74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 74:1–3

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے1 کپڑا اوڑھنے والے، (محبوب) کھڑے ہوجاؤ2 ۔

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

پھر (قوم کو عذاب الہی سے ایمان نہ لانے پر ) ڈراؤ۔

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کو تعظیم سے یاد کرو۔

(ف 1) شان نزول : حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں کوہ حرا پر تھا، کہ مجھے ندا کی گئی یامحمد انک رسول اللہ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کچھ نہ پایا، اوپر دیکھا ایک شخص آسمان زمین کے درمیان بیٹھا ہے یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی ، یہ دیکھ کر مجھ پر رعب ہوا اور میں خدیجہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا مجھے کپڑا وغیرہ اڑھاؤ۔ انہوں نے اڑھادیا تو جبرائیل آئے اور انہوں نے یا ایھا المدثر، یعنی اے کپڑا اوڑھنے والے محبوب۔ (ف 2) یعنی وحی کے ثقل اور فرشتہ کی ہیبت سے آپ کو گھبرانا اور ڈرنا نہیں چاہیے، آپ کا کام تو یہ ہے کہ دوسروں کو خدا کا خوف دلائیں اور کفر ومعصیت کے برے انجام سے ڈرائیں پھر فرمایا کہ یہ مشرک اللہ کی شان میں شرک کے الفاظ جو کہتے رہتے ہیں اے محبوب تم ان کے برخلاف اللہ کی بڑائی اور توحید بیان کروتا کہ ان مشرکوں کے کان بھی توحید سے آشناہوں، کیونکہ رب کی بڑائی بولنے اور بزرگی و عظمت بیان کرنے ہی سے اس کا خوف دلوں میں پیدا ہوتا ہے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے اللہ اکبر فرمایا۔ حضرت خدیجہ نے بھی حضور کی تکبیر سن کر تکبیر اور خوش ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ وحی آئی۔
Ayahs 74:4–5

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور3 اپنے کپڑے پاک رکھو۔

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور (بتوں کی) پلیدی سے الگ رہو۔

طہارت و پاکیزگی۔ (ف 3) مشرکین مکہ پہننے کے کپڑوں کی پاکی ناپاکی کا خیال نہ رکھتے تھے اس لیے فرمایا کہ تم اپنے کپڑے ہر طرح کی نجاست سے پاک صاف رکھو، کیونکہ نماز کے لیے طہارت ضروری ہے اور نماز کے سوا اور حالتوں میں کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے، اور پلیدی سے دوررہنے کے معنی یہ ہیں کہ بتوں کی گندگی سے دور ہو جیسے اب تک درد ہو، بہرحال آیت ہذا میں طہارت ظاہری وباطنی کی تاکیدمقصود ہے۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور4 زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو۔

(ف 4) یعنی جیسے کہ دنیا میں ہدیے اور نیوتے دینے کا دستور ہے کہ دینے والایہ خیال کرتا ہے کہ جس کو میں نے دیا ہے اور وہ اس سے زیادہ مجھے دے دے گا، اس قسم کے نیوتے اور ہدیے شرعاجائز ہیں مگر نبی کریم کو اس سے منع فرمایا گیا ، کیونکہ شان نبوت بہت ارفع واعلی ہے اور اس منصب عالی کے لائق یہی ہے کہ جس کو جو دیں وہ محض کرم ہو اس سے لینے یا نفع حاصل کرنے کی نیت نہ ہو۔
Ayahs 74:7–10

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور (دین کی خاطر جو ایذا پیش آئے اس پر)1 اپنے پروردار (کی خوشنودی) کے لیے صبر کیے رہو۔

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

پھر جبکہ دوسرا صور پھونکا جائے گا۔

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

تو وہ دن سخت ہے۔

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں پر آسان نہیں (بلکہ ایمان والوں پر آسان ہے ۔

(ف 1) یعنی جو شدائد دعوت وتبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کی خوشنودی کے لیے صبر و تحمل سے برداشت کرو اور خدمت نبوت کی ادائیگی کے سبب سے مخالف شریعت لوگ جو تم کو کچھ گستاخی کے الفاظ کہویں تو اس پر صبر کرنے کا سب کو پورا اجر اللہ تم کودے گا، پھر فرمایا کہ اے محبوب باوجود تمہاری نصیحت کے جو کوئی آخرت کی سزا وجزا کا منکر رہے تو ایسے لوگوں کو یہ سنا دیاجائے کہ مردوں کو زندہ کرنے کا دوسراصور پھونکے جائے گا۔ جب یہ لوگ زندہ ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہوں گے اور ذرہ ذرہ کا ان حساب لیاجائے گا، تو وہ وقت ان پر بڑی مشکل کا ہے اس مشکل کے لیے ان لوگوں کو تیاررہنا چاہیے۔
Ayahs 74:11–26

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

(اے محبوب) تم اسے2 مجھ پر چھوڑ دو جسے میں نے اکیلا (یعنی ماں کے پیٹ سے بغیر مال و اولاد کے) پیدا کیا۔

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور اسے میں نے کثرت سے مال دیا۔

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور پاس رہنے والے بیٹے دیئے ۔

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اسی طرح سامان اس کے لیے مہیا کردیا۔

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر بھی اس بات کی ہوس رکھتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں بیشک وہ تو ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے ۔

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

قریب ہے کہ میں اسے (آخرت میں) آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں۔

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

بیشک اس نے (ہماری آیتوں میں) غور کیا اور (دل میں) اندازہ مقرر کیا۔

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

پس اس پر لعنت ہو کہ اس نے کیسا اندازہ مقرر کیا۔

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پس اس پر لعنت ہو کہ اس نے کیسا اندازہ مقرر کیا۔

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر اس پر لعنت ہو کہ اس نے کیسا برا اندازہ کیا۔

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر نظر اٹھا کر دیکھا پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا۔

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پیٹھ پھیرلیا اور تکبر کیا۔

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا کہ بس یہ قرآن محض جادو ہے کہ جادوگروں سے نقل ہوتا چلا آتا ہے ۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ قرآن آدمی ہی کا کلام ہے ۔

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

بہت جلد میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا۔

(ف 2) شان نزول : جب ۔ حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم۔ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی ولید بن مغیرہ نے سنا اس قوم کی مجلس میں آ کر اس نے کہا کہ خدا کی قسم، میں نے محمد ﷺ سے ابھی ایک کلام سنا، نہ وہ آدمی کانہ جن کا، بخدا اس میں عجیب شیرینی اور تازگی اور فوائد دل کشی ہے، وہ کلام سب پر غالب رہے گا، قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا، ان میں مشہور ہوگیا، ولید آبائی دین سے برگشتہ ہوگیا ابوجہل نے ولید کو ہموار کرنے کا ذمہ لیا اور اس کے پاس آکربہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا ولید نے کہا کیا غم ہے ابوجہل نے کہا غم کیسے نہ تو بوڑھا ہوگیا قریش تیرے خرچ کے لیے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال ہے کہ تو نے محمد ﷺ کے کلام کی تعریف اس لیے کی ہے کہ تجھے ان کے دسترخوان کا بچاکھانامل جائے، اس پر اسے طیش آیا اور کہنے لگا کہ قریش کو میرے مال و دولت کا حال معلوم نہیں ہے اور کیا محمد ﷺ اور ان کے اصحاب نے کبھی سیر ہوکر کھانا بھی کھایا ہے ان کے دسترخوان پر کیا بچے گا، پھر ابوجہل کے ساتھ اٹھا کر قوم میں آکرکہنے لگا، تمہیں خیال ہے کہ محمد مجنون ہیں کیا تم نے ان میں کبھی دیوانگی کی کوئی بات دیکھی سب نے کہا، ہرگز نہیں ، کہنے لگا تم انہیں کاہن سمجھتے ہو کیا تم نے انہیں کہانت کرتے دیکھا، سب نے کہا، کہنے لگا تم انہیں شاعر گمان کرتے ہو کیا تم نے کبھی انہیں شعر کہتے پایاسب نے کہا، کہنے لگا، نہیں ، تم انہیں کذاب کہتے ہو، کیا تمہارے تجربہ میں کبھی انہوں نے جھوٹ بولا، سب نے کہا، نہیں اور قریش میں آپ کا صدق ودیانت ایسا مشہور تھا کہ قریش آپ کو امین کہا کرتے تھے ، یہ سن کر قریش نے کہا پھر کیا بات ہے تو ولید کہنے لگا، ذراسوچ لوں ، آخر تیوری بدل کر اور منہ بنا کر۔ یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں آدمی کا کلام ہے مگر جادو کے سبب سے اس میں ایک اثر ہے تم نے دیکھا ہوگا کہ ان کی بدولت رشتہ دار رشتہ دار سے باپ بیٹے سے جدا ہوجاتے ہیں بس یہی جادوگر کا کام ہے اور جو قرآن وہ پڑھتے ہیں وہ دل میں اثر کرجاتا، اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ جب یہ ولید ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو تن تنہا تھا نہ اس کے دس بیٹے تھے ، نہ کچھ مال ومتاع تھا اللہ نے اس کو صاحب اولاد، صاحب مال کیا، مجاہد سے منقول ہے کہ وہ ایک لاکھ دینار کی نقد کی حیثیت رکھتا تھا، اور طائف میں اس کا ایسابڑا باغ تھا جو سال کے کسی وقت پھلوں سے خالی نہ ہوتا تھا، اس نے اس کا شکریہ کیا کہ قوم کے لوگوں کی خاطر سے اللہ کے کلام کو انسان کو کلام بتایا ۔ اے محبوب تم اس سے کچھ نہ الجھو بلکہ اس کو اللہ کے حوالہ چھوڑ دو ، وقت مقررہ پر اللہ اس سے خود مجھ لے گا، یہ ولید کہا کرتا تھا کہ اگر مرنے کے بع دپھر جیناسچ ہے تو وہاں بھی اس سے زیادہ مجھ کو مال والاد سب کچھ ملے گا، اور دنیا میں بھی میری خوش حالی روز بروز بڑھتی جائے گی اسی پر اللہ نے فرمایا کہ باوجود اس ناشکری کے دین ودنیا میں اس کو اور بہبودی کی توقع ہے نہیں نہیں ہرگز یہ توقع اس کی پوری نہ ہوگی، بلکہ آخرت میں تو اس کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کی تکلیف روز بروز بڑھتی رہے گی، اور دنیا میں جو کچھ اس ناشکری کا حال ہوگا، وہ بھی سب دیکھ لیں گے اللہ سچا ہے پھر اللہ کا کلام سچا ہے ، چناچہ اس ایت کے نزول کے بعد ولید کے مال واولاد وجاہ میں کمی شروع ہوئی یہاں تک ولید تنگ حال ہوکرمرا ، یہ تو دنیا کا حال اس وقت کے لوگوں کے روبروگذرا۔ آخرت میں ایسے لوگوں کا جو کچھ انجام ہوگا وہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ عذاب دوزخ کی ایک قسم۔ مسندامام احمد، ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے جس پر کافر کو ہمیشہ چڑھائیں گے اور گرائیں گے یہ بھی عذاب کی ایک قسم ہے اور یہ عذاب بڑی تکلیف کا ہوگا۔
Ayah 74:27

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور1 تم نے کیا جانا کہ دوزخ کیا ہے ۔

(ف 1) یعنی دوزخیوں کی کوئی چیز باقی نہ رہنے دے گی، جو جلنے سے بچ جائے پھر جلانے کے بعد اس حالت پر بھی نہ چھوڑے گی بلکہ دوبارہ اصلی حالت پر لوٹائے جائیں گے اور جلیں گے یہی سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔
Ayahs 74:28–29

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

(وہ ایسی ہے کہ کسی مستحق عذاب کو)2 باقی نہ چھوڑے۔

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

اور (جسم پر گوشت کھال) نہ لگی رکھے۔ وہ آدمی کی کھال جھلس دینے والی ہے ،

(ف 2) یعنی بدن کی کھال جھلس کر حیثیت بگاڑ دے گی حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں جیسے دہکتا لوہاسرخ نظر آتا ہے آدمی کو پنڈلی پر وہ سرخی نظر آئے گی۔
Ayah 74:30

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس3 دوزخ پر انیس داروغہ مقرر ہیں (جس میں ایک مالک ہے باقی ساتھی ہیں) ۔

دوزخ پرانیس فرشتوں کا تعینات ہونا۔ (ف 3) یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہوگا اس کے افسر انیس فرشتے ہوں گے جن میں ایک مالک ہے باقی ساتھی ہیں خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک فرشتہ کی سرکردگی میں ہوگی کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کرسکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کرسکتے، لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ وقت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے، مثلا ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاسکتے ہیں لیکن پانی برسانا ان کا کام نہیں، جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا، آنکھ سن نہیں سکتی، اگرچہ اپنی قسم کے کام کتنے ہی سخت ہوں کرسکتے مثلا کان سے ہوسکتا ہے کہ ہزاروں آوازیں سن لے اور نہ تھکتے ، آنکھ ہزاروں رنگ دیکھ لے اور عاجز نہ ہو، اسیط رح اگر ایک فرشتہ عذاب کے واسطے دوزخیوں پر مقرر ہوتا، اس سے ایک ہی قسم کا عذاب دوزخیوں پر ہوسکتا تھا دوسری قسم کا عذاب جو اس کے دائرہ استعداد سے باہر ممکن نہ تھا، اس لیے انیس قسم کے عذابوں کے لیے انیس ذمہ دار فرشتے مقرر ہوئے ہیں۔
Ayahs 74:31–35

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے1 دوزخ کے نگہبان فرشتے ہی مقرر کیے اور ہم نے ان کی یہ تعدادا صرف کافروں کی جانچ کے لیے مقرر کی ہے (کہ وہ کہیں انیس کیوں ہوئے) اور اس لیے کہ اہل کتاب یقین کرلیں (یعنی رسول اللہ کو سچا جانے) اور ایمانداروں کا ایمان زیادہ ہوجائے اور اس لیے کتاب والوں اور مسلمانوں کو کوئی شک نہ رہے۔ اور اس لیے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (شک کی) بیماری اور کافر کہیں کہ اللہ کی اس (گنتی کی ) مثال سے کیا ارادہ ہے، (جس طرح اس بات میں کافروں کو گمراہ کیا) اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو1 اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور دوزخ (کا حال بیان کرنا تو) بنی2 آدم کی نصیحت کے لیے ۔

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

بالتحقیق قسم ہے چاند کی ۔

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ پیٹھ پھیرے۔

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور پھر صبح کی قسم جب وہ روشن ہوجائے۔

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

بیشک دوزخ بہت بڑی خوفناک چیزوں کی ایک چیز ہے ۔

ابوجہل کا فرشتوں پر مذاق اور فرشتوں کی طاقت۔ (ف 1) شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پرانیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سوسوشخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو ایسی باتیں کرتے ہیں، یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں ان میں کا تو ایک ایک کا پرساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے کیا ان لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ کے ایک فرشتے نے لوط کی قوم کو مع ان کی بستی کے اٹھا کر الٹ دیا۔ پھر فرمایا پچھلی کتابوں میں بھی ان فرشتوں کی تعداد یہی ہے اس لیے اہل کتاب کو اس گنتی کا حال سن کر قرآنی کے کتاب آسمانی ہونے پر یقین بڑھ جائے گا اور ان کے یقین میں بھی ترقی ہوجائے گی پھر فرمایا کہ اللہ کے علم ازلی میں جو لوگ کافر اور منافق ٹھہرچکے ہیں وہ اس گنتی کو سن کر ایسی ایسی باتیں کریں گے جیسی باتیں ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے کیں کیونکہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کے علم میں نیک وبد کا اندازہ ٹھہرچکا ہے اسی اندازہ سے اللہ ہر ایک کو لگادیتا ہے مجبور ہوکر دوسرے ڈھنگ پر کسی کو نہیں لگاتا، تاکہ مجبوری کا ایمان یا نیک عمل اس کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ پھر فرمایا ان انیس فرشتوں پر کیا منحصر ہے، آسمانوں پر اور اتنے فرشتے ہیں کہ چپہ بھرجگہ فرشتوں سے خالی نہیں سو اس کے آگ پانی ہو یہ سب اللہ کے لشکر ہیں پچھلی قومیں ان ہی لشکروں کی چڑھائی سے غارت ہوچکی ہیں اس کے لشکروں کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا ۔ (ف 1) یعنی دوزخ کا ذکر صرف عبرت ونصیحت کے لیے ہے اس کا حال سن کر لوگ غضب الٰہی سے ڈریں اور نافرمانی سے باز آئیں۔ (ف 2) یعنی جو بڑی بڑی ہولناک اور عظیم الشان چیزیں ظاہر ہونے والی ہیں دوزخ ان میں کی ایک چیز ہے۔ قیامت کا ذکر۔
Ayahs 74:36–37

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

بنی آدم3 کو ڈرانے والی ہے ۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

سے جو تم میں چاہے (ایمان لاکر جنت کی طرف) آگے بڑھے یا (یا کفر اختیار کر کے) پیچھے رہے) اور عذاب میں گرفتار ہو) ۔

(ف 3) آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب ونتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے چناچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال وفنا کا، اسی طرح اس عالم دنیا کو آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء واکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ گویا اس عالم کا ختم ہوجانا رات کے گذرجانے اور اس عالم کا ظہور نور صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔