73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 73:1–9

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے محمد ﷺ جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کرینگے

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اسکے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

1۔ 9۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ سورة مکی ہے مگر حضرت عبد اللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کا قول ہے واصبر علی مایقولون اور اس سے بعد کی آیت یہ دونوں آیتیں مدنی ہیں لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہو وہ مکی کہلاتی ہے حسن بصری اور ابن سیرین اس بات کے قائل ہیں کہ رات کا اٹھنا اور تہجد کی نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ زیادہ نہ ہو سکے تو اتنی ہی دیر آدمی کو اٹھنا چاہئے جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے لیکن جمہور علماء کا مذہب یہی ہے کہ تہجد کی نماز سنت ہے اور ایسی افضل سنت ہے جس کی ترغیب آنحضرت ﷺ نے بہت سی حدیثوں میں دلائی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور منن میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرض نماز کے بعد تہجد کی نماز سے بڑھ کر کوئی نماز نہیں ہے۔ اور صحیحین 3 ؎ وغیرہ کی حضرت عبد اللہ بن عمر کی یہ حدیث بھی مشہور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت دائود (علیہ السلام) کی تہائی حصہ رات کی نماز بہت پسند ہے جمہور علماء کا یہ جو مذہب ہے کہ تہجد کی نماز امت محمدیہ پر فرض نہیں ہے اس کی تائید صحیح حدیثوں سے ہوتی ہے۔ مثلاً ایک صحیح حدیث تو صحیح مسلم وغیرہ کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ابھی اوپر گزری ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے تہجد کی نماز کا رتبہ فرض نماز کے بعد رکھا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تہجد کی نماز فرض نہیں ہے فرض نماز کے بعد کے رتبہ کی ایک نماز ہے۔ دوسری حدیث صحیحین 1 ؎ میں حضرت زید بن ثابت کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک رمضان میں تین راتوں تک صحابہ کرام مسجد نبوی ﷺ میں تہجد کی نماز جماعت سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ پڑھنے آئے پھر چوتھی رات آنحضرت ﷺ باہر تشریف نہیں لائے اور صبح کو صحابہ ؓ سے فرمایا کہ مجھ کو تم لوگوں کا آج کی رات آنا بھی معلوم تھا مگر میں اس خوف سے باہر نہیں آیا کہ کہیں تم پر تہجد کی نماز فرض نہ ہوجائے۔ اس سے بھی صاف معلوم ہوا کہ امت محمدیہ پر تہجد کی نماز فرض نہیں ہے کیونکہ اس کے فرض ہونے کی صورت میں آنحضرت ﷺ یہ ہرگز نہ فرماتے کہ مجھ کو اس کے فرض ہونے کا خوف تھا کس لئے کہ جو چیز خود پہلے ہی سے فرض ہوتی اس کے فرض ہونے کا خوف آپ ﷺ کیوں ظاہر فرماتے۔ اسی طرح صحیحین 2 ؎ میں حضرت طلحہ بن عبید کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ارکان دین ایک شخص سائل کو بتاتے ہیں اور ان ارکان میں فقط پنجگانہ نماز کو آپ ﷺ نے فرض بتایا ہے اس شخص نے پوچھا بھی کہ نماز کے نام سے میرے اوپر اور کچھ بھی فرض ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں تہجد کی نماز اگر فرض ہوتی تو آپ ضرور اس کا ذکر فرماتے ایک اختلاف علماء میں اور ہے وہ یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں اس سورة کی شروع کی آیتوں کے موافق جب تہجد کی نماز فرض تھی تو کیا فقط آنحضرت ﷺ پر ہی فرض تھی یا امت پر بھی فرض تھی۔ حافظ 3 ؎ ابن کثیر نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اس زمانہ میں بھی یہ نماز فقط آنحضرت ﷺ پر ہی فرض تھی۔ اور قرآن شریف میں قم الیل اور فتھجد بہ کا خطا بھی خاص آنحضرت ﷺ کو جو ہے اس سے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ بعض علماء نے یہ جو لکھا ہے کہ مزمل آنحضرت ﷺ کے ناموں میں سے آپ ﷺ کا ایک نام ہے یہ قول تو صحیح نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان آیتوں تہجد کا حکم فرمایا ہے اور تہجد کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اکثر اس وقت اوڑھے لپیٹے بچھونے پر لیٹا ہوا ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اس حالت کی صفت سے آپ ﷺ کو یاد فرمایا۔ آپ ﷺ کی اس صفت سے یاد فرمانے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ امت میں کے اور لوگوں سے بھی یہ خطاب یایھا الذین امنوا کے خطاب کی طرح متعلق ہوگیا قم الیل سے ساری رات کی نماز سمجھی جاتی تھی۔ اس لئے آگے اس کی مقداربتا دی کیونکہ حفظ صحت کی غرض سے انسان کے لئے کچھ راحت بھی ضرور ہے ترتیل کے معنی حرفوں کو الگ الگ کرکے اس طرح قرآن پڑھنا کہ سننے والے کی خوف سمجھ میں آئے چناچہ اکثر صحابہ ؓ نے صحیح روایتوں میں آنحضرت ﷺ کے عمل کے حوالہ سے ترتیل کے یہی معنی بتائے ہیں تہجد کی آٹھ رکعتیں اکثر صحیح روایتوں میں ہیں اور وتر کی پانچ رکعتیں بھی ہیں اور تین بیج اور ایک بھی اور کبھی پانچ رکعت سے زیادہ بھی وتر آپ ﷺ نے پڑھے ہیں۔ بھاری بات سے مراد نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ احکام ہیں جو اس سورة کے بعد وقت بوقت نازل ہوئے کیونکہ اس سورة کے زمانہ تک فقط تہجد کی نماز تھی اور کوئی عبادت نہ تھی پھر معراج کے وقت پانچوں وقت کی نماز مکہ میں اور ہجرت کے بعد مدینہ میں باقی کی عبادتیں یہ سب کچھ فرض ہوا۔ خالص نیت سے پورے طور پر ان عبادتوں کا ادا کرنا آدمی کے نفس پر ذرا بھاری ہے اس لئے ان کی پوری ادائی کو بھاری بات فرمایا۔ رات کو کسی قدر سو جانے کے بعد جو آدمی اٹھے تو اس باقی کی رات کو ناشئۃ الیل کہتے ہیں اس وقت کا اٹھنا نفس پر شاق گزرتا ہے اس واسطے اس کو نفس کی روندن فرمایا۔ اس وقت کچھ غل شور نہیں ہوتا اس لئے اس وقت آدمی کے حواس منتشر نہیں ہوتے بلکہ جو کچھ اس وقت منہ سے نکلتا ہے وہ دل کے ارادہ سے ہوتا ہے اوپری نہیں ہوتا اسی واسطے اس وقت کے زبان کے لفظوں کے سیدھی بات فرمایا اور فرمایا کہ دن کے سے مشغلے رات کو نہیں رہتے اس لئے اس خلوت کے وقت میں اللہ کی عبادت کیا کرو۔ علاوہ اس کے آخری تہائی رات یہ وقت بھی بہت بڑی مقبولیت ہے چناچہ صحیح 1 ؎ بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے وہ مشہور ہے کہ اس وقت ہر رات کو اللہ تعالیٰ اول آسمان پر نزول فرما کر اس وقت کی ہر طرح کی دعا اور توبہ استغفار کے قبول فرمانے کا وعدہ اپنے بندوں سے فرماتا ہے اس باب میں صحابہ کی ایک جماعت سے اور بھی صحیح روایتیں آئی ہیں۔ تبتل کے معنی یکسو ہو کر اللہ کی عبادت میں مصروف ہونا۔ اب آگے فرمایا کہ مشرق مغرب سارے جہان کا پرورش کرنے والا جبکہ وہی وحدہ لاشریک ہے تو وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسی کی خالص عبادت کی جائے اور دین و دنیا کے ہر ایک کام کا اسی پر بھروسہ رکھا جائے۔ یہ دنیا عالم اسباب ہے اس لئے دنیا کے کاموں میں اللہ پر بھروسہ رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی اسباب کو بیکار سمجھے بلکہ اللہ پر بھروسا رکھنے کا یہ مطلب ہے کہ آدمی سبب کو سبب کی طرح برتے اور ہر کام میں اصل بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھے سبب کو اصل بھروسہ کی چیز نہ سمجھے جس طرح صحیح 2 ؎ حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرا رزق میرے برچھے کے نیچے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دین کی لڑائی پر جانا اور غنیمت کے مال میں سے حصہ لینا یہی اس عالم اسباب میں میرے رزق کا سبب اور حیلہ ہے اسی طرح صحابہ کے سینکڑوں قصے صحیح روایتوں میں ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کے رو برو تجارت زراعت سب کچھ کرتے تھے اور پھر آپ ﷺ کے اصحاب ؓ کا اصل بھروسہ اللہ پر تھا یہ اسباب آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے اصحاب ؓ کے نزدیک مستقل طور پر بھروسہ کی چیز نہ تھی۔ سبح کے معنی چلنے پھرنے اور کام کاج کے ہیں۔ (2 ؎ صحیح مسلم باب فضل صوم المحرم ص 368 ج 1۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب من نام عند السحر ص 152۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب استحباب صلوٰۃ النافلۃ فی بیتہ الخ ص 266 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب الزکوٰۃ من الاسلام الخ ص 11 ج 1۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 435 ج 4۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب صلوٰۃ اللیل وعدد رکعات النبی ﷺ الخ ص 258 ج 1۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 315 ج 4۔ )
Ayahs 73:10–18

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور انکو تھوڑی سی مہلت دیدو

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہے

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسی کو) پیغمبر (بناکر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس (محمد ﷺ رسول بیجھے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہونگے

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اسکو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی (ان پیغمبر کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔

10۔ 18۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ اے رسول ﷺ اللہ کے تم اپنے سب کام اللہ کو سونپ دو اللہ تمہارے سب کاموں کے سر انجام کے لئے کافی ہے۔ اس ہدایت کے پورا کرنے کے لئے فرمایا یہ لوگ جو اپنے مال و متاع کے غرور میں تم کو برا بھلا کہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں تم اس کا کچھ خیال نہ کرو اور تھوڑے دنوں کے لئے ان لوگوں کو اللہ کے انتقام پر چھوڑ دو ۔ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ان آیتوں کے نازل ہونے کے تھوڑے عرصہ کے بعد بدر کی لڑائی پیش آئی جس میں بڑے بڑے سرکش ستر آدمی مشرکین مکہ میں قتل ہوگئے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے قریش کو دو طرح سے ڈرایا۔ ایک فرعون کا قصہ یاد دلایا کہ اگر ان لوگوں کی بھی فرعون کی سی سرکشی رہی تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا جو فرعون اور ان کو کون بچائے گا جس عذاب کو تفصیل سے اگر کسی لڑکے کے رو برو بیان کیا جائے تو وہ لڑکا بڈھے شخص کی طرح بدحواس ہوجائے پھر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے حال کو قصہ کہانی کی طرح سن کر اڑا دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کا آنا ایسی یقینی ہے کہ اس میں کسی صاحب عقل آدمی کو شک و شبہ کا موقع نہیں ہے کیونکہ دنیا کا پیدا کرنا جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے بغیر نیک و بد کی جزا و سزا کے بےٹھکانے رہتا ہے پھر جب ان کے معمولی عقل کے آدمی اس طرح کے بےٹھکانے کام سے گھبراتے ہیں تو پھر اللہ کے ذمہ یہ بےٹھکانے کام کیوں کر جائز رکھے جاتے ہیں۔ نعمت کا لفظ خلقت کے لفظ کی طرح نون کے زبر سے مال داری کے معنی میں ہے اور نون کے زیر سے خدمت کے لفظ کی طرح ہو تو انعام اور اکرام کے معنی میں ہے انکال کے معنی قیدیوں کے پیروں کی بیڑیاں ‘ جحیم کے معنی دہکتی آگ ‘ جو چیز گلے میں پھنس کر نہ اگلی جائے اور نہ نگلی جائے اس کو غصہ کہتے ہیں یہ زلزلہ اور پہاڑوں کا ریت ہو کر زمین پر مل جانا اور فرشتوں کے زمین پر آنے کے لئے آسمان میں دروازوں کا ہوجانا یہ دوسرے صور کے وقت کا حال ہے جس کی تفصیل کئی جگہ گزر چکی ہے اور عم یتساء لون کے پارہ میں بھی یہی تفصیل آئے گی۔ وبیل کے معنی سخت اور شدید۔
Ayahs 73:19–20

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرلے

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کھبی) دو تہائی رات کے قریب اور (کھبی) آدھی رات اور (کھبی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہو سکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑہتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو اور جو نیک عمل تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ ترپاؤ گے اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

19۔ 20۔ آدمی رات یا اس سے کچھ کم و زیادہ تک تہجد کی نماز کے پڑھنے کا جو حکم اول سورة میں تھا وہ انہی آیتوں سے منسوخ ہوگیا اور اس کے آگے پنجگانہ فرض نماز کا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس تھوڑی دیر تہجد کی نماز میں قرآن شریف پڑھنے کا حکم فرض کے طور پر جو نکلتا تھا وہ بھی منسوخ ہوگیا بعض علماء نے صحیح 1 ؎ بخاری کی حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اس حدیث سے تہجد کی نماز کے فرض ہونے کی تائید نکالی ہے جس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے رو برو ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک سوتا رہتا ہے اور نماز کیو نہیں اٹھتا۔ لیکن یہ تائید صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ صحیح ابن 2 ؎ حبان کی روایت میں یہ صراحت موجود ہے کہ وہ فرض کے لئے نہ اٹھنے کا تھا تہجد کا ذکر نہیں تھا اس واسطے امام بخاری نے اس ذکر کی حدیث کو روایت کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں حدیثوں کی مناسبت ہے اس آیت سے بظاہر جو آیت یا سورة آسان معلوم ہو نماز میں اس کے پڑھنے کی اجازت نکلتی ہے اس لئے مذہب حنفی میں یہ مسئلہ قرار پایا ہے کہ نماز میں سورة فاتحہ کا پڑھنا ضروری نہیں ہے اس کا جواب جمہور علماء نے یہ دیا ہے کہ صحیحین 3 ؎ میں حضرت عبادہ بن صامت کی حدیث اور صحیح 4 ؎ مسلم اور صحیح ابن خزیمہ کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ بغیرسورۃ فاتحہ کے پڑھنے کے نماز نہیں ہوتی تو ان صحیح حدیثوں کے مخالف اور کوئی تفسیر اس آیت کی جائز نہیں ہے صحیح بخاری و نسائی وغیرہ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز صحابہ ؓ سے پوچھا کہ تم کو اپنا مال پیارا ہے یا اپنے وارثوں کا مال پیارا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم کو اپنا مال پیارا ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا مال وہی ہے جو تم نے اللہ کے نام پر خرچ کیا وہی عقبیٰ میں تمہارے کام آئے گا اور جو کچھ دنیا میں چھوڑ جاؤگے وہ تمہارے وارثوں کا مال ہے اس سے تمہاری ذات کو کچھ نفع نہیں ہے یہ حدیث گویا آیت و ماتقدموالانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ کی تفسیر ہے کیونکہ اس آیت کا مطلب بھی یہی ہے کہ دنیا میں رہ جانے والی چیز سے وہی چیز بہتر ہے جس کا عوض عقبیٰ میں انسان کو خدا کی درگاہ سے ملے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب اذا نام ولم یصل بال الشیطن فی اذنہ ص 153 ج 1۔ ) (2 ؎ الترغیب والترہیب الترھیب من نوم الانسان الی الصباح الخ ص 572 ج 1۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب وجوب القراءۃ للامام والماموم الخ ص 104 ج 1۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب وجوب قراءۃ الفاتحتہ فی کل رکعۃ الخ ص 169 ج 1۔ )