71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 71:1–4

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کر طرف بھیجا کہ پیشتر اسکے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بھائیوں میں تم کو کھلے طور پر نصحیت کرتا ہوں

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور (موت کے) وقت مقرر تک تم کو مہلت عطا کرے گا جب خدا کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے

1۔ 4۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس تک وہ اپنی قوم کو نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح کی قوم کے ابتدائی زمانہ تک لوگ دنیا میں بت پرستی نہیں کرتے تھے۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے پہل اس قوم نے دنیا میں بت پرستی جس طرح شروع کی اس کا ذکر آگے آتا ہے اس شرک کے مٹانے کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی اطاعت اور فرمانبرداری فرض تھی۔ اسی واسطے حضرت نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کا یہ اثر ہوا کہ فرمانبردار چند آدمیوں کے سوا تمام دنیا کے لوگ طوفان سے ہلاک ہوگئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ نصیحت جو اپنی قوم کو فرمائی کہ اللہ کی عبادت کرو اور میری فرمانبرداری کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک سب انبیاء نے یہی نصیحت فرمائی ہے اس لئے کہ سوائے اللہ کی عبادت کے تو کسی کی عبادت کسی شریعت میں جائز نہیں ہاں اللہ کی عبادت کا طریقہ بغیر اللہ کے رولوں کی فرمانبرداری کے معلوم نہیں ہوسکتا۔ اس واسطے اللہ کے رسولوں کی اور ان حاکموں اور دین کے بزرگوں کی جو اللہ کے رسول کے نائب ہیں امت کے عام لوگوں کو فرمانبرداری ضرور ہے لیکن اپنے نائبوں کی فرمانبردار میں خود اللہ کے رسول ﷺ نے یہ شرط لگا دی ہے کہ یہ فرمانبرداری وہیں تک ہے جہاں تک شریعت کے کسی حکم کی مخالفت نہ پیدا ہوجائے۔ چناچہ صحیحین 1 ؎ میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر کسی کے قول و فعل کی فرمانبرداری شریعت کی حد تک ہے۔ دوسری حدیث صحیحین 2 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حد شریعت سے باہر کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے حاصل کلام یہ ہے کہ نبوت کا زمانہ تو اب دور ہوگیا ہے اس زمانہ میں صاحب شریعت کے حکم کے معلوم کرنے کے لئے صاحب شریعت کے نائبوں کی فرمانبرداری کا موقع پیش آئے تو خود صاحب شریعت کی اس نصیحت اور وصیت کی پابندی ہر مسلمان کر ضرور ہے تاکہ کسی پیرو استاد و حاکم کی فرمانبرداری میں شریعت کی فرمانبرداری ہاتھ سے نہ جاتی رہے۔ ویو خرکم الی اجل مسمی کا یہ مطلب ہے کہ زندگی تک عبادت کرو تاکہ عبادت کے چھوڑ دینے کے وبال میں کوئی آفت نہ آجائے اگر موت یا موت سے پہلے کوئی اور آفت خدا کی طرف سے آجائے گی تو پھر مہلت کا موقع باقی نہ رہے گا جو باتیں میں کہتا ہوں اگر ان کو تم غور کرو گے توجلدی راہ راست پر آجاؤگے۔ 1 ؎ صحیح بخاری باب السمع والطاعۃ للامام ص 1058 ج 2 و صحیح مسلم باب وجوب طاعۃ الامراء الخ ص 124 ج 2۔ 2 ؎ صحیح بخاری باب السمع والطاعۃ للامام ص 1057 ج 2 و مسلم باب وجوب طاعۃ الامراء الخ ص 124 ج 2۔
Ayahs 71:5–20

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

جب لوگوں نے نہ مانا تو نوح نے خدا سے عرض کیا کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور کہا اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا .

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کریگا (اور ان مییں) تمہارے لئے نہریں بہاوے گا

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور چاند کو ان میں (زمین) کا نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھیرایا ہے

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر اسی میں تمہیں لوٹا دیگا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو

5۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں حضرت نوح علیہ اسلام کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس کے موافق انہوں نے سالہا سال تک اپنی قوم کو بت پرستی کے وبال سے ڈرایا اور جب ان کی سرکش قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اپنی قوم کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ میں ان لوگوں کو ہر وقت تنہائی میں محفل میں سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا مگر ان لوگوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ یہ لوگ نصیحت کی بات سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جب ان سے کوئی بات نصیحت کی کہی جاتی ہے تو یہ لوگ کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں منہ سر لپیٹ کر کانوں کو کپڑے کے اندر چھپا لیتے ہیں تاکہ نصیحت کی بات سے ان کے کان آشنا نہ ہوں ان کی بد عادت سے قحط کی آفت جو ان پر پڑی ہوئی ہے میں نے ان کو یہ بھی سمجھایا کہ اگر تم اللہ کی جناب میں اپنی بد اعمالی سے توبہ استغفار کرو گے تو اللہ تعالیٰ خوب موسلادھار منیہ بر سا دے گا جس سے تمہاری کھیتی تمہارے باغ سرسبز ہوجائیں گے۔ آدمی اور جانوروں کے لئے نہروں میں پانی آجائے گا ‘ تم آباد ہوجاؤگے ‘ تمہارے مال و اولاد میں ترقی ہوگی۔ اولاد کی ترقی کا ذکر اس لئے کیا کہ سزا کے طور پر جس طرح ان لوگوں میں قحط پڑا تھا اسی طرح ان کے گھر اولاد کا پیدا ہونا بھی بند ہوگیا تھا میں نے ان لوگوں کو یہ بات بھی سمجھائی کہ اللہ کی اس قدرت کو ذرا خیال کرو کہ اس نے تم میں سے کسی کو گورا کسی کو کالا کسی کو مرد کسی کو عورت جس طرح سے چاہا پیدا کیا۔ اور پھر اب پیدا ہونے کے بعد کوئی بچہ ہے کوئی جوان کوئی بوڑھا۔ کوئی تندرست کوئی بیمار ‘ پھر کوئی اچھا ہوجاتا ہے کوئی مرجاتا ہے۔ تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کے لئے تم نے کیا یہ نہیں دیکھا کہ اس نے سات آسمان ‘ چاند ‘ سورج کیا کیا پیدا کیا زمین کو بچھونے کی طرح ایسا نرم کردیا کہ اس میں کھیتی کرو باغ لگاؤ ‘ اس کو کھود کر اس کی اینٹ مٹی سے مکان بناؤ پہاڑوں کی گھاٹیاں رکھیں تاکہ ایک شہر سے دوسرے شہر کو تجارت کے لئے جا سکو تم جو کھیتی کرتے ہو تو اناج کے ہاتھ آنے کی نیت سے باغ لگاتے ہو میوہ کھانے کے ارادہ سے مکان بناتے ہو تو اس میں رہنے کے قصد سے پھر کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے یہ سب انتظام بغیر کسی انجام کے کئے ہیں نہیں نہیں ‘ اس سب انتظام کا انجام یہی ہے جو میں تم سے کہتا ہوں کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پھر تم کو زندہ کرے گا اور عمر بھر جو تم نے کیا ہے اس سب کی جزا و سزا دے گا۔ ان سب باتوں کو بھلا کر تم نے جو خدا کی عظمت بالکل دل سے نکال دی اور بتوں کو خدا کا ہمسر ٹھہرا لیا اور ان کی پوجا کرنے لگے ان بتوں کو خدا کی خدائی میں کیا اختیار ہے جو ان کی پوجا کرنے لگے۔ جو ان کی پوجا سے تم کچھ فیض کو پہنچو گے یہ مانا کہ جن لوگوں کی یہ مورتیں ہیں وہ جیتے جی خدا کے نیک بندے تھے لیکن جو جیتے جی خدا کے نیک بندہ ہو مرنے پر اس کو خدائی اختیار نہیں مل جاتے کہ رفع حاجات کے لئے اس کی پوجا اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ٹھہرے۔ غرض باوجود ان سب فہمایشوں کے یہ لوگ کسی طرح راہ راست پر انہیں آتے بلکہ ان کی سرکشی دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔
Ayahs 71:21–24

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

(اسکے بعد) نوح نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے ہیں جن کو انکے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

(پروردگار) انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور تو ان کو اور گمراہ کر دے

21۔ 24۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دوسری شکایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اس قوم کے صاحب مال اور صاحب اولاد لوگوں نے اس قوم کو یہ بہکا رکھا ہے کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو یہ نعمتیں ہم کو کیونکر ملتیں۔ اس لئے تم اپنے بتوں کی پوجا ہرگز نہ چھوڑ۔ ان مال دار لوگوں کے اس بہکاوے کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کا بڑا مکر اور بڑا دائوں کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان کے مال اور اولاد نے بھی ان کو یہ ایک بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے کہ مال و اولاد کے غرور کے سبب سے بھی وہ خود بھی راہ پر نہیں آتے اور دوسروں کو بھی مال و اولاد کے حیلہ سے بہکاتے ہیں پھر شکایت کی کہ یا اللہ ان بتوں کے سبب سے تیری بہت سی مخلوق گمراہی میں پڑگئی۔ ولا تزد الظلمین الا ضلالا کا مطلب یہ ہے کہ یا اللہ ان کی گمراہی یہاں تک بڑھے کہ آخر ان پر عذاب آجائے یہ بددعا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مشرک لوگوں کے حق میں کی ہے کیونکہ مشرک سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ صحیح بخاری میں 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ پانچ بت جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں تھے یہ قوم نوح کے نیک لوگوں کے نام ہیں جب یہ لوگ فوت ہوگئے تو ان کے معتقد لوگوں کو ان نیک شخصوں کی وفات کا بڑا رنج ہوا شیطان نے موقع پا کر ان کو یوں بہکایا کہ ان نیک لوگوں کی صورت کی مورتیں بنا کر تم اپنے عبادت خانہ میں رکھ لو اور ان مورتوں کے نام بھی وہی رکھو جو ان نیک لوگوں کے تھے اس سے تمہارا رنج بھی کم ہوجائے گا اور تمہارا جی بھی عبادت میں خوب لگے گا۔ چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ان لوگوں کی ایک دو پشت تک تو وہ بت ان عبادت خانوں میں یوں ہی رکھے رہے پھر رفتہ رفتہ ان بتوں کی پوجا جاری ہوگئی اور پھر طوفان کے بعد یہ بت مکہ میں آگئے اس تاریخ سے ان ہی بتوں کو مکہ کے مشرک لوگ بھی پوجتے تھے ہر ایک قبیلہ کا ایک بت تھا یہ اوپر گزر چکا ہے کہ قریش میں کا ایک شخص عمرو بن لحی تھا اس نے مکہ میں یہ پانچوں بت لا کر رکھتے تھے بعض علماء نے صحیح بخاری کی ای روایت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس روایت کی سند متصل اور پوری نہیں ہے کیونکہ اس حدیث کو عطا خراسانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور ابو داؤد ‘ دار قطنی وغیرہ نے صاف لکھ دیا ہے کہ عطا خراسانی کو حضرت عبد اللہ بن عباس سے ملاقات کا موقع نہیں ملا اس واسطے یہ روایت منقطع ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اس حدیث کو ابن جریج نے عطا سے روایت کیا ہے اور ابن جریج کی روایت عطا خراسانی اور عطا بن ابی رباح دونوں سے ہوا کرتی ہے۔ یہ روایت ابن جریج کی عطا بن ابی رباح سے ہے عطا خراسانی سے نہیں ہے۔ اسماء الرجال کی کتابوں سے حافظ ابن حجر کے اس جواب کی پوری تائید ہوتی ہے کس لئے کہ خود امام بخاری نے عطاء خراسانی کو اسماء الرجال کی کتابوں میں ضعیف قرار دیا ہے بلکہ جن علماء نے عطا خراسانی سے روایت کی ہے ان پر بھی امام بخاری نے اعتراض کیا ہے باوجود اس کے امام بخاری کی عادت کے یہ بالکل مخالف ہے کہ جس راوی کو خود وہ ضعیف اور قابل اعتراض ٹھہرائیں پھر اس راوی سے اپنی کتاب صحیح بخاری میں روایت کریں علاوہ اس کے جن علماء پر امام بخاری نے عطا خراسانی سے روایت کرنے کا اعتراض کیا ہے اگر خود امام بخاری عطا خراسانی سے روایت کرتے تو ان علماء کو اس بات کے کہنے کا موقع ملتا کہ خود تم نے بھی تو اپنی کتاب صحیح بخاری میں عطاخراسانی سے روایت کی ہے حالانکہ اس طرح کا کسی نے کوئی اعتراض اسماء الرجال کی کتابوں میں امام بخاری پر نہیں کیا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت عطا بن ابی رباح کی ہے عطا خراسانی کی نہیں ہے اسی واسطے حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا ہے کہ عطا خراسانی سے امام بخاری کا روایت کرنا درجہ صحت کو نہیں پہنچتا۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة نوح ص 732 ج 2۔ )
Ayahs 71:25–28

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب ہی غرقاب کردیے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور (پھر) نوح نے (یہ) دعا کی کہ اے میرے پروردگار کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو انکو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے پر دوردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اسکو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان ولی عورتوں کو معاف فرما۔ اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔

25۔ 28۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکایت اور بددعا کا آخر نتیجہ یہ ہوا کہ سوا تھوڑے سے آدمیوں کے جو حضرت نوح کے سمجھانے سے راہ راست پر آگئے تھے اور سب قوم کے لوگ طوفان سے ہلاک ہو کر سیدھے جہنم کو چلے گئے یہ طوفان کا قصہ سورة عنکبوت اور سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکا ہے ساڑھے نو سو برس تک حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی سرکشی کا خوب تجربہ ہوچکا تھا اس لئے طوفان کے وقت انہوں نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ اس سرکش قوم میں کا ایک گھر بھی طوفان کی آفت سے باقی نہ رہے کیونکہ ان میں کا ایک گھر بھی باقی رہے گا تو وہ اور ان کی اولاد لوگوں کو بہکائیں گے پھر اپنی ذات اور اپنے ماں باپ اور جو فرمانبردار مرد عورت حضرت نوح کے گھر میں طوفان کی آفت سے امن وامان میں رہنے کے لئے آئے تھے ان کے گناہ معاف ہونے کی دعا۔ اور بت پرستوں کی بربادی کی بددعا پر کلام کو ختم کیا۔ بت پرستی حضرت نوح (علیہ السلام) کے ماں باپ کے بعد پھیلی ہے اس لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ماں باپ مسلمان تھے حضرت نوح کے باپ کا نام لامک تھا حضرت آدم کے پانچویں پشت کے پوتے تھے۔