Ayah 67:1(1) اس سورت کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے اس کو مالغہ بھی کہتے ہیں یہ سورت عذاب قبر کو اس شخص سے روکتی ہے جو اس کو سونے سے پہلے ایک مرتبہ پڑھ لیا کرتا ہے اس کو منجیہ بھی کہتے ہیں یہ عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔
نبی کریم ﷺ سونے سے قبل سوروہ ملک اور الم تنزیل سجدہ کی ضرور تلاوت فرمایا کرتے تھے اس سورت کا نام حدیث میں واقعیہ بھی آیا ہے یہ …قبر میں مردے کو عذاب سے اس طرح بچاتی ہے جس طرح پرندہ اپنے بچے کو پروں میں چھٹا کر بچاتا ہے۔
حضوراکرم ﷺ فرماتے ہیں میں اس بات کو درست رکھتا ہوں کہ یہ سورت ہر مومن کے دل میں ہو یہ سورت عذاب قبر سے اور قیامت کے دن کی پریشانیوں سے اپنے پڑھنے والے کی حفاظت اور اس کی شفاعت کرتی ہے اور اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑتی ہے اور عذاب کو روکتی ہے۔
ارشاد ہوتا ہے بہت بابرکت اور بڑا عالیشان ہے وہ جس کے قبضے میں ساری سلطنت ہے اور جس کے ہاتھ راج ہے وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کرسکتا ہے۔ برکت کے معنی زیادتی اور بڑھنے کے ہیں یہ زیادتی خواہ حسی ہو یا عقلی حضرت حق تعالیٰ کی طرف برکت کی نسبت باعتبار اس برتری اور بلندی کے ہے جو اس کو اپنی تمام مخلوق پر حاصل ہے کہ اس کی ذات اور اس کی صفات میں کوئی اس کی مثل نہیں ہے اسی کے ہاتھ راج ہے۔
یعنی ہر قسم کے تصرفات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں ہر نظم ونسق اور تغیرات و تصرفات میں اسی کا حکم چلتا ہے یا وہ مالک الملک ہے جس کو چاہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔
وھو علی کل شیء قدیر الذی بیدہ الملک کے لئے قائم مقام دلیل کے ہے۔
Ayah 67:2(2) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا اور جس نے مرنا جینا بنایا تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے اور تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے کون بہتر اور اچھا ہے اور وہ بڑا زبردست بہت بخشنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مرنا نہ ہوتا تو بھلے برے کام کا بدلا کہاں ملتا۔
خلاصہ : یہ ہے کہ حضرت حق تعالیٰ نے مخلوق میں مرنے اور جینے کا سلسلہ جاری کیا کتم عدم سے اس عالم میں لانا اور زندگی کو بخشا پھر یہاں سے دوسرے عالم میں منتقل کردینا اسی کو زندگی اور موت فرمایا۔ عدم کو پہلے پارے میں موت سے تعبیر کیا ہے ۔ وکنتم امواتا فاحیاکم۔ اس موت یعنی عدم سے اس جہان میں لائے زندگی بخشی ، پھر موت دیں گے یہ موت محض عدم نہ ہوگا بلکہ دوسرے عالم میں منتقل ہونا چناچہ اس موت کے بعد پھر زندہ ہونا ہے اسی کو خلق الموت والحیوۃ سے تعبیر فرمایا۔
وھو علی کل شیء قدیر کے لئے السلوی خلق الموت والحیوۃ قائم مقام دلیل کے ہے اس موت وحیات نے بڑے بڑے منکرین و متکبرین کے سروں کو خدا تعالیٰ کی قدرت کے آگے جھکا دیا ہے اور قدرت خداوندی کا معترف بنادیا ہے۔
اعمال حسنہ اور سیہ کا تذکرہ اور جانچ سب زندگی کے کرشمے ہیں، مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو اپنی آخرت کا توشہ کون بناتا ہے اور اس زندگی سے کون فائدہ اٹھاتا ہے ۔ عزیز اور غفور اس لئے فرمایا کہ اعمال غیر حسنہ پر عقاب کی طاقت رکھتا ہے اور اعمال حسنہ پر ثواب عطا فرماتا ہے۔
حدیث میں آتا ہے کسی نے دریافت کیا مومنوں میں بڑا عقل مند کون ہے حضور ﷺ نے فرمایا اکثرھم للموت ذکراواحسنھم لہ استعداداً یعنی زیادہ عقلمند وہ ہے جو موت کو بکثرت یاد کرتا ہے اور موت کے لئے تیار کرتا رہتا ہے۔
Ayah 67:3(3) جس نے اوپر تلے سات آسمان پیدا کئے دیکھنے والے کیا تو رحمان کی صنعت اور اس کی بناوٹ میں کوئی بےضابطگی اور فرق دیکھتا ہے اے مخاطب پھر نگاہ ڈال کر دیکھ کیا تو کوئی شگاف اور دراڑ دیکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی قدرت اور اپنی سلطنت کی وسعت پر توجہ دلانے کے لئے فرمایا طباق کے معنی ہیں تو پر تو یعنی اوپر تلے سات آسمان۔
روایات میں آتا ہے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برس کی راہ ہے اور اسی قدر ہر آسمان کا دل ہے بہرحال ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی مسافت کیا ہے اور یہ ساتوں آسمان کس چیز کے بنے ہوئے ہیں یہ بحث الگ ہے یا پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک دوسرے سے چمٹا ہوا ہے قرآن کریم نے جس قدر فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مخاطب یا اے پیغمبر حضرت حق کی اس صنع میں جہاں تک انسانی نگاہ کا دخل ہے ذرا بتائو کوئی تفاوت کوئی فرق یا کوئی بےقاعدگی اور بےضابطگی پائی جاتی ہے یا آسمان میں کوئی دراڑ یا شگاف دیکھنے میں آتا ہے آگے پھر تنقیدی نظر ڈالنے کی تاکید ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 67:4(4) پھر بار بار نگاہ کو دوہرا کر دیکھ اور بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ تیری نگاہ ذلیل اور درماندہ ہوکر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ یعنی پہلی مرتبہ کے بعد دو مرتبہ دیکھنے کا پھر حکم فرمایا یعنی تین مرتبہ دیکھنے کا حکم دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں مقصود بار بار دیکھنے کی تاکید ہے کہ عالم علوی کی اس صنع میں جس کو آسمان کہتے ہیں کوئی عیب نکالنے کی غرض سے اس پر تنقیدی نظر ڈالو سوائے اس کے کہ اے مخاطب تیری نظر ذلیل ہوکر اور تھک کر تیری طرف واپس آجائے۔ حضرت حق تعالیٰ کے بنائے ہوئے آسمانوں میں کوئی تفاوت تجھ کو نظر نہ آئے گا پھر یہ آسمان پوری زمین کو اسی طرح محیط ہے جس طرح انڈا اپنی سفیدی اور زردی کو محیط ہوتا ہے انڈا پوری طرح گول نہیں ہوتا مگر آسمان زمین کی طرح گول ہے اور زمین کو سب طرف سے گھیرے ہوئے ہے، یہی وجہ ہے کہ زمین کے کسی حصے پر پہنچ کر آسمان کو دیکھئے ہر جگہ سے سروں کے اوپر نظرآئے گا اور یہ جو فرمایا ۔ خاسئا وھو حسیر نگاہ عیب بین کو جب کوئی عیب نہ ملے گا تو ذلیل ہوگی اور جب بار بار کوشش کرے گی تو تھک کر درماندہ ہوجائے گی۔ حضرت حق تعالیٰ کے کمال صنع میں انگلی رکھنے کی جگہ کہاں۔ آگے آسمان دنیا کی بعض خصوصیات کا ذکر فرمایا۔
Ayah 67:5(5) اور ہم نے آسمان دنیا یعنی ورلے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کررکھا ہے اور ہم نے ان چراغوں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے اور ہم نے ان شیاطین کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کررکھا ہے - آسمان دنیا ورلا آسمان اس میں تارے نظر آتے ہیں جو رات میں چراغوں کی طرح چمکتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں دیکھنے والوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں زمین کی مخلوق کے ہزاروں منافع ان تاروں سے وابستہ ہیں تری اور خشکی کے راستوں کا پتہ ، مغرب، مشرق، شمال، جنوب کا معلوم ہونا، پھولوں کا رنگ پھولوں کی رنگت پھلوں کا رنگ اور خدا جانے ان تاروں کے کیا کیا اثرات ہیں جو حکماء اور فلاسفر یا کاشتکار اور باغبان جانتے ہیں۔ قرآن سے چراغوں کی زینت کے ساتھ مخلوق کے ایک روحانی فائدے کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ چراغ یعنی تارے شیاطین کو غیب کی خبریں سننے سے روکتے ہیں۔ جب کبھی کوئی شیطان آسمان کے قریب پہنچتا ہے تو ان تاروں سے ان کا رجم کیا جاتا ہے اور آگ کا ایک شعلہ ان کی طرف لپکتا ہے یہ تو دنیامیں ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہم نے ان شیاطین کے لئے دمکتی ہوئی آگ یعنی جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے علاوہ بیشمار منافع کے بڑا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ہوگا۔
اس موقعہ پر مفسرین نے کئی باتیں ذکر کی ہیں تاروں کی نوعیت تاروں کا آسمان سے تعلق یعنی یہ تارے قندیل کی طرح آسمان میں لٹکے ہوئے ہیں یا آسمان میں جڑے ہوئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
مگر ہم نے تطویل کے اندیشے سے تمام مباحث کو چھوڑ دیا ہے اور جو بات مشہور ہے وہ اختیار کرلی ہے وہ یہ کہ ارے آسمان دنیا کی زینت اور رونق کا سبب ہیں شیاطین کے لئے شہاب ہیں اور شیاطین کو دفع کرتے ہیں تری اور خشکی میں مسافروں کو راستے کا ان سے پتہ ملتا ہے اس کے علاوہ علم ہیئت میں جو ان تاروں کے فوائد بیان کئے گئے ہیں ان کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے اور تفصیل چھوڑ دی ہے۔
اوپر سے حضرت حق تعالیٰ کا بیان ہورہا تھا اسی سلسلے میں موت وحیات کا ذکر آگیا پھر آسمانوں کی پیدائش اور ان کے سات طبقات کا ذکر فرمایا پھر ان کے کمال پر توجہ دلائی اور نظر توجہ اور نگاہ تامل کو دعوت دی کہ کوئی عیب اور کوئی تفاوت بیان کرو اور بار بار دیکھ کر بتائو کہ ہم نے ان آسمان کو جیسا بنایا ہے اور جو رعایتیں اور مصالح ان کی بناوٹ میں ملحوظ رکھے ہیں ان میں کیا عیب ہے اور یہ کیسے ہونے چاہئیں تھے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہے یعنی جیسا چاہیے ویسا نہ ہو۔ یعنی کسی اور طرح سے بنائے جاتے۔
بہرحال اسی سلسلے میں آسمان دنیا کا ذکر فرمایا اور تاروں کے فوائد ذکر کئے ان شیاطین کا ذکر فرمایا اور دنیا وآخرت میں ان کے عذاب کا ذکر فرمایا۔
اب اس سلسلے میں جو لوگ شیاطین کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور اپنے پروردگار کی توحید کا انکار کرتے ہیں ان کے انجام کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 67:6(6) اور جو لوگ اپنے پروردگار کی توحیدکا انکار کرتے اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ کافرانہ شیوہ رکھتے ہیں تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ جہنم باز گشت بہت بری جگہ ہے۔
یعنی اپنے پروردگار کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور دین حق کے منکر ہیں تو ان کا حشر بھی وہی ہوگاجو شیاطین کا ہوگا۔
Ayah 67:7(7) جب یہ پروردگار کی توحید کے منکر اس جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ اس کی خوفناک اور ناپسندیدہ آوازیں سنیں گے اور وہ دوزخ جوش مارہی ہوگی۔
Ayah 67:8(8) ایسا معلوم ہوتا ہوگا کہ وہ مارے غصے کے ابھی پھٹ پڑے گی جب بھی اس میں کافروں کا کوئی گروہ اور کوئی دل اور کوئی انبوہ جھونکا جائے گا تو دوزخ کی حفاظت کرنے والے اور دوزخ کے نگہبان فرشتے ان سے دریافت کریں گے اور سوال کریں گے کیا دنیا میں تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں آیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب دین حق کے منکر جہنم میں ڈالے جائیں گے تو ایک ہیبت ناک اور سخت مکروہ آواز سنیں گے جو گدھے کی آواز جیسی ہوگی۔
شھیق گدھے کی آواز کو کہتے ہیں یعنی آواز خوفناک اور ناپسندیدہ ہوگی دوزخ جوش مار رہی ہوگی اور یہ معلوم ہوتا ہوگا کہ قریب ہے کہ دوزخ پھٹ پڑے، دوزخ کی یہ حالت یا تو بطور تمثیل بیان کی گئی ہے یا واقعی اس ادراک کی بنا پر اس میں جوش ہوگا جو ادراک اس کو حاصل ہوگا پھر جب جب کسی گروہ کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو ہر گروہ کے افراد سے وہاں کے فرشتے پوچھیں گے کہ تمہارے پاس کوئی پیغمبر دنیا میں نہیں آیا تھا اور اس نے تم کو اس دن سے نہیں ڈریا تھا اور کیا اس پیغمبر نے تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کے احکام سے روشناس نہیں کرایا تھا آخر اس جہنم میں تمہارے آنے کی کیا وجہ ہوئی تم کیوں یہاں آئے یہ اس سوال کے جواب میں جو کہیں گے وہ آگے مذکور ہے۔
Ayah 67:9(9) پروردگار کی توحید کے منکر دوزخ کے محافظ فرشتوں کو جواب دیں گے کیوں نہیں بیشک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم ہم نے اس ڈرانے والے کی تکذیب کی اور اس پیغمبر کو جھوٹا بتایا اور یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی سوائے اس کے نہیں کہ تم لوگ بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ یعنی جب دوزخ کے نگہبان فرشتے کافروں کے ہر ہر گروہ سے دریافت کریں گے اور بطور مذمت اور توبیخ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر نہیں آیا تو ہر گروہ کے افراد یہی کہیں گے کہ پیغمبر تو آیا تھا کیونکہ دین حق کے تمام منکر اور کفار آگے پیچھے جہنم میں ضرور داخل ہوں گے اور فرشتے ہر انبوہ سے دریافت کریں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی پیغمبر نہیں آیا اور سب باری باری یہی جواب دیں گے کہ بیشک پیغمبر آیا مگر ہم نے یہ کہہ کر اس کی تکذیب کی کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز یعنی احکام اور کتاب اور رسول وغیرہ نہیں بھیجے اور اس قسم کی کوئی چیز نازل نہیں فرمائی تم جو اس قسم کی باتیں کرتے ہو تو کچھ نہیں مگر یہ کہ تم بڑی گمراہی میں پڑگئے ہو۔
یعنی یہ آخری بات ان انتم الافی ضلل کبیر بھی ان منکروں کا قول ہے جو انہوں نے اپنے اپنے پیغمبروں سے کہا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو کہ وہ ان کی بات سن کر کہیں گے کہ تم رسولوں کی بات کا انکار کرکے بڑی گمراہی میں مبتلا ہوگئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ قول رسولوں کا ہو جو انہوں نے قوم کا انکار سن کر کہا ہو۔ ان انتم الا فی ضلل کبیر۔
مگر راجح وہ قول ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے اس کے علاوہ یہ پروردگار کے منکریوں بھی کہیں گے۔
Ayah 67:10(10) اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم اہل جہنم میں سے نہ ہوتے۔ یعنی اگر ہم پیغمبروں کی بات کو سنتے اور ان کے کہنے کو قبول کرتے اور مانتے تو آج کے دن اہل دوزخ اور اصحاب سعیر سے نہ ہوتے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر پیغمبروں کے وعد وعید کو طالب حق کا ساسننا سنتے اور مقاتل متفکر کی طرح ان میں غور کرتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔
بہرحال دوہی چیزیں ہیں ایک سننا اور سمجھنا اور بدقسمتی سے یہ دونوں کا انکارکریں گے نہ سنا نہ سمجھا اور بالآخر اس دہاڑے کو پہنچے کہ آج دوزخ والوں کے ساتھ جہنم میں پڑے ہیں۔ حضرت حق تعالیٰ ان کے اقرار اور اعتراف کا آگے کی آیت میں اظہار فرماتے ہیں۔
Ayah 67:11(11) غرض یہ کافر اپنے جرم کا اقرار کریں گے پس یہ اہل دوزخ خدائے تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گی۔ یہ منکر آخر کار اپنے جرم یعنی اپنی غفلت کا اقرار کرلیں گے لیکن یہ اقرار بےوقت ہوگا جس جس وقت اقرار و اعتراف مفید نہیں ہوتا وانی لہ الذکری اس لئے فرماتے ہیں۔
فستحقا الاصحاب السعیر کا مطلب یہ ہے کہالزمہم اللہ ستھایا اسحقھم اللہ سحقا
یعنی ہر قسم کے الطاف و عنایات اور مہرومحبت سے دوری ہی دوری ہو ان اصحاب سعیر کو العیاذ باللہ ان منکروں کا ذکر کرنے کے بعد آگے نیک اور ڈرانے والوں کا ذکر فرمایا۔
Ayah 67:12(12) البتہ وہ لوگ جو اپنے پروردگار کو بغیر دیکھے اس سے ڈرتے ہیں تو ان کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجروثواب ہے بن دیکھے یعنی نہ عذاب کا معائنہ کیا نہ میدان حشر کو دیکھا نہ دوزخ آنکھوں کے سامنے آئی پھر بھی ان باتوں کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں تو ایسے لوگ بڑی بخشش اور اور ثواب کے امیدوار ہیں۔
ولمن خاف مقام ربہ جنتن آگے ان لوگوں کو تنبیہہ فرمائی جو اپنی مجالس اور محافل اور روزانہ کی صحبتوں میں بیٹھ کر قرآن اور اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کیا کرتے تھے۔
Ayah 67:13(13) اور تم اپنی بات کو چھپا کر کہو یا اس کو کھول کر کہو اور آواز سے کہو وہ سب جانتا ہے کیونکہ وہ سینوں کی پوشیدہ باتوں تک سے بخوبی واقف ہے۔ نبی کریم ﷺ کبھی ان منافقوں سے فرماتے تھے کہ تم نے فلاں موقعہ پر یہ کہا فلاں موقعہ پر اپنی مجلس میں یہ بدزبانی کی تو یہ منکر آپس میں چپکے چپکے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بدگوئی کرتے اس پر حضرت حق نے فرمایا کہ تم کوئی بات چھپا کر کہو یا پکار کر اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے، وہ سینوں تک کے بھیدوں سے واقف ہے اور باخبر ہے آگے اسی باخبر ہونے کی دلیل ہے۔
Ayah 67:14(14) بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ اپنی مخلوق کے حالات سے بیخبر ہوسکتا ہے حالانکہ وہ بڑا باریک بیں اور پوری طرح باخبر ہے۔ یعنی بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ نہ جانے بھلا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ جو خالق اور مختار ہو وہ خالق و مختار جس چیز کو پیدا کرے یہ ضروری ہے کہ اس کو پورا علم اس کا حاصل ہو ورنہ پیداکرنا ممکن نہیں بھلا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے بنایا وہی نہ جانے وہ نہایت لطیف اور ہر بھید سے واقف ہے۔
حقائق نفس الامریہ کے ادراک کے لئے وہاں کوئی چیز مانع نہیں کائنات کا کوئی ذرا ایسا نہیں کہ جس کے احوال سے وہ باخبر نہ ہو آگے اپنے بعض انعامات اور دلائل توحیدکا بیان فرمایا۔
Ayah 67:15(15) وہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہے کہ جس نے تمہارے نفع کے لئے زمین کو مطیع مسخر اور فرماں بردار کردیا سو اب اس کے کندھوں یعنی اس کے راستوں میں اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا اور اٹھنا ہے۔ یعنی زمین کو باوجود اس کی اتنی وسعت وپنہاں کے تمہارا تابعدار کردیا کہ جس طرح چاہتے ہو اس کو استعمال کرتے ہو۔ اس کی معدنیات کو اپنے کام میں لاتے ہو، کھیتی باڑی کے لئے ہل چلاتے ہو اس کی نباتات سے فائدہ حاصل کرتے ہو اس پر ہر قسم کی تعمیر کرتے ہو اور مویشی کو جس طرح چاہتے ہو کام میں لاتے ہو غرض اس عالم کی ایک بہت بڑی طاقت نمو اور قوت نشو و نما کو تمہارے اختیار میں دے دیا تم اس کے کاندھوں پرچڑھے چڑھے پھرو۔
یعنی جہاں تمہارا جی چاہے سفر کرو ، تجارت کرو ایک جگہ کی پیداوار دوسری جگہ منتقل کرکے نفع کمائو اور دنیوی فوائد حاصل کرو اور اس کی مہربانی سے جو روزی تم کو دی جاتی ہے اس کو کھائو۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اس مالک و مختار کو نہ بھول جائو جس نے اتنی بڑی طاقت کو تمہارے لئے پست اور تمہارا تابعدار کردیا ہے اس کا خیال رکھو کہ تم سب کو ایک دن اسی مالک و مختار کی پیشی میں حاضر ہونا ہے اور اس کی جناب میں جی کر اٹھنا ہے۔
Ayah 67:16(16) کیا تم اس سے نڈر اور بےخوف ہگئے ہو جو آسمان میں بھی حکمراں اور متصرف ہے کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ زمین یکایک لرزنے لگے۔ یعنی آسمان اس کی سلطنت اور اس کی حکمرانی کا مظہر ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کی حکومت صرف آسمان میں ہے بلکہ حکومت اس کی جس طرح زمین میں ہے اسی طرح آسمان میں ہے۔ من فی السماء یا تو حضرت حق تعالیٰ کی علوشان کی وجہ سے آسمان کی جانب نسبت فرمائی یا اس وجہ سے کہ عام کافر یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے اور رحمت و عذاب اس کی طرف سے اترا کرتے ہیں۔
اس لئے من فی السماء فرمایا ہم نے تیسیر میں بھی حکمراں متصرف کے تفسیری الفاظ بڑھا کر ان تمام شبہات کو دفع کردیا ہے زمین پر تو اس کی حکومت ظاہر ہی ہے کہ اس نے زمین کو تمہارے لئے مسخر کررکھا ہے اسی طرح آسمان میں بھی وہی حکمراں ہے تو کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور زمین پانی کی طرح حرکت کرنے لگے اور تھر تھرا کر الٹ پلٹ ہوجائے اور تم دھنس جائو اور زمین برابر ہوجائے جیسا کہ عام طور پر خسف کے موقعہ پر دیکھا گیا ہے اس لئے اس سے جو آسمان میں ہے کسی وقت بےخوف اور نڈر نہ ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا چاہیے، اور اس کی نافرمانی سے احتراز اور اجتناب کرنا چاہیے۔
صاحب قاموس نے تمور کے معنی کئے ہیں تفطرب ذھاباومجیا آگے پھر تنبیہہ فرماتے ہیں۔
Ayah 67:17(17) کیا تم لوگ اس سے بےخوف اور نڈر ہوگئے ہو جو آسمان میں بھی حکمراں اور متصرف ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے اب عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہوا اور کیونکر تھا۔ یعنی جس کی حکومت دونوں جہان پر یکساں ہے وہ اگر چاہے تو تم پر ایسی ہوا اور آندھی بھیجے جو پتھر برسانے والی ہو۔
بہرحال اگر تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرو گے اور اس کے رسولوں کی مخالفت کرتے رہو گے تو تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ میراڈرانا کیسا تھا یعنی اگر دنیا میں کوئی عذاب عاجل نہ آیا تو مرتے ہی معلوم ہوجائیگا کہ میرا عذاب سے تم کو ڈرانا کیسا تھا۔
Ayah 67:18(18) اور بلا شبہ جو لوگ ان سے پہلے ہوگزرے ہیں وہ بھی پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں پھر دیکھ لو میرے انکار کا انجام ان کے حق میں کیسا ہوا۔ یعنی ان پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور میں ان کی حرکات ناشائستہ پر انکار کیا پھر اس انکار کا انجام جو کچھ ہوا وہ تاریخی اعتبار سے تمہارے سامنے ہے۔
اوپر کی آیتوں میں اپنے انعامات اور احسانات کی جانب توجہ دلائی تھی ان آیتوں میں تنبیہہ فرمائی اور اپنی گرفت اور عذاب سے ڈرا۔ اب آگے پھر دلائل قدرت پر توجہ دلاتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے بعض نے نکیر کا ترجمہ عذاب بھی کیا ہے عام مفسرین نے انکاری علیہم سے تفسیر کی ہے لیکن اپنے اکابر میں سے بعض حضرات نے انکار ہم علی سے تفسیر فرمائی ہے حضرت حق جل مجدہ کا انکار یہی کہ اس کے اوامر کی مخالفت پر اس کی ناراضگی اور بندوں کا انکار یہ کہ اس کے احکام کی تعمیل سے روگردانی کریں۔
بہرحال ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں دونوں باتوں کی رعایت رکھی ہے۔ فتامل
Ayah 67:19(19) کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر اڑتے پرندوں کے حال پر نظر نہیں کی جو اپنے بازو اور پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی سمیٹ لیتے ہیں ان پرندوں کے سوائے رحمن کے اور کوئی گرنے سے نہیں روکتا۔ بیشک وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے اور ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔ یعنی زمین کا ذکر فرمایا آسمان کا ذکر اب درمیانی بات کی طرف اشارہ فرمایا جیسا کہ سورة نحل میں گزر چکا ہے یعنی جو کی طرف اشارہ ہے کہ صدہا پرندے اڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ان کے ثقل اور ان کے خاکی ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ زمین پر گرپڑیں اور زمین کی قوت جاذبہ ان کو کھینچ لے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ دو دو چار چار آسمان و زمین کے درمیان اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں کبھی تو غول کے غول اڑتے پھر یہ بھی نہیں کہ ہمیشہ ان کے پر کھلے رہیں بلکہ کبھی کبھی اپنے پروں کو بند بھی کرلیتے ہیں ان کے ثقل اور زمین کی کشش کے باوجود ہوا میں اڑتے پھرتے ہیں تو ان کے سوائے رحمان کے کوئی اور نہیں جو زمین پر گرنے سے روکتا ہو یہ اسی کی قدرت بالغہ ہے اور اس کی قدرت کا اثر ہے کہ پرندے ہوا میں اس طرح پھرتے ہیں جس طرح دریا میں مچھلیاں تیرتی ہوتی ہیں ان کے پروں کی ساخت اور ان کے بازوئوں کی بناوٹ اس انداز پر رکھی ہے کہ ان کو ہوا میں اڑتے پھر ناایسا ہی سہل ہے جیسے ہم کو زمین پر چلنا پھرنا۔
بلا شبہ ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے اور وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے یعنی تمام غلوق کے حالات اس کی نگاہ میں ہیں اور وہ کسی سے غافل نہیں ہے۔
Ayah 67:20(20) بھلا رحمان کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے یہ دین حق کے منکر محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا وہ کون ہے جو آفات و مصائب میں تمہاری فوج اور تمہارا لشکر بن کر تمہاری مدد کرے اور تمہاری خواہش کے مطابق تمہاری حفاظت کرے اگر تم نے یہ خیال کررکھا ہے کہ یہ تمہارے جھوٹے اور باطل معبود کسی آفت کے وقت تمہارے کام آجائیں گے یا تمہارے سپاہی بن کر تمہاری مدد کریں گے تو ایسا خیال کرنا محض دھوکا اور فریب ہے۔
اسی کو فرمایا ان الکافرون الافی غرور۔
Ayah 67:21(21) اچھا اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی اور اپنے رزق کو تم سے روک لے تو بھلا وہ کون ہے جو پھر تم کو روزی پہنچائے اور تم کو رزق دے اصل بات یہ ہے کہ یہ کافر سرکشی اور نفرت پر اڑے ہوئے ہیں۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ اپنی روزی اور رزق رسانی کے دروازے اور وسائل و اسباب بند کرے تو بھلا وہ کون ہے جو تم کو رزق پہنچا سکے۔
ان تمام باتوں کو سن کر اور اس کی بےپناہ طاقت اور بےکراں قدرت کا حال سن کر بتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں آتے تو اصل بات یہ ہے کہ سخت عناد سرکشی اور حد سے تجاوز کرنے اور حق بات سے بھاگنے ، نفرت کرنے اور بدکنے پر جمے ہوئے ہیں لجاج انتہائی عناد پر اڑنا اور جم جانا عقو حد سے تجاوز کرنا اور سرکشی میں بڑھ جانا نفور، نفرت کرنا، بھاگنا، بدکنا بےزار ہوکر چل دینا۔
Ayah 67:22(22) بھلا ایک وہ شخص جو اندھا اپنے منہ کے بل چلے وہ سیدھی راہ پائے گا یا وہ شخص جو چلے سیدھا اور ایک سیدھی راہ پر وہ مقصود تک پہنچے گا۔ قرآن نے یہ مشرک اور موحد کی مثال بیان فرمائی مکب کہتے ہیں اس شخص کو جو منہ کے بل گرتا ہو جیسے مرگی والا اندھا آدمی جو قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہو اور منہ کے بل گر گرپڑتا ہو تو ایک ایسا شخص جو قدم قدم پر منہ کے بل گرتا ہو اور اس حال میں راستہ طے کرتا ہو اور ایک ناہموار راستے پر رینگ رہا ہو اور سوائے زمین کے اس کو کچھ نظر نہ آتا ہو کیونکہ جب سیدھا کھڑا ہونے کا موقعہ ہی نہ ملے گا اور دوسری چیزیں اس کو کس طرح دکھائی دیں گی بہرحال ایک شخص تو ایسا ہے تو کیا یہ زیادہ را ہ یافتہ ہوگایا وہ شخص جو سیدھی سڑک اور سیدھی راہ سیدھا چلتا ہو یعنی صحیح وسالم اور سیدھا کھڑے ہوکرچلتا ہو ہر طرف کے نشانات اور اشجار واحجار اور چاند و سورج کو دیکھتا ہو چلتا ہو یہ منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب ہوگا اور یہ زیادہ راہ یافتہ ہوگا بعض حضرات نے مکب سے ابو جہل اور سوی سے حضرت حمزہ یا ابوجہل اور عمار بن یا سر مراد لئے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے۔
ہرموحد اور ہر مشرک کی یہی حالت ہے ایک تخمین اور ظن پر ٹٹولتا ہوا چل رہا ہے اور ایک حق اور یقین کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے اور جو یقین اور حق کی راہ چل رہا ہے وہی زیادہ راہ یافتہ اور کامیاب ہے ان دلائل واضحہ کے بعد بھی اگر یہ لوگ نہیں سمجھتے تو حضرت حق تعالیٰ پیغمبر (علیہ السلام) کو ارشاد فرماتے ہیں کہ ان کی فہمائش کا دوسرا طریقہ اختیار کیجئے اور ان سے یوں کہیے۔
Ayah 67:23(23) اے پیغمبر آپ فرمائیے وہ اللہ تعالیٰ ایسا منعم اور محسن ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کا بہت کم شکرادا کرتے ہو۔
Ayah 67:24(24) آپ فرمائیے وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا رکھا ہے اور تم کو زمین میں بکھیر رکھا ہے اور تم سب اسی کے پاس جمع کئے جائو گے۔ یعنی یہ بہت بڑا اس کا احسان ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو طاقت شنوائی اور بینائی بخشی سوچنے سمجھنے اور تمام قوائے جسمانی پر نظم قائم رکھنے کو دل دیا لیککن باہمی ہمہ انعامات و احسانات کے تمہارا حال یہ ہے کہ تم لوگ بہت کم احسان مانتے اور بہت کم شکر بجا لاتے ہو اور ان سے اے پیغمبر یہ بھی فرمادیجئے کہ اسی نے تم کو روئے زمین پر پھیلا رکھا ہے۔ اور تم سب کو اسی کی حضوری اور اسی کی جناب میں حاضر ہونا ہے جو کام کرو یہ سمجھ کر کرو کہ ایک دن اس کے حضور میں حاضر ہونا اور اپنے کئے کا جواب دینا ہے اور اپنے اپنے اعمال کے موافق سزا بھگتنا اور صلہ پانا ہے آگے کفار کے بعض اعتراضات کا جواب فرمایا۔
Ayah 67:25(25) اوریہ منکر کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو کہ آخر یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔
Ayah 67:26(26) آپ کہہ دیجئے کہ یہ وعدے کی تعیین اور اس کے وقت کا علم تو بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور میں تو سوائے اس کے نہیں کہ لوگوں کو ایک ڈرانے والا ہوں صاف صاف اور وضاح طور پر - یعنی جب قیامت کا ذکر اور خدا کی جناب میں جمع ہونے کا ذکر سنتے ہیں تو بجائے ایمان لانے کے مسلمانوں سے اور پیغمبر ﷺ سے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کب پورا ہوگا اس کی تاریخ بتائو اس کا وقت مقرر کرو اس کے جواب میں فرمایا کہ اس کی تعیین کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے میرا کام تو صرف اس قدر ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام واضح طور پر بیان کردوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے تم کو ڈرادوں۔ قیامت کی تعیین کا علم میرے پاس نہیں ہے ہاں یہ ضرور ہے۔
Ayah 67:27(27) کہ جب اس روز قیامت یا اس وعدہ قیامت کو قریب اور پاس آتا ہوا دیکھیں گے تو اس وقت ان منکرین حق اور کفر پیشہ لوگوں کے چہرے اور شکلیں بگڑ جائیں گی اور اس وقت کہا جائے گا یہی وہ عذاب ہے جس کا تم سخت تقاضا کیا کرتے تھے اور تاکید کے ساتھ مانگا کرتے تھے۔ یعنی جس وعدے کا تعین کر ارہے ہو اور تاریخ اور وقت کی تعیین کر ارہے ہو جب وہ وعدہ آئے گا اور وہ قیامت قریب آجائے گی تو کافروں کی صورتیں اور ان کی شکلیں مارے غم اور پریشانی کے بگڑ جائیں گی اور اس وقت ان سے کہا جائے گا یہی تو وہ دن ہے جس کا تم تقاضا کیا کرتے تھے۔
Ayah 67:28(28) اے پیغمبر ! آپ ان دین حق کے منکروں سے کہیے بھلا یہ تو بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم فرمادے اور اپنی رحمت فرمادے تو ان دونوں حالتوں میں تم بتائو کہ کافروں کو اور دین حق کے منکروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا۔
سبحان اللہ ! حضرت حق تعالیٰ نے کیا ہی خوب بات فرمائی کہ تم جو ہماری فکر میں لگے رہتے ہو اور حوادثات زمانہ کا ہمارے لئے انتظار کرتے ہو اور تم اپنے معاملہ پر نظر نہیں کرتے، اچھا فرض کرلو اگر اللہ تعالیٰ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو کلمہ گو میرے ساتھ ہیں ان کو ہلاک کردے اور کسی حادثے سے ہم سب ختم ہوجائیں یا نفخہ اولیٰ سے ہم سب مرجائیں یا آخرت میں اپنی شامت اعمال سے ہلاک ہوجائیں یا اللہ تعالیٰ ہم سب پر مہربانی فرمائے کہ موت کے بعد ہم کو راحت نصیب فرمادے اور ہم کو کسی حادثے سے نقصان ہی نہ پہنچے یا آخرت میں ہماری تقصیرات کو معاف فرما کر ہم کو اپنی رحمت میں داخل کرلے۔
ان دونوں حالتوں میں سے ہمیں کوئی بات بھی پیش آئے مگر تم کو دردناک عذاب سے کون بچانے والا ہے، یعنی ہماری فکر چھوڑ دو ہمارے انجام کی فکر نہ کرو، ہمارے ساتھ جو بھی معاملہ ہو تم تو یہ بتائو کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچانے والا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اپنی نجات کی فکر کرو اور ہمارے انجام کی بحث اور ہمارے انجام کا انتظار کرو ہمارے ساتھ جو برتائو بھی ہونا ہو وہ ہو لیکن یہ واقعہ ہے کہ کافروں کو عذاب خداوندی سے بچانے والا کوئی نہیں آگے مسلمانوں کے امید افزا انجام کی طرف اشارہ فرمایا۔
Ayah 67:29(29) آپ کہہ دیجئے وہ اللہ تعالیٰ رحمان ہے یعنی بڑا رحم کرنے والا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اس پر توکل اور بھروسہ اور اعتماد کررکھا ہے سو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کون صریح گمراہی میں مبتلا ہے یعنی تم مبتلا ہو یا ہم مبتلا ہیں۔
Ayah 67:30(30) آپ فرمائییاچھا یہ تو بتائو کہ اگر تمہارا پانی زمین میں اتنا نیچے اتر جائے کہ حاصل نہ ہوسکے یعنی اتر کر غائب ہوجائے تو وہ کون ہے جو تمہارے لئے بہتا پانی لے آئے۔
یعنی ہماری بات تو صاف اور سیدھی ہے کہ ہم خدائے رحمان پر ایمان رکھتے ہیں ہم سب کا اسی پر بھروسہ ہے تمہارا نہ اس پر ایمان نہ اس پر بھروسہ لہٰذا عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کون کھلی اور صریح گمراہی میں مبتلا ہے یعنی تم یا ہم ۔ ہماری بات صحیح ہے یا تمہاری بات درست ہے مرتے کے ساتھ ہی سب حال معلوم ہوجائے گا۔
آخر میں حضرت حق جل مجدہ کی بادشاہی اس کی علی الاطلاق قدرت اور اس کے مختار کل ہونے کی طرف ایک اور بات فرمائی کہ اے پیغمبران سے دریافت کرو کہ بھلا یہ توبتائو اور اس بات پر تو غور کرو کہ تمہارا پانی اگر زمین میں اتر جائے خواہ کنویں کا پانی ہو یا دریا کا ہو یا نہر کا ہو وہ زمین کے اندر اس قدر نیچے چلا جائے کہ زمین کے اوپر نہ لایا جاسکے تو وہ کون ہے جو زمین کے نیچے اترے ہوئے پانی کو اوپر لے آئے۔
یعنی جہاں تمام اسباب معطل ہوجائیں تو وہ کون ہے جو صاف اور نتھرا پانی تمہارے لئے سطح زمین میں لے آئے۔
غور کے معنی ہیں بہت گہرائی میں پانی کا اتر جاناایسی گہرائی جہاں سے پانی حاصل نہ کیا جاسکے ہم نے پانی کو عام رکھا ہے جیسا کہ ہمارے بعض اکابر نے آنکھوں میں جو بینائی کا پانی ہوتا ہے اس کو بھی شامل کیا ہے ۔ معین یعنی صاف نتھر یا جاری ہم نے ترجمہ میں دونوں معنی کئے ہیں۔
نبی کریم ﷺ جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فرماتے۔ اللہ یاتینا بہ وھو رب العلمین۔
تم تفسیر سورة الملک