Ayahs 76:1–31۔ 3۔ لم یکن شیئا مذکورا کا یہ مطلب ہے کہ انسان کا وجود اگرچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم الٰہی میں تو تھا لیکن آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے انسان کا کچھ تذکرہ ظاہر نہیں تھا۔ اوپر صحیح 2 ؎ حدیثوں کے حوالہ سے یہ گزر چکا ہے کہ ہر ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو فطرت اسلام پر پیدا کرتا ہے جب تک اس بچہ کی زبان کھلتی ہے اور بات چیت کرنی سیکھتا ہے اس وقت تک اسی فطرت اسلامی کی حالت پر رہتا ہے اور بعد اس کے ہر ایک امت کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کی ہدایت آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے بیان کی جاتی ہے اگر اس بچہ کے ماں باپ نیک راستہ پر نہ ہوئے تو پھر وہ بچہ ماں باپ کی صحبت سے اور شیطان کے بہکانے سے بگڑ جاتا ہے اس واسطے پہلے پیدائش انسان کا ذکر فرمایا کہ پیدائش کے وقت جو نیک راہ انسان کو دکھا دی جاتی ہے پیدا ہونے کے بعد ہوشیار ہو کر بعض اس پر قائم رہتے ہیں اور بعض نہیں رہتے۔ پھر نیک راہ پر قائم رہنے والوں اور نہ رہنے والوں کے انجام کے طور پر جنت و دوخ کا اور جنت کی طرح طرح نعمتوں اور دوزخ کے طرح طرح کے عذابوں کا ذکر فرمایا۔ اور دنیا میں اہل جنت اور اہل دوزخ کی جو نشانیاں ہیں وہ بھی ذکر فرمائیں کہ اہل جنت وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فرائض کو اور اپنی طرف سے جو نذریں مان لیں اس کو پورا کرتے ہیں اور اللہ کے نام پر محتاجوں کو کھانا کھلاتے رہتے ہیں اور اہل دوزخ وہ ہیں جو عاقبت کو بھولے ہوئے ہیں اور رات دن دنیا کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں اور فقط ذکر نذر کا اس لئے فرمایا کہ جو شخص اپنی مانی ہوئی نذر کو خالص دل سے اللہ کے واسطے ادا کرے گا وہ اللہ کے فرائض کو ضرور ادا کرے گا۔ صحیحین 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ اور اس طرح کی شرع کی تکلیف کی چیزوں سے گھری ہوئی ہے اور دوزخ طرح طرح کی حرص و ہوا کی چیزوں سے گھرا ہوا ہے۔ امام نووی 2 ؎ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ جنت اور 2 دوزخ و مکان ہیں اور تکلیفات شرعیہ اور ممنوعات شرعیہ ان دونوں مکانوں کے دو رہبر ہیں جس شخص نے تکلیفات شرعیہ کو اپنا پیشوا اور رہبر بنایا وہ جنتی ہوا اور جس نے دنیا کی حرص و ہوس کی چیزوں کو اپنا پیشوا اور رہبر بنایا وہ دوزخی ہوا۔ صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ دنیا ایک بازار ہے بعض لوگ اس بازار سے اپنی ہلاکت کی چیزیں خریدتے ہیں اور بعض لوگ اپنی نجات کی چیزیں خریدتے ہیں۔ امشاج کے معنی مرد اور عورت کی ملی ہوئی منی۔ نبتلیہ کے معنی یہ ہیں کہ علم ازلی میں نیک و بد جو ٹھہر چکے تھے علم ظاہری میں ان کا طہور جانچنے کو انسان کی پیدائش عمل میں آئی کیونکہ علم باطنی پر جزا و سزا کا مدار خلاف انصاف تھا۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب اللہ اعلم ماکانوا عاملین ص 976 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفت نعیمھا واھلھا ص 378 ج 2۔ )
(؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفت نعیمھا واھلھا ص 378 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب فضل الوضوء ص 118 ج 1۔ )
Ayahs 76:4–124۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ پیدائش کے وقت نیک راہ پر انسان کو پیدا کیا جاتا ہے اور پھر انسان کے بڑھنے کے بعد اس کی ہدایت کے لئے رسول بھیجے جاتے ہیں ہر طرح کا نجات کا راستہ آسمانی کتابوں کے ذریعے اس کو سمجھایا جاتا ہے لیکن بعض لوگ اس نیک راہ پر قائم ہیں اور بعض نہیں ‘ غرض یہ سب ذکر تو نیک و بد دنیا کی حالت کا تھا اب اس دنیا کی حالت کے موافق جو کچھ سزا و جزا کی حالت ان دونوں گروہوں کی آخرت میں ہوگی اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا کہ اہل سزا کے پائوں میں بیڑیاں ہوں گی اور گلے میں طوق۔ جس طوق میں ہاتھ بھی جکڑے ہوں گے اور دہکتی آگ میں اس زنجیر و طوق میں جکڑنے کے بعد ان لوگوں کو جھونک دیا جائے گا اہل جزا کی حالت یہ ہے کہ جنت کے درجوں کا حال تو اوپر گزر چکا ہے ان میں سے اپنے اپنے عمل کے موافق ہر شخص کو جنت کے ہر درجہ میں عام شراب کی نہر تو ہر جنتی کے گھر میں ہوگی مگر اعلیٰ درجے کی شراب کے چشمے کو جس کا نام کافور ہے جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو عام طور پر استعمال کریں گے بلکہ جنت کے جس محل میں چاہیں گے وہاں اس چشمے سے نہر جاری ہوجائے گی لیکن مقرب لوگوں سے کم درجے کے لوگوں کی عام شراب میں اس اعلیٰ درجہ کی شراب کی ملونی ملائی جائے گی اب آگے ابرار لوگوں کے ان عملوں کی تفصیل فرمائی۔ جن عملوں کے سبب سے ان کو یہ درجہ ملا ہے وہ تفصیل یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی فرض کی ہوئی عبادت کو تو پورے طور پر ادا کرتے ہیں تھے لیکن اپنی مانی ہوئی نذر کو اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کی نیکی کو بھی باوجود تنگ دست ہونے کے خالص عقبیٰ کے ثواب کی نیت سے پورا کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عقبیٰ میں ان کو یہ درجہ دیا جو مقرب لوگوں کی خاطر داری کے قریب قریب ہے۔ ابرار عام نیک لوگوں کو فرمایا۔ انہی کی عام شراب میں کافوری چشمہ کی شراب کی ملونی ہوگی اور جو خاص اللہ کے بندے کافور چشمہ کی شراب کو عام طور پر استعمال کریں گے وہ مقرب لوگ ہیں جن کا ذکر سورة واقعہ میں گزرچکا ہے۔ ولقاہم نضرۃ و سرورا کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا کچھ دیا جس کی فرحت کا اثر ان کے چہروں سے ظاہر ہونے لگا۔ بما صبروا کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ممنوعات شرعیہ سے نفس کو روکا اور صبر کیا اسی طرح مامور شرعی کے بجا لانے کی تکلیف کو اور ہر طرح کی مصیبت کی تکلیف کو جھیلا اور صبر کیا۔
Ayahs 76:13–2213۔ 22۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود اجالا ہوگا اور اس اجالے کے ساتھ ہمیشہ ایک بیچ کی راس کا موسم رہے گا اگرچہ وہاں سورج نہیں ہے جس کی دھوپ سے بچنے کے لئے سایہ کی ضرورت ہو لیکن زیادہ ٹھنڈک کے لئے گھنے درختوں کی خوب گہری چھائوں ہوگی اور میوے دار درختوں کے میوے اس ڈھب پر لگے ہوں گے کہ ان میووں کو جنتی لوگ کھڑے بیٹھے ہر حالت میں کھا سکیں گے۔ وہاں چاندی کے برتن ایسے شفاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح اندر کی چیز باہر نظر آئے گی اگرچہ جنت میں کھانے پینے ‘ پہننے ‘ برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے جلتے ہیں لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے جیسے مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے ہی دن وہ کھٹا نہ ہوجائے وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیاں بھنک کر اس میں جم جم کر نہ مریں۔ اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب سے اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہوجائے۔ اسی طرح جنت کے یہ چاندی کے برتن ہوں گے جن میں سے اندر کی چیز باہر سے نظر آئے گی۔ دنیا کی زمین مٹی کی ہے اور جنت کی زمین چاندی کی ہوگی جس صاحب قدرت نے دنیا کی زمین کی مٹی میں یہ تاثیر دی ہے کہ اس سے شیشہ بن جاتا ہے اور اس شیشہ کے برتن میں سے اندر کی چیز باہر سے نظر آتی ہے جنت کی زمین کی چاندی میں اس تاثیر کا دے دینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے۔ حضرت عبد اللہ بن 1 ؎ عباس فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں کوئی چاندی کی چیز ایسی شفاف نہیں جس میں اندر کی چیز باہر سے نظر آئے اس لئے وہ برتن جس دن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دکھائے گا اسی دن چاندی کا ایسا شفاف ہونا سمجھ میں آئے گا یہ چاندی کے آبخورے پیاس کی مقدار کے موافق ہوں گے تاکہ نہ جھوٹی چیز بچے نہ دوبارہ پھر مانگنے کی ضرورت ہو ابرار لوگوں کی شراب میں کبھی کافور چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور کبھی زنجبیل چشمہ کی سلسبیل کے معنی بہتا ہوا چشمہ۔ جنت میں نو عمر لڑکے اہل جنت کی خدمت گزاری میں ہوں گے اور وہ خوبصورت لڑکے اسی لڑکپن کی عمر میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ کام کاج میں ہر وقت پھرتے رہیں گے اس لئے ان کی مثال بکھیرے ہوئے موتیوں کی فرمائی۔ تفسیر خازن میں اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ حوروں کی پیدائش کی طرح وہ لڑکے بھی جنت کی مخلوقات میں سے ہیں بنی آدم میں سے نہیں ہیں۔ جنت کی نعمتوں کو بڑی بادشاہت اس لئے فرمایا کہ صحیح 1 ؎ مسلم میں مغیرہ بن شعبہ کی جو روایت ہے اس کے موافق ادنیٰ سے ادنیٰ اہل جنت کے قبضہ میں دنیا سے دس چند ملک ہوگا اس طرح ترمذی 2 ؎‘ ابن ماجہ ‘ داری اور صحیح بن حبان میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ادنیٰ سے ادنیٰ اہل جنت کی خدمت میں اسی ہزار خدمت گار اور موتیوں اور یاقوت کے خیمے ہوں گے۔ ترمذی نے اگرچہ اس حدیث کو غریب کہا ہے لیکن صحیح 3 ؎ ابن حبان کی سند معتبر ہے ان حدیثوں سے ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا کہ جب ادنیٰ سے ادنیٰ اہل جنت کی یہ شان ہے تو متوسط درجہ اور اعلیٰ درجہ کے اہل جنت کی کیا شان ہوگی۔ اسی واسطے حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس قدر جگہ میں گھوڑے کا سوار اپنے گھوڑے کا کوڑا ڈال دیتا ہے جنت کی اتنی سی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے۔ سندس ریشمی باریک کپڑے کو کہتے ہیں اور استبرق موٹے ریشمی کپڑے کو ‘ اس سورة میں چاندی کے کنگنوں کا جو ذکر ہے یہ اہل جنت اور جنت کے درجوں کے موافق ہے جیسا کہ خالص اور ملونی کی شراب کا ذکر گزرا۔ اور سورة واقعہ میں گزر چکا ہے کہ بعض اہل جنت تختوں پر بیٹھیں گے اور بعض فرش پر ‘ شراب طہور وہ شراب ہے جس کے پینے سے اہل جنت کے دل نورانی ہوجائیں گے۔ ان میں آپس کا حسد کوئی مادہ باقی نہ رہے گا۔ جب اہل جنت کو یہ جنت کی سب نعمتیں مل جائیں گی تو انہیں ان نعمتوں کا سبب یوں جتلایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہاری تھوڑی سی عمر کے اعمالوں کے بدلہ میں یہ ابدالآباد کی نعمتیں تم کو دی ہیں۔ بندوں کی سعی کو اللہ تعالیٰ نے مشکور فرمایا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے عملوں کو قبول فرمایا۔ ٹھہر کے معنی زدر کی سخت سردی۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 456 ج 6۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ واحخراج الموحدین من النار ص 106 ج 1۔ )
(2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء مالامدنیٰ اھل الجنۃ من الکرامۃ ص 93 ج 2۔ )
(3 ؎ اترغیب والترہیب فصل فیما الادنیٰ اھل الجنۃ ص 944 ج 4۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 972 ج 2۔ )
Ayahs 76:23–3123۔ 31۔ اوپر نیک و بد لوگوں کا اور جنت اور دوزخ کا حال تھا اس قسم کی آیتیں آنحضرت ﷺ سے حشر کے منکر لوگ جب سنتے تو یہ کہتے کہ محمد ﷺ نے یہ خلاف عقل باتیں اپنی طرف سے بنا لی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تو ایک سیدھی سی بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام انسان جانتے ہیں تو ایک چھوٹی سی سورة یہ لوگ بھی بنا کر پیش کریں۔ جب اس بات سے یہ لوگ عاجز ہیں تو پھر ان لوگوں کا قرآن کو کلام انسان کہنا محض ان کی ہٹ دھرمی ہے۔ یہ کلام بلاشک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سہج سہج ضرورت کے موافق ‘ اے نبی اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ جو فرمایا تو راہ دیکھ اپنے رب کے حکم کی اور ان گناہ گار ناشکر لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کر۔ یہ راہ دیکھنے کا حکم جہاد کا حکم تھا جس کے نازل ہونے کے بعد آخر کو مکہ فتح ہوا اور اہل مکہ اسلام کے تابع ہوگئے تفسیر مقاتل میں 1 ؎ ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن مغیرہ نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے کہا تھا کہ اے محمد ﷺ تم یہ نئی دین کی باتیں دنیا کمانے کے لئے کرتے ہو تو ہم بہت سامان تمہارے لئے جمع کرسکتے ہیں اور مکہ میں جو عورت تمہاری پسند کی ہو اس سے تمہارا نکاح کرا سکتے ہیں یہاں تک کہ عتبہ اپنی بیٹی بغیر مہر کے آپ ﷺ کے نکاح میں دینے کو راضی ہوگیا۔ یہ عورت نہایت خوبصورت تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ آخرت کے تو منکر ہیں فقط دنیا پر ان لوگوں کا مدار ہے اور اللہ کے نزدیک دنیا کوئی چیز نہیں ہے۔ اس لئے اے نبی اللہ کے تم ان لوگوں کی ایک نہ سنو اور لوگوں کی نصیحت اور اللہ کی عبادت میں جہاں تک ممکن ہو رات دن لگے رہو۔ اللہ تمہاری ہر طرح کی مدد کو کافی ہے۔ یہ گناہ گار کافر لوگ تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں۔ مقاتل بن سلیمان کی تفسیر کو امام شافعی (رح) نے معتبر کہا ہے۔ مستدرک 2 ؎ حاکم میں ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس طرح تم لوگ اپنے بیمار آدمی کو بد پرہیزی کی چیزوں سے بچاتے ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو دنیا کی ثروت سے بچاتا ہے۔ حاکم 3 ؎ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ اس باب میں صحیح ابن حبان اور طبرنی وغیرہ میں متعبر سند سے اور بھی روایتیں ہیں۔ مستند 4 ؎ ابو یعلی ‘ طبرانی ‘ مستدرک حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حشر کے میدان میں سورج کے قریب آجانے سے گناہ گار لوگوں کو پسینے اور گرمی کی ایسی تکلیف ہوگی کہ وہ اس تکلیف سے دوزخ میں جانے کو اچھا گنیں گے اس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ جب اس دن کی ایک چھوٹی سی تکلیف ایسی بھاری ہوگی تو اور بڑی تکلیفوں کا کیا ٹھکانہ ہے۔ اسی واسطے اس دن کو بھاری فرمایا۔ حشر کی باتوں کو یہ لوگ خلاف عقل جو کہتے تھے اس کے جواب میں فرمایا کہ پانی جیسی پتلی چیز سے جب اللہ تعالیٰ نے ان کی ہڈی پسلی وغیرہ ی سب مضبوط چیزیں ان کی آنکھوں کے سامنے پیدا کردیں تو وہ جب چاہے ان کے غارت کرنے کے بعد ان جیسی اور مخلوق کو یا حشر کے دن انہی کو پیدا کرسکتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے جو چیز ایک دفعہ آچکی تو پھر دوبارہ اس کے پیدا ہوجانے کا انکار ‘ یہ خلاف عقل سلیم ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن تو اللہ کی طرف سے ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اس نصیحت کو سن کر اس کے موافق عمل کرے تاکہ اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ اچھا ہو مگر اتنی بات ہے کہ جو لوگ راہ پر آنے والے تھے وہ اور جو ان کے برعکس تھے وہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ کے علم ازلی میں چھانٹے جا چکے ہیں اس کے موافق جن کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے وہ باوجود نصیحت کے کبھی راہ راست پر آنے والے نہیں اور مجبور کرکے ان کو راہ پر لانا اللہ کو منظور نہیں کیونکہ مجبوری کا ایمان مجبوری کی عبادت کچھ اس کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ اس واسطے نتیجہ یہی ہوگا کہ ان میں کے بعض لوگ حالت شرک میں مریں گے اور اس کی سزا میں ان کو قیامت کے دن سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔ آیت ان الشرک لظلم عظیم کے موافق یہاں بھی ظلم کے معنی شرک کے ہیں۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 90 ج 4)
(2 ؎ الترغیب والترہیب الترغیب فی الفقر وقلۃ ذات الید ص 226 ج 4۔ )
(3 ؎ الترغیب والترہیب ص 266 ج 4۔ )
(4 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی الحشر وغیرہ ص 745 ج 4۔ )