Ayahs 74:38–5638۔ 56۔ جس طرح گروی رکھوانے والا شخص گروی رکھوائی ہوئی چیز کے چھوڑانے کا پابند اور ذمہ دار ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے دن کافر مومن سب اپنی اپنی جان کو دوزخ کے عذاب سے چھوڑانے کے لئے اپنے اپنے عمل کے پابند کئے گئے ہیں اسی واسطے ہر ایک نیک و بد عمل کا حساب لکھنے کے لئے ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں جو ہر شخص کا زندگی بھر کا حساب لکھتے ہیں اور اس شخص کے مرجانے کے بعد وہ حساب کا کاغذ سربمہر رکھ لیا جاتا ہے اس کاغذ کو اعمال نہ کہتے ہیں۔ یہ اعمال نامہ ان لوگوں کو تو دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جن کا حساب آسانی سے ہو کر جلدی سے ان کی نجات ہونے والی ہے۔ چناچہ اذا السماء انشقت میں آئے گا۔ فما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحساب حسابا یسیرا۔ مسند امام 1 ؎ احمد میں صحیح سند سے حضرت عائشہ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کو نماز کی دعائوں میں یہ دعاء مانگتے ہوئے دیکھا اللھم حاسبنی حسابا یسرا۔ جب آنحضرت ﷺ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت حسابا یسیرا کا کیا مطلب ہے آپ ﷺ نے فرمایا حسابا یسیرا ان لوگوں کے حساب کا نام ہے جن کے اعمال ناموں کو خدا تعالیٰ سرسری نظر سے ملاحظہ فرمائے گا اور اس سرسرسی نظر میں کچھ در گزر بھی ہوگی ‘ ورنہ بغیر درگزر کے جن لوگوں کا حساب ذرا جانچ سے ہوگا وہ عذاب میں پھنس جائیں گے۔ مختصر طور پر حضرت عائشہ ؓ کی یہ حدیث صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے۔ اذا لسماء الشقت کی آیت اور ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ منکرین حشر کے اور جن کے حساب میں جانچ منظور ہے۔ ان سب کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دے کر ان کے حساب کی جانچ ہو کر ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا پھر منکرین حشر تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور کلمہ گو گناہ گار جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا وہ آخر کو دوزخ سے نجات پا کر جنت میں جائے گا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم کی حضرت ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے یہ لوگ جو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہ جائیں گے انہی سے جنتی لوگ ان کے ہمیشہ دوزخ میں رہ جانے کا سبب پوچھیں گے اور وہ دوزخی جواب دیں گے کہ ہم مرتے دم تک سزا و جزا کے منکر تھے۔ مرنے کے بعد ہمیں اس کا یقین آیا۔ ورنہ جیتے جی جو لوگ آخرت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے۔ ان کے ہی ساتھ ہم بھی لگے رہتے تھے اور جبکہ ہم کو سزا و جزا کا یقین ہی نہیں تھا تو ہم نے نہ خدا کی عبادت کی نہ خدا کے بندوں کا کوئی حق ادا کیا۔ پھر فرمایا کہ ایسے لوگوں کی سفارش بھی نہ ہوگی۔ کیونکہ سفارش تو اس بات کی ہوگی کہ گناہ گاروں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے جو لوگ سرے سے دوزخ اور جنت کے ہی منکر تھے۔ ان کی سفارش کیا ہوسکتی ہے اب اس قدر نصیحت سے ایسے بھاگتے ہیں جس طرح جنگلی گدھے شیر یا شکاری یا شور و غل سے بھاگتے ہیں۔ اس سے اہل مکہ کی ایک سرکشی بیان فرمائی جس کا حاصل سلف کی روایتوں کے موافق یہ 1 ؎ ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہم میں سی ہر ایک شخص کے نام آسمان سے ایک حکم نامہ اس مضمون کا آینا چاہئے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں تم لوگ ان کی فرمانبرداری کرو۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی سرکشی کے سبب سے اللہ کی بارگاہ سے جو انتظام ہوچکا ہے وہ نہیں پلٹ سکتا۔ کیونکہ یہ خواہش ان لوگوں کی کچھ اس خیال سے نہیں ہے کہ اگر ان کی خواہش پوری ہوجائے تو ان کے دل میں اللہ کے رسول ‘ اللہ کے کلام کی صداقت پیدا ہوجائے بلکہ ان کے دل میں تو دنیا کے انجام پر غور کرکے عقبیٰ کا یقین اور اس یقین کے سبب سے اس کا خوف کچھ بھی نہیں ہے اس واسطے یہ لوگ بےٹھکانے کی باتیں کرتے ہیں اور قرآن کی نصیحت کان کھول کر نہیں سنتے۔ پھر فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن انسان کا کلام اور جادو ہے۔ حقیقت میں ہرگز ایسا نہیں ہے کیونکہ جادو کا سیکھ لینا اور انسان کے کلام کے مانند کلام کا بنا لینا ان لوگوں کو ایسا عاجز نہ کردیتا جیسا کہ اب یہ قرآن کے مانند کلام کے بنانے سے عاجز اور لاچار ہیں اس لئے یہ قرآن اللہ کا کلام اور ہر نصیحت پکڑنے والے کے لئے ایک نصیحت ہے لیکن جس کو اللہ چاہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور اللہ کے علم ازلی میں ہر نصیحت کا پکڑنے والا اور نصیحت سے بھاگنے والا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے ہی قرار پا چکا ہے اس واسطے زبردستی سے اللہ کسی کو نصیحت پکڑنے کے راستہ پر لانا نہیں چاہتا۔ پھر فرمایا کہ جن باتوں سے اللہ نے منع کیا ہے ‘ انسان کو ان سے ڈرنا لائق اور سرزا وار ہے اور اس کے بعد اللہ کو ایسے لوگوں کے گناہوں کا بخش دینا لائق اور سزا وار ہے۔ مسند احمد ‘ ترمذی 1 ؎‘ ابن ماجہ وغیرہ میں انس بن مالک کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ﷺ نے آیت ھو اھل التقویٰ و اھل امغفرۃ پڑھ کر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان کو سزا وار ہے کہ وہ میری عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے اگر انسان نے ایسا کیا تو پھر وہ اس لائق ہے کہ میں اس کے گناہ بخش دوں۔ اس حدیث کے راویوں میں ایک شخص سہیل بن عبد اللہ کو اگرچہ بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن عبدی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور اس باب میں اور صحابہ ؓ سے بھی روایتیں ہیں جس سے ایک روایت کو دوسری سے تقویت ہوجاتی ہے۔ خصوصاً معاذ بن جبل کی صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کی وہ حدیث اس کی پوری تائید کرتی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرما دے جس چیز کے دیکھنے یا سننے سے دل پر خوف پیدا ہو اہل عرب کی زبان میں اس کو ق سورة کہتے ہیں۔ جنگلی گدھے شیر کی صورت دیکھنے اور شور و غل سننے سے دونوں چیزوں سے بھاگتے ہیں ‘ اس واسطے سلف میں سے اکثر علماء نے ق سورة کے معنی یہاں شیر کے لئے ہیں اور کچھ علماء نے شور و غل کے لئے ہیں۔ حقیقت میں دونوں معنی صحیح ہیں کیونکہ حاصل معنی یہ ہیں کہ جس طرح جنگلی گدھے شیر کی صورت دیکھنے یا شور و غل کی آواز سننے سے بھاگتے ہیں ‘ اسی طرح یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول کی صورت دیکھنے سے اور قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے بھاگتے ہیں۔
1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة مدثر ص 190 ج 2۔
2 ؎ صحیح بخاری باب الرد علی الجھمیۃ الخ ص 1097 ج 2۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب من نوقش الحساب عزب ص 967 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری کتاب الرد علی الجھمیۃ ص 1107 ج 2 و صحیح مسلم باب اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربہم الخ ص 103 ج 1۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 288 ج 2۔ )