Ayah 79:1(1) قسم ہے ان فرشتوں کی جو نہایت سختی سے کھینچنے والے ہیں۔
Ayah 79:2(2) اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو نرمی اور آسانی سے کھینچنے والے ہیں۔
Ayah 79:3(3) اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو تیرتے پھرتے ہیں ہوا میں۔
Ayah 79:4(4) پھر قسم ان فرشتوں کی جو تعمیل حکم کے لئے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں۔
Ayah 79:5(5) پھر ان فرشتوں کی جو ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں۔ اہل تفسیر کے ان آیتوں کے متعلق بھی کئی قول ہیں ہم نے مشہور اور راجح قول کو اختیار کرلیا ہے چناچہ نازعات سے وہ فرشتے مراد ہیں جو سختی اور زور کے ساتھ کافروں کی جان نکالتے ہیں۔
غرق انزع فی القوس فاغرق سے مشتق ہے یعنی کمان کو اس قدر زور سے کھینچا کہ گویا پیکان کمان کے اندر ڈوب گیا، مراد ہے سختی اور زور سے کھینچنا کافر مرتے وقت گھبراتا ہے اور اس کی روح چھپنے کی کوشش کرتی ہے اس لئے فرشتوں کو سختی سے کام لینا پڑتا ہے۔ دوسری قسم ان فرشتوں کی جو مومن کی جان نرمی اور آسانی سے کھینچتے ہیں۔
نزع اور نشط میں اتنا ہی فرق ہے کہ نزع سختی سے کھینچتا اور نشط نرمی سے کھینچنا اس لئے بعض محققین نے نشط کے معنی بند کھول دینے سے ہی کئے ہیں مومن کی روح اس آسانی سے نکالتے ہیں جیسے بند کھول دیئے اور روح جس سے باہر نکل آئی۔
پھر تیسری قسم فرشتوں کی روح کو لے کر آسمان کی طرف جانے کی ہے کہ وہ سرعت اور نہایت سہولت کے ساتھ لے کر چلتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی تیررہا ہے گویا ہوا میں تیرتے ہوئے روح کو لے کر چلتے ہیں پھر ان ارواح کے متعلق جو حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کے لئے تیزی کے ساتھ چلتے اور دوڑتے ہیں پھر ارواح کے متعلق ثواب یاعقاب کا حکم ہوتا ہے اس حکم کی تدبیر کرتے ہیں اور ان کا انتظام کرتے ہیں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فالمدبرات امراً سے وہ فرشتے مراد ہوں جو عالم میں تکوینی امور کی تدبیر کرتے ہوں۔ جیسے جبرئیل ومیکائیل وغیرہ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملائکہ کے ساتھ ارواح طیبہ بھی مراد ہوں جو عالم میں مختلف خدمات پر مامور ہیں جیسا کہ حضرت مولانا اسماعیل دہلوی شہید (رح) نے اپنی مشہور کتاب منصب امامت میں فالمدہرات امراً کی تفسیر میں فرمایا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فالسبقات سبقاً سے وہ ملائکہ مراد ہوں جو ہر حکم کی تعمیل میں سبقت اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابتداء کی چار قسمیں اہل ریاضت کی ہوں جو اپنے نفس کو مجاہدے کی سختیوں میں ڈالتے ہیں پھر عبادت الٰہی میں شوق اور لذت پیدا کرتے ہیں۔
پھر عبادت الٰہی میں پیرتے ہیں یعنی بغیر کسی کلفت اور بغیر کسی رنج والم کے عبادت الٰہی بجا لاتے ہیں اور نیکیوں میں اور بھلائیوں میں اپنے معاصرین سے آگے نکل جاتے ہیں اور بڑھ جاتے ہیں ہم عرض کرچکے ہیں کہ اقوال کئی ہیں لیکن ہم نے راجح اور جمہور کا قول اختیار کرلیا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک قسم فرشتے کافر کی جان گھسیٹ کر نکالیں اس کی رگوں میں ڈوب کر ایک قسم فرشتے مسلمان کے بدن سے جان کی گرہ کھول دیں وہ اپنی خوشی عالم پاک کو دوڑے جیسے کسی کے بند کھول دیئے لیکن بدن کی تکلیف اور ہوے اس میں دونوں برابر ہیں یہ ذکر ہے روح کا نیک خوشی سے دوڑتا ہے بد ڈر سے بھاگتا ہے پھر گھسیٹا جاتا ہے ایک فرشتے پیرتے پھرتے ہیں ہوا میں ایک سے ایک درجہ زیادہ چاہتے جب کچھ حکم پہنچا دوڑے اس کے بنانے کو یہ قسمیں کھا کر اگلا مدعا جتانا منظور ہوتا ہے اور کبھی ان چیزوں کی خوبی اور ندرت جتانے کو قسم کھاتے ہیں۔
بہرحال یہاں تمام قسموں کا جواب قسم یہ ہے کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے یعنی بعث ضرور ہوگا یا قیامت وضررآئے گی آگے اسی کی تفصیل ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 79:6(6) جس دن زور سے لرزنے لرزنے والی۔ یعنی زمین میں بھونچال آئے ، مراد پہلا نفخہ صور ہے۔
Ayah 79:7(7) جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آئے گی۔ عام مفسرین کے نزدیک نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ لیکن بعض حضرات نے پیچھے آنے والی سے پے درپے زلزے مراد لئے ہیں، رجف اس زلزلے کو کہتے ہیں جس میں ہولناک آواز بھی ہو۔
Ayah 79:8(8) اس دن بہت سے دل دھڑکتے ہوں گے۔
Ayah 79:9(9) ان دل دھڑکنے والوں کی ندامت و شرمندگی سے آنکھیں پست اور جھکی ہوئی ہوں گی۔
Ayah 79:10(10) منکرین قیامت کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت پر پھر واپس ہوں گے۔ یعنی کیا الٹے پائوں پھر زندگی کی طرف لوٹیں گے۔
Ayah 79:11(11) کیا جب ہم گلی ہوئی بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر واپس ہوں گے - یعنی کیا موت کے بعد پھر حیات واپس ہوگی اور خاص کر جب ہڈیاں گل جائیں اور بوسیدہ اور کھوکھری ہوجائیں تو پھر زندہ ہونا بہت مشکل ہے۔
Ayah 79:12(12) کہتے ہیں اگر ایسا ہوا تو یہ واپسی بڑی نقصان دہ اور بڑی خسارے کی ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہتے تھے اگر آویں تو ایک ایک مکان کے ہزار ہزار مدعی ہوں۔
Ayah 79:13(13) بس وہ واقعہ تو ایک ہی سخت آواز ہوگی۔
Ayah 79:14(14) کہ جس سے سب لوگ اسی وقت دفعتہ میدان میں آموجود ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اول تو استعجاب اور استصعاب ظاہر کرتے ہیں کہ دوبارہ زندہ ہونا بڑا مشکل ہے پھر مذاق کے طور پر کہتے ہیں کہ یہ واپسی ہم کو بہت نقصان دہ ہوگی کیونکہ ہم نے تو اس کے لئے کوئی کام کیا نہیں۔
حضرت حق تعالیٰ نے مشکل اور صعب ہونے کا جواب دیا کہ یہ سب کام تو ایک جھڑکی اور سخت آواز ہے ادھر نفخہ ثانیہ ہوا اور لوگ جمع ہوگئے ، آگے نبی کریم صلی علیہ وسلم کی تسلی اور مکذبین کے ڈرانے کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 79:15(15) اے پیغمبر کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ پہنچا ہے - یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی وہ بات جو فرعون کے ساتھ پیش آئی۔
Ayah 79:16(16) جبکہ اس کو اس کے پروردگار نے طویٰ نامی ایک مقدس میدان میں پکارا۔ طویٰ ایک وادی کا نام ہے جو طور کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے، سورة طہٰ میں تفصیل ملاحظہ ہو۔
Ayah 79:17(17) کہ تم فرعون کے پاس جائو کیونکہ وہ حد سے تجاوز کر گیا ہے - یعنی شرارت میں حد سے بہت آگے نکل گیا ہے اور بڑی شرارت پر اترآیا ہے۔
Ayah 79:18(18) اور اس سے جاکر کہو کہ کیا تجھ کو اس بات کی خواہش ہے کہ تو پاک ہوجائے اور سنور جائے۔
Ayah 79:19(19) اور میں تیرے پروردگار کی جانب تیری رہنمائی کروں تو تو اس سے ڈر جائے۔ یعنی شرک اور دیگر اخلاق رذیلہ اور ظلم و سرکشی سے تو پاک ہوجائے اور تیری اصلاح ہوجائے اور جو برائیاں تجھ میں سلطنت کے غرور وتکبر سے پیدا ہوگئی ہیں وہ تجھ میں سے نکل جائیں اور تو سنور جائے اور بجائے برائیوں کے بھلائیوں سے آراستہ ہوجائے اور میں حضرت حق جل مجدہ کی ذات وصفات بیان کرکے اس کی معرفت کی جانب تیری رہنمائی کروں کہ تو اس سے ڈر جائے اور ڈر کر سنور جائے۔
والنازعات کی ان دونوں آیتوں میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم اور تبلیغ کا نچوڑ ہے ایک تزکیہ اور دوسرے خشیت اور یہی دونوں باتیں اصلاح باطن کے لئے بہت ضروری ہیں۔
Ayah 79:20(20) پھر موسیٰ نے اس کو وہ بڑا معجزہ اور بڑی نشانی دکھائی - شاید عصا کا معجزہ یا یدبیضا کا معجزہ یا دونوں بطور جنس۔
Ayah 79:21(21) اس پر فرعون نے موسیٰ کو جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کی۔
Ayah 79:22(22) پھر روگردانی کی اور اس کے خلاف کوشش کرنے لگا۔ یعنی مجلس سے اٹھ کر چلا گیا اور موسیٰ کو ناکام کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
Ayah 79:23(23) چنانچہ لوگوں کو اکٹھا اور جمع کیا اور بآواز بلند پکار کر۔
Ayah 79:24(24) یوں کہا میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار اور رب ہوں۔ شایدوہی جادوگروں کا جمع کرنا مراد ہے مجمع جب اکٹھا ہوگیا تو بلند آواز سے ایک تقریر کی اور اس میں لوگوں کو سمجھایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی برائی کی اور اپنی ربوبیت کا اعلان کیا اور اعلیٰ کا وصف مدح کے طور پر بڑھا دیا مطلب یہ ہے کہ میں ہی تمہارا محسن ہوں تمہارا مرتی ہوں۔ انا لاغیر جب میں ہی ہوں تو اس موسیٰ کو کس نے بھیجا ہے فرعون کسی دوسرے رب کا قائل ہی نہیں تھا۔ سورة قصص میں گزرچکا ہے۔ ماعلمت لکم من الہ غیری۔
آگے حضرت حق جل مجدہ اس کی گرفت کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 79:25(25) پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت اور دنیا دونوں کے عذاب میں گرفتار کیا۔ دنیوی عذاب تو دریا میں غرق کرنا ہے اور آخرت کا عذاب جہنم میں جانا ہے بعض حضرات نے فرمایا اولی اور آخرت سے مراد ماعلمت لکم من الہ غیری اور ناربکم الاعلیٰ کے دونوں کلمے مراد ہیں اور ان دونوں کلموں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے مطلب یہ ہے کہ پہلے قول اور دوسرے قول کی سزا میں پکڑا گیا اور گرفتار کیا گیا۔
ہم نے اپنی تیسیر میں حضرت حسن اور حضرت قتادہ ؓ کی تفسیر اختیار کی ہے ۔ واللہ اعلم
Ayah 79:26(26) بلا شبہ اس فرعون کے واقعہ میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ۔ حضرت موسیٰ کے اس واقعہ میں نبی کریم ﷺ کی تسلی بھی ہے اور منکرین کے لئے تخویف بھی ہے۔
یہ واقعہ بیچ میں آگیا تھا اب آگے پھر قیامت کے دلائل مذکور ہیں۔
Ayah 79:27(27) بھلا تمہارا بنانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کو بنایا۔
Ayah 79:28(28) اس کی بلندی کو اونچا کیا اور اس کو درست کیا۔
Ayah 79:29(29) اور اس کی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو ظاہر کیا اور کھول نکالی اس کی دھوپ۔ منکرین بعث کو مخاطب کرکے فرمایا تمہارا دوبارہ پیدا کرنا زیادہ سخت اور مشکل ہے یا آسمانوں کا بنانا زیادہ مشکل ہے یعنی فی نفسہ اور فی حدذاتہ ان دونوں باتوں میں کونسی بات زیادہ مشکل ہے ۔ اگرچہ قدرت کے نزدیک کچھ بھی مشکل نہیں مگر تم بتائو فی نفسہ کون سب بات زیادہ سخت ہے اگر آسمانوں کا بنانا اور ان کی درستی اور ان کا نظام زیادہ مشکل ہے تو پھر جو یہ کام کرسکتا ہے اس کو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہوسکتا ہے۔
جیسا کہ سورة یٰسین میں فرمایا اولیس الذی خلق السموت والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم۔
اور سورة مومن میں فرمایا لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس۔
پھر آسمان کی ساخت اور اس کی بناوٹ کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد ہوا اس کی بلندی یعنی اسکی چھت کا بلندی کو تلینچہ کہا کرتے ہیں، یعنی تلینچہ بہت بلند کیا اور پھر اس کو درست اوصاف کیا کہ ان میں کوئی شگاف ہے نہ کوئی بال پڑا ہوا ہے نہ دراڑ پڑی ہوئی ہے۔ پھر ان کا نظام ایسا بنایا کہ دن اس کا سورج کی روشنی سے منور ہوتا ہے اور رات اس کی سورج غروب ہوجانے سے تاریک اور ٹھنڈی ہوتی ہے اور اس تمام نظام کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا پھر بعث بعدالموت کا یقین کیوں نہیں کرتے آگے زمین کا ذکر فرمایا۔
Ayah 79:30(30) اور اس کے بعدزمین کو بچھایا اور پھیلایا۔
Ayah 79:31(31) زمین کو بچھا کر اس سے اس کا پانی اور چارا نکالا۔
Ayah 79:32(32) اور پہاڑوں کو اس پر قائم کردیا۔
Ayah 79:33(33) یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مواشی کے فائدے کے لئے کیا - یعنی آسمان میں جو قدرت نمایا ہے اس کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے آسمان کے ساتھ زمین کا ذکر بھی فرمایا کہ اس کے عجائبات روز آنکھوں سے دیکھنے میں آتے ہیں آسمان کے بعدہم نے اس کو پھیلا دیا یعنی اگرچہ زمین کا وجود پہلے قائم ہوا لیکن اس کا پھیلائو آسمانوں کے بعد ہوا۔
سورہ فصلت میں ہم تفصیل عرض کرچکے ہیں اور کچھ تفصیل سورة بقرہ کی تسہیل میں گزر چکی ہے زمین کو پھیلا دیا زمین سے پانی نکالا اور چارہ نکالا اور اس پر پہاڑوں کو جما دیا کہ زمین کا ہلنا جلنا بند ہوگیا اس کے علاوہ اور بھی پہاڑوں سے بیشمار فوائد وابستہ ہیں پانی کو جمع کرنے اور بخارات کو دبانے میں پہاڑوں کو بڑا دخل ہے زمین سے جو پانی اور نباتات نکلتی ہے وہ انسانوں کے لئے اور مواشی کے لئے انتہائی سود مند ہے مواشی کے لئے بھی کھانا اور انسانوں کے لئے بھی سامان معیشت ان آسمانوں اور زمینوں میں جو عجائبات قدرت پنہاں ہیں کیا ان کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کردینا کچھ زیادہ مشکل ہے ان دلائل کے بعد قیامت کا ذکر فرمایا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سو رہ فصلت یعنی سجدہ میں آسمان کے پیچھے کہا یہاں زمین کو پیچھے سو یہاں آسمان کا بنانا ہے اونچا اور رات دن ٹھہرانا یہ شاید زمین سے پہلے ہو وہاں ان کو سات کرنا بانٹ کر پھر ہر ایک میں جدا دستور چلانا وہ شاید زمین سے پیچھے ہو۔
Ayah 79:34(34) پھرجب وہ بڑی آفت اور بڑا ہنگامہ رونماہوگا۔
Ayah 79:35(35) وہ دن وہ ہوگا جس دن انسان اپنی سعی اور اپنے کئے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا۔
Ayah 79:36(36) اور دوزخ کو ہر دیکھنے والے کے لئے ظاہر کردیاجائے گا - مطلب یہ ہے کہ جب قیامت آجائے گی یہ وہ دن ہوگا جس دن انسان اپنی گزشتہ سعی اور اپنے کئے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا…یعنی دنیا میں جو کچھ کیا تھا وہ گزشتہ کام سب روبرو آجائیں گے۔ اور سب گزشتہ اعمال انسان یاد کرے گا اور دوزخ بلا حجاب سامنے کردی جائے گی یعنی کوئی آڑ نہ ہوگی جو دیکھنا چاہے دیکھ لے ہر دیکھنے والے کے لئے دوزخ ظاہر کردی جائیگی آگے تفصیل ہے۔
Ayah 79:37(37) پس جس شخص نے سرکشی کی ہوگی اور حد سے تجاوز کیا ہوگا۔
Ayah 79:38(38) اور اس نے دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی - یعنی آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو اختیار کیا ہوگا اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی اور سرکشی اور حد سے آگے بڑھنے کا ارتکاف کیا ہوگا اور حد سے آگے نکل گیا ہوگا۔
Ayah 79:39(39) تو اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ یعنی یہ آخرت کا منکر ابدالا باد کے لئے جہنم میں داخل کردیاجائے گا۔
Ayah 79:40(40) اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا ہوگا اور اس نے اپنے نفس کو ناجائز خواہشات سے روکا ہوگا۔