76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsمظہر القرآن

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

بیشک1 آدمی پر ایک زمانہ وہ گزرا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل تذکرہ نہ تھا۔

(ف 1) بیشک انسان پر ایک وقت ایسا گذرچکا ہے کہ جب اس کا کچھ نام ونشان نہ تھا پھر کتنے ہی دور طے کرکے نطفہ کی شکل میں آیا وہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

بیشک1 ہم نے آدمی کو (مرد و عورت کے) مخلوط نطفہ سے پیدا کیا کہ اسے جانچیں، پس2 ہم نے اس کو سنتا دیکھتا (سمجھتا) کردیا۔

(ف 1) فرمایا کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور مرد اور عورت دونوں کی منی سے کیونکہ عورت کی منی بھی اندر ہی اندر عورت کے رحم میں گرتی ہے پھر کبھی فم رحم سے خارج ہوکرضائع ہوجاتی ہے اور کبھی اندر ہی رہ جاتی ہے یامخلوط کے معنی یہ ہیں کہ نطفہ جن غذاؤں کا خلاصہ ہے وہ مختلف چیزوں سے مرکب ہوتی ہے غرض اس کو ایسے نطفہ سے پیدا کیا ہے جو اجزا مختلفہ سے مرکب ہے۔ (ف 2) یعنی آدمی کا بنانا اس غرض سے تھا کہ اس کو احکام کا مکلف اور امرونہی کا مخاطب بناکرامتحان لیاجائے اور دیکھاجائے کہ کہاں تک رب کے احکام کی تعمیل میں وفاداری دکھلاتا ہے اسی لیے اس کو سننے دیکھنے اور سمجھنے کی وہ قوتیں دی گئیں جن پر تکلیف شرعی کا مدار ہے۔
Ayah 76:3

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

بیشک3 ہم نے اس کو (رسول بھیج کر) راہ بتائی (اب) وہ شکر گزار ہے (یعنی مومن) یا ناشکرا (یعنی کافر) ۔

(ف 3) فرمایا کہ ہم نے مخلوق کو ایک سیدھاراستہ بتایا ایک مضمون توحید اور اطاعت کا اپنے تمام پیغمبروں کے ذریعہ سے پہنچایا ایسی کتابیں نازل کیں جن میں شک کے قابل کوئی بات نہ تھی اور ایسے رسول بھیجے جن کی رسالت صاف طور پر اپنی صداقت کا آئینہ تھے مگر پھر بھی مخلوق کی دوقسم کی ہوگی۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا یعنی مومن سعید، اور بعض نے ناشکری اور ناحق کو کوشی پر کمر باندھ لی، یعنی کافرشقی آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
Ayah 76:4

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

بیشک4 ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے ۔

(ف 4) فرمایا کہ کافروں کے پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق، جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی ہوئی آگ میں اس طوق و زنجیر میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیاجائے گا۔
Ayahs 76:5–6

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

بیشک5 نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے۔

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

( وہ کافور کیا ہے جنت میں) ایک چشمہ ہے جس میں سے اللہ کے مقرب بندے پیئیں گے اپنے محلوں میں اسے جہاں چاہیں گے بہا کرلے جائیں گے ۔

(ف 5) یعنی وہ اچھے لوگ جو اپنے ایمان میں مخلص تھے اور اللہ کے تابعدار بندے، وہ جنت میں شراب ناب کے پیالے پلائے جائیں گے وہ شراب جس میں کافور بہشتی ملایاجائے گا، یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب ومخصوص بندوں کو ملے گا شائد اس کو ٹھنڈا خوشبودار اور مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے ، آگے فرمایا کہ وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہوگا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرح نہریں چلنے لگیں گی۔
Ayahs 76:7–9

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ1 لوگ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور ایسے دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی پھیلی ہوئی ہے ۔

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور وہ لوگ (محض) اللہ کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

ان سے کہتے ہیں ہم تم کو خالص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں نہ ہم تم سے اس کا بدلہ چاہیں اور نہ شکر گزاری مانگتے ہیں۔

(ف 1) ابرار کے ثواب بیان فرمانے کے بعد ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جاتا ہے جن عملوں کے سبب سے ان کو یہ درجہ ملا ہے وہ تفصیل یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی فرض کی ہوئی عبادت کو پوری طور پر ادا کرتے ہی ہیں لیکن جو طاعت غیرواجب اپنے اوپرنذر سے واجب کرلیتے ہیں اس کو بھی ادا کرتے ہیں غرض اپنی مانی ہوئی نذر کو اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی نیکی کو بھی باوجود تنگدست ہونے ، خالص عقبی کے ثواب کی نیت سے پورا کرتے ہیں منت یہ ہے کہ جو چیز آدمی پر واجب نہیں ہے وہ کسی شرط سے اپنے اوپر واجب کرلے مثلا یہ کہے کہ اگر میرا مریض اچھا ہو یا میرا مسافر بخیر واپس آئے تو میں راہ خدا میں اس قدر صدقہ دوں گا یا اتنی رکعتیں نماز پڑھوں گا اس نذر کی وفا واجب ہوتی ہے۔ شان اہل بیت کرام علیہم الرضوان۔ شان نزول : یہ آیت حضرت علی اور حضرت فاطممہ اور ان کی کنیز فضہ کے حق میں نازل ہوئی حسنین کریمین بیمار ہوئے ان حضرات نے ان کی صحت پر تین روزوں کی نذرمانی اللہ نے صحت دی نذر کی وفا کا وقت آیا سب صاحبوں نے روزے رکھے ، حضرت علی ایک یہودی سے تین صاع جو لائے حضرت خاتون جنت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کا وقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین ایک روز یتیم ایک روز قیدی آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دیدی گئیں، اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلاروزہ رکھ لیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 76:10

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

بیشک1 ہمیں اپنے پروردگار سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جو بہت ترش اور نہایت سخت ہوگا۔

(ف 1) لہذا ہم اپنے عمل کی جزا یا شکرگزاری تم سے نہیں چاہتے، یہ عمل اس لیے ہے کہ اس دن خوف سے امن میں رہیں گے کیونکہ ہم کو اپنے پروردگار کا اور اس دن کا خوف لگا ہوا ہے جو بہت سخت اداس اور غصہ سے چیں بہ جبیں ہوگا۔ ہم تو اخلاص کے بعد بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے ہمارا عمل مقبول ہوا یا نہیں، مبادا اخلاص وغیرہ میں کمی رہ گئی ہو اور الٹا منہ پر ماراجائے۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پھر2 اللہ نے ان کو اس دن کی برائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشحالی عطا فرمائی۔

(ف 2) یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے تھے اللہ نے اس سے محفوظ ومامون رکھ اور ان کے چہروں کو تازگی اور دلوں کو سرور عطا کیے۔
Ayah 76:12

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور3 ان کے صبر کے بدلے میں ان کو جنت اور ریشمی لباس دئے۔

(ف 3) یعنی یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کرکے معاصی سے رکے اور اطاعت پر جمے رہے تھے اس لیے اللہ نے ان کو عیش کرنے کے لیے جنت کے باغ اور ریشمی لباس مرحمت فرمائے۔
Ayahs 76:13–19

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

جنت میں مسہریوں پرف 4 (آرام و عزت سے) تکیہ لگائے ہوں گے ، نہ وہاں دھوپ (کی تپش ) دیکھیں گے اور نہ سخت سردی (بلکہ موسم فرحت بخش ہوگا)

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

اور جنت کے درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوں گے اور میوے کے گچھے بہت ہی پاس لٹک رہے ہوں گے (کہ بلامشقت لے سکیں گے) ۔

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کو زوں کا دور ہوگا جو شیشہ کے مثل ہورہے ہوں گے ۔

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

کیسے شیشے چاندی کے سے اندازہ کیے ہوئے ہوں گے اس کے پلانے والوں نے مناسب انداز سے بھرا ہوگا۔

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

اور ان کو اس جگہ وہ جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کے چشمے کے پانی کی آمیزش ہوگی۔

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

(وہ چشمہ کیا ہے) وہ جنت میں ایک چشمہ ہے جسے سلسبیل کہتے ہیں۔

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

اور ان کے پاس (یہ چیزیں لیکر) ایسے لڑکے آمد و رفت کریں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے (اے مخاطب) جب تو ان کو دیکھے تو یوں سمجھے موتی بکھیرے ہوئے۔

اہل جنت کی نعمتوں کا ذکر۔ (ف 4) ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور یہ تفصیل فرمائی کہ وہ لوگ جنت کے عیش محلوں میں، چھپر کھٹوں ، مسہریوں ، شہ نشینوں پر مسندوں ، گدوں پر تکیہ لگائے عیش کریں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی، عمدہ موسم سردوراحت رہے گا، جنت کے درختوں کی سہانی سہانی چھاؤں اور ان پر جھکی ہوئی ہوگی، ان درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ، ان پر جھکی پڑتی ہوں گی اور پھلوں کے خوشے اسی طرح لٹکتے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کردیے جائیں گے کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے لیٹے، بےتکلف لے سکیں، وہاں بھی برتن چاندی کے ایسے صاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح اندر کی چیز باہر سے نظر آئے گی ، اگرچہ جنت میں کھانے پینے سے برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے جلتے ہیں، لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں سے ملتے جلتے ہیں لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے جیسے مثلا دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے ہی دن وہ کھٹا نہ ہوجائے۔ وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیاں بھنک کر اس میں جم جم کر نہ مریں۔ اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر اور بدبو کے سبب سے اس نہر کے آس پاس کچھ دنوں میں نہ بند ہوجائے۔ اسی طرح جنت کی زمین چاندی کی ہوگی، جس صاحب قدرت نے دنیا کی زمین کی مٹی میں یہ تاثیر دی ہے کہ اس سے شیشہ کے برتن میں کی اندر کی چیز باہر سے نظر آتی ہے جنت کی زمین کی چاندی میں اس تاثیر کا دے دینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے یہ چاندی کے آبخورے جنتی کو جس قدر پینے کی خوہش ہوگی ٹھیک اس کے اندازہ کے موفق بھرے ہوں گے تاکہ نہ جھوٹی بچے نہ دوبارہ پھر مانگنے کی ضرورت ہو۔ اور ان کو اس جگہ شراب طہور کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی ، اس کی آمیزش سے شراب کی لذت اور زیادہ ہوجائے گی ایک جام شراب وہ تھا جس کی آمیزش کافور ہے دوسرا وہ ہے جس میں سونٹھ کی آمیزش مگر دنیا کی سونٹھ نہیں وہ سونٹھ جنت کا ایک چشمہ زیر عرش سے جنت عدن ہوتا ہواتمام جنتوں میں گذرتا ہے اور جنت میں خوبصورت لڑکے غلام اہل جنت کی خدمت گزاری میں ہر وقت پھرتے رہین گے اورہ خوبصورت لڑکے اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے یعنی نہ مریں گے نہ بوڑھے ہوں گے نہ ان میں کوئی تغیر آئے گانہ خدمت سے اکتائیں گے ان کے حسن کا یہ عالم ہوگا جیسے بکھیرے ہوئی موتی ہیں یعنی اپنے حسن و جمال صفائی اور آب وتاب میں ادھر ادھر پھرتے ہوئے ایسے خوش منظر معلوم ہوں گے گویا بہت سے چمکدار خوبصورت موتی زمین پر بکھیر دیے گئے تفسیر خازن میں اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ حوروں کی پیدائش کی طرح وہ لڑکے بھی جنت کی مخلوقات میں سے ہیں۔
Ayahs 76:20–22

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

اور1 جب تو اس جگہ کو دیکھے تو بڑٰ نعمت اور بڑی بادشاہی دیکھے۔

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اور ان جنتیوں کے بدن پر سبز ریشمی باریک کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے کپڑے اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کو ان کا پروردگار پاکیزہ شراب پلائے گا۔

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

بیشک (ان سے کہا جائے گا) یہ تمہارا صلہ ہے (جو دنیا میں کرتے تھے) اور تمہاری محنت مقبول ہوئی (کہ تم سے تمہارا رب راضی ہوا) ۔

(ف 1) یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے جس کا وصف بیان میں تو نہیں آسکتا کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنی ترین جنتی کو نصیب ہوگی، وسعت کا یہ عالم کہ ادنی مرتبہ کا جنتی جب اپنے ملک میں نظر آئے گا تو ہزار برس کی راہ تک ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ دیکھتا ہو، شوکت وشکورہ یہ ہوگا کہ ملائکہ بےاجازت اس کے دربار میں اور بغیرسلام کیے نہ آئیں گے اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ دارمی اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوسعید خدری کی جو روایت ہے اس میں نبی ﷺ نے فرمایا ادنی ادنی اہل جنت کی خدمت میں اسی ہزار خدمت گار اور موتیوں اور یاقوت کے خیمے ہوں گے ان حدیثوں سے ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب ادنی اہل جنت کی یہ شان ہے تو متوسط اور اعلی درجہ کے اہل جنت کی کیا شان ہوگی، آگے فرمایا کہ جنتیوں کو باریک اور دبیز دونوں قسم کے لباس ملیں گے اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ حضرت ابن مسیب ؓ نے فرمایا کہ ہر ایک جنتی کے ہاتھ میں تین کنگن ہوں گے۔ ایک چاندی کا، ایک سونے کا، ایک موتی کا۔ سب نعمتوں کے بعد شراب طہور کا ایک جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا جس میں نہ نجاست ہوگی کہ کدورت نہ سرگردانی نہ بدبو، اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی جب اہل جنت کو یہ جنت کی سب نعمتیں مل جائیں گی تو انہیں ان نعمتوں کا سبب یوں جتلایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے تھوڑی سی عمر کے اعمالوں کے بدلہ میں یہ ابدالاباد کی نعمتیں تم کو دی ہیں بندوں کی سعی کو اللہ نے مشکور فرمایا ہے اس کو سن کر جنتی اور زیادہ خوش ہوں گے۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

بیشک1 ہم نے (اے محبوب) تم پر قرآن بتدریج اتارا۔

(ف 1) شان نزول : اوپر نیک وبد لوگوں کا اور جنت دوزخ کا حال تھا، اس قسم کی آیتیں نبی ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنالی ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا ، ان لوگوں کو ایک سیدھی سی بات بتلادی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورت یہ لوگ بھی بناکر پیش کریں، جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنامحض ان کی ہٹ دھرمی ہے یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو بتدریج ضرورت کے موافق اے محبوب ﷺ اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل کیا ہے اس میں اللہ کی بڑی حکمتیں ہیں پس تم اپنے رب کے حکم پر صبر کیے جاؤ، یعنی رسالت کی تبلیغ فرما کر اور اس میں مشقتیں اٹھا کر اور دشمنان دین کی ایذائیں برداشت کرکے صابر رہو۔
Ayah 76:24

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کے حکم پر صابر رہو اور2 ان میں کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو۔

(ف 2) شان نزول : عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ یہ دونوں نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ اس کام سے باز آجایے یعنی اپنے دین کی تبلیغ سے عتبہ نے کہا کہ آپ ایسا کریں گے تو میں اپنی بیٹی آپ کو بیاہ دوں گا اور بغیر مہر کے آپ کی خدمت میں حاضر کردوں گا ولید نے کہا کہ میں آپ کو اتنا مال دیدوں گا کہ آپ راضی ہوجائیں ، اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ یہ لوگ آخرت کے تو منکر ہیں فقط دنیا پر ان لوگوں کا مدار ہے اور اللہ کے نزدیک دنیا کوئی چیز نہیں، اس لیے اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں کی ایک نہ سنو، اور لوگوں کی نصیحت اور اللہ کی عبادت میں جہاں تک ممکن ہو رات دن لگے رہو۔ اللہ تمہاری ہر طرح کی مدد کو کافی ہے۔
Ayah 76:25

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کا نام صبح و شام یاد کرو۔3

(ف 3) نماز میں صبح کے ذکر سے نماز فجر، اور شام کے ذکر سے ظہر اور عصر مراد ہیں۔
Ayahs 76:26–31

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

اور کچھ رات میں اسے سجدہ کرو۔1 اور بڑی رات تک اس کی تسبیح کیا کرو۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

بیشک یہ کافر دنیا کو چاہتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری (یعنی قیامت کے) دن کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں (انہیں ہلاک کردیں اور ) ان جیسے اور بدل دیں (جو اطاعت شعار ہوں) ۔

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

بیشک یہ نصیحت ہے پس جو کوئی چاہے اپنے پروردگار کی طرف راہ لے (یعنی اللہ کی اطاعت اور رسول کا اتباع کرے) ۔

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تم کیا چاہو مگر اللہ چاہے، بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

اپنی رحمت (یعنی جنت) میں داخل کرتا ہے (ایمان عطا فرما کر) جسے چاہے، اور ظالموں (یعنی کافروں) کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

گرمی محشر۔ طبرانی ، مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن مسعود سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی اور بڑی تکلیف کا کیا ٹھکانااسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں اس کی کچھ فکر نہیں بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ کے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کردے گا، آگے اس کا جواب دیا کہ پانی جیسی پتلی چیز سے جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ہڈی پسلی وغیرہ یہ سب مضبوط چیزیں ان کے آنکھوں کے سامنے پیدا کردیں تو وہ جب چاہے ان کے غارت کرنے کے بعد ان جیسی اور مخلوق کو یا حشر کے دن انہی کو پیدا کرسکتا ہے ، آنکھوں کے سامنے جو چیز ایک دفعہ آچکی تو پھر دوبارہ اس کے پیدا ہوجانے کا انکار یہ خلاف عقل سلیم ہے آگے فرمایا کہ یہ قرآن تو اللہ کی طرف سے ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اس نصیحت کو سن کر اس کے موافق عمل کرے تاکہ اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ اچھا ہو مگر اتنی بات ہے کہ جو لوگ راہ پر آنے والے ہیں اور وہ جو ان کے برعکس ہیں وہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ کے علم ازلی میں چھانٹے جاچکے ہیں اس کے موافق جن کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے وہ باوجود نصیحت کے کبھی راہ راست پر آنے والے نہیں اور مجبور کرکے ان کو راہ پر لانا اللہ کو منظور نہیں کیونکہ مجبوری کا ایمان مجبوری کی عبادت کچھ اس کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ اس واسطے نتیجہ یہی ہوگا کہ ان میں کے بعض لوگ حالت کفر میں مریں گے اور اس کی سزا میں ان کو قیامت کے دن سخت سزا بھگتنا پڑے گی یعنی مغرب وعشا کی نمازیں پڑھو، اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر فرمایا گیا اور کچھ رات میں کا مطلب یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل پڑھتے رہو اس میں نماز تہجد آگئی۔