Ayah 73:1(1) اے کپڑوں میں لپٹنے والے۔
Ayah 73:2(2) رات کو تہجد کی نماز میں کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی رات۔
Ayah 73:3(3) جو نصف رات ہو یا اس نصف سے بھی کچھ کم کردیا کرو۔
Ayah 73:4(4) یا نصف رات سے کچھ بڑھا دیا کرو اور قرآن کو ٹھہرا ٹھہرا صاف اور واضح پڑھا کرو۔
حضرات مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سورت میں مزمل سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے اور ازراہ تلطف یہ خطاب حضور ﷺ کو فرمایا ہے نبی کریم ﷺ کی عام عادت تھی کہ آپ ایک کمبل جو چود ہاتھ طویل تھا اپنے تمام جسم پر لپیٹ لیا کرتے تھے یہ کمبل اتنا لمبا تھا کہ بعض دفعہ اس کا حصہ حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ بھی اوڑھ لیا کرتی تھیں یا یہ کہ آپ پر جب پہل مرتبہ وحی آئی تو آپ پر فرشتے کی آواز سے ہیبت طاری ہوگئی۔ اور آپ غار حرا سے مکان میں تشریف لائے اور فرمایا مجھے کپڑا اڑھائو مجھے آج ایک دہشت ناک واقعہ پیش آیا اور شاید اس نئی اور خوفناک بات سے میری جان جاتی رہے گی جب حضرت خدیجۃ الکبری ؓ نے آپ کو کپڑا اڑھا دیا اور آپ کو اطمینان دلایا تو اسی حالت میں حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے یہ محبت آمیز خطاب دیا گیا۔
کہ اپنے کپڑوں میں لپٹنے والے یا یہ کہ کفار مکہ نے باہمی مشورہ کیا کہ آپ کا کوئی مناسب لقب تجویز کیا جائے چناچہ کسی نے کاہن تجویز کیا کسی نے مجنون کسی نے ساحر غرض بڑی بحث مباحثہ کے بعد ساحر پر اتفاق ہوا جب آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ رنجیدہ اور غمگین ہوئے اور ایک چادر اوڑھ کر متفکر بیٹھ گئے اسی حالت میں ارشاد ہوا۔ یا یھا المزمل۔
اس ارشاد میں ہر اس شخص کو تنبیہہ ہے جو رات بھر کر کپڑا اوڑھ کر سوتا ہے اور رات میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ جو اسم کسی فعل سے مشتق ہوتا ہے اس نام میں مخاطب کے ساتھ ساتھ اس عمل کے ہر عامل کو شریک سمجھا جاتا ہے۔
بعض مفسرین نے اس کو زمل سے مشتق کہا ہے زمل کے معنی بوجھ اور وزن کے ہیں یعنی اصل میں متزمل ہے تاکوز اسے بدل کر زاکوزا میں ادغام کردیا ہے لیکن جن لوگوں نے زمل سے مشتق کیا ہے ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ اے نبوت کے بار کو اٹھانے والے رات میں عبادت کے لئے کھڑے رہا کیجئے یعنی رات بھر عبادت کیجئے مگر تھوڑی رات کو اس میں قیام نہ کر بلکہ آرام کرو یعنی نصف رات یا نصی سے کسی قدر کم کردو یعنی نصف سے کم قیام کرو اور نصف سے زیادہ آرام کرو یا نصف سے کچھ بڑھا دو یعنی نصف سے زیادہ قیام کرو اور نصف سے کم آرام کرو نصف سے کم کردو کا مطلب یہ ہے کہ ایک ثلث رات عبادت کرلو اور دو ثلث آرام کرو اور نصف سے زیادہ کا یہ مطلب ہے کہ دو ثلث رات قیام اور ایک ثلث شب میں آرام کرو جیسا کہ اس سورت کے دوسرے رکوع سے معلوم ہوجائے گا۔
غرض قیام لیل تو وجوبی امر ہے البتہ ایک ثلث یا دو ثلث میں تخییر ہے اور اس قیام لیل میں قرآن کو خوب ٹھہرا ٹھہرا کر صاف ایک ایک لفظ کو الگ الگ کرکے پڑھا کیجئے اگرچہ قرآن کو ٹھہرا کر پڑھنے کا ہر نماز میں حکم ہے بلکہ غیر نماز میں بھی تلاوت قرآن کا یہی حکم ہے۔
یہاں تحقیق محض مقام کے اعتبار سے ہے ٹھہرا ٹھہرا صاف پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ضاد اور ظاتا اور طا ثا اور سا میں فرق ہو ضمہ فتح اور کسرے میں امتیاز ہو وصل اور فصل اور وقوف میں تحسین ہو شد اور مد کی رعایت ہو ان تمام امور کی قراءت میں رعایت رکھ کر قرآن کو پڑھا کرو اس کی ترتیل کہتے ہیں ہم نے عام مفسرین کی تحقیق کے موافق شرح کی ہے۔
اگرچہ بعض حضرات کا بھی قول ہے کہ ہر ات اپنے پروردگا کی عبادت کے لئے رہا کیجئے مگر کسی رات کو یہ قیام نہ ہوسکے تو معاف ہے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ سورت اول میں اتری ہے جب وحی کی دہشت سے حضرت کو اجاڑا لگا اپنے اوپر کپڑے لپیٹے اللہ نے یہی نام لے کر پکارا رات کو کھڑا رہ یعنی نماز پڑھ رات کو اول اس دین میں رات ہی کی نماز فرض ہوئی مگر کسی رات نہ ہو تو معاف ہے۔ (واللہ اعلم)
تہجد کی نماز پر کئی دور گزرے ہیں تفصیل کے لئے تفسیر عزیزی ملاحظہ کی جائے۔
Ayah 73:5(5 ) ہم عنقریب آپ پر بہت وزنی فرمان اور بھاری کلام نازل کریں گے۔ مراد قرآن شریف ہے قول ثقیل یہ کہ اپنے دلائل و احکام کی عظمت کے لحاظ سے تمام ادیان باطلہ پر بھاری ہے نزول کے وقت کا ثقل تو ظاہر ہے کہ سرد ی کے موسم میں پسینے آتے تھے اور پسینہ ٹپکتا تھا اگر سواری پر سوار ہوتے تو نزول وحی کے وقت وہ بوجھ سے دب جاتی تھی غرض کلام الٰہی کے نزول کے وقت جو ثقل اور بوجھ ہوتا تھا اس کی طرف اشارہ ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ریاضت کر تو بھاری بوجھ آسان ہو۔
خلاصہ : یہ کہ شب بیداری اور ریا ض کی علت بیان فرمائی کہ جس قدر ریاضت کرو گے تو نفس کی استعداد اکمل اور اقوی ہوگی اور اس استعداد کا قوی کرنا ضروری ہے تاکہ بھاری کلام برداشت کیا جاسکے۔ کلام الٰہی کو بھاری اور ثقیل شاید اس لئے بھی فرمایا ہو کہ اس کی تبلیغ اور لوگوں تک پہنچانے میں بڑی بڑی دشواریوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور بڑی بڑی ثقیل باتیں سننی پڑیں گی آگے قیام نسیل کی ایک اور علت بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 73:6(6) بیشک رات کا اٹھنا نفس کو پامال کرنے کے اعتبار سے بہت موثر اور بات کہنے کے اعتبار سے بہت ٹھیک ہے - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بڑی ریاضت یہ کہ نفس روندا جاتا ہے ٹوٹتا ہے اور اس وقت دعا اور ذکر سیدھا ادا ہوتا ہے دل سے۔
خلاصہ : یہ کہ رات کو نیند چھوڑ کر اٹھنا پھر وضو کا اہتمام کرنا نماز میں کھڑے رہنا اس نفس خوب ہی پامال ہوتا ہے ۔ پھر رات کی تنہائی اور خاموش اور غل غپاڑے سے یک سوئی قلب کو اطمینان ۔ یہ سب باتیں اس امر کی مویدہوتی ہیں کہ جو بات نکلتی ہے اور جو دعا ہوتی ہے یا ذکر الٰہی اور دعا وغیرہ وہ سب دل سے نکلتی ہے اور زبان و دل میں موافقت ہوتی ہے اور جو بات نکلتی ہے سیدھی نکلتی ہے اور رات کو حضور قلب حاصل ہوتا ہے۔ آگے شب میں عبادت کرنے کی ایک اور حکمت کا بیان ہے، ناشئہ عافیہ اور عاقبہ کے وزن پر ہے جس کے معنی اوقات لیل اور ساعات شب ہے بعض نے کہا ناشئہ سے مراد و حادثات ہیں جو ساعات شب میں واقع ہوتے ہیں۔
Ayah 73:7(7) بے شک آپے لئے دن میں طویل شغل اور بہت کام رہتا ہے۔ یعنی دن میں آپ کو بہت کام رہتا ہے تبلیغ کا کام ، خدمت خلق ، مریصوں کی عیادت، جنازے کی متابعت ، فقراء اور غربا کی خبرگیری، فصل مقدمات اور مسلمانوں کے بیشمار کام، غرض چونکہ آپ کو دن میں لمبے چوڑے شغل رہتے ہیں اس لئے آپ کے لئے مخصوص عبادت اور توجہ الی اللہ کے لئے رات کا وقت بہتر اور مناسب ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دن کو لوگوں کو سمجھاتا ہے عبادت کا وقت مقرر کر رات کو۔
Ayah 73:8(8) اور آپ اپنے پروردگار کا نام یاد کرتے رہا کیجئے اور ماسوا اللہ سے کٹ کر اس کی جانب متوجہ رہیے۔ مطلب یہ ہے کہ قیام شب کے علاوہ دوسرے اوقات میں بھی اپنے پروردگار کے نام کو یاد کرتے رہیے اور سب سے قطع ہوکر پروردگار کی جانب متوجہ رہیے یعنی ذکر الٰہی اور تبتل ہر وقت کا فرض ہے۔ تبتل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو تعلق قائم ہو وہ دوسرے سب تعلقات پر غالب ہو۔
بعض علماء نے فرمایا اخلاص اور توکل مراد ہے بعض اہل لغت نے فرمایا جب عابد عبادت الٰہی کے علاوہ ہر چیز سے قطع تعلق کرلے تو اس کو تبتل کہتے ہیں یعنی حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق ہو کہ ہر وقت اسی کا دھیان رہے اور اسی کی جانب توجہ مرکوز رہے اور تمام تعلقات اسی کے تعلق میں مدغم ہوجائیں۔
Ayah 73:9(9) اور وہ مشرق ومغرب کا مالک اور پروردگار ہے اس کے سوا کوئی دوسرا قابل پرستش اور پوجنے کے لائق نہیں لہٰذا آپ اسی کو اپنا کام بنانے والا مقرر رکھیے اور آپ اپنا ہر کام سپرد کرنے کے لئے اسی کی تجویز کیجئے۔
مطلب یہ ہے کہ آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کی جگہ کا وہی مالک ہے یعنی تمام عالم کا وہی مالک ہے جب وہی بادشاہ اور وہی پروردگار ہے تو آپ اپنا کارساز اور مددگار اسی کو بنائیے۔ جیسا کہ اب تک اسی کو اپنا وکیل سمجھتے ہیں اور تمام کام اسی کے سپرد کرتے رہا کیجئے اور اس کے تعلق کے مقابلے میں کسی اور کے تعلقات کی پروانہ کیجئے۔
Ayah 73:10(10) اور یہ دین حق کے منکر آپ کی ایذا رسانی کے لئے جو کچھ کہتے ہیں اس کو سہتے اور برداشت کرتے رہیے اور خوش اسلوبی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہوجائیے۔
پیغمبر (علیہ السلام) کو ایذا پہنچانے کی غرض سے صرف حضور اکرم ﷺ کی شان اقدس ہی میں گستاخی نہ کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی عیب لگاتے تھے قرآن کو بھی برا کہتے تھے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی بھی توہین کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ ان سب باتوں سے حضور ﷺ کو تکلیف ہوتی تھی ان سب باتوں پر حضور کو صبر کی تعلیم دی اور یہ سہار کی طاقت اور برداشت کی قوت رات کی عبادت ہی سے میسر ہوتی ہے۔ اس لئے قیام لیل کا حکم دینے کے بعد یہ فرمایا کہ کفار کی اذیت اور ایذارسانی پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ ا ن سے الگ ہوجائو ہجر جمیل کو ظاہر میں بےتعلق مگر باطن میں ان کی صحبت کی جانب رغبت اور میل نیز ان کی بدسلوکی کا کسی سے شکوہ نہ کیا جائے نہ شکایت نہ انجام کی فکر کی جائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خلق سے کنارہ کر لیکن لڑ بھڑ کر نہیں سلوک سے۔
Ayah 73:11(11) اور اے پیغمبر مجھ کو اور ان جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والے ارباب تنعم اور نازونعمت میں رہنے والوں کو موجودہ حالت پر چھوڑ دیجئے اور ان کو تھوڑی مہلت اور دیجئے۔
Ayah 73:12(12) بے شک ہمارے پاس بھاری بھاری بیڑیاں ہیں اور آتش سوزاں اور آگ کا ڈھیر ہے
Ayah 73:13(13) حلق میں پھنس جانے اور اٹک جانے والا کھانا ہے اور دردناک عذاب ہے یعنی یہ اہل نعمت اور مرفہ الحال لوگ جو آپ کی تکذیب کرنے والے ہیں اور ان کو اور مجھ کو چھوڑ دیجئے اور ان کو میرے سپرد کردیجئے، میں خود ان سے سمجھ لوں گا تھوڑا سا موقعہ ان کو اور دیجئے ان کے عذاب کے لئے جلدی نہ کیجئے تاکہ ان کے گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوجائے نیز جن کو اسلام کی دولت سے سرفراز ہونا ہے وہ اسلام قبول کرلیں۔ بلاشبہ ہمارے پاس عذاب کا بہت سامان ہے بیڑیاں ہیں جیسا کہ سورة حاقہ میں گزر چکا ہے ، دوزخ اور اس کی آگ کا ڈھیر ہے خوراک ایسی ہے جو نگلتے وقت حلق میں پھنس جائے گی۔
زقوم مراد ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ ضریع ہو، عوسج کا کانٹا ہو، یا اور کوئی گلوگیر خار ہو جو حلق میں اٹک جائے اور نہ اگلا جائے اور نہ نگلا جائے۔ (العیاذ باللہ)
اور درد ناک عذاب یعنی اگر دنیا میں کوئی سزا نہ ملی تو آخرت کا عذاب تو موجود ہی ہے یہ آخرت کا عذاب اس دن ہوگا۔
Ayah 73:14(14) جس دن زمین اور پہاڑ زلزلے سے ہلنے اور تھر تھرانے لگیں اور پہاڑ رریگ رواں کے ٹیلے ہوجائیں۔ یعنی زلزلہ سخت ہوگا اور پہاڑ ریت کا ڈھیر بن جائیں گے جس طرح ریت کا ڈھیر پھسلواں ہوتا ہے پہاڑوں کی یہی حالت ہوجائے گی۔ کثیب ریت کا ٹیلہ ، مہیل، وہ ریت جو جمع ہونے کے بعد ہوا سے بہتی پھرے، آگے اثبات رسالت کا ذکر فرمایا۔
Ayah 73:15(15) بلاشبہ ہم نے تمہاری جانب تم پر گواہی دینے والا اور تمہارے احوال بتانے والا ایک ایسا رسول بھیجا ہے جیسا ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا
Ayah 73:16(16) سو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی پھر ہم نے فرعون کی بہت ہی سخت گرفت کی یعنی سابقہ پیشین گوئیوں کی بنا پر ان پیشین گوئیوں کا مصداق تمہاری طرف نبی آخرالزماں کو رسول بنا کر بھیجا جیسا ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو صاحب شریعت رسول بناکر فرعون کی طرف بھیجا تھا جس طرح وہ اصحب کتاب اور صاحب شریعت تھے اسی طرح یہ نبی بھی صاحب شریعت اور صاحب کتاب ہے اور تمہارے احوال بتانے والا ہے یعنی قیامت میں فرماں برداروں اور نافرمانوں کو بتائے گا۔
پھر فرعون کا حال تم کو معلوم ہے کہ جب اس نے اپنے پیغمبر کی نافرمانی کی اور ان کا کہنا نہ مانا تو ہم نے اس کو سخت قسم کا پکڑنا پکڑا۔ اسی طرح جو اس پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ان نافرمانوں کے ساتھ بھی معاملہ عذاب کا کیا جائے گا۔ لہٰذا اگر تم بھی کفر پر قائم رہے اور دین حق کا انکار کرتے رہے تو اس دن سے جو آنے والا ہے، کس طرح بچ سکتے ہو۔
Ayah 73:17(17) پس اگر تم کفر پر قائم رہے تو اس دن کی مصیبت اور عذاب سے کیسے بچو گے جو دن اپنی شدت وہیبت اور امتداد کی وجہ سے بچوں کو بوڑھا بنادے گا۔
Ayah 73:18(18) وہ دن ایسا ہے جس دن آسمان پھٹ جائے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہوکر رہے گا۔ یعنی اگر دنیا میں کچھ دن بچے بھی رہے تو آخر اس دن سے کیسے بچوگے جو دن اتنا طویل ہوگا کہ بچوں کو بڑھاپا آجائے یا اتنا ہولناک اور دہشت ناک ہوگا کہ بچوں کے بال سفید ہوجائیں اور بچے بوڑھے ہوجائیں اس دن آسمان پھٹ جائے گا حضرت حق تعالیٰ کا وعدہ ضرور پورا ہونا ہے جو ہو کررہے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس دن کی شدت سے یا درازی سے اگرچہ وہاں جیسے ہیں تی سے رہیں گے پر مدت اتنی ہے کہ لڑکے بوڑھے ہوجائیں۔
خلاصہ : یہ کہ گ ایسا نہ ہگا بلکہ جو جیسا ہے ویسا ہی رہے گا مگر دن کی شدت اور طوالت ایسی ہوگی جس میں بچے بوڑھے ہوجائیں۔
Ayah 73:19(19) بلا شبہ یہ تمام مضمون ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے پروردگار تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے۔ یعنی یہ مضامین نصیحت کے بیان کیے گئے ہیں اور یہ مضامین سب نصیحت ہیں جو شخص اپنا نفع چاہے وہ ان نصائح پر عمل کرکے اپنے پروردگار سے مل جائے اس کا راستہ کھلا ہوا ہے کسی کے لئے روک نہیں ہے جو اس تک پہنچنا چاہتا ہے وہ ان نصائح پر عمل کرے اور پہنچ جائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رات جاگنے کا حکم ایک برس رہ کر موقوف ہوا اگلی آیت اتری۔
خلاصہ : یہ کہ شروع سورت میں جو شب بیداری اور رات کے جاگنے کا حکم ہوا تھا وہ تقریباً ایک سال کے بعد منسوخ ہوا۔
Ayah 73:20(20) بلا شبہ آپ کا پروردگار جانتا ہے کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ دوتہائی رات کے قریب اور کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت الٰہی میں کھڑے رہتے ہیں اور رات اور دن کا پورا اور صحیح اندازہ اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم ہے کہ تم وقت کا صحیح اور ٹھیک اندازہ کرنے پر قابو نہ پاسکو گے اور احاطہ نہ کرسکو گے لہٰذا اس نے تمہارے حال پر شفقت و مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی سو اب تم لوگ قرآن میں سے جو آسانی کے ساتھ پڑھ سکو پڑھ لیا کرو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ بیمار ہوں گے اور بعض لوگ اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی معاش تلاش کرنے کو ملک میں سفر بھی کریں گے اور بعض اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد بھی کریں گے لہٰذا اس لئے بھی اب جس قدر قرآن کا پڑھنا آسان ہو اتنا پڑھ لیا کرو اور فرض نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کو مخلصانہ قرض دیا کرو یعنی قرض حسنہ کے طور پر قرض دیا کرو اور جو نیک عمل تم اپنے لئے آگے بھیجو گے تو تم اس کو اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے بہتر اور اجر کے اعتبار سے بڑا پائو گے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش اور گناہوں کی معافی طلب کرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سے تم کو تہجد پڑھنے اور رات میں عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور آپ اور آپ کے ساتھیوں نے جس طرح اس حکم کی تعمیل کی ہے اور شب بیداری میں جو جو مشقتیں تم نے برداشت کی ہیں ان سب سے آپ کا پروردگار بخوبی واقف ہے کہ تم میں سے بہت سوں کے پائوں سوج گئے اور تم میں سے بعض تمام رات جاگتے رہے کہ ثلث اور ثلثین میں فرق نہ آجائے یا نصف رات سے کم نہ ہوجائے۔
غرض یہ تمام باتیں آپ کے پروردگار کو اے پیغمبر معلوم ہیں اور رات اور دن کا صحیح اندازہ اور پوری پیمائش تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے دن کا اور رات کا بڑھانا گھٹانا اسی کے اختیار میں ہے بندوں کے لئے صحیح اندازا نصف اور ثلث وغیرہ کا کرنا اور صحیح وقت پر ہمارے حکم کی تعمیل کرنا مشکل ہے اور جبکہ اس قسم کے آلات بھی نہ ہوں یا ہوں تو ان کا جمع کرنا اور ان کا اہتمام کرنا دشواری سے خالی نہ ہو اس لئے تم وقت کا صحیح اندازہ کرنے پر قابو پاسکو گے اور نہ اس کا احاطہ کرسکو گے تو مطلب یہ ہوا کہ اس کو پورا نہ کرسکو گے اور ہمیش نہ نبھا سکو گے۔
اس لئے اللہ تعالیٰ نے تم پر مہربانی فرمائی اور تمہارے حال پر توجہ فرمائی سو اب تم لوگ جس قدر قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لیا کرو۔
قرآن سے مراد یہاں تہجد کی نماز اور تہجد کی نماز میں قرآن کا پڑھنا اور رات کی نماز کا بڑا مقصد قرآن کی تلاوت ہی ہے اور رات کی تنہائی میں قرآن کے معانی پر غور کرنا ہے اس لئے جہاں رات کی عبادت کا ذکر فرماتا ہیں۔
وہاں یتلون ایات اللہ کا ذکر آتا ہے اور آیات الٰہی پڑھتے ہوئے سجدہ میں خشوع کے ساتھ روتے ہوئے گرنے کا ذکر ضرور فرماتے ہیں، تو مطلب یہ ہے کہ جس قدر آسانی کے ساتھ قرآن اور نماز پڑھ سکو پڑھ لیا کرو آگے اس تخفیف اور رعایت کی اور علتیں بیان فرمائیں مثلاً بیماری، تجارت کی غرض سے سفر اور مال حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے جنگ میں جانا یہ اس قسم کی ضرورتیں ہیں جو ہر ایک مسلمان کو پیش آتی رہتی ہیں اس لئے بھی اس حکم کو تم پر سے اٹھا لیا جاتا ہے۔
فاقرء واما تیسر منہ، چونکہ نسخ کی اور علتیں بیان کی تھیں اس لئے پھر فرمایا کہ جس قدر آسانی ہو وہ کرلیا کرو جس قدر نماز پڑھ سکو اور قرآن پڑھ سکو اس قدر پڑھ لیا کرو۔
تہجد کا حکم منسوخ کردیا گیا البتہ جو احکام روز مرہ کے ہیں ان کا خیال رکھو ، یعنی نماز کی پابندی رکھو، زکوٰۃ دیتے رہو اور زکوٰۃ کے علاوہ دیگر صدقات میں اخلاص کا خیال رکھو اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دیتے رہو قرض دینا اصل میں تو اس رقم کو کہتے ہیں جو واپسی کی توقع پر کسی کو دی جائے فقراء کے دینے کو قرض فرمایا اور وہ قرض بھی اپنے لئے فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو ۔
یہ فقراء کے لئے غایت شفقت کے الفاظ ہیں اور دینے والوں اور خیرات کرنے والوں کے لئے بڑے ہی امید افزاء ہیں اور فقراء اور مساکین کی مددوحاجت روائی پر بہت بڑے اجروثواب کی بشارت ہیں بہرحال جو بھلائی بھی اور جس قسم کی بھلائی بھی اپنے لئے اپنی زندگی میں آگے بھیج جائو گے تو اس کو اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ کر اس کو دنیوی متاع سے کہیں بہتر اور اجر کے اعتبار سے بہت بڑا پائو گے یعنی دنیوی امور میں جو خرچ کیا ہوگا اس کے مقابلے میں اللہ کی راہ میں دے کر جو ذخیرہ کیا ہوگا وہ کہیں بہتر ہوگا اور اجروثواب میں اعظم ہوگا بعض بزرگوں کا قول ہے۔
تجد واثوابہ خیرالکم من متاع الدنیا و اعظم اجراً لان اللہ تعالیٰ یعطی المومن اجرہ بغیرحساب
اور ان تمام امور خیر کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے کاموں سے یہ کام بھی کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے رہو اور اس سے اپنے گناہوں پر معافی طلب کیا کرو کیونکہ ہر بندہ کسی نہ کسی بڑے یا چھوٹے قصور میں مبتلا ہے کوئی بےگناہی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
بے شک اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے تم استغفار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو معاف کردے گا۔
تم تفسیر سورة المزمل