Ayah 72:1(1) انے نبی آپ فرمادیجئے کہ میرے پاس یہ وحی بھجی گئی ہے اور میرے جانب یہ وحی کی گئی ہے کہ جنات میں سے ایک جماعت نے قرآن سنا پھر انہوں نے واپس جاکر اپنی قوم میں بیان کیا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔
Ayah 72:2(2) جو سیدھی اور نیک راہ بتاتا ہے لہٰذا ہم تو اس قرآن پر ایمان لے آئے اور ہم آئندہ اپنے رب کا ہرگز کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سورة احقاف میں گزرا کہ حضرت نماز صبح پڑھتے تھے کتے جن سن کر ایمان لائے پھر جاکر اپنی قوم سے سے بیان کیا یہاں ان کے بیان کو اللہ نے وحی فرمائی رسول ﷺ پر بعد اس کے بہت یار جن حضرت پاس آکر ملے اور ایمان لائے قرآن سیکھا۔
خلاصہ : یہ کہ سورة احقاف کے آخر میں جنوں کا مختصر سا واقعہ مذکور ہوا تھا یہاں اسی واقعہ کی تفصیل کا ذکر ہے اور مکہ والوں کو جنوں کے خیالات سے آگاہ کرنا ہے کیونکہ جنات کی قابلیت اور ان کی غیب دانی کا دماغوں پر بہت اثر تھا اور کاہن اس کا بہت پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے۔
نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد جنوں کا آسمان پر جانا بند کردیا گیا۔ تاکہ فرشتوں سے کوئی قرآنی وحی سن کر بھاگ نہ آئیں اور کاہنوں کی معرفت قرآنی اعجاز کا معارضہ نہ کرائیں اس لئے آسمانوں تک پہنچنا ان کا بالکل بند کردیا گیا تاکہ قرآن کا اعجاز بلند وبالا تر ہو، نہ انسان اس کا مقابلہ کرسکیں نہ جنات اس کا جواب لاسکیں اس خداوندی تدبیر نے کاہنوں اور جنات کے تمام نظام کو درہم برہم کردیا، جنات کے متعلق اور ان کی ماہیت کے بارے میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں جن کو ہم نے بخوف طوالت ترک کردیا ہے۔
اس موضوع پر آکام المرجان فی احکام الجان بہت عمدہ کتاب ہے جو صاحب چاہیں اس کا مطالعہ کریں ان آیات میں ان جنوں کے ایمان لانے کا اعلان ہے جنہوں نے قرآن سنا اور شرک سے بےزاری اور آئندہ رشک نہ کرنے کا وعدہ کیا اور یہ ان لوگوں کی اصلاح کے لئے بہت ضروری ہے جو جنات کی ہر ایک بات کو صحیح سمجھتے ہیں اور جنات کی باتوں کا یقین کرتے ہیں آگے انہی جنات کے اور کلمات اور ان کے مضامین جو انہوں نے اپنی قوم میں جاکرک ہے ان کا بیان ہے۔
Ayah 72:3(3) اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی شان بہت اعلیٰ اور بڑ بلند ہے اس نے نہ کسی کو بیوی اور جورو بنایا اور نہ کسی کو اولاد تجویز کیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو گمراہیاں آدمیوں میں تھیں وہ جنوں میں بھی تھیں۔
خلاصہ : یہ کہ جنات کے اکثر افراد مشرک بھی تھے عیسائی بھی۔ اور یہودی بھی، اس لئے اس قرآن سننے والی جماعت نے جس کو نفرمن الجن فرمایا ہے تمام غلط کاموں کی اصلاح پر توجہ دلائی اور تمام عقائد باطلہ کا رد کیا ہے جورو اور اولاد کا قصہ حضرت حق تعالیٰ کی بزرگی اور تمام نقائص سے برتری کے خلاف ہے اور معاذ اللہ نقص اور احتیاج ہے اس لئے ان جنوں نے اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ مااتخذصاحبۃ ولا ولدا۔
Ayah 72:4(4) اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اور احمق اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخانہ اور حد سے بڑھی ہوئی باتیں کہتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم میں جو بیوقوف تھے وہ ایسی باتیں کہتے تھے یا ابلیس کو کہا۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح انسانوں میں سرکشی اور طغیان پایا جاتا ہے اسی طرح جنات میں بھی کچھ ایسے بیوقوف اور بدنہاد ہیں جو اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی اور بہتان طرازی کیا کرتے ہیں۔
Ayah 72:5(5) اوریہ کہ ہم تو یہ خیال کرتے تھے کہ جنات اور انسان اللہ تعالیٰ کی شان میں کبھی کوئی جھوٹی بات نہ کہیں گے۔ یعنی ہم تو پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ جنات اور انسان اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی جھوٹی بات زبان سے نہ نکالیں گے اس لئے ہم نے عام جنات اور انسان کی دیکھا دیکھی شرک اختیار کرلیا اور جو سب کررہے تھے وہی ہم بھی کرنے لگے لیکن اب قرآن سننے کے بعد ہم کو معلوم ہوا کہ حق کچھ اور ہے اور عوام محض گمراہی اور غلط راستے پر چل رہے ہیں اور اکثر جنات اور انسان حضرت حق تعالیٰ کی شان میں بڑی گستاخی کا ارتکاب کررہے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس لئے ہم بھی جھک گئے۔
خلاصہ : یہ کہ ہمارے گمراہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہوئی ک ہم جنات اور انسانوں کے متعلق اس خوش فہمی میں پڑگئے کہ یہ کوئی جھوٹی بات اللہ تعالیٰ کی شان میں نہ کہیں گے اور اتنی مخلوق جو مشرکانہ کام کررہی ہے وہ صحیح ہوں گے۔
Ayah 72:6(6) اور یہ کہ بہت سے لوگ آدمیوں میں سے ایسے تھے کہ وہ جنات میں سے کچھ لوگوں کو پناہ لیا کرتے تھے تو ان پناہ لینے والوں نے ان جنات کی سرکشی اور بددماغی کو اور بڑھا دیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آدمی جتنا جنوں کے آگے التجا کرتے ہیں اتنا وہ مغرور ہوتے ہیں۔
خلاصہ : یہ کہ ایک مشترکہ مر ض تھا جس میں کم وبیش سب ہی جنات و انسان مبتلا تھے اور سب شرک کرتے تھے اور بعض شرک خاص تھا جیسا بعض آدمیوں کا بعض جنات کے ساتھ اس لئے اس جماعت جنات نے اس کو بھی ظاہر کیا کہ بعض انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے مثلاً کسی جنگل میں جاکر قیام کیا قافلہ اترا تو وہاں کھڑے ہوکرقافلے کے سردار نے کہا۔
اعوذبسید ھذا الوادی من سفھاء قومہ یعنی جنات کی قوم کے بیوقوفوں اور شرارت پسندوں سے پناہ مانگتا ہوں اس وادی کے سردار کے ساتھ یعنی جو جنات کا سردار ہے اس کی پناہ چاہتا ہوں بدمعاش جنوں سے۔
یہ تو ایک طریقہ ہم نے عرض کی اور نہ بیسوں طریقے تھے جنوں سے پناہ مانگنے کے خوشبوئیں جلاتے تھے نذر ونیاز کرتے تھے کاہنوں کی معرفت ان کو نذریں بھجواتے تھے جنوں کے بادشاہ کے اور سرداروں کے نام لے کر ان کی دہائی مانگتے انسانوں کی ان مخصوص ان کو نذریں بھجواتے تھے جنوں کے بادشاہ کے اور سرداروں کے نام لے کر ان کی دہائی مانگتے انسانوں کی ان مخصوص حرکات نے اور جنوں کی طاقت کو تسلیم کرنے اور ان کی نذرونیاز کرنے کی وجہ سے جنات اور مغرور ہوگئے اور سر چڑھ گئے اور اس قسم کی باتوں سے جنات کا عناد، سرکشی اور کفر وشرک اور بڑھتا اور پرورش پاتا رہا۔
Ayah 72:7(7) اور یہ کہ جس طرح تم نے یہ خیال قائم کررکھا تھا کہ اب اللہ تعالیٰ کسی رسول کو مبعوث نہیں فرمائے گا۔ یعنی جس طرح تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اسی طرح نبی آدم بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بس اب رسولوں کا سلسلہ ختم ہوا۔
ہوسکتا ہے کہ ان لن یبعث کا مطلب یہ ہو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ کرے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قبروں سے ن اٹھاوے گا یارسول نہ کھڑا کرے گا پہلے جو رسول ہوچکے سو ہوچکے۔ خلاصہ یہ کہ قبروں کی بعثت یارسول کے مبعوث ہونے کے متعلق جو تم نے اور تمہاری طرح انسانوں نے خیال قائم کیا تھا وہ غلط ثابت ہوا، رسول کی بعثت ہوگئی اور مرنے کے بعد قبروں سے اٹھنے پر قرآن نے اتنے دلائل قائم کردیئے کہ وہ نظریہ بھی غلط ہوگیا اور اس کا یقین ہوگیا کہ مرنے کے بعد سب کو قبروں سے زندہ ہوکر اٹھنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو رسول بنا کر بھیجا نہ آئندہ بھیجے گا یا آج تک اللہ تعالیٰ نے نہ کسی مردے کو زندہ کیا نہ آئندہ کسی کو مرنے کے بعد زندہ کرے گا۔
Ayah 72:8(8) اور یہ کہ ہم نے اپنی عادت کے موافق آسمانی خبروں کو حاصل کرنے کے لئے آسمان کو چھوا اور ٹٹولا مگر ہم نے آسمان کو سخت نگہبانوں اور چوکیداروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جنوں کو انگارے پڑتے ہیں اور خبریں سننے نہیں دیتے چوکیدار ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بھی کلام جنوں کا ہے اور ہوسکتا ہے کہ منجملہ وحی کے یہ کلام وحی ہو۔
بہرحال مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے بلا روک ٹوک ہم آسمانوں کی خبریں لے اڑتے تھے اور فرشتوں سے سنی ہوئی باتوں کو قطع وبرید کرکے کاہنوں کو بتاتے تھے اب وہ چیز نہیں رہی ہم نے آسمان کو بہت کچھ ٹٹولا اور آسمان کی جستجو کی، لیکن ہر جگہ یا تو آگ کے شعلے ہیں یا پاسبان ہیں جو بڑے سخت ہیں کہ کسی کو قریب آنے نہیں دیتے اور کوئی قریب پھٹکنے نہیں پاتا حالانکہ۔
Ayah 72:9(9) پہلے ہم باتیں سننے کے لئے آسمان کے ٹھکانوں میں جا بیٹھا کرتے تھے مگر اب کوئی سننا چاہتا ہے تو وہ اپنے لئے آگ کے ایک تیز شعلے کو منتظر پاتا ہے یعنی اب حالت یہ ہے کہ کوئی آسمان کے قریب پہنچتا ہے تو وہ اپنے لئے آگ کے ایک شعلہ کو منتظر اور گھات میں لگا ہوا پاتا ہے کہ قریب پہنچے اور اس شعلے نے تعاقب کیا ورنہ اس سے پہلے تو ہم ایسے ٹھکانوں میں جا بیٹھا کرتے تھے جہاں سے کن سوئیاں کرنے اور باتیں اڑانے میں آسانی ہوتی تھی اور ہم زمین میں ایک ایک کی چار چار لگا اڑاتے تھے آسمان کے قریب جو خلا میں کوئی جگہ ایسی ہوگی جہاں یہ جنات جاکر چھپ جاتے ہوں گے۔ اب آگے اس انقلاب اور خبروں کی پابندی پر رائے زنی ہے۔
Ayah 72:10(10) اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اس روک ٹوک سے اہل زمین کو کوئی نقصان پہنچاتا مقصود ہے یا زمین والوں کے لئے ان کے پروردگار نے کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے یعنی یہ جو یکایک انقلاب رونما ہوا ہے کہ زمین والوں پر ہر قسم کی خبریں بند کردی گئیں ہیں یعنی وہ خبریں جو ہم چوری چھپے لے آتے تھے نہ معلوم اس انقلاب میں کیا مصلحت ہے زمین والوں کو کوئی ضرر اور نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان اہل زمین کے لئے کسی نیکی اور بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ جنات نے شر اور رشد کی نسبت میں کمال ادب کی رعایت رکھی ہے وہ یہ کہ شر کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب نہیں کی اور رشد کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب کی۔
حضرات مفسرین میں سے بعض نے فرمایا کہ انا لا ندری کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس رسول کی بعثت کا مقصد کیا ہے اہل زمین کے لئے کوئی شر اور ضرر مقصود ہے یا ان کے لئے کسی خیر اور نیکی کا ان کے پروردگار نے ارادہ کیا ہے کیونکہ بہرحال پیغمبر کی بات کونہ ماننے والوں کے لئے ضرر اور نقصان ہے اور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے خیر اور بھلائی ہے۔
لاندری کہہ کر عوام کے ان خیالات کی بھی تغلیط کردی جو وہ عام طور سے سمجھتے تھے کہ جن عالم الغیب ہوتے ہیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ارسال رسل پر عام طور سے اظہار خیال کیا ہو کہ ہم نہیں جانتے کہ ارسال رسل کا مقصد کیا ہے کہ اہل زمین کو کوئی تکلیف اور نقصان پہنچاتا ہے یا ان کے پروردگار نے ان کے لئے بھلائی اور خیر کا ارادہ کیا ہے آگے ان مسلمان جنوں نے عام جنات کے متعلق اپنے خیال کا اظہار فرمایا۔
Ayah 72:11(11) اور یہ کہ ہم میں سے پہلے بھی بعض نیک ہوئے ہیں اور بعض دوسری طرح کے بھی ہوتے رہے ہیں غرض ہم مختلف طریقوں پر تھے۔ یعنی نزول قرآن سے پیشتر بھی ہم میں کچھ نیک لوگ ہوتے تھے اور کچھ شریر قسم کے جو خیر سے نفرت کرتے تھے اور شریر اصرار کرتے تھے اور شر کو دوڑ کر قبول کرتے تھے۔
غرض ہم مختلف طریقوں پر تھے اور اس نبی کی بعثت کے بعد بھی ہم میں سیکچھ اس نبی پر اور قرآن پر ایمان لے آئے ہیں اور بعض متامل ہیں اور کچھ شرارت پر قائم ہیں، یعنی اب بھی دونوں طریقوں کے لوگ ہیں۔
Ayah 72:12(12) اور یہ کہ ہمارا طریقہ تو یہ ہے کہ ہم نے اب سمجھ لیا ہے اور اس بات کا یقین کرلیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں کہیں اور کسی حصے میں عاجز نہیں کرسکتے اور اس کو ہرا نہیں سکتے نہ اور کہیں بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں۔
یعنی ہم نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور ہم پر اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوا تو اس وقت ہم زمین کے کسی حصے میں جاکر اللہ تعالیٰ کو عاجز کردیں یا زمین کے علاوہ کہیں بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو تھکادیں اور اس کے قہر سے بچ جائیں تو ایسا نہیں ہوسکے گا۔
Ayah 72:13(13) اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی بات سن لی توہم نے اس کا یقین کرلیا اور اس کو فوراً مان لیا لہٰذا جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے گا تو اس کو نہ کسی کمی کا اور نقصان کا خوف ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا اور ظلم کا۔ کمی کا مطلب یہ کہ اس کی کوئی نیکی کم کردی جائے اور اس کی کوئی نیکی لکھی نہ جائے یا مال کا نقصان آبرو کا نقصان اور زیاتی یہ کہ کوئی گناہ جو نہ کیا ہو وہ لکھ دیا جائے یا ایمان لانے کی وج سے اس کو ثواب سے محروم کردیا جائے۔
ھدی کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جب قرآن کے عجیب و غریب مضامین سنے تو ہم اس رسول پر جس پر یہ کلام معجز نظام نازل ہوا ہے اس پر ایمان لے آئے۔
Ayah 72:14(14) اور یہ کہ ہم میں سے بعض تو فرماں بردار بن گئے اور مسلمان ہوگئے ہیں اور بعض ہم میں سے ظالم ہیں اور بےراہ ہیں بس جنہوں نے اسلام قبول کرلیا اور مسلمان ہوگئے تو انہوں نے بھلائی کا راستہ اختیار کرلیا اور بھلی راہ ڈھونڈ لی۔
Ayah 72:15(15) اور جو ظلم پر قائم رہے تو وہ جہنم کا ایندھن ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ جنہوں نے قرآن سنا اور قرآن سن کر ہم میں سے مسلمان ہوگئے تو انہوں نے بھلائی کی راہ تلاش کرلی اور بھلائی کا راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے یعنی وہ اس بھلائی کا اجر پائیں گے اور جو ظلم پر قائم رہے اور ہدایت کی راہ سے بےراہ رہے وہ دوزخ کا ایندھن ہیں اور وہ دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔
Ayah 72:16(16) اور میری جانب یہ بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر لوگ سیدھی راہ اور سیدھے طریقے پر قائم ہوجاتے یعنی اسلام کے پابند ہوجاتے تو ہم ان کو کثیر اور وافر پانی سے خوب سیرات کرتے۔
Ayah 72:17(17) تاکہ ہم اس میں ان کا امتحان کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد یعنی اسلام سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت اور ناقابل برداشت عذاب میں داخل کرے گا۔ آیت میں اشارہ فرمایا مکہ والوں کے لئے یعنی اگر یہ مکہ والے راہ راست پر قائم ہوجاتے تو ہم ان کو کثرت باراں اور پانی کی کثرت سے سیراب کرتے اور ان کو قحط میں مبتلا نہ کرتے اور اس نعمت اور کرم سے ان کو آزمائش کرتے اور ان کو جانچتے۔
جیسا کہ ہمارا قاعدہ ہے کہ ہم انسانوں پر احسان فرما کر آزماتے ہیں جیسا کہ بلا بھیج کر آزماتے ہیں۔
ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ ، اور اگر کوئی شخص خواہ وہ مکہ والوں میں سے ہو یا کوئی اور ہو یعنی بنی نوح انسان میں سے کوئی شخص اپنے پروردگار کی یاد یعنی ایمان اور اطاعت وانقیاد سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔
ہوسکتا ہے کہ صعد سے مراد وہ جہنم کا پہاڑ ہو جس پر چڑھنا دشوار ہوگا اس کے چکنا اور املس ہونے کی وجہ سے مگر اہل دوزخ کو اس پر چڑھنے کا حکم دیا جائیگا اور جب چڑھ جائیں گے تو اوپر سے لڑھکا دیا جائیگا اور اسی عذاب میں مبتلا رکھاجائے گا۔ (العیاذ باللہ)
ہم نے مشہور طریقے تفسیر کردی ہے اگرچہ آیت کی اور بھی کئی طرح تفسیر کی گئی ہے۔
مثلاً ان لواستقاموا میں مکہ والوں کی تخصیص نہ ہو بلکہ عام طور پر یوں ترجمہ کیا جائے کہ اگر یہ انسان اور جنات سیدھی راہ پر قائم ہوجاتے تو ہم ان سب کو اپنی نعمتوں سے سرفراز کرتے اور ان کو بطور امتحان ہر قسم کی نعمتوں سے نوازتے۔
پانی کا ذکر اس لئے فرمایا کہ انعامات الٰہی میں اس کو خاص درجہ حاصل ہے قرآن میں کئی جگہ اس کے شواہد مذکور ہیں ابھی سورة طلاق میں گزرا ہے ۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا الایۃ۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان لواستقاموا سے فقط جنات مراد ہوں اور یہ مطلب ہو کہ اگر جنات کا باپ یعنی ابوالجان جس کو ابلیس کہتے ہیں نافرمانی نہ کرتا اور آدم کو سجدہ کرلیتا اور تمام جنات سیدھی راہ پر قائم رہتے تو ہم ان کو اپنی نعمتوں سے خوب نوازتے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان لواستقاموا سے مراد جنات ہوں اور طریقہ سے مراد وہی کفروعناد کا طریقہ ہو اور یہ مطلب ہو کہ اگر جنات اپنے کفر پر قائم رہتے اور قرآن سن کر اسلام نہ قبول کرتے اور ان کی بعض جماعتیں مسلمان ہوجاتیں تو ہم ان پر استدراجاً اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دیتے اور ایک عام امتحان میں مبتلا کرتے اور پھر اچانک ان کو پکڑ لیتے۔
جیسا کہ فرمایا فلما نسوا ماذکر وابہ فتحنا علیھم ابواب کل شیئ۔ مگر ہم نے ان تمام اقوال میں سے راجح قول کو اختیار کرلیا ہے ۔ (واللہ اعلم)
آگے اور مضامین میں مذکور ہیں جن کا تعلق وحی سے ہے۔
Ayah 72:18(18) اور میری طرف یہ بھی وحی کی گئی ہے کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں سو ان میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یعنی یوں تو غیر اللہ کی عبادت ہر جگہ حرام اور شرک ہے کیونکہ ساری زمین ہی سجدہ گاہ ہے لیکن خاص طور پر وہ مقام جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے خاص ہے جیسے مساجد اللہ خواہ وہ حرم پاک ہو یا مسجد نبوی یا بیت المقدس یا عام مساجد یہ تمام مقامات غیر اللہ کی عبادت سے محفوظ رہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے یہ مقامات محفوظ رہیں، بشرطیکہ مسلمانوں کا ان مقامات پر اقتدار ہو، اور اگر خدانخواستہ مسلمان مغلوب ہو کر اپنا اقتدار کھو بیٹھیں تو پھر حسب استطاعت تحفظ مساجد کے ذمہ دار ہوں گے۔
بعض مفسرین نے مساجد سے اعضائے سجود مراد لئے ہیں اس تقدیر پر مطلب یہ ہوگا کہ یہ اعضائے سجود اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں ان کے سوائے اس کے کسی کے آگے نہ جھکائو جیسا کہ غیر مسلموں کا شیوہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اعضاء کو غیر اللہ کی عبادت میں استعمال کیا کرتے ہیں۔
Ayah 72:19(19) یہ مضمون بھی وحی کا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کھڑا ہوتا ہے تو اس پر لوگ ہجوم اور اژدحام کرکے ٹوٹے پڑتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان سے مراد وہی جنات کی جماعت ہو جو نصیبین سے یمن جارہے تھے اور بطن نخلہ میں حضور ﷺ کا قرآن سن کر اتر پڑے تھے اور آپ کے قریب اس قدر ہوئے کہ آپ پر جھک پڑے وہی جماعت مراد ہو یا کفار مکہ کی طرف اشارہ کر جب حضور ﷺ نماز میں قرآن پڑھتے ہیں تو یہ بتوں کی حمایت میں آپ ﷺ پر بھیڑ لگا کر ٹھٹھہ کے ٹھٹھہ جمع ہوجاتے ہیں اور تعجب و عداوت سے آپ جانب اس طرح دیکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے بندے پر ٹوٹ پڑں گے اور حملہ کردیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کادوا سے مسلمان اور غیر مسلمان دونوں مراد ہوں مسلمان قرآن سننے کے شوق میں جمع ہوجاتے ہیں اور کافر تعجب اور عناد کی وجہ سے یہ خواہش لے کر جمع ہوتے ہیں کہ موقع لگے تو اس آواز کو ہمیشہ کے لئے بند کردیں۔
جیسا کہ سورة حج میں فرمایا تھا لیکادون یسطون بالذین یتلون علیھم یعنی غلبہ حاصل کرنے اور حملہ کرنے کرنے کی غرض سے جمع ہوتے ہیں اور قریب ہے کہ قرآن پڑھنے والے پر جھپٹ پڑیں اور ان کا ٹھٹھہ حضور پر ٹوٹ پڑے۔
لبد جمع لبدۃ کی ہے لبدۃ کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز پر لپیٹنا اس رکوع میں تیرہ آیتیں تو جنات کی باہمی باتیں ہیں جن سے نبی کریم ﷺ کو مطلع کیا گیا باقی دیگر مضامین ہیں جن کا عطف انہ استمع کے جملے پر ہے۔
یہ وہ مضامنی ہیں جن کا تعلق جنات کی عام عادات سے ہے اور ان عادات خبیثہ میں اکثر انسان بھی شریک ہیں۔
Ayah 72:20(20) اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ یعنی میرا طریقہ تو توحید کا طریقہ ہے صرف اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ۔ اب آگے رسالت کے متعلق مذکور ہے۔
Ayah 72:21(21) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے نہ کسی ضرر اور نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ یعنی تمہاری برائی اور بھلائی کا مجھے کوئی اختیار نہیں ہے نہ میں تم پر عذاب لاسکتا ہوں نہ تم کو ہدایت دے سکتا ہوں۔
Ayah 72:22(22) آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے مجھ کو کوئی نہیں بچا سکتا اور اس کے غضب سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں۔ یعنی اگر میں تمہاری غلط فرمائش پوری کرنے کے لئے تیار ہوجائوں۔ اور اللہ تعالیٰ کا غضب آجائے تو مجھے اس کے غضب اور اس کی گرفت سے کوئی بچانے اور نجات دلانے والا نہیں ہے اور نہ میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ پاسکتا ہوں۔ یعنی اس کی گرفت اور اس کے عتاب سے کہیں بھاگ کر کوئی پناہ گاہ اختیار کرلوں اور کہیں جا چھپوں تو یہ بھی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 72:23(23) مگرہاں میرا کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانا اور اس کے پیغامات کو اداکرنا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے تو یقینا ان کے لئے جہنم کی آگ ہوگی جس آگ میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی اس کے عقاب سے کوئی چیز نجات دلانے والی نہیں مگر ہاں یہی خدائی امور اور احکام الٰہی کی تبلیغ پناہ دے سکتی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اس کے قہر سے کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی مگر ہاں چھڑا سکتی ہے تو یہی چیز چھڑا سکتی ہے کہ جو احکام اس نے میری طرف بھیجے ہیں میں اس کی مخلوق تک ان احکام کو پہنچا دوں پھر جو کوئی اس تبلیغ کے بعد بھی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور شرک کو چھوڑ کر توحید کو اختیار نہ کرے گا اور شرک سے دست بردار نہ ہوگا تو اس کے لئے دوزخ کی بھڑکتی اور شعلے مارتی ہوئی آگ موجود ہے جس میں وہ ابدالا آباد تک جلتا اور جھلستا رہے گا۔
خلاصہ : یہ ہے کہ میرا کام یا میرا اختیار تو صرف اس قد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لائوں اور اس کے بندوں تک پہنچادوں اور اس فرض کے ادا کرنے سے میں اس کی حمایت اور پناہ حاصل کرسکوں اور کوئی نفع نقصان میرے اختیار میں نہیں ہے اتنا جانتا ہوں کہ احکام الٰہی کو ماننے سے جو شخص انکار کرے گا اور میری مخالفت اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو اس کو نقصان پہنچ جائیگا۔
مفسرین نے الا بلاغا من اللہ کو استثنا متصل قرار دیا ہے اور بعض نے استثنا منفصل کہا ہے اس لئے ہم نے دونوں کی رعایت رکھ کر تیسیر میں شرح کی ہے۔
Ayah 72:24(24) آخر کار جب یہ اقلیت واکثرت اور مددگاروں کی کمی بیشی کا طعنہ دینے والے اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کون مددگاروں کے اعتبار سے کمزور اور شمار کیا عتبار سے کم ہے۔ یعنی عام طور سے کفار اپنی اکثریت پر نازاں تھے اور اپنے حمایتوں کی تعداد پر فخر کیا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر مسلمانوں پر ہجوم کرتے تھے اس کا جواب سورة مریم میں دیا گیا ہے اور یہاں بھی ہجوم وجتھ بندی کا جواب ہے کہ یہ کافر جو مسلمانوں کو ان کی کمزوری کا اور ان کی تعداد کی کمی کا طعنہ دیتے اور پیغمبر پر قرآن پڑھنے کی حالت میں ہجوم کرتے ہیں۔ جب ان پر وہ عذاب آجائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی قیامت اور اسکا عذاب دیکھ لیں گے تب ان کو معلوم ہوجائے گا کس کے حمایتی کمزور اور کس کی تعداد کم ہے یعنی کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی تعداد کم ہے۔
Ayah 72:25(25) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب موعود قریب ہے یا میرے پروردگار نے اس کے لئے کوئی دور کی مدت مقرر کررکھی ہے اور اس کو ایک مدت کے بعد لائے گا۔ یعنی اگر یہ منکر دریافت کریں کہ جس چیز کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ چیز کب واقع ہوگی۔
جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ اسی قسم کے سوال کیا کرتے ہیں۔
متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین، تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں اس چیزکا وقت نہیں جانتا اور اس کی تاریخ مجھ کو نہیں بتائی گئی۔
ہوسکتا ہے کہ جس چیز کا تم کو وعدہ دیا جاتا ہے وہ بہت ہی قریب ہو یا میرا پروردگار اس کو ایک مدت کے بعد لائے اور اس کے لئے اس نے کوئی دور کی مدت مقرر کررکھی ہو یہ تو وہی جانے تمام مغیبات کا علم تو اسی کے پاس ہے۔
Ayah 72:26(26) وہی بھید یعنی غیب کا جاننے والا ہے وہ اپنے بھید اور غیب کی کسی کو خبر نہیں دیا کرتا اور کسی کو اپنے غیب سے آگاہ نہیں کیا کرتا۔ غیب کے متعلق ہم آل عمران کی تسہیل میں مفصل بیان کرچکے ہیں کہ وہ اپنے بھید کی پوری خبر کسی کو نہیں دیا کرتا اگر کبھی کسی مصلحت کی بنا پر کوئی بھید کی بات کسی کو بتانا چاتا ہے تو اس کی شکل آگے مذکور ہے۔
Ayah 72:27(27) مگر ہاں اپنے کسی برگزیدہ اور پسندیدہ رسول کو سو وہ اس اہتمام سے کہ اس رسول کے آگے اور پیچھے نگہبان فرشتوں کو مقرر کردیا جاتا ہے۔
Ayah 72:28(28) تاکہ وہ یہ دیکھ لے کہ ان فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات بحفاظت رسول تک پہنچادیئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان نگہبانوں کے تمام حالات کا احاطہ رکھا ہے اور اس نے تو ہر ہر چیز کو شمار کررکھا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رسول کو خبر دیتا ہے غیب کی پھر چوکیداری رکھتا ہے اسکے ساتھ کہ اس میں شیطان دخل نہ کرنے پاوئے اور انپا نفس غلط نہ سمجھے یہی معنی ہیں اس بات کے کہ پیغمبروں کو عصمت ہے اوروں کو نہیں اور ان کو معلوم میں شک نہیں اوروں کی معلوم میں شک ہے۔
خلاصہ : یہ کہ مغیبات کا حقیقی علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے وہ اپنے مغیبات اور اپنے اسرار اور اپنے بھید کسی پر ظاہر نہیں کرتا البتہ بمقتضائے مصلحت کسی برگزیدہ اور پسندیدہ رسول پر کوئی بات ظاہر کردیتا ہے وہ رسول خواہ کوئی فرشتہ ہو یا بشر میں سے کوئی رسول ہو اگر فرشتہ ہو تب بھی بڑی حفاظت اور اہتمام کے ساتھ وہ اطلاع اس کے سپرد کی جاتی ہے اور اگر وہ بشر اور انسان ہو تب بھی اس کی پوری حفاظت کا اہتمام کیا جاتا ہے اور شیاطین سے ان کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور خود اس رسول کی قوت فکریہ کی پوری حفاظت کی جاتی ہے خواہ یہ مغیبات مثبت نبوت ہوں یا علم احکام ہوں مثبت نبوت جیسے پیشین گوئیوں کی اطلاع۔
بہرحال ان مغیبات کے اظہار کے وقت خاص اہتمام ہوتا ہے اگر جبرئیل پر ظہور ہوتا ہے تو نبی کریم ﷺ تک پہنچنے میں ان کی خاص حفاظت کی جاتی ہے۔
جیسا کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کوئی آیت یا حکم لے کر آتے تو ان کے ساتھ محافظ فرشتے ہوتے تھے انہی کا ایک قول ہے کہ سورة انعام جب نازل ہوئی تو جبرئیل (علیہ السلام) کے ہمراہ ستر ہزار فرشتے آئے تھے اس حفاظت کا منشاء صاف ہے کہ شیاطین سے اللہ تعالیٰ کا پیغام محفوظ رہے۔ اور اگر رسول ﷺ ہیں تو ان کی حفاظت کے لئے بعض روایات میں آتا ہے کہ چار محافظ فرشتے مقرر تھے جو نزول وحی کے وقت آپ کی حفاظت کرتے تھے کہ جو اطلاع آتی ہے اس میں کوئی شیطان اثر انداز نہ ہو۔
چنانچہ حضرت حق تعالیٰ شاتہ فرماتا ہے تاکہ ظاہری طور پر وہ بات جان لے کہ فرشتوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات رسول تک پہنچا دیئے۔
ہوسکتا ہے کہ لیعلم کی ضمیر نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہو جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ رسول یہ بات جان لے کہ ان پہنچانے والوں نے اپنے پروردگار کے پیغام مجھ تک محفوظ طور پر پہنچا دیئے۔
بہرحال ! ہم رجح قول کی بنا پر تفسیر کی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ بات ظاہری طور پر جان لے اور معلوم کرلے کہ فرشتوں نے رسول تک اور رسول نے مخلوق تک اس کے احکام بلاکم وکاست پہنچا دیئے اور اللہ تعالیٰ نے ان نگہبانوں کے حالات اور چوکیداروں کے پاس جو کچھ ہے اس کا احاطہ کررکھا ہے یعنی اس کے قبضے اور اس کی نگرانی میں ہیں کسی کو مجال تغیر وتبدل نہیں اور اس نے ہرچیز کو فرداً فرداً شمار کررکھا ہے۔
یعنی یہ باتیں اظہار حکومت وقوت کی غرض سے کی جاتی ہیں اور یہ انتظامات اظہار جاہ و جلال کے لئے ہیں ورنہ وہاں کسی چیز کی احتیاج نہیں ہے وہ نہ چوکیداروں کے محتاج ہیں نہ پہرہ داروں کے۔
سبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء
تم تفسیر سورہو الجن