77. Surah Al-Mursalaat

المرسلاتThe Emissaries · 50 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 77:1–15

وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ Open ayah 77:1 in the Quran reader

ہواؤں کی قسم جو نرم نرم چلتی ہیں

فَالْعٰصِفٰتِ عَصْفًاۙ Open ayah 77:2 in the Quran reader

پھر زور پکڑ کر جھکڑ ہوجاتی ہیں

وَّ النّٰشِرٰتِ نَشْرًاۙ Open ayah 77:3 in the Quran reader

اور (بادلوں کو) پھاڑ کر پھیلا دیتی ہیں

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًاۙ Open ayah 77:4 in the Quran reader

پھر انکو پھاڑ کر جدا جدا کردیتی ہیں

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 77:5 in the Quran reader

پھر فرشتوں کی قسم جو وحی لاتے ہیں

عُذْرًا اَوْ نُذْرًاۙ Open ayah 77:6 in the Quran reader

تاکہ عذر (رفع) کردیا جائے یا ڈر سنا دیا جائے

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 77:7 in the Quran reader

کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ہو کر رہیگی

فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْۙ Open ayah 77:8 in the Quran reader

جب تاروں کی چمک جاتی رہے

وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْۙ Open ayah 77:9 in the Quran reader

اور جب آسمان پھٹ جائے

وَ اِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْۙ Open ayah 77:10 in the Quran reader

اور جب پہاڑ اڑے اڑے پھریں

وَ اِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْؕ Open ayah 77:11 in the Quran reader

اور جب پیغمبر فراہم کئے جائیں

لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْؕ Open ayah 77:12 in the Quran reader

بھلا ان امور میں تاخیر کس دن کیلئے کی گئی

لِیَوْمِ الْفَصْلِۚ Open ayah 77:13 in the Quran reader

فیصلے کے دن کے لیے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الْفَصْلِؕ Open ayah 77:14 in the Quran reader

اور تمہیں کیا خبر کہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:15 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے

1۔ 15۔ حافظ ابن کثیر 1 ؎ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ سورة مکی ہے مفسرین 2 ؎ نے ترجیح اسی قول کو دی ہے کہ جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ اس سورة کے شروع میں قسم کھائی ہے ان میں اول کی تین چیزوں سے مقصود ہوائیں ہیں اور باقی کی دو سے ملائکہ عرفا کے معنی پے درپے۔ عاصفات وہ ہوائیں جن میں سناٹے کی آواز ہو۔ ناشرات وہ ہوائیں جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔ فارقات اور ملقیات کا یہ مطلب ہے کہ ملائکہ طرح طرح کے حکم وحی کے ذریعہ سے رسولوں پر لاتے ہیں۔ عذرا کا یہ مطلب ہے کہ ہر طرح کے حکم نازل ہوجانے کے بعد انجانی کا عذر کسی کو باقی نہ رہے۔ نذرا کا یہ مطلب ہے کہ نافرمانی کی حالت میں قیامت کے نافرمان لوگوں کو جو عذاب ہوگا اس سے ہر شخص ڈرا دیا جائے۔ بعض مفسروں نے کہا ہے کہ ملائکہ سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ جمع کا لفظ تعظیم کے لئے استعمال فرمایا گیا ہے قسم کا جواب یہ ہے کہ جس سزا و جزا کے دن کا اللہ نے اپنے رسولوں کی معرفت وعدہ کیا ہے وہ ضرور پیش آنے والا ہے پھر اس دن کی نشانیاں فرمائیں کہ اس دن تاروں کی روشنی جاتی رہے گی۔ حشر کے انتظام کے لئے فرشتے زمین پر آئیں گے۔ اس لئے ان کے آنے کے واسطے آسمان میں دو دروازے ہوجائیں گے۔ پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا اور زمین کو ایک چٹیل میدان کردیا جائے گا۔ پھر فرمایا یہی وقت ہے جس کا رسولوں سے وعدہ تھا کہ ان کا اور ان کے فرمانبردار اور نافرمان امتوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس فیصلہ کی تفصیل سورة بقر اور سورة زمر میں گزر چکی ہے کہ پچھلی امتوں کے منکر شریعت لوگ یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو تو یہ حکم کسی رسول نے نہیں پہنچایا تو انبیاء اپنی رسالت ادا کردینے کی تصدیق میں امت محمدیہ کو پیش کریں گے۔ اور امت محمدیہ پچھلے رسولوں کے کلام کی تصدیق کرے گی۔ پچھلی امتوں کے لوگ جب یہ کہیں گے کہ یا اللہ امت کے محمدیہ کے تول تو ہم سے پیچھے پیدا ہوئے ان کو ہمارا حال کیا معلوم۔ اس پر امت محمدیہ کے لوگ یہ جواب دیں گے کہ قرآن مجید میں پچھلا سب حال تھا اس لئے ہم کو ان لوگوں کا حال معلوم 1 ؎ ہوگیا اس کے بعد آنحضرت ﷺ اپنی امت کی گواہی کی تائید فرمائیں گے۔ اور ان سب گواہیوں پر فیصلہ اخیر ہوجائے گا۔ اسی واسطے فرمایا کہ اس فیصلہ کے دن ان لوگوں کی بڑی خرابی ہے جو اس دن کے فیصلہ کے منکر ہیں۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 458 ج 1۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 59 ج 4۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة بقرہ ص 644 ج 2۔ )
Ayahs 77:16–28

اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 77:16 in the Quran reader

کیا ہم نے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کر ڈالا

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْاٰخِرِیْنَ Open ayah 77:17 in the Quran reader

پھر ان پچھلوں کو بھی انکے پیچھے بھیج دیتے ہیں

كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 77:18 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:19 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 77:20 in the Quran reader

کیا ہم نے تم کو حقیر پانی نہیں پیدا کیا ؟

فَجَعَلْنٰهُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍۙ Open ayah 77:21 in the Quran reader

(پہلے) اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا

اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 77:22 in the Quran reader

ایک معین وقت تک

فَقَدَرْنَا١ۖۗ فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ Open ayah 77:23 in the Quran reader

پھر اندازہ مقرر کیا اور ہم کیا ہی خوب اندازہ مقرر کرنیوالے ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:24 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ Open ayah 77:25 in the Quran reader

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا ؟

اَحْیَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ Open ayah 77:26 in the Quran reader

(یعنی) زندوں اور مردوں کو بنایا

وَّ جَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًاؕ Open ayah 77:27 in the Quran reader

اور اس پر اونچے اونچے پہاڑ رکھ دئیے اور تم لوگوں کو میٹھا پانی پلایا

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:28 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

16۔ 28۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ انسان کی زمین میں سمائی کا اور بارش اور زمین کی ندیوں نالوں چشموں کنوئوں سے میٹھے پانی کے بہم پہنچانے کا ذکر فرما کر یہ تنبیہ فرمائی کہ انسان کی سمجھ سے باہر یہ سب انتظام آنکھوں سے دیکھ کر پھر بھی جو کوئی حشر کا انکار کرے گا۔ اس کے لئے اس دن بڑی خرابی ہے۔ جمے ٹھہراؤ سے مقصود رحم ہے جہاں نطفہ حفاظت سے رہا۔ وعدہ مقرر سے مقصود حمل کی مدت ہے۔ فقد رنا فنعم القدرون کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی نطفہ سے مرد عورت پورا ادھورا گورا کالا جس کو جیسا چاہا پیدا کیا۔ کفاتا کے معنی ٹھکانا ‘ زندے زمین کے اوپر مردے زمین کے اندر رہتے ہیں اس لئے زمین کو زندوں اور مردوں کا ٹھکانا فرمایا۔
Ayahs 77:29–40

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَۚ Open ayah 77:29 in the Quran reader

جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کی طرف چلو

اِنْطَلِقُوْۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِیْ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ Open ayah 77:30 in the Quran reader

(یعنی) اس سائے کی طرف چلو جس کی تین شاخیں

لَّا ظَلِیْلٍ وَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ اللَّهَبِؕ Open ayah 77:31 in the Quran reader

نہ ٹھنڈی چھاؤں اور نہ لپٹ سے بچاؤ

اِنَّهَا تَرْمِیْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِۚ Open ayah 77:32 in the Quran reader

اس سے (آگ کی) اتنی اتنی بڑی چنگاری اڑتی ہیں جیسے محل

كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌؕ Open ayah 77:33 in the Quran reader

گویا زرد رنگ کے اونٹ ہیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:34 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ Open ayah 77:35 in the Quran reader

یہ وہ دن ہے کہ (لوگ) لب تک نہ ہلا سکیں گے

وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ Open ayah 77:36 in the Quran reader

اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ عذر کرسکیں

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 77:37 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ١ۚ جَمَعْنٰكُمْ وَ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 77:38 in the Quran reader

یہی فیصلے کا دن ہے (جس میں) ہم نے تمکو اور پہلے لوگوں کو جمع کیا ہے

فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَیْدٌ فَكِیْدُوْنِ Open ayah 77:39 in the Quran reader

اگر تم کو کوئی داؤ آتا ہو تو مجھ سے کرلو

وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 77:40 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے

29۔ 40۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح 1 ؎ مسلم میں انس ؓ سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی ہوگا اس دھوئیں کی تین پھانکیں ہوں گی تاکہ اس لپٹ کی تپش بدستور قائم رہے اس دھوئیں کی چھائوں کے گھنی نہ ہونے کا اور اس چھائوں کا آگ کی تپش میں کام نہ آنے کا یہی مطلب ہے پھر اس آگ کی لپٹ سے ایسی بڑی بڑی چنگاریاں اڑتی رہیں گی جیسے بڑے بڑے مکان ‘ وہ چنگاریاں زرد رنگ اور بڑے ہونے کے سبب سے زرد اونٹ معلوم ہوں گے۔ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہوگا اور اس میں طرح طرح کی حالتیں پیش آئیں گی۔ حساب و کتاب تک تو دوزخیوں کو جواب دہی کرنے اور عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا جس کا ذکر اور آیتوں میں ہے پھر ان کو کسی جواب دہی کا موقع نہ ملے گا۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور قیامت کی ہر حالت کا انکار ایک جرم ہے اس لئے اس دن کی مختلف حالتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک جگہ پر فرمایا ہے کہ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اگلے پچھلے منکرین حشر کو قائل کرنے کے لئے ان سب سے اس دن یہ کہا جائے گا کہ آج جزا و سزا کے آخری فیصلہ کا وہ دن ہے جس کی خبر اللہ کے رسولوں نے تم کو دی تھی اور تم نے اس خبر کو جھٹلایا تھا آج بھی اس کے جھٹلانے کا کوئی حیلہ تم لوگ رکھتے ہو تو اس کو اٹھا نہ رکھو۔ ورنہ اس دن کے جھٹلانے کی خرابی کو بھگتو۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ )