Ayah 75:1سورة الْقِیٰمَة 1
کلام کی ابتدا نہیں سے کرنا خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے سے کوئی بات چل رہی تھی جس کی تردید میں یہ سورة نازل ہوئی ہے اور آگے کا مضمون آپ ہی ظاہر کردیتا ہے کہ وہ بات قیامت اور آخرت کی زندگی کے بارے میں تھی جس کا اہل مکہ انکار کرر ہے تھے بلکہ ساتھ ساتھ مذاق بھی اڑا رہے تھے۔ اس طرز بیان کو اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر آپ محض رسول کی صداقت کا اقرار کرنا چاہتے ہوں تو آپ کہیں گے " خدا کی قسم رسول برحق ہے "۔ لیکن اگر کچھ رسول کی صداقت کا انکار کر رہے ہوں تو آپ جواب میں اپنی بات یوں شروع کریں گے کہ " نہیں، خدا کی قسم رسول برحق ہے "۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہوں وہ صحیح نہیں ہے، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اصل بات یہ ہے۔
Ayah 75:2سورة الْقِیٰمَة 2
قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک وہ نفس جو انسان کو برائیوں پر اکساتا ہے۔ اس کا نام نفس امارہ ہے۔ دوسرا وہ نفس جو غلط کام کرنے یا غلط سوچنے یا بری نیت رکھنے پر نادم ہوتا ہے اور انسان کو اس پر ملامت کرتا ہے۔ اس کا نام نفس لوامہ ہے اور اسی کو ہم آج کل کی اصطلاح میں ضمیر کہتے ہیں۔ تیسرا وہ نفس جو صحیح راہ پر چلنے اور غلط راہ چھوڑ دینے میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔ اس کا نام نفس مطمئنہ ہے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم جس بات پر کھائی ہے اسے بیان نہیں کیا ہے کیونکہ بعد کا فقرہ خود اس بات پر دلالت کر رہا ہے۔ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ ضرور پیدا کرے گا اور وہ ایسا کرنے پر پوری طرح قادر ہے اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بات پر ان دو چیزوں کی قسم کس مناسبت سے کھائی گئی ہے ؟
جہاں تک روز قیامت کا تعلق ہے، اس کی قسم کھانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے۔ پوری کائنات کا نظام اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ نظام نہ ازلی ہے نہ ابدی۔ اس کی نوعیت ہی خود یہ بتارہی ہے کہ یہ نہ ہمیشہ سے تھا اور نہ ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے۔ انسان کی عقل پہلے بھی اس گمان بےاصل کے لیے کوئی مضبوط دلیل نہ پاتی تھی کہ یہ ہر آن بدلنے و الی دنیا کبھی قدیم اور غیر فانی بھی ہو سکتی ہے، لیکن جتنا اس دنیا کے متعلق انسان کا علم بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ یہ امر خود انسان کے نزدیک بھی یقینی ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس ہنگامئہ ہست و بو کی ایک ابتدا ہے جس سے پہلے یہ نہ تھا، اور لازماً اس کی ایک انتہا بھی ہے جس کے بعد یہ نہ رہے گا۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقوع پر خود قیامت ہی کی قسم کھائی ہے، اور یہ ایسی قسم ہے جیسے ہم کسی شکی انسان کو جو اپنے موجود ہونے ہی میں شک کر رہا ہو، خطاب کر کے کہیں کہ تمہاری جان کی قسم تم موجود ہو، یعنی تمہارا وجود خود تمہارے موجود ہونے پر شاہد ہے۔
لیکن روز قیامت کی قسم صرف اس امر کی دلیل ہے کہ ایک دن یہ نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ رہی یہ بات کہ اس کے بعد پھر انسان دوباوہ اٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور وہ اپنے کیے کا اچھا یا برا نتیجہ دیکھے گا، تو اس کے لیے دوسری قسم نفس لوامہ کی کھائی گئی ہے۔ کوئی انسان دنیا میں ایسا موجود نہیں ہے جو اپنے اندر ضمیر نام کی ایک چیز نہ رکھتا ہو۔ اس ضمیر میں لازماً بھلائی اور برائی کا ایک احساس پایا جاتا ہے، اور چاہے انسان کتنا ہی بگڑا ہوا ہو، اس کا ضمیر اسے کوئی برائی کرنے اور کوئی بھلائی نہ کرنے پر ضرور ٹوکتا ہے قطع نظر اس سے کہ اس نے بھلائی اور برائی کا جو معیار بھی قرار دے رکھا ہو وہ بجائے خود صحیح ہو یا غلط۔ یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ انسان نرا حیوان نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی وجود ہے، اس کے اندر فطری طور پر بھلائی اور برائی کی تمیز پائی جاتی ہے، وہ خود اپنے آپ کو اپنے اچھے اور برے افعال کا ذمہ دار سمجھتا ہے، اور جس برائی کا ارتکاب اس نے دوسرے کے ساتھ کیا ہو اس پر اگر وہ اپنے ضمیر کی ملامتوں کو دبا کر خوش بھی ہو لے، تو اس کے برعکس صورت میں جبکہ اسی برائی کا ارتکاب کسی دوسرے نے اس کے ساتھ کیا ہو، اس کا دل اندر سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس زیادتی کا مرتکب ضرور سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔ اب اگر انسان کے وجود میں اس طرح کے ایک نفس لوامہ کی موجودگی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، تو پھر یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہی نفس لوامہ زندگی کے بعد موت کی ایک ایسی شہادت ہے جو خود انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ کیونکہ فطرت کا یہ تقاضا کہ اپنے جن اچھے اور برے اعمال کا انسان ذمہ دار ہے ان کی جزا یا سزا اس کو ضرور ملنی چاہیے، زندگی بعد موت کے سوا کسی دوسری صورت میں پورا نہیں ہو سکتا۔ کوئی صاحب عقل آدمی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ مرنے کے بعد اگر آدمی معدوم ہوجائے تو اس کی بہت سی بھلائیاں ایسی ہیں جن کے اجر سے وہ لازماً محروم رہ جائے گا۔ اور اس کی بہت سی برائیاں ایسی ہیں جن کی منصفانہ سزا پانے سے وہ ضرور بچ نکلے گا۔ اس لیے جب تک آدمی اس بیہودہ بات کا قائل نہ ہو کہ عقل رکھنے والا انسان ایک غیر معقول نظام کائنات میں پیدا ہوگیا ہے اور اخلاقی احساسات رکھنے والا انسان ایک ایسی دنیا میں جنم لیے بیٹھا ہے جو بنیادی طور پر اپنے پورے نظام میں اخلاق کا کوئی وجود ہی نہیں رکھتی، اس وقت تک وہ حیات بعد موت کا انکار نہیں کرسکتا۔ اسی طرح تناسخ یا آواگون کا فلسفہ بھی فطرت کے اس مطالبے کا جواب نہیں ہے۔ کیونکہ اگر انسان اپنے اخلاقی اعمال کی سزا یا جزا پانے کے لیے پھر اسی دنیا میں جنم لیتا چلا جائے تو ہر جنم میں وہ پھر کچھ مزید اخلاقی اعمال کرتا چلا جائے گا جو نئے سرے سے جزا و سزا کے متقاضی ہوں گے۔ اور اس لامتناہی سلسلے میں بجائے اس کے کہ اس کا حساب کبھی چک سکے، الٹا اس کا حساب بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اس لیے فطرت کا یہ تقاضا صرف اسی صورت میں پورا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں انسان کی صرف ایک زندگی ہو، اور پھر پوری نوع انسانی کا خاتمہ ہوجانے کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں انسان کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک حساب کر کے اسے پوری جزا اور سزا دی جائے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف حاشیہ 30)۔
Ayah 75:3سورة الْقِیٰمَة 3
اوپر کی دو دلیلیں، جو قسم کی صورت میں بیان کی گئی ہیں، صرف دو باتیں ثابت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا کا خاتمہ (یعنی قیامت کا پہلا مرحلہ) ایک یقینی امر ہے۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد دوسری زندگی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کے ایک اخلاقی وجود ہونے کے منطقی اور فطری تقاضے پورے نہیں ہو سکتے، اور یہ امر ضرور واقع ہونے والا ہے کیونکہ انسان کے اندر ضمیر کی موجودگی اس پر گواہی دے رہی ہے۔ اب یہ تیسری دلیل یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے کہ زندگی کے بعد موت ممکن ہے۔ مکہ میں جو لوگ اس کا انکار کرتے تھے وہ بار بار یہ کہتے تھے کہ آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزر چکے ہوں، جن کے جسم کا ذرہ ذرہ خاک میں مل کر پراگندہ ہوچکا ہو، جن کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر نہ معلوم زمین میں کہاں کہاں منتشر ہوچکی ہوں جن میں سے کوئی جل مرا ہو، کوئی درندوں کے پیٹ میں جا چکا ہو، کوئی سمندر میں غرق ہو کر مچھلیوں کی غذا بن چکا ہو، ان سب کے اجزائے جسم پھر سے جمع ہوجائیں اور ہر انسان پھر وہی شخص بن کر اٹھ کھڑا ہو جو دس بیس ہزار برس پہلے بھی وہ تھا ؟ اس کا نہایت معقول اور انتہائی پر زور جواب اللہ تعالیٰ نے اس مختصر سے سوال کی شکل میں دے دیا ہے " کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو کبھی جمع نہ کرسکیں گے ؟ " یعنی اگر تم سے یہ کہا گیا ہوتا کہ تمہارے یہ منتشر اجزائے جسم کسی وقت آپ سے آپ جمع ہوجائیں گے اور تم آپ سے آپ اسی جسم کے ساتھ اٹھو گے، تو بلاشبہ تمہارا اس کو ناممکن سمجھنا بجا ہوتا۔ مگر تم سے تو کہا یہ گیا ہے کہ یہ کام خود نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا۔ اب کیا تم واقعی یہ سمجھ رہے ہو کہ کائنات کا خالق، جسے تم خود بھی خالق مانتے ہو، اس کام سے عاجز ہے ؟ یہ ایسا سوال تھا جس کے جواب میں کوئی شخص جو خدا کو خالق کائنات مانتا ہو، نہ اس وقت یہ کہہ سکتا تھا اور نہ آج یہ کہہ سکتا ہے کہ خدا بھی یہ کام کرنا چاہے تو نہیں سکتا۔ اور اگر کوئی بیوقوف ایسی بات کہے تو اس سے پوچھا جاسکتا ہے کہ تم جس جسم میں اس وقت موجود ہو اس کے بیشمار اجزاء کو ہوا اور پانی اور مٹی اور نہ معلوم کہاں کہاں سے جمع کر کے اسی خدا نے کیسے یہ جسم بنادیا جس کے متعلق تم یہ کہہ رہے ہو کہ وہ پھر ان اجزا کو جمع نہیں کرسکتا ؟
Ayah 75:4سورة الْقِیٰمَة 4
یعنی بڑی بڑی ہڈیوں کو جمع کر کے تمہارا ڈھانچہ پھر سے کھڑا کردینا تو درکنار، ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمارے نازک ترین اجزائے جسم حتیٰ کہ تمہاری انگلیوں کی پوروں تک کو پھر ویسا ہی بنادیں جیسی وہ پہلے تھیں۔
Ayah 75:5سورة الْقِیٰمَة 5
اس چھوٹے سے فقرے میں منکرین آخرت کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کردی گئی ہے۔ ان لوگوں کو جو چیز آخرت کے انکار پر آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اور آخرت کو ناممکن سمجھتے ہیں، بلکہ ان کے اس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے لازماً ان پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اب تک زمین میں بےنتھے بیل کی طرح پھرتے رہے ہیں اسی طرح آئندہ بھی پھرتے رہیں۔ جو ظلم، جو بےایمانیاں، جو فسق و فجور، جو بد کرداریاں وہ اب تک کرتے رہے ہیں، آئندہ بھی ان کو اس کی کھلی چھوٹ ملی رہے، اور یہ خیال کبھی ان کو یہ ناروا آزادیاں برتنے سے نہ روکنے پائے کہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ان اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے گی۔ اس لیے دراصل ان کی عقل انہیں آخرت پر ایمان لانے سے نہیں روک رہی ہے بلکہ ان کی خواہشات نفس اس میں مانع ہیں۔
Ayah 75:6سورة الْقِیٰمَة 6
یہ سوال استفسار کے طور پر نہیں بلکہ انکار اور استہزاء کے طور پر تھا۔ یعنی یہ پوچھنا نہیں چاہتے تھے کہ قیامت کس روز آئے گی، بلکہ مذاق کے طور پر کہتے تھے کہ حضرت ! جس دن کی آپ خبر دے رہے ہیں آخر وہ آتے آتے رہ کہاں گیا ہے ؟
Ayahs 75:7–8سورة الْقِیٰمَة 7
اصل میں برق البصر کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے لغوی معنی بجلی کی چمک سے آنکھوں کے چندھیا جانے کے ہیں۔ لیکن عربی محاورے میں یہ الفاظ اسی معنی کے لیے مخصوص نہیں ہیں بلکہ خوف زدگی، حیرت یا کسی اچانک حادثہ سے دو چار ہوجانے کی صورت میں اگر آدمی ہک دک رہ جائے اور اس کی نگاہ اس پریشان کن منظر کی طرف جم کر رہ جائے جو اس کو نظر آ رہا ہو تو اس کے لیے بھی یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ اس مضمون کو قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ یوں بیان کیا گیا ہے انما یوخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار، " اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب آنکھیں پھٹی پھٹی رہ جائیں گی " (ابراہیم، 42)۔
Ayahs 75:9–12سورة الْقِیٰمَة 8
یہ قیامت کے پہلے مرحلے میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بےنور ہوجانے اور سورج کے مل کر ایک ہوجانے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند کی روشنی ختم نہ ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بےنور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک الٹی چل پڑے گی اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ چاند یک لخت زمین کی گرفت سے چھوٹ کر نکل جائے گا اور سورج میں جا پڑے گا۔ ممکن ہے اس کا کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج ہم نہیں سمجھ سکتے۔
Ayahs 75:13–14سورة الْقِیٰمَة 9
اصل میں الفاظ ہیں بما قدم و اخر۔ یہ بڑا جامع فقرہ ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجی تھی اور یہ حساب بھی اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ اپنے اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدتہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسے وہ سب کچھ بتادیا جائے گا جو اسے کرنا چاہیے تھا مگر اس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا مگر اس نے کر ڈالا۔ تیسرے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ اس نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا اس کا پورا حساب تاریخ وار اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ چوتھے معنی یہ ہیں کہ جو نیکی یا بدی اس نے کی وہ بھی اسے بتادی جائے گی اور جس نیکی یا بدی کے کرنے سے وہ باز رہا اس سے بھی اسے آگاہ کردیا جائے گا۔
Ayah 75:15سورة الْقِیٰمَة 10
یعنی آدمی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھنے کی غرض در حقیقت یہ نہیں ہوگی کہ مجرم کو اس کا جرم بتایا جائے، بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہوگا کہ انصاف کے تقاضے بر سر عدالت جرم ثبوت پیش کیے بغیر پورے نہیں ہوتے۔ ورنہ ہر انسان خوب جانتا ہے کہ وہ خود کیا ہے۔ اپنے آپ کو جاننے کے لیے وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اسے بتائے کہ وہ کیا ہے۔ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکہ دے سکتا ہے، لیکن اسے خود تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ایک چور لاکھ حیلے اپنی چوری چھپانے کے لیے اختیار کرسکتا ہے، مگر اس کے اپنے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں ہوتی کہ وہ چور ہے۔ ایک گمراہ آدمی ہزار دلیلیں پیش کر کے لوگوں کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ وہ جس کفر یا دہریت یا شرک کا قائل ہے وہ درحقیقت اس کی ایماندارانہ رائے ہے، لیکن اس کا اپنا ضمیر تو اس سے بیخبر نہیں ہوتا کہ ان عقائد پر وہ کیوں جما ہوا ہے اور ان کی غلطی سمجھنے اور تسلیم کرنے سے دراصل کیا چیز اسے روک رہی ہے۔ ایک ظالم، ایک بد دیانت، ایک بد کردار، ایک حرام خور اپنی بد اعمالیوں کے لیے طرح طرح کی معذرتیں پیش کر کے خود اپنے ضمیر تک کا منہ بند کرنے کی کوشش کرسکتا ہے تاکہ وہ اسے ملامت کرنے سے باز آجائے اور یہ مان لے کہ واقعی کچھ مجبوریاں، کچھ مصلحتیں، کچھ ضرورتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ سب کچھ کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کو یہ علم تو بہرحال ہوتا ہی ہے کہ اس نے کس پر کیا ظلم کیا ہے، کس کا حق مارا ہے، کس کی عصمت خراب کی ہے، کس کو دھوکا دیا ہے اور کن ناجائز طریقوں سے کیا کچھ حاصل کیا ہے۔ اس لیے آخرت کی عدالت میں پیش ہوتے وقت ہر کافر، ہر منافق، ہر فاسق و فاجر اور مجرم خود جانتا ہوگا کہ وہ کیا کر کے آیا ہے اور کس حیثیت میں آج اپنے خدا کے سامنے کھڑا ہے۔
Ayahs 75:16–17سورة الْقِیٰمَة 11
یہاں سے لے کر " پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے " تک کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیج میں توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم دیباچہ میں بیان کر آئے ہیں، نبوت کے ابتدائی دور میں، جبکہ حضور ﷺ کو وحی اخذ کرنے کی عادت اور مشق پوری طرح نہیں ہوئی تھی، آپ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہوجاتا تھا کہ جبریل ؑ جو کلام الہی آپ کو سنا رہے ہیں وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک یاد رہ سکے گا یا نہیں، اس لیے آپ وحی سننے کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرنے کی کوشش کرتے لگتے تھے۔ ایسی ہی صورت اس وقت پیش آئی جب حضرت جبریل سورة قیامہ کی یہ آیات آپ کو سنا رہے تھے۔ چناچہ سلسلہ کلام توڑ کر آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ وحی کے الفاظ یاد کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ غور سے سنتے رہیں، اسے یاد کرا دینا اور بعد میں ٹھیک ٹھیک آپ سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے، آپ مطمئن رہیں کہ کلام کا ایک لفظ بھی آپ نہ بھولیں گے نہ کبھی اسے ادا کرنے میں غلطی کرسکیں گے۔ یہ ہدایت فرمانے کے بعد پھر اصل سلسلہ کلام " ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے " سے شروع ہوجاتا ہے۔ جو لوگ اس پس منظر سے واقف نہیں ہیں وہ اس مقام پر ان فقروں کو دیکھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کلام میں یہ بالکل بےجوڑ ہیں۔ لیکن اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد کلام میں کوئی ربطی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک استاد درس دیتے دیتے یکایک یہ دیکھے کہ طالبعلم کسی اور طرف متوجہ ہے اور وہ درس کا سلسلہ توڑ کر طالبعلم سے کہے کہ توجہ سے میری بات سنو اور اس کے بعد آگے پھر اپنی تقریر شروع کر دے۔ یہ درس اگر جوں کا توں نقل کر کے شائع کردیا جائے تو جو لوگ اس اصل واقعہ سے واقف نہ ہوں گے وہ اس سلسلہ تقریر میں اس فقرے کو بےجوڑ محسوس کریں۔ لیکن جو شخص اس اصل واقعہ سے واقف ہوگا جس کی بنا پر یہ فقرہ درمیان میں آیا ہے وہ مطمئن ہوجائے گا کہ درس فی الحقیقت جوں کا توں نقل کیا گیا ہے، اسے نقل کرنے میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی ہے۔
اوپر ان آیات کے درمیان یہ فقرے بطور جملہ معترضہ آنے کی جو توجیہ ہم نے کی ہے وہ محض قیاس پر مبنی نہیں ہے، بلکہ معتبر روایات میں اس کی یہی وجہ بیان ہوئی ہے۔ مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، طبرانی، بہیقی اور دوسرے محدثین نے متعدد سندوں سے حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جب حضور ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تھا تو آپ اس خوف سے کہیں کوئی چیز بھول نہ جائیں جبریل ؑ کے ساتھ ساتھ وحی کے الفاظ دہرانے لگتے تھے۔ اس پر فرمایا گیا کہ لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔۔۔۔ یہی بات شعبی، ابن زید، ضخاک، حسن بصری، قتادہ، مجاہد اور دوسرے اکابر مفسرین سے منقول ہے۔
Ayah 75:18سورة الْقِیٰمَة 12
اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو جبریل ؑ قرآن پڑھ کر سناتے تھے، لیکن چونکہ وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پڑھتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ " جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں "۔
Ayah 75:19سورة الْقِیٰمَة 13
اس سے گمان ہوتا ہے، اور بعض اکابر مفسرین نے بھی اس گمان کا اظہار کیا ہے، کہ غالباً ابتدائی زمانے میں رسول اللہ ﷺ نزول وحی کے دوران ہی میں قرآن کی کسی آیت یا کسی لفظ یا کسی حکم کا مفہوم بھی جبریل ؑ سے دریافت کرلیتے تھے۔ اس لیے حضور ﷺ کو نہ صرف ہدایت کی گئی کہ جب وحی نازل ہو رہی ہو اس وقت آپ خاموشی سے اس کو سنیں، اور نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اس کا لفظ لفظ ٹھیک ٹھیک آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا جائے گا اور قرآن کو آپ ٹھیک اسی طرح پڑھ سکیں گے جس طرح وہ نازل ہوا ہے، بلکہ ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور ہر ارشاد کا منشا اور مدعا بھی پوری طرح آپ کو سمجھا دیا جائے گا۔
یہ ایک بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنہیں اگر آدمی اچھی طرح سمجھ لے تو ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جو پہلے بھی بعض لوگ پھیلاتے رہے ہیں اور آج بھی پھیلا رہے ہیں۔ اولاً ، اس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے احکام و فرامین، اس کے اشارات، اس کے الفاظ اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم و مدعا حضور ﷺ کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس کا مطلب سمجھا دینا یا اس کی تشریح کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے، کیونکہ وہ تو پھر قرآن ہی میں مل جاتا۔ لہذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مطالب قرآن کی تفہیم و تشریح جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی جاتی تھی وہ بہرحال الفاظ قرآن کے ماسوا تھی۔ یہ وحی خفی کا ایک اور ثبوت ہے جو ہمیں قرآن سے ملتا ہے (قرآن مجید سے اس کے مزید ثبوت ہم نے اپنی کتاب " سنت کی آئینی حیثیت " میں صفحات 94۔ 95۔ اور صفحات 118 تا 125 میں پیش کردیے ہیں)۔
ثانیاً ، قرآن کے مفہوم و مدعا اور اس کے احکام کی یہ تشریح جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی تھی آخر اسی لیے تو بتائی گئی تھی کہ آپ اپنے قول اور عمل سے اس کے مطابق لوگوں کو قرآن سمجھائیں اور اس کے احکام پر عمل کرنا سکھائیں۔ اگر یہ اس کا مدعا نہ تھا اور یہ تشریح آپ کو صرف اس لیے بتائی گئی تھی کہ آپ اپنی ذات کی حد تک اس علم کو محدود رکھیں تو یہ ایک بےکار کام تھا، کیونکہ فرائض نبوت کی ادائیگی میں اس سے کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی۔ اس لیے صرف ایک بیوقوف آدمی ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تشریحی علم سرے سے کوئی شریعی حیثیت نہ رکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود سورة نحل آیت 44 میں فرمایا ہے وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم۔ " اور اے نبی، یہ ذکر ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لیے اتاری گئی ہے " (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ 40)۔ اور قرآن میں چار جگہ اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کام صرف کتاب اللہ کی آیات سنا دینا ہی نہ تھا بلکہ اس کی تعلیم دینا بھی تھا۔ (البقرہ، آیات 129 و 151، آل عمران، 164۔ الجمعہ، 2۔ ان سب آیات کی تشریح ہم " سنت کی آئینی حیثیت " میں صفحہ 74 سے 77 تک تفصیل کے ساتھ کرچکے ہیں)۔
اس کے بعد کوئی ایسا آدمی جو قرآن کو مانتا ہو اس بات کو تسلیم کرنے سے کیسے انکار کرسکتا ہے کہ قرآن کی صحیح و مستند، بلکہ فی الحقیقت سرکاری تشریح صرف وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے فرما دی ہے، کیونکہ وہ آپ کی ذاتی تشریح نہیں ہے بلکہ خود قرآن کے نازل کرنے والے خدا کی بتائی ہوئی تشریح ہے۔ اس کو چھوڑ کر یا اس سے ہٹ کر جو شخص بھی قرآن کی کسی آیت یا اس کے کسی لفظ کا کوئی من مانا مفہوم بیان کرتا ہے وہ ایسی جسارت کرتا ہے جس کا ارتکاب کوئی صاحب ایمان آدمی نہیں کرسکتا۔
ثالثاً ، قرآن کا سرسری مطالعہ بھی اگر کسی شخص نے کیا ہو تو وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس میں بکثرت باتیں ایسی ہیں جنہیں ایک عربی داں آدمی محض قرآن کے الفاظ پڑھ کر یہ نہیں جان سکتا کہ ان کا حقیقی مدعا کیا ہے اور ان میں جو حکم بیان کیا گیا ہے اس پر کیسے عمل کیا جائے۔ مثال کے طور پر لفظ صلوۃ ہی کو لے لیجئے۔ قرآن مجید میں ایمان کے بعد اگر کسی عمل پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے تو وہ صلوۃ ہے۔ لیکن محض عربی لغت کی مدد سے کوئی شخص اس کا مفہوم تک متعین نہیں کرسکتا۔ قرآن میں اس کا ذکر بار بار دیکھ کر زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ سمجھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ عربی زبان کے اس لفظ کو کسی خاص اصطلاحی معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اس سے مراد غالباً کوئی خاص فعل ہے جسے انجام دینے کا اہل ایمان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن صرف قرآن کو پڑھ کر کوئی عربی داں یہ طے نہیں کرسکتا کہ وہ خاص فعل کیا ہے اور کس طرح اسے ادا کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کے بھیجنے والے نے اپنی طرف سے ایک معلم کو مقرر کر کے اپنی اس اصطلاح کا مفہوم اسے ٹھیک ٹھیک نہ بتایا ہوتا اور صلوۃ کے حکم کی تعمیل کرنے کا طریقہ پوری وضاحت کے ساتھ اسے نہ سکھا دیا ہوتا تو کیا صرف قرآن کو پڑھ کر دنیا میں کوئی دو مسلمان بھی ایسے ہو سکتے تھے جو حکم صلوۃ پر عمل کرنے کی کسی ایک شکل پر متفق ہوجاتے ؟ آج ڈیڑھ ہزار برس سے مسلمان نسل در نسل ایک ہی طرح جو نماز پڑھتے چلے آ رہے ہیں، اور دنیا کے ہر گوشے میں کروڑوں مسلمان جس طرح نماز کے حکم پر یکساں عمل کر رہے ہیں، اس کی وجہ یہی تو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر صرف قرآن کے الفاظ ہی وحی نہیں فرمائے تھے بلکہ ان الفاظ کا مطلب بھی آپ کو پوری طرح سمجھا دیا تھا، اور اسی مطلب کی تعلیم آپ ان سب لوگوں کو دیتے چلے گئے جنہوں نے قرآن کو اللہ کی کتاب اور آپ کو اللہ کا رسول مان لیا۔
رابعاً ، قرآن کے الفاظ کی جو تشریح اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بتائی اور رسول ﷺ نے اپنے قول اور عمل سے اس کی جو تعلیم امت کو دی، اس کو جاننے کا ذریعہ ہمارے پاس حدیث و سنت کے سوا کوئی نہیں ہے۔ حدیث سے مراد وہ روایات ہیں جو حضور ﷺ کے اقوال و افعال کے متعلق سند کے ساتھ اگلوں سے پچھلوں تک منتقل ہوئیں۔ اور سنت سے مراد وہ طریقہ ہے جو حضور ﷺ کی قولی و عملی تعلیم سے مسلم معاشرے کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رائج ہوا، جس کی تفصیلات معتبر روایتوں سے بھی بعد کی نسلوں کو اگلی نسلوں سے ملیں، اور بعد کی نسلوں نے اگلی نسلوں میں اس پر عملدرآمد ہوتے بھی دیکھا۔ اس ذریعہ علم کو قبول کرنے سے جو شخص انکار کرتا ہے وہ گویا یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ثم ان علینا بیانہ فرما کر قرآن کا مطلب اپنے رسول کو سمجھا دینے کی جو ذمہ داری لی تھی اسے پورا کرنے میں معاذ اللہ وہ ناکام ہوگیا، کیونکہ یہ ذمہ داری محض رسول کو ذاتی حیثیت سے مطلب سمجھانے کے لیے نہیں لی گئی تھی، بلکہ اس غرض کے لیے لی گئی تھی کہ رسول کے ذریعہ پوری امت کو کتاب الہی کا مطلب سمجھایا جائے، اور حدیث و سنت کے ماخد قانون ہونے کا انکار کرتے ہی آپ سے آپ یہ لازم آجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرسکا ہے، اعاذنا اللہ من ذالک۔ اس کے جواب میں جو شخص یہ کہتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے حدیثیں گھڑ بھی تو لی تھیں اس سے ہم کہیں گے کہ حدیثوں کا گھڑا جانا خود اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آغاز اسلام میں پوری امت رسول اللہ ﷺ کے اقوال و اعمال کو قانون کا درجہ دیتی تھی ورنہ آخر گمراہی پھیلانے والوں کو جھوٹی حدیثیں گھڑنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی ؟ جعل ساز لوگ وہی سکے تو جعلی بناتے ہیں جن کا بازار میں چلن ہو۔ جن نوٹوں کی بازار میں کوئی قیمت نہ ہو انہیں کون بیوقوف جعلی طور پر چھاپے گا ؟ پھر ایسی بات کہنے والوں کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ اس امت نے اول روز سے اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ جس ذات پاک نے اقوال و افعال قانون کا درجہ رکھتے ہیں اس کی طرف کوئی غلط بات منسوب نہ ہونے پائے، اور جتنا جتنا غلط باتوں کے اس ذات کی طرف منسوب ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا اتنا ہی اس امت کے خیر خواہ اس بات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرتے چلے گئے کہ صحیح کو غلط سے ممیز کیا جائے۔ صحیح و غلط روایات کی تمیز کا یہ علم ایک بڑا عظیم الشان علم ہے جو مسلمانوں کے سوا دنیا کی کسی قوم نے آج تک ایجاد نہیں کیا، سخت بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اس علم کو حاصل کیے بغیر مغربی مستشرقین کے بہکائے میں آ کر حدیث و سنت کو ناقابل اعتبار ٹھیراتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اپنی اس جاہلانہ جسارت سے وہ اسلام کو کتنا بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Ayah 75:20سورة الْقِیٰمَة 14
یہاں سے سلسلہ کلام پھر اسی مضمون کے ساتھ جڑ جاتا ہے جو بیچ کے جملہ معترضہ سے پہلے چلا آ رہا تھا۔ ہرگز نہیں کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے انکار آخرت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ تم خالق کائنات کو قیامت برپا کرنے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کردینے سے عاجز سمجھتے ہو، بلکہ اصل وجہ یہ ہے۔
Ayah 75:21سورة الْقِیٰمَة 15
یہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے۔ پہلی وجہ آیت نمبر 5 میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چونکہ فجور کی کھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کو ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہیں، اس لیے دراصل خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر ابھارتی ہیں اور پھر وہ عقلی دلیلیں بگھارتا ہے تاکہ اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے۔ اب دوسری وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ منکرین آخرت چونکہ تنگ نظر اور کوتاہ ہیں اس لیے ان کی نگاہ میں ساری اہمیت انہی نتائج کی ہے جو اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور ان نتائج کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے جو آخرت میں ظاہر ہونے والے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو فائدہ یا لذت یا خوشی یہاں حاصل ہوجائے اسی کی طلب میں ساری محنتیں اور کوششیں کھپا دینی چاہیں کیونکہ اسے پا لیا تو گویا سب کچھ پا لیا، خواہ آخرت میں اس کا انجام کتنا ہی بڑا ہو۔ اسی طرح ان کا خیال یہ ہے کہ جو نقصان یا تکلیف یا رنج و غم یہاں پہنچ جائے وہی دراصل بچنے کے قابل چیز ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کی برداشت کرلینے کا کتنا ہی بڑا اجر آخرت میں مل سکتا ہو۔ وہ نقد سودا چاہتے ہیں۔ آخرت جیسی دور کی چیز کے لیے وہ نہ آج کے کسی نفع کو چھوڑ سکتے ہیں نہ کسی نقصان کو گوارا کرسکتے ہیں۔ اس انداز فکر کے ساتھ جب وہ آخرت کے مسئلے پر عقلی بحثیں کرتے ہیں تو دراصل وہ خالص عقلیت نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے یہ انداز فکر کام کر رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کا فیصلہ بہرحال یہی ہوتا ہے کہ آخرت کو نہیں ماننا ہے، خواہ اندر سے ان کا ضمیر پکار پکار کر کہہ رہا ہو کہ آخرت کے امکان و قوع اور وجوب کی دلیلیں قرآن میں دی گئی ہیں وہ نہایت معقول ہیں اور اس کے خلاف جو استدلال وہ کر رہے ہیں وہ نہایت بودا ہے۔
Ayah 75:22سورة الْقِیٰمَة 16
یعنی خوشی سے دمک رہے ہونگے، کیونکہ جس آخرت پر وہ ایمان لائے تھے وہ ٹھیک ان کے یقین کے مطابق سامنے موجود ہوگی، اور جس آخرت پر ایمان لا کر انہوں نے دنیا کے ناجائز فائدے چھوڑے اور برحق نقصان برداشت کیے تھے اس کو فی الواقع اپنی آنکھوں کے سامنے برپا ہوتے دیکھ کر انہیں یہ اطمینان حاصل ہوجائے گا کہ انہوں نے اپنے رویہ زندگی کے متعلق بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا، اب وہ وقت آ گیا ہے جب وہ اس کا بہترین انجام دیکھیں گے۔
Ayahs 75:23–25سورة الْقِیٰمَة 17
مفسرین میں سے بعض نے اسے مجازی معنی میں لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کی طرف دیکھنے کے الفاظ محاورے کے طور پر اس سے توقعات وابستہ کرنے، اس کے فیصلے کا انتظار کرنے، اس کے کرم کا امیدوار ہونے کے معنی میں بولے جاتے ہیں، حتی کہ ایک اندھا بھی یہ کہتا ہے کہ میری نگاہیں تو فلاں شخص کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ وہ میرے لیے کیا کرتا ہے۔ لیکن بکثرت احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے اس کی جو تفسیر منقول ہے وہ یہ ہے کہ آخرت میں اللہ کے مکرم بندوں کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہوگا۔ بخاری کی روایت ہے کہ انکم سترون ربکم عیانا۔ " تم اپنے رب کو علانیہ دیکھو گے "۔ مسلم اور ترمذی میں حضرت صہیب کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب جنتی لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں مزید کچھ دوں ؟ وہ عرض کریں گے کیا آپ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کردیے ؟ کیا آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کردیا اور جہنم سے بچا نہیں لیا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا اور ان لوگوں کو جو کچھ انعامات ملے تھے ان میں سے کوئی انعام ہے جس کے متعلق قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ للذین احسنو الحسنی و زیادۃ۔ یعنی " جن لوگوں نے نیک عمل کیا ان کے لیے اچھا اجر ہے اور اس پر مزید بھی "۔ (یونس۔ 26)۔ بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کیا تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے جبکہ بیچ میں بادل بھی نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا، نہیں۔ آپ نے فرمایا اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھو گے۔ اسی مضمون سے ملتی جلتی ایک اور روایت بخاری و مسلم میں حضرت جریر بن عبداللہ سے مروی ہے۔ مسند احمد، ترمذی، دار قطنی، ابن جریر، ابن المنذر، طبرانی، بہیقی، ابن ابی شیبہ اور بعض دوسرے محدثین نے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اہل جنت میں سے کم درجے کا جو آدمی ہوگا وہ اپنی سلطنت کی وسعت دو ہزار سال کی مسافت تک دیکھے گا، اور ان میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہر روز دو مرتبہ اپنے رب کو دیکھیں گے۔ پھر حضور ﷺ نے یہی آیت پڑھی کہ " اس روز کچھ چہرے ترو تازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے "۔ ابن ماجہ میں حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ اللہ ان کی طرف دیکھے گا اور وہ اللہ کی طرف دیکھیں گے، پھر جب تک اللہ ان سے پردہ نہ فرما لے گا اسوقت تک وہ جنت کی کسی نعمت کی طرف توجہ نہ کریں گے۔ اور اسی کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ یہ اور دوسری بہت سی روایات ہیں جن کی بنا پر اہل السنت قریب قریب بالاتفاق اس آیت کا یہی مطلب لیتے ہیں کہ آخرت میں اہل جنت اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔ اور اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے کہ کلا انھم عن ربھم یومیذ لمحجوبون " ہرگز نہیں، وہ (یعنی فجار) اس روز اپنے رب کی دید سے محروم ہوں گے "۔ (المطففین۔ 15)۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ محرومی فجار کے لیے ہوگی نہ کہ ابرار کے لیے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انسان خدا کو دیکھ کیسے سکتا ہے ؟ دیکھنے کے لیے تو لازم ہے کہ کوئی چیز کسی خاص جہت، مقام، شکل اور رنگ میں سامنے موجود ہو، روشنی کی شعاعیں اس سے منعکس ہو کر انسان کی آنکھ پر پڑیں اور آنکھ سے دماغ کے مرکز بینائی تک اس کی تصویر منتقل ہو۔ کیا اللہ رب العالمین کی ذات کے متعلق اس طرح قابل دید ہونے کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ انسان اس کو دیکھ سکے ؟ لیکن یہ سوال دراصل ایک بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس میں دو چیزوں کے درمیان فرق نہیں کیا گیا ہے۔ ایک چیز ہے دیکھنے کی حقیقت اور دوسری چیز ہے دیکھنے کا فعل صادر ہونے کی وہ خاص صورت جس سے ہم اس دنیا میں آشنا ہیں۔ دیکھنے کی حقیقت یہ ہے کہ دیکھنے والے میں بینائی کی صفت موجود ہو، وہ نابینا نہ ہو، اور دیکھی جانے والی چیز اس پر عیاں ہو، اس سے مخفی نہ ہو۔ لیکن دنیا میں ہم کو جس چیز کا تجربہ اور مشاہدہ ہوتا ہے وہ صرف دیکھنے کی وہ خاص صورت ہے جس سے کوئی انسان یا حیوان بالفعل کسی چیز کو دیکھا کرتا ہے، اور اس کے لیے لا محالہ یہ ضروری ہے کہ دیکھنے والے کے جسم میں آنکھ نامی ایک عضو موجود ہو، اس عضو میں بینائی کی طاقت پائی جاتی ہو، اور آنکھ میں اس کی شکل سما سکے۔ اب اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ دیکھنے کی حقیقت کا عملی ظہور صرف اسی خاص صورت میں ہوسکتا ہے جس سے ہم اس دنیا میں واقف ہیں تو یہ خود اس کے اپنے دماغ کی تنگی ہے، ورنہ در حقیقت خدا کی خدائی میں دیکھنے کی ایسی بیشمار صورتیں ممکن ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس مسئلے میں جو شخص الجھتا ہے وہ خود بتائے کہ اس کا خدا بینا ہے نابینا ؟ اگر وہ بینا ہے اور اپنی ساری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کو دیکھ رہا ہے تو کیا وہ اسی طرح آنکھ نامی ایک عضو سے دیکھ رہا ہے جس سے دنیا میں انسان و حیوان دیکھ رہے ہیں اور اس سے بینائی کے فعل کا صدور اسی طریقے سے ہو رہا ہے جس طرح ہم سے ہوتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے اور جب اس کا جواب نفی میں ہے تو آخر کسی صاحب عقل و فہم انسان کو یہ سمجھنے میں کیوں مشکل پیش آتی ہے کہ آخرت میں اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا دیداد اس مخصوص شکل میں نہیں ہوگا جس میں انسان دنیا میں کسی چیز کو دیکھتا ہے، بلکہ وہاں دیکھنے کی حقیقت کچھ اور ہوگی جس کا ہم یہاں ادراک نہیں کرسکتے ؟ واقعہ یہ ہے کہ آخرت کے معاملات کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لینا ہمارے لیے اس سے زیادہ مشکل ہے جتنا ایک دو برس کے بچے کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ازدواجی زندگی کیا ہوتی ہے، حالانکہ جوان ہو کر اسے خود اس سے سابقہ پیش آنا ہے۔
Ayah 75:26سورة الْقِیٰمَة 18
اس " ہرگز نہیں " کا تعلق اسی سلسلہ کلام سے ہے جو اوپر سے چلا آ رہا ہے، یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تمہیں مر کر فنا ہوجانا ہے اور اپنے رب کے حضور واپس جانا نہیں ہے۔
Ayahs 75:27–28سورة الْقِیٰمَة 19
اصل میں لفظ راق استعمال ہوا ہے جو رقیہ سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنی تعویز گنڈے اور جھاڑ پھونک کے ہیں، اور رتی سے بھی، جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر وقت میں جب مریض کے تیمار دار ہر دوا دارو سے مایوس ہوجائیں گے تو کہیں گے کہ ارے کسی جھاڑ پھونک کرنے والے ہی کو تلاش کرو جو اس کی جان بچا لے۔ اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت فرشتے کہیں گے کہ اس روح کو کسے لے کر جانا ہے ؟ ملائکہ عذاب کو یا ملائکہ رحمت کو ؟ بالفاظ دیگر اسی وقت یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ مرنے والا کس حیثیت میں عالم آخرت کی طرف جا رہا ہے۔ نیک انسان ہوگا تو ملائکہ رحمت اسے لے جائیں گے، اور بد انسان ہوگا تو رحمت کے فرشتے اس کے قریب بھی نہ پھٹکیں گے اور عذاب کے فرشتے اسے گرفتار کر کے لے جائیں گے۔
Ayahs 75:29–32سورة الْقِیٰمَة 20
مفسرین میں سے بعض نے لفظ ساق (پنڈلی) کو عام لغوی معنی میں لیا ہے اور اس کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ مرنے کے وقت جب ٹانگیں سوکھ کر ایک دوسرے سے جڑ جائیں گی۔ اور بعض عربی محاورے کے مطابق اسے شدت اور سختی اور مصیبت کے معنی میں لیا ہے، یعنی اس وقت دو مصیبتیں ایک ساتھ جمع ہوجائیں گی۔ ایک دنیا اور اس کی ہر چیز سے جدا ہوجانے کی مصیبت اور دوسری عالم آخرت میں ایک مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہو کر جانے کی مصیبت، جس سے ہر کافر و منافق اور ہر فاسق و فاجر کو سابقہ پیش آئے گا۔
Ayah 75:33سورة الْقِیٰمَة 21
مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا اس نے وہ سب کچھ سنا جو اوپر کی آیات میں بیان کیا گیا ہے، مگر پھر بھی وہ اپنے انکار ہی پر اڑا رہا اور یہ آیات سننے کے بعد اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ مجاہد، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ یہ شخص ابو جہل تھا۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کوئی ایک شخص تھا جس نے سورة قیامہ کی مذکورہ بالا آیات سننے کے بعد یہ طرز عمل اختیار کیا۔
اس آیت کے یہ الفاظ کہ " اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی " خاص طور پر توجہ کے مستحق ہیں۔ ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی صداقت تسلیم کرنے کا اولین اور لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھے، شریعت الہی کے دوسرے احکام کی تعمیل کی نوبت تو بعد ہی میں آتی ہے، لیکن ایمان کے اقرار کے بعد کچھ زیادہ مدت نہیں گزرتی کہ نماز کا وقت آجاتا ہے اور اسی وقت یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آدمی نے زبان سے جس چیز کو ماننے کا اقرار کیا ہے وہ واقعی اس کے دل کی آواز ہے یا محض ایک ہوا ہے جو اس نے چند الفاظ کی شکل میں منہ سے نکال دی ہے۔
Ayahs 75:34–35سورة الْقِیٰمَة 22
مفسرین نے اولی لک کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ تف ہے تجھ پر۔ ہلاکت ہے تیرے لیے۔ خرابی، یا تباہی، یا کمبختی ہے تیرے لیے۔ لیکن ہمارے نزدیک موقع و محل کے لحاظ سے اس کا مناسب ترین مفہوم وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ " جب تو اپنے خالق سے کفر کرنے کی جرات کرچکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی کو یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے " یہ اسی طرح کا طنزیہ کلام ہے جیسے قرآن مجید میں ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں عذاب دیتے ہوئے مجرم انسان سے کہا جائے گا کہ ذق انک انت العزیز الکریم " لے چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو "۔ (الدخان۔ 49)۔
Ayahs 75:36–39سورة الْقِیٰمَة 23
اب کلام کو ختم کرتے ہوئے اسی مضمون کا اعادہ کیا جا رہا ہے جس سے کلام کا آغاز کیا گیا تھا، یعنی زندگی بعد موت ضروری بھی ہے اور ممکن بھی۔
سورة الْقِیٰمَة 24
عربی زبان میں ابل سدی اس اونٹ کے لیے بولتے ہیں جو یونہی چھوٹا پھر رہا ہو، جدھر چاہے چرتا پھرے، کوئی اس کی نگرانی کرنے والا نہ ہو۔ اسی معنی میں ہم شتر بےمہار کا لفظ بولتے ہیں۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انسان نے اپنے آپ کو شتر بےمہار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خالق نے اسے زمین میں غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا ہو ؟ کوئی فرض اس پر عائد نہ ہو ؟ کوئی چیز اس کے لیے ممنوع نہ ہو ؟ اور کوئی وقت ایسا آنے والا نہ ہو جب اس سے اس کے اعمال کی باز پرس کی جائے ؟ یہی بات ایک دوسرے مقام پر قرآن مجید میں اسی طرح بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کفار سے فرمائے گا افحسبتم انما خلقنکم عبثا و انکم الینا لا ترجعون۔ " کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں کبھی ہماری طرف پلٹ کر نہیں آنا ہے " ؟ (المؤمنون۔ 115) ان دونوں مقامات پر زندگی بعد موت کے واجب ہونے کی دلیل سوال کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا واقعی تم نے اپنے آپ کو جانور سمجھ رکھا ہے ؟ کیا تمہیں اپنے اور جانور میں یہ کھلا فرق نظر نہیں آتا کہ وہ بےاختیار ہے اور تم با اختیار، اس کے افعال میں اخلاقی حسن و قبح کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور تمہارے افعال میں یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے ؟ پھر تم نے اپنے متعلق یہ کیسے سمجھ لیا کہ جس طرح جانور غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ ہے اس طرح تم بھی ہو ؟ جانور کے دوبارہ زندہ کر کے نہ اٹھائے جانے کی معقول وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس نے صرف اپنی جبلت کے لگے بندھے تقاضے پورے کیے ہیں، اپنی عقل سے کام لے کر کوئی فلسفہ تصنیف نہیں کیا، کوئی مذہب ایجاد نہیں کیا، کسی کو معبود نہیں بتایا نہ خود کسی کا معبود بنا، کوئی کام ایسا نہیں کیا جسے نیک یا بد کہا جاسکتا ہو، کوئی اچھی یا بری سنت جاری نہیں کی جس کے اثرات نسل در نسل چلتے رہیں اور وہ ان پر کسی اجر یا سزا کا مستحق ہو۔ لہذا وہ اگر مر کر فنا ہوجائے تو یہ سمجھ میں آنے کے قابل بات ہے کیونکہ اس پر اپنے کسی عمل کی ذمہ داری عائد ہی نہیں ہوتی جس کی باز پرس کے لیے اسے دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے کی کوئی حاجت ہو۔ لیکن تم حیات بعد موت سے کیسے معاف کیے جاسکتے ہو جبکہ عین اپنی موت کے وقت تک تم ایسے اخلاقی افعال کرتے رہتے ہو جن کے نیک یا بد ہونے اور جزا یا سزا کے مستوجب ہونے کا تمہاری عقل خود لگاتی ہے ؟ جس آدمی نے کسی بےگناہ کو قتل کیا اور فواً ہی اچانک کسی حادثے کا شکار ہوگیا، کیا تمہارے نزدیک اس کو نلوہ (Scot free) چھوٹ جانا چاہیے اور اس ظلم کا بدلہ اسے کبھی نہ ملنا چاہیے ؟ جو آدمی دنیا میں کسی ایسے فساد کا بیج بو گیا جس کا خمیازہ اس کے بعد صدیوں تک انسانی نسلیں بھگتی رہیں، کیا تمہاری عقل واقعی اس بات پر مطمئن ہے کہ اسے بھی کسی بھنگے یا ٹڈے کی طرح مر کر فنا ہوجانا چاہیے اور کبھی اٹھ کر اپنے ان کرتوتوں کی جوابدہی نہیں کرنی چاہیے جن کی بدولت ہزاروں لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خراب ہوئیں ؟ جس آدمی نے عمر بھر حق و انصاف اور خیر و صلاح کے لیے اپنی جان لڑائی ہو اور جیتے جی مصیبتیں ہی بھگتا رہا ہو کیا تمہارے خیال میں وہ بھی حشرات الارض ہی کی قسم کی کوئی مخلوق ہے جسے اپنے اس عمل کی جزا پانے کا کوئی حق نہیں ہے ؟
Ayah 75:40سورة الْقِیٰمَة 25
یہ حیات بعد موت کے امکان کی دلیل ہے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ابتدائی نطفے سے تخلیق کا آغاز کر کے پورا انسان بنا دینے تک کا سارا فعل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور حکمت کا کرشمہ ہے ان کے لیے تو فی الحقیقت اس دلیل کا کوئی جواب ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ خواہ کتنی ہی ڈھٹائی برتیں، ان کی عقل یہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتی کہ جو خدا اس طرح انسان کو دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ بھی اسی انسان کو وجود میں لے آنے پر قادر ہے۔ رہے وہ لوگ جو اس صریح حکیمانہ فعل کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں وہ اگر ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے نہیں ہیں تو آخر ان کے پاس اس بات کی کیا توجیہ ہے کہ آغاز آفرینش سے آج تک دنیا کے ہر حصے اور قوم میں کس طرح ایک ہی نوعیت کے تخلیقی فعل کے نتیجے میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش مسلسل اس تناسب سے ہوتی چلی جا رہی ہے کہ کہیں کسی زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی انسانی آبادی میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہی پیدا ہوتی چلی جائیں اور آئندہ اس کی نسل چلنے کا کوئی امکان باقی نہ رہے ؟ کیا یہ بھی اتفاقاً ہی ہوئے چلا جا رہا ہے ؟ اتنا بڑا دعویٰ کرنے کے لیے آدمی کو کم از کم اتنا بےشرم ہونا چاہیے کہ وہ اٹھ کر بےتکلف ایک روز یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ لندن اور نیویارک، ماسکو اور پیکنگ اتفاقاً آپ سے آپ بن گئے ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الروم، حواشی 27 تا 30۔ جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ 77)۔
متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس آیت کو پڑھتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کبھی بلی (کیوں نہیں) ، کبھی سبحنک اللھم فبلی (پاک ہے تیری ذات، خداوندا، کیوں نہیں) اور کبھی سبحانک فبلی یا سبحانک و بلی فرمایا کرتے تھے (ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو داؤود)۔ ابو داؤود میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب تم سورة تین میں آیت الیس اللہ باحکم الحاکمین (کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟) پڑھو تو کہو بلی و انا علی ذلک من الشاھدین (کیوں نہیں، میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں)۔ اور جب سورة قیامہ کی یہ آیت پڑھو تو کہو بلیٰ ، اور جب سورة مرسلات کی آیت فبای حدیث بعدہ یومنون (اس قرآن کے بعد یہ لوگ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟) پڑھو تو کہو امنا باللہ (ہم اللہ پر ایمان لائے)۔ اسی مضمون کی روایات امام احمد، ترمذی، ابن المنذر، ابن مردویہ، بہیقی اور حاکم نے بھی نقل کی ہیں۔