Ayah 74:41(41) گنہگاروں سے ان کا حال۔ یعنی یہ حضرات بہشت کے باغوں میں ہوں گے آٹھویں پارے میں اہل جہنم اور اہل جنت کی گفتگو کا ذکر ہوچکا ہے اسی گفتگو کا ایک حصہ یہاں مذکور ہے مجرمین سے اہل جنت دریافت کریں گے۔
Ayah 74:42(42) تم کو دوزخ میں کس بات نے داخل کیا اور تم کا ہے سے دوزخ میں جاپڑے۔
Ayah 74:43(43) وہ جواب دیں گے نہ ہم نماز پڑھنے والوں میں سے تھے۔
Ayah 74:44(44) اور نہ ہم مساکین کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔
Ayah 74:45(45) اور دین حق پر نکتہ چینی کرنے والوں کے ہمراہ ہم بھی نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔
Ayah 74:46(46) اور ہم روز جزا کی تکذیب کیا کرتے تھے۔
Ayah 74:47(47) یہاں تک کہ ہم کو موت آپہنچی۔ یعنی نہ ہم نماز کی فرضیت کے متعقد تھے جو نماز پڑھتے نہ زکوٰۃ واجبہ کے قائل تھے جو کسی مسکین کے ساتھ سلوک کرتے اور جو لوگ دین حق کے باطل کرنے کے درپے رہا کرتے تھے اور دین حق پر بےہودہ نکتہ چینیاں کرتے تھے ہم بھی ان لوگوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے اور دین فطرت پر نکتہ چینیوں کا مشغلہ ہم نے اختیارکررکھا تھا اور روز جزا یعنی انصاف کے دن اور قیامت کے روز کو جھٹلایا کرتے تھے ہم انہی لغو اور بیہودہ مشاغل میں لگے رہے یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) یقین پر فرماتے ہیں یعنی موت بات میں دھنستے یعنی ایمان کی باتوں پر انکار کرتے سب کے ساتھ مل کر۔
خلاصہ : یہ کہ موت کو یقین فرمایا اس لئے کہ موت آنے کے بعد شک کی گنجائش کہاں۔
Ayah 74:48(48) لہٰذا ایسے لوگوں کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کے حق میں کوئی سفارش نہ کرے گا اور کرے گا تو قبول نہ ہوگی۔
Ayah 74:49(49) پھر ان دین حق کے منکروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس سراسر نصیحت یعنی قرآن سے اس طرح منہ موڑتے اور منہ پھیرتے اور روگردانی کرتے ہیں۔
Ayah 74:50(50) کہ گویا وہ جنگلی اور وحشی گدھے ہیں۔
Ayah 74:51(51) جو شیر سے بھاگ رہے ہیں۔ تذکرہ یعنی قرآن کریم سے یہ لوگ اعراض اور روگردانی اور نفرت اور بدکنا اور بدک کر بھاگنا اس قسم کی حرکات کیوں کرتے ہیں ان کی حرکات ایسی ہیں کہ گویا یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر سے بھاگ رہے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جنگل کے گدھے کھٹکے سے بھاگتے ہیں۔
منکروں کو حمر مستنفرۃ کے ساتھ تشبیہہ دی اول تو گدھا حماقت اور بیوقوف میں مشہور ہے پھر وہ بھی وحشی یعنی گورخر معمولی آواز سے ڈرتا اور بدکتا ہے تو یہ کفار مکہ حق کے شوروغل سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے معمولی آواز اور شیر کی خوشبو سے بھاگتے ہیں۔
Ayah 74:52(52) نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے آسمانی صحیفے دیئے جائیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر کوئی نبی ہوا چاہتا ہے کہ کھلی کتاب پاوے آسمان سے۔
خلاصہ : یہ کہ سورة نبی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ یہ کافر ایمان لانے کے لئے یہ شرط مقرر کرتے تھے کہ اس کتاب کو ہم خودپڑھیں ایسی کتاب ہمارے سامنے آسمان سے لاکر ہم کو دو ، اس قسم کی شرائط محض وفع الوقتی کے لئے کرتے تھے یا یہ کہ جو کچھ اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے وہ ہم کو بھی دیا جائے۔ حتی نوتی مثل مااوتی رسل اللہ (سورہ انعام)
Ayah 74:53(53) نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت ہی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی آخرت پر نہ ایمان نہ اس کا خوف اور نہ وہاں کے عذاب کا ڈر اس لئے یہ باتیں کرتے ہیں ان کا مقصد ایمان لانا نہیں۔
Ayah 74:54(54) ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ قرآن سراسر پندونصیحت ہے۔
Ayah 74:55(55) پس جو شخص چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ یعنی ہر ایک شخص پر نہ کھلے صحیفے نازل ہوں گے نہ کتاب اتاری جائیگی نہ ہر ایک کو رسول بنایا جائے گا محمد ﷺ پر جو کتاب اتری ہے یہنصیحت ہی نصیحت ہے جس کو ہدایت نصیحت اور آخرت کی نجات منظور ہے وہ اس سے نصیحت قبول کرے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک پر اتری تو کیا ہوا کام تو سب کے آتی ہے۔
Ayah 74:56(56) اور جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے یہ لوگ نصیحت قبول کرنے والے نہیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی اس کے لائق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی مغفرت اور بندوں کے گناہ معاف کرنے کا اہل ہے۔ یعنی قرآن تو واقعی تذکرہ ہے اور فی نفسہ نصیحت ہے لیکن بعض لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے تو بات یہ ہے کہ حضرت حق تعالیٰ کے بدون چاہے یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کریں گے جو لوگ رشحات نور سے محروم رہ چکے ہیں اور جن کا دامن استعداد حق پرستی سے خالی ہے اور جو اپنی بداعمالی اور اسلام دشمنی کے باعث توفیق الٰہی سے محروم ہیں اور ان کی ہدایت کے ساتھ مشیت ایزدی کا تعلق نہیں ہے وہ نصیحت قبول نہیں کریں گے آخر میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی تقویٰ کا اہل ہے یعنی وہی ہے جس کی گرفت اور جس کے عذاب سے ڈرنا چاہیے وہ اللہ تعالیٰ ہی اس لائق ہے کہ لوگ اس سے ڈریں اور وہی اس قابل ہے کہ ڈرنے والوں کے گناہ بخشے اور معاف کردے۔
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ تمہارا پروردگار فرماتا ہے میں اس کا اہل ہوں اور میں اس قابل ہوں کہ بندہ مجھ سے ڈرتا رہے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور جب بندہ مجھ سے ڈرا اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو میں اس قابل ہوں کہ اس کے گناہوں کو بخش دوں اور اپنے لطف و کرم سے اس کے تمام گناہ معاف کردوں۔
تم تفسیر سورة المدثر