74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ المدثر کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی صرف نام ہے مضامین کا عنوان نہیں ہے۔

زمانہ نزول

اس کی پہلی سات آیات مکۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ ہیں۔ بعض روایات جو بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ سے منقول ہیں ان میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ یہ قرآن مجید کی اولین آیات ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئیں۔ لیکن امت میں یہ بات قریب قریب بالاتفاق مسلم ہے کہ پہلی وحی جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی وہ اقرا باسم ربک الذی خلق سے مالم یعلم تک ہے۔ البتہ صحیح روایات سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس پہلی وحی کے بعد کچھ مدت تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، پھر اس وقفہ کے بعد جب از سرنو نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کا آغاز سورة مدثر کی انہی آیات سے ہوا تھا۔ امام زہری رحمت اللہ علیہ اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں : ” ایک مدت تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کا نزول بند رہا اور اس زمانے میں آپ پر اس قدر شدید غم کی کیفیت طاری رہی کہ بعض اوقات آپ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنے آپ کو گرا دینے کے لیے آمادہ ہوجاتے تھے لیکن جب کبھی آپ کسی چوٹی کے کنارے پر پہنچتے جبریل (علیہ السلام) نمودار ہو کر آپ سے کہتے ہیں آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اس سے آپ کے دل کو سکون حاصل ہوجاتا تھا اور وہ اضطراب کی کیفیت دور ہوجاتی تھی “ اس کے بعد امام زہری خود حضرت جابر بن عبد اللہ کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فترۃ الوحی (وحی بند رہنے کے زمانے) کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا : ایک روز میں راستے سے گزر رہا تھا۔ یکایک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، سر اٹھایا تو دیکھا وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت دہشت زدہ ہوگیا اور گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ۔ چناچہ گھر والوں نے مجھ پر لحاف (یا کمبل) اڑھا دیا۔ اس وقت اللہ نے وحی نازل کی یا ایھا المدثر۔۔۔ پھر لگاتار مجھ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا “ سورت کا باقی ماندہ حصہ آیت 8 سے آخر تک اس وقت نازل ہوا جب اسلام کی علانیہ تبلیغ شروع ہوجانے کے بعد مکہ میں پہلی مرتبہ حج کا موقع آیا۔ اس کا مفصل واقعہ سیرت ابن ہشام میں بیان کیا گیا ہے۔

موضوع اور مضمون

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پہلی وحی جو بھیجی گئی تو وہ سورة علق کی ابتدائی پانج آیات پر مشتمل تھی جس میں صرف یہ فرمایا گیا تھا کہ : ” پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا “ یہ نزول وحی کا پہلا تجربہ تھا جو اچانک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش آیا تھا۔ اس پیغام میں آپ کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ آپ کس کار عظیم پر مامور ہوئے ہیں اور آگے کیا کچھ آپ کو کرنا ہے، بلکہ صرف ایک ابتدائی تعارف کرا کے آپ کو کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ آپ کی طبیعت پر جو شدید بار اس پہلے تجربے سے پڑا ہے اس کا اثر دور ہوجائے اور آپ ذہنی طور پر آئندہ وحی وصول کرنے اور نبوت کے فرائض سنبھالنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس وقفہ کے بعد جب دوبارہ نزول وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس سورة کی ابتدائی سات آیتیں نازل کی گئیں اور ان میں پہلی مرتبہ آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ اٹھیں اور خلق خدا کو اس روش کے انجام سے ڈرائیں جس پر وہ چل رہی ہے، اور اس دنیا میں، جہاں دوسروں کی بڑائی کے ڈنکے بج رہے ہیں، خدا کی بڑائی کا اعلان کریں۔ اس کے ساتھ آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب جو کام آپ کو کرنا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی زندگی ہر لحاظ سے انتہائی پاکیزہ ہو اور آپ تمام دنیوی فائدوں سے قطع نظر کر کے کامل اخلاص کے ساتھ خلق خدا کی اصلاح کا فریضہ انجام دیں۔ پھر آخری فقرے میں آپ کو تلقین کی گئی کہ اس فریضہ کی انجام دہی میں جو مشکلات اور مصائب بھی پیش آئیں ان پر آپ اپنے رب کی خاطر صبر کریں۔ اس فرمان الٰہی کی تعمیل میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور قرآن مجید کی پے در پے نازل ہونے والی سورتوں کو آپ نے سنانا شروع کیا تو مکہ میں کھلبلی مچ گئی اور مخالفتوں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ چند مہینے اس حال پر گزرے تھے کہ حج کا زمانہ آ گیا اور مکہ کے لوگوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ اس موقع پر تمام عرب سے حاجیوں کے قافلے آئیں گے، اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان قافلوں کی قیام گاہوں پر جا جا کر آنے والے حاجیوں سے ملاقاتیں کیں اور حج کے اجتماعات میں جگہ جگہ کھڑے ہو کر قرآن جیسا بےنظیر اور موثر کلام سنانا شروع کردیا، تو عرب کے ہر گوشے تک ان کی دعوت پہنچ جائے گی اور نہ معلوم کون کون اس سے متاثر ہوجائے۔ اس لیے قریش کے سرداروں نے ایک کانفرنس کی جس میں طے کیا گیا کہ حاجیوں کے آتے ہی ان کے اندر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جائے۔ اس پر اتفاق ہوجانے کے بعد ولید بن مغیرہ نے حاضرین سے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق مختلف باتیں لوگوں سے کہیں تو ہم سب کا اعتبار جاتا رہے گا۔ اس لیے کوئی ایک بات طے کر لیجیے جسے سب بالاتفاق کہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کاہن کہیں گے۔ ولید نے کہا کہ نہیں، خدا کی قسم وہ کاہن نہیں ہیں، ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے، جیسی وہ باتیں گنگناتے ہیں اور جس طرح کے فقرے وہ جوڑتے ہیں، قرآن کو ان سے کوئی دور کی نسبت بھی نہیں ہے۔ کچھ اور لوگ بولے، انہیں مجنون کہا جائے۔ ولید نے کہا کہ وہ مجنون بھی نہیں ہیں۔ ہم نے دیوانے اور پاگل دیکھے ہیں۔ اس حالت میں آدمی جیسی بہکی بہکی باتیں اور الٹی سیدھی حرکات کرتا ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ کون باور کرے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کلام پیش کرتے ہیں وہ دیوانگی کی بڑ ہے یا جنون کے دورے میں آدمی یہ باتیں کرسکتا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ اچھا تو پھر ہم شاعر کہیں گے۔ ولید نے کہا، وہ شاعر بھی نہیں ہیں۔ ہم شعر کی ساری اقسام سے واقف ہیں۔ اس کلام پر شاعری کی کسی قسم کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔ لوگ بولے، تو ان کو ساحر کہا جائے۔ ولید نے کہا وہ ساحر بھی نہیں ہیں۔ جادوگروں کو ہم جانتے ہیں اور اپنے جادو کے لیے جو طریقے وہ اختیار کرتے ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں۔ یہ بات بھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چسپاں نہیں ہوتی۔ پھر ولید نے کہا ان باتوں میں سے جو بات بھی تم کرو گے لوگ اس کو ناروا الزام سمجھیں گے۔ خدا کی قسم اس کلام میں بڑی حلاوت ہے، اس کی جڑ بڑی گہری اور اس کی ڈالیاں بڑی ثمردار ہیں۔ اس پر ابو جہل ولید کے سر ہوگیا اور اس نے کہا تمہاری قوم تم سے راضي نہ ہوگی جب تک تم محمد کے بارے میں کوئی بات نہ کہو۔ اس نے کہا اچھا مجھے سوچ لینے دو ۔ پھر سوچ سوچ کر بولا قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ تم عرب کے لوگوں سے کہو یہ شخص جادوگر ہے، یہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو آدمی کو اس کے باپ، بھائی، بیوی بچوں اور سارے خاندان سے جدا کردیتا ہے۔ ولید کی اس بات کو سب نے قبول کرلیا۔ پھر ایک منصوبے کے مطابق حج کے زمانے میں قریش کے وفود حاجیوں کے درمیان پھیل گئے اور انہوں نے آنے والے زائرین کو خبردار کرنا شروع کیا کہ یہاں ایک ایسا شخص اٹھ کھڑا ہوا ہے جو بڑا جادوگر ہے اور اس کا جادو خاندانوں میں تفریق ڈال دیتا ہے، اس سے ہوشیار رہنا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام خود ہی سارے عرب میں مشہور کردیا (سیرۃ ابن ہشام) جلد اول، صفحہ ٢٨٨، ٢٨٩۔ اس قصے کا یہ حصہ کہ ابو جہل کے اصرار پر ولید نے یہ بات کہی تھی عکرمہ کی روایت سے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ یہی واقعہ ہے جس پر اس سورت کے دوسرے حصے میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس کے مضامین کی ترتیب یہ ہے۔ آیت 8 سے 10 تک منکرین حق کو خبردار کیا گیا ہے کہ آج جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کا برا انجام وہ قیامت کے روز دیکھ لیں گے۔ آیت 11 سے 26 تک ولید بن مغیرہ کا نام لیے بغیر یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو کیا کچھ نعمتیں دی تھیں اور ان کا جواب اس نے کیسی حق دشمنی کے ساتھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں اس کی ذہنی کشمکش کی پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے کہ ایک طرف دل میں وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کی صداقت کا قائل ہوچکا تھا، مگر دوسری طرف اپنی قوم میں اپنی ریاست و وجاہت کو بھی خطرے میں نہ ڈالنا چاہتا تھا، اس لیے نہ صرف یہ کہ وہ ایمان لانے سے باز رہا، بلکہ کافی دیر تک اپنے ضمیر سے لڑنے جھگڑنے کے بعد آخر کار یہ بات بنا کر لایا کہ خلق خدا کو اس کلام پر ایمان لانے سے باز رکھنے کے لیے اسے جادو قرار دینا چاہیے۔ اس کی اس صریح بد باطنی کو بےنقاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اپنے اس کرتوت کے بعد بھی یہ شخص چاہتا ہے کہ اسے مزید انعامات سے نوازا جائے، حالانکہ اب یہ انعام کا نہیں بلکہ دوزخ کا سزاوار ہوچکا ہے۔ اس کے بعد آیت 27 سے 48 تک دوزخ کی ہولناکیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ کس اخلاق اور کردار کے لوگ اس کے مستحق ہیں۔ پھر آیات 49 ۔ 53 میں کفار کے مرض کی اصل جڑ بتادی گئی ہے کہ وہ چونکہ آخرت سے بےخوف ہیں اور اسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ قرآن سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے شیر سے ڈر کر جنگلی گدھے بھاگے جا رہے ہوں، اور ایمان لانے کے لیے طرح طرح کی غیر معقول شرطیں پیش کرتے ہیں، حالانکہ خواہ ان کی کوئی شرط بھی پوری کردی جائے، انکار آخرت کے ساتھ وہ ایمان کی راہ پر ایک قدم بھی نہیں بڑھ سکتے۔ آخر میں صاف صاف فرما دیا گیا ہے کہ خدا کو کسی کے ایمان کی کوئی ضرورت نہیں پڑگئی ہے کہ وہ اس کی شرطیں پوری کرتا پھرے۔ قرآن ایک عام نصیحت ہے جو سب کے سامنے پیش کردی گئی ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس کو قبول کرلے خدا اس کا مستحق ہے کہ لوگ اس کی نافرمانی سے ڈریں، اور اسی کی یہ شان ہے کہ جو شخص بھی تقویٰ اور خدا ترسی کا رویہ اختیار کرلے اسے وہ معاف کردیتا ہے خواہ وہ پہلے کتنی ہی نافرمانیاں کرچکا ہو۔

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، 1

سورة الْمُدَّثِّر 1 اوپر دیباچے میں ہم ان آیات کے نزول کا جو پس منظر بیان کر کے آئے ہیں اس پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کو یایھا الرسول یا یایھا النبی کہہ کر مخطاب کرنے کے بجائے یایھا المدثر کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا ہے۔ چونکہ حضور ﷺ یکایک جبریل ؑ کو آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے دیکھ کر ہیبت زدہ ہوگئے تھے اور اسی حالت میں گھر پہنچ کر آپ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا تھا کہ مجھے اڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یایھا المدثر کہہ کر خطاب فرمایا۔ اس لطیف طرز خطاب سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اے میرے پیارے بندے، تم اوڑھ لپیٹ کر لیٹ کہاں گئے، تم پر تو ایک کار عظیم کا بار ڈالا گیا ہے جسے انجام دینے کے لیے تمہیں پورے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اُٹھو اور خبر دار کرو۔ 2

سورة الْمُدَّثِّر 2 یہ اسی نوعیت کا حکم ہے جو حضرت نوح ؑ کو نبوت کے منصب پر مامور کرتے ہوئے دیا گیا تھا کہ انذر قومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم " اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آجائے "۔ (نوح۔ 1) آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اٹھو اور تمہارے گردو پیش خدا کے جو بندے خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ان کو چونکا دو۔ انہیں اس انجام سے ڈراؤ جس سے یقیناً وہ دوچار ہوں گے اگر اسی حالت میں مبتلا رہے۔ انہیں خبردار کردو کہ وہ کسی اندھیر نگری میں نہیں رہتے ہیں جس میں وہ اپنی مرضی سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں اور ان کے کسی عمل کی کوئی باز پرس نہ ہو۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے ربّ کی بڑائی کا اعلان کرو۔ 3

سورة الْمُدَّثِّر 3 یہ ایک نبی کا اولین کام ہے جسے اس دنیا میں اسے انجام دینا ہوتا ہے۔ اس کا پہلا کام ہی یہ ہے کہ جاہل انسان یہاں جن جن کی بڑائی مان رہے ہیں ان سب کی نفی کر دے اور ہانکے پکارے دنیا بھر میں یہ اعلان کر دے کہ اس کائنات میں بڑائی ایک خدا کے سوا اور کسی کی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کلمہ اللہ اکبر کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اذان کی ابتدا ہی اللہ اکبر کے اعلان سے ہوتی ہے۔ نماز میں بھی مسلمان تکبیر کے الفاظ کہہ کر داخل ہوتا ہے اور بار بار اللہ اکبر کہہ کر اٹھتا اور بیٹھتا ہے۔ جانور کے گلے پر چھری بھی پھیرتا ہے تو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر پھیرتا ہے۔ نعرہ تکبیر آج ساری دنیا میں مسلمان کا سب سے زیادہ نمایاں امتیازی شعار ہے کیونکہ اس امت کے نبی نے اپنا کام ہی اللہ اکبر کی تکبیر سے شروع کیا تھا۔ اس مقام پر ایک اور لطیف نکتہ بھی ہے جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ جیسا کہ ان آیات کی شان نزول سے معلوم ہوچکا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب رسول اللہ ﷺ کو نبوت کا عظیم الشان فریضہ انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا اور یہ بات ظاہر تھی کہ جس شہر اور معاشرے میں یہ مشن لے کر اٹھنے کا آپ کو حکم دیا جا رہا تھا وہ شرک کا گڑھ تھا۔ بات صرف اتنی ہی نہ تھی کہ وہاں کے لوگ عام عربوں کی طرح مشرک تھے، بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ تھی کہ مکہ معظمہ مشرکین عرب کا سب سے بڑا تیرتھ بنا ہوا تھا اور قریش کے لوگ اس کے مجاور تھے۔ ایسی جگہ کسی شخص کا تن تنہا اٹھنا اور شرک کے مقابلے میں توحید کا علم بلند کردینا بڑے جان جوکھوں کا کام تھا۔ اسی لیے " اٹھو اور خبردار کرو " کے بعد فوراً ہی یہ فرمانا کہ " اپنے رب کی بڑائی کا علان کرو " اپنے اندر یہ مفہوم بھی رکھتا ہے کہ جو بڑی بڑی ہولناک طاقتیں اس کام میں تمہیں نظر آتی ہیں ان کی ذرا پروا نہ کرو اور صاف صاف کہہ دو کہ میرا رب ان سب سے زیادہ بڑا ہے جو میری اس دعوت کا راستہ روکنے کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ بڑی سے بڑی ہمت افزائی ہے جو اللہ کا کام شروع کرنے والے کسی شخص کی کی جاسکتی ہے۔ اللہ کی کبریائی کا نقش جس آدمی کے دل پر گہرا جما ہوا ہو وہ اللہ کی خاطر اکیلا ساری دنیا سے لڑ جانے میں بھی ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے گا۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ 4

سورة الْمُدَّثِّر 4 یہ بڑے جامع الفاظ ہیں جن کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ ان کا ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے لباس کو نجاست سے پاک رکھو، کیونکہ جسم و لباس کی پاگیزگی اور روح کی پاکیزگی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ایک پاکیزہ روح گندے جسم اور ناپاک لباس میں نہیں رہ سکتی۔ رسول اللہ ﷺ جس معاشرے میں اسلام کی دعوت لے کر اٹھے تھے وہ صرف عقائد اور اخلاق کی خرابیوں ہی میں مبتلا نہ تھا بلکہ طہارت و نظافت کے بھی ابتدائی تصورات تک سے خالی تھا، اور حضور ﷺ کا کام ان لوگوں کو ہر لحاظ سے پاکیزگی کا سبق سکھانا تھا۔ اس لیے آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اپنی ظاہری زندگی میں طہارت کا ایک اعلی معیار قائم فرمائیں۔ چناچہ یہ اسی ہدایت کا ثمرہ ہے کہ حضور ﷺ نے نوع انسانی کو طہارت جسم و لباس کی وہ مفصل تعلیم دی ہے جو زمانہ جاہلیت کے اہل عرب تو درکنار، آج اس زمانے کی مہذب ترین قوموں کو بھی نصیب نہیں ہے، حتیٰ کہ دنیا کی بیشتر زبانوں میں ایسا کوئی لفظ تک نہیں پایا جاتا جو " طہارت " کا ہم معنی ہو۔ بخلاف اس کے اسلام کا حال یہ ہے کہ حدیث اور فقہ کی کتابوں میں اسلامی احکام کا آغاز ہی کتاب الطہارت سے ہوتا ہے جس میں پاکی اور ناپاکی کے فرق اور پاکیزگی کے طریقوں کو انتہائی تفصیلی جزئیات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم ان الفاظ کا یہ ہے کہ اپنا لباس صاف ستھرا رکھو۔ راہبانہ تصورات نے دنیا میں مذہبیت کا معیار یہ قرار دے رکھا تھا کہ آدمی جتنا زیاہ میلا کچیلا ہو اتنا ہی زیادہ مقدس ہوتا ہے۔ اگر کوئی ذرا اجلے کپڑے ہی پہن لیتا تو سمجھا جاتا تھا کہ وہ دنیادار انسان ہے۔ حالانکہ انسانی فطرت میل کچیل سے نفرت کرتی ہے اور شائستگی کی معمولی حس بھی جس شخص کے اندر موجود ہو وہ صاف ستھرے انسان ہی سے مانوس ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والے کے لیے یہ بات ضروری قرار دی گئی کہ اس کی ظاہری حالت بھی ایسی پاکیزہ اور نفیس ہونی چاہیے کہ لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کی شخصیت میں کوئی ایسی کثافت نہ پائی جائے جو طبائع کو اس سے متنفر کرنے والی ہو۔ تیسرا مفہوم اس ارشاد کا یہ ہے کہ اپنے لباس کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھو۔ تمہارا لباس ستھرا اور پاکیزہ تو ضرور ہو، مگر اس میں فخر و غرور، ریاء اور نمائش، ٹھاٹھ اور شان و شوکت کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ لباس وہ اولین چیز ہے جو آدمی کی شخصیت کا تعارف لوگوں سے کراتی ہے۔ جس قسم کا لباس کوئی شخص پہنتا ہے اس کو دیکھ کر لوگ پہلی نگاہ ہی میں یہ اندازہ کرلیتے ہیں کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ ریئسوں اور نوابوں کے لباس، بد قوارہ اور آوارہ منش لوگوں کے لباس، سب اپنے پہننے والوں کے مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اللہ کی طرف بلانے والے کا مزاج ایسے سب لوگوں سے فطرۃً مختلف ہوتا ہے، اس لیے اس کا لباس بھی ان سب سے لازماً مختلف ہونا چاہیے۔ اس کو ایسا لباس پہننا چاہیے جسے دیکھ کر ہر شخص یہ محسوس کرلے کہ وہ ایک شریف اور شائستہ انسان ہے جو نفس کی کسی برائی میں مبتلا نہیں ہے۔ چوتھا مفہوم اس کا یہ ہے کہ اپنا دامن پاک رکھو۔ اردو زبان کی طرح عربی زبان میں بھی پاک دامنی کے ہم معنی الفاظ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونے اور عمدہ اخلاق سے آراستہ ہونے کے لیے استعمال ہونے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ابن عباس، ابراہیم نخعی، شعبی، عطاء مجاہد، قتادہ سعید بن جبیر، حسن بصری اور دوسرے اکابر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اپنے اخلاق پاکیزہ رکھو اور ہر قسم کی برائیوں سے بچو۔ عربی محاورے میں کہتے ہیں کہ فلان طاہر الثیاب و فلان طاہر الذیل، " فلاں شخص کے کپڑے پاک ہیں یا اس کا دامن پاک ہے "۔ اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق اچھے ہیں۔ اس کے برعکس کہتے ہیں فلان دنس الثیاب، " اس شخص کے کپڑے گندے ہیں " اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بد معاملہ آدمی ہے، اس کے قول قرار کا کوئی اعتبار نہیں۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور گندگی سے دُور رہو۔ 5

سورة الْمُدَّثِّر 5 گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے خواہ وہ عقائد اور خیالات کی ہو، یا اخلاق و اعمال کی، یا جسم و لباس اور رہن سہن کی، مطلب یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش سارے معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سے اپنا دامن بچا کر رکھو۔ کوئی شخص کبھی تم پر یہ حرف نہ رکھ سکے کہ جن برائیوں سے تم لوگوں کو روک رہے ہو ان میں سے کسی کا بھی کوئی شائبہ تمہاری اپنی زندگی میں پایا جاتا ہے۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے۔ 6

سورة الْمُدَّثِّر 6 اصل الفاظ ہیں ولا تمنن تستکثر۔ ان کے مفہوم میں اتنی وسعت ہے کہ کسی ایک فقرے میں ان کا ترجمہ کر کے پورا مطلب ادا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جس پر بھی احسان کرو بےغرضانہ کرو۔ تمہاری عطا اور بخشش اور سخاوت اور حسن سلوک محض اللہ کے لیے ہو، اس میں کوئی شائبہ اس خواہش کا نہ ہو کہ احسان کے بدلے میں تمہیں کسی قسم کی دنیوی فوائد حاصل ہوں۔ بالفاظ دیگر اللہ کے لیے احسان کرو، فائدہ حاصل کرنے کے لیے کوئی احسان نہ کرو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نبوت کا جو کام تم کر رہے ہو یہ اگرچہ اپنی جگہ ایک بہت بڑا احسان ہے کہ تمہاری بدولت خلق خدا کو ہدایت نصیب ہو رہی ہے، مگر اس کا کوئی احسان لوگوں پر نہ جتاؤ اور اس کا کوئی فائدہ اپنی ذات کے لیے حاصل نہ کرو۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ تم اگرچہ ایک بہت بڑی خدمت انجام دے رہے ہو، مگر اپنی نگاہ میں اپنے عمل کو کبھی بڑا عمل نہ سمجھو اور کبھی یہ خیال تمہارے دل میں نہ آئے کہ نبوت کا یہ فریضہ انجام دے کر، اور اس کام میں جان لڑا کر تم اپنے رب پر کوئی احسان کر رہے ہو۔
Ayahs 74:7–8

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے ربّ کی خاطر صبر کرو۔ 7

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی

سورة الْمُدَّثِّر 7 یعنی یہ کام جو تمہارے سپرد کیا جا رہا ہے، بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں سخت مصائب اور مشکلات اور تکلیفوں سے تمہیں سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری اپنی قوم تمہاری دشمن ہوجائے گی۔ سارا عرب تمہارے خلاف صف آرا ہوجائے گا۔ مگر جو کچھ بھی اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دینا۔ اس سے باز رکھنے کے لیے خوف طمع، لالچ، دوستی، دشمنی، محبت ہر چیز تمہارے راستے میں حائل ہوگی۔ ان سب کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہنا۔ یہ تھیں وہ اولین ہدایات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس وقت دی تھیں جب اس نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ اٹھ کر نبوت کے کام کا آغاز فرما دیں۔ کوئی شخص اگر ان چھوٹے چھوٹے فقروں پر اور ان کے معانی پر غور کرے تو اس کا دل گواہی دے گا کہ ایک نبی کو نبوت کا کام شروع کرتے وقت اس سے بہتر کوئی ہدایات نہیں دی جاسکتی تھیں۔ ان میں یہ بھی بتادیا گیا کہ آپ کو کام کیا کرنا ہے، اور یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ اس کام کے لیے آپ کی زندگی اور آپ کے اخلاق اور معاملات کیسے ہونے چاہیں، اور یہ تعلیم بھی دی دی گئی کہ یہ کام آپ کس نیت، کس ذہنیت اور کس طرز فکر کے ساتھ انجام دیں، اور اس بات سے بھی خبردار کردیا گیا کہ اس کام میں آپ کو کن حالات سے سابقہ پیش آنا ہے اور ان کا مقابلہ آپ کو کس طرح کرنا ہوگا۔ آج جو لوگ تعصب میں اندھے ہو کر یہ کہتے کہ معاذ اللہ صرع کے دوروں میں یہ کلام رسول اللہ ﷺ کی زبان پر جاری ہوجایا کرتا تھا وہ ذرا آنکھیں کھول کر ان فقروں کو دیکھیں اور خود سوچیں کہ یہ صرع کے کسی دورے میں نکلے ہوئے الفاظ ہیں یا ایک خدا کی ہدایات ہیں جو رسالت کے کام پر مامور کرتے ہوئے وہ اپنے بندے کو دے رہا ہے ؟
Ayah 74:9

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا، 8

سورة الْمُدَّثِّر 8 جیسا کہ ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں، اس سورة کا یہ حصہ ابتدائی آیات کے چند مہینے بعد اس وقت نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علانیہ تبلیغ اسلام شروع ہوجانے کے بعد پہلی مرتبہ حج کا زمانہ آیا اور سرداران قریش نے ایک کانفرنس کر کے یہ طے کیا کہ باہر سے آنے والے حاجیوں کو قرآن اور محمد ﷺ سے بد گمان کرنے کے لیے پروپیگنڈا کی ایک زبردست مہم چلائی جائے۔ ان آیات میں کفار کی اسی کارروائی پر تبصرہ کیا گیا ہے اور اس تبصرے کا آغاز ان الفاظ سے کیا گیا ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ اچھا، یہ حرکتیں جو تم کرنا چاہتے ہو کرلو، دنیا میں ان سے کوئی مقصد براری تم نے کر بھی لی تو اس روز اپنے برے انجام سے کیسے بچ نکلو گے جب صور میں پھونک ماری جائے گی اور قیامت برپا ہوگی۔ (صور کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 47۔ جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 57۔ جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 78۔ الحج، حاشیہ 1۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 46۔ 47۔ الزمر، حاشیہ 79۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ 52۔)
Ayah 74:10

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا۔ 9

سورة الْمُدَّثِّر 9 اس ارشاد سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ دن ایمان لانے والوں کے لیے ہلکا ہوگا اور اس کی سختی صرف حق کا انکار کرنے والوں کے لیے مخصوص ہوگی۔ مزید براں یہ ارشاد اپنے اندر یہ مفہوم بھی رکھتا ہے کہ اس دن کی سختی کافروں کے لیے مستقل سختی ہوگی، وہ ایسی سختی نہ ہوگی جس کے بعد کبھی اس کے نرمی سے بدل جانے کی امید کی جاسکتی ہو۔
Ayahs 74:11–12

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو 10 جسے میں نے اکیلا پیدا کیا، 11

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

بہت سا مال اُس کو دیا

سورة الْمُدَّثِّر 10 یہ خطاب ہے نبی ﷺ سے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی، کفار کی اس کانفرنس میں جس شخص (ولید بن مغیرہ) نے تمہیں بدنام کرنے کے لیے یہ مشورہ دیا ہے کہ تمام عرب سے آنے والے حاجیوں میں تمہیں جادوگر مشہور کیا جائے۔ اس کا معاملہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔ اس سے نمٹنا اب میرا کام ہے، تمہیں اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سورة الْمُدَّثِّر 11 اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ جب میں نے اسے پیدا کیا تھا اس وقت یہ کوئی مال اور اولاد وجاہت اور ریاست لے کر پیدا نہیں ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ اس کا پیدا کرنے والا اکیلا میں ہی تھا، وہ دوسرے معبود، جن کی خدائی قائم رکھنے کے لیے تمہاری دعوت توحید کی مخالفت میں اس قدر سرگرم ہے، اس کو پیدا کرنے میں میرے ساتھ شریک نہ تھے۔
Ayahs 74:13–14

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے، 12

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی

سورة الْمُدَّثِّر 12 ولید بن مغیرہ کے دس بارہ لڑکے تھے جن میں سے حضرت خالد بن ولید تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ ان بیٹوں کے لیے شھود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کو کہیں اپنی روزی کے لیے دوڑ دھوپ اور سفر کرنے کی حاجت پیش نہیں آتی، ان کے گھر کھانے کو اتنا موجود ہے کہ ہر وقت باپ کے پاس موجود اور اس کی مدد کے لیے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس کے سب بیٹے نامور اور با اثر ہیں، مجلسوں اور محفلوں میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ اس مرتبے کے لوگ ہیں کہ معاملات میں ان کی شہادت قبول کی جاتی ہے۔
Ayahs 74:15–24

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دُوں۔ 13

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

ہاں، خدا کی مار اُس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آ رہا ہے

سورة الْمُدَّثِّر 13 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس پر بھی اس کی حرص ختم نہیں ہوئی۔ اتنا کچھ پانے کے بعد بھی وہ بس اسی فکر میں لگا ہوا ہے کہ اسے دنیا بھر کی نعمتیں عطا کردی جائیں۔ دوسرا مطلب حضرت حسن بصری اور بعض دوسرے بزرگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر واقعی محمد ﷺ کا یہ بیان سچا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں کوئی جنت بھی ہوگی تو وہ جنت میرے ہی لیے بنائی گئی ہے۔
Ayahs 74:25–27

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

یہ تو ایک انسانی کلام ہے۔ 14

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ؟

سورة الْمُدَّثِّر 14 یہ اس واقعہ کا ذکر ہے جو کفار مکہ کی مذکورہ بالا کانفرنس میں پیش آیا تھا۔ اس کی جو تفصیلات ہم دیباچے میں نقل کرچکے ہیں ان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ شخص دل میں قرآن کے کلام الہی ہونے کا قائل ہوچکا تھا۔ لیکن اپنی قوم میں محض اپنی وجاہت و ریاست برقرار رکھنے کے لیے ایمان لانے پر تیار نہ تھا۔ جب کفار کی اس کانفرنس میں پہلے اس نے خود ان تمام الزامات کو رد کردیا جو قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ پر لگا رہے تھے تو اسے مجبور کیا گیا کہ وہ خود کوئی ایسا الزام تراشے جسے عرب کے لوگوں میں پھیلا کر حضور ﷺ کو بد نام کیا جاسکتا ہو۔ اس موقع پر جس طرح وہ اپنے ضمیر سے لڑا ہے اور جس شدید ذہنی کشمکش میں کافی دیر مبتلا رہ کر آخر کار اس نے ایک الزام گھڑا ہے اس کی پوری تصویر یہاں کھینچ دی گئی ہے۔
Ayah 74:28

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔ 15

سورة الْمُدَّثِّر 15 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص بھی اس میں ڈالا جائے گا اسے وہ جلا کر خاک کر دے گی مگر مر کر بھی اس کا پیچھا نہ چھوٹے گا بلکہ وہ پھر زندہ کیا جائے گا اور پھر جلایا جائے گا۔ اسی مضمون کو دوسری جگہ اس طرح ادا کیا گیا ہے کہ لا یموت فیھا ولا یحی " وہ نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا "۔ (الاعلیٰ۔ 13)۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عذاب کے مستحقین میں سے کسی کو باقی نہ رہنے دے گی جو اس کی گرفت میں آئے بغیر رہ جائے، اور جو بھی اس کی گرفت میں آئے گا اسے عذاب دیے بغیر نہ چھوڑے گی۔
Ayahs 74:29–30

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

کھال جھُلس دینے والی۔ 16

عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ Open ayah 74:30 in the Quran reader

اُنّیس کارکن اُس پر مقرر ہیں۔۔۔۔ 17

سورة الْمُدَّثِّر 16 یہ کہنے کے بعد کہ وہ جسم میں سے کچھ جلائے بغیر نہ چھوڑے گی، کھال جھلس دینے کا الگ ذکر کرنا بظاہر کچھ غیر ضروری سا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن عذاب کی اس شکل کو خاص طور پر الگ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ آدمی کی شخصیت کو نمایاں کرنے والی چیز دراصل اس کے چہرے اور جسم کی کھال ہی ہوتی ہے جس کی بد نمائی اسے سب سے زیادہ کھلتی ہے۔ اندرونی اعضاء میں خواہ اسے کتنی ہی تکلیف ہو، وہ اس پر اتنا زیادہ رنجیدہ نہیں ہوتا جتنا اس بات پر رنجیدہ ہوتا ہے کہ اس کا منہ بد نما ہوجائے، یا اس کے جسم کے کھلے حصوں کی جلد پر ایسے داغ پڑجائیں جنہیں دیکھ کر ہر شخص اس سے گھن کھانے لگے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ حسین چہرے اور بڑے بڑے شاندار جسم لیے ہوئے جو لوگ آج دنیا میں اپنی شخصیت پر پھولے پھر رہے ہیں، یہ اگر اللہ کی آیات کے ساتھ عناد کی وہ روش برتیں گے جو ولید بن مغیرہ برت رہا ہے تو ان کے منہ جھلس دیے جائیں گے اور ان کی کھال جلا کر کوئلے کی طرح سیاہ کردی جائے گی۔
Ayah 74:31

وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ Open ayah 74:31 in the Quran reader

ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، 18 اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، 19 تاکہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے 20 اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، 21 اور اہلِ کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار 22 اور کفّار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ 23 اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے۔ 24 اور تیرے ربّ کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا 25۔۔۔۔ اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیےنہیں کیا گیا کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو۔ 26

سورة الْمُدَّثِّر 17 یہاں سے لے کر " تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا " تک کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو دوران تقریر میں سلسلہ کلام کو توڑ کر ان معترضین کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے جنہوں نے حضور ﷺ کی زبان سے یہ سن کر کہ دوزخ کے کارکنوں کی تعداد صرف 19 ہوگی، اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا تھا۔ ان کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ ایک طرف سے ہم سے یہ کہا جا رہا کہ آدم ؑ کے وقت سے لے کر قیامت تک دنیا میں جتنے انسانوں نے بھی کفر اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے، اور دوسری طرف ہمیں یہ خبر دی جا رہی ہے کہ اتنی بڑی دوزخ میں اتنے بیشمار انسانوں کو عذاب دینے کے لیے صرف 19 کارکن مقرر ہوں گے۔ اس پر قریش کے سرداروں نے بڑے زور کا ٹھٹھا مارا۔ ابو جہل بولا، " بھائیو، کیا تم اتنے گئے گزرے ہو کہ تم میں سے دس دس آدمی مل کر بھی دوزخ کے ایک ایک سپاہی سے نمٹ نہ لیں گے " ؟ بنی جمح کے ایک پہلوان صاحب کہنے لگے " 17 سے تو میں اکیلا نمٹ لوں گا، باقی دو کو تم سب مل کر سنبھال لینا "۔ انہی باتوں کے جواب میں یہ فقرے بطور جملہ معترضہ ارشاد ہوئے ہیں۔ سورة الْمُدَّثِّر 18 یعنی ان کی قوتوں کو انسانی قوتوں پر قیاس کرنا تمہاری حماقت ہے۔ وہ آدمی نہیں، فرشتے ہونگے اور تم اندازہ نہیں کرسکتے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی کیسی زبردست طاقتوں کے فرشتے پیدا کیے ہیں۔ سورة الْمُدَّثِّر 19 یعنی بظاہر تو اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ دوزخ کے کارکنوں کی تعداد بیان کی جاتی۔ لیکن ہم نے ان کی یہ تعداد اس لیے بیان کردی ہے کہ یہ ہر اس شخص کے لیے فتنہ بن جائے جو اپنے اندر کوئی کفر چھپائے بیٹھا ہو۔ ایسا آدمی چاہے ایمان کی کتنی ہی نمائش کر رہا ہو، اگر وہ خدا کی خدائی اور اس کی عظیم قدرتوں کے بارے میں، یا وحی و رسالت کے بارے میں شک کا کوئی شائبہ بھی اپنے دل کے کسی گوشے میں لیے بیٹھا ہو تو یہ سنتے ہی کہ خدا کی اتنی بڑی جیل میں بےحد و حساب مجرم جنوں اور انسانوں کو صرف 19 سپاہی قابو میں بھی رکھیں گے اور فردا فردا ایک ایک شخص کو عذاب بھی دیں گے، تو اس کا کفر فورا کھل کر باہر آجائے گا۔ سورة الْمُدَّثِّر 20 بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اہل کتاب (یہود و نصاری) کے ہاں چونکہ ان کی اپنی کتابوں میں بھی دوزخ کے فرشتوں کی یہی تعداد بیان کی گئی ہے، اس لیے یہ بات سن کر ان کو یقین آجائے گا کہ یہ بات فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی کی فرمائی ہوئی ہے۔ لیکن یہ تفسیر ہمارے نزدیک دو وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔ اول یہ کہ یہود و نصاری کی جو مذہبی کتابیں دنیا میں پائی جاتی ہیں ان میں تلاش کے باوجود ہمیں یہ بات کہیں نہیں ملی کہ دوزخ کے فرشتوں کی تعداد 19 ہے۔ دوسرے قرآن مجید میں بکثرت ایسی باتیں ہیں جو اہل کتاب کے ہاں ان کی مذہبی کتابوں میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس کی یہ توجیہ کردیتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ باتیں ان کتابوں سے نقل کرلی ہیں۔ ان وجوہ سے ہمارے نزدیک اس ارشاد کا صحیح مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میری زبان سے دوزخ کے 19 فرشتوں کا ذکر سن کر میرا خوب مذاق اڑایا جائے گا، لیکن اس کے باوجود جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی وحی میں بیان ہوئی تھی اسے انہوں نے کسی خوف اور جھجک کے بغیر علی الاعلان لوگوں کے سامنے پیش کردیا اور کسی کے مذاق و استہزاء کی ذرہ برابر پروا نہ کی۔ جہلائے عرب تو انبیاء کی شان سے ناواقف تھے، مگر اہل کتاب خوب جانتے تھے کہ انبیاء کا ہر زمانے میں یہی طریقہ رہا ہے کہ جو کچھ خدا کی طرف سے آتا تھا اسے وہ جو کا تو لوگوں تک پہنچا دیتے تھے خواہ وہ لوگوں کو پسند ہو یا ناپسند۔ اس بنا پر اہل کتاب سے یہ بات زیادہ متوقع تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل کو دیکھ کر انہیں یقین آجائے گا کہ ایسے سخت مخالف ماحول میں ایسی بظاہر انتہائی عجیب بات کو کسی جھجک کے بغیر پیش کردینا ایک نبی ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ یہ بات بھی وا ضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہ طرز عمل بار ہا ظاہر ہوا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ نمایاں مثال معراج کا واقعہ ہے جسے آپ نے کفار کے مجمع عام میں بلا تکلف بیان کردیا اور اس بات کی ذرہ برابر پروا نہ کی اس حیرت انگیز قصے کو سن کر آپ کے مخالفین کیسی کیسی باتیں بنائیں گے۔ سورة الْمُدَّثِّر 21 یہ بات اس سے پہلے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوچکی ہے کہ ہر آزمائش کے موقع پر جب ایک مومن اپنے ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور شک و انکار یا اطاعت سے فرار یا دین سے بےوفائی کی راہ چھوڑ کر یقین و اعتماد اور اطاعت و فرمانبرداری اور دین سے وفاداری کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس کے ایمان کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، آیت 173۔ جلد دوم، الانفال، آیت 2، حاشیہ 6۔ التوبہ، آیات 124۔ 125۔ حاشیہ 125۔ جلد چہارم، الاحزاب، آیت 22، حاشیہ 83۔ جلد پنجم، الفتح، آیت 4، حاشیہ 7)۔ سورة الْمُدَّثِّر 22 قرآن مجید میں چونکہ بالعموم " دل کی بیماری " سے مراد منافقت لی جاتی ہے، اس لیے یہاں اس لفظ کو دیکھ کر بعض مفسرین نے یہ خیال کیا ہے کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی کیونکہ منافقین کا ظہور مدینہ ہی میں ہوا ہے۔ لیکن یہ خیال کئی وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔ اول تو یہ دعویٰ ہی غلط ہے کہ مکہ میں منافق موجود نہ تھے، اور اس کی غلطی ہم تفہیم القرآن، جلد سوم میں صفحہ 672، 674 اور 680 تا 682 پر واضح کرچکے ہیں۔ دوسرے یہ طرز تفسیر ہمارے نزدیک درست نہیں ہے کہ ایک سلسلہ کلام جو خاص موقع پر خاص حالات میں ارشاد ہوا ہو، اس کے اندر یکایک کسی ایک فقرے کے متعلق یہ کہہ دیا جائے کہ وہ کسی دوسرے موقعہ پر نازل ہوا تھا اور یہاں لا کر کسی مناسبت کے بغیر شامل کردیا گیا۔ سورة مدثر کے اس حصے کا تاریخی پس منظر ہمیں معتبر روایات سے معلوم ہے۔ یہ ابتدائی مکی دور کے ایک خاص واقعہ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ اس کا پورا سلسلہ کلام اس واقعہ کے ساتھ صریح مناسبت رکھتا ہے۔ اس مضمون میں آخر کونسا موقع تھا کہ اس ایک فقرے کو، اگر وہ کئی سال بعد مدینہ میں نازل ہوا تھا، اس جگہ لا کر چسپاں کردیا جاتا ؟ اب رہا یہ سوال کہ یہاں دل کی بیماری سے مراد کیا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد شک کی بیماری ہے۔ مکہ ہی میں نہیں، دنیا بھر میں پہلے بھی اور آج بھی کم لوگ ایسے تھے اور ہیں جو قطعیت کے ساتھ خدا، آخرت، وحی، رسالت، جنت، دوزخ وغیرہ کا انکار کرتے ہوں۔ اکثریت ہر زمانے میں انہی لوگوں کی رہی ہے جو اس شک میں مبتلا رہے ہیں کہ معلوم نہیں خدا ہے یا نہیں۔ آخرت ہوگی یا نہیں، فرشتوں اور جنت اور دوزخ کا واقعی کوئی وجود ہے یا یہ محض افسانے ہیں، اور رسول واقعی رسول تھے اور ان پر وحی آتی تھی یا نہیں۔ یہی شک اکثر لوگوں کو کفر کے مقام پر کھینچ لے گیا ہے، ورنہ ایسے بیوقوف دنیا میں کبھی زیادہ نہیں رہے جنہوں نے بالکل قطعی طور پر ان حقائق کا انکار کردیا ہو، کیونکہ جس آدمی میں ذرہ برابر بھی عقل کا مادہ موجود ہے وہ یہ جانتا ہے کہ ان امور کے صحیح ہونے کا امکان بالکل رد کردینے اور انہیں قطعاً خارج از امکان قرار دینے کے لیے ہرگز کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ سورة الْمُدَّثِّر 23 اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اسے اللہ کا کلام تو مان رہے تھے مگر تعجب اس بات پر ظاہر کر رہے تھے کہ اللہ نے یہ بات کیوں فرمائی۔ بلکہ دراصل وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ جس کلام میں ایسی بعید از عقل و فہم بات کہی گئی ہے وہ بھلا اللہ کا کلام کیسے ہوسکتا ہے۔ سورة الْمُدَّثِّر 24 یعنی اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے احکام و فرامین میں وقتاً فوقتاً ایسی باتیں ارشاد فرما دیتا ہے جو لوگوں کے لیے امتحان اور آزمائش کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ایک ہی بات ہوتی ہے جسے ایک راستی پسند، سلیم الطبع اور صحیح الفکر آدمی سنتا ہے اور سیدھے طریقے سے اس کا سیدھا مطلب سمجھ کر سیدھی راہ اختیار کرلیتا ہے۔ اسی بات کو ایک ہٹ دھرم، کج فہم اور راستی سے گریز کرنے والا آدمی سنتا ہے اور اس کا ٹیڑھا مطلب نکال کر اسے حق سے دور بھاگ جانے کے لیے ایک نیا بہانا لیتا ہے۔ پہلا آدمی چونکہ خود حق پسند ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ اسے ہدایت بخش دیتا ہے، کیونکہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ ہدایت چاہنے والے کو زبردستی گمراہ کرے۔ اور دوسرا آدمی چونکہ خود ہدایت نہیں چاہتا بلکہ گمراہی کو ہی اپنے لیے پسند کرتا ہے اس لیے اللہ اسے ضلالت ہی کے راستوں پر دھکیل دیتا ہے، کیونکہ اللہ کا یہ طریقہ بھی نہیں ہے کہ جو حق سے نفرت رکھتا ہو وہ اسے جبراً کھینچ کر حق کی راہ پر لائے۔ (اللہ کے ہدایت دینے اور گمراہ کرنے کے مسئلے پر تفہیم القرآن میں بکثرت مقامات پر وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں جلد اول، البقرہ، حواشی 10، 16، 19، 20۔ النساء، حاشیہ 173۔ الانعام، حواشی 17، 28، 90۔ جلد دوم، یونس، حاشیہ 13۔ جلد سوم، الکہف، حاشیہ 45۔ القصص، حاشیہ 71)۔ سورة الْمُدَّثِّر 25 یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کائنات میں کیسی کیسی اور کتنی مخلوقات پیدا کر رکھی ہیں، اور ان کو کیا کیا طاقتیں اس نے بخشی ہیں، اور ان سے کیا کیا کام وہ لے رہا ہے، ان باتوں کو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا ایک چھوٹے سے کرہ زمین پر رہنے والا انسان اپنی محدود نظر سے اپنے گرد و پیش کی چھوٹی سی دنیا کو دیکھ کر اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے کہ خدا کی خدائی میں بس وہی کچھ ہے جو اسے اپنے حواس یا اپنے آلات کی مدد سے محسوس ہوتا ہے، تو یہ اس کی اپنی ہی نادانی ہے۔ ورنہ یہ خدائی کا کارخانہ اتنا وسیع و عظیم ہے کہ اس کی کسی چیز کا بھی پورا علم حاصل کرلینا انسان کے بس میں نہیں ہے، کجا کہ اس کی ساری وسعتوں کا تصور اس کے چھوٹے سے دماغ میں سما سکے۔ سورة الْمُدَّثِّر 26 یعنی لوگ اپنے آپ کو اس کا مستحق بنانے اور اس کے عذاب کا مزا چکھنے سے پہلے ہوش میں آجائیں اور اپنے آپ کو اس سے بچانے کی فکر کریں۔
Ayahs 74:32–34

كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ Open ayah 74:32 in the Quran reader

27 ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی

وَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ Open ayah 74:33 in the Quran reader

اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے

وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ Open ayah 74:34 in the Quran reader

اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے

سورة الْمُدَّثِّر 27 یعنی یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے جس کا اس طرح مذاق اڑایا جائے۔
Ayahs 74:35–36

اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ Open ayah 74:35 in the Quran reader

یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے، 28

نَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ Open ayah 74:36 in the Quran reader

انسانوں کے لیے ڈراوا

سورة الْمُدَّثِّر 28 یعنی جس طرح چاند، اور رات اور دن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عظیم نشانات ہیں اسی طرح دوزخ بھی عظائم قدرت میں سے ایک چیز ہے۔ اگر چاند کا وجود غیر ممکن نہ تھا، اگر رات اور دن کا اس باقاعدگی کے ساتھ آنا غیر ممکن نہ تھا، تو دوزخ کا وجود، آخر کیوں تمہارے خیال میں غیر ممکن ہوگیا ؟ جن چیزوں کو چونکہ تم رات دن دیکھ رہے ہو اس لیے تمہیں ان پر کوئی حیرت نہیں ہوتی، ورنہ اپنی ذات میں یہ بھی اللہ کی قدرت کے نہایت حیرت انگیز معجزے ہیں، جو اگر تمہارے مشاہدے میں نہ آئے ہوتے، اور کوئی تمہیں خبر دیتا کہ چاند جیسی ایک چیز بھی دنیا میں موجود ہے، یا سورج ایک چیز ہے جس کے چھپنے سے دنیا میں اندھیرا ہوجاتا ہے، اور جس کے نکل آنے سے دنیا چمک اٹھتی ہے، تو تم جیسے لوگ اس بات کو سن کر بھی اسی طرح ٹھٹھے مارتے جس طرح دوزخ کا ذکر سن کر ٹھٹھے مار رہے ہو۔
Ayah 74:37

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ Open ayah 74:37 in the Quran reader

تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے۔ 29

سورة الْمُدَّثِّر 29 مطلب یہ ہے کہ اس چیز سے لوگوں کو ڈرا دیا گیا ہے۔ اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پر آگے بڑھے اور جس کا جی چاہے پیچھے ہٹ جائے۔
Ayah 74:38

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر متنفّس اپنے کسب کے بدلے رہن ہے، 30

سورة الْمُدَّثِّر 30 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة طور، حاشیہ 16۔
Ayah 74:39

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

دائیں بازو والوں کے سوا،31

سورة الْمُدَّثِّر 31 بالفاظ دیگر بائیں بازو والے تو اپنے کسب کے بدلے میں پکڑ لیے جائیں گے لیکن دائیں بازو والے اپنا فک رہن کرالیں گے۔ (دائیں بازو اور بائیں بازو کی تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة واقعہ، حواشی 5، 6)۔