72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 72:1–7

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو بھلائی کا راستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے۔ وہ نہ بیوی رکھتا ہے اور نہ اولاد

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افترا کرتا ہے

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمھار تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا

1۔ 7۔ قدیم زمانہ سے علماء مفسرین میں یہ ایک اختلاف چلا آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود صحیح 1 ؎ مسلم کی روایت میں اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا اور صحیح بخاری 2 ؎ اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس کے منکر ہیں اور فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور نہ ان کو قرآن شریف سکھایا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے۔ بیہقی ‘ حافظ ابن حجر اور علماء نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے آنحضرت ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اور جس کا ذکر سورة احقاف میں ہے اسی بیخبر ی کی حالت کو اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں بذریعہ وحی کے جتلایا ہے اور اسی حالت اور اسی قصہ کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے اس دفعہ جنات کے آنے کا سبب معتبر سند سے ترمذی نسائی ‘ 3 ؎ مسند امام وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں جو بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے سے پہلے جنات آسمان کی کچھ خبریں چوری سے سن آیا کرتے تھے اور کاہنوں سے بیان کرتے تھے اسی واسطے اس زمانہ میں عرب کے سب کاموں کا مدار کاہنوں کے بیان پر تھا پھر جب آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے اور نزول وحی کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کا انتظام بہ نسبت پہلے کے زیادہ ہوگیا اور چوری سے خبر سننے والے جنات پر انگارے زیادہ برسنے لگے تو اس زیادتی انتظام کا سبب دریافت کرنے کے لئے جنات کی ٹکڑیاں زمین کے چاروں طرف چکر لگاتی پھرتی تھیں انہیں ٹکڑیوں میں کے نو دس جنوں کی ایک ٹکڑی وہاں آ نکلی جہاں طائف کے راستہ میں آنحضرت ﷺ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے یہ جنات قرآن شریف سن کر ایمان لے آئے اور اپنی قوم کو جا کر نصیحت کی اور پھر بارہ ہزار جنات کا قافلہ دین اور اسلام کی باتیں سمجھنے آیا۔ اور آپ ﷺ نے جناب کے لشکر میں جا کر ان کو سورة الرحمن پڑھ کر سنائی اور دین اسلام کی باتیں سکھائیں۔ اس دوسری دفعہ جنات کے آنے کا ذکر صحیح مسلم ترمذی مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے ہے غرض حضرت عبد اللہ بن عباس کو جو آنحضرت ﷺ کی ملاقات کرنے اور جنات کے سامنے قرآن شریف پڑھنے کا انکار ہے ‘ وہ جنات کی پہلی دفعہ کے آنے سے متعلق ہے دوسری دفعہ کے آنے سے متعلق نہیں اسی واسطے امام مسلم نے صحیح مسلم میں پہلے حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث کی روایت کرکے اس کے پیچھے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کو روایت کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ دونوں قصے جدا جدا گزرے ہیں اور دونوں روایتیں دونوں قصوں کے موافق ہیں۔ آپس میں مختلف نہیں ہیں سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ رسول فقط انسان ہی آئے ہیں کوئی جن جنات کی ہدایت کے لئے رسول ہو کر نہیں آیا بلکہ ہدایت جن و انس دونوں فرقوں کی انسان رسول سے ہی متعلق ہے۔ اسی واسطے جنات کا ایک بڑا قافلہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں دین کی باتیں سیکھنے کی غرض سے حاضر ہوا تھا۔ نفر تین سے دس تک کی جماعت کو کہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ وہ جن دس سے زیادہ نہیں تھے قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت کے سبب سے قرانا عجبا کہا جس کے معنی عجیب کے ہیں جد ربنا کے معنی عظمۃ ربنا کے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوقوف جن و انس حد سے بڑھ کر گستاخی کا یہ کلمہ جو اللہ تعالیٰ کی شان میں کہتے تھے کہ اللہ صاحب اولاد ہے ہم کو یہ گمان تھا کہ شاید وہ کلمہ جھوٹ نہیں کہتے مگر اب قرآن شریف کے سننے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے مقابلہ میں اس کلمہ کا منہ سے نکالنا بڑی گستاخی ہے اور جن و انس میں سے جو یہ کلمہ کہتے ہیں ان کی عقل ٹھکانے نہیں ہے ‘ شططاً اس بات کو کہتے ہیں جو حد سے بڑھ کر نامنصفی کی ہو ایام جاہلیت میں یہ ایک دستور تھا کہ عرب کے لوگ مسافرت کی حالت میں جب کسی جنگل میں اترتے تو نعوذ بسید ھذا الوادی من شر سفھاء قومہ کہا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس جنگل کے جنات کے سردار سے ہم یہ حمایت چاہتے ہیں کہ اس سردار کی قوم میں کا کوئی نادان جن ہماری جان اور مال کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچائے اسی دستور کو جنوں کی اس ٹکڑی نے اپنے کلام میں ذکر کرکے یہ کہا ہے کہ اس دستور نے جنات کے تکبر اور نخوت کو اور بڑھا دیا کیونکہ اس دستور سے وہ سمجھنے لگے کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ انسان ہم سے حمایت چاہتے ہیں سورة احقاف گزر چکا ہے کہ جنات کی یہ ٹکڑی یہودی مذہب کی تھی اس لئے انہوں نے قرآن کو سن کر انا سمعتا کتابا انزل من بعد موسیٰ کہا من بعد عیسیٰ نہیں کہا۔ اسی واسطے لن یبعث اللہ احدا کے مفسروں نے دو معنی کئے ہیں ایک تو یہ کہ ان جنات کا ویسا ہی عقیدہ تھا جس طرح بنی آدم میں یہود کا عقیدہ ہے کہ قیامت تک کوئی ایسا رسول نہ پیدا ہوگا جس کے سبب سے توراۃ کے احکام منسوخ ہوں دوسرے معنی یہ کہ اہل مکہ کی طرح حشر کے منکر تھے حاصل یہ ہے کہ اس جنات کی ٹکڑی نے قرآن کے سننے کے بعد فامنا بہ کہہ کر دونوں معنوں کو غلط ٹھہرایا۔ ان آیتوں میں قریش کو یوں قائل کیا ہے کہ جنات کا حال تو ایک ہی دفعہ کے قرآن کے سننے سے یہ ہوا جو بیان ہوا قریش باوجودیکہ انسان ہیں اور گھڑی گھڑی ان کو قرآن کی آیتیں سنائی جاتی ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے وحی نازل ہوتی ہے جس پر ان کا یہ حال ہے کہ خود بھی قرآن کے منکر اور لوگوں کو بھی قرآن کی آیتوں کے سننے سے روکتے ہیں۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب الجھر بالقراءۃ فی الصبح والقراءۃ علی الجن 184 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب الجھر بالقراءۃ فی الصبح والقراءۃ علی الجن 184 ج 1۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن ص 190 ج 2۔ )
Ayahs 72:8–10

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کیلیے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا انکے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

8۔ 10۔ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے پہلے جنات بعض روایتوں کے موافق اول آسمان بعض کے موافق چوتھے آسمان تک پہنچ کر چوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن آتے تھے اور ایک بات میں نو باتیں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر کاہن لوگوں سے کہہ دیتے تھے قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ بڑھ گیا اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے جب آسمان تک جانے کا قصد کیا تو ان پر چاروں سے طرف سے انگارے برسنے شروع ہوگئے جنات نے اس انتظام کا ذکر ابلیس سے کیا۔ اس ملعون نے ہر طرف جنات کو اس انتظام کا سبب دریافت کرنے کو بھیجا باقی ٹکڑا اس حدیث کا اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ ان ٹکڑیوں میں ایک ٹکڑی نے مکہ اور طائف کے مابین میں آنحضرت ﷺ کو قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور اسلام اختیار کیا۔ ترمذی 1 ؎ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اس انتظام کو دیکھ کر اس ٹکڑی کے جنات نے قرآن شریف کے سننے سے پہلے شک کے طور پر یہ کہا تاکہ اس انتظام سے یا تو زمین کے رہنے والوں پر کوئی آفت آئے گی یا ان کی کچھ بہتری ہوگی لیکن جب انہوں نے قرآن شریف سنا تو ان کی سمجھ میں آگیا کہ وہ انتظام اسی قرآن کی حفاظت کے لئے تھا۔ 1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن 190 ج 2۔
Ayahs 72:11–17

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اسکو تھکا سکتے ہیں

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں تو جو فرماں بردار ہوئے وہ سیدھے راستے پر چلے

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو ) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر رہتے تو ہم انکے پینے کو بہت سا پانی دیتے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس سے انکی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیر لے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا

11۔ 17۔ سلف کا قول ہے کہ جس طرح بنی آدم میں مشرک یہود و نصاریٰ طرح طرح کے فرقے ہیں یہی حال جنات کا بھی ہے اس جنات کی ٹکڑی کے جن جن کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے اپنا اور اپنی قوم کا حال بیان کر رہے ہیں کہ بعض ہم میں سے نیک اور اپنے دین کے پابند ہیں اور بعضوں کا ڈھنگ اس کے برخلاف ہے ہمارا حالت تو یہ ہے کہ جس سے ہم نے یہ قرآن شریف سنا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کریں اور وہ اس نافرمانی کی سزا میں ہم کو پکڑنا چاہے تو اس کے مواخذہ سے ہم کہیں بھاگ کر بچ نہیں سکتے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اس نے ٹھیک راستہ ڈھونڈ لیا جس میں اس کو کبھی کسی طرح کا ٹوٹا نہ ہوگا اور جو نافرمان ہیں وہ آخر کو دوزخ کا ایندھن بنیں گے اب جنات کے اس تذکرہ میں قریش کو یہ ارشاد ہے کہ اے نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو جس طرح مجھ کو یہ وحی اللہ کی طرف سے آئی ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن سنا اور وہ ایمان لے آئے اسی طرح یہ بھی وحی آئی ہے کہ اگر ان جنات کی طرح یہ لوگ بھی سیدھے راستہ پر آجاتے تو یہ قحط کی آفت ان پر سے ٹل جاتی اور ان کی شکر گزاری آزمانے کے لئے ان کے رزق میں اچھی فراخی کردی جاتی انہوں نے ایسا نہیں کیا تو یہ عادت الٰہی جاری ہے کہ جو اللہ کی نصیحت نہیں مانتا۔ اللہ اسے ایسے عذاب میں پکڑ لیتا ہے جو روز بروز بڑھتا چڑھتا رہتا ہے مثلاً کبھی مکہ کا سات برس کا قحط ہے کبھی بدر کی لڑائی کے قتل اور قید کی آفت پھر سب سے بڑھ چڑھ کر دوزخ کا عذاب جس کے بڑھنے چڑھنے کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ ابن 1 ؎ ماجہ مستدرک حاکم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کم تولنے اور زکوٰۃ کے ادا نہ کرنے سے قحط پڑتا ہے۔ 1 ؎ الترغیب والترہیب الترھیب من منع الزکوًۃ الخ ص 717 ج 1۔
Ayahs 72:18–24

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب خدا کے بندے (محمد ﷺ اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور میں اس کے سواء کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اسکے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے اور جو شخض خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب انکو معلوم ہوجائے گا کہ مددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کا تھوڑا ہے

18۔ 24۔ مشرک مکہ حرم میں اور یہود و نصاریٰ اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کی عبادت خالص نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی عبادتوں میں غیروں کو شریک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ہے کہ نبی اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو ۔ اوپر کی وحی کی طرح مجھ کو یہ بھی وحی آئی ہے کہ عبادت گا ہیں اللہ کے نام سے بنی ہیں۔ ان میں سوا اللہ کے کسی اور کو اس کی عبادت میں شریک کرنا بڑے وبال کی بات ہے پھر مشرکین مکہ کی ایک سرکشی کا ذکر کیا کہ ان لوگوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوتی کہ حرم میں خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے باز آئیں بلکہ اللہ کے بندے اللہ کے رسول جب ان لوگوں سے اللہ کی وحدانیت کی نصیحت کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں تو ان لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت پر کمر باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ کا دوا یکونون علیہ لبدا کی تفسیر میں سلف کیا ہی قول بھی 1 ؎ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف پڑھا تو اس کے سننے کے شوق میں جنات کا ہجوم اور اڑدھام جو ہوا تھا اسی کو کادوا یکونون علیہ لبدا فرمایا۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جنات نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ صحابہ کو جماعت سے نماز پڑھتے جو دیکھا تھا یہ انہوں نے اسی جماعت کی نماز کا ذکر اپنی قوم سے ان لفظوں میں کیا ہے یہ ایک قول حضرت عبد اللہ بن عباس کا ہے اور ترمذی 2 ؎ نے اس کو روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے ظاہراً اس قول کے معنی یہ ہیں کہ آیت اس مطلب پر بھی صادق آتی ہے ورنہ حافظ ابو جعفر بن جریر نے سلف کا قولوں میں قتادہ وغیرہ کے اس قول کو ترجیح دی ہے جو ان دونوں قولوں سے پہلے ذکر کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی آیتوں کا مضمون بھی اسی کا مقتضی ہے کہ اس قول کو ترجیح دی جائے کیونکہ اس آیت سے پہلے جو آیت ہے وہ مشرکین کی شان میں ہے اور اسی طرح اس آیت کے آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جس جواب کا ارشاد فرمایا ہے وہ مشرکین مکہ کی مخالفت کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے مشرکو تم ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع ہو کر مجھ سے مخالفت کیوں کرتے ہو۔ میں تو اللہ کے حکم کے موافق فقط اللہ کی خالص عبادت کرتا ہوں اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔ رہی تمہاری ہدایت اور گراہمی وہ میرے اختیار میں نہیں جس طرح اللہ کا حکم آتا ہے میں خود بھی اس کے موافق عمل کرتا ہوں اور تم کو بھی وہ حکم الٰہی پہنچا دیتا ہوں کیونکہ اللہ کے حکم کے موافق عمل کرنے میں یا اس کو تم کہ پہنچا دینے میں مجھ سے کوئی کوتاہی ہوجائے تو مجھے اللہ کے مواخذہ سے کون بچا سکتا ہے نہ اس سے بچنے کی کوئی پناہ کی جگہ مجھ کو نظر آتی ہے۔ اب بعد اس فہمایش کے جو کوئی اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے اگرچہ تم مجھ کو اکیلا اور میرے ساتھیوں کو تھوڑی سی جماعت دیکھ کر مخالفتوں پر آمادہ ہو لیکن اللہ کے وعدہ کے موافق کوئی آفت آگئی تو ہر کوئی جان لے گا کہ تمہاری بڑی بھیڑ کا انجام کیا ہوا اور ہماری تھوڑی سی جماعت کا کیا حال ہوا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بدر کی لڑائی میں ہی انجام ہر ایک کو معلوم ہوگیا۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 432 ج 2۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجن ص 190 ج 2۔ )
Ayahs 72:25–28

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ (عن) قریب (آنیوالا ہے) یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کردی ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

(وہی) غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتادیتا ہے اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دئیے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

25۔ 28۔ اوپر یہ ذکر تھا کہ اللہ کے وعدہ کے موافق کوئی آفت آگئی تو ہر کوئی جان لے گا کہ مشرکوں کی بڑی بھیڑ کا کیا انجام ہوا اور اللہ کے فرمانبردار تھوڑے سے مسلمانوں کا کیا انجام ہوا۔ اس کو سن کر بعض مشرکوں نے کہا آخر وہ عذاب کب ہے جس سے ہر وقت ڈرایا جاتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول ﷺ اللہ کے تم ان عذاب کے جلد باز لوگوں کو جواب دے دو کہ عذاب دنیا کا یا عذاب قیامت کا خاص وقت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے مجھ کو معلوم نہیں کیونکہ عذاب کے آنے کا خاص وقت ایک علم غیب ہے جو بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں وہ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے اس کو بذریعہ وحی کے غیب کی باتوں میں سے کچھ باتیں بتا دیتا ہے تاکہ وہ غیب کی بات کا بتانا نبی کی نبوت کی شان ٹھہرے اور اس وحی کی حفاظت کا خدا کی طرف سے آسمان و زمین پر بہت بڑا انتظام ہے آسمان پر جگہ جگہ فرشتے تعینات ہیں جو وحی کی خبر چوری سے سننے والے جنات پر چاروں طرف سے انگارے برساتے ہیں ‘ اور کوئی وحی کی خبر ان کو چوری سے سننے نہیں دیتے۔ آسمان سے زمین پر جب وحی کی خبر آتی ہے تو اللہ کے رسول ﷺ کے ارد گرد ہر طرف فرشتے اس بات کی چوکسی کرتے ہیں کہ اس میں کوئی شیطانی دخل نہ ہونے پائے۔ یہ سب انتظام اللہ تعالیٰ نے ظاہری اسباب کے طور پر فرمایا ہے ورنہ علم باطنی کے طور پر ذرہ ذرہ سب اس کو معلوم ہے کوئی شے اس کے علم سے باہر نہیں جو چیز مخلوقات کی نظروں سے غائب ہے اس کو غیب کہتے ہیں۔ عذاب قبر ‘ جنت ‘ دوزخ ‘ یہ سب غیب کی چیزیں ہیں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں حضرت ابوذر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا جنت اور دوزخ کا حال جو کچھ مجھ کو معلوم ہے اگر وہ تم لوگوں کو معلوم ہوجائے تو تم ہنسنا بالکل کم کر دو ‘ ہر وقت روتے رہو ‘ بستی کو چھوڑ کر جنگل کو چلے جاؤ اور ہر دم اللہ سے لو لگائے رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض غیب کی باتیں دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لئے سوائے اللہ کے رسول کے امت کے لوگوں پر تفصیل سے ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔ زمخشری اور معزلہ فرقے کے لوگوں نے الا من ارتضی من رسول سے یہ مطلب نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جبکہ رسولوں کا ذکر خاص طور پر غیب کی خبر دیئے جانے میں کیا ہے تو اولیاء کی کرامت کا وجود دنیا میں باقی نہ رہنا چاہئے کیونکہ اولیاء رسول نہیں ہیں مگر صحیح حدیثوں سے اولیاء کی کرامات کا ثبوت ملتا ہے اس لئے علمائے اہل سنت نے طرح طرح سے معتزلی فرقے کے لوگوں کو قائل کیا ہے۔ امام فخر الدین رازی نے ان آیتوں کی تفسیر میں چند کاہنوں کے قصے جو لکھے ہیں وہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے پہلے کے ہیں اور یہ اوپر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے پہلے جنات آسمان کی کچھ خبریں چوری سے سن آیا کرتے تھے اور کاہنوں سے بیان کردیا کرتے تھے کیونکہ اس زمانہ میں جنات کے آسمان تک جانے میں زیادہ روک ٹوک نہ تھی غرض ان وجوہات سے نہ وہ کاہنوں کے قصے ان آیتوں کے مخالف قرار پاسکتے ہیں نہ ان آیتوں کی تفسیر سے ان قصوں کو کچھ تعلق ہے۔ امد کے معنی لمبی مدت کے ہیں۔ رصد کے معنی وحی کی حفاظت کرنے والے فرشتے۔ (1 ؎ الترغیب و الترہیب۔ الترغیب فی الخوف وفضلد ص 494 ج 4۔ )