Ayah 70:1(1) ایک درخواست کرنے والے اور مانگنے والے نے ایسا عذاب مانگا اور ایسے عذاب کی درخواست کی جو واقع ہونے والا ہے۔
Ayah 70:2(2) کافروں پر اس عذاب کو کوئی ٹالنے اور دفع کرنے والا نہیں۔
Ayah 70:3(3) وہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے واقع ہوگا جو بلند وبالا درجات کا صاحب ہے۔ سال کے معنی استفسار اور درخواست وطلب کے کئے ہیں یہاں درخواست وطلب کے معنی مراد ہیں، یہ سورت سورة حاقہ کی مزید تفصیل اور اسی کا تتمہ ہے شان نزول میں یہی چند باتیں مفسرین نے فرمائی ہیں لیکن مشہور اور ان میں راجح یہ ہے کہ نضربن قریش جو کہ کفار میں بہت مشہور اور اسلام کا سخت دشمن تھا اس نے دعا کی الٰہی اگر یہ محمد ﷺ اپنی دعا دی میں سچا ہے اور یہ قرآن تیرا ہی نازل کردہ ہے تو ہم پر پتھر برسا دے یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج دے۔ اس پر یہ ابتدائی آیتیں نازل ہوتیں۔
بعض حضرات نے حارث بن نعمان فہری کے بارے میں ان آیتوں کا نزول بتایا ہے بعض کا یہ بھی قول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی شخص یا کسی فرقے کے لئے عذاب طلب کیا اس پر اس سورت کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔
بہرحال ہم نے مشہور قول اختیار کرلیا ہے خلاصہ، یہ ہے کہ ایک منکر عذاب نے عذاب مانگا یعنی نضر نے عذاب کی درخواست کی وہ عذاب جو کافروں پر واقع ہونے والا ہے خواہ دنیا میں نازل ہو یا آخرت میں وہ جب بھی نازل ہو اس عذاب کو کوئی ٹالنے والا اور دفع کرنے والا نہیں وہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوگا۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ کا وصف ذی المعارج فرمایا جس کا ترجمہ ہم نے بلند وبالا درجات کیا ہے اور چونکہ بلندی پر پہنچنے کے لئے سیڑھی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے بعض حضرات نے سیڑھیوں والا کیا ہے یعنی عذاب اس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے سیڑھیوں والے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس پہنچنے کے لئے سیڑھیوں کو عبور کرنا پڑتا ہے یہاں ان سیڑھیوں سے مراد آسمان ہیں۔
معراج سیڑھی کو کہتے ہیں معرج موضع صعود کو کہتے ہیں اسی مناسبت سے آگے۔ تعرج الملٓئکۃ والرح فرمایا یعنی وہ بلند وبالا درجات کا صاحب اور مالک ہے اس کی جانب ملائکہ اور ارواح چڑھتی ہیں۔
غرض یہ ہے کہ صاحب معارج کی ذات بزرگ وبالا ہی سب کا منتہائے مقصود ہے یہاں سیڑھیوں سے جیا کہ ہم نے کہا ہے مراد آسمان ہیں جو کلمات یا ملائکہ یا ارواح اوپر جاتی ہیں اور اپنے اپنے منتہا پر پہنچتی ہیں وہ آسمان کو عبور کرتی ہوئی پہنچتی ہیں اس لئے اس گزرگاہ کو سیڑھیوں سے تعبیر کردیا ہے آگے اسی عروج کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 70:4(4) اس کی طرف فرشتے اور روح اس دن چڑھتے ہوں گے جس دن کی مقدار دنیا کے پچاس ہزار برس کے برابر ہے۔ یعنی تمام فرشتے خواہ وہ مدبرات امور ہوں یاکاتب اعمال ہوں یا نبی آدمی کے محافظ ہوں یا اہل ایمان ارواح ہوں یا اور دیگر ارواح طیبہ ہوں جو خدمت عالم اور خدمت خلق پر مامور ہیں۔ یہ سب آسمانوں کو درجہ بدرجہ طے کرتے ہوئے اور وصول اور قرب کے روحانی مرتبوں کو طے کرتے ہوئے ہر ایک اپنے مقررہ مقام پر پہنچتا ہے اور عروج کرتا ہے اس طرح ہر قسم کے کلمات طیبات اور اعمال صالح کا رفع اور عروج ہے جو چیز بھی بلند ہوتی اور اوپر جاتی ہے وہ سب اسی صاحب معارج کی جانب منسوب ہوتی ہے خواہ وہ اپنے مقررہ مقام سے اوپر نہ جاسکتی ہو پھر ہرچیز کے چڑھائو میں بھی تفاوت ہے مثلاً ایک کلمہ لا الہ الا اللہ کا عروج ہے کہ زبان سے نکلا اور عرش تک پہنچا پھر نماز ہے کہ اس کو پہنچنے میں کم از کم ایک ساعت کا وقفہ ہوتا ہے یا روزے میں ایک دن کا وقفہ ہوتا ہے یا حج سال بھر میں ہوتا ہے۔
اسی طرح فرشتوں کا اور ارواح کا عروج تدبیرات امور سے فراغت پانے کے بعد اپنے مراتب کے اعتبار سے متفاوت ہے، بہرحال یہ ارواح کے عروج اور ملائکہ کے عروج اور اعمال صالحہ کا ذکر تھا۔
فی یوم کان مقدارہ کا یہ مطلب کہ یہ عذاب جس کو طلب کیا گیا ہے یہ قیامت کے دن ہوگا جس کی مقدار یا اس دن کا اندازہ پچاس ہزار برس ایام دنیا کے حساب سے ہوں گے اور اس دن یہ تمام ارواح طیبہ اور فرشتے بارگاہ ایزدی میں بطور خدمت گار حاضرہوں گے۔
خلاصہ : یہ کہ سب کام اپنے اپنے وقت پر ہونے والے ہیں، اسی لئے آگے نبی کریم ﷺ کو صبر کی تلقین فرمائی۔
پچاس ہزار برس کی مقدار میں مفسرین کے کئی قول ہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ طویل دن منکروں پر طویل ہوگا اور مومنوں پر صرف اس قدر ہوگا جتنے وقت میں ایک نماز ادا کی جاتی ہے ہم سورج حج میں اس پر تفصیلی طور پر اظہار خیال کرچکے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پیغمبر نے تم پر عذاب مانگا ہے وہ کسی سے ہ ہٹایا جاوے گا اور پچاس ہزار برس کا دن قیامت کا ہے جب سے قبروں سے نکلیں اور جب تک دوزخ بہشت بھر چکے۔
خلاصہ : یہ کہ پیغمبر نے جو تم پر عذاب طلب کیا ہے وہ ہٹ نہیں سکتا۔ چند اقوال میں سے ایک قول یہ بھی ہے جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں۔
پچاس ہزار برس کے دن کا یہ مطلب ہے کہ قبروں سے نکلنے کے وقت سے لے کر آخر تک بعض نے کہا حشر میں پچاس موقف ہیں اور ہر موقف ہزار برس کا ہے، بہرحال جب عذاب کا آنا متقین ہے ۔
خواہ وہ بقول بعض بدر کے دن کا عذاب ہو خواہ بقول مشہور اور عام مفسرین قیامت کی دن عذاب ہو تو اے پیغمبر آپ ان کی ایذارسانی اور ان کے بےہودہ بکواس پر صبر سے کام لیجئے ، چناچہ ارشاد فرمایا۔
Ayah 70:5(5) پس آپ صبر کیجئے بھلی طرح کا صبر کرنا۔ یعنی آپ صبر جمیل کیجئے ، صبر جمیل ایسے صبر کو کہتے ہیں جس میں مخلوق سے شکوہ نہ کیا جائے ، ہم سورة یوسف میں عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرنا م صبر جمیل کے منافی نہیں ہے۔
جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا انما اشکوابثی وحزنی الی اللہ۔
یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دریا کے پھٹنے سے قبل جو دعا فرمائی اس میں یہ الفاظ اللھم لک الحمد الیک المش کے وبک المسغاث وانت المستعان ولا حول ولا قوۃ الا باللہ مروی ہیں، بہرحال ان کافروں پر عذاب کا وقوع ضروری ہے اس لئے آپ صبرجمیل سے کام لیجئے اور گھبرائیے نہیں۔
Ayah 70:6(6) یہ دین حق کے منکر اس عذاب یا قیامت کی دن کو دورازقیاس ودوراز عقل سمجھ رہے ہیں۔
Ayah 70:7(7) اور ہم اس عذاب اور عذاب کے دن کو نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ یہ قوع عذاب اور وقوع قیامت کا اعتقاد نہیں رکھتے اس لئے اس کے وقوع کو دوراز فہم خیال کرتے ہیں اور ہم بوجہ تعلق بالوقوع کے اس عذاب کو وقوع سے قریب دیکھ رہے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ یہ اس کو نہ ہونے والا سمجھتے ہیں اور ہم اس کو لامحالہ واقع ہونے والا سمجھتے ہیں۔
Ayah 70:8(8) وہ عذاب اس دن ہوگا جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔
Ayah 70:9(9) اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔
Ayah 70:10(10) اور کوئی دوست کسی دوست کا پرسان حال نہ ہوگا۔
Ayah 70:11(11) حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھا بھی دیئے جائیں گے مجرم یعنی مشرک اس بات کی تمنا کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب سے چھٹکارا پانے کے لئے اپنے بیٹوں کو۔
Ayah 70:12(12) اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔
Ayah 70:13(13) اور اپنے کنبے والوں کو جن میں وہ رہتا سہتا تھا۔
Ayah 70:14(14) اور روئے زمین کے سب لوگوں کو اپنے فدیے میں دے ڈالے پھر یہ فدیہ دینا اس مجرم کو عذاب سے بچالے۔ مھل پگھلا ہوا تانبا پگھلا ہوا سیسا، پگھلی ہوئی چاندی کو کہتے ہیں تیل کی تلچھٹ کو بھی کہتے ہیں اور زیتون کے تیل کی تلچھٹ کے ساتھ بھی تفسیر کی گئی ہے بہرحال آسمان کی مختلف حالتیں ہوں گی اس لئے یہ سب باتیں جمع ہوسکتی ہیں۔
عہن رنگین اون کو کہتے ہیں چونکہ دوسری جگہ کالعہن المنفوش آیا ہے اس لئے ہم نے تیسیر میں دھنکی ہوئی رنگین اون کردیا ہے۔
بہرحال پہاڑ آخر میں اڑتے پھریں گے رنگین شاید اس لئے فرمایا کہ پہاڑ مختلف الالوان ہوتے ہیں جیسا کہ سورة فاطر میں گزرچکا ہے جب رنگ برنگ کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر ملیں گے تو رنگین نظر آئیں گے کوئی دوست اور قرابت دار کسی دوست اور قرابت دار کو نہ پوچھے گا ایسی افراتفری ہوگی کہ کوئی کسی کو نہ پوچھے گا بلکہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی۔
حمیم گہرا دوست اور قریبی رشتہ دار حالانکہ ایک دوسرے کو دیکھتے بھی ہوں گے یعنی دوست اور قرابت دار سامنے ہوں گے اور پھر کام نہ آئیں گے۔
سورہ یونس (علیہ السلام) میں تعارف کی بحث گزر چکی ہے اور کہیں کہیں جو قرآن میں تساء ل کا ذکر آیا ہے یعنی آپس میں گفتگو کریں گے اور ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں گے یہ اس لایسئل کے منافی نہیں ہے ، مجرم کافرو مشرک اس دن اس بات کی تمنا اور خواہش کرے گا اور اس بات کو دوست رکھے گا کہ اس دن کے عذاب سے چھٹکارا پانے کے لئے سب کو فدیہ میں دے ڈالے خواہ دو بیٹے ہوں یا بیوی ہو بھائی ہو یا کنبے والے ہوں جن میں رہتا سہتا تھا اور وہ اس کو ٹھکانا اور پناہ دیتے تھے بلکہ روئے زمین کے تمام لوگوں کو کسی طرح فدیے میں دے ڈالے پھر یہ فدیہ دینا اس مجرم کو عذاب سے بچالے اور چھڑادے۔
غرض عذاب سے بچنے کے سینکڑوں جتن کرے گا لیکن کوئی کارگر نہ ہوگا۔
یبصرونھم اور سو رہ یونس میں یتعارفون فرمایا یعنی قیامت کے طویل دن میں مختلف حالات ہوں گے ایسا بھی ہوگا کہ دوست اور اقارب کو آمنے سامنے کردیا جائیگا اور ایک کو دوسرے کی حالت دکھائی جائے گی اور آپس میں ایک دوسرے کہ پہچانیں گے بھی اور ایسا بھی ہوگا کہ ایک کو دوسرے کی خبر نہ ہوگی کوئی کہیں ہوگا اور کوئی کہیں ہوگا۔
سورہ معارج میں اس وقت کا ذکر ہے جب آپس میں ایک کو دوسرادکھایا جائے گا اور ایک دوسرے کو دیکھتا ہوگا اور ہر شخص اپنی بےبسی کو محسوس کرتا ہوگا آگے مجرم کی اس تمنا اور لغو خواہش کا جواب ہے۔
Ayah 70:15(15) یہ ہرگز نہیں ہوگا یعنی عذاب سے نجات نہیں ملیگی وہ آگ ایک دہکتی ہوئی اور خالص شعلہ ماری ہوئی ایک ایسی آگ ہے۔
Ayah 70:16(16) جو جسم کی یا خاص طور پر دماغ کی ککھال کھینچنے والی ہے۔
Ayah 70:17(17) وہ آگ ہر اس شخص کو اپنی طرف بلاتی ہوگی جس نے پیٹھ پھیری ہوگی اور منہ موڑا ہوگا۔
Ayah 70:18(18) اور جس نے مال جمع کیا ہوگا اور اسمال کو محفوظ جگہ میں سینت سینت کررکھا ہوگا۔ یعنی اگر یہ اختیار ہو کہ اس دن کوئی فدیہ دیدے اور تمام روئے زمین کا مال یا انسان اپنے کو عذاب سے چھڑانے کے لئے پیش کردے تب بھی عذاب سے نجات نہیں مل سکے گی۔
لظیٰ بھڑکتی ہوئی دہکتی ہوئی خالص شعلے اور لھب کہتے ہیں جس میں دھواں وغیرہ کچھ نہ ہو بلکہ خالص آگ کا شعلہ ہو۔
درکات جہنم میں سے دوسرے درک کا نام بھی لظیٰ ۔ شویٰ آدمی کے اطراف مثلاً ہاتھ اور پائوں یا انسان کی کھال ، دماغ کی کھال، کلیجہ نکال لینے والی، بہرحال وہ آگ ایسی تیز ہے کہ کھال کھینچ لیتی ہے پھر یہ کہ وہ خود ایک ایک کافر اور منافق اور مال جمع کرنے والے کو بلاتی ہے یہ الی یا کافر یا منافق وغیرہ کہہ کر پکارتی ہے یا یہ مطلب ہے کہ جو منکر روگردانی کرتارہا اور دین حق سے پیٹھ پھیر کرجاتا رہا اس کو اس طرح جذب کرلیتی اور کھینچ لیتی جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچ لیتا ہے یہ چونکہ اعمال سیہ کا عادی تھا اور اعمال سیئہ کی مداومت نے اس میں آگ کی خاصیت پیدا کردی تھی اس لئے اسجنس یمیل الی الجنس آگ کو آگ کھینچ لے گی۔
من ادبر وتولی کے ساتھ اس کافر کے بخل اور حرص کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ مال جمع کرتا ہے اول تو مال کے جمع کرنے ہی میں احتیاط سے کام نہیں لیتا پھر مال میں جو حقوق واجبہ اور نافلہ ہیں ان کو پورا نہیں کرتا بلکہ مال کو سینت سینت کر رکھتا رہا اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کو تلف کرتا رہا تو ایسے کافر عذاب سے کس طرح بچ سکتے ہیں، اگرچہ عذاب کی وجہ کفر ہی ہے کیونکہ کفار فروع کے مکلف نہیں ہاں بعض فروع کی وجہ سے اشتداد عذاب متحقق ہے اس لئے شوافع کے استدلال کی اس آیت میں کوئی گنجائش نہیں ملتی۔
Ayah 70:19( 19) بے شک انسان اپنی جبلت میں بےصبر بنایا گیا ہے۔
Ayah 70:20(20) جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے۔
Ayah 70:21(21) اور جب اس کو فارغ البالی اور بھلائی پہنچتی ہے تو بخیل اور بےتوفیقا ہوجاتا ہے۔
Ayah 70:22(22) مگر ہاں وہ نمازی ان موجبات عقاب سے مستثنیٰ ہیں۔
Ayah 70:23(23) جو اپنی نماز کی برابر پابندی رکھتے ہیں۔
Ayah 70:24(24) اور وہ جن کے مالوں میں سوال کرنے والے کا بھی۔
Ayah 70:25(25) اور سوال سے بچنے والے کا بھی حصہ ہے۔
Ayah 70:26(26) اور وہ جو انصاف کے دن کا یقین رکھتے ہیں یعنی قیامت کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کو مانتے ہیں۔
Ayah 70:27(27) اور وہ جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے اور خوف کرنے والے ہیں۔
Ayah 70:28(28) بلا شبہ ان کے پروردگار کا عذاب بےخوف ہونے کی چیز نہیں ہے یعنی اس سے نڈر ہونا بھی نہیں چاہیے۔
Ayah 70:29(29) اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے اور محفوظ کرنے والے ہیں۔
Ayah 70:30(30) مگر اپنی بیویوں سے یا اپنی شرعی باندیوں سے تو ان پر کوئی الزام اور کوئی الاہنا نہیں۔
Ayah 70:31(31) ہاں جو شخص ان بیویوں اور باندیوں کے علاوہ کوئی اور راہ تلاش کرے گا تو ایسے ہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی بیویوں اور باندیوں کے علاوہ شہوت رانی کا کوئی اور راستہ ڈھونڈ لے۔
Ayah 70:32(32) اور جو اپنے پاس رکھی ہوئی امانتوں اور اپنے عہد کی نگہداشت کرنے والے ہیں۔
Ayah 70:33(33) اور جو اپنی گواہیوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے ہیں۔
Ayah 70:34(34) اور وہ جو اپنی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرنے والے ہیں۔
Ayah 70:35(35) یہ سب وہ لوگ ہیں جو عزت و احترام کے ساتھ بہشتوں کے باغوں میں داخل ہوں گے۔ یعنی انسانی جبلت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی اصلاح نہ ہو اور کوئی صحیح رہنمائی نہ ہو تو انسان حریص بھی ہوگا اور بخیل و کم ہمت بھی۔ ھلوع کی جو تفسیر بقول ابن عباس ؓ قرآن نے بیان کی ہے وہ ہی ہلوع کے معنی ہیں یعنی تکلیف کے وقت حد شرعی سے زیادہ گھبرانا اور جب بھلائی اور فارغ البالی ہو تو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو تلف کرنا اور ادا کرنا ۔
محروم ہدایت جو لوگ ہیں وہ ہمیشہ اسی پر رہتے ہیں مگر وہ انسان جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ہدایت قبول کرتے اور فیض پاتے ہیں وہ ایسے ہلوع اور جزوع نہیں ہوتے وہ لوگ جو ہمیشہ نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ دوام سے مراد نماز کا خشوع اور سکون ہے یعنی دائیں بائیں جانب التفات نہیں کرتے بلکہ پوری توجہ کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور وہ لوگ جن کے اموال میں سوالی اور غیر سوالی دونوں کا حصہ ہے سوال کرنیوالا تو ظاہر ہے نہ سوال کرنے والا جو حیا سے نہ سوال کرتا ہو یا توکل سے یا تعفف سے مگر ہے وہ حاجتمند تو ایسے غیر سوالی کو بھی تلاش کرکے دیتے ہیں، جیسا کہ سورة ذاریات میں ہم عرض کرچکے ہیں اور وہ لوگ قیامت پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار کے عذاب کا خوف رکھتے ہیں اور ڈرتے ہیں آگے بطور جملہ معترضہ فرمایا ان کے پروردگار کا عذاب نڈر اور بےخوف ہونے کی چیز ہے بھی نہیں۔
شرم گاہ کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ حرام سے شہوت رانی نہیں کرتے بلکہ نکا حی بیویاں یا باندیاں جو مملوک ہوں تو ان سے شہوت رانی کرنے پر کوئی ملامت نہیں ان کے علاوہ اگر کوئی اور راستہ شہوت رانی کا تلاش کریں گے تو وہ شرعی حد سے تجاوز کرنے والے ہوں گے یعنی خواہ لواطت ہو، خرچی والی عورت ہو یا خانگی ہو یعنی زنا اجرت پر یا بغیر اجرت کے یا زن مکرہہ ہو یعنی زبردستی اس سے بدفعلی کی جائے یا متعہ کے ذریعہ کسی عورت کو استعمال کیا جائے ، یا مانگی ہوئی لونڈی یا عورتوں کا آپس میں مساحقت کرنا غرض جو بھی غیرشرعی صورتیں ہوں گی وہ سب وراہ ذلک میں داخل ہوں گی حتیٰ کہ استمنا یعنی ہاتھ سے شہوت کو پورا کرنا یہ بھی حنفیہ کے نزدیک اسی حرام میں داخل ہے امانت اور عہد کی رعایت کرنا خواہ وہ امانت حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے کسی نے کوئی امانت رکھی ہو۔ کوئی بھید ہو، حقوق اللہ وضو، غسل جنابت، نماز روزہ، زکوٰۃ وغیر بعض امور امانت ہیں اور بعض عہد میں داخل ہوتے ہیں خواہ انسانی امانت اور عہد ہو یا اللہ تعالیٰ کی کوئی امانت اور اسکاعہد ہونگا ہ داشت کا مطلب یہ ہے کہ اس کو پورا کیا جائے۔
قائم بالشہادت کا مطلب یہ ہے کہ عدل کے ساتھ شہادت دی جائے نہ انکار کیا جائے نہ بےسود بہانے کئے جائیں اور نہ شہادت میں کمی بیشی کی جائے۔
نماز کی محافظت یہ کہ آداب ومستحبات اور واجبات کا خیال رکھ کر نماز ادا کی جائے نماز کی اہمیت کے پیش نظر ان آیات میں نمازکا دوسرا مرتبہ ذکر فرمایا۔ یہ لوگ ہیں جو بہشت کے باغوں میں علی حسب مراتب معزز ومکرم ہوں گے یعنی جنت میں اکرام و احترام کا ان کے ساتھ سلوک کیا جائے گا۔
Ayah 70:36(36) پس ان کافرون اور دین حق کے منکروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرف دوڑدوڑ کر آرہے ہیں۔
Ayah 70:37(37) دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی گروہ درگروہ بن کر۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ بجائے قرآن پر ایمان لانے اور قرآن کی تصدیق کرنے کے آپ کے پاس جماعتیں بن بن کر دائیں اور بائیں سے آپ کی جانب چلے آتے ہیں اور قرآن کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر قیامت کا دن آیا اور بغرض محال قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کا وقوع بھی ہوا تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے جس طرح دنیا میں ہمارے لئے عیس ہے اور ہم اپنی قسمت میں راحت اور نعمت لکھوا کر لائے ہیں اسی طرح وہاں جاکر بھی یہ جنت اور جنت کی نعمتیں ہمارے لئے ہوں گی۔
اس لئے قرآن کی یہ بات کہ وہاں کی نعمتیں صرف مسلمانوں کے لئے ہوں گی یہ بات غلط ہے یعنی ٹولیاں کی ٹولیاں بن کر آتی ہیں اور آپ کے پاس آکر یہ کہتی ہیں کہ ہم کو بھی وہاں جنت ملے گی اور ہم بھی جنت میں داخل ہوں گے۔
مھطعین کا ترجمہ بعض حضرات نے گردن کو لمبا کرنا اور سر کو اونچا کرکے چلنا بھی کہا ہے۔
مھطع کے معنی دراز گردن کے بھی ہیں آگے کی آیت میں کافروں کے اس دعوے کا رد ہے۔
Ayah 70:38(38) کیا ان میں سے ہر شخص اس امر کی طمع اور لالچ رکھتا ہے کہ وہ آرام و آسائش کے باغوں میں داخل کردیاجائے گا۔
Ayah 70:39(39) یہ ہرگز نہیں ہوگا ہم نے جس چیز سے ان کو بنایا ہے اسے وہ بھی جانتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن سن کر ادھر ادھر بھاگتے ہیں اور ٹولیاں کی ٹولیاں اس قرآن سے نفرت کرتی ہیں اور باوجود اس نفرت اور فرار کے ان کی خواہش اور ہوس یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نعمت کے باغوں میں داخل ہوجائے ایسا نہیں ہوگا ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور جس چیز سے ان کو بنایا ہے۔ اسے وہ بھی جانتے ہیں یعنی وہ ایک گندے پانی کی بوند اور گھنائونی چیز سے بنائے گئے ہیں اور اس کو وہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ اس قطرہ منی میں یہ صلاحیت کہاں کہ وہ بہشت کے باغوں میں داخل کیا جائے لیکن نیک اعمال اور اخلاق حسنہ سے یہ شرف حاصل ہوسکتا ہے اور وہ ان میں ہے نہیں تو یہ کیسے جنت نعیم میں داخل ہوسکتے ہیں۔
بعض مفسرین نے مما یعلمون کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس لئے ان کو پیدا کیا ہے یہ بھی جانتے ہیں، یعنی یہ بھی اتنا سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ان کو عبث اور بےکار نہیں پیدا کیا بلکہ خالق کی معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کیا ہے نیز اس آیت میں ایک لطیف اشارہ وقوع قیامت اور بعثت پر بھی ہے کہ جب ہم ایک پانی کی بوند کو جو حیات سے عاری ہے یہ زندگی اور یہ شکل و صورت عطا کرسکتے ہیں تو ان اجزاء کو جو حیات اور زندگی حاصل کرچکے ہیں دوبارہ زندگی کیوں نہیں بخش سکتے۔
وبد نطفہ را صورتے چوں پری
کہ کرد است برآب صورت گری
اورچونکہ نطفہ مختلف صورتیں اختیار کرتا ہوا اور مختلف تبدیلیوں سے گزرتا ہوا انسان بنتا ہے۔ اس لئے آگے بنی نوح انسان اور مختلف اقوام کی تبدیلی پر قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نطفے کو مختلف صورتوں میں تبدیل کرتے رہتے ہیں اسی طرح ہم اس نطفے سے بنی ہوئی اقوام کو بھی تبدیل کرسکتے ہیں یعنی ایک قوم کو لے جائیں اور دوسری قوم کو لے آئیں دین حق کے منکروں اور اسلام کے معاندوں کو ہلاک کردیں اور اسلام سے محبت کرنے والوں کو لے آئیں ظالموں کو لے جائیں اور رحم دلوں کو لے آئیں جیسا کہ اس قسم کی تبدیلیوں سے تاریخ امم بھری پڑی ہیں۔
قسم میں بھی مشارق ومغارب کی جانب اس قسم کا اشارہ ہے کہ عالم علوی کا سب سے بڑا کرہ ہر روز نئے نقطے کی تبدیلی اختیار کرتا ہے جو اتنے بڑے کرنے کے لئے ہر روز طلوع و غروب کی جگہ بدلتا رہتا ہے اس کے لئے اقوام عالم کی تبدیلی اور ایک قوم کی جگہ دوسری قوم کو لے آنا کیا مشکل ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منی گھن کی چیز سے وہ کہاں لائق بہشت کے مگر جب ایمان سے پاک ہو۔
Ayah 70:40(40) پس میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک و پروردگار کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم اس بات پر یقینا قادر ہیں اور پوری طرح قدرت رکھتے ہیں۔