77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 77:1

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے ان ہوائوں کی جو نفع رسائی کے لئے بھیجی جاتی ہیں

(1) قسم ہے ان ہوائوں کی جو خلق کی نفع رسانی کے لئے بھیجی جاتی ہیں۔
Ayah 77:2

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

، پھر ان ہوائوں کی قسم جو زور سے چلتی ہیں۔

(2) پھر ان ہوائوں کی قسم جو زور سے چلتی ہیں۔
Ayah 77:3

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور ان ہوائوں کا جو ابھار کر پھیلاتی ہیں۔

(3) اور ان ہوائوں کی قسم جو بادلوں کو ابھارکر پھیلاتی ہیں۔
Ayah 77:4

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھاڑ کر جدا کردیتی ہیں۔

(4) پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھاڑ کر جدا کرتی ہیں اور بانٹتی ہیں۔
Ayah 77:5

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر ان ہوائوں کی جو دل میں خدا یاد ڈالتی ہیں۔

(5) پھر ان ہوائوں کی جو دل میں خدا کی یاد ڈالتی ہیں۔
Ayah 77:6

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

یہ خدا کی یاد عذر کر نیکو یا ڈرانے کو۔

(6) یہ خدا کی یاد کا ڈالنا عذر کرنے کو یا ڈرانے کو۔
Ayah 77:7

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔

(7) کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اور وہ وعدہ یقینا پورا ہونا ہے - ہوائیں چلنے کے مختلف طریقے ہیں، کبھی یہ ہوا خوشگوار اور نرم چلتی ہے جو اچھی معلوم ہوتی ہے یہی ہوا کبھی تیز اور خوفناک ہوکرچلتی ہے پھر کبھی بخارات کو ابھار کر بادل بناتی ہے اور انہیں بادلوں کو جدا کرکے مختلف مقامات پر تقسیم کرتی ہے اور بارش کے بعد بادلوں کو پھاڑ کر الگ الگ کردیتی ہے ان ہوائوں کے مختلف انداز اور مختلف طریقے دل میں ترغیباً اور تربیباً اللہ تعالیٰ کی یاد پیدا کرتی ہیں پھر انسان اس سے متاثر ہوکر اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور معذرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرتا ہے ۔ جیسا کہ اکثر آندھی اور ہوا کے تیز جھکڑ چلنے کے وقت دیکھا جاتا ہے ان ہوائوں کا چلنا لوگوں کی نفع رسانی کے لئے ہوتا ہے مثلا ہر ذی روح ککا تنفس ہوا پر موقوف ہے ، بدن میں خنکی کا پہنچنا زراعت کے دانوں اور درختوں کا بڑھنا سبزے کا نمو اورر وئیدگی سب ہوا ہے وابستہ ہے بارش موقوف ہیں، بادبائی کشتیاں ہوائوں ہی سے چلتی اور سمندر میں دوڑتی پھرتی ہیں۔ قیامت کے وجود پر اس لئے ہوا کہ قسمیں کھائیں کہ قبروں سے اٹھنا، میدان حشر میں جمع ہونا اور متفرق ہونا ان سب چیزوں کو ہوائوں کے ساتھ مناسبت ہے۔ یہ ہوائیں انقلاب آور ہیں اور قیامت بھی ایک بڑا انقلاب ہے اس اعتبار سے ہوائوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ یوم قیامت جو موعود ہے وہ یقینا واقع ہونے والا ہے۔ فالملقیت ذکراً کاصاحب تفسیر عزیزی نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ان ہوائوں کی قسم جو ذکر یعنی قرآن کو منکروں کے کانوں میں ڈالتی ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرقاً تک ہوائوں کا ذکر ہو اور فالملقیت ذکراً سے وہ فرشتے مراد ہوں جو قرآن نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے ہوں یا جبرئیل (علیہ السلام) کی قسم ہو۔ بہرحال ان آیات کی لمی طرح اہل تفسیر نے تفسیر بیان کی ہے مثلاً ہر آیت سے فرشتے مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ان فرشتوں کی قسم جو عام طور سے بہ طریقہ معروف امرونہی کے احکامات لاتے ہیں پھر ان فرشتوں کی قسم جو نہایت تیز ہوا کی طرح احکام لاتے ہیں پھر ان فرشتوں کی قسم جو زمین پر آکر پھیل جاتے ہیں یا اپنے پر پھیلاتے ہیں پھر ان فرشتوں کی قسم جو حق کو باطل سے جدا کرتے ہیں یعنی جو احکام لاتے ہیں ان سے حق و باطل میں تفریق ہوجاتی ہے پھر ان فرشتوں کی قسم جو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام تک ذکر یعنی پیام پہنچاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ذکر سے مراد قرآن ہو اور ملقیات سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہوں قرآن ڈرانے کے لئے ہے گنہگاروں کو اور عذر کے لئے ہے نیک انسانوں کے۔ بعض اہل تفسیر نے تمام آیتوں سے آیات قرآنی مراد لی ہیں ہم نے صرف ہوائوں اور فرشتوں کی تصریح کردی ہے عذراً اونذراً کا مطلب ایک تو وہ ہے جو ہم نے بیان ہے اور ایک مطلب یہ ہے کہ ذکر ڈالنا اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی الزام نہ رہے اور قیامت میں منکر یوں نہ کہیں کہ تیرے احکام یا تیری کوئی کتاب ہم تک نہیں آئی جو ہم تجھ پر ایمان لاتے اور تجھ سے ڈرتے۔ بہرحال ان تمام قسموں کا خواہ ہوائیں مراد لی جائیں یا فرشتے مراد لئے جائیں یا آیات قرآنی مرادلی جائیں ان سب کا مقسم یہ ایک ہی ہے یعنی انما توعدون لواقع کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے آگے اس چیز کا اور اس کی علامتوں کا بیان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بائو چلتی ہے ٹھنڈی منیہر کا نشان ایک تند آندھی جو دبی مٹی کوا بھاری ایک ابر کو ملک ملک بانٹے اور فرشتے اتارتے ہیں قرآن کافروں سے الزام اتارنا منظور ہے کہ نہ کہیں ہم کو خبر نہ تھی اور جن کی قسمت میں ایمان ہے ان کو ڈر سنانا تاکہ ایمان لادیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ چار آیتوں میں حضرت شاہ صاحب (رح) نے ہوائیں مراد لی ہیں اور پانچویں آیت سے فرشتے مراد لئے ہیں۔ بہرحال ہوا مراد ہو یا فرشتے دونوں کو قیامت سے مناسبت ہے اس لئے دونوں ہی کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ شئے موعودضرور واقع ہونے والی ہے۔
Ayah 77:8

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پس جس دن ستارے جھڑ جائیں گے

(8) سو جب ستارے ہٹا دیئے جائیں۔ یعنی ستارے بےنور ہوجائیں۔
Ayah 77:9

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا۔

(9) اور جب آسمان میں شگاف پڑجائیں۔ یعنی جب آسمان پھٹ جائیں۔
Ayah 77:10

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ اڑا دیئے جائیں۔

(10) اور جب پہاڑ اڑا دیئے جائیں۔ یعنی ریت بن کر اڑتے پھریں گے۔
Ayah 77:11

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب رسولوں کے پیش ہونے کا وقت مقرر کردیاجائے۔

(11) اور جب رسولوں کے پیش ہونے کا وقت مقرر کردیا جائے - مطلب یہ کہ ہر پیغمبر پیش ہوکر اپنی امت کا حال بیان کرے یعنی اس وقت سب کا فیصلہ ہوگا اور جو کچھ ہونا ہے وہ ہوگا۔
Ayah 77:12

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

اس وقت جو کچھ ہونا ہے وہ ہوگا۔

(12) ان چیزوں میں کس دن کے واسطے تاخیر کی گئی ہے - یعنی جانتے ہو یہ پیغمبروں کے معاملے میں یا ان سب مذکورہ چیزوں میں کس دن کے لئے تاخیر کی جارہی ہے۔
Ayah 77:13

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

اس معاملہ کو فیصلہ کے دن کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے ۔

(13) اس معاملے کو فیصلے کے دن کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے - یعنی سن لو اس معاملہ کو یا ان تمام معاملات کو یوم الفصل کے لئے ملتوی کیا گیا ہے آگے اس کی تھویل اور اس کی عظمت کے لئے فرماتے ہیں۔
Ayah 77:14

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور آپ کو کیا معلوم کہ وہ دن کیسا ہے ۔

(14) اور اے پیغمبر آپ کو کیا معلوم کہ وہ فیصلے کا دن کیسا کچھ ہے۔ یعنی اسکی ہولناکی کو نہ پوچھو اور اس دن کے خطرات کو دریافت نہ کرو اتنا سمجھ لو۔
Ayah 77:15

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن تکذیب کرنے والوں بڑی تباہی ہے۔

(15) کہ اس دن دین حق کی تکذیب کرنے والوں کو بڑی خرابی ہے۔ یعنی اور تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا یعنی اس دن حق کو جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی اور خرابی ہوگی آگے اس تباہی کی ایک نظیر کا بیان ہے۔
Ayah 77:16

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم اگلے لوگوں کو ہلاک وباد نہیں کرینگے۔

(16) کیا ہم اگلے لوگوں کو ہلاک و برباد نہیں کرچکے ہیں۔
Ayah 77:17

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر ہم پچھلوں کو بھی ان اگلوں کے پیچھے لگادیں گے۔

(17) پھر ہم پچھلوں کو بھی ان اگلوں کے پیچھے لگا دیں گے۔
Ayah 77:18

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

ہم گناہگاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔

(18) ہم گناہگاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں۔ یعنی کیا ہم پہلی امتوں کو نافرمانی اور دین حق کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک نہیں کرچکے پھر ہم ان پچھلوں یعنی آپ کی امت کے نافرمانوں کو بھی انہی کے ساتھ لگادیں گے یعنی ان کو بھی تباہ و برباد کردیں گے کیونکہ ہم گنہگاروں اور مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں جب ہم سب مخلوق کو قیامت میں بیک وقت فنا کرسکتے ہیں تو تھوڑی تھوڑی آبادی کو فنا دینا ہماری نزدیک کیا مشکل ہے خواہ یہ تباہی دونوں جہان میں ہو یا صرف دار آخرت میں ہو باوجود اس کے بھی یہ لوگ قیامت کی تکذیب کرتے ہیں حالانکہ۔
Ayah 77:19

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

اس روز تکذیب کرنے کیلئے بڑی خرابی ہے۔

(19) اس دن جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے آگے بعث اور مرنے کے بعد زندہ ہونے کی اور تقریر فرماتے ہیں۔
Ayah 77:20

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تم کو ایک بےقدر پانی یعنی نطفہ سے نہیں بنایا۔

(20) کیا ہم نے تم کو ایک بےقدر پانی سے نہیں بنایا یعنی نطفے سے۔
Ayah 77:21

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر ہم نے اس نطفہ کو ایک مضبوط و محفوظ مقام میں۔

(21) پھر ہم نے اس نطفہ کو ایک جمے ہوئے محفوظ مقام ہیں۔
Ayah 77:22

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک مقررہ اندازے تک رکھا۔

(22) ایک مقررہ انداز سے تک رکھا۔ مضبوط اور جما ہوا ٹھکانا فرمایا ماں کے رحم کو۔
Ayah 77:23

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

غرض ہم نے اس کی بناوٹ کا ایک اندازہ کیا سو ہم ہم کیسے اچھے اندازہ کرنے والے ہیں۔

(23) غرض ہم نے اس کی بناوٹ کا ایک اندازہ کیا سو ہم کیسے اچھے اندازہ کرنے والے ہیں۔ بعض حضرات نے یوں ترجمہ کیا ہے پھر ہم اس کو پورا کرسکے سو ہم کیا خوب سکت والے ہیں قرات کے اختلاف کی وجہ سے ایک ترجمہ شاہ رفیع الدین صاحب اور دوسرا ترجمہ شاہ عبدالقادر صاحب (رح) کا ہے ہم نے شاہ رفیع الدین صاحب (رح) کا ترجمہ اختیار کیا ہے۔ یعنی اتنی مدت رحم میں رکھا کر پورا پاٹھا ہوکر پیدا ہوا نہ کوئی چیز کم ہوئی اور نہ زیادہ۔ بہرحال جب ہم نے ایک پانی کی بوند کو بتدریج انسان بنادیا تو ہمارے نزدیک مردہ انسان کو زندہ کرلینا کیا مشکل ہے لہٰذا تم بعث بعد الموت کی تکذیب نہ کرو کیونکہ۔
Ayah 77:24

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

اس دن تکذیب کرنے والوں کو بڑی تباہی ہے۔

(24) اس دن جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔
Ayah 77:25

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سب کا سمیٹنے والا نہیں بنایا۔

(25) کیاہم نے زمین کا سب کو سمیٹنے والا نہیں بنایا۔
Ayah 77:26

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی۔

(26) زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی۔
Ayah 77:27

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور اس کے علاوہ ہم نے زمین میں اونچے اونچے بوجھل پہاڑ بنائے اور ہم نے تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا۔

(27) اور ہم نے اس زمین میں اونچے اونچے بوجھل پہاڑ بنائے اور ہم نے تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا۔ یعنی زمین زندوں کو اپنے اوپر بساتی ہے اور مرنے کے بعد مرنے والے کو اجزاء اسی زمین میں سما جاتے ہیں خواہ کوئی دفن ہو یا غرق ہو یا جل جائے، بہرحال سب کے اجزاء زمین میں ہی مل جاتے ہیں، پہاڑوں کا قائم ہونا اور میٹھے پانی کا پینا ظاہر ہی ہے یہ امور اس کی توحید کے مقتضی ہیں مگر تم توحید الٰہی کو جھٹلاتے ہو یادرکھو۔
Ayah 77:28

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

اس روز جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہے۔

(28) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔
Ayah 77:29

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

(اس دن منکروں سے کہا جائے گا) جس عذاب کی تم تکذیب کیا کرتے تھے اس کی طرف چلو۔

(29) چلو اس عذاب کی طرف جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ یہ اس دن منکروں سے کہا جائیگا کہ چلو اور چل کر اس عذاب کو دیکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔
Ayah 77:30

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

تم دھوئیں کے ایک سائبان کی رف چلو جس کی تین شاخیں ہیں۔

(30) تم دھوئیں کے اس سائبان کی طرف چلو جس کی تین پھانکیں ہیں۔
Ayah 77:31

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

جس میں نہ سایہ ہے اور نہ وہ آگ کی لپٹ سے بچاتا ہے۔

(31) جس میں نہ سایہ ہے اور نہ وہ آگ کی لپٹ اور تپش سے بچا سکے گا۔
Ayah 77:32

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

وہ دھوئیں کا سائبان ایسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکتا ہوگا جیسے بڑا محل۔

(32) وہ دھوئیں کا سائبان ایسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکتا ہوگاجی سے بڑامحل۔
Ayah 77:33

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

گویا وہ زردی مائل کالے کالے اونٹ ہیں۔

(33) گویا وہ زری مائل کالے کالے اونٹ ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چھائوں کی تین پھانکیں یعنی پھٹی ہوئی جس میں گے گرمی آتی رہے یعنی اونچی ہوتی ہیں چنگاریاں محل کے برابر۔ مطلب یہ ہے کہ جب حساب کتاب ہوتا رہے گا منکروں کو یہ دھواں گھیرے رہے گا تین شاخوں کا یہ مطلب ہے کہ دھواں جب اونچا ہوتا ہے تو اس کے کئی حصے ہوجاتے ہیں اس میں سایہ نہ ہوگا جو ٹھنڈک پہنچے اور نہ وہ آگ کی گرمی کو روک سکے گا بلکہ اس میں خود چنگاریاں جھڑتی ہوں گی ان چنگاریوں کی حالت ابتدائی تو ایسی ہوگی جیسے کوئی بڑی عمارت اور بڑا محل ہے اور جب ٹکڑے ہوکر زمین پر گریں گی تو ایسی ہوں گی جیسے زردی مائل سیاہ اونٹ، ہمیشہ چنگاری اوپر سے بڑی نظر آتی ہے لیکن نیچے گرتے گرتے اس کے کئی ٹکڑے ہوجاتے ہیں اس لئے دونوں حالتوں کا ذکر فرمایا۔ خلاصہ : یہ کہ جب کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے عرش الٰہی کے سائے میں ہوں گے تو کفار بد اطواردین حق کے منکر اس دھوئیں کے سائبان کے نیچے کھڑے حساب دے رہے ہوں گیا اور جب تک حساب ختم نہ ہوجائے گا اسی تشاخے دھوئیں کے نیچے کھڑے رہیں گے۔ اعادتا اللہ منہ۔
Ayah 77:34

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرائی ہوگی۔

(34) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔
Ayah 77:35

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے جس دن یہ لوگ بول بھی نہ سکیں گے۔

(35) یہ وہ دن ہے جس دن یہ لوگ بول بھی نہ سکیں گے۔ یعنی بعض مواقع اور بعض مواطن ایسے ہوں گے جن میں گفتگو نہ کرسکیں گے اور بول بھی نہ سکیں گے۔
Ayah 77:36

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ انہیں عذر پیش کرنے کی اجازت دیجائیگی سو وہ کوئی عذر بھی نہ کرسکیں گے۔

(36) اور نہ ان کو کسی عذر کی اجازت دی جائے گی سو وہ عذر بھی نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ واقع میں کوئی عذر نہ ہوگا پھر اغدار فاسدہ کی اجازت سے کیا فائدہ۔
Ayah 77:37

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

اسی دن تکذیب کرنے والوں کے لئے بڑی خرابی ہوگی۔

(37) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی خرابی ہوگی۔
Ayah 77:38

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہ ہے وہ فیصلے کا دن ہم نے تم کو اور اگلے لوگوں کو سب کو جمع کرلیا ہے۔

(38) یہ ہے وہ فیصلے کا دن ہم نے تم کو اور اگلے لوگوں کو سب کو فیصلے کے لئے جمع کرلیا ہے۔
Ayah 77:39

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

پھر الر تمہارے پاس کوئی دائو ہے تو مجھ پر اپنا دائوں کرو۔

(39) پھر اگر تمہارے پاس کوئی دائوں اور چال ہے تو مجھ پر وہ دائوں اور وہ چال چلائو۔ یعنی اگر آج کے فیصلے سے بچنے کے لئے کوئی تدبیر اور چال معلوم ہو تو میرے خلاف وہ چال چلو اور مجھ پر اپنا دائوں کرو یہ کفار ان امورحقہ کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayah 77:40

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کیلئے بڑی خرابی ہوگی۔

(40) اس روز جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے، آگے پرہیزگار مسلمانوں کا ذکر ہے۔