Ayah 75:1(ف 1) یعنی قیامت کا دن جس کا ممکن ہوناعقل اور متیقن الوقوع ہونا ایسے مخبر صادق کی خبر سے ثابت ہوچکا ہے کہ جس کے صدق پر دلائل قطعیہ قائم ہیں، اس کی قسم کھاتا ہوں کہ تم یقینا مرے پیچھے اٹھائے جاؤ گے اور ضرور بھلے برے کا حساب ہوگا۔
Ayah 75:2نفس کی تشریح۔
(ف 1) محقیقین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہوگئے ہیں، اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت وفرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو مطمئنہ کہتے ہیں، یا ایتھا النفس المطمئنہ۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ۔ اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات مین پھنس کر بدی کی طرف رغبت کی اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو نفس امارہ کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کی برائی کا حکم کرت ا ہے ، وما ابری نفسی ، ان النفس لامارۃ ، الامارحم ربی۔ یوسف رکوع 7) اور اگر کبھی عالم سفلی طرف جھکنا اور شہوت وغضب میں مبتلا ہوتا ہے اور کبھی عالم علوی کی طرف مائل ہوکران چیزوں کو براجانتا ہے ، اور ان سے دور بھاگتا ہے اور کوئی برائی یا کوتاہی ہوجانے پر شرمندہ ہوکر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اس کو بالنفس اللوامہ، کہتے ہیں۔ حضرت شاہ لکھتے ہیں کہ آدمی کا جی اول کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا، ایسے جی کو لا امارۃ بالسوئ۔ کہتے ہیں پھر ہوش پکڑانیک وبد سمجھا تو باز آیا کبھی غفلت ہوئی تو اپنی خوپردوڑ پڑا، پیچھے کچھ سمجھ آئی تو اپنے کیے پر پچھتاوے اور ملامت کرنے لگا، ایسا بالنفس اللوامہ، کہلاتا ہے ۔ پھر جب پورا سنور گیا دل سے رغبت نیکی ہی پر ہوگئی بےہودہ کام سے خود بخود بھاگنے لگا اور بدی کے ارتکاب بلکہ تصؤر سے تکلیف پہنچنے لگی وہ النفس المطمئنہ ہوگیا، یہاں لوامہ کی قسم کھاکر اشارہ فرمادیا کہ اگر فطرت صحیح ہو تو خواہ انسان کا نفس دنیا ہی میں برائی اور تقصیر پر ملامت کرتا ہے یہی چیز جو اپنی اعلی واکمل ترین صورت میں قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔
Ayahs 75:3–4ان لوگوں کا ذکر جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا۔
(ف 2) شان نزول : یہ آیت عدی بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اگر میں قیامت کا دن دیکھ لوں جب بھی نہ مانوں، اور آپ پر ایمان نہ لاؤ، کیا اللہ بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کردے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ کیا اس کافر کا یہ گمان ہے کہ ہڈیاں بکھرنے اور گلنے اور ریزہ ریزہ ہوکرمٹی میں ملنے اور ہواؤں کے ساتھ اڑدور دراز مقامات میں منتشر ہوجانے سے ایسی ہوجاتی ہے کہ ان کا جمع کرنا کافر ہماری قدرت سے باہر سمجھتا ہے ۔ یہ خیال فاسد اس کے دل میں کیوں آیا، اور اس نے کیوں نہیں جانا کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے پھر فرمایا کہ ابھی دنیا میں چاہیں تو اس کی انگلیوں کی پوروں کو ایک ہڈی کردیں جس سے اس کا پنجہ اونٹ کا سا ہوجائے پھر وہ کوئی چیز ہاتھ سے نہیں پکڑ سکے گا۔
Ayahs 75:5–6(ف 1) یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل ونشانات غیر واضح ہیں بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئی ہے بالکل بےباک ہوکرفسق وفجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کرلیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق وفجور میں اس قدر بےباکی اور بےخوفی اس سے نہ ہوسکے گی ، اسی لیے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا، جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے بلکہ استہزاء ولغت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئے گی اگر واقعی آنے والی ہے تو بقید سنہ وماہ اس کی تاریخ بتلائیے۔
Ayahs 75:7–8(ف 2) یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی قہری سے جب آنکھیں چندھیانے لگیں گی اور مارے حیرت کے نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی اور سورج بھی سر کے قریب آجائے گا۔
Ayah 75:9(ف 3) یہ دنیا یا طلوع میں ہوگا، دونوں مغرب سے طلوع کریں گے یا بےنور ہونے میں دونوں شریک ہوں گے۔
Ayahs 75:10–11(ف 4) یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے اور اس وقت بدحواس ہوکر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں جو اس ہول و دہشت سے رہائی ملے، ارشاد ہوگا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا، آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی نہ پناہ دے سکتی ہے آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اس کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا جسے چاہے گا اپنے عل سے جہنم میں ڈالے گا۔
Ayahs 75:12–13(ف 1) یعنی سب اگلے پچھلے اعمال نیک ہوں یا بد اس کو جتلادیے جائیں گے تمام عمر کے اعمال کا اس سے حساب لیاجائے گا۔
Ayahs 75:14–15(ف 2) اکثر مفسرین نے اس کا تعلق ، ینبوء الانسان یومئذ۔ سے رکھ ا ہے یعنی جلانے پر بھی موقوف نہیں انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا تو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے اور حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے ، واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔ بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا، اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے گودوسروں کے سامنے حیلے بہانے بناکر اس کے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے۔
Ayahs 75:16–19حفاظت قرآن مجید کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے۔
(ف 3) شان نزول : نبی ﷺ جبرائیل امین کے وحی پہنچا کر فارغ ہونے سے قبل یا دفرمانے کی سعی فرماتے تھے اور جلد جلد پڑھتے اور زبان اقدس کو حرکت دیتے، اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی مشقت گوارا نہ فرمائی اور قرآن کریم کا سینہ پاک میں محفوظ کرنا اور زبان اقدس پر جاری فرمانا اپنے ذمہ کرم پر لیا ہے اور یہ آیت کریمہ نازل فرماکرحضور ﷺ کو مطمئن فرمادیا۔
Ayahs 75:20–25(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کے عقبی سے غافل رہنے کا اور کوئی سبب نہیں ، فقط اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت والفت میں گرفتار ہوکر ایسے کام کرتے ہیں جس سے گناہ پر گناہ کرتے کرتے ان کے دل بالکل مردہ ہوگئے ہیں اور ان پر زنگ کے سبب سے انکے دل پر عقبی کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے ان لوگوں نے عقبی کے خیال کو چھوڑ رکھا ہے اب اس کے بعد دنیا کے پیچھے جو لوگ دین کو بالکل چھوڑے بیٹھے تھے ان کا اور ان کے برعکس جو لوگ دنیا میں گذر کرتے تھے ان کے آخرت کے انجام کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں رہ کر عقبی کو نہیں بھولے تھے بلکہ ثواب آخرت کی نیت سے انہوں نے اپنی نیکیوں کا پلڑا بھاری کرلیا تھا، جب ایسے لوگ جنت میں داخل ہوکر جنت کی طرح طرح نعمتوں سے اس قدر خوش ہوں گے کہ خوشی کے مارے ان کے چہروں پر رونق اور چمک آجائے گی تو ان سب کی نعمتوں سے بڑھ رکان کو ایک اور عطا ہوئی کہ اللہ ان کو اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔
مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ آخرت میں مومنین کو دیدار الٰہی میسر آئے گا یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے قران وحدیث واجماع دلائل کثیر اس پر قائم ہیں اور یہ دیدار بےکیف اور بےجہت ہوگا۔ معتزلی خارجی اور مرجیہ وغیرہ گمراہ فرقے اس کے منکر ہیں کیونکہ یہ دولت ان کے نصیب میں نہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے عقبی کے انجام کا ذکر فرمایا، جو دنیا کی زندگی پر اور عقبی سے بیخبر تھے، کہ جب جنتی اور دوزخیوں کو الگ الگ کیا جائے گا تو ان کے چہروں پر ایک اداسی سی چھائی ہوئی ہوگی اور دوزخ کی بلا سرپر پڑنے سے پہلے وہ جان لیں گے کہ ان پر ایسی بھاری بلا آنے والی ہے جس سے ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
Ayahs 75:26–33انسان کی پیدائش اور اس کی روح نکلنے کا ذکر۔ منکرین خدا اور محبوبان خدا کی جداجداحالت۔
(ف 2) اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کیا، ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لیے فرمایا جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائدارچیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمربھر عقبی کو برباد کریں ، پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبی کی بربادی کب تک ، ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے قبر، حشر قیامت کی باتیں تو بھلاآنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گذری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کچھ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یاجھاڑ نے پھونکنے والے کی ڈھونڈ یا پڑی جو بیمار کو اچھا کردیوے ادھربیمار کو زندگی سے ناامیدی ہوگئی مرنے کا گمان قوی ہوگیا ہے پکے دنیا دار کو جان بہت پیاری ہوتی ہے مرنا نہیں چاہتے آخری وقت تک ان کو زیست کی توقع رہتی ہے۔ لیکن آکر یہ گمان یوں یقین کے درجے کو پہنچ گیا کہ پیروں کا دم نکل گیا پنڈلیاں بالکل سوکھ گئیں یہاں تک کہ پیروں کو کوئی دوسرا آدمی سیدھا نہ کرے تو سمٹے ہی ہوئے رہ جائیں آخر سارے جسم میں سے کچھ کر جوجان حلق میں آگئی تھی اس نے بھی جسم کو چھوڑ دیا اور پھر اس جان کا پالا اس پروردگار سے پڑا جس نے پہلے جسم میں یہ جان ڈالی تھی۔
مسند امام احمد، ابوداؤد وغیرہ میں براء بن عازب سے روایت ہے جس کے ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ نیک آدمی کی روح جب جسم سے نہایت آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے تو اس کو ساتویں آسمان پر فرشتے لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ اسکانام دفتر میں لکھ لوجس کا نام علیین ہے۔ اور روح کو منکرنکیر کے سوال و جواب کے لیے زمین پر پھر لے جاؤ، اور مردے کے جسم میں اس کو جانے دو ، اور بدآدمی کی روح کو جب اول آسمان تک فرشتے لے جاتے ہیں تو اس کو آسمان پر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ یہیں سجین میں اس کا نام لکھ لینے کا حکم ہوتا ہے اور روح کو منکر نکیر کے سوال جواب کے لیے مردے کے جسم میں چھوڑ دیاجاتا ہے ، اس حدیث سے آیت کی یہ تفسیر معلوم ہوگئی کہ جسم سے نکلتے ہی نیک وبدروح کا پالا اللہ تعالیٰ سے کیونکر پڑتا ہے دوبارہ کیوکر پیدا ہوجائیں گی ان کے حال میں یہ فرمایا کہ یہ لوگ نادانی سے ایسی باتوں کے منکر ہیں حق باتوں کی صداقت ہر عقل مند کے دل میں ہونی چاہیے ، جیسے مثلا یہ بات کہ جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز منی سے آدمی کی ہڈی پسلی آنکھ ناک غرض سارا پتلا بنادیا اور رحم جیسی تنگ جگہ میں روح کا تعلق اس جسم سے کردیا جس سے روح کو کبھی پہلے کچھ واسطہ نہ تھا اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ مٹی جیسی پرکارچیز سے آدمی کے پتلے کی طرح خاک کا پتلا بناکرکھلے میدان میں روح کا اس پتلے سے تعلق کردے۔ جس پتلے اور روح میں ہر شخص کی عمر کی مدت تک تعلق پہلے دنیا میں رہ چکا ہے ، اسی طرح یہ بات ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے۔ جس اللہ نے انسان کو انسان کی زندگی کے قائم رہنے کے ہر ایک طرح کے سامان کو پیدا کیا اس اللہ کی تعظیم انسان پر لازم ہے۔ برعکس اس کے یہ لوگ بتوں کی تعظیم کرتے ہیں اور خالص اللہ کی تعطیم میں ایک سجدہ تک ان سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اور اسی طرح ہر شخص سمجھدار سمجھ سکتا ہے کہ انسان جب ایسی حقیر چیز سے پیدا ہوا ہے تو اس کی کوئی بات اترانے کے لائق نہیں ہے برخلاف اس کے بازار وغیرہ میں جب یہ لوگ کسی شخص کو اپنے سے کم درجہ کا خیال کرکے اپنے گھر کی طرف موڑتے ہیں تو ایسے مغروروں کی چال سے اترائے ہوئے گھرتک پہنچتے ہیں ان میں کا ہر شخص گویا کہ فرعون ہے۔
Ayahs 75:34–40(ف 1) شان نزول : نسائی ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ابوجہل کی طرح طرح کی شرارتوں کے سبب سے ایک روز نبی ﷺ نے ابوجہل کی چادر کا پلو پکڑ کر فرمایا کہ تیری خرابی آلگی ، اب آلگی پھر تیری خرابی آلگی اب آلگی، تو ابوجہل نے کہا، اے محمد ﷺ کیا تم مجھے دھمکاتے ہو، تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ قوی زورآور صاحب شوکت وقوت ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے کلام کی صداقت کے طور پر یہی الفاظ ان آیتوں میں نازل فرمائے اور اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے قرآنی خبر ضرور پوری ہوتی تھی اور آن حضرت کا فرمان ضرور پورا ہونے والا تھا چناچہ ایسا ہی ہوا اور جنگ بدر میں ابوجہل ذلت خواری کے ساتھ بری طرح مارا گیا ، نبی ﷺ نے فرمایا ہر امت کا ایک فرعون ہوتا ہے میری امت کا فرعون ابوجہل ہے اس آیت میں خرابی کا ذکر چار مرتبہ فرمایا گیا۔
(1) پہلی خرابی بےایمانی کی حالت میں ذلت کی موت۔ (2) دوسری خرابی قبر کی سختیاں اور وہاں کی شدتیں۔ (3) تیسری خرابی مرنے کے بعد اٹھنے کے وقت گرفتار مصائب ہونا (4) چوتھی خرابی عذاب جہنم۔ فرمایا کہ جو شخص ابوجہل کی سی عادتوں کا ہوگا اس کے پیچھے یہ دونوں جہان کی خرابی لگی ہوئی ہے پھر فرمایا کہ اس نادان انسان نے یہ گمان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بےفائدہ پیدا کیا ہے ، دنیا میں نہ کسی نیک کام کرنے کی اس کو تاکید کی جائے گی نہ کسی بدکام سے اسے روکاجائے گا پھر دنیا کا معاملہ دنیا میں ہی ختم کیا جاکرنہ اس کو پھر دوبارہ پیدا کیا جائے گانہ نیک وبد کی کچھ جزا وسزا کی جائے گی، اس نادان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر دنیا کا معاملہ دنیا پر ختم رہے تو دنیا کا پیدا کرنا بالکل بلانتیجہ جو اللہ کی حکمت کے سرتاپابعید ہے ا اسی طرح اس نادان کو یہ بھی سمجھنا چاہے کہ جس قادر مطلق نے اس طرح خلاف عقل ایک قطرہ پانی سے انسان کو سب کی آنکھوں کے سامنے پیدا کیا پھر یہ تو تجربہ انسان کی کی بات ہے کہ جو کام ایک دفعہ کرلیا گی اپھر دوبارہ اس کا کرنا نہایت سہل ہوجاتا ہے۔