکے گی تو اے ہمارے پیغمبر آپ ﷺ انکی بےہودہ باتوں پر صبر کریں اور انتظار کریں اس عذاب وذلت کا بھی جو دنیا میں کافروں کے واسطے طے ہے اور آخرت کے اس عذاب کا بھی جس کی شدت اس طرح ہوگی کہ زمین اور پہاڑ بھی لرز جائیں گے۔
Ayahs 73:15–19اتمام حجت خداوندی برمنکرین و کفار بہ بعثت سیدالابرار خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا ارسلناالیکم رسولا ......... الی ......... الی ربہ سبیلا “۔
(ربط) ابتداء سورت میں حضور اکرم ﷺ کو قیام اللیل کے امر کے ساتھ خدا کے ذکر کی تاکید فرمائی گئی تھی اور یہ کہ منکرین ومشرکین کی ایذاء رسانی پر صبر کریں اور رب العالمین کی مدد کا انتظار فرمائیں اور اس امر کا کہ خدا کا عذاب مجرمین پر دنیا اور آخرت میں آکر رہے گا اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی بعثت کا ذکر فرماکرکفار مکہ کو تنبیہ کی جارہی ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کو کفار مکہ بالکل ایسا ہی سمجھ لیں جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا گیا تو اس تاریخی حقیقت سے کفار مکہ کو عبرت حاصل کرنی چاہئے تو ارشاد فرمایا۔
بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیج دیا ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف اپنا رسول بھیجا تھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو ایک مستقل شریعت اور کتاب لیکر مبعوث ہوئے اور اسی کے ساتھ وہ اپنے وقت سے نبی آخرالزمان ﷺ کی بشارت بھی سناتے رہے پھر فرعون نے رسول خدا کی نافرمانی کی تو ہم نے پکڑ لیا اس کو بڑی ہی ذلت کی پکڑ کے ساتھ اور وہ باوجود اپنے لشکر، طاقت وقوت اور مال و دولت کے بھی دریا کی موجوں میں ایسی ذلت کے ساتھ غرق کردیا گیا کہ تاریخ عالم میں اس سے زیادہ ذلت وبے بسی کی ہلاکت تصور نہیں کی جاسکتی تو جب فرعون جیسا طاقت و رسول خدا کی نافرمانی پر ہلاک کردیا تو بتاؤ تو کیسے بچ سکو گے اگر تو کفر کرتے رہے اس دن کے عذاب سے کہ اس کی شدت بچوں کو بوڑھا بنا دے گی اور آسمان پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اس دن کی شدت سے بیشک اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے خواہ تم اس کو اپنی شقاوت وبدبختی سے کتنا ہی بعید سمجھو ،
بیشک یہ ایک نعمت ہے جو تمہیں تاریخی حقیقت اور عبرت ناک انجام کے ساتھ کردی گئی ہے اب جس کا دل چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے انسان کے لئے بس یہی کافی ہے کہ اسکو نصیحت کردی جائے نفع ونقصان سے آگاہ کردیا جائے اب اس کے بعد وہ اپنی رائے اور سمجھ سے جس راہ کو چاہے اختیار کرلے اگر اس نے اللہ کا راستہ اختیار کرلیا تو اللہ کے فضل وکرم سے نجات و فلاح پائے گا اور اگر دیدہ و دانستہ ہدایت اور حق سے انحراف ونافرمانی کرے تو سزا اور عذاب کا عقلا مستحق ہوگا اور اللہ رب العزت اسکی نافرمانی پر جو بھی سزا دے وہ اس کا عدل و انصاف ہی ہوگا اس پر اعتراض عقل اور فطرت کے خلاف ہے۔
یہ سورة مبارکہ مکہ زندگی کی ابتداء میں نازل ہوئی تھی جب کہ عالم اسباب میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ داعی اسلام پیغمبر ﷺ اور انکے صحابہ کرام کرام ؓ کی اس بےسروسامانی اور تکالیف وپریشانیوں میں مبتلاہونیکے باوجود ایسا اعلان کیا جاسکتا ہے کہ خدا اپنے رسول کو غالب فرمائے گا اور منکرین کو اسی طرح ہلاک و ذلیل کرے گا جس طرح کہ فرعون اور اسکی جماعت کو کیا گیا مگر تاریخ اسلام نے اللہ رب العزت کے اس فرمان وبشارت کی تصدیق وتکمیل کردی کہ وہی منکرین بدر میں ذلیل ہوئے حضور ﷺ کو فتح مکہ نصیب ہوئی اور تمام سرداران قریش آنحضرت ﷺ کے سامنے سرجھکائے ندامت اور شرم ساری کے ساتھ کھڑے معافی مانگ رہے تھے قوم قریش کی یہ ذلت وپشیمانی اور مغلوبی فرعون اور اسکی جماعت کے دریا میں غرق ہونے سے کم نہ تھی۔
(آیت) ” یوم یجعل الولدان شیبا “۔ سے متعلق فائدہ :
روز قیامت کی شدت وہیبت یہاں پہلے اس عنوان سے ذکر فرمائی گئی (آیت) ” یوم ترجف الارض والجبال “ کہ زمین لرزنے لگے گی اور پہاڑ کی بلند چٹانیں ریزہ ریزہ ہو کر زمین کی سطح پر آگریں گی اور پہاڑ ریت کے ٹیلے ہوجائیں گے اسکے بعد دوسری تعبیر روز قیامت کی شدت کی اس طرح فرمائی گئی ، (آیت) ” یوم یجعل الولدان شیبا “۔ کہ وہ دن اپنے طول یا ہیبت وشدت کے باعث بچوں کو بوڑھا بنا دے گا، بعض ائمہ مفسرین اس کا منشاء اس دن کا طول بیان کرتے ہیں اس بناء پر حق تعالیٰ نے اس دن کی مقدار (آیت) ” کالف سنۃ “۔ ایک ہزار برس کے برابر فرمائی ہے۔
عکرمہ ؓ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے یہ (آیت) ” یوم یجعل الولدان شیبا “۔ تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ دن قیامت کا ہوگا اور یہ کیفیت اس وقت ہوگی جب کہ اللہ رب العزت میدان حشر میں آدم (علیہ السلام) کو فرمائے گا کہ اے آدم (علیہ السلام) اپنی ذریت میں سے جہنم کا ایندھن نکال لو یعنی یعنی جو جہنم میں ڈالے جائیں گے تو آدم پوچھیں گے کتنے عدد میں کتنے جہنم کے لیے نکالوں تو فرمایا جائے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے (999) تو یہ سن کر سب اہل محشر گھبراجائیں گے کہ ایک ہزار کی تعداد سے صرف ایک آدمی نجات پائے گا باقی جہنم کا ایندھن ہونگے، آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی جب یہ گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا ” اے مسلمانو ! تمہیں بشارت ہو کہ ہزار میں کا ایک تم میں سے ہوگا اور باقی یاجوج ماجوج سے پورے کردیئے جائیں گے “۔ اور دیگر امتوں کے کفار سے جس کا نتیجہ الحمد للہ یہ ہوگا کہ امت محمد یہ حق تعالیٰ کے فضل سے سب کی سب ہی کسی نہ کسی طرح نجات پالے گی اور جہنم کا ایندھن یاجوج وماجوج و دیگر ملتوں کے کفار سے پورا کردیا جائے گا اور اگر دیکھا جائے تو کل انسانوں کی تعداد کے لحاظ سے امت محمدیہ کا عدد شاید اتناہی نکلے یعنی ایک فی ہزار تو اس اعتبار سے حضور اکرم ﷺ کی یہ وضاحت ایک عظیم بشارت ہوگئی۔
فللہ الحمد حمدا کثیر ا “۔
Ayah 73:20حکم تخفیف درقیام لیل ورخصت برائے ضعفاء ومجاہدین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ربک یعلم انک تقوم ......... الی ....... ان اللہ غفور رحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں تہجد اور قیام لیل کا حکم، اسکی تاکید اور فضیلت کا بیان تھا اور اسی کے ساتھ اللہ پر توکل وبھروسہ اور دنیوی مشقتوں پر تحمل وصبر کی تلقین تھی اب ان آیات میں تہجد کے بارے میں اللہ رب العزت نے جو تخفیف فرمائی اس کا بیان ہے اور یہ کہ فرائض اسلام تو ہر حال میں لازم ہیں سفر وحضر ہو یا صحت و تندرستی لیکن جو عبادت تطوع اور نفل ہیں ان میں اللہ رب العزت نے مریضوں مسافروں مجاہدوں اور ضعیفوں کے لیئے رخصت و سہولت رکھی ہے تو ارشاد فرمایا۔
بیشک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کھڑے رہتے ہیں تہجد اور عبادت خداوندی میں قریب رات کے دو تہائی حصہ کے اور کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی رات اور آپ کے ساتھ ایک گروہ ان لوگوں میں سے جو آپ کے ساتھ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کا اور آپ کے اصحاب کا شوق وجذبہ قیام اللیل اور صلوۃ تہجد کا، اللہ رب العزت دیکھ رہا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام ؓ کبھی آدھی رات کے قریب اٹھ جاتے ہیں اور کبھی اس سے بھی قبل حتی کہ دو تہائی حصہ بیداری میں گذرتا ہے اور کبھی سفر ومرض اور مصروفیت کی وجہ سے ایک تہائی حصہ اور یہ سب احوال درحقیقت (آیت) ” قم الیل الا قلیلا نصفہ اوانقص منہ قلیلا اوزدعلیہ “۔ پر عمل کی صورت بھی کہ قیام اللیل کے حکم میں رات کے ٹکڑے جس جس مقدار میں بیان کئے گئے ہیں ان سب پر عمل ہوجائے،
اور ظاہر ہے اللہ ہی ٹھیک ٹھیک اندازہ رکھتا ہے رات اور دن کا یا اس اندازہ کے لحاظ سے کہ وقت عبادت میں گذرا یا یہ کہ ان ٹکڑوں میں کیسے آثار وبرکات ہیں اور وہ عابدین وذاکرین کو کس حد تک مل رہے ہیں آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ بطور فرض اس پر عمل پیرا رہے اور اس کی پابندی میں جو بھی جسمانی مشقت ہوئی برداشت کرتے رہے تاآنکہ اللہ رب العزت نے ایک سال بعد حکم تخفیف نازل فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا خدا نے جان لیا ہے کہ تم اس کا احاطہ اور عملی پابندی نہیں کرسکتے ہو اس سہولت کے ساتھ جو اللہ نے اپنے دین میں رکھنے کا ارادہ فرمالیا ہے اور کبھی نہ کبھی سابق زمانہ میں کسی سے اس حد اور مقدار کے نباہ نہ ہوسکنے کے باعث کوتاہی بھی ہوتی ہوگی تو اللہ نے تم پر مہربانی کی اور درگز فرما لیا لہذا اب تمہاری راحت اور سہولت کے پیش نظر حکم ہے پڑھ لیا کرو جو کچھ تم کو قرآن میں سے آسان ہو اور یہ پابندی تم سے اس لئے ہٹا دی گئی کہ خدا کو معلوم ہے تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے کیونکہ ہر انسان ہمیشہ تندرست نہیں رہتا اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو زمین میں سفر کریں گے اللہ کا فضل اور اسکی رحمت ورزق تلاش کرتے ہوئے تجارت کے لیے حصول علم کے لیے مختلف علاقوں کا سفر کرنا ہوگا کچھ ہجرت کریں گے کچھ روحانی تربیت کے لیے اولیاء وصالحین کے پاس جائیں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو اللہ کی راہ میں قتال کریں گے اور جہاد کے لیے ان کو مشرق ومغرب کا سفر کرنا ہوگا اس لیے اب حکم یہی ہے کہ پڑھ لیا کرو جس قدر بھی قرآن میں سے آسانی سے پڑھ سکو اپنے آپ کو زیادہ مشقت میں ڈالنے کی ضرورت نہیں اور البتہ فرض نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور قرض دیتے رہو اللہ کو قرض حسنہ اور اس کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے جس کا وہ تم کو بہترین بدلہ دے گا اور اس طرح تمہارا دیا ہوا تمہیں واپس مل جائے گا اور بڑی ہی برکت اجر وثواب اور اللہ کی خوشنودی کے ساتھ اور یہ بات خوب جان لوجو بھی کچھ تم نیکی کا کام اپنے سے پہلے بھیجو گے۔
حاشیہ (امام بخاری (رح) نے اعمش بن ابراہیم حارث بن سوید کی روایت ذکر کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ایکم مالہ احب الیہ من مال وارثہ قالوا یارسول اللہ مامنا احد الا مالہ احب الیہ من مال وارثہ (الخ) بتاؤ تم سے کون شخص ایسا ہے جس کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہو لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم میں سے ہر شخص ایسا ہی ہے اس کو اپنا مال نسبت اپنے وارث کے مال کے زائد محبوب ہے آپ ﷺ نے ذرا سوچ کر کہنے کو فرمایا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم تو یہی جانتے ہیں آپ نے فرمایا سن لو ہر شخص کا اپنا مال وہ ہے جو اس نے پہلے بھیج دیا (یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کردیا) اور وارث کا مال وہ ہے جو چھوڑ کر مرگیا آیت مبارکہ میں قرض کا عنوان اللہ کی راہ میں خرچ کی عزت و کرامت پر نہایت واضح طور پر دلالت کررہا ہے اور یہی وہ عنوان کرامت ہے جو اس آیت میں اختیار کیا گیا ہے۔ اور نسائی (رح) وغیرہ نے سعد بن ہشام (رح) سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں میں نے عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے ام ال مومنین آپ مجھے خلق رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ارشاد فرمائیے کہ کیا تھا ؟ فرمایا کہ تم قرآن کریم نہیں پڑھتے ہو عرض کیا جی ہاں فرمایا کہ بس نبی کریم ﷺ کا خلق مبارک (یعنی اسوہ اور عادت) قرآن تھا بیان کرتے ہیں میں نے ارادہ کیا کہ میں اٹھ کر واپس چلا جاؤں (کیونکہ اس جواب کی جامعیت کے بعد مزید کچھ سوال کی گنجائش ہی نہ رہی تھی) اور یہی سوچا کہ اب آئندہ کسی سے بھی دریافت نہیں کروں گا جب تک میں زندہ رہوں لیکن پھر خیال آیا کہ (خاص طور پر) آنحضرت ﷺ کے قیام لیل کے بارے میں دریافت کرلوں تو عرض کیا اے ام ال مومنین ارشاد فرمائیے آنحضرت ﷺ کے تہجد کے بارے میں تو فرمایا کہ کیا تم سورة یایھا المزمل “۔ نہیں پڑھتے عرض کیا فرمایا تو بس سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتدائی آیات سے قیام لیل فرض کیا تھا جس کے بعد نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کرام ؓ ایک سال تک قیام لیل کرتے رہے (پوری پابندی کے ساتھ اور اس طرح کہ لازم سمجھتے تھے) اور اللہ رب العزت نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینہ تک آسمانوں میں روکے رکھا تاآنکہ سورت کے آخری حصہ یعنی (آیت) ” ان ربک یعلم انک تقوم “ کو نازل کرکے تخفیف فرما دی اور پھر اس کے بعد قیام لیل نفل کردیا گیا۔
بعض مفسرین کا خیال یہ ہے کہ فرضیت کا نسخ عام صحابہ کرام کرام ؓ کے حق میں ہوا آپ ﷺ کے حق میں فرضیت بدستور باقی رہی غالبا انکی نظر اس آیت پر ہوگی (آیت) ” ومن الیل فتھجد بہ نافلۃ لک “۔ اور نافلہ کے معنی زائدہ کئے گئے اور مفہوم یہ ہوا کہ صیغہ امر سے آپ ﷺ کو تہجد کی پابندی کا خطاب اور حکم فرمایا جارہا ہے اور تہجد کی اس پابندی کو یہ فرمایا گیا کہ یہ آپ ﷺ کے حق میں خاص ہے اور اس کی فرضیت مفروضہ نمازوں سے زائد کی گئی نہ کہ دوسروں کے حق میں، دوسروں کے حق میں تو یہ تطوع ونفل کردی گئی ہے لیکن یہ بات اس وجہ سے قابل تامل ہے کہ یہ حکم ناسخ جب نازل ہوا تو اس وقت پنجگانہ نمازوں کی فرضیت کا حکم نہیں اترا تھا، علامہ آلوسی (رح) کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے جو جمہور محدثین ومفسرین کی رائے ہے بعض مفسرین کے کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء سورت سے قیام لیل کی فرضیت ہر ایک کے حق میں نہ تھی فرضیت صرف نبی کریم ﷺ کے حق میں تھی ان کا مطمح نظر بظاہر یہ ہے کہ آیت ناسخہ میں یہ جو فرمایا گیا (آیت) ” وطآئفۃ من الذین معک “۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام کرام ؓ میں سے ایک گروہ کا یہ معمول ہوا، اگر قیام لیل سب پر فرض ہوتا تو یہ فرمایا جاتا (آیت) ” الذین معک “ لیکن یہ عنوان اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ممکن ہے بلکہ متوقع ہے کہ آپ ﷺ کے چند صحابہ کرام کرام ؓ بھی قیام لیل کرتے ہوں گے باقی جملہ صحابہ کرام ؓ اپنی جگہوں مکانوں میں کرتے ہوں گے تو اس لحاظ سے (آیت) ” وطآئفۃ من الذین معک “۔ فرمایا
فائدہ :
سورة مزمل مکی ہے جیسا کہ معلوم ہے اور زکوٰۃ کا حکم مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد 2 ھ میں نازل ہوا تو اس سورت میں (آیت) ” اقیموا الصلوۃ “ کے ساتھ حکم، (آیت) ” واتوا الذکوۃ “۔ نازل ہوا علماء مفسرین فرماتے ہیں کہ اجمالا نفس فرضیت کا حکم تو مکہ مکرمہ میں نازل ہوگیا تھا نصاب کی تعیین اور تفصیل مدینہ میں نازل ہوتی اس لحاظ سے حکم زکوٰۃ کی فرضیت مدنی زندگی میں بیان کی جاتی ہے۔
نمازوں میں مطلق قرأ ۃ قرآن کی فرضیت :
علامہ آلوسی (رح) تفسیر روح المعانی میں بیان کرتے ہیں آیت مزمل (آیت) ” فاقرء وا ماتیسر من القران “۔ سے حضرات حنفیہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ نماز میں فرضیت مطلق قرأۃ کی ہے جو کچھ آسان ہو خاص طور پر سورة فاتحہ فرض نہیں کیونکہ نص کتاب اللہ یا حدیث متواتر سے فرضیت ورکنیت ثابت ہوتی ہے تو جس طرح (آیت) ” ارکعوا واسجدوا “۔ کے کلمات قرآن کریم کی آیات میں رکوع و سجود کی رکنیت ثابت کررہے ہیں ایس طرح (آیت) ” فاقرء وا ما تیسر “ کی تبیر نفس قرأت کی فرضیت ورکنیت ثابت کرتی ہے، امام شافعی (رح) امام مالک (رح) رکنیت وفرضیت فاتحہ کے قاتل ہیں حدیث عبادۃ بن الصامت، لاصلوۃ لمن لم یقرء بفاتحۃ الکتاب، الخ، اور حدیث ابی ہریرہ من صلی صلوۃ لم یقرء فیھا بام القران فھی خداج “۔
حضرات حنفیہ کی طرف سے اس کے متعدد جوابات اور بیان کردہ مسئلہ کیلئے متعدد دلائل بیان کئے ہیں جن کی تفصیلات شروع فقہ میں مذکور ہیں اصولی طور پر یہ بات واضح ہے جیسا کہ قاضی ابوبکر جصاص (رح) نے احکام القرآن میں بیان فرمایا یاتیسر میں حکم عموم اور اطلاق کے ساتھ ہے اسکو مخصوص کرنا خبر واحد کے ذریعہ سے اصولا درست نہیں ہے اور یہ قرار دینا کہ ماتیسر میں اجمال ہے اور اسکی توضیح خبر واحد سے ہوئی صحیح نہیں ہے دلالت عربیہ سے یہ عنوان اطلاق ہی کا ہے۔
خبر واحد کو تفسیر وہاں قرار دیا جاسکتا ہے جہاں تعبیر میں از روئے وضع لغت ابہام ہو اور اس طرح اس پر عمل ممکن نہ ہو اور ظاہر ہے کہ یہاں یہ صورت نہیں بلکہ بہت ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں تو حدیث لاصلوۃ کو ماتیسر کی تفسیر قرار دینے میں خود نص ماتیسر کا ابطال لازم آجائے بایں صورت کہ ایک شخص کو سورة فاتحہ کی سات آیات کی تلاوت دشوار ہو اور ممکن نہ ہو اسکے بالمقابل قرآن کی اور کوئی آیت آسان اور ممکن ہو تو ایسی صورت میں لامحالہ یہ لازم آئے گا کہ ماتیسر سے ہم فرضیت ہونے کے قائل نہ ہوں اور ماسوی فاتحہ کے دوسری آیات آسان اور ممکن التلاوت ہونے کے باوجود سورة فاتحہ کی قرأۃ کا اسکو مامور سمجھیں اس وجہ سے حنفیہ نے یہ موقف اختیار فرمایا کہ نفس قرأۃ ماتیسر رکن اور فرض ہے قرأۃ فاتحہ رکن نہیں علاوہ ازیں یہ بھی اصولی امر ہے کہ خبر واحد سے فرضیت ثابت نہیں ہوسکتی البتہ وجوب کی حد تک خبر واحد سے ثبوت ممکن ہے۔
تفصیل کیلئے شروح حدیث وشروع فقہ کی مراجعت فرمالی جائے نیز یہ مسئلہ اور بحث نفس قرأۃ فی الصلوۃ سے متعلق ہے نہ کہ قرأۃ فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ سے متعلق اس کے لیے (آیت) ” واذا قری القران “۔ کی تفسیر میں حضرت والدصاحب (رح) نے کچھ اصولی دلائل بیان فرمادیئے ہیں وہاں تفصیل ملاحظہ فرمالی جائے۔
الحمد للہ قدتم تفسیر سورة المزمل۔