Ayah 69:41(41) اور یہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تم بہت ہی کم یقین کرتے ہو۔ یعنی ایک بزرگ فرشتہ اس قرآن کی قراءت کرتا ہے وہ فرشتہ بھی بزرگ ہے اور جن کے پاس یہ کلام لے کر آتا ہے وہ بھی کریم اور بزرگ ۔ خلاصہ، یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو جبرئیل امین (علیہ السلام) کی معرفت رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجاجاتا ہے یہ کلام کسی شاعر کا نہیں ہے۔
ہم سورة یٰسین میں عرض کرچکے ہیں کہ شعر اور زان اور سجور وغیرہ کی قیود کا پابند ہوتا ہے اور شاعر اس کی رعایت رکھتا ہے اور وہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں یہ بلند خیالات اور اونچے مضامین اس کلام کو شاعری سے کیا نسبت یہ ابوجہل جو اس کلام کو شاعر کا کلام بتاتا ہے اور پیغمبر (علیہ السلام) کے کلام کو شاعری سے منسوب کرتا ہے اس کی بات بالکل غلط اور واقعہ کے بالکل خلاف ہے تم بہت کم یقین کرتے ہو یعنی بالکل یقین نہیں کرتے اور جو کچھ یقین کرتے ہو وہ بھی نہ کرنے کے برابر ہے۔
Ayah 69:42(42) اور نہ یہ کلام کسی کاہن کا کلام ہے مگر تم لوگ غور و فکر سے بہت کم کام لیتے ہو۔ یعنی نہ یہ کسی کاہن کی بکواس ہے جیسا کہ عقبہ بن ابی معیط کہتا پھرتا ہے کہاں کہانت کی جھوٹی سچی باتیں اور کہاں قرآن کی صداقت اور براہین و دلائل سے لبریز کلام، لیککن تم لوگ غور و فکر اور سوچ سمجھ سے بہت کم کام لیتے ہو یہاں بھی یہی مطلب ہے کہ بالکل سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ یہ کلام نہ تو کسی شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا بلکہ یہ کلام اور یہ قرآن۔
Ayah 69:43(43) پروردگار عالم کا نازل کردہ اور اس کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔ یعنی یہ کلام جیسا کہ یہ دین حق کے منکر مثلاً ابوجہل اور عقبہ وغیرہ کہتے پھرتے ہیں نہ شاعر کا کلام ہے اور نہ کاہن کا بلکہ یہ تو اس پروردگار عالم کا کلام ہے جو تمام جہان اور اہل جہان کا پروردگار ہے آگے اس قرآن کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی صداقت پر ایک زبردست دلیل بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 69:44(44) اور اگر یہ پیغمبر ہمارے ذمے کوئی غلط اور جھوٹ بات گھڑ کر لگاتا۔
Ayah 69:45(45) تو یقینا ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑتے۔
Ayah 69:46(46) اور ہم اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے۔
Ayah 69:47(47) پھرتم میں سے کوئی بھی اس کو اس قتل کی سزا سے روکنے والا نہ ہوتا۔ یعنی یہ پیغمبر جس کا پیغمبر ہونا معجزات اور پیشگوئیوں سے ثابت ہے اگر یہ ہم پر افترا کرے اور بعض باتیں گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردے تو ہم اس کو دنیا ہی میں سزا دیں کہ اس کا سیدھا ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن ماردیں۔ جیسا کہ عام طور سے جس کو قتل کی سزا دیتے ہیں تو اسی طرح دیتے ہیں کہ ملزم کا داہنا ہاتھ مارنے والا اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑتا ہے۔ اور شیدھے ہاتھ سے گردن پر تلوار مارتا ہے اور گردن کٹ جانے سے آدمی ہلاک ہوجاتا ہے یہ سزا ہم اس کو دیں اور تم میں سے کوئی اس سزا سے اس کو بچانے والا اور دفع کرنے والا بھی نہ ہو یعنی ہمارے مقابلہ میں ہماری سزا سے کوئی اس کو بچا بھی نہ سکے۔
وتین دل کی رگ یا ووہ رگ جو پیٹھ سے چل کر دل میں آملے اگر اس رگ کو کاٹ دیا جائے تو انسان کی موت واقع ہوجائے کیونکہ یہ رگ مناط قلب ہے بعض لوگوں نے کاذب مدعیان نبوت کے لئے اس آیت کو معیار قرار دیا ہے ہوسکتا ہے کہ اس آیت کو عام معیار قرار دیا جاسکے۔
بہرحال نبوت کے جھوٹے مدعی یا ہلاک کردیئے گئے یا ان کا کذب ظاہر ہونے سے وہ رسوا اور ذلیل کئے گئے اور اخلاقی موت مرے، یمین داہنا ہاتھ تقول جی سے بات بنانا افترا پردازی کرنا اقادیل قول کی جمع۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر جھوٹ بنالاتا اللہ پر تو اول اس کا دشمن اللہ ہوتا ہاتھ پکڑتا یہ دستور ہے مارنے کا کہ جلاد اس کا داہناہاتھ پکڑ رکھتا ہے اور اپنے بانویں ہاتھ میں تاسرک نہ جاوے۔
Ayah 69:48(48) اور بلا شبہ یہ قرآن پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے۔
Ayah 69:49(49) اور بلا شبہ ہم خوب جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض اس قرآن کی تکذیب کرنے والے بھی ہیں۔
Ayah 69:50(50) اور بیشک یہ قرآن کافروں کے لئے موجب حسرت و ندامت ہے۔
Ayah 69:51(51) اوریہ قرآن سراسرحق اور یقینی اور تحقیقی بات ہے۔
Ayah 69:52(52) پس اے پیغمبر آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کی پاکی بیان کیجئے۔ پرہیزگاروں کے لئے تذکرہ یعنی جو خدا اسے ڈرنے والے اور پرہیزگار ہیں وہی اس کی پند اور نصائح سے مستفید ہوتے ہیں ورنہ نفسہ قرآن کا حق ہونا اس کا ذاتی کمال ہے اور موجب نصیحت ہونا اس کا اضافی وصف ہے۔ اس لئے فرمایا متقیوں کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے اور جو تم میں سے اس قرآن کی تکذیب کرنے والے ہیں ان کو بھی ہم خوب جانتے ہیں یعنی ہم کو یہ معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس قرآن کی تکذیب کرنے والے بھی ہیں پھر منکرین اور مکذبین کے لئے اس قرآن کا موجب حسرت اور پشیمان ہونا فرمایا دنیا میں قرآن پر ایمان لانے والوں کی جس قدر ترقی اور زیادتی ہوتی ہے اسی قدر قرآن کے منکروں کی حسرت وپشیمانی میں اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں تو حسرت وپشیمانی کی انتہا نہ ہوگی اس وقت افسوس کریں گے کہ ہائے ہم نے اس قرآن کو کیوں نہیں مانا ۔ کذلک یریھم اللہ اعمالھم حسرات علیھم۔ اور یہ قرآن تحقیقی اور یقینی چیز ہے اور صرف یقین ہے یعنی یہ قرآن کرنے کے لائق ہے اس میں کوئی باطل بات نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش ہے اور اس کے نہ ماننے والوں کا ہر عذر ناقابل سماعت ہے، سوائے پیغمبر آپ پروردگار کے نام کی جو بڑی عظمت والا ہے پاکی بیان کیجئے اور تسبیح کیجئے۔
یعنی سبحان رب العظیم کہا کیجئے پہلے گزر چکا ہے کہ جب آیت سبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کو اپنے رکوع کی تسبیح کرلو یعنی رکوع میں پڑھا کرو۔
تم تفسیر سورة الحآقۃ