Ayahs 72:1–19تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔
(ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی حق بن کر دوسروں کو بھی ایمان و توحید کی دعوت دینے لگے۔
اس سورت کے شان نزول کے بارے میں امام بخاری ومسلم امام احمد ترمذی رحمہم اللہ اور دیگرمحدثین نے احادیت تخریج فرمائی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب ایک عرصہ دراز تک اہل مکہ ایمان کی دعوت دیتے رہے پھر آپ ﷺ طائف بھی تشریف لے گئے لیکن وہاں کے سردار عبد یالیل مسعود وحبیب نے جو بدسلوکی اور بےتمیزی کا برتاؤ کیا اس کا آپ کے قلب مبارک پر کافی اثر تھا آپ واپسی پر جب مقام نخلہ پر ٹھہرے اور صبح کی نماز جماعت سے پڑھا رہے تھے تو شہر نصبین کے نوعدد جن وہاں سے گذرے جو اس تلاش میں نکلے ہوئے تھے کہ اب آسمان کی خبریں کیوں بند ہوگئیں پہلے جن آسمانوں تک پہنچ کر وہاں اپنے بیٹھنے کی جگہ بنا لیتے تھے اور آسمانوں میں جو تکوینی باتیں فرشتوں کی درمیان ہوتیں ان کو سن کر زمین کی طرف آئے اور کاہنوں کو بتایا کرتے تو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ قدرت خداوندی سے بند کردیا گیا اور آسمانوں کو اس طرح کے استراق سمع سے محفوظ کردیا گیا تاکہ وحی الہی پوری حفاظت کے ساتھ اللہ کے پیغمبر تک پہنچے اب جو جن آسمان کا رخ کرتا شہاب ثاقب اس کو جلا کر خاک کردیتا اس کے بعد کوئی امکان نہ رہا کہ کوئی جن یا شیطان آسمان کی کوئی بات اچک سکے تو تو اس پر جنوں میں ایک بےچینی پھیل گئی تھی اور یہ طے پایا تھا کہ روئے زمین کا کونا کونا چھان ڈالو اور تلاش کرو کہ کیا نئی چیز ایسی پیش آئی ہے کہ اب ہم آسمان کی کوئی بات نہیں سن سکتے تو ایک جماعت شہر نصیبین کے جنوں کی بھی جو اس تلاش میں نکلی ہوئی تھی اس کا گذر اس مقام سے ہوا جہاں آنحضرت ﷺ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اور اس میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے جیسے ہی ان کے کان میں قرآن کریم کی آواز پڑی اس پر فریفتہ ہو کر سچے دل سے ایمان لے آئے اور پھر اپنی قوم کو جا کر سب ماجرا سنایا اور بیان کیا کہ ہم نے ایک کلام سنا ہے جو اپنی فصاحت وبلاغت اور حسن اسلوب قوت تاثیر شیریں بیانی طرز موعظت و حکمت میں اور علوم ومعارف کی بلندی میں عجیب و غریب اور بےمثال ہے معرفت ربانی اور رشد و فلاح کی طرف رہبری کرتا ہے اور طالب خیر کو سعادت وتقوی کی اعلی منزل تک پہنچاتا ہے اس وجہ سے ہم تو سنتے ہی بلاتوقف وتردد اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم کو یقین کامل حاصل ہوگیا ہے کہ ایسا کلام اللہ کے سوا اور کسی کا نہیں ہوسکتا ہم اسکی تعلیم وہدایت کے مطابق عمل کرتے ہیں اپنا عقیدہ اور عمل قطعا اسکی ہدایت کے مطابق بنائیں گے اور اپنے رب کے ساتھ جو وحدہ لاشریک لہ ہے تنہا کائنات کا خالق ومالک ہے کسی کو اس کی عبادت والوہیت میں شریک نہیں کریں گے تو ان جنوں کا یہ تمام بینا اور مضمون اللہ نے وحی کے ذریعہ جناب رسول اللہ ﷺ کو بتایا۔
حضرت شاہ عبدالعزیز قدس اللہ سرہ نے اس سورت کی تفسیر میں مفصل اور مبسوط بحث فرمائی اور عربی میں اس موضوع پر جامع تر کتاب ” آکام المرجان فی احکام الجان “۔ تالیف فرمائی گئی ہے غرض اس طرح اس واقعہ۔
حاشیہ (سورۂ احقاف میں یہ مضمون گذر چکا ہے مراجعت فرمالی جائے 12)
اور جنوں کے کلام الہی پر گرویدہ و فریفتہ ہونے کی تفصیل اس طرح فرمائی جارہی ہے ارشاد فرمایا۔
کہہ دیجئے میری طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ کان لگا کر سن گئے ہیں جنوں میں سے کچھ جب کہ آپ ﷺ قرآن کریم کی نماز میں تلاوت کررہے تھے اور وہ جماعت گشت کرتی ہوئی ادھر سے گز ررہی تھی جس پر انہوں نے قرآنی فصاحت وبلاغت پر فریفتہ ہوتے ہوئے کہا ہے بیشک ہم نے تو ایک عجیب قرآن سنا جو راہنمائی کرتا ہے نیکی کے راستہ کی طرف جو ہدایت وتقوی اور سعادت و فلاح کی منزل تک پہنچا دینے والا کلام ہے اور وہ یقیناً صرف اللہ ہی کا کلام ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور اس کلام الہی نے جس طرح توحید خداوندی حقائق و دلائل کی روشنی میں بتاتے ہیں ہم انکو سن کر خدا کی وحدانیت پر ایمان لے آئے اب ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے اور ہم یہ سمجھ گئے ہیں کہ بیشک ہمارے پروردگار کی شان تو بہت ہی اونچی ہے ظاہر ہے کہ اس نے نہ تو اپنی کوئی بیوی بنائی اور نہ ہی کسی کو بیٹا بنایا اس لیے یہ خیالات نہایت ہی مہمل اور خلاف عقل ہیں خدا کا کوئی بیٹا ہے جیسا کہ نصاری کہتے ہیں اور جب کسی کا بیٹا تجویز کیا جائے تو ظاہر ہے اس کے واسطے بیوی بھی مانی جائے گی اور یہ بات قطعا عقل اور فہم کے خلاف ہے اور محال ہے اور یہ تو ہم میں سے کوئی بیوقوف ہی تھا جو اللہ پر اس طرح کی زیادتی کی باتیں کرتا تھا اور نازیبا چیزیں منسوب کیں اور ظاہر ہے کہ اللہ رب العزت کی طرف لغو باتیں منسوب کرنے سے زیادہ اور کیا بےوقوفی ہوسکتی ہے اور ان میں سب سے بڑا بیوقوف ابلیس ہے اور کوئی تعجب نہیں کہ جنوں نے اپنے اس قول (آیت) ” کان یقول سفیھنا “۔ سے ابلیس ہی مراد لیا ہو اور یہ بھی نہایت ہی تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ تھے انسانوں میں سے ایسے کہ جو قوم جن کے کچھ لوگوں کی پناہ حاصل کرتے تھے جب بھی انکا کسی جنگل وبیابان میں گذر ہوتا وہاں کے جنوں کے سردار کی پناہ طلب کرتے اور کہتے کہ اس وادی کے جنوں کے سردار ہم ہر موذی اور شرہر چیز کے شر اور ایذاء سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں جو ظاہر ہے کہ کھلا شرک تھا کیونکہ ہر شر اور ایذاء سے تو پناہ اللہ ہی کی حاصل کی جاسکتی ہے۔
حاشیہ (تفسیر مظہری میں ہواتف الجن کے حوالہ سے باسناد سعید بن جبیر (رح) بیان کیا ہے حضرت رافع بن عمیر ؓ اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کیا کرتے تھے کہ ایک رات میں کسی ریگستان میں سفر کررہا تھا نیند کا غلبہ ہوا تو اپنی اونٹنی سے اترا اور اپنی قوم کی عادت کے مطابق سوتے وقت یہ الفاظ کہہ لئے۔ اللھم انی اعوذ بعظیم ھذا الوادی من الجن “۔ اے اللہ میں اس وادی کے جنوں کے سردار کی پناہ لیتا ہوں بیان کرتے ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں ہتھیار لئے میری ناقہ کے سینہ پر رکھنا چاہتا ہے گھبرا کر اٹھا دائیں بائیں دیکھنے پر کچھ بھی نظر نہ آیا سوچا کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے سو گیا تو پھر اسی طرح دیکھ رہا ہوں اٹھ کر دیکھتا ہوں تو کوئی چیز نظر نہیں آتی اور ناقہ کو دیکھا کہ وہ کانپ رہی ہے پھر سوگیا تو اسی طرح پھر دیکھتا ہوں اور اونٹنی کو اب دیکھا کہ تڑپ رہی ہے اور پھر دیکھا کہ وہی نوجوان جس کو خواب میں دیکھا تھا ہاتھ میں نیزہ لئے ناقہ پر حملہ کررہا ہے اور ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ اس کا ہاتھ پکڑے مجھے روک رہا ہے اسی حالت میں تین گورخر سامنے سے آئے اور بوڑھے شخص نے کہا ان میں سے کوئی ایک لے لے اور اس شخص کی ناقہ چھوڑ دے چناچہ وہ نوجوان ایک گورخر لے کر روانہ ہوگیا پھر بوڑھے شخص نے میری طرف دیکھا اور مجھ کو اس بات سے منع کیا کہ میں کسی جنگل میں ٹھہروں تو یوں کہوں کہ اس وادی کے جنات کے سردار کی پناہ حاصل کروں بلکہ تجھے چاہئے کہ یہ کہا کرے، اعوذ باللہ رب محمد من ھول ھذا الوادی۔ بیان کرتے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں اس نے بتایا یہ نبی عربی ہیں پیر کے روز مبعوث ہوئے پوچھا کہ کہاں رہتے ہیں جواب دیا یثرب میں جو کھجوروں کی بستی ہے صبح ہوتے ہی میں مدینہ منورہ پہنچا اور رسول اللہ ﷺ کو سارا ماجرا سنایا اس سے قبل کہ میں آپ ﷺ سے کچھ کہتا آپ نے خود ہی مجھ سے یہ قصہ دریافت فرمایا اور اس کے بارے میں بتایا مجھے اسلام کی دعوت دی اور الحمد للہ میں مشرف باسلام ہوگیا اسی قسم کی بات عمر بن الخطاب ؓ کو بھی پیش آئی جس پر وہ مشرف باسلام ہوئے صحیح بخاری میں ہے عمر بن الخطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جاہلیت کے زمانہ میں اپنے بتوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے آکر بت پر ایک گائے ذبح کی تو اس بت کے پیٹ میں سے آواز سنائی دی جو بہت سے لوگوں نے سنی، یا جلیح امرنجیح رجل یصیح یقول لا الہ الا اللہ۔ یعنی اے مرد قوی ایک بات بڑی ہی کامیابی کی ظاہر ہوئی ہے وہ یہ کہ ایک شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے۔ لا الہ الا اللہ “۔ بیان کرتے ہیں کہ لوگ یہ آواز سن کر بھاگ گئے میں اسی جگہ بیٹھا رہا کہ معلوم کروں یہ آواز کیا ہے دوبارہ پھر یہی آواز بلندہوئی پھر میں نے توقف کیا حتی کہ تیسری مرتبہ بھی یہ آواز بلند ہوتی میں انتہائی حیران ہوا اسی حال میں تھا کہ لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہاں ایک پیغمبر ﷺ طاہر ہوئے ہیں جو لوگوں کو لاالہ الا اللہ “ کی دعوت دیتے ہیں۔
اسی طرح بیہقی (رح) نے سواد بن اقارب ؓ سے نقل کیا ہے بیان کیا کہ ایامن جاہلیت میں ایک جن میرا دوست تھا مجھے آکر کچھ آنے والی باتیں بتایا کرتا تھا میں لوگوں کو بتاتا اور اسکے ذریعے خوب حلوا مانڈا حاصل کرتا ایک رات اس نے میرے خواب میں آکر کہا اٹھ اور ہوشیار ہوجا اگر کچھ ہے شعور ہے ایک پیغمبر لوئی بن غالب کی نسل سے پیدا ہوگئے ہیں اور پھر کچھ اشعار پڑھے جن کا حاصل یہ تھا کہ اب جنوں میں بڑا ہی اضطراب برپا ہوچکا ہے اور انہوں نے اپنے اپنے اڈوں سے واپس ہونے کے لئے اپنے اونٹوں پر کجاوے کسنے شروع کردیئے ہیں۔
تو اس طرح ایسے انسانوں نے ان جنوں کو اور زیادہ سرکش بنادیا اور یہ بھی ایک بہت بڑی غلطی اور بےوقوفی کی کہ انہوں نے ایسا ہی ایک گمان کیا جیسا کہ تم خیال کرتے ہو کہ ہرگز دوبارہ کسی کو نہیں اٹھائے گا اور نہ کوئی قیامت ہوگی اور نہ ہی حشر ونشر ہوگا یا یہ کہ اللہ کسی کو مبعوث اور رسول بنا کر نہیں اٹھائے گا بس جو رسول پہلے آچکے وہ آگئے لیکن اے لوگو ! تم سن لو یہ سب کچھ غلط ہے اب اللہ نے ایک عظیم رسول بھیج دیا ہے اور اس رسول نے یہ بتادیا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا ہے اور ہم نے تو آسمان کو ہر طرف سے ٹٹول کر دیکھ لیا ہے تو ہم نے آسمان کو پایا ہے کہ وہ بھر دیا گیا ہے بڑے سخت پہروں اور برسنے والے انگاروں سے کہ جو بھی جن اب آسمان کا رخ کرتا ہے ایک شہاب ثاقب اس پر ٹوٹ پڑتا ہے اور اسکو جلا کر خاک کر ڈالتا ہے اس صورت حال کے باعث کسی شیطان یا جن کو اب قدرت نہیں کہ غیب کی خبریں اور آسمان کی باتیں سن سکے یا معلوم کرلے اور بیشک ہم تو پہلے جایا کرتے تھے آسمان کے ٹھکانوں پر باتوں کے سننے اور کان لگانے کے لئے اور اس طرح کچھ نہ کچھ باتیں سن لیتے تھے لیکن اب تو جو بھی کان لگانا چاہے تو پاتا ہے ایک انگارہ جو انکی تاک میں لگا رہتا ہے اور جوں ہی وہ آسمان کا رخ کرتا ہے یا اس طرف کان لگاتا ہے وہ شہاب ثاقب اس پر لپک کر ٹوٹتا ہے اور جلا کر خاک کر ڈالتا ہے یہ جدید انتظامات اور ناکہ بندیاں معلوم نہیں کہ کس لئے کہ گئی ہیں اور ان کا انجام ہمارے حق میں کیا ہونے والا ہے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ زمین پر بسنے والوں کے لیے کیا کوئی برا ارادہ کیا گیا ہے یا یہ کہ انکے رب نے انکے بارے میں رشد وہدایت اور سیدھے راستہ پر لانے کا ارادہ کیا ہے اور یہ بھی ہے کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ اسکے علاوہ ہیں اور اس سے کم درجہ کے ہیں ہم تھے متفرق طریقوں پر بٹے ہوئے اگرچہ یہ بات نزول قرآن سے قبل تھی لیکن اب بھی اس بات کی توقع نہیں ہے کہ سب ایک ہی راستہ حق وہدایت کا قبول کرکے اسی کو اختیار کرلیں اب بھی خیال یہی ہے کہ لامحالہ اختلاف رہے گا اور بہت سے وہ ہوں گے جو اللہ کی ہدایت اور حق کا راستہ نہیں اختیار کریں گے خدا پر ایمان لانے کے بجائے اس کی نافرمانی کریں گے اور اس صورت حال میں کہ خدا کا راستہ اور حق ظاہر ہوگیا ہے اس پروردگار کی قدرت وخالقیت ہر طرح سے ثابت ہوچکی ہے ہم نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ ہم اللہ کو اسکی زمین میں رہتے ہوئے عاجز وبے بس نہیں کرسکتے اور نہ اسکو مغلوب کرسکتے ہیں تو جب کوئی مجرم اپنے آقا سے نہ چھپ سکتا ہے نہ اسکی حدود سلطنت اور قدرت سے باہر ہوسکتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے رب اور آقا سے نہ چھپ سکتا نہ اسکی حدود سلطنت اور قدرت سے باہر ہوسکتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے رب اور آقا کو نہ مغلوب کرسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت سے نکل اور بچ سکتا ہے نہ زمین میں چھپ سکتے ہیں اور نہ ہوا میں اڑ کر راہ فرار اختیار کرسکتے ہیں اور جب کہ ہم نے ہدایت کی بات سن لی تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ایک لمحہ بھی ہم نے دیر نہیں کی اور بلاشبہ یہ بات ہماری سعادت اور فخر کی ہے بس ہم تو سمجھ چکے ہیں کہ جو بھی شخص اپنے رب پر ایمان لائے گا اسکو وہاں کوئی تکلیف ہوگی یا اس پر کسی طرح کی ظلم و زیادتی ہوسکے گی اور یہ بھی حقیقت ہے ہم میں سے کچھ فرماں بردار ہیں اور کچھ ہم میں سے ظالم و جابر اور نافرمان ہیں تو جو بھی اللہ کے مطیع وفرماں بردار ہوں بس وہی ایسے ہیں کہ جنہوں نے نیکی کا راستہ سوچ سمجھ کر طے کرلیا ہے تو بیشک ایسے لوگ کا میاب ہیں لیکن جو لوگ ظالم اور ناانصاف ہیں پس وہ تو جہنم کا ایندھن ہوچکے کیونکہ احکام خداوندی ٹھکرا دینا اس کی فرماں برداری سے انحراف کرنا ظلم وسرکشی کا راستہ اختیار کرلینے کا یہی انجام ہوسکتا ہے اور ہمارے پیغمبر۔
حاشیہ (ان الفاظ کے اضافہ سے یہ اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس سے قبل تک تو جنات میں ان اہل ایمان کا قول اور انکے پاکیزہ خیالات اور توحید خداوندی کے رنگ میں رچے ہوئے افکار کا ذکر تھا جو بذریعہ وحی ان جنوں کے نقل کئے گئے جو رسول اللہ ﷺ سے قرآن سن کر اسکی حقانیت کے گرویدہ اور اس پر فریفتہ ہوئے اب اسکے بعد اللہ کا فرمان ہے اور (آیت) ” قل اوحی الی “۔ کے ماتحت اسی پر عطف ہے یعنی ایک تو آپ ﷺ یہ بات اہل مکہ کو بتا دیجئے کہ مجھ پر اس واقعہ اور جنوں کے اس قصہ کی وحی کی گئی ہے اور دوسری بات کی مجھے وحی یہ کی گئی کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستہ پر چلتے، ایمان وہدایت اختیار کرلیتے تو ان پر ہر طرح کی فراخی اور سیرابی واقع کردیتے۔ 12)
یہ بھی کہدیجئے کہ میری طرف اللہ یہ وحی بھی آئی ہے کہ اگر لوگ سیدھے راستے پر رہتے تو ہم انکو پانی بھر بھر کر خوب پلاتے اور ایمان و اطاعت کی بدولت انکو ظاہری وباطنی برکات سے سیراب کردیتے اور یہ بھی اس لیے ہوتا کہ ہم انکو آزمائیں کہ وہ اللہ کے اس انعام کو دیکھ کر اس کا شکر ادا کرتے ہیں یا مال و دولت کی فراوانی سے سرکشی اور طغیانی پر قائم رہتے ہیں۔
چناچہ اہل مکہ اس زمانہ میں اپنے اعمال کی نحوست کی وجہ سے قحط سالی میں مبتلا تھے اور طرح طرح کی پریشانیوں اور مصائب کا شکار بنے ہوئے تھے کاش اگر یہ لوگ جنوں کی طرح قرآن کو سن کر اس پر ایمان لے آتے تو یقیناً ان پر رزق اور برکت کے دروازے کھول دیئے جاتے۔
اور اس حقیقت سے کسی کو بھی غافل نہ ہونا چاہئے کہ جو بھی اپنے رب کی یاد سے بےرخی اختیار کرے گا ہم اس کو ڈال دیں گے دشوار گذار چڑھتے ہوئے عذاب میں ایسے شخص کو ہرگز کبھی سکون وچین نصیب نہ ہو سکے گا بلکہ وہ عذاب و پریشانی جس میں وہ مبتلا ہوا اور زائد بڑھتی اور چڑھتی ہی چلی جائے گی اور بیشک مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔
حاشیہ (حضرت الاستاد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض مفسرین نے مساجد سے وہ اعضاء مراد لئے ہیں جو سجدہ میں زمین پر ٹیکے جاتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ اعضاء خدا کے بنائے ہوئے ہیں اور اسی کے عطاکردہ ہیں یہ بات قابل برداشت نہیں کہ انکو خالق کے سوا کسی اور کے سامنے جھکایا جائے 12)
یہ عبادت خداوندی کی جگہیں صرف اللہ کی عبادت و بندگی کے واسطے بنائی جاتی ہیں ان سے بس اللہ ہی کی عبادت ہونی چاہئے اور اس عبادت کو ہر قسم کے شرک اور شرک کے شائبہ سے بچانا چاہئے ایسا نہ ہو کہ مشرکین کی طرح خدا کو پکارنے کے ساتھ غیر اللہ اور بتوں کو بھی پکارا جائے لہذا اے لوگو ! خدا کے ساتھ کسی کو بھی مت پکارو ! بس یہی کہو یا اللہ یا رحمن نہ کہ مشرکین مکہ کی طرح کہ خدا کے ساتھ دوسروں کو بھی پکاریں اور یہ دعوی کریں (آیت) ” مانعبد ھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “۔ اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ جب کھڑ اہوا اللہ کا بندہ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اپنے اللہ کو پکارتے ہوئے تو قریب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس پر ہجوم کر آئیں اور اژدھام کرلیں ہر طرف سے غول کے غول آکر جمع ہوجائیں چناچہ جب بھی آپ ﷺ قرآن کریم کی تلاوت کرتے مومنین تو شوق ورغبت میں آپ کا ہجوم کرلیتے اور کفار ومشرکین تمسخر و مذاق کے لیے یا یہ کہ جب آپ ﷺ جنوں کے واسطے تلاوت فرمائیں جن غول کے غول آپ کے قریب آکر جمع ہوجاتے ہیں۔
وجود جن کے بارے میں فلاسفہ کا خیال :
اکثر فلاسفہ جنات کے وجود کا انکار کرتے رہے ان کا قول یہ ہے کہ کائنات وموجودات کا دائرہ محسوسات تک ہی محدود ہے جو چیزیں انسانی ادراکات سے خارج ہیں وہ انکے وجود کا انکار کرتے ہیں اور انکا یہ دعوی ہے کہ وہ چیزیں محض وہمی تخیلات ہیں،
موجودہ زمانہ کا یورپ بھی اسی فلسفہ کا قائل ہے اور یورپ کے اس فلسفہ سے بہت سے مسلمان بھی متاثر ہو کر ایسی آیات وروایات کی تاویل یا انکار کرنے لگتے ہیں جو دائرہ محسوسات سے ماوراء اور بالا ہیں۔
طبیعین کا ایک گروہ جو خدا کا بھی قائل نہیں وہ تمام کائنات اور اس میں واقع ہونے والے جملہ احوال کو کواکب وسیارات کی تاثیر و حرکت کا نتیجہ قرار دیتا ہے آریہ سماج اسی قسم کا اعتقاد رکھتا ہے لیکن قدیم فلاسفہ وحکماء اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ غیر محسوسات کا بھی وجود ہے اور عالم کی بہت سی اشیاء ایسی ہیں جو حواس کے ذریعہ محسوس ومعلوم نہیں ہوتیں اسی بناء پر قدیم فلاسفہ کا ایک گروہ وجود جن کا قاتل تھا اسی طرح مذاہب سماویہ سے تعلق رکھنے والے تمام حکماء بھی روحانیت کے قاتل رہے ارواح سفلیہ اور ارواح کی تقسیم انکی کتابوں اوراقوال سے مفہوم ہوتی ہے عیسائی یہودی بھی جنات کے وجود کے قائل رہے ہر ایک کی زبان میں اس مخلوق جن کا کوئی نہ کوئی نام اور عنوان ملتا ہے موجودہ انجیلوں میں اس قسم کے مضامین ملتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) جنوں کو مریض سے نکالا کرتے تھے۔
جو حکماء اور فلاسفہ جن کے وجود کے قائل ہیں انکے دو نظرئیے ہیں ایک نظریہ کا حاصل تو یہ ہے کہ جن اور ملائکہ نہ اجسام ہیں اور نہ اجسام میں حلول کیئے ہوئے ہیں بلکہ جواہر ہیں اور موجود بالذات ہیں پھر ان کے مختلف انواع و اقسام ہیں بعض نیک شریف اور پسندیدہ اخلاق سے متصف ہیں اور بعض جن ان اوصاف سے محروم اس کے برعکس رذیل اور دنی الطبع بداخلاق ہیں جیسے انسانوں میں نیک وبد اور شریف ورذیل کی تقسیم ہے اسی طرح جنوں میں بھی ہے۔
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ جن اجسام ہیں مگر اجسام لطیفہ لطافت کی وجہ سے دکھائی نہیں د یتے وہ مختلف شکلوں میں متشکل اور ظاہر ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس وجہ سے جس شکل میں چاہیں ظاہر ہوسکتے ہیں اور انکی بھی انسانوں کی طرح خیر وشر کی طرف تقسیم ہے اور بعض اوقات وہ انسانوں کی مجالس میں آتے بھی ہیں۔
جنات اپنی جسمانی لطافت کے باعث فرشتوں کی طرح آسمانوں کی طرف چڑھتے تھے جس کو آنحضرت ﷺ کی بعثت پر ختم کردیا گیا گویا جن کا وجود حیوان وملائ کہ کے درمیان ایک برزخی مقام رکھتا ہے اسی لیے ان میں دونوں قسم کے احوال پائے جاتے ہیں اشکال مختلفہ میں تشکل فہم و فراست شعور حسن وقبح ملائکہ کا وصف ہے جو ان میں پایا جاتا ہے اور مثلا کھانا پینا حیات اور غصہ ونرمی نیز توالد وتناسل وغیرہ جو حیوانی اوصاف ہیں اور انسان میں پائے جاتے ہیں اور جسم کے خواص میں سے ہیں تو اس نسبت سے یہ اوصاف بشریہ اور احوال حیوانیہ بھی جنات میں ان کے از قبیل اجسام ہونے کے پائے جاتے ہیں اس لحاظ سے حیوان و انسان اور فرشتوں کے درمیان ایک برزخی مخلوق ہوئی انسانوں کی طرح ان میں بھی حصول اقتدار کی طلب پائی جاتی ہے تو مخلوق جن کا آسمانوں سے غیب کی خبریں لاکر کاہنوں کو پہنچانا یا بتوں کے منہ سے مختلف قسم کی آوازیں سنانا اسی طرح درختوں سے صدائیں دینا جیسا کہ بعض اوقات لوگوں کو سنائی دیتا ہے تو یہ سب کچھ اسی لیے ہوتا ہے کہ انسان جنوں کی عظمت کے سامنے اپنا سر جھکالیں اور ظاہر ہے کہ نفع ونقصان کا۔ مالک صرف اللہ ہے لیکن جس طرح انسان اپنی تدابیر سے لوگوں پر ایسا اثر قائم کردیتے ہیں کہ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں نفع ونقصان انکے قبضہ میں ہے اسی طرح بعض جنات بھی اسی طرح کی باتیں کرکے انسانوں کو اپنا مسخر اور تابع کرنا چاہتے ہیں۔
الغرض قرآن کریم اور احادیث سے جنات کا وجود ثابت ہے اور ان کے احوال بیان فرمائے گئے منجملہ انکے احوال کے یہ بھی ایک قصہ ہے جس کا سورة جن میں ذکر فرمایا گیا تفصیل کے لیے تفسیر روح المعانی قرطبی اور تفسیر مظہری اور تفسیر کبیر امام رازی (رح) کی مراجعت فرمائی جائے،
(واللہ اعلم بالصواب)
طائف سے واپسی پر مقام نخلہ میں جنات کا قرآن کریم سننا اور اس پر ایمان لانا :
مورخین نے بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ میں آلام ومصائب اور کفار مکہ کی مخالفت ودشمنی کی ایک طویل مدت گزرنے کے بعد طائف کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا ارادہ کیا اسی کے ساتھ یہ بات بھی واقع ہوئی تھی کہ ابوطالب کا انتقال ہوچکنے کے باعث اہل مکہ آپ ﷺ کی دشمنی پر اور زائد آمادہ ہوگئے تھے اور آنحضرت ﷺ ابوطالب کے انتقال پر طبعا افسردہ اور ملول تھے تو یہ خیال کرتے ہوئے کہ ثقیف کے لوگ شریف الطبع ہوتے ہیں تو بظاہر امید ہے کہ وہ میری بات سنیں گے اور امید ہے کہ ایمان لے آئیں ثقیف کے تین بھائی عبد یالیل جیب اور مسعود جو طائف کے سردار تھے آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے نہایت ہی بےہودگی کا برتاؤ کیا حتی کہ قبیلہ کے آوارہ اور شریر لوگوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جو شور مچانے اور گالیاں دینے لگے آنحضرت ﷺ نے ان سے بچنے کیلئے ایک باغ میں پناہ لی جو عتبہ اور ربیہ کا تھا جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں ہے آپ ﷺ نے اس حالت میں پروردگار عالم سے اپنی مظلومیت اور بےسروسامانی کا شکوہ کرتے ہوئے فرمایا۔
اللھم انی اشکو الیک ضعف قوتی وقلۃ حیلتی وھو انی علی الناس وانت ارحم الراحمین وانت رب المستضعفین الخ “۔
اے اللہ میں آپ کی بارگاہ میں اپنی ضعف قوت اور وسائل واسباب کی کمی کا شکوہ کرتا ہوں اور لوگوں کی نظروں میں اپنی خفت کا اے پروردگار آپ ہی ارحم الراحمین ہیں اور آپ ہی کمزوروں کے پالنے والے ہیں۔
ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو یہ حال دیکھ کر ترس آیا اور اپنے ایک نصرانی غلام عداس کو انگور کا ایک خوشہ پیش کرنے کو کہا جس پر اس غلام نے ایک طبق میں انگوروں کا ایک خوشہ لے جاکر آپ ﷺ کے سامنے رکھا آپ نے بسم اللہ پڑھ کر جب تناول فرمانا شروع کیا تو اس نے حیرت سے دریافت کیا واللہ یہ تو عجیب کلام ہے اور یہاں کے لوگ یہ کلام نہیں پڑھتے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم کون ہو کہاں کے ہو اور تمہارا کیا مذہب ہے عداس نے کہا میں نصرانی ہوں اور نینوا کا رہنے والا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا جہاں کے رہنے والے اللہ کے پیغمبر یونس (علیہ السلام) بن متی تھے عداس یہ سن کر کہنے لگا آپ ﷺ کو یونس (علیہ السلام) بن متی کی کیا خبر، آپ ﷺ نے فرمایا وہ میرے بھائی ہیں اور اللہ کے رسول ہیں اس لحاظ سے میرے بھائی ہوئے، اس پر عداس آپ ﷺ کے قدموں پر گر پڑا آپ کے سر مبارک اور ہاتھ پاؤں کو چوما اس کے بعد آنحضرت ﷺ طائف سے مکہ کی طرف لوٹے واپسی میں جب کہ آپ ﷺ مقام نخلہ پر پہنچے اور آخر شب میں تہجد پڑھنے لگے تو یمن کے مقام نصیبین کے جنوں کا یہ قافلہ اس طرف سے گذر رہا تھا تلاوت کلام اللہ کی آواز سنتے ہی یہ سب رک گئے قرآن کریم سنا اسکی حقانیت کو سمجھا اور اس پر ایمان لائے اور اپنی قوم کی طرف واعظ وناصح بن کر لوٹے ، (تفسیر مظہری) احادیث سے ثابت ہے کہ اسکے بعد جنات کے وفود آپ ﷺ کے پاس آتے رہے اور خود آپ ﷺ بھی جنات کو تبلیغ کیلئے ان کی طرف تشریف لے گئے جس کی تفصیل بروایت عبداللہ بن مسعود ؓ لیلۃ الجن کے قصہ میں ہے۔
Ayahs 72:20–28حکم اعلان توحید واعلان براءت از شرک و فیصلہ برائے عذاب مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انمآ ادعوا ربی ......... الی .......... کل شیء عددا “۔
(ربط) سورة جن کا مضمون شروع سے معرفت توحید خداوندی اور کلام الہی پر ایمان ویقین سے متعلق تھا اسی کے ضمن میں کلام الہی اور ایمان ومعرفت سے متاثر ہونے والے جنات کا اپنی قوم کو اللہ رب العزت کی عبادت و بندگی کی طرف دعوت دینے اور فکر آخرت کی ترغیب اور اسکے ثابت کرنے کے لئے دلائل و شواہد پر مشتمل تھا اس کے بعد اب ان آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ ﷺ تمام عالم کے سامنے یہ اعلان کردیں کہ میں تو صرف اپنے رب ہی کی عبادت کروں گا اس کی عبادت والوہیت میں میں کسی کو شریک نہیں کرتا کیونکہ شرک ونافرمانی ایک بدترین جرم ہے اور اس جرم کا مرتکب اپنے رب کے عذاب سے کسی طرح بھی نہیں بچ سکتا تو ارشاد فرمایا۔
کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر میں تو پکارتا ہوں بس اپنے رب ہی کو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا نہ اس کی ذات میں نہ اسکی صفات میں نہ اسکے حقوق میں اور نہ اس کے افعال میں غرض کیس چیز میں بھی کسی کو اس کا شریک نہیں کرتا کہدیجئے بیشک میں مالک نہیں ہوں تمہیں نقصان پہنچانے کا اور نہ ہی مالک ہوں اور اختیار رکھتا ہوں راہ راست پر لانے کا یہ سب کچھ ایس پروردگار وحدہ لاشریک لہ کے قبضہ اور اختیار میں ہے جس کا یہ ثمرہ بھی ہے کہ اگر میں فرائض رسالت انجام دینے اور اپنے ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوئی کوتاہی کروں اور اس پر میرا خدا گرفت فرمانے لگے تو مجھے کوئی اسکی گرفت سے نہیں بچا سکتا اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ میں اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کسی قسم کی کوتاہی کروں بس میرے اختیار میں تو یہی چیز ہے کہ اس کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دو اسلئے کہدیجئے کوئی بھی مجھے اللہ سے نہیں بچائے گا اور ہرگز میں نہیں پاسکتا ہوں اس کے سوا کوئی ہٹنے کی جگہ کہ ایک جگہ سے کسی دوسری ہی جگہ منتقل ہوجاؤں بس اس کے سوا میرا کوئی اختیار نہیں کہ یہ پیغام پہنچا دینا ہے، اللہ کی طرف سے اور اسکے یہ احکام ہیں جن کو میں بیان کرتا ہوں اور جن کی طرف میں دعوت دے رہا ہوں میں اپنی ذمہ داری تو پوری کرچکا اب یہ خوب جان لو کہ جو بھی اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کرے اس کے واسطے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور اس عذاب سے انکو کبھی بھی نجات نہ ملے گی یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ عذاب جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو اس وقت وہ جائیں گے کہ کون کمزور ہے اپنے مددگار کے لحاظ سے اور گنتی میں کون کم ہے ؟ تو اس وقت ہر ایک کو اپنی قوت ومعاونین اور تعداد کا پتہ چل جائے گا اور دنیا میں وہ دعوی کرنے والے مغرور ومتکبر جو کہا کرتے تھے کہ اگر قیامت آبھی گئی تو ہماری بڑی طاقت ہوگی اور بڑے مددگار ہوں گے تو وہ سب اپنے آپ کو کمزور اور بےیارو مددگار دیکھتے ہوں گے۔
کہدیجئے جب یہ لوگ بڑے ہی غرور وسرکشی کے انداز میں پوچھیں کہ اچھا وہ عذاب کب آئے گا جس کی آپ ﷺ ہمیں دھمکی دے رہے ہیں میں نہیں جانتا کہ قریب ہے وہ عذاب جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے یا میرا پروردگار اس کے واسطے آئندہ کوئی مدت مقرر کرے گا اور جب تک وہ مدت نہیں گزرے گی عذاب نہیں آئے گا رہا یہ امر کہ وہ کتنی مدت ہے اور کون سا وقت ہے ؟ سو یہ سب باتیں غیب سے تعلق رکھنے والی ہیں غیب کا جاننے والا تو صرف وہی پروردگار ہے وہ اپنے غیب اور بھید کی کسی کو خبر نہیں دیتا اور اس پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا بجز اس کے کہ جس کو وہ پسند کرلے کسی رسول اور قاصد سے تو جس رسول کو یا فرشتوں میں سے کسی فرشتہ کو پسند کرے گا اسی کو وہ اپنا راز اور بھید بتادے گا یا اسی کے ذریعے وہ اپنا راز اور بھیدبطور وحی اپنے پیغمبر پر نازل فرمادے گا اور جب بھی وہ کوئی وحی اور ملکوت سماوات کی کوئی بات اپنے رسول پر نازل کرتا ہے تو اسکی اس قدر حفاظت ہوتی ہے اور پہرے لگا دیئے جاتے ہیں کہ اس میں کسی کو قطعا کسی آمیزش کی گنجائش نہیں رہتی اور کسی جن وانس کو قدرت نہیں رہتی کہ اسکے قریب بھی پر مار سکے تو اس کی یہ شان ہوتی ہے چلاتا ہے اسکے آگے بھی اور اسکے پیچھے بھی ایک زبردست پہرہ تاکہ وحی الہی ہر طرح محفوظ رہے اور پھر پیغمبر خدا جب اس وحی الہی کو بیان کرے تو اس میں شک وشبہ کا کوئی امکان بھی باقی نہ رہے یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ تاکہ وہ جان لے اور دیکھ لے۔
ان رسولوں یعنی خدا کے قاصدوں یا پیغمبروں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ہیں اور پیغامات خداوندی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی اور کمی و زیادتی نہیں ہوئی اور ہر چیز اسی کی نگرانی میں ہے کسی کی طاقت نہیں وہ ان چوکیوں اور پہروں کو توڑ سکے ،
اور اللہ ہی نے احاطہ کر رکھا ہے ان تمام چیزوں کا جو انکے پاس ہے اور شمار کرلیا ہے ہر ایک چیز کو گنتی کرکے اس طرح کہ کوئی علم اور کوئی چیز اللہ رب العزت کے احاطہ علمی سے باہر نہیں ہے بس وہی عالم الغیب ہے اور غیب کے خزانے بس اسی کے پاس میں جیسے ارشاد فرمادیا (آیت) ” وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو “۔ کہ خدا ہی کے پاس غیب کے خزانے ہیں اور کنجیاں جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
الغرض غیب جاننے والا صرف اللہ ہے اور عالم غیب کی جب کوئی چیز اپنے کسی پیغمبر کو بتاتا ہے اور اس کی وحی کسی فرشتے کے ذریعہ سے بھیجتا ہے تو اسکی حفاظت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ پہرہ اور چوکیاں قائم ہوتی ہیں اور حفاظتی دستے اس وحی الہی اور پیغام خداوندی کے ساتھ پوری پوری حفاظت کرتے ہوئے ہوتے ہیں اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی تاکہ جس پیغمبر کو اطلاع دی جارہی ہو بس وہ اسی تک پہنچے۔
تمام امت کا اجماعی فیصلہ کہ عالم الغیب صرف اللہ رب العزت ہی ہے :
توحید خداوندی ایمان کی اساس ہے اور توحید جس طرح ذات کے لحاظ سے ہے اسی طرح توحید صفات بھی ائمہ متکلمین نے جہاں شرک کے اقسام کی تحقیق و تفصیل فرمائی ہے اس میں شرک ذات کے علاوہ شرک فی الصفات شرک فی الافعال اور شرک فی الحقوق کو بھی صریح شرک قرار دیا ہے اور واضح طور پر بیان کردیا کہ جس طرح کوئی شخص ذات خداوندی کے ساتھ کسی اور کو شریک مان کر خدا کے ساتھ کسی اور معبود کا قائل ہو تو وہ مشرک ہے اور خارج عن الملۃ ہے اسی طرح اللہ رب العزت کی صفات اسکے افعال اور حقوق میں بھی غیر کو شریک ماننے سے شکر کا مرتکب سمجھا جائے گا مثلا رازقیت، خالقیت صفات خداوندی میں سے اسکی صفات ہیں تو اگر غیر اللہ کو رازق و خالق سمجھا تو مشرک ہوگا اسی طرح عالم غیب ہونا بھی اللہ رب العزت کی صفت ہے تو اس صفت کو بھی غیر اللہ کیلئے ثابت کرنا شرک ہوگا۔
قرآن کریم کی متعدد آیات واضح طور پر اس امر کو بیان کررہی ہیں کہ (آیت) ” لا یعلم الغیب الا اللہ “۔ سورة انعام کی تفسیر میں بھی تفصیل کے ساتھ یہ بات واضح کردی گئی کہ علم غیب خدا کی صفت ہے اور خدا تعالیٰ جس طرح اپنی ذات میں یکتا ہے وہ اپنی صفات میں بھی یکتا ہے، امنت باللہ کما ھو باسماۂ وصفاتہ “۔ کا یہی مفہوم ہے ،
بالخصوص اس آیت میں اس امر کو نہایت ہی وضاحت سے ظاہر کردیا گیا ہے کہ خدا کے پیغمبر نے جن احوال کی خبر دی اور بظاہر ان سے یہ گمان کیا گیا کہ یہ غیب کی خبر ہے حقیقت میں وہ غیب کا علم نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی طرف سے پیغمبر کو مطلع کیا گیا ہے اور اس پر یہ ظاہر کیا گیا اسی چیز کو ان کلمات میں بیان فرمایا جارہا ہے (آیت) ” فلایظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی “۔ یعنی یہ اظہار واخبار ہر ایک کو نہیں ہوتا بلکہ جس کو اللہ پسند کرے اس پر ہوتا ہے خواہ اس نوعیت سے کہ وہ فرشتہ ہے اور اسکے ذریعے یہ وحی اللہ تعالیٰ کو اپنے رسول پر اتارنی ہے یا وہ رسول ہی ہے جس کو بتایا جائے گا تو اسکو کسی طرح بھی غیب کا علم نہیں کہا جاسکتا یہ تو ایسا ہی ہوا جیسے ہم نے ان باتوں کو پیغمبر خدا کے ذریعہ سے معلوم کرلیا کہ آخرت میں یہ ہوگا اس طرح جنت ہے اس طرح جہنم ہے اس طرح قیامت آئے گی دجال ظاہر ہوگا حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) آسمان سے نزول فرمائیں گے تو یہ امور پیغمبر خدا کے بتانے کی وجہ سے ہم جانتے ہیں اور ان چیزوں کو جان کر ہم علم غیب رکھنے والے نہیں ہوگئے تو ایس طرح ان باتوں کو انبیاء (علیہ السلام) اللہ رب العزت کے بتانے اور ظاہر کرنے سے جانتے تھے تو یا ایسی ہی جو چیزیں بھی غیب کی اللہ کے پیغمبر نے وحی الہی سے معلوم کرکے بتائیں تو وہ علم غیب نہیں بلکہ خدا نے اپنے پیغمبر پر ان کا اظہار کیا ان باتوں کی خبر دی ہے تو علم غیب تو اللہ ہی کو ہے اور اس میں سے جو چاہا اپنے پیغمبر کو بتادیا یہ اظہار غیب اور اخبار غیب ہوا الغرض اس آیت کو دور کا بھی کوئی واسطہ پیغمبر خدا ﷺ کے لیے غیب کا علم ہونے سے نہیں ہے،
پھر یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اگر بالفرض (آیت) ” الا من ارتضی من رسول “۔ کا استثناء اس امر پر دلالت کرتا ہے اور معنی یہ ہیں کہ عالم الغیب اللہ ہے اور اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوتا مگر جس رسول کو اللہ چاہے وہ عالم الغیب ہوجاتا ہے تو پھر اس فرمانے کا مطلب کیا ہوگا (آیت) ” قل ان ادری “۔ کہہ دیجئے میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب جس کا وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا ابھی اس کی مدت باقی ہے تو ایسے مفروضہ رکھنے والے سے (یعنی جو یہ دعوی کرنے والے سے (آیت) ” الا من ارتضی “۔ کے استثناء سے وہ رسول مراد ہے جو علم غیب رکھتا ہوگا) پوچھا جائے گا کہ جب وہ رسول مستثنی بھی اس استثناء کے باعث صاحب علم غیب ہوگیا اور اس وجہ سے اسکو ماکان ومایکون کا علم حاصل ہوگیا تو پھر اس کا یہ اعلان کیونکر درست ہوا کہ میں نہیں جانتا الخ جس پیغمبر کو اس اعلان کا مامور فرمایا جارہا ہو کہ وہ یہ کہہ دے میں نہیں جانتا۔
اسی کو ان الفاظ کی ناقابل تصور اور بعید از قیاس تاویلات کرکے عالم الغیب ثابت کرنا مضحکہ خیز بات ہے پھر جب کہ قرآن و حدیث کی سینکڑوں نصوص اور واقعات بڑی صراحت سے یہ ثابت کررہے ہوں کہ خدا کے پیغمبر غیب کا علم رکھنے والے نہیں ہوتے بلکہ جس چیز کی انکو وحی کردی گئی وہ انہوں نے بتائی ہے اور ظاہر ہے کہ اسکو علم غیب نہیں کہا جاتا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس آیت سے آں حضرت ﷺ کے واسطے غیب کا علم مانا جائے،
علم غیب کا مفہوم اور اس کی تفصیلات سورة انعام میں گزرچکیں حضرات قارئین مراجعت فرمائیں اور یہ تفصیل بھی گزر چکی کہ علم غیب کمالات الوہیت میں سے ہے نہ کہ کمالات نبوت سے اس لیے پیغمبر سے علم غیب کی نفی پیغمبر کی کوئی تنقیص نہیں بلکہ علم غیب ثابت کرنے سے بہت سے کمالات عبدیت و بندگی ختم ہوجاتے ہیں اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ اللہ کا وہ پیغمبر جس کی سب سے بڑی عظمت وبلندی یعنی واقعہ معراج کو بیان کرتے ہوئے عبدیت بیان کی گئی جیسے ارشاد ہے (آیت) ” سبحان الذی اسری بعبدہ “۔ وہ عبدیت ہی کے کمالات سے محروم ہو (واللہ اعلم بالصواب)
تم بحمد اللہ تفسیر سورة الجن والحمد للہ علی ذالک “۔