Ayahs 75:1–151۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ ہڈیوں کی خاک کو جمع کرکے پھر ان کو ہڈیاں بنا دینا یہ تو انسان کی پیدائش کے موافق ایک بات ہے ہم تو پہلی پیدائش سے نیو چیز پر بھی قادر ہیں کہ ابھی دنیا میں چاہیں تو اس کی انگلیوں کی پوروں کی ہڈیوں کو ایک ہڈی کردیں جس سے اس کا پنجہ اونٹ کا سا ہوجائے پھر وہ کوئی چیز ہاتھ سے نہ پکڑ سکے۔ سورة یٰسین میں گزر چکا ہے کہ ایک شخص عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی آنحضرت ﷺ کے پاس لایا اور اس ہڈی کو مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑائی اور اس اڑی ہوئی خاک کے جمع ہوجانے اور اس سے پھر ہڈی کے بن جانے میں طرح طرح کی بحث کی۔ اس کی ایک بحث کا جواب کا ذکر فرمایا ہے۔ پھر فرمایا کہ ایک حق بات جو انسان کے سامنے آنے والی ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے اور نیک اور بد کی جزا و سزا ہونی ہے یہ اس کا منکر ہے اور اس لئے پوچھتا ہے کہ آخر وہ مر کر پھر جینے کا دن کب ہے ؟ یہ نہیں جانتا کہ جب وہ دن آئے گا تو سورج کے قریب آجانے ‘ دوزخ کو آنکھوں کے سامنے لا کر کھڑا کردیئے جانے ‘ دوزخ کی آگ کے پیچھے لگ جانے سے اس کی آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ صحیح بخاری 1 ؎ وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سورج اور چاند کو قیامت کے دن لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جس سے دوزخ کی آگ کی تیزی بڑھ جائے گی۔ مقداد سے صحیح 2 ؎ مسلم میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ سورج حشر کے وقت ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آجائے گا اور لوگ اپنے اپنے اعمال کے موافق پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ کوئی ٹخنوں تک ‘ کوئی گھنٹوں تک ‘ کوئی گلے تک اور کسی کا پسینہ تو سر سے بھی اونچا ہوجائے گا۔ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا نافرمان لوگ جب قبروں سے اٹھیں گے تو ان کو محشر کے میدان تک ایک آگ گھیر کرلے جائے گی۔ جو دوزخ میں جانے تک ان کے ساتھ رہے گی۔
صحیح 1 ؎ مسلم ترمذی وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لا کر کھڑا کیا جائیگا۔ غرض جن آفتوں کا ذکر ان حدیثوں میں ہے ‘ یہ اور اسی طرح کی اس دن کی اور آفتیں دیکھ کر انسان اپنے دل میں کہیں بھاگ جانے کے منصوبے باندھے گا۔ لیکن سوا اللہ کے رو برو کھڑے ہونے کے اور کوئی چارہ اس کو نہ ہوگا اور تمام عمر کے اعمال کا اس سے حساب لیا جائے گا اور اس دن وہ چاہے کہ کسی برے کام سے مکر جائے تو یہ بھی نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ اور گواہوں کے علاوہ اس کے ہاتھ پیر بھی اس کے مخالف شہادت ادا کریں گے۔ چناچہ فرمایا وتکلمنا ایدیہم و تشھد ارجلہھم بما کانوا یکسبون۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں انس بن مالک کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں بھی ہاتھ پیروں کی اس شہادت کا ذکر ہے اس لئے فرمایا کہ اس دن آدمی کے بھاگنے کے منصوبے کچھ کام نہ آئیں گے اور اپنے کئے پر خود اس کو سوجھ ہو کر آنکھیں کھل جائیں گی کہ عمر بھر اس نے کیا کیا۔ وزر کے معنی پناہ کی جگہ کے ہیں۔
1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 381 ج 2۔
2 ؎ صحیح مسلم فصل بیان ان الاعضاء منطقۃ شاھدۃ یوم القیمۃ الخ ص 409 ج 2۔
(3 ؎ مسند امام احمد ص 251‘ 252‘ 256 ج 5۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الشمس والقمر بحسبان الخ ص 454 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب فی صفۃ یوم القیامۃ الخ ص 384 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب کیف الحشر ص 965 ج 2۔ )
Ayahs 75:16–2516۔ 25۔ شروع سورة سے منکرین حشر اور قیامت کا ذکر تھا اور پھر آخر سورة میں بھی وہی ذکر ہے بیچ میں یہ آیتیں آگئیں اس خوف سے کہ کوئی آیت بھول نہ جائیں جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لاتے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ وحی کی آیتوں کو وہ بھی پڑھنا شروع کردیتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اسی واسطے ان آیتوں کو سورة کی اول اور آخر کی آیتوں کے مضمون سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس بےتعلقی کے سبب سے امامیہ مذہب کے مفسروں نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس سورة میں چند آیتیں رہ گئی ہیں۔ ان کی یہ بات تو غلط ہے کیونکہ ان ہی آیتوں میں جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے اکٹھا اور جمع کردینے کا وعدہ فرمایا ہے تو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے خلاف یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ چند آیتیں جمع ہونے سے رہ گئی ہوں اور امامیہ مذہب کے مفسروں کے علاوہ اہل سنت میں سے بعض مفسروں نے ان آیتوں کی بےتعلقی کے سبب سے طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں لیکن مسند امام احمد ابو داؤد 4 ؎ ترمذی ‘ نسائی ‘ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہر ایک سورة میں ہر ایک آیت آنحضرت ﷺ کاتبوں سے کہہ کر اور پتہ بتا کر لکھوایا کرتے تھے اور مسند امام احمد وغیرہ کی حضرت عثمان بن ابی العاص کی روایت سے یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہر ایک آیت کا موقع اور مقام آنحضرت ﷺ کو سمجھا دیا کرتے تھے تو یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ سورة طہ کی آیت ولا تعجل بالقران من قبل ان یقضی الیک وحیہ اور اس سورة کی اس آیت کا سبب نزول یہی ہے کہ ان دونوں سورتوں کے نازل ہونے کے وقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی قرأت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو پڑھنے کا موقع پیش آیا اور اس وقت یہ ممانعت کا حکم نازل ہوا اور جس سورة کے نزول کے وقت کا یہ حکم تھا اسی سورة میں یہ آیتیں شمار کی گئیں اس لئے اصل سورة کے مضمون سے ان آیتوں کا کچھ تعلق نہیں ہے بلکہ ایک جدا مضمون اور جدا حکم کی یہ آیتیں ہیں جو حسب موقع ہر ایک سورة میں شریک کی گئی ہیں اس کے بعد سلسلہ منکرین حشر کے ذکر کا پھر شروع کیا۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کے عقبیٰ سے غافل رہنے کا اور کوئی سبب نہیں فقط اس کا یہی سبب ہے کہ یہ لوگ دنیا کی محبت اور الفت میں گرفتار ہو کر ایسے کام کرتے ہیں جس سے گناہ پر گناہ کرتے کرتے ان کے دل بالکل مردہ ہوگئے ہیں اور ان پر زنگ آگیا ہے جس زنگ کے سبب سے ان کے دل پر عقبیٰ کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے ان لوگوں نے عقبیٰ کے خیال کو چھوڑ رکھا ہے۔ مسند 1 ؎ امام احمد صحیح ابن حبان مستدرک حاکم میں ابو درداء سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کی اس قدر فراغت جو آدمی کی ضرورتوں کو کافی ہو اس مال داری سے بہت بہتر ہے جو آدمی کو دین سے غافل کر دے۔ حاکم 2 ؎ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور مسند امام احمد کی سند بھی قوی ہے اب اس کے بعد دنیا کے پیچھے جو لوگ دین کو بالکل چھوڑ بیٹھے تھے ان کا اور ان کے برعکس جو لوگ دنیا میں گزر کرتے تھے ان کے آخرت کا انجام کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ دنیا میں رہ کر عقبیٰ کو نہیں بھولے تھے بلکہ ثواب آخرت کی نیت سے انہوں نے اپنی نیکیوں کا پلڑا بھاری کرلیا تھا جب ایسے لوگ جنت میں داخل ہو کر جنت کی طرح طرح کی نعمتوں سے اس قدر خوش ہوں گے کہ خوشی کے مارے ان کے چہروں پر ایک رونق اور چمک آجائے گی تو ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ان کو ایک یہ نعمت عطا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔ جس غلام کی آغا تک رسائی ہو اس کی ہر طرح کی روز بروز کی بہبودی ایک لازمی بات ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے دیدار سے بڑھ کر کوئی نعمت جنت میں نہیں ہوسکتی۔ پھر ان لوگوں کے عقبیٰ کے انجام کا ذکر فرمایا جو دنیا کی زندگی پر غش اور عقبیٰ سے بیخبر تھے کہ جب جنتی اور دوزخیوں کو الگ الگ کیا جائے گا تو ان کے چہروں پر ایک اداسی چھائی ہوئی ہوگی۔ اور دوزخ کی بلا سر پڑنے سے پہلے وہ جان لیں گے کہ ان پر ایسی بھاری بلا آنے والی ہے جس سے ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ نیک لوگوں کو عقبیٰ میں اللہ کا دیدار جو نصیب ہوگا۔ اس کا ذکر صحیح 3 ؎ حدیثوں میں تفصیل سے آیا ہے کہ بغیر ابر والے دن میں سورج کو اور ابر والی رات میں چاند کو سب لوگ جس طرح دیکھتے ہیں اسی طرح جن لوگوں کو دیدار الٰہی نصیب ہوگا اور دیدار الٰہی سے مشرف ہوں گے۔ معتزلی ‘ خارجی اور مرجیہ فرقے کے بعض لوگوں نے دیدار الٰہی کا انکار کیا ہے اور اہل سنت نے طرح طرح سے ان لوگوں کو قائل کیا ہے خاص کر اس مسئلہ میں بڑی بڑی کتابیں تصنیف ہوئی ہیں۔ فاقرہ وہ سخت مصیبت ہے جس سے آدمی کی کمر ٹوٹ جائے۔
(4 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة التوبۃ ص 157 ج 2۔ )
(1 ؎ الترغیب والترہیب الترغیب فی الفراغ للعبادۃ الخ ص 203 ج 4۔ )
(2 ؎ الترغیب والترہیب الترغیب فی الفراغ للعبادۃ الخ ص 204 ج 4۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الایۃ ص 1105 ج 2۔ )
Ayahs 75:26–4026۔ 40۔ اوپر ان اہل دنیا کا ذکر تھا جنہوں نے دنیا کے پیچھے اپنی عقبی کو برباد کردیا ان آیتوں میں انہی لوگوں کے خبردار کرنے کے لئے فرمایا کہ جس طرح ان لوگوں نے خیال کرلیا ہے کہ دنیا ایک پائیدار چیز ہے وہ بات ہرگز نہیں ہے یہ لوگ دنیا کو نہ چھوڑیں دنیا کے پیچھے عمر بھر عقبیٰ کو برباد کریں۔ پھر آخر یہ دنیا کی گرویدگی عقبیٰ کی بربادی کب تک۔ ان کے بڑوں میں سے کوئی ہمیشہ جیا ہے جو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ قبر ‘ حشر ‘ قیامت کی باتیں تو بھلا آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں کیا کسی کی یہ حالت بھی ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں گزری کہ آخری وقت آن پہنچا اور جان سارے جسم میں سے کھنچ کر حلق میں آگئی۔ ایسے حکیم یا جھاڑنے پھونکنے والے کی ڈھونڈیا پڑی جو بیمار کو اچھا کر دے۔ ادھر بیمار کو زندگی سے ناامیدی ہوگئی مرنے کا گمان قوی ہوگیا پکے دنیا داروں کو جان بہت پیاری ہوتی ہے ‘ مرنا نہیں چاہتے آخری وقت تک ان کو زیست کی توقع رہتی ہے۔ اس لئے یقین کی جگہ گمان کا لفظ فرمایا لیکن آخر یہ گمان یوں یقین کے درجے کو پہنچ گیا کہ پیروں کا دم نکل گیا۔ پنڈلیاں بالکل سوکھ گئیں یہاں تک کہ پیروں کو کوئی دوسرا آدمی سیدھا نہ کرے تو سمٹے ہی ہوئے رہ جائیں۔ آخر سارے جسم سے کھنچ کر جو جان حلق میں آگئی تھی اس نے بھی جسم کو چھوڑ دیا۔ اور پھر اس جان کا پالا اس پروردگار سے پڑا جس نے پہلے جسم میں جان ڈالی تھی۔ مسند 1 ؎ امام احمد ابو داؤود وغیرہ میں براء بن عازب ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک آدمی کی روح جب جسم سے نہایت آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے تو اس کو ساتویں آسمان پر فرشتے لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ اس کا نام اس دفتر میں لکھ لو جس کا نام علیین ہے اور روح کو منکر نکیر کے سوال و جواب کے لئے زمین پر پھر لے جائو۔ اور مردے کے جسم میں اس کو جانے دو ۔ اور بد آدمی کی روح کو جب اول آسمان تک فرشتے لے جاتے ہیں تو اس کو آسمان پر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی بلکہ یہیں سے سجین میں اس کا نام لکھ لینے کا حکم ہوتا ہے اور روح کو منکر نکیر کے سوال و جواب کے لئے مردے کے جسم میں چھوڑ دیا جاتا ہے منذری 2 ؎ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اکثر سلف کا قول ہے کہ علیین ساتویں آسمان پر ایک دفتر ہے جس میں نیک روحیں اور ان کے اعمال نامے ہیں اور سجین ساتوں زمین پر ایک دفتر ہے جس میں بد روحیں اور ان کے اعمال نامے ہیں۔ اس حدیث سے آیت کی یہ تفسیر معلوم ہوگئی کہ جسم سے نکلتے ہی نیک و بد روح کا پالا اللہ تعالیٰ سے کیونکر پڑتا ہے اب ایسے لوگوں کی شان میں آخر سورة تک آیتیں نازل فرمائیں جو اہل مکہ میں منکر حشر تھے اور یہ کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ کیونکر پیدا ہوجائیں گی۔ ان کے حال میں یہ فرمایا کہ یہ لوگ نادانی سے ایسی باتوں کے منکر ہیں جن باتوں کی صداقت ہر عقل مند کے دل میں ہونی چاہئے۔ جیسے مثلاً یہ بات کہ جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز منی سے آدمی کی ہڈیاں پسلی آنکھ ناک غرض سارا پتلا بنا دیا اور رحم جیسی تنگ جگہ میں روح کا تعلق اس جسم سے کردیا جس سے روح کو کبھی پہلے کچھ واسطہ نہ تھا اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ مٹی جیسی پرکار چیز سے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح خاک کا پتلا بنا کر کھلے میدان میں روح کا اس پتلے سے تعلق کر دے جس پتلے اور روح میں ہر شخص کی عمر کی مدت تک تعلق پہلے دنیا میں رہ چکا ہے۔ اسی طرح یہ بات ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ جس اللہ نے انسان کو انسان کی زندگی سے قائم رہنے کے ہر ایک طرح کے سامان کو پیدا کیا اس اللہ کی تعظیم انسان پر لازم ہے برعکس اس کے یہ لوگ بتوں کی تعظیم کرتے ہیں اور خالص اللہ کی تعظیم میں ایک سجدہ تک ان سے ادا نہیں ہوسکتا اور اسی طرح ہر شخص سمجھ دار سمجھ سکتا ہے کہ انسان جب ایسی حقیر چیز سے پیدا ہوا ہے تو اس کی کوئی چیز اترانے کے لائق نہیں ہے۔ برخلاف اس کے بازار وغیرہ میں جب یہ لوگ کسی شخص کو اپنے سے کم درجہ کا خیال کرکے اپنے گھر کی طرف مڑتے ہیں تو ایسے مغروروں کی چال سے اتراتے ہوئے گھر تک پہنچتے ہیں کہ ان میں کا ہر شخص گویا کہ فرعون ہے۔ آگے چار دفعہ تاکید سے یہ جو فرمایا ” تیری خرابی ہے۔ “ اس کی شان نزول نسائی ‘ تفسیر 1 ؎ ابن جریر وغیرہ میں معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے یہ ہے کہ ابوجہل کی طرح طرح کی شرارتوں کے سبب سے ایک روز آنحضرت ﷺ نے ابوجہل کی چادر کا پلو پکڑ کر یہی لفظ فرمائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے کلام کی صداقت کے طور پر یہی لفظ ان آیتوں میں نازل فرمائے۔ حاکم 2 ؎ نے اس شان نزول کو صحیح کہا ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ بدر کی لڑائی کے وقت ابوجہل کی جو خرابی پیش آئی اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اگرچہ آنحضرت ﷺ نے یہ لفظ خاص ابوجہل کے حق میں فرمائے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کے عام طور کے ذکر میں یہ لفظ اس لئے فرمائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ خرابی کچھ ابوجہل پر منحصر نہیں ہے بلکہ جو شخص ابوجہل کی سی عادتوں کا ہوگا اس کے پیچھے یہ دونوں جہان کی خرابی لگی ہوئی ہے پھر فرمایا کہ اس نادان انسان نے یہ گمان کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بےفائدہ پیدا کیا ہے۔ دنیا میں نہ کسی نیک کام کرنے کی اس کو تاکید کی جائے گی نہ کسی بد کام سے اسے روکا جائے گا۔ پھر دنیا کا معاملہ دنیا پر ہی ختم کرکے نہ اس کو پھر دوبارہ پیدا کیا جائے گا نہ نیک و بد کی کچھ جزا و سزا دی جائے گی اس نادان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر دنیا کا معاملہ دنیا پر ختم رہے تو دنیا کا پیدا کرنا بالکل بلا نتیجہ رہے گا جو اللہ کی حکمت سے سرتا پا بعید ہے اسی طرح اس نادان کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جس قادر مطلق نے اس طرح خلاف عقل ایک قطرہ پانی سے انسان کو سب کی آنکھوں کے سامنے پیدا کیا پھر یہ تو تجربہ انسانی کی بات ہے کہ جو کام ایک دفعہ کرلیا گیا پھر دوبارہ اس کا کرنا نہایت سہل ہوجاتا ہے چند روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے ختم کے بعد لفظ بلیٰ کا کہنا سنت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہاں اللہ تعالیٰ انسان کے دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے کیونکہ اس کی قدرت سے کوئی بات نہیں ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فیما یقال عند من حضرہ الموت الفصل الثالث ص 142 )
(2 ؎ اترغیب والترہیب فصل فے عذاب القبر ونعیمہ الخ ص 710 ج 4۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 452 ج 4۔ )
(2 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص 296 ج 6۔ )