75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 75:1–30

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

ہاں ہمیں قسم ہے قیامت کے دن کی

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

اور قسم ہے اس جان کو جو اپنے اوپر ملامت کرے

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ سوچتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں ہرگز جمع نہ کریں گے

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

بلکہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنی آئندہ زندگی میں بھی نافرمانی کرتا رہے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

اور پوچھتا ہے بھلا قیامت کا دن کب آئے گا ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پھر جب آنکھیں چندھیا جائیں گی

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند گہنا جائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند کو اکٹھا (یعنی ایک جیسا) کردیا جائے گا

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس دن انسان کہے گا کہاں بھاگ جاؤں

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

بیشک کہیں پناہ نہیں

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز صرف آپ کے پروردگار کے پاس ہی ٹھکانہ ہے

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس دن انسان کو جو عمل اس نے آگے بھیجے اور جو پیچھے چھوڑے سب بتادیئے جائیں گے

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان اپنی حالت سے خوب آگاہ ہے

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اگرچہ اپنے عذر (بہانے) کرتا رہے

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

آپ (اے حبیب ﷺ ! اس (قرآن) پر (وحی ختم ہونے سے پہلے) اپنی زبان نہ ہلایا کیجئے کہ جلدی جلدی اسے یاد کرلیں

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا (قلب اطہر میں) جمع کردینا اور اس کا (زبان مبارک سے) پڑھوا دینا۔

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

سو جب ہم اسے پڑھا کریں (یعنی وحی آئے) تو (اس کے پڑھنے کو غور سے تنا کریں) پھر اسی طرح پڑھا کریں

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

پھر یقینا اس (معنی) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں مگر (لوگو ! ) تم دنیا سے پیار کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

بہت سے چہرے اس روز بارونق ہوں گے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور بہت سے چہرے اس روز بےرونق ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

سوچ رہے ہوں گے کہ ان پر کمر توڑ مصیبت پڑنے والی ہے

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

دیکھو ! جب جان حلق تک پہنچ جائے

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور لوگ کہنے لگیں کون جھاڑ پھونک والے ہے

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور اس نے سمجھ لیا کہ اب (سب سے) جدائی ہے

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جاتی ہے

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس روز تیرے پروردگار کی طرف جانا ہوتا ہے

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی برائی میں تمیز کا پتہ چلتا ہے تو مومن کا نفس اپنامحاسبہ کرتا رہتا ہے اور جہاں خطا ہوجائے توبہ کرکے اپنی اصطلاح کی فکر کرتا ہے اسے قرآن میں نفس لوامہ کہا گیا ہے کہ خود کو گناہ پر ملامت کرتا ہے اور اتباع رسالت میں برکات نبوی سے ایسی صفائے قلب نصیب ہو کہ نیکی طبیعت ثانیہ بن جائے اور گناہ سے نفرت ہوجائے تو اسے نفس مطمئنہ کہا گیا ہے اللہ کریم سب مسلمانوں کو یہ نعمت نصیب فرمائے۔ آمین۔ کیابنی آدم نے یہ گمان کرلیا ہیی جب مرکرمٹی ہوجائے گ اور ہڈیاں گل سڑ جائیں گی پھرن ہ بن سکیں گی بلکہ ہم تو ایسے قادر ہیں کہ ہر ایک کے انگلیوں کے پور بھی ویسے بنائیں گے جیسے دنیا میں تھے۔ انگلی کے نشان ہر انسان کے الگ ہیں۔ عجیب بات ہے کہ کسی انسان کی انگلی کے نشانات دوسرے سے نہیں ملتے قرآن نے یہ تب بتادی تھی جسے صدیوں بعد سائنس دانوں نے اب ثابت کیا ہے یہاں دوبارہ پیدا کرنے کو پہلے پیدا کرنے سے ثابت فرمایا ہے کہ ہر بدن کے ذرات روئے زمین پر منتشر ہوتے ہیں پھر غذا دوا وغیرہ کے ذریعہ صلب پدر میں پھر نطفے پھر ممکن ہے کسی کو کسی سے مشابہت ہومگرانگلیوں کے نشانات قطعی سب کے الگ الگ بنائے لہذا یہاں فرمایا ہم تو ہر ایک کے انگلیوں کے پور تک پہلے جیسے ہی بنائیں گے آدمی اللہ کے سامنے ڈھٹائی سے پیش آتا ہے کہ اس کے رسول سے کہتا ہے کہ قیامت کا روز کون سا ہوگا تو سن جب نگاہیں چندھیا جائیں گی اور شمس وقمر بےنور ہوکرجھڑجائیں گے اور جب ہیبت سے کافر کہے گا کدھر کو بھاگوں تو اس کو پتہ چلے گا کہ بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں بلکہ پروردگار کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے اور تب سب کو ان کے اعمال نامے سنائے جائیں گے کہ کس نے کون سا عمل آگے بھیجا اور کون کتنی نیکیوں سے محروم رہا یقینا انسان اپنے حال سے پوری طرح باخبر ہوتا ہے ہاں بہانے بیشک کرتا رہے۔ چونکہ یہ سب احوال کتاب اللہ بیان کرتی ہے تو آپ پر جب وحی نازل ہو تو پڑھنے میں اور یاد کرنے میں جلدی نہ کریں بلکہ جبرائیل امین جو اللہ کی طرف سے پڑھتے ہیں پڑھ چکیں تو آپ پڑھا کریں کہ اسے آپ کو یاد کرانا اور آپ سے دوبارہ پڑھوانا ہمارا کام ہے پھر اس کا مفہوم بیان کرانا آپ کی زبان مبارک سے بھی ہمارا کام ہے۔ مسئلہ : آئمہ نے یہاں سے اخذ فرمایا ہے کہ امام قرات کررہا ہوتومقتدی خاموش رہے۔ مسئلہ : جس طرح قرآن کے الفاظ بتانامنصب نبوت ہے اسی طرح قرآن کا مفہوم بیان کرنا بھی نبی (علیہ السلام) کامنصب ہے کوئی شخص اپنی طرف سے مقرر کرنے کا مجاز نہیں۔ اللہ کو میدان حشر میں دیکھ سکیں گے۔ لیکن یہ کفار تو دنیا کی لذات کے اسیر ہیں اور آخرت کو پس پشت ڈال دیا ہے لیکن اس روز کتنے لوگ ہوں گے جن کے چہروں سے بشاشت ٹپکتی ہوگی اور اپنے رب کو واقعی دیکھ رہے ہوں گے آخرت میں آنکھ میں وہ قوت آجائے گی کہ دیدار باری کرسکے اور میدان حشر میں اللہ کے بندے دیدار سے مشرف ہوں گے ہاں کیفیات سب کی اپنی استعداد کے مطابق ہوگی اس پر اہل سنت کا اجماع ہے اور کفار کے چہرے لٹکے ہوئے ہوں گے دیدار سے محروم اور عذاب کی فکر میں گرفتار ہوں گے انسان کی طاقت کا پتہ توعندالموت چل جاتا ہے کہ جب جان حلق میں اٹکی ہوتی ہے یعنی موت قریب تر ہوجاتی ہے اور کوئی حیلہ اس سے بچنے کا نہیں ملتا تب پتہ چلتا ہے کہ دنیا سے جدائی کی گھڑی آپہنچی اور انسان تڑپتا ہے کہ ٹانگیں آپس میں لپٹ جاتی ہیں یہ اپنے رب کی طرف چل چلاؤ کی گھڑی ہوتی ہے۔
Ayahs 75:31–40

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

اس نے نہ تو (قرآن کی) تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیرلیا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس چل دیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

افسوس ہے ! تجھ پر افسوس ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر افسوس ہے تجھ پر افسوس ہے

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان یہ سوچتا ہے کہ اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ منی کا جو (رحم میں) ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر لوتھڑا ہوگیا پھر اس کو (اللہ نے) بنایا پھر (اس کے اعضاء کو) درست فرمایا

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کی دو قسمیں بنائیں ایک مرد اور ایک عورت

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا ایسے خالق کو یہ قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اٹھائے

آیات 31 تا 40۔ اسرار ومعارف۔ کافر نے نہ تو تصدیق کی نہ ایمان لایا اور نہ اللہ سے تعلق جوڑا جو اس کی عبادت کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا بلکہ سارے دین یعنی نظام حیات کا انکار کردیا اور اس سے منہ موڑ لیا اور اپنے اہل و عیال اور دولت دنیا میں منہمک ہوگیا بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ تباہ ہوگیا تباہ ہوگیا ، تباہ ہوگیا ۔ یعنی زندگی میں موت میں برزخ میں اور حشر میں ہر جگہ اپنے لیے تباہی خریدلی کیسا بیوقوف ہے سمجھتا ہے حساب کتاب نہ ہوگا اور یونہی عالم ختم ہوجائے گا حالانکہ ایک مربوط نظام ہے خود یہ ایک قطرہ منی سے بنایا گیا پھر شکم مادر میں محض خون تھا جماہوا پھر اسے انسان بناکرزندگی دی اور اس میں مردو عورت کے جوڑے بنائے اور بقائے نسل کو جاری فرمایا کہ ایک نظام کائنات بنایا جو پوری ذمہ داری سے اپنا پورا کام کررہا ہے ۔ ہر قطرہ آب ، ہر ذرہ خاک اپنے اپنے وقت پر اپنی اپنی جگہ پہنچ رہا ہے اور کتنا حساب وکتاب کا دخل ہے کہ ساعت بھریاذرہ بھر کمی زیادتی ہوتونظام کائنات چل نہ سکے کیا اتنی قدرت کاملہ کے مالک پروردگار کے لیے یہ مشکل ہے کہ مردوں کو دوبارہ بناکرزندہ نہ کرسکے ہرگز نہیں۔