74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے لحاف میں لپٹنے والے۔

(1) اے لحاف میں لپٹنے والے۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھ کھڑے ہو اور ڈرائو۔

(2) اٹھ کھڑے ہو اور لوگوں کو ڈرائو۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی برائیاں بیان کرو۔

(3) اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرو۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو خوب پاک رکھو۔

(4) اور اپنے کپڑوں کو خوب پاک رکھو۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ہر قسم کی پلیدگی سے دور رہو۔

(5) اور ہر قسم کی پلیدگی کو خوب پاک رکھو۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور کسی پر اس غرض سے احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ بدلا چاہو۔

(6) اور کسی پر اس لئے احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ بدلا چاہو یعنی مت دے کسی کو زیادہ لینے کو۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے رب کی خاطر مصائب کو برداشت کرو۔

(7) اور اپنے پروردگار کے لئے مصائب کو برداشت کیجئے۔ جس طرح پہلی سورت میں نبی کریم ﷺ کو تلطف اور مہربانی کے ساتھ خطاب فرمایا تھا اسی طرح اس سورت میں بھی حضور ہی کو خطاب فرمایا ہے ۔ مدثر اصل میں متدثر ہے تاکو داں سے بدل کر دال میں ادغام کردیا ہے ، اس سے مدثر ہوگیا ہے۔ دثار اوپر کے کپڑے کو کہتے ہیں جس طرح شعار نیچے کے کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے الانصار وثار والناس شعار، مدثر اس شخص کو کہتے ہیں جو سردی اور ٹھنڈ کی وجہ سے اپنے کپڑوں پر کوئی کپڑا اوپر سے اوڑھ لے اور کوئی گرم کپڑا اوپر سے لپیٹ لے۔ پہلی سورت میں نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا تھا عبادت کرنے اور رات میں قیام کرنے کا تاکہ نفس میں استعداد پیدا ہو، یہاں ارشاد ہے کھڑے ہو اور خدا کی مخلوق کو احکام سنائو اور آنے والی آفات سے بچائو گویا پہلی سورت میں ارشاد تھا کمال کا اور اس سورت میں ارشاد ہے تکمیل کا۔ یعنی جب تم میں ہر قسم کا کمال پیدا ہوگیا اور تم ہر اعتبار سیاکمل ہوگئے تو اب دوسروں کو بھی اپنے کمال کا فیض پہنچائو اور دوسروں کی اصلاح کرو۔ جمہور علماء کا قول ہے کہ سب سے پہلے غار حرا میں سورہو اقراء کی چند آیتیں نازل ہوئیں اس کے بعد کچھ عرصہ کے لئے وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا جس کو فترۃ الوحی کا زمانہ کہتے ہیں، اس زمانے میں آپ کو بہت اشتیاق ہوا اور وحی کی لذت بہت یاد آئی۔ چنانچہ ایک دن نبی کریم ﷺ غار حرا سے تشریف لارہے تھے کہ آپ کو آواز آئی جیسے کوئی پکارتا ہے آپ نے دائیں بائیں دیکھا پیچھے پھر کر دیکھا کوئی نظر نہ آیا، جب اوپر نگاہ کی تو آسمان و زمین کے درمیان حضرت جبرئیل کو ان کی اصل حالت پر دیکھا کہ وہ ایک تخت پر بیٹھے ہیں اور آسمان کے کنارے ان کے پروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو اس حالت میں دیکھ کر آپ پر بہت خوف طاری ہوا اور بعض کہتے ہیں کہ آپ بےہوش ہوگئے اور جب ہوش ایا تو کپکپاتے ہوئے مکان میں تشریف لائے اور حضرت خدیجہ ؓ سے کہا مجھے کپڑا اڑھائو ۔ غرض جب کپڑا اوڑھ کر کپڑے میں لپٹ گئے تب یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ سورہ مدثر اور سوروہ اقراء کے متعلق دو قول مشہور ہیں بعض کہتے ہیں کہ مدثر سب سے پہلے نازل ہوئی ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ پہلے اقراء نازل ہوئی ہے جمہور علماء کی رائے یہی ہے کہ سب سے پیشتر اقراء کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں اور اس کے بعد فترت کا کچھ دنوں زمانہ رہا پھر اس سردی اور کپکپی کی حالت میں جب آپ نے اوپر کپڑا اوڑھ لیا تب سورة مدثر کی ابتدائی پانچ آیتیں نازل ہوئیں۔ جمہور کی رائے صحیح ہے حقیقی ابتداء وحی کی تو سورة اقراء ہے اور فترۃ کے بعد کی ابتداء سورة مدثر سے ہوئی ہے سورة مزمل اور سورة مدثر سے اہل سلوک نے خرقہ پوشی کے لوازم کا اخراج کیا ہے۔ کما قال الشاہ عبدالعزیز الدہلوی (رح) ۔ بہرحال نبی کریم ﷺ کو محبت آمیز خطاب سے مخاطب فرماکر ارشاد فرمایا اے بالا پوش میں لپٹنے والے کھڑے ہوجائیے اور دوسرے لوگ جو غیر انسانی زندگی گزار رہے ہیں اور نفسانی خواہشات اور آبائی رسومات میں مبتلا ہوکر اپنے خالق سے بھٹک گئے ہیں ان کو خوف دلا کر اور ڈراکر راہ راست پر لائیے اور ان کی تکمیل کیجئے۔ صرف انذار اور ڈرانے کو فرمایا چونکہ تبلیغ کا ابتدائی دور تھا اس لئے ان آیتوں میں بشارت کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ اس وقت مسلمان صرف گنتی ہی کے تھے نیز یہ کہ اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرو یعنی اللہ اکبر کہا کرو یہ کہ انسانوں کے سامنے اللہ کی عظمت اور اس کی بڑائی بیان کرو تاکہ لوگ اس کی عظمت و جلال سے ڈر کر اس کو مانیں اور جن کمزورچیزوں کو خدا کے مقابلے میں پوج رہے ہیں ان کو چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ ہی کی پرستش کیا کریں اور اپنے کپڑوں کو خوب پاک رکھو ثیاب سے مراد ظاہری اور باطنی ہر قسم کی پاکی مراد ہے ۔ عرب میں ثیاب بول کر ذات مراد لیا کرتے تھے یعنی اپنی صفات اور اخلاق کو خوب پاکیزہ رکھیے یا جس طرح کپڑوں کو ظاہری نجاست سے پاک کیجئے اسی طرح باطنی نجاست سے بھی پاک کیجئے یعنی کپڑاناجائز کمائی سے نہ خریدا جائے اور طریقہ استعمال بھی ناجائز نہ ہو۔ یعنی مرد کا کپڑا ریشمی نہ ہو یا ٹخنون سے نیچی ازارنہ ہو۔ غرض بہت جامع ارشاد ہے جس کے بیشمار معنی ہوسکتے ہیں اور ہر قسم کی پلیدگی سے دور رہیے فاسد اعتقاد براخلق ، جھوٹ غرض وہ تمام چیزیں جن کا روح پر برا اثر ہوتا ہو خواہ وہ بت پرستی ہو یامعاملات کی خرابی ہو ان تمام قسم کی برائیوں اور گنہگاروں سے پرہیز رکھیے کیونکہ دوسرے لوگوں کی اصلاح اور درستی جب ہی ہوسکے گی جب آپ خود ان سب برائیوں سے پاک ہوں اور کسی کیساتھ اس نیت سے سلوک نہ کیجئے اور احسان نہ کر ئیے کہ آپ اس سے بدلے میں زیادہ حاصل کریں جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ دولت مند اور تونگروں کے ساتھ انسان اس غرض سے کچھ سلوک کرتا ہے کہ ان سے جو کچھ معاوضہ حاصل ہوگا وہ میرے سلوک سے زائد ہوگا خواہ وہ احسان مالی ہو یا قرآن کی تعلیم اور احکام الٰہی کی تبلیغ ہو۔ بہرحال کسی قسم کا احسان اس غرض سے نہ کیجئے کہ اس سے جو حاصل ہوگا وہ ہمارے احسان سے زائد ہوگا یہ بلند ہمتی کی بات فرمائی کہ نبوت کی شان کے بھی شایاں ہے کہ نہ کسی پر احسان جتائو نہ اس غرض سے کسی پر احسان کرو کہ تم اپنے احسان سے زیادہ وصول کرو۔ بعض حضرات نے اس کو نبی کریم ﷺ کی خصوصیت بتایا ہے اور کہا ہے کہ یہ حکم حضور کے لئے مخصوص تھا بشرطیکہ یہ بھی تحریم کے لئے ہو۔ بہرحال اس قسم کا خیال دل میں آنا تلویث باطن اور کم ہمتی کا سبب ہے اس لئے اس سے منع فرمایا ولاتمنن تستکثر اور اپنے پروردگار کی خوشنودی کے لئے صبر کیجئے یعنی ہر قسم کی تکالیف اور مصائب اور ایذارسانی کے مواقع پر صبر اور برداشت کرو۔ اور صبر لوجہ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے خوشنودی پیش نظر ہو۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو تمام صفات جلیلہ سیآراستہ ہونے کا حکم فرمایا خواہ وہ صفات ظاہری ہوں یا باطنی ہوں۔ بدن کی پاکی کا ان آیات میں ذکر نہیں فرمایا، ثوب کی پاکی، لطافت جسم کی پاکی کو مستلزم ہے کیونکہ جس کا دن نجس ہوگا اس کے کپڑے پاک نہیں رہ سکتے جسم کی تلویث سے کپڑوں کا ملوث ہونا یقینی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ سورت اتری تب خلق کو دعوت کا حکم ہوا اور نماز کا نماز کے ساتھ تکبیر ہے اور کپڑے پاک رہنے اور کھتری سے بچنا یا کھتری کہا بت کو کہ وہ اکثر دودھ اور تیل آلودہ رہتا ہے اور یہ ہمت سکھائی کہ کسی کو دے اس سے بدلہ نہ چاہ اپنے رب کے دینے پر شاکررہ۔ ان آیات کی تفسیر لوگوں نے مختلف طریقوں سے بیان کی ہے اور یہ واقعہ ہے کہ الفاظ کی وسعت اور جامعیت کی بنا پر کئی طرح تفسیر ہوسکتی ہے لیکن ہم نے آسان اور مشہور طریقہ اختیار کیا ہے جیسا کہ شاہ صاحب (رح) کے خلاصے سے معلوم ہوگیا ہوگا کھتری کبھی پہلے گندی چیز کو کہتے ہوں گے یا کیچڑ وغیرہ یا میل کو کہتے ہوں گے آج کل یہ لفظ دہلی میں متروک ہے۔ بہرحال رجز کے معنی گندی اور پلیدگی کئے گئے ہیں آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔ فترۃ وحی کے بعد یہ وحی کی پہلی آیتیں ہیں جس میں پیغمبر کو اپنی تہذیب اور غیروں کی تہذیب سے آگاہ کیا گیا۔
Ayah 74:8

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جب صور میں پھونک ماری جائیگی ۔

(8) پھر جب ناقور یعنی صور میں پھونک ماری جائے گی۔
Ayah 74:9

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ دن ایک سخت دن ہوگا۔

(9) تو وہ دن کافروں پر سخت دن ہوگا۔
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر ذرا آسان نہ ہگا۔

(10) اس دن میں ذرا آسانی نہ ہوگی۔ نقر کے معنی کلام عرب میں آواز دینے کے ہیں عرب کا محاورہ ہے نقرباسم الرجل ، یہاں مراد صور کے ذریعہ ارواح کو بلانا اور جمع کرنا ہے اسی لئے مفسرین کے نزدیک یہاں دوسرا نفخہ مراد ہے یعنی دوبارہ صور میں آواز ماری جائے گی اور سب لوگ زندہ ہوکر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے اس دن کو فرمایا کہ وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا جس میں ذرا آسانی نہ ہوگی۔ یہ غیر یسیر تاکید ہے یوم عسیر کی سورة فرقان میں گزرا ہے۔ وکان یوما علی الکافرین عسیراً اب آگے ایک مخصوص کافرولید بن مغیرہ کی خباثت اور اسلام دشمنی کا ذکر ہے۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

مجھ کو اور اس شخص کو اپنے اپنے حال پر رہنے دو جس کو میں نے اکیلا یعنی بےسروسامان پیدا کیا۔

(11) مجھ کو اور اس شخص کو اپنے حال پر چھوڑدیجئے جس کو میں نے اکیلا اور تنہا پیدا کیا۔
Ayah 74:12

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور پھر میں نے اس کو بہت سامال دیا۔

(12) پھر میں نے اس کو بہت سا مال دیا۔
Ayah 74:13

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور ایسے بیٹے دیئے جو اس کی آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں۔

(13) اور ایسے بیٹے دیئے جو اس کی آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں یعنی اس کی خدمت بجا لانے کو۔
Ayah 74:14

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور ہر قسم کا دنیوی سامان اس کے لئے مہیا کیا۔

(14) اور ہر قسم کا دنیوی سامان اس کے لئے مہیا کردیا۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

اس پر بھی ہوس رکھتا ہے کہ میں اس کو اور زیادہ دوں۔

(15) وہ پھر بھی یہ ہوس اور لالچ رکھتا ہے کہ میں اس کو اور زیادہ دوں۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

یہ ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ وہ ہماری آیتوں کا دشمن ہے۔

(16) یہ ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ وہ ہماری آیتوں کا دشمن اور مخالف ہے۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

عنقریب میں اس کو سخت چڑھائی چڑھائوں گا۔

(17) عنقریب میں اس کو سخت چڑھائی چڑھائوں گا یعنی آگ کے پہاڑ پر۔
Ayah 74:18

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

کیونکہ اس شخص نے تامل کیا اور ایک اندازہ لگایا۔

(18) کیونکہ اس شخص نے تامل کیا اور سوچا اور ایک اندازہ لگایا۔
Ayah 74:19

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

سو یہ تباہ کیا جائے کیسا اندازہ لگایا۔

(19) پس یہ تباہ کیا جائے کیسا اندازہ لگایا۔
Ayah 74:20

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر وہ تباہ کیا جائے اس نے کیسا اندازہ لگایا۔

(20) پھر وہ تباہ کیا جائے اس نے کیسا اندازہ لگایا۔
Ayah 74:21

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اپنے اندازے میں غوروتامل کیا۔

(21) پھر اس نے غوروتامل کیا۔
Ayah 74:22

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر منہ بنایا اور تیوری چڑھائی۔

(22) پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔
Ayah 74:23

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔

(23) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔
Ayah 74:24

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر یہ کہنے لگا بس یہ قرآن تو ایک جادو ہے جو نقل ہوتا چلا آتا ہے۔

(24) پھر کہنے لگا بس یہ قرآن تو ایک جادو ہے جو اوروں سے منقول ہے۔
Ayah 74:25

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ قرآن تو صرف کسی آدمی کا کلام ہے۔

(25) یہ قرآن تو صرف کسی بشر اور آدمی کا کلام ہے - ولید بن مغیرہ قریش کا مظہور اور مالدار آدمی ہے نبی کریم ﷺ ایک روز حم السجدہ کی تلاوت فرما رہے تھے اس نے قرآن کو سن کر کہا یہ کلام بہت عمدہ ہے اس میں بڑی شیرینی ہے میں نے آج تک ایسا کوئی کلام نہیں سنا نہ یہ شعر ہے نہ کہانت ہے۔ لوگوں نے اس کی بات ابوجہل سے جاکر کہی اور اس کا اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید ولید مسلمان ہوگیا، چناچہ ابوجہل نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور ولید کو غیرت دلاتی اور اس کو کفر پر پختہ کردیا اور یہ مشہور ہوا کہ محمد کا کوئی ایسا لقب تجویز کیا جائے جو تمام عرب میں مشہور کردیاجائے۔ چناچہ ولید نے بہت غور کیا اور بالآخر خوب غور کرکے کہا، یہ بابل کا سحر ہے جو محمد تک کسی طرح پہنچ گیا ہے اور اسی سحر کا یہ اث رہے کہ خاندانوں میں تفریق ہوجاتی ہے اور ہر گھر میں پھوٹ پڑجاتی ہے۔ چنانچہ یہ رائے سب نے پسند کی ، یہ نبی کریم ﷺ اور کلام پاک سے سخت دشمنی کرتا تھا نہایت سخت زبان اور دریدہ دہن تھا۔ ہر وقت پیغمبر (علیہ السلام) کی ایذارسانی کے درپے رہتا تھا۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ مجھ کو اور اس شخص کو تنہا چھوڑ دے جس کو میں نے پیدا کیا ہے یا یہ مطلب ہے کہ مجھ کو اور اس شخص کو چھوڑ دے جس کو میں نے تنہا بلاشرکت غیرے پیدا کیا ہے۔ تیسرے معنی وہی عام معنی ہیں جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کئے ہیں کہ اکیلا اور تنہا پیدا کیا یعنی اس کے ساتھ کوئی سروسامان نہ تھا اور میں نے اس کو اکیلا اور تنہا پیدا کیا۔ چھوڑ دینے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس سے اے محمد آپ کا انتقام لینے کے لئے کافی ہوں اور میں نے اس کو بکثرت مال دیا چناچہ تمام عرب میں اس کے تجارتی مرکز تھے اور اس کو ریحانہ قریش کہتے تھے اور اس کو آنکھوں کے سامنے رہنے والے بیٹے دیئے یعنی جو اس کی خدمت بجا لاتے ہیں اور اس کی عزت اور محفل کی آبرو بڑھانے کو اس کے ساتھ رہتے ہیں اس کے لئے ہر قسم کا دنیوی سامان مہیا کیا یعنی ریاست اور جاہ عریض سے نوازا مطلب یہ ہے کہ ہر جگہ اس کی آبرو اور ہر جگہ اس کا پیسہ پھیلا ہوا تھا۔ تجارت مویشی اور زراعت کی طرف اشارہ ہے لیکن باوجود اس کثرت تنعم کے بجائے شکر بجا لانے کے یہ ہوس اور طمع کرتا ہے کہ میں اس کو اور زیادہ دوں یعنی حریص بہت ہے یہ ہرگز زیادہ دینے کے قابل نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ وہ ہماری آیت کا سخت دشمن اور مخالف ہے عنقریب میں اس کو یعنی مرنے کے بعد سخت چڑھائی چڑھائوں گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے صعود ایک پہاڑ ہے دوزخ میں جس پر بمشکل ستر برس میں چڑھے گا اور پھر وہاں سے اوپر پہنچنے کے بعد نیچے گرپڑے گا اس کو فرمایا سخت چڑھائی چڑھائوں گا آگے اس عذاب کی تعلیل ہے کہ قرآن کے متعلق اس نے سوچا اور تامل کیا کہ اس قرآن کی بات کیا رائے ظاہر کروں اور بےربط احتمالات قائم کرکے ایک اندازہ لگایا اور ایک بات تجویز کی سو اس پر خدا کی مار ہو اور یہ مارا جائے کیسا اندازہ لگایا۔ پھر غایت مذمت اور استبعاد کے لئے مکرر فرمایا پھر وہ تباہ کیا جائے اور ہلاک کیا جائے اس پر لعنت کی جائے کیسا دوراز افکار اندازہ لگایا اور کیسی غیر معقول تجویز کی۔ پھر اپنے اندازے میں غور کیا اور تامل کیا یعنی لوگوں کے سامنے اپنی تجویز کو ظاہر کرنے سے پہلے پھر سوچا، یا مجمع پر نظر ڈالی پھر منہ بنایا اور تیوری چڑھائی پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا غرض ہر طرح اور پنے ہر انداز سے کراہیت اور نفرت کا اظہار کیا۔ پھر کہنے لگا بس اور کچھ نہیں یہ جادو ہے جو دوسروں سے نقل ہوتا چلا آیا ہے یہ قرآن تو صرف کسی بشر کا کلام ہے غرض یہ خبیث پہلے اقرار کرچکا تھا کہ یہ کلام بےمثل ہے اور کسی انسان کا کلام نہیں اب جو برادری کی بات آپڑی تو محض برداری کی خوشنودی کے لئے بہت سی کروٹیں بدلیں بہت سے پہلو بدلے تہتنی بنائی تیوری پر بل ڈالے تکبر کا اظہار کیا اور پیٹھ پھیر کر بدبخت نے کہا یہ تو منقول شدہ جادو ہے اور یہ تو آدمی کا کلام ہے تمام بےربط احتمالات میں سے یہ بات چلتی ہوئی کہہ دی حالانکہ یہ احتمال بھی تو تھا کہ یہ کلام خدا کا کلام ہو اور فرشتہ محمد ﷺ کی خدمت میں لایا ہو اس تنگ نظری اور تعصب اور حق دشمنی کی آگے سزا بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

میں عنقریب اس کو دوزخ میں داخل کروں گا ۔

(26) میں عنقریب اس کو دوزخ میں جھونکوں گا اور سقر میں داخل کروں گا یعنی مرنے کے بعد اس ملعون کا ٹھکانہ سقر ہوگا۔
Ayah 74:27

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور اے پیغمبر آپ کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے۔

(27) اور اے پیغمبر آپ کو خبر ہے کہ سقر کیسی چیز ہے سوال اس کی تھویل اور ہوگنا کی بیان کرنے کے لئے ہے۔
Ayah 74:28

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

وہ نہ کچھ باقی رکھے اور نہ کسی کو چھوڑے۔

(28) وہ سفر یعنی دوزخ نہ کچھ باقی روکھے نہ کچھ چھوڑے یعنی کسی چیز کو باقی نہ رکھے گا سب کو جلا ڈالے گی اور جلا کر بھی پیچھا نہ چھوڑے گی، بلکہ پھر کھال کو ٹھیک کردیاجائے گا اور وہ دوزخ پھر جلائے گی اور یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو داخل ہوں سقر میں ان کو باقی نہ رکھے یعنی جلا ڈالے اور جو باہر ہوں ان کو اندر داخل کیے بغیر نہ چھوڑے سب کو جہنم میں گھسیٹ لے۔
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

کھال کو جھلس کر سیاہ کردینے والی ہے۔

(29) وہ سقر یعنی دوزخ کھال کو جلا کر جھلسا کر سیاہ کردینے والی ہے۔ ہم بتا چکے ہیں کہ سقر درکات جہنم میں سے ایک درک کا نام ہے جس کی آگ بہت تیز ہے بشر کا ترجمہ بعض حضرات نے انسان اور آدمی کیا ہے یعنی وہ آگ آدمیوں کو جلا کر سیاہ کردیگی۔ بعض حضرات نے نواحۃ کو لاح یلوت سے لے کر یہ ترجمہ کیا ہے ، نظر آتی ہے پنڈلی پر یعنی وہ آگ اس طرح رگ وپے میں جذب ہوجائیگی کہ بدن کے اوپر سے نظر آتی ہوگی جس طرح تپتے ہوئے لال لوہے میں آگ دکھائی دیتی ہے۔ بہرحال ان آیتوں پر حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ لکھا ہے وہ ذیل میں ہم نقل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب پھونکے صور، پھر وحیداً پر فرماتے ہیں یعنی اپنے باپ کے ہاں ایک بیٹا جس کا شریک نہ ہوا اور بھائی یا اکا دنیا کی لیاقت میں۔ پھر فرماتے ہیں کہتے ہیں یہ ولید کافر کو فرمایا وہ دور دور ملک دیکھ آتا تھا کافروں نے اس کو کہا تو سن محمد ﷺ کیا پڑھتا ہے تجویز کر کہ کیا ہے۔ حضرت نے پڑھا تب اس نے منہ بنا کر کہا کہ یہ جادو ہے۔ صعورا پر فرماتے ہیں دوزخ میں ایک پہاڑ ہے سیدھا کافروں ک و اس پر ہمیشہ چڑھوادیں گے یہ بھی ایک عذاب ہے، پھر فرماتے ہیں جیسے لوہا دہکتا سرخ نظر آتا ہے آدمی کے پنڈے پر وہ سرخ نظر آئے گا۔
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس جہنم پر انیس فرشتے مقرر ہیں۔

(30) جہنم پر انیس فرشتے مقرر ہیں یعنی یہ فرشتے خزنہ جہنم ہیں ان میں ایک کا نام مالک ہے جس کو داروغہ کہا جاتا ہے ، بہرحال اس عدد پر کفار نے استہزاء کیا کہ بس انیس فرشتے ہیں اور ہم تو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہوں گے تو وہ ہم کو کیسے عذاب کرسکیں گے ہماری تعداد ان سے کہیں زائد ہوگی چناچہ آگے اس کا جواب ہے۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کا کارکن سوائے فرشتوں کے اور کسی کو نہیں بنایا اور ہم نے جوان فرشتوں کی تعداد صرف کافروں کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی غرض سے رکھی ہے تو اس لئے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور اہل ایمان اپنے ایمان کے اعتبار سے اور زیادہ قوی ہوجائیں اور اہل کتاب اور مسلمان اس تعداد میں شک نہ کریں اور تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اور منکرین حق یوں کہیں کہ آخر اس قسم کا عجیب مضمون بیان کرنے سے اللہ کا مقصد کیا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے صحیح راہ دکھا دیتا ہے اور آپ کے پروردگار کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا اور یہ دوزخ کا حال بیان کرنا صرف بنی نوح انسان کے لئے ایک نصیحت ہے۔ سن رکھو دوزخ کا انکار نہ کرو۔

(31) اور ہم نے دوزخ کے نگہبان اور کارکن سوائے فرشتوں کے اور کسی کو نہیں بنایا یعنی فرشتے بنائے ہیں اور ہم نے جو ان فرشتوں کی تعداد صرف کافروں کی آزمائش کی غرض سے رکھی ہے تو اس لئے تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور اہل ایمان اپنے ایمان کے اعتبار سے اور زیادہ قوی ہوجائیں اور اہل کتاب اور مسلمان اس تعداد میں شک نہ کریں اور تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری اور وگ ہے وہ اور دین کے منکر یعنی منافق اور کافر یوں کہیں کہ آخر اس قسم کا عجیب مضمون اور اس قسم کی کہاوت بیان کرنے سے اللہ کا مقصد کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس مثل سے کیا ارادہ کیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بےراہ کردیتا ہے اور گمراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے صحیح راہ دکھاتا ہے اور اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور آپ کے پروردگار کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا اور یہ دوزخ کا مضمون اور دوزخ کا حال بیان کرنا صرف بنی نوح انسان کے لئے ایک نصیحت ہے فرشتوں کی تعداد انیس بتائی یہ موکلان عذاب ہیں۔ بعض علماء نے اس تعداد کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ عقائد قطعیہ اور مامورات ومنہیات جن کو رفوع ایمان کہتے ہیں ان کی تعداد انیس ہے اس لئے ان کے منکروں پر انیس فرشتے مقرر کئے گئے ہیں بعض نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے فرشتے مختلف کاموں پر مقرر ہیں۔ اور جو فرشتہ جس کام پر مقرر ہے وہ وہی کام کرتا ہے دوسرا نہیں کرسکتا۔ جیسے انسان کے اعضاء آنکھ دیکھنے کا کام کرتی ہیں وہ سننے کا کام نہیں کرسکتی ، کان سننے کا کام کرسکتا ہے وہ دیکھنے اور چکھنے کا کام نہیں کرسکتا، زبان چکھنے کا کام کرسکتی ہے تو وہ دیکھنے اور سننے کا کام نہیں کرسکتی۔ اسی طرح عذاب کی انواع واقسا م بھی انیس ہیں اور ہر فرشتہ ایک خاص قسم کے عذاب پر موکل ہے اور وہو وہی عذاب کرسکتا ہے جس طرح جبرئیل (علیہ السلام) بارش کا انتظام نہیں کرسکتے اسی طرح حضرت میکائیل (علیہ السلام) لوگوں کی جان قبض نہیں کرسکتے، اگرچہ ہر فرشتہ کتنی ہی طاقت کیوں نہ رکھتا ہو مگر وہ اپنے مفروضہ کام کے علاوہ دوسرا کام نہیں کرسکتا۔ پس اگر ایک ہی قسم کا عذاب مقصود ہوتا تو ایک ہی فرشتہ مقرر کیا جاتا لیکن چونکہ طرح طرح کا عذاب دینا مقصود ہے اس لئے انیس فرشتے مقرر کئے گئے۔ تسعنا عشر کے عدد سے شاید منکروں کو یہ خیال ہوا ہو کہ یہ انسان ہوں گے اس کا جواب دیا گیا کہ ہم نے جہنم کے کارکنان صرف فرشتے مقرر کئے ہیں آدمی نہیں مقرر کئے آگے اس تعداد پر اور چند غایات مرتب فرمائیں۔ کفار کے لئے موجب فتنہ ہو، چناچہ اس تعداد پر ان کا الجھنا اور ان کا گمراہ ہونا ظاہر ہے جیسا کہ آگے آئے گا اہل کتاب کا سنتے ہی یقین کرلینا کہ حضرت محمد ﷺ واقعی پیغمبر برحق ہیں کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی تعداد فرشتوں کی انیس ہے یا یہ کہ وہ فرشتوں کی بےپناہ طاقت کے قائل تھے اب اگر ان کتابوں میں موجود نہ ہو تو شاید اور باتوں کی طرح یہ بھی ضائع ہوگیا ہوگا۔ بہرحال اس عدد پر اہل کتاب یقین کریں اور مسلمانوں کے ایمان کا کمال بڑھے اور کیفیت ایمان اور قوت ہو، نیز جب ایک چیز کا اور علم ہوا تو اس پر ایمان لانے سے اور افراد ایمان میں اضافہ ہو اس لئے یہاں ایمان کی زیادتی کیفا اور کما دونوں طرح ہوسکتی ہے ولا یرتاب تاکید کے طور پر فرمایا کہ نہ اہل کتاب کو کوئی انکار اور استہزا کا موقعہ ہو کیونکہ بات ایسی ہے جس کو وہ جانتے ہیں اور نہ مسلمانوں کو شک کی گنجائش ہو۔ بہرحال یہ تین باتیں ہوئیں اہل کتاب کا استیقان اہل ایمان کا ازدیادایمان اور اپنی حیثیت کے موافق دونوں کا عدم ارتیاب ۔ اہل کتاب کا اس بنا پر سنی ہوئی اور پڑھی ہوئی بات اس پیغمبر پر نازل ہوئی اور اہل ایمان ک و اس بنا پر کہ بدن تعلیم کے وہ بات فرمائی جو سابقہ انبیاء کہتے تھے۔ چوتھی بات اور چوتھی غایت کفار کی گمراہی کی تعداد کے تقرر کا نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ منافق اور کافر اس پر معترض ہوں گے اور کہیں گے کہ آخر اس سے اللہ تعالیٰ کا مقصد کیا ہے یہ تعداد فرشتوں کی کیوں بیان کی گئی ہے تمام مخلوق کے سامنے یہ فرشتے کیا حقیقت رکھتے ہیں اور اگر یہ ایندھن جمع کرنے کے لئے ہیں تو بھی ناکافی ہوں گے اسی کو فرمایا کذلک یضل اللہ من یشآء ویھدی من یشآء کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست دیکھا کر اس کی رہنمائی فرماتا ہے یعنی ایک سیدھی سادھی بات پر الجھنا اور ہر حکم خداوندی کی مصلحت کو تلاش کرنے کی کوشش کرنا اور اس پر ضد کرنا اور اس کا انکار کرنا یہی گمراہی کی علامتیں ہیں اور یہی وہ امور ہیں جن کیوجہ سے توفیق الٰہی اپنا دامن کھینچ لیتی ہے۔ آگے تتمہ ہے کہ انیس کی تعداد اور مصلحت کے درپے ہوکر الجھنا گمراہی ہے یہ تعداد کسی حکمت اور مصلحت سے ہے ورنہ آپ کے پروردگار کے لشکر یعنی فرشتوں کی تعداد کو سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اس قدر بیشمار فرشتوں کی موجودگی میں پھر خزنہ جہنم انیس کو مقرر کرنا ان کی غایت مصلحت ہے اور خدا جانے ان انیس کے اعوان و انصار کس قدر ہوں گے۔ مختلف روایات میں صرف جہنم کی باگیں تھامنے اور پکڑنے والوں کی تعداد ستر ہزار ہے کیا خوب فرمایا وما یعلم جنود ربک الا ھو، دوزخ کا مضمون بیان کرنے سے مقصد کیا تھا اور یہ بدنصیب گمراہ الجھ کر کس میں رہ گئے حالانکہ دوزخ کا حال بیان کرنا اور دوزخ کے مضمون کا بیان کرنا صرف انسانوں کی نصیحت کے لئے ہے دوزخ اور اس کے مقصد کا اظہار صرف لوگوں کی بھلائی اور ان کی خیر خواہی کے لئے آگے پھر اس کی تفصیل مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جو فرمایا کہ دوزخ پر مقرر ہیں انیس شخص کافر ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم ہزاروں ہیں انیس ہمارا کیا کریں گے ، تب یہ فرمایا کہ وہ آدمی نہیں فرشتے ہیں تم سب کے واسطے ایک ہی کفایت ہے مگر یہ گنتی بتائی ہے موافق اگلی کتابوں کے کہ اس کے سچ کی دلیل ہو۔
Ayah 74:32

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

میں قسم کھاتا ہوں چاند کی

(32) جہنم کے مضامین کا ہرگز انکار نہ کرو یا سن رکھو یا بالتحقیق یا میں سچ کہتا ہوں، قسم ہے چاند کی۔
Ayah 74:33

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے۔

(33) اور قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیر کے جانے لگے۔
Ayah 74:34

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جبکہ وہ نمایاں ہوجائے ۔

(34) اور قسم ہے صبح کی جب روشن اور نمایاں ہوجائے۔
Ayah 74:35

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

کہ وہ جہنم بڑی بڑی ہولناک چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔

(35) کہ وہ جہنم بڑی ہولناک…اوردہشت ناک چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔
Ayah 74:36

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

وہ انسان کو خوف زدہ کرنے والی چیز ہے۔

(36) وہ آدمی کو خوف زدہ کرنے والی اور ڈرانے والی چیز ہے۔
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

جو تم میں سے چاہے کہ آگے بڑھے اس کے لئے بھی یا جو پیچھے رہے اس کے لئے بھی۔

(37) جو تم میں سے کوئی آگے بڑھنا چاہے اس کے لئے بھی اور جو پیچھے رہے اس کے لئے بھی۔ کلا اصل میں تو ردع اور جھڑکی کے لئے ہے اس جگہ کی مناسبت سے اپنے حضرات نے کئی طرح معنی کئے ہیں ہم نے تقریباً سب لکھ دیئے ہیں اس کے بعد چاند کی قسم ہے جس کا گھٹنا بڑھنا آنکھوں کے سامنے ہے یہ نمونہ عالم کے نشو و نما اور اضمحلال کا رات کا جانا اور صبح کا آنا نمونہ ہے فنا اور بقا کا۔ جس طرح رات ختم ہوکر دن نکلتا ہے اور رات کے اندھیرے میں چھپی ہوئی سب چیزیں منکشف ہوجاتی ہیں اور ہر شئے کی حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے اسی طرح اس عالم کے بعدجب دوسرے عالم کی روشنی ظاہر ہوگی اس وقت حق اور باطل علیحدہ علیحدہ نظر آجائے گا، یہ سب قسمیں ہی مناسبت سے فرمائیں قسموں کے جواب میں فرمایا اس دوزخ کو معمولی چیز نہ سمجھو، وہ منجملہ دوسرے مصائب اور ہولناک و دہشت انگیز بڑی بڑی چیزوں میں سے ایک الم ناک اور خطرناک چیز اور بڑی بھاری چیز ہے جو انسان کے لئے ڈرانے والی اور بڑا ڈراوا ہے کوئی چاہے آگے بڑھنا تو بڑھے اور کوئی پیچھے رہے تو رہے یعنی دوزخ تمام کلفین کے لئے ڈراوے کی چیز ہے۔ آگے بڑھنے اور پیچھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی خیر میں آگے بڑھنا چاہے یا خیر سے پیچھے رہے دوزخ ہر شخص کے لئے ڈرنے کی چیز ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگے بڑھے بہشت کو یا پیچھے رہے دوزخ میں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ دوزخ ہر شخص اور مکلف کے لئے ڈراوے کی چیز ہے کوئی آگے بڑھ کر اور نیک کام کرکے جنت میں داخل ہوجائے یا کوئی وہمی الجھنوں میں الجھ کر اور بےہودہ تخیلات میں مبتلا ہوکر جہنم میں رہ جائے آگے بڑھے بھلائی میں یہ پیچھے رہے بدی میں۔ صاحب تفسیر عزیزی نے چاند کی قسم پر لکھا ہے کہ انیس راتیں چاند کی زیادہ روشن ہوتی ہیں اور ان روشن راتوں میں نباتات پر بلکہ حیوانات پر عجیب و غریب اثرات مرتب ہوتے ہیں جو اندھیری راتوں میں اس قدر نہیں ہوتے صاحب تفسیر عزیزی کی اس تقریر پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چاند کی قسم کھانے سے وہ دوزخ کے نگراں فرشتوں کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے جو صاحب چاہیں وہ تفسیر عزیزی کا مطالعہ فرمائیں۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے رہن رکھا ہوا ہے۔

(38) ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے رہن رکھا ہوا ہے یعنی ہر شخص اپنے کئے کاموں میں پھنسا ہوا ہے ہم سورة طور میں تفصیل عرض کرچکے ہیں یعنی ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے محبوس ہے جس طرح شئے مرہونہ محبوس ہوتی ہے اور یہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرضہ ادا کردو اور اپنی چیز لے لو ، یہی حالت اعمال کی ہے ، اللہ تعالیٰ نے بندہ کو جن چیزوں کا مکلف کیا ہے اگر وہ بجالائے اور ان حقوق کو پورا کردے تو گردن چھٹ جائے اور اگر ان حقوق کو پورا نہیں کیا تو اسی طرح محبوس سمجھو جس طرح شئے مرہونہ محبوس ہوتی ہے۔ آگے ان مخصوص حضرات کا استثنا ہے جو حقوق اور فرائض کی بجاآوری کے باعث سبکدوش ہوچکے ہیں، چناچہ فرماتے ہیں۔
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

مگر ہاں داہنی طرف والے۔

(39) مگر داہنی جانب والے اس حبس اور رہن سے مستثنیٰ ہیں۔ یعنی الست کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی داہنی جانب تھے دنیا میں بھی راست رو رہے، قیامت میں عرش الٰہی کے دائیں جانب جگہ ملی اور ان کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیئے گئے۔ یہ حضرات اصحاب یمین کہلاتے ہیں جیسا کہ سورة واقعہ میں ذکر کیا جاچکا ہے اور جب اصحاب یمین مستثنیٰ ہوئے تو سابقون کو بالادلیٰ مستثنیٰ سمجھنا چاہیے۔ بہرحال یہ حضرات محبوس ہونے سے مستثنیٰ ہوں گے یہ حقوق واجہ ادا کردینے کی وجہ سے مرہون نہ ہوں گے آگے ان اصحاب یمین کی مزید تفصیل ہے۔
Ayah 74:40

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

کہ وہ بہشتوں میں ہوں گے دریافت کرتے ہوں گے۔

(40) کہ وہ اصحاب یمین بہشتوں میں ہوں گے دریافت کرتے ہوں گے۔