Ayah 71:1(1) بلا شبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا کہ اے نوح (علیہ السلام) تو اپنی قوم کو کفرو شرک سے ڈرادے اس سے پہلے کہ ان پر درد ناک عذاب آئے۔ یعنی ان کو کہو کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نہ خدا کے پیغمبروں کی مخالفت کرو ورنہ یادرکھو کہ تم پر سخت دردناک عذاب نازل ہوگا ، یعنی طوفان میں غرق کردیئے جائو گے یا جہنم میں داخل ہوگے یا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جگہ عذاب دیئے جائو گے آگے نوح (علیہ السلام) کا بیان ہے۔
Ayah 71:2(2) حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہئے فرمایا اے میری قوم میں تم سب کے لئے واضح اور صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔
Ayah 71:3(3) تم سے کہتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور میرا کہا مانو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آچکا ہے یہ بہت پرانے پیغمبر ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بعداللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کی آبادی کے لئے ان کو رسول بنا کر بھیجا تھا چناچہ انہوں نے تمام بنی نوح انسان کو سمجھانا شروع کیا اللہ کی عبادت اور اپنی اطاعت کا حکم دیا اور توحید و رسالت پر جو ثمرات مرتب ہونے والے ہیں ان سے بھی ان کو آگاہ کیا چناچہ فرمایا اللہ کی عبادت اور تقویٰ اور میری اطاعت اگر تم نے اختیار کی تو۔
Ayah 71:4(4) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور معاف کردے گا اور ایک مقررہ وقت تک تم کو مہلت دے گا اور جب اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر اس کو پیچھے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ کاش تم اس بات کو سمجھ لیتے ۔ یعنی اگر تم ایمان لے آئے تو جس عذاب سے تم کو ڈرایا جاتا ہے وہ عذاب نہیں آئے گا اور موت کے وقت تک عذاب سے محفوظ رہوگے بلکہ موت کے بعد جو عذاب ہونے والا ہے ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے اس عذاب سے بھی محفوظ رہوگے۔ یعنی عذاب حاصل اور عذاب آجل دونوں سے تمہاری حفاظت ہوگی۔
البتہ موت کا جو وقت مقرر ہے وہ موخر نہیں کیا جاسکتا اس میں مومن اور غیر مومن دونوں یکساں ہیں، ان اجل اللہ اذا جاء لا یوخر کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایمان نہ لانے کی حالت میں اگر عذاب عاجل کا وعدہ سر پر پہنچ گیا تو پھر ٹالے نہیں ٹلے گا۔ اس وقت ایمان لانا بھی غیر نافع ہوگا، بہرحال مفسرین کے چند اقوال ہیں ہم نے سہل اور آسان طریق پر تفسیر کردی ہے اس موقع پر قضائے مبرم اور معلق کی لاطائل بحثوں میں الجھنے سے بچ کر ایک آسان طریقہ اختیار کرلیا ہے تاکہ سمجھنے والوں کو قرآن سمجھنے میں آسانی ہو۔
لو کنتم تعلمون یعنی اگر تم اتنی بات کو سمجھ لیتے تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا اور عذاب عاجل یعنی دنیوی اور عذاب آجل یعنی اخروی عذاب سے بچ جاتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی بندگی کرو کہ نوع انسان دنیامیں قیامت تک رہے اور قیامت کو تو دیر نہ لگے گی اور جو سب مل کر بندگی چھوڑ دو تو سارے ابھی ہلاک ہوجائو طوفان ایسا ہی آیا تھا۔ کہ ایک آدمی نہ بچے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی بندگی سے ان کا بچائو ہوگیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو خلاصہ بیان فرمایا وہ بہت صاف ہے اور حضرت شاہ صاحب ہی کا حصہ ہے جس دن زمین پر کوئی اللہ تعالیٰ کا نام لینے والا نہ ہوگا اس دن قیامت ہی آجائے گا۔
Ayah 71:5(5) نوح (علیہ السلام) نے حضرت حق تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی اے میرے پروردگار میں اپنی قوم کو رات اور دن توحید کی دعوت دیتا رہا۔
Ayah 71:6(6) پر میری دعوت نے ان میں زیادہ نہیں کیا مگر بھاگنا اور بدکنا۔ یعنی عرصہ دراز تک ان کو سمجھاتے رہے ، کہتے ہیں نو سو سال تک حضرت نوح علیہالسلام نے ان کو سمجھایا اور دین حق کی دعوت میں لگے رہے لیکن وہ کفر وشرک سے جب باز آنے پر تیار نہ ہوئے تو تنگ آکر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بددعا کی اور اپنی دعوت و تبلیغ کو بارگاہ حق میں پیش کیا کہ رات اور دن ان کو دعوت دیتا رہا لیکن جس قدر بلایا اور سمجھایا اسی قدر ان کی نفرت اور فرار بڑھتے گئے۔
گویا میری دعوت و تبلیغ نے ان میں کچھ نہیں بڑھایا مگر بھاگنے کا اضافہ ہوا آگے اور تفصیل ہے۔
Ayah 71:7(7) اور میں نے جب بھی ان کو ایمان اور دین حق کی طرف بلایا تاکہ آپ ان کو ایمان کی وجہ سے بخش دیں اور ان کے ایمان لانے کے سبب ان کی مغفرت فرمادیں تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر اوڑھ کر سب طرف سے لپیٹ لئے اور اپنی کافرانہ روش پر اصرار کیا اور انتہائی تکبر کا اظہار کیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کپڑا اوڑھنے لگے کہ اس کی بات ہمارے دل میں نہ لگ جائے۔
خلاصہ : یہ کہ میں نے جب بھی ان کو بلایا اور کسی اجتماع میں ان کے جاپہنچا تو انہوں نے اپنے ککانوں میں انگلیاں دے لیں اور اوپر سے کپڑے اوڑھ لئے کہ وہ مجھ کو نہ دیکھیں اور میں ان کو نہ دیکھوں یا کسی وقت بےخیالی میں کانوں سے انگلیاں نکل جائیں تو کپڑا آواز کو روکے یا شاید ان کے الفاظ کا اثر ہمارے جس میں نہ ہوجائے اور جسم سے دل میں ان کی بات نہ اتر جائے اور اپنی ضد اور اپنے کفر پر اڑے رہے اور انتہائی تکبر کا برتائو کیا۔
Ayah 71:8(8) مگر باوجود ان کے متکبرانہ برتائو کے پھر بھی میں نے ان کو دین حق کی طرف بآواز بلند بلایا۔
Ayah 71:9(9) پھر میں نے ان کو علانیہ بھی سمجھایا اور ان کو بہت پوشیدہ طور پر بھی سمجھایا۔ یعنی جو طریقہ بھی ان کی ہدایت کا ہوسکتا تھا اس کو فروگزاشت نہیں کیا عام مجامع میں تقریروں سے جو بلند آواز سے ہوا کرتی ہیں ان کو میں نے دعوت دی پھر خاص طور پر ان کے گھروں پر جاکر بھی علانیہ اور کھول کھول کر بیان کیا اور خاموشی کے ساتھ چپکے چپکے سرگوشی اور رازدارانہ بھی ان کو ان کے نفع نقصان سے آگاہ کیا اور اسی سمجھانے کے سلسلے میں۔
Ayah 71:10(10) میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار سے استغفار کرو یعنی گناہ بخشوائو بیشک وہ بڑا بخشے والا ہے۔ یعنی ایمان لے آئو تو تمہارے پہلے گناہ اور خطائیں سب بخش دئیے جائیں گے اور باطنی انعام وکرام اور روحانی ترقی کے ساتھ دنیاوی ترقی و ظاہری منافع سے بھی تم کو مالا مال کردے گا جس کی شکل یہ ہوگی۔
Ayah 71:11(11) کہ وہ تم پر کثرت سے بارش بھیجے گا اور پے درپے تم پر مینہ برسائے گا۔ مدرار سیلان یعنی بہائو پانی۔
Ayah 71:12(12) اور تم کو اموال اور بیٹے دے کر تمہاری مدد کرے گا یعنی مالوں میں اور بیٹوں میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے بہت سے باغ لگادے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا۔ یعنی دنیوی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔
Ayah 71:13(13) تم کو کیا ہوگیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا اعتقاد نہیں رکھتے۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی برائی کے معتقد کیوں نہیں ہوتے اور اس کی بزرگی اور بڑائی میں تامل کیوں نہیں کرتے۔
صاحب کشاف نے کہا ہے مالکم لا تاملون
غرض نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آیات قدرت کو سمجھانا شروع کیا اور اس کی تمہید میں فرمایا تم کو کیا ہوگیا کہ تم اس کی قدرتوں میں غور کرکے اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے قاتل کیوں نہیں ہوتے اور بتوں ک و اس کے برابر کیوں سمجھتے ہو ، چناچہ ارشاد فرمایا۔
Ayah 71:14(14) حالانکہ اس اللہ تعالیٰ نے تم کو طرح طرح سے بنایا ہے - یعنی ایک حال اور ایک ہیئت کے بعد دوسرا حال دوسری ہیئت۔ یعنی پہلے غذا پھر نطفہ پھر علقہ وغیرہ پیدائش انسانی کے علاوہ دوسری آفاقی دلیلیں بھی بیان فرمائیں۔
Ayah 71:15(15) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اوپر تلے سات آسمان بنائے ہیں۔
Ayah 71:16(16) اور اس نے ان آسمانوں میں چاند کو نور یعنی روشنی اور سورج کو چمکتا ہوا چراغ بنایا۔ یعنی چاند کو روشنی کی چیز اور آفتاب کو چراغ جلتا ہوا۔
Ayah 71:17(17) اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک خاص طور پر زمین سے اگایا۔ یعنی تمہارا سلسلہ مٹی سے چلایا اور تم کو ابتدائً مٹی سے پیدا کیا وہی مٹی تمہاری غذارکھی اور اس مٹی سے نطفہ خلق کیا۔
Ayah 71:18(18) پھر تم کو اس زمین میں لوٹا دے گا اور پھر تم کو باہر نکال کھڑا کرے گا۔ یعنی مرنے کے بعد پھر زمین میں دفن ہوگے اور تمہارے اجزا زمین میں مل جائیں گے اور دوسرے نفخہ صور کے وقت تم کو نکال کھڑا کرے گا۔
Ayah 71:19(19) اور اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے۔
Ayah 71:20(20) تاکہ تم اس کے کھلے اور کشادہ راستوں میں چلو پھرو - یعنی زمین کو فرش جیسا بنادیا اور اس میں چلنے پھرنے کو بڑے اور کشادہ راستے بنائے تاکہ تم اپنے کاروبار کے لئے اور اپنی ضرورتوں کے لئے چلو پھرو۔ فج بڑی کشادہ راہ کو کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راہ کو بھی فج کہتے ہیں۔
Ayah 71:21(21) حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار ان لوگوں نے یعنی میری قوم نے میرا کہا نہ مانا اور انہوں نے ایسے لوگوں کی پیروی کی اور ان کے کہنے پر چلے جن کے مال اور اولاد نے ان کے نقصان اور خسارے میں اضافہ ہی اضافہ کیا۔
Ayah 71:22(22) اور جنہوں نے حق کو مٹانے میں میرے خلاف بڑی بڑی پرفریب تدبیریں کیں۔
Ayah 71:23(23) اور جنہوں نے اپنی پیروی کرنے والوں سے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور خاص طور پر نہ دو کو نہ سواع اور نہ یغوث کو اور نہ یعوق کو اور نہ نسر کو ان کو تو چھوڑنا ہی نہیں۔
Ayah 71:24(24) اور بلا شبہ ان ذی اقتدار اور ذی وجاہت و ریاست لوگوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا اور بہکا دیا اور اے میرے پروردگار ان ظالموں اور بےانصافوں کی گمراہی اور زیادہ کردے یعنی ان میں سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ بڑھے۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) عرصہ دراز تک قوم کی ایذارسانی برداشت کرتے رہے آخر ان کے ایمان لانے کی جب کوئی امید نہ رہی اور ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ لن یومن من قومک الا من قدامن جیسا کہ سورة ہود میں گزرچکا تو انہوں نے حق تعالیٰ کی بارگا ہ میں فریاد کی۔
اوپر کی آیتوں میں قوم کو سمجھانے اور بلانے کی تفصیل تھی اور یہاں سے ان کی ہلاکت اور تباہی کی دعا کے لئے تمہید ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی اور میرے کہنے پر نہ چلے اور اپنے روساء اور ذی اقتدار اور پنچایت کے سرپنچ غرض بڑے لوگوں کے کہنے پر چلے اور ان کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد میں کوئی بھلائی نہیں بلکہ وہ ان پر نقصان اور خسارہ ہے نقصان کی بات یہی ہے کہ خودبھی اسلام سے دور رہے اور دوسروں کو بھی اپنے اثر اور دبائو سے قبول کرنے نہ دیا ہم نے من لم یزد کا ترجمہ معنی کے اعتبار سے جمع کے ساتھ کردیا ہے یہ ایسا ہی جیسا من یقول امنا۔
آگے حضرت حق تعالیٰ نے بھی جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رئوسا اور ذی اقتدار سب ہی حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں آگے آگے تھے چناچہ فرمایا کہ ان رئوسا اور بڑے لوگوں نے مجھ کو بہت بڑا فریب دیا یعنی ایک طرف مجھ کو تھپکتے رہے اور دوسری طرف قوم ک واللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکتے رہے اور میر ی ایذارسانی پر ابھارتے رہے اور ان کو بت پرستی پر جماتے رہے چناچہ انہوں نے قوم کے ضعفا اور ماتحت لوگوں کو تاکیداً کہا کہ تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا بلکہ ان کی پوجاپرجمے رہنا اور بالخصوص تو ود کو اور سواع کو اور یغوث کو اور یعوق کو اور نسر کو تو چھوڑنا ہی نہیں یہ شاید نیک اور عابد لوگ تھے جن سے لوگ عقیدت رکھتے تھے ان کے انتقال کے بعد شیطان نے ان کی تصویریں بناکر ان کو مسجد میں رکھ دیں یہ لوگ ان کو دیکھ کر اپنا غم غلط کرلیا کرتے تھے کئی پشتوں کے بعد آہستہ آہستہ شیطان نے ان تصویروں کی پوجا شروع کرادی ۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا کہ ان رئوسا اور ذی اقتدار لوگوں نے بہت سوں کو گمراہ کردیا اور بہکا دیا آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کی بد دعا ہے۔
ولاتزد الظلمین الا ضلالاً ۔ یعنی اے پروردگار ان میں سوائے گمراہی کے اور کچھ نہ بڑھا یعنی ان نابکاروں میں گمراہی اور بےراہ روی ہی بڑھتی رہے۔
اسی طرح کی ایک بدعا سورة یونس (علیہ السلام) میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی بھی گزر چکی ہے جو فرعون کے حق میں انہوں نے کی تھی۔ اس قسم کی دعا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان پر عذاب آئے تو پھر بھرپور عذاب آئے اور ان کی گرفت میں نہ تو تاخیر ہو اور نہ رعایت اور اس قسم کی دعا کوئی پیغمبر جب ہی کرتا ہے جب اسکو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ میری قوم ایمان لانے والی نہیں۔
پھر ایسے افراد کو جن کی ہدایت سے مایوسی ہوچکی ہو اور وہ قوم کے لئے ایک عضو فاسد کا حکم رکھتے ہوں ان کو ختم کرنے اور جس سے علیحدہ کرنے کے سوا چار کار اور ہے بھی کیا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح استدراجاً کسی کافر کو مہلت دیجاتی ہے وہ بھی ان کو ملے ان کے پیمانے میں اگر کچھ کمی ہے تو اس کو پورا کرکے ان کو ٹھکانے لگائے۔ آخر ایک ہزار یا ساڑھے نو سو برس تک سمجھانے کے بعد بھی جس قوم کی یہ حالت ہو کہ وما امن معہ الا قلیل۔ تو وہ سوائے تباہ اور برباد ہونے کے اور کس چیز کی مستحق ہوسکتی ہے آگے ان کے غرق ہونے کا ذکر ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے مال داروں کا کہا مانا اور ان کے مال واولاد میں کچھ خوبی نہیں بلکہ ان پر ٹوٹا ہے انہی کے سبب دین سے محروم رہے۔ یعنی سب کو سمجھا دیا کہ اس کی بات نہ مانو۔ یعنی بھٹکتے رہیں کوئی تدبیر بن پڑے اور دو اور سواع وغیرہ ناک تھے بتوں کے ہر ہر مطلب کا ایک بت تھا۔
غرض یہ دعا حضرت نوح (علیہ السلام) کی حقیقت میں استحقاق ہلاکت و بربادی کی ہے۔
Ayah 71:25(25) وہ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے بالآخر پانی میں غرق کئے گئے اور آگ میں داخل کردیئے گئے پھر اللہ تعالیٰ کے ہوا ان کو اپنے لئے کہیں سے کچھ مدد کرنے والے بھی میسر نہ آئے۔ یعنی نوح (علیہ السلام) کی بدکردار قوم اپنے گناہوں کے سبب آخر کار پانی میں غرق کی گئی اور برزخی نار میں داخل کردی گئی اور ان کے بتوں میں سے اور فرضی او مصنوعی حمایتوں میں سے کوئی بھی مدد کو نہ پہنچ سکا یہ آیت عذاب قبر کے لئے واضح حجت ہے۔
ہوسکتا ہے کہ جہنم کی آگ میں دخول مراد ہو جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے اور عذاب جہنم کو یوں سمجھو۔ والتعقیب لتنزیلہ منزلۃ المتعقب (واللہ اعلم) آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعاکا بقیہ حصہ مذکور ہے۔
Ayah 71:26(26) اور نوح نے یہ بھی کہا اے میرے پروردگار آپ ان کافروں میں سے زمین پر کسی بسنے والے کو باقی نہ چھوڑئیے۔
Ayah 71:27(27) کیونکہ اگر آپ ان کو چھوڑ دیں گے تو یہ آپ کے بندوں کو گمراہ کریں گے اور راستے سے بھٹکائیں گے اور ان کے ہاں جو اولاد بھی ہوگی وہ محض بدکار اور ناسپاس ہوگی۔
دیار کو جن حضرات نے دور سے مشتق مانا ہے انہوں نے گردش اور چلنے پھرنے والے
کے معنی کئے ہیں اور جنہوں نے دار سے مشتق مانا ہے انہوں نے بسنے والے اور باشندے کے معنی کئے ہیں۔
بہرحال : مطلب یہ ہے کہ کافروں میں سے کسی متنفس کو باقی نہ چھوڑا اور زمین پر کوئی کفر کرنے والاباقی نہ رہے یہ دعا عموم ہلاکت کے لئے تھی ۔ بارہویں پارے میں عموم بعثت اور عموم ہلاکت کی کچھ بحث گزر چکی ہے ، بہرحال مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ان کا گمراہ کرنا دوسروں کو تو ظاہر ہی ہے ہزار برس تک ان کا یہی کام رہا خودگمراہ رہے اور دوسروں کو گمراہ کرتے رہے البتہ اولاد کا فاجرو کافر ہونا یا تو اس بنا پر ہے کہ کفر اور ناسپاسی ان کے خون میں رچ گئی ہے اس لئے ان کے نطفے سے بھی خیر کی امید نہیں رہی یا اس بنا پر کہ بچہ کو ہوتے ہی یہ لوگ بت پرستی کی تعلیم دیتے ہیں اور اسلام دشمنی سکھاتے ہیں اور مجھ کو دکھادکھا کرلے جاتے ہیں کہ یہ نوح (علیہ السلام) ہماری قوم کا دشمن ہے تم بڑے ہوکر اس کی بات نہ ماننا اور اس کے کہنے سے بت پرستی نہ چھوڑنا جب یہ گود کے بچوں کو بھی یہی سکھاتے ہیں جیسا کہ میں ان کو کئی پشتوں سے دیکھ رہا ہوں تو مجھے کیا اعتبار ہوسکتا ہے کہ ان کی اولاد مومن اور مسلمان ہوگی اس لئے ان کو سب کو ہی فنا کردے اور یہ بات اہل دانش سے پوشیدہ ہیں ہے کہ جس طرح غذا کا اثر خون پر ہوتا ہے اسی طرح اعمال سیئہ کا اثر بھی خون اور نطفے پر ہوتا ہے۔
الولد سرلا بیہ، عاقبت گرگ زادہ گرگ شود اگرچہ قاعدہ کلیہ نہ سہی لیکن اس کے عموم سے انکار بھی نہیں ہوسکتا۔
بہرحال ہم نے تطویل کی وجہ سے اس بحث کو چھوڑ دیا ہے آگے دعا ہے مومنین کے لئے اور آخر میں پھر بددعا ہے کفار کی ہلاکت کی۔
Ayah 71:28(28) اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ اور اس کو جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہوجائے اور تمام ایمان والے مردوں اور تمام ایمان والی عورتوں کو بخش دیجئے اور ان مذکورین کی مغفرت فرمادیجئے اور آپ ان ظالموں کے لئے سوائے تباہی کے اور کسی چیز کو زیادہ نہ کیجئے ان پر تباہی اور ہلاکت ہی کو بڑھاتے رہیے۔ چونکہ کفار کے حق میں بددعا کا سلسلہ جاری تھا اسی دوران میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی اور اپنے متعلقین کی اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مغفرت کے لئے دعا فرمادی اور اپنی دعا کے آخری حصے کو پھر کفار کی تباہی اور ہلاکت پر ختم کیا، مطلب یہ ہے کہ میری مغفرت فرمادیجئے اور مجھ سے جو خلاف اولیٰ امور صادر ہوئے ہوں ان کو بخش دیجئے اور میرے ماں باپ کی مغفرت فرمادیجئے۔
کہتے ہیں ان کے باپ کا نام لامک یا لمک تھا ان کی والدہ کا نام شمخا تھا حضرت عطا کا مشہور قول ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے تمام آبائو اجداد حضرت آدم (علیہ السلام) تک سب موحد اور مسلمان تھے اور جو میرے گھر میں بحالت ایمان داخل ہوجائے۔
بہت سے مراد میرا گھر یا میرے ٹھہرنے کی جگہ یا میری مسجد یا میرا کھیت یا میری کشتی حضرات مفسرین کے کئی اقوال ہیں۔
ایمان کی قید سے ظاہر ہے کہ ان کی بیوی واعلہ اور ان کا لڑکا کنعان دونوں مغفرت کی دعا سے خارج ہوگئے عام اہل ایمان کے لئے مغفرت کی دعا فرمانے کے بعد پھر کفار کی تباہی کے لئے دعا فرمائی اوپر فرمایا تھا ولا تزد الظلمین الاضلالا یہاں فرمایا ولا تزدالظلمین الاتبارا۔
اس سے معلوم ہوا کہ ضلال کی زیادتی سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا مقصد یہی تھا کہ ان کی تباہی اور ہلاکت میں کچھ کمی نہ رہ جائے اور یہ واقعہ ہے کہ ضلالت کی زیادتی ہلاکت کا سبب اور علت موجبہ ہے۔
بہرحال انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نافرمان اور دین حق کی مخالفت کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہوا۔
الحمد للہ والمنۃ تم تفسیر سورة النوح
یوم الاثنین لست وعشرین من ربیع الثانی
1375 ھ مطابق 12 دسمبر 1955