Ayah 75:1(1) میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔
Ayah 75:2(2) اورقسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے والا ہے (کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے)- یعنی کفار عام طور سے قیامت کا انکار کرتے ہیں اور ان کو قیامت کا یقین نہیں آتا اور یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور حساب دینے کے قائل نہیں ہوتے اور گھبراتے ہیں اس لئے نہایت سختی سے اس کا انکار کرتے ہیں اور عجیب و غریب قسم کے شبہات پیش کرتے ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ یہ اس بات سے اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے ہیں کہ وہ انسان کو اس کے مرے پیچھے زندہ نہیں کرسکتا حضرت حق تعالیٰ نے اس سورت میں قسم کھا کر ان کے تاکیدی انکار کر رد کیا ہے۔
چنانچہ پہلی قسم تو روز قیامت کی کھائی اور دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی چونکہ لوامہ نفس کی اس حالت کا نام ہے جو اپنی تقصیرات اور اپنی کوتاہیوں پر ملامت کیا کرتا ہے یہی ملامت اور پشیمانی اور اپنے کئے پر پچھتانے کا جس روز بدرجہ اتم ظہور ہوگا اسی کو قیامت کہتے ہیں اس لئے نفس لوامہ کی قسم کھائی آخر انسان میں ایک طاقت موجود ہے جو غلطی کا اعتراف کرتی ہے اور اپنے قصور پر نادم ہوتی ہے بس اس کی قسم کھانا مقام کے اعتبار سے نہایت ہی مناسب ہے قرآن میں نفس کی تین حالتوں کا ذکر ہے۔ نفس امارہ، لوامہ اور نفس مطمئنہ
اگرچہ بعض مفسرین نے نفس انسانی کی تین قسمیں بتائی ہیں اور ان کا نام نفس مقدس ، نفس منطبعہ اور نفس ناطقہ بتایا ہے پھر ان نفوس ثلاثہ کی تفصیل بیان کی ہے لیکن ہم نے تطویل کے خوف سے مختصراً عرض کرتے ہیں کہ اگر نفس برائی پر ابھارے اور شریعت مقدسہ کے خلاف ترغیب دے تو اس کو امارہ کہتے ہیں اور اگر شریعت کے موافق مشورہ اور نیک کاموں کی ترغیب دیتا رہے تو اس کو مطمئنہ کہتے ہیں جیسا کہ سورة فجر میں آجائے گا۔ (انشاء اللہ تعالیٰ ) اور تیسری حالت یہ ہے کہ کوتاہیوں اور غلطیوں پر ملامت کرنے والا ہے اس کو لوامہ کہتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی کا جی اول کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی رغبت نہیں کرتا ایسے جی کو کہتے ہیں امارہ بسو۔ پھر ہوش پکڑا نیک بد سمجھا تو باز آیا کبھی اپنی خو پر دوڑا پڑا پیچھے پھر آپ کو الاہنا دیا ایسا جی ہے لوامہ ، پھر جب پورا سنور گیا دل سے رغبت نیکی ہی پر ہے بیہودہ کام سے آپ ہی بھاگے اور ایذا کھینچے ایسے کا نام ہے مطمئنہ۔
Ayah 75:3(3) کیا انسان خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو ہرگز جمع نہ کریں گے۔ یعنی جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گئیں ان کا جمع کرنا اور اکٹھا کرنا اللہ تعالیٰ کے بس کی بات نہیں اور خدا تعالیٰ ان کے جمع کرنے سے عاجز ہے۔
Ayah 75:4(4) بے شک ہم ضرورجمع کریں گے ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کے انگلیوں کی پور پور درست کردیں۔ یعنی انگلی کا پورا واجو چھوٹی سی چیز ہے اور ایک باریک باریک خطوط کی وجہ سے اس کی تیاری میں بڑی صنعت اور کاریگری کی ضرورت ہے جب حضرت حق تعالیٰ انگلیوں کے پور دے درست کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو اس کے لئے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا لینا کون سا مشکل ہے عام طریقے سے پور پور بول کر تمام جسم بھی مراد لیتے ہیں کہا کرتے ہیں میں اس کی پور پور کا چوراکردوں گا یعنی تمام جسم کچل دوں گا تو گویا ہڈیوں کا جمع کرنا کیسا وہ تمام جسم کی ترتیب دینے پر قادر ہے۔
Ayah 75:5(5) بلکہ قیامت کے انکار کی غرض یہ ہے کہ انسان یوں چاہتا ہے کہ آئندہ زندگی میں بھی فجور اور ڈہٹائی کرتا رہے۔ یعنی قیامت کا اقرار اور روزجزا کا یقین بہت برائیوں سے روک دے گا اور انسان اس اعتقاد کا پابند ہوکر بہت سی باتوں کا پابند ہوجائے گا کیونکہ ہر جرم کے موقع پر قیامت کا اعتقاد مانع ہوگا اور یہ خیال اللہ تعالیٰ کے سامنے جاکر ایک دن حساب وکتاب دینا ہوگا ہر برائی اور ہر قسم کے فسق وفجور سے روکے گا اور انسان کی خواہش یہ ہے کہ جس طرح اب تک وہ گناہ آلودگی زندگی گزارتا رہا ہے اسی طرح آگے بھی گزارتا رہے اور آئندہ بھی ڈھٹائی کرتا رہے اس لئے قیامت کا یقین نہیں کرتا اور قیامت کا انکار کرتا ہے اور بطور انکار۔
Ayah 75:6(6) پوچھتا اور دریافت کرتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا۔ یعنی بطور انکار و استہزاء دریافت کرتا ہے کہ قیامت کا صحیح وقت بتائو آگے جواب ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 75:7(7) سو جس وقت نگاہیں مضطرب اور متحیر ہوجائیں گی۔
Ayah 75:8(8) اور چاند بےنور ہوجائے گا۔
Ayah 75:9(9) اورسورج اور چاند ایک حالت اور ایک کیفیت پر اکٹھے کردیئے جائیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ قیامت کا وقت ہے یعنی آدمی کی آنکھ روشنی سے عاجز ہوجاوے سورج پاس آئوے گا۔
خلاصہ : یہ کہ حضرت حق تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر سے آنکھیں چندھیا جائیں گی چاند کا نور سلب کرلیا جائے گا اور سورج و چاند کی بےنوری میں حالت ایک سی ہوجائے گی مطلب یہ کہ موجودہ نظام شمسی سب درہم برہم کردیا جائے گا اس انقلاب کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوں گے ان کو دیکھنے کی آنکھ کہا تاب لاسکے۔
Ayah 75:10(10) اس دن انسان کہے گا کہاں چلا جائوں بھاگ کر اور کدھر بھاگ جائوں اور آج کہیں جائے گریز اور جائے فرار ہے۔
Ayah 75:11(11) کوئی نہیں کہیں نہیں ہے بچائو ہرگز نہیں آج کوئی جائے پناہ نہیں یعنی کسی کے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
Ayah 75:12(12) اس دن صرف آپ کے پروردگار ہی کے پاس ٹھکانہ ہوگا۔ یعنی سوائے پروردگار عالم کے اور کوئی جگہ ٹھہرائو اور قرار کی نہیں اسی کے پاس جانا ہے پھر وہ چاہے دوزخ میں بھیجے یا جنت میں جانے کا حکم دے۔
Ayah 75:13(13) اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے اور پچھلے اعمال سے آگاہ کردیا جائے گا۔
یعنی اس کو تمام اچھے برے عمل جو اس نے کئے ہوں گے جتلا دیئے جائیں گے اور جتلانے اور بتلانے پر ہی کیا موقوف ہے۔
Ayah 75:14(14) بلکہ انسان خود اپنے خلاف کھلی ہوئی دلیل ہوگا۔
Ayah 75:15(15) خواہ وہ اپنے کتنے ہی حیلے بہانے پیش کرے۔ یعنی یہ جتلانا اور بتلانا محض تقریع اور اتمام حجت کے طور پر ہوگا اور نہ انسان بوجہ انکشاف ضروریہ کے خود ہی اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا اگرچہ وہ اپنی عادت کے موافق حیلے بہانے اور عذر و معذرت کرتا رہے جیسا کہ مشرک قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے۔
بہرحال یہ جتانا اعلام کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ انسان خود بھی سب کچھ سمجھتا ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے آیت کا تعلق توحید الٰہی کی دلیل سے رکھا ہے یعنی انسان خود حضرت حق کی ربوبیت اور اس کی توحید کی ایک کھلی ہوئی دلیل ہے۔
چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے احوال میں غورکرے تو رب کی وحدانیت جانے اور جو کے میری سمجھ میں نہیں آتا یہ بہانے ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ انسان حضرت حق جل مجدہ کی ربوبیت کے لئے خود ایک کھلی ہوئی دلیل ہے اگر وہ غور کرے اور غور نہ کرے اور بہانے بناتا رہے تو یہ دوسری بات ہے۔
Ayah 75:16(16) اے پیغمبر آپ نزول قرآن کے وقت اس غرض سے کہ آپ اس قرآن کو جلدی جلدی حاصل کریں اپنی زبان کو قرآن کے ساتھ حرکت نہ دیا کیجئے۔ سورة طہٰ میں گزرچکا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) جو وحی لاتے تو آپ اس خیال سے کہ مبادا کوئی لفظ پڑھنے سے رہ جائے اور بعد میں یاد نہ آئے جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ قرآن سنتے بھی تھے اور پڑھتے بھی وہاں فرمایا تھا کہ آپ اس سے پہلے کی وحی ختم ہو قرآن کو لینے میں جلدی نہ کیا کیجئے چونکہ اس طرح سنتے اور ساتھ ساتھ پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے اور تنگی پیش آتی ہے۔
اس لئے نبی کریم ﷺ کو منع فرمایا مقصد یہ ہے کہ آپ ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ پڑھنے میں اس غرض سے کہ یاد کرنے میں جلدی کروں اور قرآن کو جلدی کے ساتھ یاد کرلوں ایسانہ کیا کیجئے بلکہ خاموش سنتے رہا کیجئے اور اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجئے۔
Ayah 75:17(17) اس قرآن کا آپ کے سینے میں جمع کردینا اور آپ کی زبان سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی آپ یہ تکلیف برداشت نہ کیا کیجئے جس خطرے سے آپ اندیشہ کرتے ہیں کہ کہیں کوئی لفظ رہ نہ جائے اور پڑھتے وقت یاد نہ آئے اور پوری وحی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو نہ پہنچا سکوں تو اس کا خطرہ نہ کیجئے کیونکہ اس قرآن کو آپ کے سینے میں جمع کردینا اور آپ کی زبان سے ادا کرادینا ہمارے ذمے ہے۔
Ayah 75:18(18) سو جب ہم پڑھنے لگیں تو آپ ہمہ تن پوری توجہ کیساتھ اس کی قرات کے تابع رہیے۔ یعنی جب ہم یعنی ہمارا فرشتہ قرآن پڑھنے لگے تو آپ اپنے فکر اور اپنے ذہن سے ہمہ تن ادھر متوجہ ہوجایا کیجئے اسی کو فرمایا فاتبع قرانہ یعنی اس کے پڑھنے کے تابع اور ساتھ رہا کیجئے اور زبان کو حرکت نہ دیا کیجئے فرشتے کا پڑھنا اپنا پڑھنا فرمایا یعنی وہ ہمارے حکم ہی سے پڑھتا ہے۔
Ayah 75:19(19) پھر اس کے مطالب کو واضح کردینا بھی ہمارے ذمے ہے۔ یعنی آپ کو یاد کرادینا اور آپ کی زبان پر جاری کرادینا پھر تبلیغ کے وقت بھی اس کو بیان کرادینا اور مشکل مضامین کو سہل کردینا تاکہ آپ کو سمجھانے میں آسانی ہو۔ یہ سب ہمارے ذمے ہے آپ تو جب فرشتہ پڑھے صرف توجہ کے ساتھ سنتے رہا کیجئے۔
چونکہ اوپر کی آیت میں قیامت کا ذکر تھا اور قیامت کے دن تمام امور کے مستحضر ہوجانے اور اگلے پچھلے اعمال کے یاد دلانے کا ذکر تھا اسی مناسبت سے وحی کے یادرکھنے اور اس کو دہرا دینے کا ذکر فرما دیا اور یہ بات استطراداً بیان کی گئی تھی آگے پھر وہی منکروں کا ذکر ہے اور کافروں کی عجلت پسندی اور آخرت کو نظر انداز کردینے کا ذکر فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس وقت جبرئیل (علیہ السلام) قرآن لاتے ان کے پڑھنے کے ساتھ حضرت ﷺ بھی جی میں پڑھتے تو جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہیں آتا تو حضرت گھبراتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے کی حاجت نہیں سننا ہی چاہیے پھر جی میں یادرکھوانا اور زبان سے پڑھوانا لوگوں کے پاس ہمارا ذمہ ہے اور معنی تحقیق کرنے کی حاجت نہیں یہ بھی ہمارا ذمہ ہے اور وقت پر بیان کو سمجھانا جبرئیل (علیہ السلام) کے پڑھنے کو اپنا پڑھنا فرمایا کہ وہ ثابت ہے اسی طرح النجم میں فاوحی الی عبدہ۔
Ayah 75:20(20) ہرگز نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ تم لوگ عاجلہ یعنی دنیا سے محبت رکھتے ہو۔
Ayah 75:21(21) اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو۔ دین حق کے منکروں کو خطاب ہے کہ قیامت ضرور ہوگی اور تمہارے اگلے پچھلے تمام اعمال سے تم کو آگاہ کیا جائے گا تم سمجھ رہے ہو کہ قیامت نہیں آئے گی ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو نظر انداز کئے بیٹھے ہو، دنیا کو عاجلہ فرمایا چونکہ پیدا ہوتے ہی دنیا سے ملاقات ہوتی ہے اور جلدی سے سامنے آجاتی ہے اس لئے اس کو عاجلہ فرمایا سو تم دنیا کی محبت میں منہمک ہو اور آخرت سے غافل ہو سوروہ روم میں گزر چکا ہے یعلمون ظاھر امن الحیوۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ھم غفلون آگے قیامت کی مختصر سی تفصیل مذکور ہے ۔
Ayah 75:22(22) اس دن بہت سے چہ رہے بارونق اور تروتازہ ہوں گے۔
Ayah 75:23(23) وہ اپنے پروردگار کی تجلی کا مشاہدہ کرتے ہوں گے۔ یعنی اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوں گے خوش کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہوں گے اس دن اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا بعض فرق ضالہ معتزلہ وغیرہ آخرت میں بھی دیدار کے منکر ہیں ان کا بہت تفصیلی جواب صاحب تفسیر عزیزی نے دیا ہے جس کو شوق ہو وہ تفسیر عزیزی کو ملاحظہ کرے۔
اس موقعہ پر بعض حضرات نے قرآن میں تحریف کی کوشش کی ہے اور الی کو الی پڑھ کر نعمت کے معنی کئے ہیں حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے اس تحریف کا بھی مفصل جواب دیا ہے ہم نے تطویل کے خوف سے وہ عبارت یہاں نقل نہیں کی۔
Ayah 75:24(24) اوربہت سے چہرے اس دن اداس اور بدرونق ہوگے۔
Ayah 75:25(25) وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا یعنی ایسا سخت معاملہ جس سے کمر ہی ٹوٹ جائے عذاب کی سختی اور شدت کو ان الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
(اعاذنا اللہ منھا)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یقین ہے کہ آخرت میں اللہ کو دیکھنا ہے گمراہ لوگ منکر ہیں کہ ان کے نصیب میں نہیں۔ آگے موت کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ وہ بھی مرنے والے کے لئے قیامت ہی ہے۔
Ayah 75:26(26) ہرگز ایسا نہیں جب جان گلے کی ہنسلی تک پہنچ جاتی ہے یعنی قیامت کا ہرگز انکار نہ کردیا دنیا سے ہرگز محبت نہ کرو یہ مرنے کے وقت کام آنے والی نہیں چناچہ جب جان تمام بدن سے سمٹ کر ہنسلی میں پہنچ جائے اور ہنسلی تک جا پہنچے تراقی سینے اور گلے کی ہڈیوں کو کہتے ہیں گویا مرنیوالے کا آخری وقت۔
تراقی وھی العظام المکتنفۃ لثغرۃ السنحرعن یمین و شمال۔
Ayah 75:27(27) اور اس وقت کہا جاتا ہے ارے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا بھی ہے۔ یعنی نازک موقع پر جب طبیب کے علاک سے مایوسی ہوتی ہے تو جھاڑنے پھوکنے والے کی تلاش ہوتی ہے اس لئے ارشاد فرمایا وقیل من راق ، یعنی لوگ کہتے ہیں کوئی جھاڑنے پھونکنے والا ہو تو اس کو لائو۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے کہتے ہیں اس کی روح کو کون سا فرشتہ لے کر چڑھے گا۔ یعنی اس کی روح نیکی کے فرشتے لے جائیں گے یا بدی کے جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 75:28(28) اور مرنے والا یقین کرلیتا ہے کہ یہ مفارقت اور جدائی کا وقت ہے۔ یعنی عزیزواقارب اور مال و دولت کی جدائی یا روح اور بدن کی جدائی کا وقت۔
Ayah 75:29(29) اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ لپٹ جاتی ہے - یعنی سکرات موت کے وقت یہ حالت ہوتی ہے۔ پنڈلی پنڈلی مارنا ایک پنڈلی کا دم نکلنے کے بعد دوسری پنڈلی پر ج اگر نا اور ہوسکتا ہے کہ عام شدائد اور موت کی پیہم سختیوں کی طرف اشارہ ہو، جیسا کہ ہم سورة نون میں عرض کرچکے ہیں تمام عزیزواقارب ، بیوی ، بچے، مال و دولت چھوڑنے کا رنج اور آگے قبر کا اور آخرت کا ہول ہوسکتا ہے کہ مراد سختی پر سختی ملنے سے کنایہ ہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
Ayah 75:30(30) اس روز تیرے پروردگار کی جانب کشاں کشاں جانا۔ یعنی خوشی یا نہ خوشی بہرحال کھینچ کر تیرے پروردگار کی جانب چلا جانا ہے یہ حالت وہ ہے کہ دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور عاجز و لاچار ہوتے ہیں پھر بھی قیامت کا یقین نہیں کرتے اور عاجلہ کی محبت سے باز نہیں آتے۔
حضرت سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے۔ ؎
روز گا رم بشد نبا دانی
من نکروم شما حدز بکنید
اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتے ہیں اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ ہم کو ذرا احساس نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنے فصیح کلام میں کس درد انگیز انداز میں موت کا نقشہ کھینچا ہے۔
اللھم انی اسئلک حسن الخاتمہ۔ اللھم احسن عاقبتا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ
آگے مرنے کے بعد منکر انسان کی حالت کا بیان ہے۔
Ayah 75:31(31) اس منکر انسان نے نہ تصدیق کی تھی اور نہ نماز پڑھی تھی۔
Ayah 75:32(32) بلکہ تکذیب کی تھی اور منہ نہ موڑا تھا۔
Ayah 75:33(33) پھر فخر کرتا ہوا اپنے گھر کو چل دیا کرتا تھا۔
Ayah 75:34(34) اے تکذیب کرنے والے انسان تیرے لئے خرابی ہے اس خرابی پر اور تباہی ہے۔
Ayah 75:35(35) پھر سن لے تیرے لئے تباہی ہے اس تباہی پر اور تباہی ہے۔
Ayah 75:36(36) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ یوں ہی بیکار اور مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ منکر انسان شایدوہی ہے جس کا ذکر شروع سورت میں گزرا ہے۔
ایحسب الانسان الن نجمع یعنی سعد بن ربیعہ جو اخنس بن شریق کا داماد تھا اور بعض حضرات فرماتے ہیں انسان سے مراد ابوجہل ہے بہرحال ! مطلب یہ ہے کہ اس منکر انسان نے نہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تصدیق کی نہ عقائد اسلامی کا یقین کیا نہ نماز ادا کی جو اعمال صالحہ میں بڑی اہم چیز تھی اسلامی عقائد کا یقین تو کیا کرتا اور نماز تو کیا پڑھتا بلکہ اس نے تو بجائے تصدیق کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑا اور اپنی ان ناشائستہ اور کافرانہ حرکت پر فخر کرتا ہوا اور اتراتا ہوا تختر کے طور پر اپنے گھروالوں کی طرف چل دیا، یعنی بجائے شرمندہ ہونے کے اکڑتا ہوا گھر چلا گیا۔
حضرت حق تعالیٰ نے اس کی اس کافرانہ ، معاندانہ اور متکبرانہ روش پر فرمایا، اے تکذیب کرنے والے انسان تیرے لئے خرابی ہے اس خرابی پر اور تباہی ہے پھر مکرر سن لے تیرے لئے تباہی ہے اس تباہی پر اور باہی ہے چار خرابیاں اور تباہیاں فرمائیں۔ شاید دو عالم برزخ کے لئے ایک میدان حشر کے لئے ایک دوزخ کے لئے اول ترک تصدیق اور ترک نماز پر، میدان حشر میں تکذیب پر اور دوزخ میں روگردانی پر۔
بعض علماء نے فرمایا پہلی خرابی یقین نہ لانے اور نماز نہ پڑھنے پر، دوسری جھٹلانے اور منہ پھیرنے اور منہ موڑنے پر ، اور تیسری اور چوتھی، دونوں باتوں میں سے ہر ایک کو قابل فخر سمجھنے پر واللہ اعلم کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل اور بےکار چھوڑ دیا جائے گا یعنی نہ یہ اوامرونواہی کا مکلف ہوگا نہ اس سے حساب وکتاب ہوگا نہ کوئی باز پرس ہوگی۔
حضرت حق جل مجدہ کے تمام مخلوق میں سے انسان پر بہت زیادہ احسانات ہیں اس وجہ سے اس کو مکلف بنایا بعض کاموں کے کرنے کا حکم دیا بعض سے منیع فرمایا اور جب مکلف بنایا اور تکلیف کے تحقق کو مجازات مستلزم ہے مجازات کے لئے عالم آخرت ضروری ٹھہرا۔
بہرحال ! یہ بیکار نہ چھوڑا جائے گا بلکہ اس کو مکلف بنایا جائے گا اور اس کو کوتاہیوں پر باز پرس ہوگی مرنے کے بعد اس کو دوبارہ اٹھایا جائے گا یہ انسان جو بعث کا انکار کرتا ہے تو یہ اس کی بڑی حماقت اور جہالت ہے۔
Ayah 75:37(37) کیا وہ ایک منی کا قطرہ نہ تھا اور ایک بوندنہ تھی جو ٹپکائی گئی۔ یعنی عورت کے رحم میں وہ منی کا قطرہ ڈالا گیا۔
Ayah 75:38(38) پھر وہ خون بستہ اور ایک خون کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا اور اس کے اعضاء کو درست کیا اور سڈول کیا۔ یعنی وہ نطفہ جو حکماء کے نزدیک ہضم رابع کا فضلہ ہے اور جسم سے علیحدہ ہونے کے بعد اس میں حیات کا کوئی اثر باقی نہ تھا وہ جب رحم میں پڑا اور ایک جما ہوا خون ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال خالقیت سے اس بےجان چیز کو جان بخشی اور اس کے اعضاء کی ساخت کو درست اور اس مردہ نطفہ کو انسان بنایا۔
Ayah 75:39(39) پھر اس انسان کی اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں بنادیں مرد اور عورت۔ یعنی منی اور خون کے لوتھڑے کو انسان بنایا اور پھر انسان میں جوڑا بنایا اور اس انسان کی دو قسمیں کردیں مرد اور عورت اس طرح انسان کی بقائے نسل کا سامان کردیا۔
Ayah 75:40(40) کیا وہ خدا جس نے انسان کو ابتداء ً بنایا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کردے - یعنی نطفہ اور بستہ لہو جس میں زندگی کے کوئی آثار نہ تھے اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک سمجھ دار انسان بنادیا کیا وہ دوبارہ انسانی ڈھانچے کو جمع کرکے انسان نہیں بنا سکتا جب کہ کسی چیز کا دوبارہ اعادہ کرنا پہلی مرتبہ کے بنانے سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔
پس ان تمام مقدمات سے مجازات ثابت ہے نبی کریم ﷺ جب سورة قیامت کو ختم کرتے اور الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی، پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک اللھم بلی یا فرماتے بلی واللہ بلی واللہ۔
تم تفسیر سورة القیمۃ