66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی جو چیزیں اللہ نے آپ کے لئے حلال کی ہیں آپ ان چیزوں کو اپنی بیویوں کی خوشنودی طلب کرنے کے لئے اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہیں یعنی قسم کھا کر اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

(1) اے نبی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں آپ کے لئے حلال فرمائی ہیں آپ ان چیزوں کو اپنی بیویوں کی خوشنودی طلب کرنے کی وجہ سے اور خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے اپنی قسموں کے کھول دینے کا طریقہ مقرر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑے علم والا بڑی حکمت والا ہے۔

(2) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے اپنی قسموں کا کھول دینا مقرر کردیا ہے اور اپنی قسموں کے کھول دینے کا طریقہ مقرر فرمادیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑے علم بڑی حکمت والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت نے ایک حرم اپنی موقوف کردی یا ایک بی بی کے ہاں سے شہد پینا موقوف کیا یا اور بیویوں کی خاطر سے اسی پر اللہ نے یہ فرمایا اور قسم اتار ڈالنا کفارہ دینا اب جو کوئی اپنے مال کو کہے یہ مجھ پر حرام ہے تو قسم ہوگئی کفارہ دے تو پھر اس کو کام میں لادے کھانا یا کپڑا یا لونڈی۔ خلاصہ : یہ کہ نبی کریم ﷺ عصر کی نماز کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے تمام ازواج مطہرات کے مکان میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔ حضرت زینب ؓ اس وقت آپ ﷺ کو شہد کا شربت بنا کر پلایا کرتی تھیں اس لئے حضرت زینب ؓ کے ہاں قدرتی طور پر کچھ دیر لگتی تھی یہ زینب ؓ کے گھر کی تاخیر حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ پر گراں گزرتی تھی اول تو نسوانی رقابت اور باہمی تنافس کا اثر کہ اس کے ہاں اتنی دیر کیوں ٹھہرے۔ نیز نبی کریم ﷺ سے محبت اور عقیدت کا تقاضہ ۔ بہرحال ان دونوں عورتوں نے آپس کے مشورے سے ایک بات بنائی کہ جب حضور تشریف لائیں تو ہم میں سے ہر ایک یوں کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر یعنی کندلر کے گوند کی بو آتی ہے چناچہ عورتوں کی یہ ترکیب کارگر ہوئی۔ جب آپ سے حفصہ ؓ نے کہا تو آپ نے انکار کیا کہ میں نے مغافیر نہیں پیا لیککن حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے آپ نے پھر انکار کیا اور فرمایا میں نے شہد پیا ہے حضرت عائشہ ؓ نے کہا مکھی شہد کی مغافیر پر بیٹھی ہوگی اس لئے شہد میں مغافیر کی بو ہوگئی آپ نے قسم کھالی کہ میں آئندہ شہد نہیں پیوں گا آپ نے حفصہ ؓ اور عائشہ ؓ سے کہا کہ زینب ؓ سے نہ کہنا ورنہ وہ رنجیدہ ہوگی۔ ایک واقعہ اور اسی طرح کا حضرت حفصہ ؓ کو پیش آیا نبی کریم ﷺ حضرت حفصہ ؓ کے ہاں تھے انہوں نے اپنے باپ عمر ؓ سے ملنے کی اجازت چاہی آپ نے ان کو ان کے باپ کے ہاں بھیج دیا بعد میں آپ کی مشہور کنیز ماریہ قبطیہ جن سے حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے یہ ماریہ قبیطیہ حاضر ہوگئیں حضرت نے ان سے قربت فرمائی تھوڑی دیر میں حضرت حفصہ ؓ آگئیں انہوں نے دیکھکا مکان کے کواڑ بند ہیں وہ دروازے کے پاس بیٹھ کر رونے لگیں جب کواڑ کھلے تو آپ ﷺ نے دیکھا حضرت حفصہ رو رہی ہیں اور شکوہ کررہی ہیں آپ ﷺ نے حفصہ ؓ کو راضی کرنے کی غرض سے قسم کھالی کہ میں آئندہ ماریہ قبطیہ سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا اور حضرت حفصہ ؓ کو تاکید کردی کہ اس قسم کی کسی کو خبر نہ کرنا اسی طرح کی شاید کچھ اور باتیں بھی ہوں جن کو آپ نے پوشیدہ طور پر کسی بیوی سے کہا ہو اور دوسروں سے کہنے کو منع کیا ہو مگر عورت کے پیٹ میں بات کہاں پچتی ہے افشاء راز کردیا گیا۔ بہرحال ان آیتوں میں بہت سے مسائل کا انکشاف ہوگیا اگر کسی حلال چیز کو کوئی حرام کرے اگرچہ اعتقاداً اس کی حرمت کا قائل نہ ہو مگر اس کا استعمال حرام کرے تو اس کو چاہیے کہ قسم کا کفارہ دیدے اور اسے حلال کرلے ایسا کرنا معمولی بات ہے اور علما اس کو خلاف اولیٰ کہتے ہیں لیکن نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس چونکہ خلاف اولیٰ کے ارتکاب سے بھی ارفع واعلیٰ ہے۔ اس لئے فرمایا اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے اور قسم کو کھولنے کا حکم دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارا مالک ہے اور وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ یعنی تمہاری مصالح سے خوب واقف ہے اور اس کے تمام احکام مبنی پر حکمت ہوتے ہیں۔ بعض روایات میں اور قصہ بھی آیا ہے چونکہ اس قصے کی سند میں ضعف ہے اس لئے ہم نے اس کو نظر انداز کردیا وہ یہ کہ شاید حضرت حفصہ ؓ سے فرمایا کہ میرے بعد خلیفہ ابوبکر ہوگا اس کے بعد تیرا باپ عمر ؓ ہوگا لیکن یہ بات کسی سے ذکر نہ کرنا۔ بہرحال عورتوں میں حافظے کی کمزوری تو ظاہر ہے اس لئے یہ عورتیں حضور ﷺ کے راز کو پوشیدہ نہ رکھ سکیں اس کو آگے ارشاد فرمایا۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب پیغمبر نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر ایک بات کہی پھر جب اس بیوی نے وہ پوشیدہ بات ظاہر کردی یعنی کسی دوسری بیوی سے اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کو اس واقعہ کی خبر دیدی تو پیغمبر نے اس افشاء راز کرنے والی کو بات کا کچھ حصہ تو جتا دیا اور کچھ حصہ کو نظر انداز کردیا پھر جب پیغمبر نے اس بیوی کو جتایا تو وہ تعجب سے کہنے لگی کیہ میرا اس پوشیدہ بات کو ظاہر کردینا آپ کو کس نے بتادیا نبی نے جواب دیا مجھ کو بڑے علم والے اور بڑے باخبر یعنی خدا نے اطلاع دی ہے۔

(3) اور جب پیغمبر نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک بیوی سے پوشیدہ بات کہی پھر جب اس بیوی نے اس پوشیدہ بات کو ظاہر کردیا یعنی کسی دوسری بیوی سے کہہ دی اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کو اس واقعہ اور اس افشاء راز کی خبر دے دی۔ تو پیغمبر نے اس افشاء راز کرنے والی بیوی کو بات کا کچھ حصہ تو جتا دیا اور کچھ حصے کو نظرانداز کردیا اور اس کے جتانے سے چشم پوشی کی اور جب پیغمبر نے اس بیوی کو جتا تو وہ تعجب سے کہنے لگی کہ میرا اس پوشیدہ بات کو ظاہر کردینا آپ کو کس نے بتادیا پیغمبر نے فرمایا مجھ کو بڑے علم والے بڑے خبردار نے بتادیا یعنی مجھ کو اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعضے کہتے ہیں اس حرم کا موقوف کرنا حضرت حفصہ ؓ کو کہا اور خبر کرنے سے منع کیا اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی تھا انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو خبر کردی کہ دونوں باتوں میں مطلب تھا دونوں کا پھر وحی سے معلوم کرکے حضرت نے بی بی حفصہ ؓ کو الزام دیا حرم کی بات کا اور دوسری بات کا ذکر نہ کیا وہ بات کیا تھی شاید یہ تھی کہ تیرا باپ خلیفہ ہوگا اس کے باپ کے بعد الغیب عنداللہ جو بات اللہ رسول نے ٹلا دی ہم کیا جانیں اسی واسطے ٹلا دی کہ چرچے میں نہ آوے اور لوگ برا نہ مانیں۔ خلاصہ : یہ کہ وہ شہد پینے کا ترک ہو یا ماریہ قبطیہ کا حرام کرنا ہو یا حضر عمر ؓ اور حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کا ذکر ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور بھید کی بات کہی ہو۔ حضرت حفصہ ؓ کو جو راز سپرد کیا گیا وہ اس امانت کی حفاظت نہ کرسکیں اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے یا کسی اور بیوی سے اس بھید کو ظاہر کردیا اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے رسول کو آگاہ کردیا کہ تمہاری فلاں بیوی نے تمہاری بات فلاں بیوی سے کہہ دی۔ نبی کریم ﷺ نے اس بیوی کو الزام دیا کہ تونے میرب بات اپنی سوکن سے کہہ دی۔ الزام دیتے وقت بھی سرکار نے اپنی کریمانہ اور شریفانہ شان باقی رکھی کہ کچھ باتوں کا ذکر کیا اور کچھ باتوں کے ذکر سے احتراز اور چشم پوشی کرلی۔ مثلاً بھید کی چار باتیں تھیں تو دوان کو یاددلائیں اور دو کا ذکر نہیں کیا یعنی بجائے چار کے صرف دو الزام دیا۔ جیسا کہ شریف النفس انسانوں کا قاعدہ ہے کہ الزام دیتے وقت صرف ضروری باتوں پر اکتفا کرتے ہیں اور تمام باتیں نہیں کہا کرتے پھر بھی حفصہ ؓ کا دل پکڑا گیا اور وہ وہ سمجھیں شاید حضرت عائشہ ؓ نے ذکر کیا ہوگا انہوں نے گھبرا کر حضور ﷺ سے پوچھا۔ من انباک ھذا یعنی یہ بات کہ میں نے فلاں فلاں بھید آپ کو کہہ دیا کہ آپ کو کس نے بتایا سرکار دوعالم ﷺ نے نہایت سادگی اور سچائی سے فرمادیا کہ بتاتا کون مجھ کو تو علیم وخبیر نے آگاہ کیا ہے اور اس نے اطلاع دی ہے۔ چونکہ ایسا پوشیدہ راز تھا کہ سوائے دو عورتوں کے کوئی نہیں جانتا تھا اس لئے حضرت حق تعالیٰ کا وصف علیم اور خبیر فرمایا جو ہر چیز کا جاننے والا اور ہر پوشیدہ سے پوشیدہ راز کا واقف کار ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات اقدس ہے آگے دونوں بیویوں کو خطاب ہے اور ان کو توبہ کرنے کی ہدایت ہے۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اے دونوں بیویو اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل مائی ہورہے ہیں اور اگر تم پیغمبر کے مقابلہ میں اسی طرح ایک دوسرے کی مددگار بنو گی تو یادرکھو پیغمبر کا رفیق و حامی اللہ تعالیٰ ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) ہے اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔

(4) اے پیغمبر کی دونوں بیویو ! اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے روبرو توبہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل مائل ہورہے ہیں اور تمہارے دل کج ہورہے ہیں اور اگر تم پیغمبر کے مقابلہ میں ایک دوسرے کی مددگار بنوگی اور اس کے خلاف مظاہر ہ کرو گی تو یقین مانو کہ پیغمبر کارفیق اور حامی اللہ تعالیٰ ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) ہے اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں بیویو ! تم کو اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہونا چاہیے اور اس کی جناب میں توبہ کرنی چاہیے بلا شبہ تمہارے دل جادہ اعتدال سے ہٹ گئے ہیں اور تمہارے دل کج اور ٹیڑھے ہوگئے ہیں کیونکہ اول تو پیغمبر کے راز کو پوشیدہ نہ رکھ سکیں پھر پیغمبر کو دوسری بیویوں کی طرف سے ہٹا کر اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہو اور دوسروں کے حقوق تلف کرنا چاہتی ہو اور دوسری بیویوں کی دل شکنی کرنا چاہتی ہو اور پیغمبر کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرنا چاہتی ہو، لہٰذا تم توبہ کرلو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم دونوں اسی قسم کی سازتیں کرتی رہیں اور اس قسم کا مظاہرہ کرتی رہیں جو پیغمبر کو پسند نہیں تو پیغمبر کو کوئی ضرر نہ ہوگا بلکہ اس قسم کی ہلکی اور قابل اعتراض باتوں سے تم کو ہی نقصان پہنچے گا کیونکہ پیغمبر کا تو اللہ تعالیٰ رفیق و حامی ہے اور جبرئیل ہے اور نکوکار مسلمان ہیں۔ مراد اس سے ہر مخلص مسلمان ہے یا حضرت ابوبکر ؓ وعمر ؓ مراد ہیں یا حضرت علی ؓ یا تمام صحابہ کرام ؓ ۔ بہرحال ان کی رفاقت اور حمایت کے علاوہ تمام ملائکہ بھی اس کے مددگار ہیں جہاں اتنے مددگار اور رفیق ہوں وہاں ظاہر ہے کہ ان کے مقابلے میں تم دو عورتوں کی کیا چلے گی لہٰذا تم کو تائب ہوکر پیغمبر کی خوشنودی حاصل کرنی چاہیے اور آئندہ کسی راز میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔ نہ دوسری بیویوں کی حق تلفی کے درپے ہونا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جھک کر پڑے ہیں تمہارے دل یعنی توبہ ضرور ہے اور اس آیت کا ترجمہ فتح الرحمان میں یوں ہے اگر رجوع کرو اللہ تعالیٰ کی طرف تو بہتر ہو تحقیق کج ہوا ہے دل تمہارا۔ آگے ایک اور ان کے شبہے اور گھمنڈ کا جواب ہے کیونکہ بسا اوقات عورت کو یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر خاوند نے طلاق دے دی تو اس کا گھر برباد ہوجائے گا اور مجھ جیسی عورت نہیں ملے گی اسی قسم کے خیالات آگے کی آیت میں جواب دیا گیا ہے کہ اگر خدانخواستہ کہیں ایسی صورت پیش آگبی تو اس صورت میں بھی تم کو ہی نقصا پہنچے گا پیغمبر کا کچھ نہیں بگڑے گا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دے تو اس کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں اس کو دیدے گا جو صاحب اسلام صاحب ایمان فرمانبردار توبہ کرنے والیاں عبادت گزار روزہ رکھنے والیاں ہوں گی کچھ شوہر کی برتی ہوئی ہونگی کچھ نہ برتی ہوئی ہونگی۔

(5) اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دے تو اس کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں اس کو دیدے گا جو صاحب اسلام صاحب ایمان، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزہ رکھنے والیاں ہوں گی، کچھ شوہر کی برتی ہوئی ہوں ، کچھ نہ برتی ہوں یعنی باکرہ ہوں گی۔ مسلمات اقرار کرنے والیاں زبان سے ، مومنات اخلاص رکھنے والیاں یا تصدیق کرنے والیاں ، قانتات اللہ اور اس کے رسول کی مطیع یا ادب کے ساتھ نماز پڑھنے والیاں یا طاعت پر مداومت کرنے والیا ، تائبات توبہ کرنے والیاں یا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہنے والیاں ، عابدات عبادت کرنا ے والیاں یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تابع، سائحات روزہ رکھنے والیاں یا اپنے اعضا کو گناہ سے محفوظ رکھنے والیاں یا ہجرت کرنے والیاں ، تیبات جن کا بکر خاوندوں کی صحت سے زائل ہوچکا ہے وہ عورت جو پہلے خاوند کے ہاں رہ چکی ہو خواہ مطلقہ ہو خواہ بیوہ ذرا تجربہ کار ہوتی ہے اس لئے شاید اس کو بھی صفات میں شمار کیا اور یہ ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تمام بیویاں سوائے حضرت عائشہ کے بیوہ تھیں ابکارا جنہوں نے خاوند نہ برتا ہو۔ آگے عام اہل ایمان کو خطاب ہے یہ جو اوپر کی آیت میں لفظ مولا کا استعمال فرمایا ہے حضرت حق تعالیٰ جبرئیل اور ملائکہ اور نیک مسلمانوں کی تو ان میں سے ہر شخص کی رفاقت اور ولایت کا مفہوم جدگانہ ہے اللہ تعالیٰ کی رفاقت اور ولایت تو حقیقی ہے باقی دوسروں کی اپنے مرتبے کے موافق مجازاً فرمایا ہے مثلاً کہیں رفاقت سے مراد انزال سکینہ ہے کہیں توسط فی الفیض کہیں خالص تابعیت غرض کوئی ایسا مفہوم ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا جس کو سب پر یکساں استعمال کیا جاسکتا ۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والوں تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگے سے بچائو جس آگ کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس آگ پر سخت دل اور زور آور فرشتے مقرر ہیں جو حکم اللہ تعالیٰ ان کو دیتا ہے وہ اس حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیاجاتا ہے اس کو بجا لاتے ہیں۔

(6) اے ایمان والو ! تم اپنی جانوں کو اور اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگے سے بچائو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس آگ پر سخت دل اور زور آور فرشتے مقرر ہیں جو حکم اللہ تعالیٰ ان کو دیتا ہے وہ اس حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو فوراً بجا لاتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے پھر والوں کو دین کی راہ پر لاوے لالچ دے کر ڈردکھا کر پیارے سے ، مار سے اس پر بھی وہ اگر نہ آویں تو ان کی کم بختی یہ بےگناہ ہے۔ غرض ہر شخص کو اس جہنم سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے بالخصوص اپنے اہل و عیال اور اہل قرابت کو، آگ میں جلنے کو آدمی ہیں یعنی نفارمان لوگ اور پتھر جن کو لوگ پوجتے ہیں، غلاظ، شداد، تندخو، مضبوط، سخت خو، سخت رو بےحکمی نہیں کرتے اور فوری حکم کی تعمیل کرتے ہیں بعض نے غلاظ الاقوال شداد الافعال فرمایا ہے۔ بہرحال یہ فرشتے پکڑ پکڑ کر اس آگ میں ڈالیں گے جن کی صورت بھی مہیب ہوگی اور حکم خداوندی کی بجا آوری میں بھی بہت سخت ہوں گے وہ آگ میں جھونکتے وقت کہتے ہوں گے۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

کہا جائے گا اے کافروں آج تم کوئی عذر پیش نہ کرو تم کو صرف انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے۔

(7) کہا جائے گا اے کفرو انکار کا شیوہ اختیار کرنے والو ! آج تم کوئی عذر پیش نہ کرو تم کو صرف انہی اعمال کی سزا دی جائے گی اور انہی اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی جب کوئی عذر پیش کرنا بےکار ہو اور عذر کی گنجائش نہ ہو تو عذر کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم خدا کے سامنے سچی اور خالص توبہ کرو امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہ تم سے دور کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور مسلمانوں کو جو اس کے ساتھی ہیں ہر قسم کی رسوائی سے محفوظ رکھے گا ان کانوران کے سامنے اور ان کے داہنے تیز رفتار سے چلتا ہوگا اور وہ یوں دعا کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمارے اس نور کو ہمارے لئے آخر تک قائم رکھ اور ہماری مغفرت کو بیشک تو ہر چیز پر پوری طرح قاد رہے۔

(8) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! اللہ تعالیٰ کی جناب میں خالص اور سچی توبہ کرو امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور مسلمانوں کو جو اس کے ساتھ ہیں رسوا نہیں کرے گا اور ان کو میدان حشر کی رسوائی سے محفوظ رکھے گا اور ان کا نور ان کے سامنے اور ان کی دائیں طرف تیز رفتار سے چلتا ہوگا اور وہ یوں دعا کرتے ہوں گے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اس نور کو پوراکردے اور ہمارے لئے اس نور کو آخر تک قائم رکھ اور ہماری مغفرت کردے بیشک تو ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے اور تو ہر چیز کرسکتا ہے۔ خالص اور سچی توبہ یہ کہ اس کے بعد گناہ کا دھیان نہ آئے اور اس کے بعد گناہ کرنا ایسا ہی ناممکن ہوجائے جیسا کہ تھنوں میں سے دودھ نکل کر پھر تھن میں واپس ہونا یعنی جس طرح تھن میں دودھ کا واپس ہونا مشکل ہے اسی طرح توبہ نصوح کے بعد گناہ کا وقوع مشکل ہوجائے۔ یعنی توبہ عدم عود کی نیت کے ساتھ ہو گناہ کو ترک کرے اس کی برائی کے سبب گزشتہ گناہوں پر ندامت ہو آئندہ کے لئے عزم ہو عدم عمود کا اور اعمال متروکہ کا تدارک اور تلافی مافات ہو۔ یہ چار باتیں علماء نے توبہ نصوح کی شرطیں بیان کی ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے اس توبہ نصوح کے اثرات بیان فرمائے کہ ایسی توبہ سے گناہ معاف ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ تمام برائیوں کو دور کردے گا بہشت کے باغوں میں داخل فرمائے گا۔ یہ داخلہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اس کے ساتھی مسلمانوں کو ہر قسم کی رسوائی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ وہ دن کافروں اور ظالموں کی رسوائی کا دن ہے مومنین اور مخلصین کی رسوائی کا نہیں ہے ان کے ایمان کا نور اور ایمان کی روشنی دائیں جانب اور ان کے آگے دوڑتی ہوگی۔ جیسا کہ سورة حدید میں مفصل گزر چکا ہے کہ منافقوں کی روشنی گل ہوجائیگی اور مومنین کی روشنی ان کے ساتھ رہے گی اور شاید جب منافقوں کی روشنی گل ہوتے دیکھیں گے تو کہیں گے الٰہی ہماری روشنی پوری کردے یعنی ہمارے نور کو آخر تک رکھ یہ نور ہر مومن کے ایمان کی روشنی ہوگی جیسا ایمان ویسی روشنی مسلمان روشنی کے اتمام کے ساتھ ساتھ مغفرت کی بھی دعا کریں گے اور یہ اس وجہ سے کہ بعض عصاۃ مومنین عذاب کے مستحق ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں صاف دل کی توبہ یہ کہ دل میں پھر خیال نہ رہے اس گناہ کا ایمان کی روشنی دل میں ہوتی ہے دل سے بڑھے تو سارے بدن میں پھر گوشت پوست میں۔ حدیث میں آتا ہے۔ اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا وامامی نورا وخلفی نورا وفوق نوراوتحتی نورا واجعلنی نورا اکمم لنا نورنا ۔ مبارک ہیں جو اپنی ایمانی قوت اور اعمال صالو کی بدوت سر سے پائوں تک نورہی نور ہیں۔ اللھم اجعلنی منھم انک علی کل شیء قدیر۔
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی کفار کے اور منافقین کے ساتھ جہاد کیجئے اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیجئے ان کافروں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ دوزخ بہت بری جگہ ہے۔

(9) اے نبی کفار کے اور منافقین کے ساتھ جہاد کیجئے اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیجئے ان سب کافروں اور منافقوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ جہنم بہت بری جگہ ہے۔ یعنی کافروں کے ساتھ جہاد تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ جہاد زبان سے دنیا میں یہ اس کے مستحق ہیں اور آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ٹھکانے اور پھرجانے کی بہت بری جگہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کا خلق یہاں تک ہے کہ اللہ صاحب اوروں کو فرماتا ہے تحمل کرو ان کو فرماتا ہے سختی کرنا۔ نبی کریم ﷺ کی عام شفقت اور رحمت مشہور ہے اس لئے کافروں کے خلاف سخت گیری کا حکم دیا یہ جہاد فرض ہونے کے بعد کی باتیں ہیں حضرت موسیٰ کے مزاج چونکہ سختی اور درشتی زیادہ تھی اس لئے ان کو فرعون کے مقابلے میں تحمل اور نرمی کا حکم دیا شاید شاہ صاحب (رح) کا اشارہ اسی طرح ہو آگے اللہ تعالیٰ چن عورتوں کا بیان فرماتا ہے۔ چونکہ اوپر قوا انفسکم والھیکم نارا، فرمایا تھا اس لئے بعض واقعات بیان فرمائے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اصلاح حال کی ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیے نیک لوگوں کا تلبس بھی جب ہی مفید ہوسکتا ہے جب خودبھی صلاحیت موجود ہو جس طرح اگر عورت میں خود صلاحیت موجود ہو تو تلبس بالفساق بلکہ کفار کا تلبس بھی ضرررساں نہیں۔ جیسا حضرت آسیہ ؓ زوجہ فرعون کا واقعہ بہرحال ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور لوط کی بیوی کی حالت بیان فرماتا ہے وہ دونوں عورتیں ہمارے بندوں میں سے دو خاص بندوں کے نکاح میں تھیں پھر ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کے حق میں خیانت کی لہٰذا وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آئے اور ان دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ تم دونوں بھی اور جانے والوں کے ساتھ آگ میں داخل ہوجائو۔

(10) اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی حالت بیان فرماتا ہے وہ دونوں عورتیں ہمارے بندوں میں سے دو خاص بندوں کے نکاح میں تھیں یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) پھر ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کے حق میں خیانت کی لہٰذا وہ دونوں نیک بندے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ کام نہ آسکے اور ان دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ تم دونوں بھی اور جانے والوں کے ہمراہ آگ میں داخل ہوجائو۔ یعنی حضرت لوط اور حضرت نوح (علیہ السلام) (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر شائستہ اور مخصوص بندے تھے مگر دونوں کی گھر والیاں منافق جو کافروں کے ساتھ ساز باز رکھتی تھیں یہی ان دونوں کی خیانت اور بےایمانی تھی چونکہ ان کا اپنا حال درست نہ تھا اس لئے صلحا کا تلبس ان کے حق میں نافع نہ ہوا اور ان کو دو سے دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں دھکیل دیا گیا اور کہا گیا تم دونوں بھی دوسرے داخل ہونے والوں کے ساتھ آگ میں داخل ہوجائو۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرعون کی بیوی کا حال بیان فرماتا ہے جبکہ اس بیوی نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے جنت میں اپنے نزدیک ایک مکان بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل بد سے محفوظ رکھ اور مجھ کو ان تمام ظالم لوگوں سے خلاصی عنایت فرما۔

(11) اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں یعنی مسلمانوں کے لئے فرعون کی عورت کا حال اور اس کی مثل بیان فرماتا ہے جبکہ اس فرعون کی بیوی نے یوں کہا اے میرے پروردگار میرے لئے جنت میں اپنے قریب ایک مکان بنادے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل بد یعنی کفر کے شر سے محفوظ رکھ اور مجھ کو ان تمام ظالم لوگوں سے خلاصی اور نجات عنایت فرما۔ فرعون کی بیوی جن کا نام آسیہ ؓ تھا اور جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھاتے وقت کہا تھا کہ اس کو قتل نہ کرو شاید اس سے ہم کو نفع پہنچے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں وہ عورت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتی تھی فرعون نے اپنے آخری دور میں اس نیک بیوی پر طرح طرح کے مظالم برپا کئے انہی مظالم کی حالت میں جبکہ ان کو فرعون نے چومیخا کررکھا تھا اور ان کے چاروں طرف آگ رکھ چھوڑی تھی انہوں نے دعا کی اپنے قرب میں میرے لئے جنت کے اندر ایک مکان بنادے یعنی میرا مسکن جنت میں آپ کے بالکل قریب ہو یعنی مرتبہ قرب وہ میسر ہو جو اعلیٰ درجے کے لوگوں کو عطا ہوتا ہے۔ یا شاید یہ مطلب ہو کہ بغیر کسی استحقاق کے محض اپنے فضل اور اپنے پاس سے میرے لئے جنت میں مکان بنادیجئے اور فرعون کے شر سے اس کے عمل بد یعنی کفر کے نقصان سے نجات دے دیجئے اور خلاصی عنایت فرمائیے اور فرعون اور اس کے عمل ہی پر کیا موقوف ہے اس تمام ظالم اور موذی قوم کے شر سے مجھ کو محفوظ کر دیجئے اور نجات دے دیجئے۔ چنانچہ اس دعا کے بعد حضرت آسیہ ؓ کو یا تو زندہ اٹھا لیا گیا یا ان کا وہ محل جو جنت میں ان کے لئے تیار تھا ان کو دکھایا گیا اور ان کی جان جان آفریں لے لی یعنی فرعون نے ان کو شہید کردیا چونکہ ان میں ذاتی صلاحیت موجود تھی اس لئے کافر کے تلبس اور کافر کی صحبت کا کوئی اثران کی روحانیت اور ان کے رفع درجات پر نہ ہوا آگے ایک اور عورت کا حال بیان فرمایا جو کسی کی نہ زوجہ ہیں نہ بیوہ ہیں تاکہ تیسری قسم کی عورتوں کا حال بھی سامنے آجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم آپ اپنے ایمان درست کرو خاوند بچا سکے نہ جورو یہ سب کچھ سنا دیا نہ جانو ! کہ حضرت کی بی بیوں پر کہا ہے ان پر تو وہ کہا ہے۔ الطیبات للطیبین چوری کی یعنی منافق رہتیاں۔ خلاصہ : یہ کہ کوئی کسی کے بھروسہ پر نہ رہے بلکہ ہر شخص کو اپنے حال کی اصلاح پر توجہ کرنی چاہیے نیک بندوں کی صحبت بھی جب ہی نافع ہوسکتی ہے جب خود بھی صلاحیت اور اصلاح حال کی فکر ہو بعض لوگوں نے معاذ اللہ لوط اور نوح کی بیویوں کا تعلق بعض ازواج مطہرات سے ظاہر کیا تھا اس کا شاہ صاحب (رح) نے رد فرمادیا کہ یہ وہم نہ کیا جائے اور اس مثال کو حضرت کی بیویوں پر چسپاں نہ کیا جائے جن لوگوں نے یہ جسارت کی ہے انہوں نے نظم قرآنی کی ترتیب کو نظرانداز کرنے کی جرات کی ہے اور سخت گستاخی کا ارتکاب کیا ہے فرعون کی عورت پر حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو انہوں نے پالا ان کی مددگار تھیں ایمان کی بات کہنے میں آخر ان کو فرعون نے قتل کیا سیاست سے شہید ہوگئیں۔ خلاصہ : یہ کہ بادشاہوں کی سیاست کے پیش نظر جس طرح لوگ قتل کئے جاتے ہیں اسی طرح بیوی آسیہ ؓ کو سیاسی مصالح کی بنا پر فرعون نے قتل کرادیا ۔ اب آگے حضرت مریم (علیہ السلام) کی حالت اور ان کی مثل بیان فرمائی۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور نیز مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ عمران کی بیٹی مریم کا حال بیان فرماتا ہے جس نے اپنی پاک دامنی کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس کے گریبان میں اپنی ایک روح پھونک دی اور مریم اپنے رب کے پیغامات کا اور اس کی کتابوں کا یقین رکھتی تھی اور وہ فرمانبردار لوگوں میں سے تھی۔

(12) اورنیز مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ عمران کی بیٹی مریم (علیہ السلام) کا حال بیان فرماتا ہے جنہوں نے اپنی عفت اپنی پاکدامنی اور ناموس کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس کے گریبان میں اپنی ایک روح پھونک دی اور مریم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے پیغامات کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور سچ جانیں اس نے پروردگار کی باتیں اور اس کی کتابیں اور وہ فرماں بردار اور عبادت گزار لوگوں میں سے تھی۔ یعنی حضرت مریم (علیہ السلام) نے اپنی عفت اور اس ناموس کو ہر طرح محفوظ رکھا یعنی حرام سے بھی اور حلال سے بھی نہ کسی سے نکاح کیا اور نہ بغیر نکاح کے معاذ اللہ کسی سے تعلق ہوا۔ پھر بواسطہ جبرئیل ہم نے اپنی روح اس میں پھونک دی جیسا کہ سورة مریم میں گزر چکا ہے فرج عضو مخصوص کو بھی کہتے ہیں اور گریبان کے چاک کو بھی سوروہ قاف میں گزرا ہے ۔ ومالھا من فروج ہمارے بزرگوں میں سے کسی نے یہاں رحم ترجمہ کیا ہے کسی نے پیٹ کہا ہے کسی نے گریبان کا چاک کہا ہے ۔ گریبان پاک دامنی کے اعتیار سے محاورے کے زیادہ قریب ہے اس لئے ہم نے گریبان اختیار کرلیا ہے۔ اگرچہ اس روح کو پھونکنا حضرت روح الامین کے واسطے تھا لیکن حضرت حق جل مجدہ نے نفخ کی نسبت اپنی طرف فرمائی تو وہ حق تعالیٰ کے فاعل حقیقی اور موثر الاطلاق ہونے کی وجہ سے ے جن لوگوں نے یہاں فرج سے عضو مراد لیا ہے اور فیہ کی ضمیر کو فرج کی طرف راجع کیا ہے انہوں نے لغوی اعتبار سے کہ اے جیسا کہ آپ سورة قاف کی آیت سے معلوم کرچکے ہیں۔ کلمات رب سے شاید وہ باتیں مراد ہیں جو فرشتوں کی معرفت آپ کا پیام پہنچتے رہے جیسا کہ تیسرے پارے میں گزر چکا ہے۔ ان اللہ اصطفک وطھرک الخ یا شاید انبیاء (علیہم السلام) کے صحائف مراد ہوں کتب سے آسمانی کتابیں، توریت، انجیل، زبور یا جملہ کتب سماویہ جن میں فرقان بھی شامل ہے۔ بہرحال کئی اقوال ہیں حضرت مریم (علیہ السلام) کو جو پیام وقتاً فوقتاً ملائکہ کی معرفت موصول ہوئے یا پیغمبروں کو جو احکام صحیفوں کے ذریعے پہنچے ہوں وہ ہوں یہ سب کلمات میں داخل ہیں۔ کتبہ میں جملہ کتب سماویہ مراد لینا زیادہ انسب ہے قانت طاعت پر مواظبت اور مداومت کرنے والی۔ بعض حضرات نے اعتکاف کرنے والی ترجمہ کیا ہے چونکہ عام طور سے مسجد اقصیٰ میں حضرت مریم (علیہ السلام) معتکف رہا کرتی تھیں اس لئے قانتین کے معنی معتکفین کئے ہیں عبادت گزار ، ادب والی، غرض بہت سے معنی کئے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوں کہاجائے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) قانتین کے خاندانوں سے تھی۔ واللہ اعلم تم تفسیر سورة التحریم