Ayah 70:41(41) کہ ہم ان کو بدل کر ان کی جگہ ان سے بہتر لوگوں کو لے آئیں اور ہم ایسا کرنے سے عاجز نہیں ہیں - یعنی روز آفتاب مشرق کے نئے نقطے سے نکلتا ہے اور نئے خط پر گزرتا ہوا غرب میں ڈوب جاتا ہے جیسا کہ والصفات میں تفصیل گزر چکی ہے۔
ان تمام نقطہائے مشارق ومغارب کے مالک کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم دنیا میں ہی ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آنے پر قادر ہیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جو اس وقت ان سے بہتر مخلوق لانے پر قادر ہے جو ان سے عمل اور اعتقاد میں اچھی ہوگی تو انہی کو دوبارہ پیدا کردینا اور قیامت میں زندہ کردینا کون سا مشکل ہے۔
بہرحال جب ان کے عناد اور استہزا کی یہ حالت ہے کہ سیدھی بات کو بھی یہ کھیل سمجھتے ہیں۔
Ayah 70:42(42) تو اے پیغمبر آپ ان کو انہی بےہودہ نکتہ چینیوں اور کھیل و تفریح میں مشغول رہنے دیجئے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے جاملیں اور ان کو اس دن سے سابقہ پڑجائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یعنی آپ ان پر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیجئے اور ان کو اسی کفروعناد اور تعصب میں پڑا رہنے دیجئے کہ یہ دین حق کو اپنے کھیل و تفریح کا مشغلہ بناتے رہیں یہاں تک کہ اپنے اس دن سے ججاملیں جس دن کا ان سے وعدہ کررکھا ہے یعنی قیامت آجائے اور یہ قیامت سے جاملیں آگے مختصر اس دن کا احوال بیان فرمایا۔
Ayah 70:43(43) اس دن یہ قبروں سینکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے کسی بت کے تھان کی طرف یا جیسے کوئی پراگندہ وفوج اپنے نشان اور اپنے جھنڈے کی طرف دوڑی جارہی ہے۔
Ayah 70:44(44) ان کی آنکھیں شرمندگی سے نیچی ہورہی ہوں گی اور ان پر ذلت و پھٹکار چھائی ہوئی ہوگی یہ ہے وہ یوم موعود جن کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
نصب کے معنی میں مفسرین کے کئی قول تھے ہم نے ان میں سے دو مشہور قولوں کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قبروں سے نکل کر بلانے والے اور پکارنے والے کی طرف بےتحاشہ اور ایسے بےاوسان ہوکر بھاگیں گے کہ ایک کو دوسرے کی فکر نہ ہوگی بلکہ ہر شخص یہ چاہے گا کہ میں جلدی سے پہنچ جائوں۔ اور جب وہ دن جس کو ساری عمر جھٹلاتے رہے سامنے آجائے گا تو شرمندگی سے نگاہوں کا نیچا ہونا اور بدن پر اور منہ پر پھٹکار کا برسنا ظاہر ہے۔
ان کو اس حالت میں دیکھ کر فرشتے کہیں گے، یہی تو وہ دن ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا اور یہ کسی طرح یقین نہ کرتے تھے۔
تم تفسیر سورة المعارج