Ayah 79:41(41) تو اس کا ٹھکانا جنت ہوگا - یعنی اپنے پروردگار کے روبرو پیش ہونے سے ڈرا ہوگا جو آخرت پر ایمان لانے کی نشانی ہے اور اعتقاد صحیح کے ساتھ عمل بھی اس کا صالح ہوگا، تو ایسے مومن کا ٹھکانا جنت ہوگا اور اس کو ہمیشہ کے لئے جنت میں بھیج دیاجائے گا۔
Ayah 79:42(42) یہ منکر آپ سے پیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ اس کا قیام اور وقوع کب ہوگا۔ یعنی جب قیامت کا ذکر کریں تو بطور استہزاء اور انکار دریافت کرتے ہیں کہ یہ کب واقع ہوگی اور اس وعدہ قیامت کا وقت کب ہے آگے اس کا جواب ہے۔
Ayah 79:43(43) اس کا وقت بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق اور کیا واسطہ۔
Ayah 79:44(44) اس کے علم کا مدار اور اس کے علم کی پہنچ آپ کے پروردگار کی طرف - یعنی اس کے قوت کا بیان کرنے سے آپ کا کیا واسطہ ہے اور اس کا حقیقی علم تو پروردگار ہی کے پاس ہے۔
خلاصہ : یہ کہ اس کے وقت کو بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق اس کا موقوف علیہ علم ہے اور وہ ہے نہیں کیونکہ وہ آپ کو بتایا نہیں گیا اور موقوف علیہ کا انتفا مستلزم ہے موقوف کے انتفا کو لہٰذا اس کی ذکر سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں بلکہ اس کے وقوع کے علم کی پہنچ آپ کے پروردگار کی طرف ہے
Ayah 79:45(45) بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہو۔ یعنی آپ تو صرف اسی شخص کو ڈرانے والے ہیں جو علم اجمالی کی وجہ سے مجازات کو جانتا ہے اور جس میں بالقوہ استعداد موجود ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ ڈرتے کو کیوں ڈراتے ہیں مطلب یہ ہے کہ آپ اخبار اجمالی سے اس شخص کو ڈراتے ہیں جو ڈرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور ڈر کر ایمان لانے والا ہو۔
Ayah 79:46(46) لوگ جس دن قیامت گے تو ان کو ایسا معلوم ہوگا کو یا وہ دنیا میں دن کا آخری حصہ یا اس کا ابتدائی حصہ ٹھہرے ہوں گے۔ یعنی اب تو قیامت کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جلدی جلدی کا شورمچا رہے ہیں لیکن جب وہ آجائیگی تو اس کو مستعجل اور جلدی ہی سمجھو گے کیونکہ دنیا کا رہنا دنیا کا رہنا ایسا معلوم ہوگا کہ شاید ایک دن کی شام یا اس صبح رہے ہوں گے کہ عذاب آگیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شتاب مانگتے ہیں قیامت اس وقت معلوم ہوگا کہ بہت شتاب آئی بیچ میں کچھدیر نہیں لگی ۔
عشیہ، زوال سے لے کر شام تک اور ضحی صبح سے زوال تک ضحا ہوا کی ہا یا تو صلے کے لئے ہے یا اضافت یوم العشیہ کی طرف ہے یعنی العشیۃ اوضحی یومھا پہلا قول حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور دوسرا افرا کا قول ہے اہل عرب بولا کرتے ہیں۔
اتیک العشیۃ اوغدائھا۔
تم تفسیر سورة النزعت