Ayah 69:2(2) کیا ہے وہ روز قیامت۔
Ayah 69:3(3) اور آپ کو کس نے واقف کیا اور بتایا کہ روز قیامت کیا ہے۔
Ayah 69:4(4) ثمود اور عاد نے اس کھڑکھڑا دینے والی چیز یعنی قیامت کی تکذیب کی اور قیامت کو جھوٹا جانا۔ حاقہ یہاں یہاں قیامت کو فرمایا ہے۔ حاقہ کے معنی ثابت ہونے والی واجب ہونے والی یعنی جس کا وقوع ضروری اور حق ہے یا حاقہ بمعنی عارفہ ہے کہ جب وہ گھڑی واقع ہوگی تو لوگ تمام امور کی حقیقت اور اصلیت کو پہچان لیں گے یا ثابتہ یعنی یہ دن جب ہوگا تو اس دن حساب اور جزاوسزا کا ثبوت اکمل طور پر ہوجائیگا اور وہاں وعدہ وعید کا پورا تحقق ہوگا یا حق فرمایا قیامت کو کہ اس دن ہر شخص اس لائق ہوگا کہ اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے۔
اسی کی اہمیت کے لئے فرمایا کیا ہے وہ حاقہ اور آپ کو کس نے بتایا اور آپ کو کچھ خبر ہے کہ وہ حاقہ کیسی کچھ ہے اور اس کی ہولناکی کا کیا حال ہے۔
قارعۃ، بھی قیامت کو کہتے ہیں کیونکہ قرع کے معنی کھٹکھٹانے کے ہیں، کھٹکھٹانے سے آدمی ہوشیار ہوجاتا ہے سوتا ہوا آدمی جاگ جاتا ہے، قیامت کے دن کھٹکھٹاہٹ ایسی ہولناکی ہوگی کہ ہر غافل کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اس کی گھبراہٹ سے ہر شخص کی غفلت اور بےپروائی دور ہوجائے گی مقصود ان سوالات سے قیامت کی تہویل اور اس کی فضاعت کی شان ظاہر کرنی ہے آگے چند واقعات بیان فرمائے کہ قیامت کی ہولناکی کو سمجھنا ہر شخص کا کام ہے اس لئے چند واقعات بطور تمثیل اور بطور نظیر بیان کئے جاتے ہیں کہ اس کی ہیبت اور اس کی ہولناکی کچھ سمجھ میں آسکے۔
چنانچہ عاد وثمود کی تکذیب کا اظہار فرمایا اور ایک پیغمبر کی تکذیب اس کے تمام اصول اور اس کے دعادی کی تکذیب کو مستلزم ہے اس لئے ان کی تکذیب کو قارعہ یعنی قیامت کی تکذیب فرمایا آگے ان کی تباہی اور ہلاکت کا ذکر ہے۔
Ayah 69:5(5) پس بہرحال ثمود تو ایک شخص ہولناک آواز سے تباہ کردیئے گئے۔ یعنی ان منکرین قیامت کو دنیا میں جو سزا دے گئی وہ یہ کہ ثمود تو ایک تند آواز اور چیخ سے ہلاک کئے گئے۔
طاغیۃ : کے معنی سے گزر جانے والی بعض نے صحیۃ طاغیۃ کہا ہے بعض نے رجفعۃ طاغیۃ فرمایا ہے بہرحال کڑاکے کی آواز بھی تھی اور زلزلہ بھی تھا۔
Ayah 69:6(6) اور رہے عاد تو وہ ایک ایسی تیز وتند ہوا سے ہلاک کئے گئے۔
Ayah 69:7(7) جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن برابر لگاتار مسلط کردیا تھا سو اے مخاطب اگر تو وہاں ہوتا تو ان لوگوں کو اس زمانے میں ایسا گرا ہوا اور پچھڑا ہوا دیکھتا جیسے وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے پڑے ہیں۔ یعنی طویل القامت ہونے کی وجہ سے ایسے معلوم ہوتے جیسے پرانی اور کھوکھلی کھجوروں کے تنے پڑے ہوئے ہیں۔ حرم، کے معنی کاٹنے کے بھی ہیں اور بعض حضرات نے نحس بھی کئے ہیں لیکن ہم نے متواتر اور لگاتار کئے ہیں اور یہی معنی عام طور سے علما نے کئے ہیں یعنی سات رات اور آٹھ دن میں ایک لحظہ کو ہوا نہیں رکی اور پوری قوم کا کھلیان ہوگیا ان دونوں کو عرب ایام عجوز کہتے ہیں۔
Ayah 69:8(8) سو کیا اے مخاطب تجھ کو اب ان میں سے کوئی بھی باقی اور بچا ہوا نظر آتا ہے۔ یعنی عاد کی پوری پوری قوم نیست ونابود کردی گئی آگے اور چند گزشتہ قوموں کی تباہی کا ذکر فرمایا۔
Ayah 69:9(9) اور فرعون اور اس سے پہلی قومیں اور الٹی ہوئی بستیاں بڑے بڑے قصوروں کا ارتکاب کرتے ہوئے آئے۔ یعنی فرعون آیا اور گناہوں کا ارتکاب کیا اور کچھ لوگ اس سے پہلے تھے وہ بھی خطا کار تھے شاید ان سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے اور الٹی ہوئی بستیاں اس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے۔
Ayah 69:10(10) چنانچہ ان مذکورہ لوگوں نے اپنے پروردگار کے ہر پیغمبر کی جو ان کی طرف بھیجا گیا نافرمانی کی آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کی نہایت سخت گرفت کی۔ فرعون کے واقعات تو قرآن کریم میں کئی جگہ مذکور ہیں اس نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم کئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مدین میں آباد تھی یہ متمدن اور شہری لوگ تھے کچھ جنگل اور بن میں رہتے تھے ان کو اصحاب الی کہ کہتے ہیں بہرحال حضرت شعیب (علیہ السلام) کی ان لوگوں نے مخالفت کی اور نافرمانی کی بالآخر ان پرچیخ اور چنگھاڑ کا عذاب آیا اور اس کے ساتھ زلزلے کے جھٹکے بھی لگے بن والوں پر آگ اور دھوئیں کا عذاب آیا جس کو سورة شعراء میں یوم الظار فرمایا ہے اسی طرح یہ لوگ ہلاک کردیئے گئے اور موتفکات تو یہ وہی سدوم اور اس کی متعلقہ بستیاں ہیں جن کی ہدایت حضرت لوط (علیہ السلام) کے سپرد ہوئی تھی ان کا انجام یہ ہوا کہاٹھاکر الٹ دی گئیں اور آج تک الٹی پڑی ہیں بہرحال یہ سب حاقہ کی نظریں ہیں اور ان سے ہی حاقہ کا جو واقع ہونے والی ہے کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے ورنہ اصل حقیقت توحاقہ کی کہاں معلوم ہوسکتی ہے جس طرح دنیا کی حاقہ میں مسلمان کو محفوظ کرلیاجاتا تھا اور کافروں پر عذاب نازل ہوتا تھا اسی طرح قیامت کے وقوع کے وقت بھی اہل ایمان پل صراط سے صحیح سالم گزر جائیں گے اور خدا کے دشمن جہنم میں گرجائیں گے۔
کہتے ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں بڑی بستی سدوم کی تھی اور اس سدوم میں چار لاکھ کی آبادی تھی، بہرحال آگے نوح (علیہ السلام) کے زمانے کی طرف اشارہ ہے اور جن مسلمانوں کو کشتی میں سوار کیا گیا تھا۔ ان کی اولاد کو بطور امتنان وہ بات یاد دلائی گئی ہے اور وہ طوفان نوح (علیہ السلام) بھی کفار کیلئے ایک حاقہ تھا جس نے حق و باطل کے درمیان امتیاز کردیا تھا۔ رابیۃ زائدۃ فی الشدت یعنی بہت سخت۔
Ayah 69:11(11) ہم نے جس وقت پائی کو حد معتاد سے اونچا کردیا یعنی طوفان کے وقت تو تم کو کشتی میں سوار کرلیا یعنی تمارے بڑوں اور بزرگوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور ان کی قوم پر طوفان آیا اور طوفان کا پانی بلند ہونا شروع ہوا توہم نے تمہارے سے بزرگوں کو جو مسلمان تھے اور نوح (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے ان کو کشتی میں سوار کرلیا۔
Ayah 69:12(12) تاکہ ہم اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک یادگار بنادیں اور محفوظ رکھنے والے کان اس کو محفوظ رکھیں کانوں کو محفوظ رکھنے والا یا یادرکھنے والا مجازاً فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کو یاد رکھیں اور سبب عذاب اور موجبات عقاب سے بچیں۔ یہاں تک مکذبین کے واقعات اور حاقہ کی تمثیلات مذکور ہیں اب آگے اصل حاقہ یعنی قیامت کی ہولناکی اور اس دن کی تخریب کا ذکر فرماتے ہیں، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 69:13(13) پھر جب صور میں پھونکاجائے ایک بار پھونکنا۔
Ayah 69:14(14) اور زمین اور پہاڑ اٹھا لئے جائیں گے یعنی اپنی جگہ سے اور ایک ہی چوٹ میں دونوں چورا چورا اور ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے۔
Ayah 69:15(15) تو اس روز وہ واقع ہونے والی چیزواقع ہوجائے گی۔
Ayah 69:16(16) اور آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن بالکل بودا اور کمزور ہوگا۔
Ayah 69:17(17) اور فرشتے اس کے کناروں پر سمٹ آئیں گے اور اس دن آپ کے پروردگار کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 69:18(18) اس دن تم لوگ حضرت حق تعالیٰ کے روبروپیش کئے جائو گے اور تمہاری کوئی خفیفہ سے خفیفہ بات پوشیدہ نہ رہے گی۔
اوپر کی آیتوں میں حضرت حق جل مجدہ نے بعض قوموں کی تباہی اور بعض زمین کے حصوں کی بربادی کا ذکر فرمایا تھا تاکہ یہ بات سمجھ میں آجائے کہ جو قادر مطلب اور مالک و مختار زمین اور زمین کی بسنے والی بعض قوموں کے ہلاک و برباد کرنے پر قادر ہے وہ تمام چیزوں کو بھی اگر چاہے تو فنا کرسکتا ہے اور ایک عالم سفلی پر کیا موقوف ہے وہ عالم علوی کو بھی چاہے تو ختم کرسکتا ہے اور اسی ختم کرنے کا نام حاقہ ہے ، لہٰذا ان تمام تمثیلات اور نظائر کا ذکر کرنے کے بعد اب حاقہ یعنی قیامت کے بعض مقدمات کا ذکر فرمایا کہ جب پہلی مرتبہ صور پھونکا جائیگا اور صور میں ایک پھونک ماری جائے گی تو اس کا یہ اثر ہوگا کہ زمین اور پہاڑ سب درہم برہم ہوجائیں گے اور اٹھا لئے جائیں گے اور جب یہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور یہ نظام باقی نہ رہے گا تو آپس میں ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔
دک، کے معنی ہیں کسی چیز کو توڑنا اور ریزہ ریزہ کردینا، یعنی ایک ہی ٹکر اور ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ ہوکر ہوا میں اڑتے پھریں گے بس اس روز وہ حاقہ واقع ہوجائے گی۔
عالم سفلی ہی صرف صور کی آواز سے متاثر نہ ہوگا بلکہ عالم علوی بھی متاثر ہوگا آسمان بھی پھٹ جائے گا اور بالکل بودا اور کمزور ہوجائے گا جیسے کوئی کاغذ یاکپڑا بکس جاتا ہے اور گل جاتا ہے۔ یہ حالت آسمان کی ہوجائے گی اور آسمانوں پر جو فرشتے آباد ہیں وہ ا س کے اطراف و جوانب اور اس کے کناروں پر سمٹ آئیں گے یعنی جو حصہ آسمان کا نہ پھٹا ہوگا فرشتے اس پر آجائیں گے اور جب نیچے اترنے کا حکم ہوگا تو نیچے آجائیں گے ارجا ، رجا کی جمع ہے جس کے معنی طرف اور جانب کے ہیں اگرچہ عالم سفلی اور عالم علوی سب میں سستی اور ضعف ہوگا مگر عرش الٰہی میں گرانی اور ثقل زیادہ ہوگا اور ہیبت الٰہی اور اس کے جلال کا یہ اثر ہوگا کہ اس وقت عرش الٰہی کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اب چار کے کندھے پر اس دن چار اور لگیں گے۔
غرض یہ کہ آٹھ فرشتے اٹھائیں گے اور پھر مخلوق پیش کی جائے گی جس کو فرمایا کہ اس دن جس دن یہ تمام کام ہوں گے اس دن تم اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کئے جائو گے یہ شاید نفخہ قیام کے بعد ہوگا یعنی دوسرے نفخہ کے بعد بہرحال جب پیش کئے جائو گے تو تمہاری کوئی خفیہ سے خفیہ بات اور بھید پوشیدہ نہ رہے گا کیونکہ جب نامہ اعمال سامنے آئیں گے تو سب باتیں ظاہر ہوجائیں گی، یوم تبلی السرائر چونکہ قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اس لئے نفخہ ولیٰ اور نفخہ ثانیہ سب کا ذکر فرمادیا۔
Ayah 69:19(19) پھر جس شخص کانامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیاجائیگا تو وہ لوگوں سے کہے گا آئو ذرا میرانامہ اعمال تو پڑھو۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر ایک کے اعمال کے کاغذ اڑا دیں گے جس کے داہنے ہاتھ میں آیا نشان ہوا بھلائی کا اور جو بانویں ہاتھ میں پیٹھ کی طرف سے تو نشان ہوابرائی کا۔
خلاصہ : یہ کہ سیدھے ہاتھ میں کاغذ آئے گا تو خوشی کے مارے ہر ایک سے کہے گا لینا ذرا یہ کاغذ پڑھنا اور میرے نامہ اعمال کو پڑھنا۔
Ayah 69:20(20) مجھ کو اس بات کا یقین تھا کہ مجھے میرا حساب پیش آنا ہے۔
Ayah 69:21(21) غرض وہ ایک پسندیدہ اور من مانی زندگی گزارتا ہوگا۔
Ayah 69:22(22) یہ پسندیدہ اور من مانی زندگی بہشت بریں میں ہوگی۔
Ayah 69:23(23) اس بہشت کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے۔
Ayah 69:24(24) کہا جائے گا جو اعمال تم گزشتہ زمانے میں صلے کی امید پر کرچکے ہو ان کے بدلے میں خوب مزے کے ساتھ کھائو پیو۔ مطلب یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے کی وجہ سے کہے گا مجھ کو تو پہلے ہی اس امر کا یقین تھا کہ میراحساب ہوگا یعنی میں قیامت اور روز جزا کا قائل تھا۔
غرض وہ ایک من مانی اور عیش کی زندگی گزارے گا جو اونچے اونچے باغ یعنی بہشت بریں میں ہوگی ان اونچے باغوں کے میوے اس قدر قریب اور نیچے جھکے ہوئے ہوں گے جو بآسانی حاصل کئے جاسکیں گے اور ان کے استعمال میں کوئی دشواری نہ ہوگی اور ارشاد ہوگا جو اعمال تم نے گزشتہ زمانے میں اس امید پر کئے تھے کہ اس کا صلہ اللہ تعالیٰ کی جناب سے ملے گا تو ان اعمال کے صلے میں خوب رچ کر کھائوکئی طرح ترجمہ کیا گیا ہے اگرچہ خلاصہ مطلب ایک ہی ہے لیکن ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں رعایت رکھی ہے اور اگر آیت کا تعلق روزہ داروں سے ہو جیسا کہ مجاہد ؓ کا قول ہے تو مطلب ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھوکے پیاسے رہے خاص کر گرمی کے زمانے میں لہٰذا ان خواہشات کو روکنے کے بدلے میں جو دنیامیں کرچکے ہو آج خوب کھائو پیو یعنی بےروک ٹوک کھائو اور پیو، آگے ان کا ذکر مذکور ہے جن کا نامہ اعمال الٹے ہاتھ میں دیئے جائیں گے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 69:25(25) اور بہرحال جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں اور الٹے ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا اے کاش میرا نامہ اعمال اور میرا لکھا مجھ کو نہ ملتا اور مجھ کو دیا ہی جاتا۔ یعنی حسرت سے کہہ گا کہ کیا اچھا ہوتا کہ میرا عمل نامہ مجھ کو دیا ہی نہ جاتا۔
Ayah 69:26(26) اورمجھ کو یہ خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے۔
Ayah 69:27(27) کیا اچھا ہوتا کہ وہ پہلی موت ہی آخری فیصلہ کرنے والی ہوتی۔ یعنی موت اول کے بعد دوبارہ بعث اور زندہ ہونا نہ ہوتا۔
Ayah 69:28(28) میرا مال میرے کچھ بھی کام نہ ہوتا۔
Ayah 69:29(29) میری وجاہت و حکومت بھی مجھ سے گئی گزری ہوئی۔
Ayah 69:30(30) حکم ہوگا اس شخص کو پکڑو اور اس کے طوق ڈالو۔
Ayah 69:31(31) پھر اس کو دوزخ میں داخل کردو۔
Ayah 69:32(32) پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر گز ہے اس کو جکڑ دو ۔
Ayah 69:33(33) کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ پر جو سب سے بڑا ہے ایمان نہ رکھتا تھا۔
Ayah 69:34(34) اور یہ غریب و مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب و تاکید نہ کرتا تھا۔
Ayah 69:35(35) سو آج اس کا نہ یہاں کوئی ہمدردی کرنے والا دوست ہے۔
Ayah 69:36(36) اور نہ اس کو زخموں کے دھو ون یعنی کچلہو کے سوا کوئی اور کھانامیسر ہے۔
Ayah 69:37(37) کہ اس کھانے کو سوائے گناہ گاروں کے اور کوئی نہیں کھائے گا۔ ان آیتوں میں دین حق کے منکروں کا انجام بیان فرمایا، قیامت میں جب نامہ اعمال اڑائے اور بکھیرے جائیں گے اس وقت منکروں کے بائیں ہاتھوں میں نامہ اعمال دیا جائے گا اور چونکہ نامہ عمل کا بائیں ہاتھ میں آنا علامت ہے تباہی اور بربادی کی اس لئے یہ شخص چیخنا اور پیٹنا شروع کرے گا ہائے میری کتاب اور میرا لکھا میرے ہاتھ میں نہ دیا جاتا اور میرے حساب کی مجھ کو خبر نہ ہوتی اور دنیا میں جو موت آئی تھی بس وہی موت فیصلہ کن ہوتی اور اس کے بعد کوئی قصہ نہ رہتا یا یہ مطلب کہ یہ موجودحالت ہی موجب موت ہوتی یعنی قیامت ہی میری موت کا سبب ہوجاتی اور آگے کوئی قصہ باقی نہ رہتا۔
اسی طرح دنیوی مال اور دنیوی وجاہت و سلطنت پر افسوس کرے گا کہ اس دن کوئی چیز کام نہ آئے گی، کم از کم ایک انسان کو اپنے اعضا اور اپنے جوارح پر وجاہت اور قابو حاصل ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن ہاتھ پائوں بھی کہنے میں نہ ہوں گے۔ ارشاد ہوگا ملائکہ کو جو محافظ جہنم ہیں اور جن کا نام زبانیہ ہے کہ اس کو پکڑلو اور طوق اس کے زیب گلو کرو یعنی دونوں ہاتھوں کو گلے کے ساتھ ملا کر جکڑ دو اور اس کو دوزخ میں داخل کرو پھر ایک ایسی زنجیر میں جس کی مساحت اور پیمائش شتر گز ہو اس زنجیر میں اس کو داخل کرو یعنی جکڑ دو ۔
آگے عذاب کی وجہ بیان کی کہ یہ اللہ تعالیٰ جو بزرگ و برتر ہے اس پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور باوجود منکر ہونے کے بخیل اس قدر تھا کہ کسی مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب وتحریص نہ کرتا تھا یعنی اپنے گھر والوں اور اپنے متعلقین کو بھی ترغیب و تاکید نہ کرتا تھا کہ فقیروں اور محتاجوں کو کھانا کھلایا کرو اس کا نہ تو آج کے دن یہاں کوئی ہمدردی کرنے والا دوست اور قرابت دار ہے اور نہ سوائے کچلہو یعنی خون آلود پیپ کے جو زخموں کا غسالہ ہوتا ہے کوئی اور چیز اس کے کھانے کو و ہے یہ اہل جہنم کے زخموں کا غسالہ نہیں کھاتے مگر اسی قسم کے گناہ گار کھاتے ہیں۔
اب آگے نبی کریم ﷺ کی صداقت اور منکرین دین حق کے اعتراضات کا جواب ہے۔
Ayah 69:38(38) پس میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی جن کو تم دیکھتے ہو۔
Ayah 69:39(39) اور ان چیزوں کی بھی جن کو تم نہیں دیکھتے۔ دنیا کی بعض چیزیں مدرک بالبصر ہیں اوراقرب الی الفہم ہیں اور بعض نہیں اسی وجہ سے مفسرین نے بہت سی باتیں بیان کی ہیں مثلاً قرآن کے وہ لطائف جن کو سمجھ سکتے ہوں اور وہ لطائف جن کو بدون تعلیم اور تنبیہہ کے نہیں سمجھ سکتے یعنی عقل کی آنکھ بعض خوبیوں کو دیکھ لیتی ہے اور بعض پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کی محتاج ہوتی ہیں۔ یا ماتبصرون سے جو زمین کے اوپر ہے اور مالا تبصرون سے وہ جو زمین کے نیچے پوشیدہ ہے یا عالم اجسام اور عالم ارواح یا مکہ معظمہ اور بیت المعمور غرض معنی کے اعتبار سے آیت کا مفہوم بہت عام ہے اور بعض نے فرمایا ہے کہ ماتبصرون سے پیغمبر کی ذات اقدس اور مالا تبصرون سے اس کلام کو لانے والا فرشتہ ، بہرحال تمام مخلوق کی قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 69:40(40) کہ یہ قرآن ایک معزز فرشتے کالا یا ہوا کلام ہے۔