75. Surah Al-Qiyaama

القيامةThe Resurrection · 40 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayahs 75:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ Open ayah 75:1 in the Quran reader

نہیں ، میں قیامت کے دن (کے رب ) کی قسم کھاتا ہوں

وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ Open ayah 75:2 in the Quran reader

سو نہیں ، میں نفس لوامہ (کے رب ) کی قسم کھاتا ہوں

لا نفی کا فعل قسم میں تاکید کے واسطے ہوتا ہے ، تو معنی یہ ہیں کہ ۔۔۔ البتہ قسم کھاتا ہوں میں ، تو پھر (نہیں کیا میں قسم یاد کرتا ہوں قیامت کے دن کی) اس کی عظمت وہیبت اور اپنی شان قدرت کو ظاہر کرنے کے لیے (اور قسم ہے اس جان کی جو اپنی بیحد ملامت کرتی رہتی ہے ) ۔ اس سے نفس متقیہ مراد ہے کہ نفس مقصرہ تو تقصیر طاعت کے سبب سے ملامت کرتا ہے۔ یا۔۔۔ وہ نفس مقصود ہے جو اپنے کو ہمیشہ تقصیروں میں ملامت کیا کرتا ہے ، اگرچہ عبادتوں میں اس کی کوششیں اور محنتیں بہت ہوں۔ یا۔۔ نفس مطمئنہ مراد ہے جو نفس امارہ کو ہمیشہ ملامت کیا کرتا ہے۔ روایت ہے کہ عدی بن ربیعہ نے آنحضرت سے قیامت کا حال پوچھا۔ جب حضرت نے اس کو خبر دی تو وہ بولا کہ اگر اس روز کو میں آنکھوں سے دیکھوں تو بھی باور نہ کروں۔ کیا یہ متفرق ہڈیاں باہم مجتمع ہوں گی ، تو نفس لوامہ کی قسم یاد فرما کر حق تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ۔۔۔
Ayahs 75:3–4

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ Open ayah 75:3 in the Quran reader

کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں ہرگز جمع نہیں کریں گے

بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ Open ayah 75:4 in the Quran reader

کیوں نہیں ، ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کی پور پور تک درست کر دیں

(کیا سمجھ رکھا ہے انسان نے کہ ہم نہ جمع کرسکیں گے اس کی ہڈیاں) جو پراگندہ ہوگئیں ؟ (کیوں نہیں 9 ہاں ہم جمع کریں گے اس کم فہم کو سمجھنا چاہیے کہ (ہم قدرت والے ہیں اس پر کہ ٹھیک کریں اس کے پور پور) یعنی چھوٹے اور لطیف ہونے کے باوجود اس کی انگلیوں کی پوریں اور سرے اکٹھا کرنے پر ہم قادر ہیں ، تو بڑی بڑی ہڈیوں کا اکٹھا کرنا کیا بات ہے۔
Ayahs 75:5–9

بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ Open ayah 75:5 in the Quran reader

در اصل انسان تو یہی چاہتا ہے کہ وہ آئندہ بھی فسق و فجور کرتا رہے

یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ Open ayah 75:6 in the Quran reader

وہ (ازراہ تمسخر) پوچھتا ہے کہ وہ قیامت کا دن کب ہوگا ؟

فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ Open ayah 75:7 in the Quran reader

پس جب آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی

وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:8 in the Quran reader

اور چاند بےنور ہوجائے گا

وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ Open ayah 75:9 in the Quran reader

اور سورج اور چاند جمع ہوجائیں گے

(بلکہ) عدی اور اس جیسا ہر (انسان چاہتا ہے کہ بدی کرتا رہے اس کے آگے) یعنی وہ چیز جو اس کے سامنے ہے ، یعنی بعث اور حساب اس کے تعلق سے جھوٹ بولتا رہے ، کیوں (کہ) از راہ تمسخر (پوچھتا ہے کہ کب ہے قیامت کا دن ؟ تو جب آنکھ چوندھیا پڑی) یعنی پتھرا گئی (اور گہن میں پڑا چاند) یعنی تیرہ و تاریک ہوگیا (اور ملا دیا گیا سورج اور چاند) یعنی دونوں ہی بےنور کردیے گئے۔ المختصر۔۔۔ جب قیامت آئے گی تو نظام شمسی و قمری سب کے سب درہم برہم کردیے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ ان حالات میں قیامت کے وجود پر کسی کو شک و شبہ نہ ہوگا۔ اور جب یہ صورت حال پیش آئے گی تو۔۔۔
Ayahs 75:10–13

یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ اَیْنَ الْمَفَرُّۚ Open ayah 75:10 in the Quran reader

اس روز انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ کر جاؤں ؟

كَلَّا لَا وَزَرَؕ Open ayah 75:11 in the Quran reader

آج کہیں بھی پناہ کی جگہ نہیں

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمُسْتَقَرُّؕ Open ayah 75:12 in the Quran reader

اس روز ٹھکانا صرف آپ ہی کے پروردگار کے پاس ہو گا

یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ Open ayah 75:13 in the Quran reader

اس روز انسان کو جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا سب بتا دیا جائے گا

(کہے گا انسان) یعنی تکذیب کرنے والا کافر (اس دن کہ کہاں بھاگ کر بچوں۔ ہرگز نہیں) ایسوں کے لیے (کوئی پناہ گاہ نہیں) اور (تمہارے رب ہی کی طرف) یعنی اس کے حکم کی طرف (اس دن ٹھہرنے کی جگہ ہے) یعنی حق تعالیٰ ہی اپنی مشیت سے جنتیوں اور دوزخیوں کے ٹھہرنے کی جگہ مقرر کرے گا۔ (بتا دیا جائے گا انسان اس دن جو کچھ آگے پیچھے کیا تھا) یعنی اس کے اعمال جو آگے پہنچ گئے اور اس کے اموال جو پیچھے رکھے رہ گئے۔ گناہ تو آگے بھیجتا ہے جرات کے ساتھ اور مال پیچھے رکھتا ہے حسرت کے ساتھ۔ تو چاہیے کہ گناہ کو توبہ سے نیست و نابود کردے کہ باقی نہ رہے ، اور مال صدقہ دے کر آگے بھیجے کہ ہمیشہ باقی رہے۔
Ayahs 75:14–15

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌۙ Open ayah 75:14 in the Quran reader

بلکہ انسان خود بھی اپنی حالت پر مطلع ہو گا

وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ Open ayah 75:15 in the Quran reader

اور اگرچہ وہ حیلے بہانے پیش کرے گا

(بلکہ انسان اپنے اوپر خود ہی نظر رکھنے والا ہے) یعنی اپنا حال جانتا ہے اور اپنے افعال و اقوال پر گواہ ہے (گو لا دالے اپنے بہانے) یعنی ہر چند مقدور بھر گناہ پر عذر کرے اور اسے دفع کرنے کی تدببیر سوچے مگر وہی اپنے گناہ کا گواہ ہے ، اور اپنے جھوٹے عذر اور باطل حیلوں کا جاننے والا ہے ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب حضرت جبریل حضرت سید انام ﷺ پر قرآن پڑھتے ، تو حضرت بھی زبان سے ان کے ساتھ پڑھتے کہ بھول نہ جائیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اے محبوب !۔۔۔
Ayahs 75:16–18

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ Open ayah 75:16 in the Quran reader

اے مخاطب ! اپنی زبان کو اس وقت حرکت دینے کی ضرورت نہیں

اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗۚۖ Open ayah 75:17 in the Quran reader

کہ تو جلدی کرے ، ہم تیرا سارا کیا کرایا جمع کر کے تیرے سامنے پیش کریں گے اور پڑھ کر سنا بھی دیں گے

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗۚ Open ayah 75:18 in the Quran reader

جب ہماری طرف سے پڑھا جائے تو بھی دھیان میں لاتا جا

(مت حرکت دو قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو ، کہ جلد یاد کرلو۔ بلاشبہ ہم پر ہے اس کا جمع کرنا) تمہارے دل میں تاکہ تم دیاد رکھو (اور اس کا تمہارے پڑھنے میں رکھنا) یعنی اس کی قرات کو تمہاری زبان پر ثابت کردینا۔ (تو جب ہم) جبریل کی زبانی (اسے پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو) یعنی اسی طرح تم بھی پڑھو اور اس میں غور و فکر کرو۔ یعنی اس کے مطالب و معانی کا سمجھانا بھی ہمارے ہی ذمہ کرم میں ہے ۔ تو اس کا مطلب بھی حضرت جبریل سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ، تم خود ہی غور و فکر کرو۔ حق تعالیٰ اپنے فضل سے تمہارے دل میں اس کا مطلب القا فرما دے گا ، اور اس کلام میں جو مشکل ہوگا اس کو تم پر ظاہر فرما دے گا۔ الغرض۔۔۔ تمہارا کام صرف حضرت جبریل کی قرات کی اتباع ہے ۔
Ayahs 75:19–21

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗؕ Open ayah 75:19 in the Quran reader

اگر کوئی بات وضاحت کی ہوئی تو ہم وضاحت کردیں گے

كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَۙ Open ayah 75:20 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، بلکہ تم لوگ دنیا سے محبت کرتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 75:21 in the Quran reader

اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو

(پھر بلاشبہ ہم پر ہے اس کا تم پر روشن کردینا) اور اے آدمیو ! جو تم نے عقبی کے امر میں گمان کرلیا ہے ایسا (کچھ بھی نہیں ، بلکہ تم لوگ چاہنے لگے ہو جلد جلدی والی دنیا کو) یعنی تمہاری رغبت اسی میں ہے جو تمہیں جلد حاصل ہوجائے (اور چھوڑے ہو آخرت کو) جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ یعنی فانی راحتوں کے پیچھے تو دل و جان سے دوڑ رہے ہیں اور باقی رہنے والی نعمتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے ، اور چاہیے تو یہ تھا کہ تم اس کے برعکس عمل کرتے کہ فنا ہوجانے والی نعمتوں کو نظر انداز کردیتے اور باقی رہنے والی نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔ قیامت کا دن وہ ہے کہ ۔۔۔
Ayahs 75:22–23

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌۙ Open ayah 75:22 in the Quran reader

کتنے چہرے اس روز تر و تازہ ہوں گے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ Open ayah 75:23 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے دیدار میں محو ہوں گے

(کچھ چہرے اس دن ترو تازہ ہیں) یہ انبیاء اولیاء اور مومنین کے چہرے ہیں ، جو (اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ) ہوں گے ظاہر میں بےحجاب۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کم سے کم رتبہ جنتی کا اپنے باغوں نعمتوں ، کنیزوں اور خدمتگاروں پر نظر کرے گا ، اور ہزار برس کی راہ سے انہیں دیکھے گا اور بہت بزرگ خدا کے نزدیک وہ ہے جو وجہہ الہی پر نظر کرے صبح و شام یعنی اپنی استعداد کے موافق۔ پھر یہ آیت پڑھی : وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ الی ربھا ناظرۃ۔ بعض عارفین کا کہنا ہے کہ اوتاد میں سے ہر ایک کے اوراد میں یہ کلمات ہیں اللھم انی اسئلک النظر الی وجھک الکریم ، ہر شخص جنت میں کوئی نہ کوئی آرزو رکھے گا مگر عاشق کی آرزو سوائے دیدار کے نہ ہوگی۔
Ayahs 75:24–25

وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍۭ بَاسِرَةٌۙ Open ayah 75:24 in the Quran reader

اور کتنے چہرے اس دن اد اس ہوں گے

تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌؕ Open ayah 75:25 in the Quran reader

وہ خیال کرتے ہوں گے کہ ان پر ایسی سختی ہوگی جو ان کی کمر توڑ دے گی

(اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے) ہوں گے ، یعنی منافقوں اور مشرکوں کے چہرے تاریک اور ترش ہوں گے (سمجھتے ہوں گے کہ کیا جائے گا انہیں کمر توڑ دینے والا عذاب) یعنی پہنچائی جائے گی انہیں ایسی بلا اور رنج جو ان کی ہڈیاں توڑ دے۔ یہ ان پر عذاب عظیم نازل ہونے سے کنایہ ہے اور ارباب معرفت کے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ وہ بلا حجاب ہے دیدار رب الارباب سے ، کیونکہ عشاق کے لیے فراق سے بدتر عالم میں کوئی آزمائش اور مصیبت نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ دل دنیا پر رکھ سکے اور آخرت سے غافل ہوسکے۔ ایسا۔۔۔۔
Ayahs 75:26–30

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ Open ayah 75:26 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی

وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ Open ayah 75:27 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا

وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ Open ayah 75:28 in the Quran reader

اور (مرنے والا) سمجھ لیتا ہے کہ (اب) جدائی کا وقت آگیا

وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ Open ayah 75:29 in the Quran reader

(یہ وہ وقت ہوگا کہ) سختی سختی سے مل جائے گی

اِلٰى رَبِّكَ یَوْمَئِذِ اِ۟لْمَسَاقُ٢ؕ۠ Open ayah 75:30 in the Quran reader

اس دن آپ کے رب کی طرف جانا ہو گا

(کیوں نہیں) اس لیے کہ (جب پہنچی جان گلے تک) اور گردن کی ہڈیوں میں (اور کہا گیا) یعنی جو لوگ مرنے کے قریب ہیں ان لوگوں نے کہا۔۔ یا۔۔ موت کے فرشتے بولے (کہ) کیا (کوئی جھاڑ پھونک والا ہے) اور شفا دینے والا ہے ۔ (اور اس نے) یعنی موت جس کے پیش نظر ہے (سمجھا کہ اب جدائی ہے ) یعنی جو چیز اس پر نازل ہوئی وہ دنیا اور دنیا کے لوگوں سے جدائی کا سبب ہے۔ (اور لپٹ گئ) مرنے والے کی (پنڈلی سے پنڈلی) یعنی موت کے ہول سے اس کے پاؤں آپس میں لپٹ اور سمٹ جاتے ہیں اور ان میں حرکت نہیں رہتی۔۔۔ یا موت کی شدت آخرت کی شدت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے۔ (تمہارے رب ہی کی طرف اس دن ہانک جانا) یعنی تیرے رب کی جزا کی طرف اس روز بازگشت ہوگی۔ اکثر مفسرین اس بات پر ہیں کہ ابو جہل ملعون کو حضرت سید المرسلین کے ساتھ شدت سے عداوت تھی ، تو اس کے تعلق سے یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ حق مواخذہ میں کفار بھی فروع شرعیہ کے مخاطب ہیں ، یعنی کفار بھی ایمان کے ترک کی طرح نماز وغیرہ کے ترک پر مذمت اور عقاب کے مستحق ہیں ، اگرچہ دنیا میں ان پر ادائیگی واجب نہیں۔۔۔
Ayahs 75:31–35

فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ Open ayah 75:31 in the Quran reader

پھر (اس نے) نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی

وَ لٰكِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 75:32 in the Quran reader

بلکہ (اس نے) جھٹلایا اور منہ موڑا

ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ Open ayah 75:33 in the Quran reader

پھر اتراتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا

اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ Open ayah 75:34 in the Quran reader

تیرے لیے خرابی پر خرابی ہے

ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىؕ Open ayah 75:35 in the Quran reader

پھر تیرے لیے خرابی پر خرابی ہے

(تو) ابو جہل نے (نہ تصدیق کی) قرآن کی۔ یا ۔۔۔ نہ صدقہ دیا جو کچھ مال میں سے دینا واجب تھا (اور نہ نماز پڑھی) خدا کے وسطے یا ۔۔۔ نہ پیروی کی پیغمبر کی (لیکن جھٹلایا) پیغمبر کو (اور باز رہا) راہ حق سے۔ تکذیب کا ذکر خاص طور پر اس لیے کردیا کیونکہ تصدیق نہ کرنا تکذیب کو مستلزم نہیں ، تو اس بدبخت نے تصدیق نہ کرنے کے ساتھ ساتھ تکذیب بھی کرڈالی۔ (پھر گیا اپنے والوں کی طرف) اس حال میں کہ (اکڑ رہا ہے) اور فخر و افتخار کی راہ سے ٹہل رہا ، ہے کہ میں نے ایسا ایسا کام کیا ہے ، یعنی تکذیب بھی کی ہے اور بےرخی بھی برتی ہے۔ تو اے ابو جہل سن لے ! کہ سزاوار ہے تجھ کو مت سخت ، تو (تیرا برا ہو) موت کے وقت۔ ۔ نیز۔۔ (اب برا ہو) یعنی قبر میں دردناک عذاب ہو (پھر برا ہو) یعنی ہول قیامت تجھے سزاوار ہے (تو پھر برا ہو) یعنی تجھے دوزخ میں ہمیشہ رہنا سزاوار ہے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ نے ابو جہل کو بطحا میں دیکھا اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ اولی لک فاولی ابو جہل کہ اے محمد ! تم مجھے ڈراتے ہو۔ اور بعضے علما کے نزدیک اولی ویل کے معنی میں ہے ، حق تعالیٰ نے تاکید کے واسطے چار بار ابوجہل کو فرمایا کہ وائے تجھ پر ، یعنی ہلاکت ہو تجھ پر۔۔۔
Ayahs 75:36–40

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًىؕ Open ayah 75:36 in the Quran reader

کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ ایسے ہی چھوڑ دیا جائے گا

اَلَمْ یَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰىۙ Open ayah 75:37 in the Quran reader

کیا وہ (محض) ایک منی کی بوند نہ تھا جو رحم میں ٹپکا دیا گیا ؟

ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ Open ayah 75:38 in the Quran reader

پھر وہ جما ہوا خون بنا پھر (اللہ نے) اسے بنایا اور اس کے اعضا درست کیے

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ Open ayah 75:39 in the Quran reader

پھر اس کو مرد اور عورتوں دو صنفوں میں (تقسیم کر کے) بنایا

اَلَیْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى۠ Open ayah 75:40 in the Quran reader

کیا وہ (اللہ) اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو پھر سے زندہ کر دے ؟

(کیا خیال کر رہا ہے یہ ) بعث و حشر کا منکر (انسان ، کہ چھوڑ دیا جائے گا بےکار) مہمل ، معطل اور ضائع کہ دنیا میں مکلف اور عقبی میں مبعوث اور معذب نہ ہوگا۔ قدرت خداوندی کو نہ سمجھ لینے والو سوچو کہ ۔۔۔ (کیا نہ تھا) یہ انسان (قطرہ منی کا جو ٹپکایا جاتا ہے ) رحم میں (پھر ہوا لوتھڑا) یعنی جما ہوا خون ، (تو پیدا فرمایا) اس کے اجزا اور اعضا (اب سڈول کیا) یعنی راست اور درست کردیا اس صورت اور اس میں روح پھونکی (پھر کردیا اس) منی (سے جوڑے) دو قسم (مرد و عورت) یعنی نر اور مادہ ۔ (کیا نہیں ہے ایسا خالق قدرت والا اس پر کہ زندہ کردے مردوں کو) ۔ حدیث میں ہے کہ یہ سورت پڑھنے کے بعد کہنا چاہیے۔ بلی انہ علی کل شیء قدیر۔ کیوں نہیں ! وہ ہر چاہے پر قدرت والا ہے۔ دوسری راویت میں ہے : سبحانک اللھم بلی۔ ہر طرح کی بےچارگی ، ناطاقتی اور بےاختیاری سے پاک ہے تیری ذات اے خدائے قادر مطلق ! بیشک تو ہر چاہے پر قدرت والا ہے ۔۔۔ بعض عارفین اس موقع پر سبحان ربی الاعلی کہا کرتے تھے۔