Ayah 78:1(1) منکرین قیامت باہم کسی چیز کی پوچھ گچھ کررہے ہیں اور کس چیز کا حال دریافت کررہے ہیں۔
Ayah 78:2(2) یہ اس عظیم الشان واقعہ سے سوال کررہے ہیں اور اس عظیم واقعہ کا حال دریافت کررہے ہیں۔
Ayah 78:3(3) جس کے بارے میں یہ اختلاف رکھتے ہیں یعنی اہل حق سے یا آپس میں۔ علم اصل میں عن ما ہے ما عام طور پر سوال کسی شئے کی حقیقت اور ماہیت کے لئے ہوتا ہے لیکن کبھی اس کا استعمال حال اور اوصاف کو دریافت کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔
جیسے مازید کے جواب میں کہا کرتے ہیں طبیب یا عالم ، پوچھ گچھ کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں سوال کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ چیز کب آنے والی ہے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نباء عیم اور عظیم الشان واقعہ سے مراد قیامت ہے اگرچہ بعض نے عظیم قرآن کو بھی کہا ہے ، اور بعض حضرات نے نبی کریم ﷺ کی رسالت مرال دی ہے لیکن عام مفسرین کی رائے یہی ہے کہ نباء عظیم سے مراد قیامت ہے جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے قیامت کا ذکر تفصیل کے ساتھ فرمایا تو کافر ازراہ تعجب و استہزا کہنے لگے کہ بھلا کہیں سڑی اور گلی ہوئی ہڈیاں بھی زندہ ہوسکتی ہیں۔
کسی نے کہا کہ یہی دنیا کی زندگی ہے اس کے بعد کچھ نہیں بعض نے یہ بھی کہا کہ اچھا اگر یہ ہوگا تو کب ہوگا اور یہ دن کب آئے گا غرض اسی قسم کی باتیں کرتے اور کھوج لگاتے ۔
حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی چیز کا کھوج لگا رہے ہیں جس میں خود بھی مختلف ہیں مثلاً کوئی بالکل دوسری زندگی کا منکر ہے کوئی اسی دنیا میں دوبارہ زندہ ہونے کا قائل ہے کوئی روحانی زندگی کا قائل ہے ۔ غرض یہو د و نصاریٰ اور مشرکین عرب بلکہ دنیا کے مشرک باہم مختلف نظریوں کے قائل ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل حق سے اختلاف کرتے ہیں یعنی خود کچھ بھی خیال رکھتے ہوں مگر اہل حق سے قیامت کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور جھگڑتے ہیں اور قیامت کا ذکر سن کر انکار کرتے ہیں آگے زجر وتہدید کے طور پر فرمایا۔
Ayah 78:4(4) ہرگز ایسا نہیں ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے۔
Ayah 78:5(5) پھر سن لو ہرگز ایسا نہیں ان کو عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے - یعنی تمہارا آپس میں مختلف ہونا یا اہل حق سے جھگڑنا اور اس قیامت کا انکار کرنا یہ ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ وہ ضرور آئے گی اور تم کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے پھر تاکید کے طور پر فرمایا نہیں اس کا انکار نہ کرو عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ جس کا تم انکار اور استہزا کررہے ہو اور مذاق اڑا رہے ہو وہ کیسی ہیت ناک چیز ہے اور تمہارے اختلاف اور انکار کی حیثیت کیا ہے۔
آگے اپنی قدرت کے بعض دلائل بیان فرمائے ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ جو ایسی بڑی قدرت کا مالک ہے اور جس نے اس عالم کو ترتیب دیا ہے اس کے نزدیک اس عالم کو برباد کرنا اور دوبارہ سب کو زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 78:6(6) کیا ہم نے زمین کو فرش۔
Ayah 78:7(7) اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا۔ یعنی زمین کو اس طرح نہیں پھیلایا جیسے فرش اور بچھونا پھیلا ہوا ہوتا ہے اگرچہ زمین گول ہے لیکن اس کا پھیلائو اتنا وسیع ہے کہ ہر جگہ پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے جب زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلتی تھی اس پر پہاڑوں کو قائم کیا اور ایسا جما دیا جیسے میخیں جمی ہوئی ہوتی ہیں اور فرش پر میر فرش رکھے ہوئے ہوتے ہیں اس کے بعد زمین قائم ہوگئی اور ہلنا جلنا بلند ہوگیا۔
Ayah 78:8(8) اور ہم نے تم کو جوڑا جوڑا بنایا۔ یعنی نر اور مادہ بنایا یا ہر ایک چیز کو ایک دوسرے کا جواب بنایا۔
Ayah 78:9(9) اور ہم ہی نے تمہاری نیند کو راحت کی چیز بنایا۔ یعنی سونے سے ہر قسم کی تکان دور ہوجاتی ہے اور تازہ دم ہوکر اٹھ جاتے ہو اور ازسر نو اپنا کام شروع کردیتے ہو۔
Ayah 78:10(10) اور ہم نے ہی رات کو پردہ مقرر کیا۔
Ayah 78:11(11) اور ہم ہی نے دن کو کمائی کا وقت بنایا۔ رات کو لباس یعنی اندھیرا ہونا ایک قسم کا پردہ ہے اور نیز رات کو عام طور پر سونے میں آدمی کپڑا اوڑھتا ہے، بہرحال رات ایک ڈھانکنے والی چیز ہے اور دن معاش کے لئے مقرر کیا یعنی تاکہ اس میں اپنے لئے اور اپنے متعلقین کے لئے روزی کمائو اور اپنا کاروبار کرو اور ضروریات زندگی اور سامان معیشت پیدا کرو۔
Ayah 78:12(12) اور ہم ہی نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنانے۔
Ayah 78:13(13) اور ہم ہی نے ایک روشن چراغ بنایا۔ آسمانوں کو شداد فرمایا جن پر ایک طویل زمانہ گزر جانے کے بعد ابھی تک کوئی خرابی اور کمزوری نہیں آئی اور باجود مرورزمان کے اس میں مرمت کی ضرورت ظاہر نہیں ہوئی، سراج سے مراد آفتاب عالم تاب ہے یہ سات مضبوط آسمان اور یہ آفتاب ہم نے ہی پیداکئے اور بنائے۔
Ayah 78:14(14) اور ہم نے ہی برسنے کے لئے بادلوں سے بکثرت پانی برسایا۔
معصرات کو بعض حضرات نے فرمایا یہ وہ ہوائیں ہیں جو بارش لاتی ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ معصرات کے معنی ابر کے ہیں جس میں خوب پانی بھرا ہوا ہو، چناچہ حضرت ابن عباس ؓ ، ابو العالیہ، ربیع اور ضحاک اسی کے قائل ہیں۔ اسی بنا پر ان اپنے حضرات نے نچوڑنے والی بدلیوں کے ساتھ ترجمہ کیا ہے عرب موسلادھار باشر کو مطر شجاج کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان بدلیوں سے موسلا دھار پانی برسایا۔
Ayah 78:15(15) تاکہ ہم اس پانی کے ذریعہ غلہ اور سبزی اگائیں۔
Ayah 78:16(16) اور پتیوں میں لپٹے ہوئے یعنی گنجان باغ پیدا کریں، یعنی گیہوں ، جو ، چنا وغیرہ اور مختلف قسم کی گھاس سبزیاں وغیرہ اور ایسے باغ پیدا کریں جن میں بکثرت پتے ہوں اور درخت پاس پاس ہوں یعنی خوب گنجان باغ پیدا کریں۔
آگے یوم الفصل کی مختصر سی تفصیل ہے چونکہ اوپر والمرسلات میں یوم الفصل کا ذکر آیا تھا اس لئے یہاں اس کی مزید تفصیل مذکور ہے۔
Ayah 78:17(17) بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر ہ وقت ہے۔
Ayah 78:18(18) وہ دن وہ ہے جس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور صور میں پھونکا جائے گا اور تم لوگ گروہ گروہ ہوکرآئو گے۔
Ayah 78:19(19) اور آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے۔ یعنی آسمان پھٹ جائے گا اور کھل جائے گا کہ دروازے ہی دروازے معلوم ہوں گے پس کلام تشبیہ پر مبنی ہے اور یہ شاید نزول ملائکہ کے وقت ہوگا جس کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے۔
Ayah 78:20(20) اور پہاڑ چلا دیئے جائیں گے پس وہ بالکل چمکتا ہوا ریت ہوجائیں گے - پہاڑوں پر بھی یکے بعد دیگرے کئی حالتیں گزریں گی یہاں تک کہ خاک بنا کر اڑادیئے جائیں گے اور بالکل ریت ہوجائیں گے یہاں اس حالت کا ذکر ہے جب وہ چمکتے ہوئے ریت کے ڈھیر ہوں گے جس کو سورة مزمل میں فرمایا تھا۔ وکانت الجبال کثیبا مھیلا۔
Ayah 78:21(21) بلا شبہ جہنم گھات میں لگی ہوئی ہے۔
Ayah 78:22(22) سرکشوں کی جائے باز گشت ہے۔
Ayah 78:23(23) وہ سرکش اس میں قرنہاقرن پڑے رہیں گے۔ یعنی دوزخ کا گھات میں ہونا یہی کہ عذاب کے فرشتے انتظار کررہے ہیں۔ ہمارے ہاں گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں شکاری بیٹھ کر شکار کا انتظار کیا کرتے ہیں۔
طاغی کے معنی کفر پر اصرار کرنے والا بعض حضرات نے بیان کئے ہیں۔ حقبہ جس کی جمع قرآن نے احقاب فرمائی ہے مفسرین کے اس میں کئی قول ہیں، حضرت حسن ؓ کا قول بالکل واضح ہے کہ احقاب کی حقیقت کا ہم کو حال معلوم نہیں، مطلب یہ ہے کہ یہ ابدالا باد تک اور قرن کے بعد قرن یعنی ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
Ayah 78:24(24) جہنم میں یہ لوگ نہ ٹھنڈک کی راحت کا مزہ چکھیں گے اور نہ ان کو کوئی چیز پینے کو نصیب ہوگی۔ یعنی نہ راحت اور نہ پینے کو پانی۔
Ayah 78:25(25) مگر ہاں گرم کھولتا ہوا پانی اور بہتی ہوئی پیپ۔
Ayah 78:26(26) وہ اپنے اعمال کا پورا بدلا دیئے جائیں گے آگے ان اعمال کا ذکر ہے جن کے موافق جزا دی جائیگی۔
Ayah 78:27(27) کیونکہ وہ آخرت کے عذاب کا ڈر نہیں رکھتے تھے۔
Ayah 78:28(28) اور ہماری آیتوں کی بڑی تکذیب کیا کرتے تھے۔ یعنی نہ تو آخرت کی دادوگیر کا ان کو ڈر تھا اور وہ احکام الٰہی کی خوب تکذیب کیا کرتے تھے اور بہت جھٹلاتے تھے۔
Ayah 78:29(29) اور ہم نے ہرچیز کو گن رکھا ہے اور شمار کررکھا ہے لکھ کر۔ یعنی ہم نے ان کے ہر عمل کو ان کے نامہ اعمال میں لکھ کر ضبط کررکھا ہے۔
Ayah 78:30(30) کہا جائے گا کہ اب ان اپنے اعمال کا مزہ چکھو بس ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے یعنی تم پر سوائے عذاب کے اور کسی چیز کا اضافہ نہ ہوگا ہم تم پر عذاب ہی کی زیادتی کرتے رہیں گے ہم زیادہ نہ کریں گے تم کو مگر عذاب۔ آگے پرہیز گاروں اور متقیوں کا فیصلہ مذکور ہے سورة دہر سے لے کر اس سورت تک ہر دو فریق کا کم بیش ذکر فرمایا ہے۔
Ayah 78:31(31) البتہ پرہیزگاروں اور بچنے والوں کو کامیابی اور مراد ملنی ہے۔ پرہیزگار کی تفصیل ہم مرسلات میں عرض کرچکے ہیں …یعنی شرک اور معاصی سے بچنے والے۔
Ayah 78:32(32) وہ مراد باغ ہیں اور انگور ہیں۔ اگرچہ باغ عام تھے جو انگور کے درختوں کو بھی شامل تھے لیکن اہتمام شان کے لئے تعمیم کے بعد انگوروں کی تخصیص فرمائی۔
Ayah 78:33(33) اور نوخیز و نوجوان ہم عمر عورتیں ہیں۔ کو اعب وہ لڑکیاں جو قریب البلوغ ہوں یابالغ ہوچکی ہوں۔ اتراب ہم سن اور ہم عمر۔
Ayah 78:34(34) اور لبریز چھلکتے ہوئے جام شراب۔ یعنی لبالب بھرے ہوئے۔
Ayah 78:35(35) وہاں یہ لوگ نہ کوئی بےہود بات سنیں گے اور نہ جھٹلانا ۔ یعنی دنیا کے شرابی جس طرح گالیاں بکتے ہیں اور آپس میں لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکذیب کرتا ہے اور جھوٹ بولتے ہیں ان تمام لغو اور بےہودہ باتوں میں سے کوئی بات بھی وہاں نہ ہوگی۔
Ayah 78:36(36) ان متقیوں کو یہ صلہ دیا جائے گا جو آپ کے پروردگار کی جانب سے کامل عطا اور کافی انعام ہوگا۔
Ayah 78:37(37) جو آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کا مالک ہے وہ بےحد مہربان ہے کسی کی مجال نہ ہوگی اور کسی کو اختیار نہ ہوگا کہ اس سے خطاب کرسکے۔ مطلب یہ ہے کہ انعامات اور متقیوں کے مراتب بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ متقیوں کو ان کے نیک اعمال کے بدلے میں صلہ دیا جائے گا، یہ صلہ آپ کے پروردگار کی جانب سے ایک بخشش اور انعام ہوگا جو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہوگا۔
حساب کے مفسرین اور محققین نے کئی معنی بیان کئے ہیں، کافی اور کفایت کرنیوالی عطا۔ قدر اور اندازہ، بہرحال ہم نے ایک معنی اختیار کرلئے جو عرب کے محاورے اعطافی مااحسبنی سے لئے گئے ہیں۔
بہرحال ! یہ کامل انعام آپ کے پروردگار کی جانب سے ان پرہیزگاروں کو دیا جائیگا پھر فرمایا آپ کا پروردگار وہ پروردگار ہے جو آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کا مالک اور پروردگار ہے ۔ وہ رحمن یعنی بےحد مہربان ہے قیامت کے دن اس کی ہیبت اور اس کے جلال کا یہ حال ہوگا کہ کسی کو اس کے روبرو مجال دم زون نہ ہوگا اور کسی کو ایسا اختیار نہ ہوگا کہ وہ کوئی مرض ومعروض کرسکتے۔
Ayah 78:38(38) جس دن روح کھڑی ہو اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں اس روز کوئی شخص کلامنہ کرسکے گا مگر ہاں جس کو رحمن اجازت دیدے اور وہ شخص بات بھی ٹھیک کہے۔ روح کے متعلق مفسرین کے کئی قول ہیں روح کسی فرشتے کا نام ہے جو آسمانوں اور زمین سے بڑا ہے بعض نے کہا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں، مجاہد کا قول ہے اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جو فرشتوں میں سے نہیں ہے ۔ مقاتل نے کہا وہ اشراف ملائکہ ہیں، حسن اور قتادہ کا قول ہے روح سے مراد بنی آدم ہیں۔
بعض نے کہا بنی آدم کی ارواح ہیں اور بظاہر یہی راجح ہے ہوسکتا ہے کہ اس سے روح اعظم مراد ہو جو تمام ارواح کامرکز ہے۔
صاحب تفسیر عزیزی نے فرمایا ہے وہ لطیفہ درا کہ متیقظ ہے جو ہر مخلوق کو دیا گیا ہے آسمان ہو یا زمین پہاڑ ہوں یا درخت جب ہی فرمایا ۔
وان من ثشی الا یسبح بحمدہ یا کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ۔
بہرحال ! یہ ایک نورانی جوہر ہے جو تمام جواہر و اعراض سے خاص تعلق رکھتا ہے چناچہ اس جوہر رحمانی کی وجہ سے سور قرآنیہ اور کعبہ اور موذن کی اذان جہاں تک پہنچتی ہے وہ کنکر اور پتھر قیامت میں شہادت دیں گے اور شفاعت کریں گے، بہرحال یہ روح اور فرشتے سب کھڑے ہونگے۔ اور کوئی بھی جلال الٰہی کے آگے بول نہ سکے گا مگر ہاں جس کو رحمن اجازت دیدے اور وہ بات بھی ٹھیک کہے گا یعنی جس قدر اجازت ہو اسی قدر بولے اور کسی غیر مستحق کی سفارش نہ کرے۔
Ayah 78:39(39) یہ دن جس کا ذکر ہوا ایک ایسا دن ہے جس کا واقع ہونا یقینی ہے اور یہ دن ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف اپنا ٹھکانا اور رجوع ہونے کی جگہ بنالے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دن تو یقینی ہے اب جو شخص اپنے پروردگار کے پاس اپنا اچھا ٹھکانا چاہتا ہے اور اپنی باز گشت بہترین چاہتا ہے تو وہ اچھے کام کرے اور نیک کام کرکے اپنے پروردگار کے پاس اچھا ٹھکانا حاصل کرے۔
Ayah 78:40(40) ہم نے تم کو ایک ایسے قریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو اس دن واقع ہوگا جس دن آدمی اپنے ان اعمال کو دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں کے آگے پیچھے ہوں گے اور اس دن منکر حق یوں کہے گا اے کاش میں کسی طرح مٹی ہوجاتا۔
عذاب قریب اگر قیامت کا عذاب ہو تو مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب ہی ہے اور اگر برزخ کا عذاب مراد ہو تو اس کا قریب ہونا ظاہر ہی ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید قیامت کے دن کا عذاب مراد ہے اس دن انسان کے تمام اعمال روبرو ہونگے اور اس کا نامہ عمل ہاتھ میں دے دیا جائیگا اور جو کچھ اس نے دنیوی زندگی میں آگے بھیجا تھا وہ سب دیکھ لے گا اس دن یہ حال ہوگا کہ دین حق کا منکر یہ خواہش کرے گا کہ اے کاش ! میں مٹی ہوتا…یعنی انسان نہ بنتا کیونکہ روح اور جسم کے تعلق سے یہ مصیبت آئی تو میں انسان بنتا ہی نہیں جو اعمال کا مکلف بنتا یا یہ کہ جب تمام جانوروں کو قیامت کے دن حکم ہوگا کہ مٹی ہوجائو تو یہ بھی تمناکریں گے کہ ہم بھی جانوروں کی طرح مٹی ہوجاتے یا وہ مطلب ہوگاجو سورة نساء میں گزر چکا ہے۔
لو تسوی بھم الارض کاش ہم زمین کا پیوند بنادیئے جاتے اور ہم کو زمین میں دفن کرکے زمین کو برابر کردیا جاتا۔ (واللہ اعلم)