74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 74:1–10

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے (محمد ﷺ جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور ہدایت کرو

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ناپاکی سے دور ہو

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کیلئے صبر کرو

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

جب صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ جو مشکل کا دن ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

یعنی کافروں پر آسان نہ ہوگا۔

1۔ 10۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین 1 ؎ کی حضرت جابر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت ﷺ کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب سورتوں سے مقدم ہے جو کپڑا آدمی کے جسم سے ملا ہوا ہو اس کو شعار اور جو اس کے اوپر پہنا اوڑھا جائے اس کو وثار کہتے ہیں۔ صحیح 2 ؎ مسلم وغیرہ میں جو حضرت جابر ؓ سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اقراء کے نازل ہونے کے بعد کچھ دنوں تک وحی کا نازل ہونا موقوف رہا پھر آنحضرت ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا جس سے آپ ﷺ ڈر گئے اور آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ سے کہا مجھ کو سردی لگتی ہے معمولی کپڑوں کے اوپر مجھے کچھ اوڑھا دو ۔ انہوں نے آپ ﷺ کو لحاف اوڑھا دیا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اسی نام سے یاد فرما کر یہ سورة نازل فرمائی۔ اقراء کی آیتوں میں آپ ﷺ کو فقط وحی کے پڑھنے کا حکم تھا اس سورة میں وحی کے احکام کے موافق لوگوں کو ڈرانے اور نصیحت کرنے کا بھی حکم ہوا جو لوگ سوا اللہ کے اور چیزوں کو پوجتے ہیں ان کو اس کے وبال سے ڈرایا جائے پھر فرمایا کہ مشرک اللہ کی شان میں شرک کے الفاظ جو کہتے رہتے ہیں اے نبی ﷺ اللہ کے تم ان کے برخلاف اللہ کی بڑائی اور توحید بیان کرو تاکہ ان مشرکوں کے کان بھی توحید سے آشنا ہوں مشرکین مکہ پہننے کے کپڑوں کی پاکی ناپاکی کا خیال نہیں رکھتے تھے اور اپنے بتوں سے ہر وقت لگے لپٹے رہتے تھے اس لئے فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تم اپنے کپڑے پاک صاف رکھو اور ان مشرکوں کے بتوں سے ہمیشہ دور رہو ولا تمنن تستکثر ولربک فاصبر کی تفسیر میں اگرچہ سلف کے چند قول ہیں لیکن آیتوں کی مناسبت کے خیال سے حافظ ابو جعفر بن جریر ؓ نے جس قول کو ترجیح دی ہے اس کے موافق آیت کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے خدمت نبوت کی ادائی میں جو کوئی اچھا اور بڑا کام تم سے بن آئے تو زیادتی اجر کے خیال سے اس کام کی بڑائی احسان کے طور پر تم کچھ نہ جتلائو۔ اللہ کو ہر کام کا اجر خود معلوم ہے تم ہر حال میں اسی پر صابر اور شاکر رہو۔ خدمت نبوت کی ادائی اور اس خدمت کی ادائی کے سبب سے مخالف شریعت لوہگ جو تم کو کچھ گستاخی کے الفاظ کہیں تو اس پر صبر کرنے کا سب کا پورا اجر اللہ تم کو دے گا پھر فرمایا کہ اے نبی اللہ کے باوجود تمہاری نصیحت کے جو کوئی آخرت کی جزا و سزا کا منکر رہے تو ایسے لوگوں کو یہ سنا دیا جائے کہ مردوں کو زندہ کرنے کا دوسرا صور پھونک کر جب یہ لوگ زندہ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہوں گے اور ذرہ ذرہ کا ان سے حساب لیا جائے گا تو وہ وقت ان پر بڑی مشکل کا ہے اس مشکل کے لئے ان لوگوں کو تیار رہنا چاہئے کتہری کا مطلب بت پرستی کی جاست کھوکھرا یعنی صور۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 441 ج 4۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة مدثر ص 732 ج 2 و تفسیر سورة اقراء باسم ربک ص 739 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ ص 90 ج 1۔ )
Ayahs 74:11–30

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور مال کثیر دیا۔

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے (بیٹے) دیئے

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

ابھی خواہش رکھتا ہم کہ اور زیادہ دے

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے فکر کیا اور تجویز کی

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر تامل کیا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) متصل ہوتا آیا ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کرینگے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

(اور) بدن کو جھلس کر سیاہ کر دیگی

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اس پر انیس داروغہ ہیں

11۔ 30۔ ان آیتوں کی شان نزول صحیح سند سے مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو بیان فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے اس کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں پڑھ کر سنائیں جس سے اس کا دل کسی قدر نرم ہوا یہ خبر ابوجہل کو پہنچی اس نے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ قوم کے لوگ تم سے ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک قرآن کے بارے میں تم ان کی مرضی کے موافق کوئی بات نہ کہو گے ولید بن مغیرہ نے جواب دیا کہ اچھا میں سوچ کر اس بارے میں کچھ کہوں گا پھر اس نے اپنے وعدہ کے موافق لوگوں کے سامنے قوم کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے یہ بات کہی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں آدمی کا کلام ہے مگر جادو کے سبب سے اس میں ایک اثر ہے اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ جب وہ ولید ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو تن تنہا تھا اس کے بارہ بیٹے تھے نہ کچھ مال و متاع تھا۔ اللہ نے اس کو صاحب اولاد ‘ صاحب مال کیا اس کا شکریہ اس نے یہ کیا کہ قوم کے لوگوں کی خاطر سے اللہ کے کلام کو انسان کا کلام بتایا۔ تم اے نبی ﷺ اللہ کے اس سے کچھ نہ الجھو بلکہ اس کو اللہ کے حوالے پر چھوڑ دو ‘ وقت مقررہ پر اللہ اس سے خود سمجھ لے گا مال داری کے سبب سے اس کے بیٹے کہیں تجارت کو مکہ سے باہر نہیں جاتے تھے بلکہ باپ کے ساتھ ہی رہتے تھے اس لئے ان کو باپ کی مجلس میں بیٹھنے والے فرمایا یہ ولید کہا کرتا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا سچ ہے تو وہاں بھی اس سے زیادہ مجھ کو مال و اولاد سب کچھ ملے گا اور دنیا میں بھی میری خوش حالی روز بروز بڑھتی جائے گی اسی پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ باوجود اس ناشکری کے دین و دنیا میں اس کو اور بہبودی کی توقع ہے۔ نہیں نہیں ہرگز یہ توقع اس کی پوری نہ ہوگی بلکہ آخرت میں تو اس کو وہ عذاب بھگتنا پڑے گا جس کی تکلیف روز بروز بڑھتی رہے گی اور دنیا میں جو کچھ اس ناشکری کا حال ہوگا وہ بھی سب دیکھ لیں گے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے سلف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کو ولید تنگ حال ہو کر مرا۔ یہ تو دنیا کا حال اس وقت کے لوگوں کے رو برو گزرا۔ آخرت میں ایسے لوگوں کا جو کچھ انجام ہوگا وہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا مسند امام احمد ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے۔ اس پر بعض دوزخیوں کو چڑھانے اور اتارنے کا عذاب کیا جائے گا یہ عذاب بڑی تکلیف کا ہوگا اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے بعض علماء کو اگرچہ ان کے حق میں کلام ہے لیکن تقریب میں اس کو صدوق لکھا ہے۔ قدر کے معنی دل میں ایک بات کا اندازہ ٹھہرانا۔ عبس و بسر کے معنی یوری چڑھائی اور منہ بنایا۔ ادبر کے معنی حق بات سے پھرا ‘ سحر یوثر کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہی جادو ہے جو پچھلے جادوگروں سے چلا آتا ہے۔ لاتبقی کے یہ معنی کہ کہاں گوشت ‘ ہڈی ‘ کچھ باقی نہ چھوڑے گی سب کچھ جلا دے گی۔ لاتذر کے یہ معنی کہ پھر کھال وغیرہ سب کچھ نیا تیار ہوجائے گا۔ لواحۃ کے معنی جلد سیاہ کر دے گی۔ بشر کے معنی بشرہ یعنی جلد۔ 1 ؎ جامع ترمذی۔ تفسیر سورة مدثر ص 190 ج 2۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 443 ج 4۔ )
Ayahs 74:31–37

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کیا ہے (اور) اس لئے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو اور اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں اور اس لئے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے اور (جو) کافر (ہیں) کہیں کہ اس مثال (کے بیان کرنے) سے خدا کا مقصود کیا ہے ؟ اسی طرح خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ تو بنی آدم کے لیے نصحیت ہے

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

ہاں ہاں (ہمیں) چاند کی قسم

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جب پیٹھ پھیرنے لگے

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جب روشن ہو

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

کہ وہ (آگ) ایک بہت بڑی (آفت) ہے

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

(اور) بنی آدم کے لئے موجب خوف

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

جو تم میں سے آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہنا چاہے

31۔ 37۔ تفسیر ابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اوپر کی آیتوں میں یہ لفظ اترے کہ دوزخ پر انیس فرشتے تعینات ہیں تو ابوجہل نے قریش سے کہا کہ تم لوگ تو بہت بڑی قوم ہو تم میں سے سو سو شخص بھی اگر ایک ایک فرشتے سے بھگت لو گے تو انیس فرشتے تمہارا کیا کرسکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کی عقل ماری گئی ہے جو یہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ یہ انیس انسان نہیں جو سارے قریش مل کر ان سے بھگت لیں گے یہ تو فرشتے ہیں۔ ان میں کا تو ایک ایک ساری دنیا کے الٹ پلٹ کردینے کو کافی ہے۔ کیا ان لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ کے ایک فرشتے نے لوط کی قوم کو مع ان کی بستی کے اٹھا کر الٹ دیا۔ پھر فرمایا پچھلی کتابوں میں بھی ان فرشتوں کی تعداد یہی ہے اس لئے اہل کتاب کو اس گنتی کا حال سن کر قرآن کے کتاب آسمانی ہونے پر یقین بڑھ جائے گا اور ان کے یقین کا حال سن کر مسلمانوں کے یقین میں بھی ترقی ہوجائے گی۔ پھر فرمایا اللہ کے علم ازلی میں جو لوگ کافر اور منافق ٹھہر چکے ہیں وہ اس گنتی کو سن کر ایسی باتیں کریں گے جیسی باتیں ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے کیں کیونکہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کے علم میں نیک و بد کا اندازہ ٹھہر چکا ہے۔ اسی اندازہ سے اللہ ہر ایک کو لگا دیتا ہے۔ مجبور کرکے دوسرے ڈھنگ پر کسی کو نہیں لگاتا کہ مجبوری کا ایمان یا نیک عمل اس کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ پھر فرمایا ان انیس فرشتوں پر کیا منحصر ہے ‘ آسمانوں پر تو اتنے فرشتے ہیں کہ چپہ بھر جگہ فرشتوں سے خالی نہیں۔ سوا اس کے آگ ‘ پانی ‘ ہوا یہ سب اللہ کے لشکر ہیں۔ پچھلی قومیں ان ہی لشکروں کی چڑھائی سے غارت ہوچکی ہیں اس کے لشکروں کا کوئی کیا اندازہ کرسکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن کی آیتیں نہ انسانی کلام ہے نہ جادو ہے۔ بلکہ یہ تو انسان کو ایک نصیحت ہے پھر قسم کھا کر فرمایا کہ ان آیتوں میں جس دوزخ سے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے وہ بڑی ڈر کی چیزوں میں سے ہے اسی طرح جنت بڑی رغبت کی چزم ہے ان کی طرف نیکی بدی سے قدم آگے بڑھانا پیچھے ہٹانا انسان کا کام ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 444 ج 4۔ )