76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

یقینا زمانے میں انسان پر ایک ایسا وقت بھی گزرچکا ہے جبکہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔

(1) بے شک زمانے میں انسان پر ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا یعنی انسان کا کہیں وجود نہ تھا وجود ذہنی نہ خارجی ، خدا جانے کتنی الٹ پلٹ اور کتنے دور گزرنے اور کتنے اطوار طے کرنے کے بعد نطفہ کی شکل اختیار کی ، نطفہ کی حالت بھی کوئی قبال تذکرہ نہیں بعض حضرات کا قول ہے کہ انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، حضرت قتادہ ثوری اور عکرمہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی چالیس سال گندھی ہوئی مٹی اور چالیس سال تک کیچڑ اور چالیس سال تک خشک کھنکھناتی حالت میں رہے یہ ایک سو بیس برس کی معیاد کو حین کہتے ہیں بعض حضرات کہتے ہیں، حین اس غیر مقدار زمانے کو کہتے ہیں جس کے واسطے کوئی حد مقرر نہ ہو ، حضرت عبداللہ بن عباس اور دوسرے صحابہ ؓ فرماتے ہیں یہاں انسان سے کوئی خاص انسان مراد نہیں لیتے بلکہ جنس انسان مراد ہے۔ بہرحال ! آدمی پر یقینا ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ جب یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھی کیونکہ پیدا ہونے کے بعد اور مرنے کے بعد ہر شخص کا تذکرہ اس کی حیثیت کے موافق رہتا ہے لیکن جو ابھی غذائوں کے ہیر پھیر میں اور نطفہ کی شکل میں ہوا اس کو کون جانتا ہے آپ سبزیوں اور غلوں کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کرسکتے کہ ا س سبزی یا اس غلے کو کون کھائے گا اور غذائوں کے ہضم سے جو نطفہ بنے گا اس سے کون پیدا ہوگا، یہی ہر انسان کا وہ دور ہے جس کو فرمایا۔ حین من الدھر لم یکن شیئا مذکوراً سبزی اور غلہ تو بعد کی چیز ہے ہم کسی کھیت کی مٹی کو دیکھ کر یہ نہیں بتاسکتے کہ اس کھیت میں کون سی سبزی اور کونسا میوہ اور کونسا غلہ پیدا ہوگا اس کو کون کھائے گا اور ہضم رابع پر جو نطفہ ہوگا اس سے کون پیدا ہوگا۔ بہرحال جب تک کوئی نطفہ بچہ بن کر موجود نہ ہوجائے اس وقت تک کوئی قابل تذکرہ چیز نہیں ہے اور یہی وہ حالت ہے جس کو قرآن نے لم یکن شیئا مذکوراً فرمایا ہے جن حضرات مفسرین نے جنس انسان مراد لی ہے وہی راجح ہے اور اسی بنا پر ہم نے خلاصہ عرض کیا ہے ہر کھیت کی مٹی اور ہر باغ کے میوے اور ہر غلے میں کون جانتا ہے کہ کتنے انسانوں کے ذرے اور مادے پنہاں ہیں۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو ایک ایسے نطفہ سے بنایا جو اجزائے مختلفہ سے مرکب تھا اور اس طور پر بنایا کہ ہم اس کو آزمائش کریں پس ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا۔

(2) ہم نے انسان کو ایک ایسے نطفے سے بنایا جو اجزائے مختلفہ سے مخلوط اور مرکب تھا اور اس طور پر اور اس حال میں بنایا کہ ہم اس کی آزمائش کریں لہٰذا ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے جو تقریر اوپر کی ہے اس سے اس آیت کا خطاب خوف واضح ہوسکتا ہے مخلوط سے مراد یا تو عورت اور مرد کے نطفے کا اختلاط ہے یا یہ مطلب کہ نطفہ ہر حصہ جسم کا خلاصہ ہے اس لئے اس کو مخلوط فرمایا کیونکہ وہ نطفہ تمام انسانی جسم کا ست ہے یا اس وجہ سے مختلف کھیت اور باغ کی مٹی کا نچوڑ ہے من سلالۃ من طین اس لئے مختلف اجزا سے مرکب ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں امشاج یعنی ملایا ہوا کئی چیز سے عنی منی مرد کی اور عورت کی اور خون حیض کا تو سب مل کر وہی لچھی کہلایا۔ اور یہ جو فرمایا کہ ہم اس کو آزمایں اور اس کو مکلف بنائیں اس واسطے اس کو سنتا اور دیکھتا بنایا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کو سمجھ اور شعور عطا فرمایا جو آزمائش کے لئے اور مکلف ہونے کے لئے ضروری اور لازمی چیز ہے قرآن نے صرف دو حاسوں کا ذکر فرمایا ہے چونکہ یہ دونوں باقی حواس سے اعظم اور اشرف ہیں۔ اور چونکہ عام طور سے سنتا دیکھتا عاقل ہی کو کہتے ہیں اس لئے عقل کا ذکر یہاں نہیں فرمایا لیکن مراد ضرور ہے نیز یہ آنکھیں دلائل قدرت کو دیکھنے اور کان آیات وجج سننے کے لئے ہوتے ہیں اس لئے ان دونوں کے ذکر کو اختیار کیا ۔ نبتیلہ کا بعض بزرگوں نے ترجمہ ہم پلٹتے رہے اس کو کیا ہے اس ترجمہ کا مطلب واضح ہے ترجمہ یوں ہے بنایا آدمی ایک بوند کے لچھے سے پلٹتے رہے اس کو یعنی نطفے کو خون بنایا پھر لوٹھرا پھر اعضا بنائے وغیرہ وغیرہ اور کئی اطوار و درجات میں الٹ پلٹ کرکے اس کو سنتا دیکھتا کردیا۔ (واللہ اعلم)
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو راستہ بتادیا وہ شکرگزار ہوگیا یا ناسپاسی ہوگیا۔

(3) ہم نے اس کو راستہ بتادیا یا وہ شکر کرنے والا ہے اور یا ناسپاس اور کفر کرنے والا ہے۔ سبیل سے مراد یا تو طریقہ حق ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے یہ کہ حق و باطل اور بھلائی برائی کا راستہ دکھادیا اور کتابیں نازل کرکے اور رسول بھیج کر یہ بات بتادی کہ نجات کا راستہ یہ اور ہلاکت کی راہ یہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ احکام کا مخاطب بنایا اس کے بعد یہ انسان یا تو شکرگزار ہوگیا یعنی موحد مومن اللہ کی اطاعت بجا لانے والا ہوا اور ناسپاس یعنی مشرک اور کافر شقی ہوگیا بہرحال دوراستوں میں تقسیم ہوگیا آگے دونوں کے انجام کا ذکر فرمایا صحیح راہ اختیار کرنے والوں کی تعداد چونکہ کم تھی اس لئے ان کو شاکر فرمایا اور نافرمانوں کی تعداد چونکہ زیادہ تھی اس لئے ان کو کفور یعنی مبالغہ کے صیغے سے تعبیر فرمایا۔
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بیشک ہم نے منکرین حق کے لئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کر کھی ہے۔

(4) بلا شبہ ہم نے منکرین حق کے لئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے۔ یعنی دین حق کے منکر اور پیغمبروں کے راستے کو نظر انداز کرنے والوں کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا کہ زنجیروں سے باندھ کر گھسیٹے جائیں گے اور طوق گردنوں میں ڈال کر ہاتھوں کو گردن سے باندھ دیا جائے گا اور پھر دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے جیسا کہ سورة حاقہ میں گزر چکا ہے اور سورة مومن میں فرمایا اذا الا غلال فی اعناقھم والسلاسل یسبحون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون۔
Ayah 76:5

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

البتہ جو لوگ نیک ہیں وہ ایسے جام شراب سے شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔

(5) بے شک جو لوگ نیک ہیں اور ایسے جام شراب سے شراب پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے پئیں گے اور وہ خاص بندے اس چشمہ کو جہاں چاہیں گے بہا لے جائیں گے۔

(6) وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے پئیں گے اور وہ خاص بندے اس چشمے کو جہاں چاہیں گے بہا کر لیجائیں گے۔ یعنی شراب کا مزہ بڑھانے کے لئے اس میں کافور کی ملونی ہوگی تاکہ لذت خوشبہ، خنکی اور تفریح میں زیادتی ہوجائے یہ دنیا کا کافور نہ ہوگا بلکہ سفیدی اور خوشبو وغیرہ کی وجہ سے اس کو کافور فرمایا ہے ورنہ یہ تو ایک چشمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقرب بندوں کے پینے کے لئے ہے اور یہ چشمہ ان خاص بندوں کے تابع ہوگا وہ جہاں چاہیں گے اس کو بہا کرلے جائیں گے، ان مقربین کے ہاتھ میں سونے کی چھڑیاں ہوں گی ان سے اشارہکریں گے اور جس طرف اشارہ کریں گے اسی طرف سے اس کی ایک نالی جاری ہوجائے گی چونکہ یہ چشمہ خاص لوگوں کے لئے ہوگا اور ظاہر ہے کہ وہ چشمہ نہایت پرکیف اور لذیذ ہوگا اس کے امتزاج سے اس شراب کا مزہ بہت بڑھ جائے گا جو ابرار کو پیش کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے عباد اللہ کی تفسیر اولیا اللہ سے کی ہے بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس چشمہ کا فور کا اصل منبع نبی کریم ﷺ کے محل میں ہوگا۔ (واللہ اعلم) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابرار اور عباد اللہ کا مصداق ایک ہی ہو اور صرف اس کا مزہ اور چشمے کا مسخر ہونا اور اہل جنت کا تابع ہونا بیان کرنا مقصود ہو اس لئے دو دفعہ ذکر فرمایا ہو آگے ان ابرار کے اوصاف مذکور ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک شراب کی ندیاں ہیں ہر کسی کے گھر میں اور ایک اس میں ملتی ہے تھوڑی سی وہ اعلیٰ قسم کی ہے کسی کی ملونی کافور ہے ٹھنڈا خوشبو کسی کی ملونی سونٹھ ہے گرم چرپرا یہ بھی چشمے خاص ہیں۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو مانی ہوئی منت کو پور ا کرتے ہیں اور وہ اس دن سے ڈرا کرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔

(7) یہ وہ لوگ ہیں جو مانی ہوئی منت کو پورا کرتے ہیں اور وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی یعنی عام ہوگی۔ یعنی وہ منت جو انسان خود اپنے اوپر واجب کرتا ہے جب اس کو پورا کرتے ہیں تو وہ واجبات جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ان کو تو بہت زیادہ پورا کرتے ہوں گے۔ غرض یہ کہ تمام فرائض وواجبات کو بجا لاتے ہیں یہاں تک کہ جو سنت خود اپنے ذمہ پر واجب کرتے ہیں اس تک کو بھی پوری توجہ اور خوشی سے پورا کرتے ہیں مثلاً اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دیدی یا میرے غائی شدہ چیز مجھ کو مل گئی تو اللہ تعالیٰ کے لئے میرے ذمے فلاں بات ہوگی یعنی مساکین کو کھانا کھلائوں گا یا مساکین کو کپڑے پہنائوں گا وغیرہ وغیرہ۔ تفصیل کتب فقہ سے معلوم ہوسکتی ہے سختی کے عام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس کا کم وبیش اثر سب پر ہوگا۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور وہ لوگ باوجود کھانے کی رغبت اور احتیاج کے مسکین کر اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلا دیتے ہیں۔

(8) اور وہ لوگ باوجود کھانے کی رغبت و احتیاج کے مسکین کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھانا کھلا دیتے ہیں۔ علی حبہ کھانے کی محبت اور رغبت کے باوجود مسکین یتیم اور قیدی کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں ، قیدی خواہ مسلمان ہو یا مشرک سب کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم ہے اور سب کو کھانا کھلانا مستحسن ہے۔ جیسا کہ بدر کے قیدیوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم نبی کریم ﷺ نے دیا تھا اور مسلمان ان کو جب تک وہ قید میں رہے ہر طرح کا آرام پہنچاتے رہے جو کافر جس مسلمان کے گھر میں قید تھا وہ اس کے کھانے کا خیال رکھتا تھا۔ علی حبہ کے معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خوشنودی کے لئے یہ لوگ مسکین ویتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اس امر کی گنجائش ہے کہ اسیر میں مکاتب اور مقروض وغیرہ بھی داخل ہوں کہ وہ بھی ایک قسم کے قیدی ہیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابوالد خدا ح انصاری کے حق میں نازل ہوتی ہے اور بعض نے فرمایا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں نازل ہوئی ہے وہ تین دن تک اپنے گھر کا کھانا مسکین یتیم اور قیدی کو کھلاتے رہے اور تمام گھر بھوکا رہا۔ اسیر میں بعض حضرات نے مملوک مقروض اور گھر کی عورت کو بھی داخل کیا بہرحال باوجود اس ایثار کے کہ اپنی حاجت روک کر اپنا کھانا مسکین یتیم اور قیدی کو کھلا دیں پھر کھلاتے وقت زبان حال یا زیان قال سے یوں کہیں۔
Ayah 76:9

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

کہتے ہیں ہم تو تم کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی غرض سے کھانا کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی بدلے اور شکریہ کے خواہش مند نہیں ہیں۔

(9) ہم تو تم کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کھانا کھلاتے ہیں ہم تم سے کسی بدلے اور شکریے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ یعنی ہم اس کھانا کھلانے کے صلے میں تم سے کسی بدلے کے آرزو مند نہیں اور نہ کسی زبانی شکریے کے خواہش مند ہیں ہم تو یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کرتے ہیں۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو دن نہایت ترش رو اور نہایت سخت ہوگا۔

(10) ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں جو دن نہایت ترش روا اور نہایت سخت ہوگا۔ دن کی صفت عبوس کے ساتھ مجازاً ہے۔ مراد یہ ہے کہ اس دن لوگوں کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ دن بڑا تلخ اور نہایت سخت ہوگا اس دن کا ہم کو اندیشہ لگا ہوا ہے اور ہم کو اندیشہ لگا ہوا ہے اور ہم اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں کہ اس دن ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوا اور یہ کھانا کھلانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قبول ہو یا نہ ہو۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ لوگوں کو اس دن کی سختی سے بچا لے گا اور ان کو تازگی اور مسرت سے بہرہ مند کرے گا۔

(11) سو اللہ تعالیٰ ان مذکوروہ کو اس دن کی سختی اور برائی سے محفوظ رکھے گا اور بچالے گا اور ان کو تازگی اور مسرت و خوشی سے بہرہ مند کردے گا۔ یعنی ان کے اخلاف و اطاعت کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا اور ان کے چہروں کو تروتازگی سے اور ان کے دلوں کو خوش سے بہرہ مند کرے گا۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ان کے صبر و استقلال کے صلے میں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔

(12) اور ان لوگوں کو ان کے صبر و استقلال اور ان کی پختگی اور استقامت فی الدین کے صلے میں جنت ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔
Ayah 76:13

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

ان کی حالت یہ ہوگی کہ اس جنت میں نہ سورج کی گرمی پائیں گے نہ سخت سردی۔

(13) ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اس جنت میں مسہریوں پر آرام وعزت سے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور اس جنت میں نہ وہ سورج کی گرمی اور تپش پائیں گے اور نہ سخت سردی اور جاڑے سے دوچار ہوں گے۔
Ayah 76:14

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور جنت کے درختوں کے سائے ان لوگوں پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان کے پھل ان کے اختیار میں کردیئے جائیں گے۔

(14) اور جنت کے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور ان درختوں کے پھل ان کے قریب اور ان کے اختیار میں ہوں گے ۔ یعنی درختوں کے سائے قریب ہوں گے اور پھل بالکل قریب اور مسخر ہوں گے۔
Ayah 76:15

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان لوگوں پر چاندی کے برتن اور شیشے کے آب خورے پیش کئے جائیں گے۔

(15) اور ان اہل جنت پر لوگ چاندی کے برتن اور شیشے کے آبخورے لئے پھرتے ہوں گے۔
Ayah 76:16

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

وہ شیشے چاندی کے ہوں گے یعنی چاندی شیشے کی طرح شفاف ہوگی جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا۔

(16) وہ شیشے چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا۔ یعنی کھانے کے لئے چاندی کے برتن ہوں گے اور پینے کے لئے چاندی کے آبخورے ہوں گے۔ کو ب ایسے آبخورے کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو۔ چاندی کو شیشہ فرمایا یعنی یہ آبخورے ہوں گے تو چاندی کے مگر شفاف ایسے ہوں گے جیسے شیشے جس طرح شیشے سے نگاہ پار ہوجاتی ہے اور شیشے کے گلاس میں جو بھرا ہو وہ بھی باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح چاندی کے آبخورے اتنے شفاف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئیگی۔ اور یہ بات مخصوص ہوگی جنت میں دنیا میں اس کی مثال نہیں مل سکتی پھر ان آبخوروں کو پلاتے وقت بھرنے والے اس انداز سے بھریں گے جو پینے والے کو کافی ہوگا۔ یعنی نہ تو بچے گا کہ پھینکا جائے اور نہ پیاس باقی رہے گی کہ دوبارہ طلب کیا جائے یعنی جس قدر جنتی کی خواہش ہوگیا سی قدر شراب اس میں بھریں گے کہ نہ بچے اور نہ پیاس باقی رہے یہ پھرنے والے جنت کے خدام ہوں گے جو کھانے اور پینے کا سامان چاندی کے برتنوں میں اور چاندی کے آبخوروں میں لئے پھرتے ہوں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کی پیاس برابر شیشے پر روپے کے یعنی مروپا ایسا شفاف جیسا شیشہ۔
Ayah 76:17

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان کو وہاں ایسی شراب کے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔

(17) اور ان کو وہاں ایسی شراب کے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی
Ayah 76:18

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

وہ جنت میں ایک چشمہ ہوگا جس کا نام سلسبیل ہوگا۔

(18) وہ جنت میں ایک چشمہ ہوگاجس کا نام سلسبیل ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کے معنی پانی صاف بہتا ہو ۔ یعنی یہ شراب اس شراب کے علاوہ ہے جس میں کافور کی آمیزش تھی یہ سونٹھ دنیا کی سونٹھ جیسی نہ ہوگی بلکہ ایک خاص چشمہ ہے جو بڑے عالی مرتبت لوگوں کے لئے ہوگا نہایت خوشگوار لذیذ مسرت بخش اور فرحت زا، سونٹھ کا اثر گرم ہوتا ہے اور اہل عرب اس کو بہت پسند کرتے تھے قوت عزیزیہ کے لئے بہت نافع بلکہ زیادہ کرنے والی ہے اس کا نام سلسبیل ہے عام اہل جنت کی شراب میں اس کی ملونی ہوگی، یہ چشمہ نہایت صاف ستھرا اور رواں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس کا منبع عرش کے نیچے جنت عدن میں ہے جنت کی شراب میں ٹھنڈک کافور کی اور مزا سونٹھ کا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ (واللہ اعلم)
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور یہ چیزیں ان کے روبرو ایسے لڑکے لئے پھرتے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے اے مخاطب اگر تو ان لڑکوں کو دیکھے تو تو ان کو بکھرے ہوئے موتی سمجھے۔

(19) اور یہ چیزیں ان کے روبرو ایسے لڑکے لئے پھرتے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ اے مخاطب اگر تو ان لڑکوں کو دیکھے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی خیال کرے۔ موتی سے تشبیہہ ان کی صفائی اور چمک کے اعتبار سے ہے اور بکھرے ہوئے سے تشبیہہ ان کے چلنے پھرنے کی وجہ سے فرمائی کہ وہ اہل جنت کے پاس گھومتے ہوں گے کبھی اس کے پاس کوئی چیز لے گئے کبھی اس کے پاس کوئی چیز لے گئے یہ اہل جنت کے خدمتگار ہوں گے۔
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور اے مخاطب جب تو وہاں دیکھے گا تو بکثرت نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔

(20) اور اے مخاطب جب تو وہاں دیکھے گا تو بکثرت نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔ یعنی جنت کا وصف اور اس کے اوصاف کیا بیان کئے جائیں اے مخاطب تو دیکھے گا تو بیشمار نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا جو ادنیٰ ترین جنتی کو عطا ہوگا بےکراں نعمتیں اور بہت بڑی حکومت و سلطنت اللھم ارزقنا بمنک وکرمک۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اہل جنت کا بالائی لباس باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیزریشم کے کپڑے بھی ہوں گے اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو شراب طہور یعنی نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔

(21) اہل جنت کا بالائی لباس باریک ریشم کے سبز رنگ کے ہوں گے اور دبیزریشم کے کپڑے بھی ہوں گے اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو شراب طہور پلائے گا۔ سورة حج میں اور سو رہ کہف میں موتیوں کے زیور اور سونے کے کنگنوں کا ذکر بھی آیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں اہل جنت کو پہنائی جائیں گی یا باری باری سے یہ چیزیں پہنائی جائیں گی کبھی یہ اور کبھی یہ۔ باریک ریشم کے سبز کپڑے شاید خلعت کی جگہ استعمال ہوں گے یا جیسا کہ ہمارے ہاں کا دستور ہے کہ نیچے کے لباس پر دوسرا لباس ہوتا ہے جیس اچکن یا چغہ یا کوٹ اسی طرح اہل جنت کا اندرونی اور باطنی لباس دبیزریشم کا نرم ہوگا جس کا رنگ سبز اور ہرا ہوگا۔ شراب طہور ایک خاص قسم ہے شراب کی جو باطنی اور ظاہری تمام کدورتوں سے پاک کردیگی شاید حظیرۃ القدس کے اجتماع میں یہ شراب عطا ہوگی اور وہ مجلس بڑی مبارک اور بڑی اعلیٰ ہوگی جس میں حضرت حق جل وعلاخود ساقی بن کر شراب طہور کے جام تقسیم فرما رہے ہوں گے یا شاید ہر قسم کی نعمتیں، کھانے اور ہر قسم کی شراب استعمال کرانے کے بعد یہ شراب طہور کے جام تقسیم کئے جائیں گے جس کا فوری اثر یہ ہوگا کہ ایک پسینہ آئے گا جس سے تمام کھانا ہضم ہوجائیگا اور بھوک لگ آئے گی اس کے پینے سے ہر قسم کا کینہ اور حسد وغیر دل سے نکل جائیگا اور باطن وظاہر ہر قسم کی گندگی سے پاک ہوجائیں گے اور کوئی بری صفت باقی نہ رہے گی اور اس شراب طہور کو پلاتے وقت ارشاد ہوگا۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

اہل جنت سے کہا جائے گا یہ سب نعمتیں تمہارا صلہ ہیں اور تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔

(22) بلاشبہ یہ نعمتیں تمہارے صلہ اور بدلا ہیں اور تمہاری سعی اور کوشش جو دنیا میں کیا کرتے تھے مقبول ہوئی اور ٹھکانے لگ گئی۔ یعنی یہ جنت کی تمام نعمتیں اس فرماں برداری اور اطاعت کا صلہ ہیں جو تم دنیا میں بجالاتے تھے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تمہاری کوشش مقبول ہوئی اور تمہاری سعی ٹھکانے لگی۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے قرآن کو آپ پر تھوڑا تھوڑا نازل کیا ہے۔

(23) اے پیغمبر ہم نے قرآن کو آپ پر تھوڑا تھوڑا نازل فرمایا ہے یعنی حسب ضرورت نجماً نجماً نازل ہوتا رہا ہے تاکہ خوب ذہن نشین ہوجائے اور لوگوں کو ابتداء میں پڑھنے اور سیکھنے کی آسانی ہو جیسا کہ ہم سورة بنی اسرائیل اور سورة فرقان میں عرض کرچکے ہیں۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

سو آپ اپنے رب کے حکم پر جمے رہیے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کا کہا نہ مانئیے۔

(24) سو آپ اپنے پروردگار کے حکم پر ثابت قدم رہیے اور جمے رہئے اور ان میں سے کسی فاسق یا کافر کا کہنا نہ مانیے۔ کہتے ہیں کہ جنت کی نعمتیں سن کر کافروں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ پیغمبر عیش و آسائش کی زندگی چاہتا ہے لہٰذا اس کو نعمتیں پیش کرو چناچہ سب لوگ جمع ہوئے کسی نے باغ کی پیش کش کی کسی نے بہت بڑا مکان دینے کو کہا، کسی نے اپنی خوبصورت لڑکی سے شادی کردینے کو کہا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ ہم نے قرآن تم پر نازل فرمایا ہے تاکہ لوگ ہدایت قبول کریں۔ یہاں کسی عیش پرستی کا سوال نہیں ہے آپ ان میں سے کسی فاسق اور کافر کا کہنا نہ مانیے یعنی دونوں میں سے ایک کا بھی نہیں بلکہ اپنے پروردگار کے حکم پر چلئے یعنی تبلیغ کرتے رہیے اور تبلیغ کو ان کے کہنے سے ترک نہ کیجئے کیونکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ اپنی تبلیغ کو ترک کردیں ، لہٰذا آپ اپنے پروردگار کی حکم اور اپنے عام کام پر قائم رہیے آگے شخصی عبادت یعنی عبادت لازمہ کا حکم ہے۔
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور صبح وشام اپنے رب کا نام لیا کیجئے۔

(25) اور آپ اپنے پروردگار کا نام صبح وشام لیتے رہیے۔
Ayah 76:26

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور رات کے کچھ حصہ میں بھی نماز پڑھا کیجئے اور رات کے بڑے حصہ میں بھی اس کی پاکی بیان کیا کیجئے۔

(26) اور رات کے کچھ حصے میں اس کو سجدہ کیا کیجئے اور رات کے بڑے حصے میں بھی اس کی پاکی بیان کیا کیجئے - بعض اہل تفسیر نے فرمایا ہے کہ اس سے پانچوں وقت کی نماز مراد ہے کہ آپ پانچوں وقت نماز پڑھتے رہیے یا یہ مطلب ہے کہ صبح وشام خاص طور قر اس کا نام لیا کیجئے اور اس کا نام کا ذکر کیا کیجئے یہ دو وقت خاص طور پر اس کو یاد کرنا اور اس کا نام جپنا بہت سی مشکلات کا علاج ہے۔ رات کے کچھ حصے میں سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کیجئے اور رات کے بڑے حصے میں پاکی بیان کرنے سے مطلب شاید تہجد کی نماز ہے اور اگر ومن الیل فاسجدلہ سے تہجد مراد لیں تو وسبحہ لیلا طویلا کا مطلب یہ ہوگا کہ رات کے طویل حصہ میں ذکر اور تسبیح الٰہی کیا کرو۔ بہرحال مخالفت کا مقابلہ عبادت الٰہی سے کیجئے اور ان منکروں کا کہنا نہ مانیے۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

بیشک یہ منکر دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور ایک بہت بھاری دن کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں۔

(27) کیونکہ یہ منکر دنیا کو دوست رکھتے اور دنیا کو پسند کرتے ہیں اور ایک بہت بھاری دن کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں۔ یعنی چونکہ یہ دنیا سے محبت رکھتے ہیں اور ان کو آخرت کا کوئی خیال نہیں ہے اور انہوں نے آخرت کو نظر انداز کررکھا ہے اور جو ہولناک دن آگے آنے والا ہے اس کو پس پشت ڈال رکھا ہے اس لئے یہ لوگ آپ کا کہنا نہیں مانتے اور آپ کی بات ان کی سمجھ میں نہیں بیٹھتی۔
Ayah 76:28

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ان کے جوڑوں کے بندھن خوب مضبوط باندھے اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے انہی جیسے اور لوگ لے آئیں۔

(28) ہم ہی نے ان کو پیدا کیا ہے اور ہم ہی ان کے جوڑوں کے بندھن اور رگ وپٹھے خوب مضبوط باندھے ہیں اور ہم جب چاہیں ان کے بدلے انہی جیسے اور لوگ لے آئیں۔ یعنی ہم نے ہی ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور ہم ہی نے ان کے جوڑ جوڑ کو درست اور مضبوط کیا ہے ہم جب چاہیں ان کی ہستی کو فنا کردیں اور دوبارہ ایسی ہی ہستی بنا کر کھڑی کردیں یا یہ کہ ان کو مٹاکر ان کی جگہ دوسرے آدمی لے آئیں جو ان کی طرح سرکش اور نافرمان نہ ہوں۔ انہوں نے یو ثقیل کو اس لئینظرانداز کیا ہے کہ ان کو مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا یقین نہیں یہ اس کا جواب ہے کہ جب ہم دنیا میں تم جیسے دوسرے انسان کو لاسکتے ہیں تو قیامت میں تم کو دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتے۔
Ayah 76:29

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ مذکورہ مفسرین ایک نصیحت ہے سو جو شخص چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے۔

(29) یہ مذکورہ مضمون ایک نصیحت ہے پس جو شخص چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور بدون خدا کے چاہے تم لوگ کوئی بات نہیں چاہ سکتے بیشک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی حکمت والا ہے۔

(30) اور اللہ تعالیٰ کے بدلے چاہے تم لوگ کوئی بات نہیں چاہ سکتے بیشک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی پوری سورت ایک تذکرہ اور نصیحت ہے لہٰذا جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی راہ لگ لے اور اس تک پہنچنے والی بٹیا اور سڑک پر چلے آگے اپنی مشیت کا اظہار فرمایا یعنی تمہارا چاہنا بھی بدون اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے وہ ہر شخص کی استعداد اور قابلیت سے بخوبی واقف ہے اس کی حکمت اگر کسی کے لئے ہدایت کی مقتضی ہوتی ہے تو اس کی رہنمائی فرماتے ہیں اور بعض لوگوں کو اپنی مصلحت اور حکمت سے گمراہ پڑا رہنے دیتے ہیں اور چونکہ وہ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے اور اسی کے علم و حکمت کا یہ مقتضا ہے۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو سرکش ہیں ان کیلئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔

(31) کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو سرکش ظالم ہیں ان کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ یعنی جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرلے اور جس کو چاہے کفر وظلم میں چھوڑ دے۔ بہرحال جو اس کی مشیت اور مصلحت کے ماتحت اس کی رحمت میں داخل ہوجائیں وہ ہر اعتبار سے کامیاب اور زمرہ ابرار میں شامل ، اور جو اپنی سرکشی اور ظلم و شرک کی وجہ سے اس کی رحمت سے محروم ہوگئے ان کے لئے دردناک عذاب مہیا ہے۔ تم تفسیر سورہو الدھر اور سوروہ الانسان