77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 77:1–16

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

قسم ہے1 ان ہواؤں کی جو لگاتار بھیجی جاتی ہیں۔

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر قسم زور سے جھونکا دینے والی ہواؤں کی ۔

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو ابھار کر اٹھانے والیاں۔

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر ان کی جو بادلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے خوب جدا کرتی ہیں۔

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر ان کی قسم جو ذکر کا القا کرتی ہیں۔

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو۔

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

بیشک جو کچھ تم کو وعدہ دیا جاتا ہے وہ یقینا ہونے والا ہے ۔

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

پس جب ستارے بےنور کردیئے جائیں

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان میں رخنے پڑیں۔

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جس وقت پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دیئے جائیں۔

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جس وقت پیغبروں کو میعاد مقرر پر جمع کیا جائے (کہ وہ امتوں پر گواہی دیں) ۔

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

کس دن کے لیے پیغمبروں کو ٹھہرایا گیا۔

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

روز فیصلہ کے لیے ۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تو کیا جانے روز فیصلہ کیا ہے ۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے (جو دنیا میں انبیاء ومرسلین کے جھٹلانے والے تھے) ۔

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے اگلے (کافر) لوگوں کو (عذاب سے) ہلاک نہ کیا ؟

امت محمدیہ کا اور امتوں پر گواہی دینا۔ (ف 1) جن چیزوں کی اللہ نے اس سورت کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ۔ عرفا کے معنی پے درپے ۔ فالعصفت وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو، النشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں ، فالفرقت اور فالملقیت کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ کی طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں، عذرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کا باقی نہ رہے ، نذراکا مطلب یہ کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرایاجائے۔ قسم کا جواب یہ ہے کہ جس سزا وجزا کے دن ک اللہ نے اپنے رسولوں کی معرفت وعدہ کیا ہے وہ ضرور پیش آنے والا ہے پھر اس دن کی نشانیاں فرمائیں کہ اس دن تاروں کی روشنی جاتی رہے گی حشر کے انتظام کے لیے فرشتے زمین پر آئیں گے اس لیے ان کے آنے کے واسطے آسمان میں دودروازے ہوجائیں گے پہاڑوں کو اڑادیاجائے گا، اور زمین کو چٹیل میدان کردیاجائے گا پھر فرمایا یہی وقت ہے جس کارسولوں سے وعدہ تھا کہ ان کی فرمانبرداری اور نافرمان امتوں کا فیصلہ کیا جائے گا اس فیصلہ کی تفصیل سورة بقرہ میں اور سورة زمر میں گذرچ کی ہے کہ جب پچھلی امتوں کے منکر شریعت لوگ یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو تیرا حکم کسی رسول نے نہیں پہنچایا تو انبیاء اپنی رسالت ادا کردینے کی تصڈیق میں امت محمدی کو پیش کریں گے اور امت محمدیہ پچھلے رسولوں کے کلام کی تصدیق کرے گی پچھلی امتوں کے لوگ جب یہ کہیں گے کہ یا اللہ امت محمدیہ کے لوگ تو ہم سے پیچھے پیدا ہوئے ہیں ان کو ہمارا حال کیا معلوم ہے اس پر امت محمدیہ کے لوگ یہ جواب دیں گے کہ قرآن مجید میں پچھلا سب حال معلوم ہوگیا اس کے بعد نبی اپنی امت کی گواہی کی تائید کریں گے اور ان سب گواہیوں پر فیصلہ آخر ہوجائے گا اسی واسطے فرمایا کہ اس فیصلہ کے دن ان لوگوں کی بڑی خرابی ہے جو اس دن کے فیصلہ کے منکر ہیں۔
Ayahs 77:17–28

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر پچھلوں1 کو اپنے پیچھے لے جائیں گے (یعنی کفار کو کہ یہ بھی جھٹلانے والے ہیں۔ )

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

(اے لوگو) کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی (یعنی نطفہ) سے پیدا نہ کیا۔

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ (یعنی عورت کے رحم) ۔

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

میں ایک وقت معین تک رکھا۔

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر ہم نے اندازہ کیا، پس ہم کیا ہی اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین جمع کرنے والی نہ کی۔

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

تمہارے زندوں کو (اپنے اوپر) اور مردوں کو (اپنے اندر) ۔

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں اونچے اونچے پہاڑ پیدا کیے اور ہم نے تم کو میٹھا پانی پلایا۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

اس روز جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔

انسان کی پیدائش اور نیک وبد کا ہونا۔ (ف 1) قوم نوح سے لے کر فرعون تک ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے اسی واسطے فرمایا ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کفار مکہ نبی ﷺ کے زمانہ کے منکر لوگوں کو آخرین فرمایا اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخرزمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت کی اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی، قیامت کے دن ایسے لوگوں کے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ انسان کی زمین میں سمائی کا اور بارش اور زمین کی ندیوں نالوں چشموں کنوؤں سے میٹھے پانی کے بہم پہچانے کا ذکر فرماکریہ تنبیہ فرمائی کہ انسان کی سمجھ سے باہر یہ سب انتظام آنکھوں سے دیکھ کر پھر بھی جو کوئی حشر کا انکار کرے گا اس کے لیے اس دن بڑی خرابی ہے، فقدرنا فنعم القادرون، کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی نفہ سے مرد اور عورت پورا ادھورا، گوراکالا، جس کو جیسا چاہا پیدا کیا۔
Ayahs 77:29–40

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

(ان کافروں سے کہا جائے گا کہ ) اس1 (دوزخ) کی طرف چلو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے ۔

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

اس دھوئیں کے سایہ کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں۔

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ ٹھنڈا سایہ دے اور نہ آگ کی گرمی سے بچائے۔

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

بیشک دوزخ بڑے بڑے انگار اڑاتی ہے جیسے اونچے محل۔

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے کہ (کافر) نہ بول سکیں گے ۔

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ انہیں اجازت ملے گی کہ عذر کریں۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

(ان کافروں سے کہا جائے گا) یہ ہے فیصلہ کا دن ہم نے (آج) تم کو اور سب اگلوں کو جمع کیا۔

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

پس اگر تمہارے پاس کوئی دواؤں ہے تو مجھ پر کرلو۔

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔

(ف 1) کافروں کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لیے ان سے یہ کہیں گے چلوذرا اس آگ کا مزہ چکھو، جس کے تم دنیا میں منکر تھے ، صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمرگذاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمین کھاکر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام بھول گئے حساب وکتاب سے فارغ ہونے تک اہل دوزخ کو آگ کی لپیٹ کے نیچے رکھاجائے گا جس میں دھواں ہوگا، اس دھوئیں کی تین شاخیں ہوں گی تاکہ اس لپٹ کی تپش بدستور قائم رہے پھر اس آگ کی لپٹ سے ایسے بڑے بڑے انگارے اڑتے رہیں گے جیسے بڑے بڑے محل وہ انگارے زرد رنگ اور تہہ درتہہ کے سبب سے زرد اونٹ معلوم ہوں گے قیامت کے دن پچاس ہزار برس کا ہوگا اور اس میں طرح طرح کی حالتیں پیش آئیں گی ۔ حساب وکتاب تو دوزخیوں کو جواب دہی کرنے اور عذر پیش کرنے کا موقعہ دیاجائے گا جس کا ذکر اور آیتوں میں ہے پھر ان کو کسی جواب دہی کا موقعہ نہ ملے گا، اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور قیامت کی ہر حالت کا انکار ایک جرم ہے اس لیے اس دن کی مختلف حالتوں کا ذکر فرماکرہر ایک جگہ پر فرمایا ہے کہ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے اگلے پچھلے منکرین حشر کو قائل کرنے کے لیے ان سب سے اس دن یہ کہا جائے گا کہ آج سزا وجزا کے آخری فیصلہ کا دن وہ جس کی خبر اللہ کے رسولوں نے تم کو دی تھی اوتم نے اس خبر کو جھٹلادیا تھا آج بھی اس کے جھٹلانے کی تدبیر تم لوگ رکھتے ہو تو اس کو اٹھانہ رکھو ورنہ اس دن کے جھٹلانے کی خرابی کو بھگتو۔