68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

نٓ قسم قلم کی اور قسم ہے اس کی جو لکھنے والے لکھتے ہیں۔

(1) ن اس کے معنی تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے قسم ہے قلم کی اور قسم ہے اس کی جو لکھنے والے لکھتے ہیں۔
Ayah 68:2

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

کہ آپ اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہیں۔

(2) کہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے مجنون اور دیوانے نہیں ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق دین حق کے منکر عجیب عجیب بےتکی اور سراپا لغو باتیں کہا کرتے تھے منجملہ ان کے آپ کو عام طور سے دیوانہ اور مجنون بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ سورة حجر میں گزر چکا ہے یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون۔ حضرت حق جل مجدہ کافروں کے ان الفاظ کا رد فرماتا ہے اور تاکید کے طور پر قلم اور قلم سے لکھنے والے جو کچھ لکھتے ہیں اس کی قسم کھا کر کفار کے اس قول کی نفی فرماتا ہے کہ آپ ہرگز مجنون نہیں ہیں۔ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے مقادیر خلق لوح محفوظ پر لکھے گے اور جس کو اول ماخلق اللہ القلم کا شرف حاصل ہوا وما یسطرون سے شاید ان فرشتوں کا لکھنا مراد ہے جو کاتب اعمال ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی تفسیر منقول ہے بعض حضرات نے وما یسطرون کو عام رکھا ہے یعنی جو بھی لکھنے والے لکھتے رہتے ہیں خواہ وہ تحریرات عالم بالا کی ہوں یا نامہ اعمال کی ہوں یا زمین کے لکھنے والے لکھتے ہوں چونکہ تحریرات کو دوام حاصل ہے اور قلم اور قلم کی تحری کو ممالک کے انتظام میں بڑا دخل ہے اور امور سلطنت کا انصرام اور امور سلطنت کا ترقی کا دارومدار قلم اور قلم کی تحریرات پر منحصر ہے اور امم سابقہ کے حالات کا معلوم ہونا اور تاریخی واقعات کا معلوم ہونا سب تحریر اور فرشتوں پر موقوف ہے اور زبانی باتوں کا وجود محض عارضی ہے اور دیوانے آدمی کی بات کو تو بالکل ثبات نہیں۔ یہاں نبی کریم ﷺ کی تعلیم جو ہمہ گیر تعلیم ہے اس کی نہ صرف اشاعت اور تمام عالم میں پھیلانا مقصود ہے بلکہ اس کو دوام اور قیامت تک اس تعلیم کا دنیا میں قائم رہنا اور لوگوں کا اس مشعل ہدایت سے راہ پانے کا اظہار اور اعلان مقصود ہے اس لئے قلم اور جو کچھ اس قلم سے فرشتے یا اہل زمین لکھتے رہتے ہیں اس کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ اپنے پروردگار کے فضل و کرم سے مجنون یا دیوانے نہیں ہیں بلکہ آپ کے لئے تو کفار کی ان باتوں سے بڑا اجر اور بڑا مرتبہ ہے۔
Ayah 68:3

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بیشک آپ کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

(3) اور بیشک آپ کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ یعنی دین حق کے منکر جو آپ کی شان میں ہرزہ سرائی کرتے ہیں اور آپ اس پر صبر کرتے ہیں اس پر آپ کو ایسا اجر ملنے والا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں جس طرح آپ کی مقدس تعلیم اور آپ کا دین قائم اور دائم رہنے والا ہے اسی طرح آپ کے اجر کو بھی زوال نہیں اور وہ اجر اور آپ کے مراتب کی بلندی اور برتری کی بھی کوئی انتہا نہیں۔ ممنون کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ احسان رکھا گیا اس تقدیر پر مطلب یہ ہوگا کہ ایسا اجر عطا ہوگا کہ جو بغیر کسی احسان جتانے کے عطا کیا جائیگا یعنی اس اجر کا آپ پر کوئی احسان نہیں دکھا جائے گا۔ آگی آپ کیا خلاق عظیمہ کا ذکر فرمایا چونکہ ان لوگوں پر آپ کا بہت بڑا احسان ہے کہ آپ ان کی رہنمائی اور ان کی ہدایت کے لئے کوشش کرتے ہیں اور یہ اس احسان عظیم کے باوجود آپ کو برا کہتے ہیں اور آپ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں اور آپ باوجود ایک محسن اعظم ہونے کے ان کی برائی کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں اور اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھتے ہیں اس لئے آگے آپ کے خلق عظیم کا ذکر ہے۔ یہ لفظ غیر ممنون عام اہل ایمان کے لئے بھی سورة انشقاق اورر سورة تین میں آیا ہے تو وہ بہشت کے اجرکا ذکر ہے اور نبی کریم ﷺ کے لئے جو اجر غیر ممنون فرمایا ہے وہ آپ کی ہدایت عامہ غیرمنسوخہ کی بنا پر ہے جس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہنے والا ہے اور دونوں میں بڑا فرق ہے۔ بہرحال آپ کے خلق عظیم کے سلسلے میں ارشادہوتا ہے۔
Ayah 68:4

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور یقینا آپ بڑے بلند خلق پر قائم ہیں۔

(4) اور یقینا آپ بڑے بلند اخلاق کے مالک ہیں۔ ہم نے محاورے کا ترجمہ کیا ہے یہ بھی مجنون کہنے والوں کا جواب ہے کہ جس میں خلق بلند ہے اور جو اخلاق عظیم کا مالک ہے اور جس ک وخلق عظیم کا ملکہ حاصل ہے وہ بھلا کہیں مجنون ہوسکتا ہے اور دیوانوں میں جب عقل ہی نہیں ہوتی توخلق کہاں ہوگا۔ نبی کریم ﷺ کے اخلاق سے کب سیرواحدیث لبریز اور بھری ہوئی ہیں حضور ﷺ نے فرمایا بعثت لا تعم مکارم الاخلاق یعنی انبیائے سابقین میں جو اخلاق بزرگیاں اور بڑائیاں تھیں ان سب کی تکمیل اور ان کے اتمام کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ جب آیت خذ العفو وامربالعرف واعرض عن الجاھلین نازل ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ اس کی تفسیر کیا ہے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ اوتیت بمکارم الاخلاق ان تصل من قطعک وتعطی من حرمک وتعفوا عمن ظلمک ، یعنی یہ آیت آپ کو اچھے اور بزرگ اخلاق سکھاتی ہے وہ یہ ہیں کہ جو تجھ سے تعلق قطع کرے آپ اس سے میل کیجئے اور اس سے ملئے اور جو آپ کو محروم کرے آپ اس کو عطا کیجئے اور جو آپ پر ظلم کرے آپ اس کو معاف کردیجئے۔ خود نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں۔ صل من قطعک واعف عمن ظلمک واحسن الی من اساء الیک۔ یعنی جو تجھ سے تعلق کو توڑے تو اس جوڑ۔ جو تجھ پر ظلم کرے تو اس کو معاف کردے، جو تیرے ساتھ برائی کرے تو اس کے ساتھ نیکی اور بھلائی کر۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ سے کسی نے نبی کریم ﷺ کے اخلاق عظیمہ کے متعلق سوال کیا تھا انہوں نے جواب دیا آپ کا خلق قرآن تھا۔ یعنی قرآن جو اخلاق حسنہ بتائے ہیں اور قرآن نے جو بلندتعلیم دی ہے وہ سب آپس کے اخلاق تھے کیونکہ ہر بات آپ کی شریعت اور طریقت مروت اور عقل کے موافق تھی اور یہی وہ خلق عظیم ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ فرمایا ہے ان کفار مکہ کو یہ نہیں معلوم کہ یہ ایک مجسمہ خلق عظیم کو دیوانہ اور مجنون کہتے ہیں اگرچہ دل ان کے بھی جانتے ہیں لیکن عنقریب اپنی آنکھوں سے بھی اپنے قول کی غلطی دیکھ لیں گے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎ بود ہم بحر مکرمت ہم کان گو ہرش کان خلقہ القرآن وصف خلق کسی کہ قرآن است خلق رانعت اوچہ امکانست
Ayah 68:5

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

اب عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور یہ کافر بھی دیکھ لیں گے ۔

(5) اب عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور یہ دین حق کے منکر بھی دیکھ لیں گے۔
Ayah 68:6

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے۔

(6) کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا تھا۔ یعنی عذاب دنوی کے وقت یا مرنے کے بعد یا قیامت کے دن کا عذاب دیکھ کر یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ درحقیقت مجنون کون تھا اور جنون کے فتنے میں کون مبتلا تھا کیونکہ جنون موجب ہے زوال عقل کا اور زوال عقل کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ضرر سے بچتا نہیں اور نفع حاصل نہیں کرسکتا لہٰذا قیامت کے دن یہ بات آشکارا ہوجائے گی کہ کون نفع سے محروم رہ کر ضرر میں مبتلا ہوتا ہے اور اجروثواب سے محروم رہ کر عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اس دن یہ بات آنکھوں سے بھی مجرم دیکھ لے گا اور دل سے بھی یقین کرلے گا جو اس دن کے ضرر سے محفوظ نہ رہ سکا اور اس دن کے نفع سے محروم رہا وہی دیوانہ تھا اور وہی جنون کے فتنے میں مبتلا تھا اگرچہ پیغمبر اسلام کو اس دنیا میں بھی یقین حاصل تھا کہ یہ منکر دیوانے ہیں لیکن منکروں کے مجنون کہنے سے آپ کی حیثیت ایک فریق کی بن گئی تھی اس لئے دونوں کو فرمایا کہ اے پیغمبر آپ بھی دیکھ لیں گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے۔ آگے حق تعالیٰ نے اپنے علم کا اظہار فرمایا کہ آپ کے پروردگار کو تو معلوم ہی ہے اور وہ تو وقت پر ہر شخص کو اس کے مناسب سزا دے گا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 68:7

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک آپ کا رب ہی اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی ان کو بھی جانتا ہے جو راہ یافتہ ہیں۔

(7) بلا شبہ آپ کا پروردگار ہی اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ یافتہ ہیں۔ یعنی چونکہ وہ گم کردہ راہ کو بھی جانتا ہے اور ہدایت پانے والوں کو بھی جانتا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے کئے کی سزا اور جزا دے گا اس وقت ان کافروں کو یہ بات کھل جائے گی کہ واقعی دیوانہ اور مفتون کون تھا۔ آگے نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہے کہ ان تکذیب کرنے والوں سے ہوشیار رہیے اور ان کا کہا نہ مانئے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 68:8

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

لہٰذا آپ ان تکذیب کرنے والوں کا کہا نہ مانئے ۔

(8) لہٰذا آپ ان تکذیب کرنے والوں اور دین حق کو جھوٹا بتانے والوں کا کہنا نہ مانیے اور ان کی اطاعت نہ کیجئے۔ یعنی اے پیغمبر جب آپ کو ان مکذبین کی حالت معلوم ہوگئی تو اب ان کے کہنے میں نہ آئیے اور ان کی بات نہ مانیے کیونکہ یہ کوئی درمیانی بات نکالنے کی کوشش کریں اور آپ کو صلح پر آمادہ کریں گے جیسا کہ دنیوی معاملات میں مبتلا کرتا ہے کہ کچھ تم دب جائو کچھ ہم دب جائیں اور باہمی سمجھوتہ کرلیاجائے تو دین کے معاملہ میں آپ ان کو کوئی ایسی بات نہ مانیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 68:9

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ بتوں کے بارے میں نرم ہوجائیں تو وہ بھی ڈھیلے پڑجائیں یعنی آپ کی مخالفت میں

(9) یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ بتوں کے بارے میں نرم ہوجائیں تو وہ بھی آپ کی مخالفت میں ڈھیلے پڑجائیں۔ یعنی راہ پر آنے والے اور نہ آنے والے سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ لہٰذا دعوت و تبلیغ میں کسی کی رو و رعایت نہ ہونی چاہیے جس کو اسلام قبول کرنا اور ہدایت پانا ہے وہ پائے گا اور جس کو محروم رہنا ہے وہ محروم رہے گا ان کی خواہش یہ ہے کہ آپ کفر کے معاملہ میں مداہنت اختیار کریں اور سست اور ڈھیلے ہوجائیں اور کاہلی برتیں بتوں کی مخالفت میں نرم ہوجائیں تو یہ آپ کی مخالفت کم کردیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ ڈھیلے پڑجائیں اور توحید الٰہی کی مخالفت میں مداہنت برتیں۔ اس آیت میں ان کی خواہشات کا اظہار فرمایا اور مقصد یہ ہے کہ آپ ان سے اس قسم کا معاملہ نہ کریں اور مکذبین کا کہا نہ مانیں اور ان کی پروانہ کریں کچھ ہم سورة واقعہ کی تیسیر میں عرض کرچکے ہیں اور کچھ سورة کافرون میں انشاء اللہ آجائے گا۔ لہٰذا دین کے معاملے میں مساہلت اور مداہنت نہیں کی جاسکتی البتہ مدارات جس کو ہندوستان میں خاطر تواضع اور خاطر مدارت کہتے ہیں اصول انسانیت کی بناپر ہر مسلم اور غیر مسلم کے ساتھ انفرادی یا اجتماعی طور پر جائز ہے غرض حسن سلوک اور خاطر مدارت اور چیز ہے اور مداہنت فی الدین اور چیز ہے اس لئے فرمایا کہ منکرین اور مکذبین کا کہنا نہ مان اور دین میں مداہنت نہ کر۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تو ان کے بتوں کو بھلا کہہ تو دے تیری باتوں کو پسند کریں۔ امام غزالی (رح) نے اپنی بعض تصانیف میں فرمایا ہے کہ مداہنت اور مدارات میں بہت باریک فرق ہے اب آگے بعض خاص کافروں کے اوصاف بیان فرما کر ان کی اطاعت سے خاص طور پر اپنے پیغمبر کو منع فرمایا۔
Ayah 68:10

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور آپ کسی ایسے شخص کا کہانہ مانئیے جو بہت قسمیں کھانے والا اور ذلیل ہو

(10) اور اے پیغمبر آپ خاص طور پر کسی ایسے شخص کا کہا نہ مانیے اور اس کی اطاعت نہ کیجئے جو بہت قسمیں کھانے والاہو بےقدر اور ذلیل ہو۔
Ayah 68:11

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنے دینے والا ہو اور چغل خوری کرتا ہو۔

(11) طعن اور تشنیع کرنے والا ہو اور چغل خوری اور چغلیاں کھاتا پھرتا ہو۔
Ayah 68:12

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

بھلے کاموں سے روکنے والا حد سے بڑھ جانے والا ہو گناہگار ہو۔

(12) بھلے اور نیک کاموں سے روکنے والا ہو حد سے بڑھ جانے والا ہو گناہوں کا ارتکاب کرنے والا گنہگار ہو۔
Ayah 68:13

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

بد مزاج اور ان سب باتوں کے علاوہ اس کا نسب بھی صحیح نہہو۔

(13) سخت طبع، بدمزج گردن کش اور ان سب باتوں کے عالوہ اس کا نسب بھی صحیح نہ ہو یعنی والدالزنا اور حرام زادہ ہو۔
Ayah 68:14

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس سبب سے کہ وہ محض صاحب مال اور اولاد ہو۔

(14) محض اس بات سے کہ وہ صاحب مال اور صاحب اولاد ہو۔
Ayah 68:15

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس کے بروبرو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کی بےسروپا کہانیاں ہیں۔

(15) جب ہماری آیتیں اس پر تلاوت کی جاتی ہیں اور اس کے روبرو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلے لوگوں کی بےسروپا اور بےسند کہانیاں ہیں۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگادیں گے یعنی اسے رسوا کریں گے۔

(16) ہم عنقریب اس کی ناک اور اس کی سونڈھ پر داغ لگادیں گے۔ یعنی اول تو ہر مکذب اس قابل نہیں کہ اس کب بات مان لی جائے اور خاص طور پر ان مکذبین میں سے اگر کوئی شخص ان صفات ذمیمہ کے ساتھ بھی متصف ہو جن کا اوپر ذکر ہوا تو ایسے شخص کا خاص طور پر خیال رکھاجائے اور اس کی اطاعت سے اجتناب کیا جائے جو صفات مذکورہ ہوئیں وہ یہ ہوئیں۔ حلاف بےحد قسمیں کھانے والا اور ہر جائز و ناجائز موقعہ پر خدا کے نام کا استعمال کرنے والا۔ مہین بےقدر اور پست ہمت جو اپنی حرکات شینعہ کی وجہ سے خالق اور مخلوق دونوں کی نظر میں ذلیل و خوار ہے۔ ہماز، طعنہ دینے والا اپنے طعنوں سے لوگوں کی دل آزاری کرتا ہے لوگوں پر اعتراض کرنا لوگوں کے حسب ونسب میں طعن کرنا اس کی عادت ہے۔ مشاء بنمیم لوگوں کی چغل خوری ایک کی دوسرے سے لگائی بجھائی کرتے پھرنا، اور الوگوں میں لڑائی اور جنگ کرانا جو اس لگائی بجھائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ مناع للخیر، نیک کام سے روکنے والا جس میں مال کی خیرات کرنے سے روکنا بھی داخل ہے۔ معتد، لوگوں پر ناحق ظلم وتعدی کرنے والا اور حد اعتدال سے گزرجانے والا۔ اثیم، سخت گناہ گار جو ہر بڑے گنا ہ میں مبتلا ہو۔ عتل، سخت طبع، بدخو، متکبر، گردن کش، نخوت شعار۔ زنیم، نطفہ بےتحقیق ولد الزنا، حرام زادہ، اور یہ جو فرمایا ان کان ذامال وبنین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے شخص کا کہنا نہ مانیے اور وہ بھی محض اس غرض سے کہ وہ صاحب مال واولاد ہے اور دنیا کی وجاہت رکھتا ہے اس دنیوی وجاہت کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوناچاہیے اور ایسے بدکردار کا ہرگز کہنا نہ مانیے اس لئے آپ کو اس کی اطاعت سے منع کیا جاتا ہے کہ جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو یہ ازراہ تکبر ناک چڑھا کر کہتا ہے کہ یہ تو پہلے اور گزشتہ لوگوں کی بےسندکہانیاں ہیں۔ بہرحال پہلے عام مکذبین کی اطاعت سے اپنے پیغمبر کو منع کیا اور پھر تخصیص بعد التعمیم کے طور پر مخصوص کافر کی اطاعت سے منع کیا۔ اور فرمایا ہم ایسے بد کردار اور متکبر اور دشمن رسول کی ناک پر داغ لگائیں گے ناک کی بجائے خرطوم کا لفظ بطور تذلیل فرمایا جو عام طور پر ہاتھی اور سور کی سونڈھ کو کہتے ہیں ان دونوں کی سونڈھ یعنی ناک کے نیچے کی طرف رہتی ہے داغ لگانا کنایہ اس کی تذلیل کی طرف ہے یہ تذلیل اور داغ یا تو قیامت میں ہوگا یا جنگ بدر میں ایک انصاری نے اس کافر کی ناک پر تلوار ماری تھی جس سے اس کی ناک زخمی ہوگئی تھی اور وہ زخم آخر تک اچھا نہ ہوا اور اسی میں مرگیا شاید اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو۔ یوں تو ہر منکر اور کافر انہی اوصاف سے متصف ہوتا ہے لیکن زنیم کہنے سے عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے ولید بن مغیرہ مراد ہے ، مغیرہ نے اٹھارہ سال کے بعد اس امر کا اقرار کیا تھا کہ ولید میرے نطفے سے ہے اور یہ بھی مشہور ہے کہ ولید ان آیتوں کے بعد تلوار لے کر اپنی ماں کے پاس پہنچا اور اس نے کہا میں جانتا ہوں کہ محمد ﷺ جھوٹ نہیں بولتا سچ بتائیں کس کے نطفے سے ہوں ورنہ میں تیرا سر اڑا دوں گا اس نے کہا بات تو یہ ہے کہ تیرا باپ عنین تھا مجھ کو اس سے اولاد کی امید نہ تھی میں نے خیال کیا کہ مغیرہ کی تمام دولت چچا کے لڑکے لے لیں گے اس لئے میں نے فلاں فلاح غلام سے مل کر تجھ کو حاصل کیا یہ حقیقت تیری پیدائش کی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سب کافر کی وصف ہیں آدمی اپنے اندر دیکھے اور یہ خصلتیں چھوڑے۔ بدنام یعنی بدی کر مشہور۔ ذامال وبنین یعنی دنیا میں طالع مند ہے۔ کہتے ہیں یہ ولید تھا قریش میں ایک سردار ناک پر داغ شاید دنیا میں پڑا ہو یا آخرت میں پڑے گا جلنے کا۔ ان آیتوں میں نبی کریم ﷺ کو براکہنے والے کی دس برائیاں بیان کیں اسی طرح نبی کریم ﷺ پر ایک دفعہ درود شریف بھیجنے والے پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ آگے حضرت حق تعالیٰ نے باغ والوں کا ایک قصہ بیان فرمایا مکہ والوں کو سنانے کے لئے تاکہ مکہ والے سمجھیں کہ وہ ایک خاص آزمائش میں مبتلا ہیں اگر انہوں نی اس پیغمبر اور اس کی تعلیم سے فائدہ حاصل نہ کیا تو ان کو بھی باغ والوں کی طرح پچتانا پڑے گا۔
Ayah 68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے ان اہل مکہ کو اسی طرح آزمایا ہے جس طرح ہم نے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی جبکہ ان لوگوں نے اس بات پر قسمیں کھائی تھیں کہ ہم صبح ہوتے ہی ضرور اس باغ کے پھل توڑ لیں گے

(17) ہم نے ان مکہ والوں کو بھی اسی طرح آزمایا جس طرح ہم نے ان باغ والوں کی آزمائش کی تھی جبکہ ان لوگوں نے اس بات پر قسمیں کھائی تھیں کہ ہم صبح ہوتے ہی ضرور اس باغ کے پھل توڑ لیں گے۔
Ayah 68:18

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کا۔

(18) اور انہوں نے اپنے اس کہنے پر انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ یہ باغ تو حبشہ میں تھا اور یا یمن میں صنعا سے تقریباً تین کوس کے فاصلہ پر تھا یہ باغ ایک ثقیفی یعنی قبیلہ ثقیف کے رہنے والے شخص کا تھا۔ یہ باغ بہت اچھے پھل لاتا تھا اس میں کھیتی بھی بہت عمدہ ہوتی تھی بہت آمدنی اور بڑے محصول کا باغ تھا اس کا مالک بہت خیرات کرتا تھا باغ کے پھل اور کھیتی کا اکثر حصہ مساکین کو دیا کرتا تھا۔ مساکین اس کے باغ سے بہت فائدہ اٹھاتے تھے اس باغ والے کے تین یا پانچ لڑکے تھے ان میں سے صرف ایک لڑکا باپ کے طریقہ کو پسند کرتا تھا اور باقی دولڑکے باپ کی خیرات اور مساکین کی خدمت کو ناپسند کرتے تھے۔ چنانچہ جب باپ کا انتقال ہوگیا اور باغ کے کاٹنے کا وقت آگیا تو لڑکوں نے قسمیں کھا کر کہا اکثر نے یا بعض نے کہ صبح کو ضرور اس باغ کا میوہ اور کھیتی کاٹ لیں گے اور انشاء اللہ بھی نہ کہا یعنی اپنے ارادے اور فعل پر اتنا وثوق اور بھروسہ تھا کہ کوئی استثنا ن کیا اور انشاء اللہ تعالیٰ بھی نہ کہا اور صبح ہوتے ہی شاید اس لئے کہا کہ باپ دیر سے کاٹتا تھا تو مساکین جمع ہوجاتے تھے ہم صبح مساکین کے جمع ہونے سے پہلے ہی پھل اور کھیتی کاٹ لائیں گے۔
Ayah 68:19

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پھر وہ پڑے سوتے ہی رہے اور آپ کے رب کی جانب سے ایک چکر لگانے والا اس باغ کا چکر لگا گیا یعنی بلائے ناگہانی۔

(19) پس وہ پڑے سوتے ہی رہے اور آپ کا پروردگار کی جانب سے ایک چکر لگانے اور گھونے والا اس باغ کا چکر لگا گیا اور اس پر گھوم گیا۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ کی طرف سے ایک آگ یا گرم لو کا عذاب آیا اور اس باغ پر پھر گیا۔
Ayah 68:20

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

پھر صبح ہوتے ہوتے وہ باغ ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔

(20) پھر صبح ہوتے ہوتے وہ باغ ایسا ہوگیا جی سے کٹی ہوئی کھیتی۔ یعنی بالکل صاف زمین کہیں کہیں جلی ہوئی کھیتی کا نشان۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پانچ بھائی تھے ان کا باپ چھوڑ مرا ایک باغ میوہ کا اس کی پیدائش سے سارا گھر آسودہ تھا جس دن میوہ توڑنا ٹھہراتا شہر کے سب فقیر جمع ہو آتے سب کو کچھ کچھ دیتا اسی سے برکت تھی پیچھے بیٹوں نے سمجھا کہ اتنا جو فقیر لے جاویں اپنے ہی کام آوے پھر مشورہ کیا کو سویرے ہی توڑ کر گھر لے آئے فقیر جاویں گے تو وہاں کچھ نہ پائیں گے اور اس پر ایسا یقین کیا کہ انشاء اللہ تعالیٰ بھی نہ کہا رات کو آگ لگی یا دھاڑ پڑی سب صاف ہورہا۔
Ayah 68:21

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

غرض صبح کے وقت یہ باغ والے ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔

(21) غرض صبح کرتے باغ والے ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔
Ayah 68:22

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر تم کو باغ کے پھل توڑنے ہیں تو سویرے سے کھیت پر چلو۔

(22) کہ اگر تم کو باغ کے پھل توڑنے ہیں تو سویرے اپنے کھیت پر چلو۔
Ayah 68:23

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پھر وہ آپس میں چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔

(23) پھر وہ آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے گھر سے روانہ ہوئے۔
Ayah 68:24

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ بات تو جب ہے کہ آج باغ میں تمہارے پاس کوئی مسکین نہ آنے پائے۔

(24) کہ بات تو جب ہے کہ آج باغ میں تمہارے پاس مسکین اور محتاج نہ آنے پائے۔
Ayah 68:25

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

اور مساکین کے نہ دینے پر اپنے کو قادر سمجھتے ہوئے صبح سویرے پہنچ گئے۔

(25) اور اپنے کو بخل اور مساکین کو نہ دینے پر قادر سمجھتے ہوئے صبح سویرے پہنچ گئے۔ یعنی خفیہ باتیں کرتے اور فقیروں کو محروم رکھنے کی نیت سے اور اپنے خیال میں اس نیت بخل پر قدرت رکھتے ہوئے صبح ہی صبح باغ میں جا پہنچے۔
Ayah 68:26

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے یقینا ہم راستہ بھول گئے۔

(26) پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے یقینا ہم راستہ بھول گئے۔
Ayah 68:27

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں بلکہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی۔

(27) نہیں بلکہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے اپنا مکان نہ پہچانا کہ کہیں اور جا نکلے پیچھے سمجھا کہ ہم بےنصیب ہوئے۔
Ayah 68:28

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

ان باغ والوں میں سے جو بہتر آدمی تھا اس نے کہا کیوں میں تم سے کہتا نہ تھا کہ تم خدا کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے۔

(28) ان لڑکوں میں سے منجھلے لڑکے نے کہا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کیوں نہیں کرتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے سمجھتے یہ نعمت اور فقیر سے دریغ نہ کرتے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جب اس باغ کو اجڑا ہوا دیکھا اور اس کے کھیت کو جھلسا ہوا پایا اور یہ سمجھ لیا کہ یہ باغ تو ہمارا ہی ہے مگر اس پر خدا کا قہر نازل ہوا ہے اور یہ عذاب کی وجہ سے اجرا ہے تب انہوں نے کہا بل نحن محرومون اور جب اپنی محرومی قسمت کا ان کو یقین ہوگیا تب ان کے منجھلے بھائی نے جوان سب میں بہتر اور باپ کا مسلک سے قریب تھا دوسرے بھائیوں سے کہا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے اللہ تعالیٰ کے نام پر جو مساکین آتے ہیں ان کا بھی خیال رکھو اور باپ کا جو بھلا طریقہ تھا اور جس طرح وہ فقراء کے حقوق کا خیال رکھتا تھا اسی طرح تم بھی رکھو اور کل کے لئے انشاء اللہ تو کہہ لو۔ غرض جو کچھ اس بھائی نے ان کو سمجھایا تھا وہ سب ان کو یاد دلایا اس باغ کا نام مفسرین نے ضروان بتایا ہے۔ علی حرد قادرین کا ترجمہ کئی طرح کیا گیا ہے ۔ حرد کے بہت سے معنی اہل لغت نے کئے ہیں منع کرنا، روک لینا، جلدی چلنا، قصد نیت، ارادہ ، غرض اس بھائی کے کہنے سے سب بھائیوں کو احساس ہوا اور اپنی غلطی کا سب اعتراف کرنے لگے۔
Ayah 68:29

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

اس پر سب نے کہا ہمارا رب جملہ عیوب سے پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار تھے۔

(29) اس پر سب نے کہا ہمارا پروردگار جملہ عیوب سے پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم اور قصور وار تھے۔ یعنی توبہ کے طور پر کہا کہ ہم نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ یہ اعتراف تھا گناہوں کا۔
Ayah 68:30

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر ایک دوسرے کی جانب منہ کرکے آپس میں ایک دوسرے کو الزام دینے لگے۔

(30) پھر ایک دوسرے کی جانب منہ کرکے آپس میں ایک دوسرے کو الزام دینے لگے۔ یعنی جیسا کہ قاعدہ ہے کہ شکست ہوجانے اور کا کے بگڑ جانے کے بعد ایک دوسرے کو ملامت اور الاہنادیا کرتے ہیں وہی ان بھائیوں میں ہونے لگا پھر اپنی غلطی کا احساس کرنے کے بعد آپس میں متفق ہوکر حضرت حق تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہوئے۔
Ayah 68:31

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

آخر کہنے لگے ہائے ہماری خرابی ہم سب ہی حد سے بڑھ جانے والے تھے۔

(31) آخر کہنے لگے ہائے ہماری خرابی ہم سب ہی حد سے بڑھ جانے والے تھے۔ یعنی الزام دینے ملامت کرنے اور اولا ہنادینے سے کیا فائدہ آئو سب مل کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ کریں اور کھلے الفاظ میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔
Ayah 68:32

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

عجب نہیں کہ ہمارا پروردگار اس باغ کے بدلے اس سے بہتر باغ ہم کو عنایت فرمادے بیشک ہم اپنے رب سے ہی توقع رکھنے والے ہیں۔

(32) عجب نہیں کہ ہمارا پروردگار اس باغ کے بدلے اس سے بہتر باغ ہم کو عنایت فرمادے بیشک ہم اپنے پروردگار ہی سے توقع رکھنے والے اور رغبت کرنے والے ہیں اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ہی آرزو کرتے ہیں۔ یعنی توبہ کرتے ہیں اور توبہ کی قبولیت کے ساتھ یہ امیدرکھتے ہیں کہ وہ اس باغ سے بہتر باغ عنایت فرمادے گا۔ بدلا عام ہے دنیا میں دے دے گا یا آخرت میں ا س سے بہتر باغ مل جائے گا کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی اجرڑے ہوئے باغ کو سرسبز کردیا اور اس کی حالت کو پہلے سے بہتر کردیا یا کہتے ہیں کہ جب شہر کے بادشاہ نے ان کے واقعہ کو سنا اور ان کے رونے کو دیکھا تو ان کو ایک باغ حیوان نامی اپنے باغوں میں سے دے دیا جوان کے باغ سے بہت بہتر اور بڑا بارآور تھا۔ باغ ضروان کے مالک مومن تھے یا کافر ! تو اس میں اکثر علماء کی رائے یہی ہے کہ یہ لوگ مومن تھے بعض حضرات نے توقف اور سکوت کو ترجیح دی ہے ایک بہت مختصر جماعت ان لوگوں کے کفر کی قائل ہے ۔ واللہ اعلم۔
Ayah 68:33

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

یوں ہی عذاب آیا کرتا ہے اور آخرت کا عذاب یقینا دنیا کے عذاب سے کہیں بڑھ کر ہے کاش یہ کافر سمجھتے ہوتے۔

(33) یوں عذاب آیا کرتا ہے اور آخرت کا عذاب یقینا دنیا کے عذاب سے کہیں بڑھ کر ہے کاش یہ کافر سمجھتے ہوتے اور کاش یہ لوگ جانتے ہوتے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کا عذاب تھا اس کو کوئی نہیں ٹال سکا اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے اور وہاں کی آفت تو سب سے بڑی ہے کاش یہ لوگ اتنی بات کو جان لیتے۔ کفار مکہ کی حالت بھی یہی ہے کہ یہ اپنی آسودگی اور دولت کے غرور میں اندھے ہورہے ہیں اور نبی آخرالزمان ﷺ کی مخالفت پر آمادہ ہیں ان کو نہ قحط کی خبر ہے نہ جنگ بدر کی ، یہ سب عذاب ان پر آنے والے ہیں اور جب آخری عذاب ان کی تباہی کا آئے گا اور مکہ فتح ہوجائے گا تب باغ والوں کی طرح آنکھیں کھلیں گی اس وقت توبہ کریں گے اور اسلام میں داخل ہوں گے ابھی ان کو ان باغ والوں کی طرح ہم آزما رہے ہیں جب سرکشی حد سے تجاوز ہوجائے گی اور عذاب آجائے گا اس وقت ان کا سب غرور ڈھل جائے گا اور ان کے سب کس بل نکل جائیں گے۔ آگے اللہ تعالیٰ پرہیزگار اور اہل تقویٰ کا ذکر فرماتا ہے اور کفار مکہ کے بعض بےدلیل اعتراضات کا جواب دیتا ہے۔ آخر میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر نبی کریم ﷺ کو صبر کی تاکید فرماتا ہے بیچ میں حشر کی بعض باتوں کا ذکر ہے اور اس امر کا اظہار ہے کہ میں ظالموں کو مہلت دیتا رہتا ہوں لیکن جب گرفت کرتا ہوں تو میری گرفت سخت ہوتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 68:34

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

البتہ پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں نعمتوں کے باغ ہیں۔

(34) البتہ ڈرنے والوں اور پرہیزگاروں کے لئے ان کے پروردگار کے پاس نعمتوں کے باغ ہیں۔ اوپر کی آیتوں میں باغ ضروان کے مالکوں کا ذکر تھا اور اہل مکہ کے منکروں کی آزمائش اور امتحان کی طرف اشارہ تھا اب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو کفر سے اور دوسرے گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں ان کو عالم آخرت میں جو نعمتیں اور آرام و آسائش کے باغ ملنے والے ہیں ان کا ذکر کیا کیا چون کہ کفار مکہ عام طور سے یہ خیال کیا کرتے تھے کہ اول تو قیامت اور میدان حشر کا قیام یہ سب ڈھونگ ہے ان میں سے کوئی بات بھی ہونے والی نہیں اور اگر بالفرض قیامت ہوئی بھی اور وہ دوسرا عالم آیا بھی تو ہمارے وہاں بھی حسنی اور جنت ہوگی ہم مسلمانوں سے اچھی حالت میں ہوں گے جس طرح ہم دنیوی عیش و عشرت آرام میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں اسی طرح وہاں بھی ان سے زیادہ آرام میں رہیں گے اور اگر زیادہ نہ بھی ہوئے تو برابر رہنے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ اس اعتراض کا جواب قرآن نے اور بھی کئی جگہ دیا ہے سورة ص ، سورة سجدہ میں بھی مساوات کی نفی فرمائی ہے یہاں دوسرے عنوان سے کفار کے اس شبہے اور اعتراض کا جواب فرماتے ہیں۔
Ayah 68:35

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرماں برداروں کو نافرمانوں کے برابر کردیں گے۔

(35) کیا ہم فرماں برداروں کو نافرمانوں اور مجرموں کے برابر کردیں گے۔
Ayah 68:36

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تم کو کیا ہوگیا تم کیسا حکم لگاتے ہو۔

(36) تم کو کیا ہوگیا تم کیسا فیصلہ کرتے اور کیسا حکم لگاتے ہو۔ یعنی یہ کیسا نامعقول فیصلہ ہے کہ جو لوگ اطاعت گزار اور تقویٰ شعار اور مطیع ومنقاد ہیں ان کو ہم مفسدوں سرکشوں اور گناہگاروں کی مانند کردیں گے اور دونوں کو ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی درجہ عنایت کریں گے یہ کس قدر خلاف عقل اور لغو فیصلہ ہے جو تم کررہے ہو۔
Ayah 68:37

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔

(37) کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔
Ayah 68:38

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ تم کو اس عالم میں وہ چیز ملے گی جس کو تم پسند کرتے ہو۔

(38) کہ تم کو اس عالم میں وہ چیز مل جائے گی جس کو تم پسند کرتے ہو۔ یعنی دوسرے عالم کے معاملات چونکہ محض عقلی نہیں ہیں بلکہ توقیفی ہیں اس لئے کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں یہ مضمون لکھا ہوا ہو اور بذریعہ وحی اس کتاب میں درج کیا گیا ہو کہ جس کو تم پسند کرتے ہو وہ چیز تم کو وہاں مل جائے گی۔ یعنی حسنیٰ جیسا کہ کہتے تھے ان لی عندہ للحسنیٰ اگر کسی آسمانی کتاب میں تمہارے لئے یہ بشارت لکھی ہوئی ہے تو وہ دکھا دو ۔
Ayah 68:39

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

کیا تم نے ہم سے اس بات پر قیامت تک باقی رہنے والی کچھ محکم اور مضبوط قسمیں لے رکھی ہیں کہ جن چیزوں کا تم اپنے حق میں فیصلہ کررہے ہو وہ چیزیں تم کو ملیں گی۔

(39) کیا تم نے ہم سے اس بات پر قیامت تک باقی رہنے والی کچھ محکم اور مضبوط قسمیں لے رکھی ہیں کہ جن چیزوں کا تم اپنے حق میں فیصلہ کررہے ہو وہ چیزیں تم کو ملیں گی۔ یعنی کیا ہمارے ذمہ کچھ ایسی قسمیں چڑھی ہوئی ہیں جو تمہارے خاطر سے کھائی گئی ہوں اور وہ قسمیں قیامت تک باقی رہنے والی ہوں اور ان قسموں اور ان عہد پیمان کا یہ مضمون ہو کہ جن چیزوں کا تم فیصلہ کررہے ہو وہ چیزیں تم کو ملیں گی۔ یعنی ثواب اور جنت کا تم دعویٰ کررہے ہو کہ یہ ہم کو ملیں گی یا ہم کو ہی ملیں گی تو کیا اس پر ہم سے کوئی عہد اور پیمان ہوگیا ہے ہم نے تمہارے لئے قسمیں کھا کر اس بات کو کہنا ہے اور وہ قسمیں بھی ایسی ہیں جن قسموں کا اثر قیامت تک پہنچنے والا ہے اور وہ مضمون وہی ہے کہ جس بات کا تم فیصلہ کررہے ہو یا جن چیزوں کو تم پسند کررہے ہو وہ باوجود کفر وطغیاں کے تم کو مل جائیں گی اور ماتحکمون اور ما تخیرون تم کو عطا کر دیاجائے گا۔ یعنی کفر کی حالت میں مرنے کے باوجود تم ثواب اور جنت کے مستحق قرار پائو گے آگے اس بات پر ضامن طلب فرمایا۔
Ayah 68:40

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

اے نبی آپ ان سے دریافت کیجئے کہ آخر ان میں وہ کون شخص ہے جو اس قسم کی باتوں کا ذمہ دار ہے۔

(40) اے نبی آپ ان سے دریافت کیجئے کہ آخر انمیں وہ کون شخص ہے کہ اس قسم کی باتوں کا ضامن اور ذمہ دار ہے۔ یعنی اگر کوئی قسما قسمی ہوچکی ہے اور ہم نے کوئی ایسا عہد کیا ہے کہ ہم ابتدائے آفریشن سے لے کر آخر تک تم سے یکساں سلوک کریں گے اور جس طرح دنیا میں تم کو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ دیا ہے اور بطور استدراج ہر قسم کی ترقی کے مواقع تمہارے لئے مہیا کردیئے گئے اسی طرح آخرت میں بھی تم کو ہر قسم کا آرام و آسائش مہیا کیا جائے گا تو جو اس طرح کا مہمل اور لایعنی باتوں کا ذمہ دار اور ضامن ہے وہ کون ہے اسے بتائو۔