Ayah 77:41(41) بلا شبہ وہ لوگ جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں کے سایے میں اور چشموں میں۔
Ayah 77:42(42) اور اپنے حسب دل خواہ میووں میں ہوں گے
Ayah 77:43(43) ان سے کہا جائے گا کہ جو اعمال تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے اور صلے میں خوب مزے کے ساتھ محفوظ ہوکر کھائو پیو۔
Ayah 77:44(44) بیشک ہم نیک روش اختیار کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔ متقی کی بحث اوپر کئی دفعہ گزر چکی ہے جو شرک سے بچے اسے بھی متقی کہتے ہیں اور اعلیٰ درجے کا متقی وہ جو ناجائز چیزوں کے خوف سیبعض جائز چیزوں کو بھی چھوڑ دے یعنی محض شبہ کی بنا پر ان چیزوں کو بھی چھوڑ دے جن کے استعمال کی گنجائش ہو۔
بہرحال ! یہ متقی لوگ سایوں میں ہوں گے سایے سے مراد یا تو محض راحت و آرام سے کنایہ ہے یا وہ سایے مراد ہیں جن کا احادیث میں ذکر آتا ہے یعنی میدان حشر میں عرش اعظم کا سایہ اور پل صراط پر صدقات و خیرات کا سایہ اور جنت میں طوبیٰ اور دوسرے درختوں کا سایہ اگرچہ جنت میں آفتاب نہ ہوگا اور نہ اس کی گرمی ہوگی لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ بعض دوسری چیزوں کا نور ہو جس کا سایہ پڑتا ہو۔ آفتاب نہ ہونے کو یہ مستلزم نہیں کہ وہاں روشنی معدوم ہوگی کوئی اور ہلکی قسم کی روشنی ہوگی جس میں تپش اور تیز حرارت نہ ہوگی یا عرش الٰہی کا نور ہو یا کسی اور چیز کی روشنی ہو۔
بہرحال ! متقی لوگ سایوں میں اور چشموں میں ہوں گے چشمے وہی جن کا ذکر سورة الدہر اور سو رہ الرحمن میں گزرچکا ہے اور ان میوئوں اور فواکہات میں ہوں گے جن کی وہ خواہش کرتے ہوں گے۔ ان سے کہا جائے گا خوب محفوظ ہو کر کھائو پیو، ہینا کے معنی گوارا اور زود ہضم یعنی یہاں کے ککھانے میں بدہضمی اور ثقل یا امتلا کا اندیشہ نہیں اس کھانے اور پینے کی اجازت ان اعمال کے صلے میں ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی گرمیوں میں روزے رکھتے تھے اور لذیذ کھانے فقراء پر خیرات کیا کرتے تھے اور سردی میں نمازیں پڑھا کرتے تھے اگرچہ تمہارے خیال میں بھی یہ بات نہ ہوگی کہ اس محدود عبادت کا تم کو اس قدر لامحدود ثواب اور لامحدود نعمتیں عطا ہوں گی لیکن ہماری عادت یہی ہے کہ ہم نکوکاروں اور نیک روش اختیار والوں کو ایسا ہی صلہ اور ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں۔
آگے پھر دین حق کے منکروں کا ذکر ہے کہ تم ان نعمتوں کا ذکر اور ان کی تفصیل سن کر تکذیب کرتے ہو اور ان نعمتوں کو جھٹلاتے ہو تو سن لو۔
Ayah 77:45(45) اس دن تکذیب کرنے والوں کے لئے بڑی خرابی اور تباہی ہے۔
Ayah 77:46(46) اے منکرین حق تو تھوڑے دن کھالو اور برت لو اور نفع اٹھا لو یقینا تم مجرم اور گنہگار ہو۔ یعنی یہ دنیا چند روزہ ہے یہاں کھالو اور بہرہ مند ہوجائو اور دنیا کی نعمتیں برت لو اور اس کا یقین رکھو کہ تم مجرم اور دین حق کے باغی ہو۔
Ayah 77:47(47) اس دن حق کی تکذیب کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی اور بڑی تباہی ہے۔
Ayah 77:48(48) اور جب ان منکروں سے کہا جاتا ہے کہ جھکو تو نہیں جھکتے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے جھک جائو اور ایمان اور عبدیت اختیار کرلو تو نہیں جھکتے یا یہ مطلب ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو اور مسلمان جس طرح نماز پڑھتے ہیں اس طرح پڑھو اور اسلام میں داخل ہوجائو تو رکوع نہیں کرتے۔
یہ شاید اس لئے فرمایا کہ رکوع مسلمانوں کے علاوہ کسی اور دین میں نہیں ہے قیام اور سجدہ اہل کتاب کے ہاں اور خالی ماتھا ٹیکنا منکروں میں رائج ہے۔
لیکن ایسی عبادت جس میں رکو ، سجدہ ، اور قیام ہو دوسر ملل میں نہیں پائی جاتی اور اہل عرب تو کمر جھکانے کو بہت ہی معیوب سمجھتے تھے۔
جیسا کہ بنی ثقیف کے رئیسوں نے کہا تھا کہ ہم نماز میں رکوع نہیں کریں گے یہ ہمارے ہاں بہت ہی عیب ہے کمر تو جانور جھکایا کرتے ہیں کیا ہم اس طرح کمر کو جھکائیں جس طرح جانور پو بوجھ لانے کے لئے ان کی کمر کو جھکاتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا لاخیر فی دین لیس فیھا رکوع یعنی اس دین میں بہتری نہیں ہے جس میں رکوع نہیں ہے۔ اہل تفسیر نے اس آیت کی شرح میں دو باتیں فرمائیں ہیں اس لئے ہم نے دونوں کا ذکر کردیا ہے یہ رکوع سے انکار کرنے کو جرم ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کے جرم ہونے کی تکذیب کرتے ہیں۔
Ayah 77:49(49) اس روز جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والوں کی بڑی خرابی ہے۔
Ayah 77:50(50) اب آخر یہ لوگ اسی کلام کے بعد اور کون سی بات پر ایمان لائیں گے یعنی اس کلام الٰہی کے بعد اور قرآن کے بعد اب کسی بات کا انتظار کررہے ہیں اور اس کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے کیا یہ کسی اور کتاب کے نازل ہونے کے منتظر ہیں، یعنی قرآن جیسی مفصل اور دلائل سے لبریز کتاب کے بعد پھر اور کون سی کتاب پر ایمان لائیں گے۔
حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سورة مرسلات کی آخری آیت تلاوت کرتے تو فرماتے امنت باللہ وبما انزل۔
تم تفسیر سورة المرسلات