Ayahs 74:40–42سورة الْمُدَّثِّر 32
اس سے پہلے کئی مقامات پر قرآن مجید میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اہل جنت اور اہل دوزخ ایک دوسرے سے ہزاروں لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود جب چاہیں گے ایک دوسرے کو کسی آلے کی مدد کے بغیر دیکھ سکیں گے اور ایک دوسرے سے براہ راست گفتگو کرسکیں گے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، آیات 44 تا 50، حاشیہ 35۔ جلد چہارم، الصافات، آیات 50 تا 57، حاشیہ 32۔
Ayah 74:43سورة الْمُدَّثِّر 33
مطلب یہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں سے نہ تھے جنہوں نے خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو مان کر خدا کا وہ اولین حق ادا کیا ہو جو ایک خدا پرست انسان پر عائد ہوتا ہے، یعنی نماز۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ نماز کوئی شخص اس وقت تک پڑھ ہی نہیں سکتا جب تک وہ ایمان نہ لایا ہو۔ اس لیے نمازیوں میں سے ہونا آپ سے آپ ایمان لانے والوں میں سے ہونے کو مستلزم ہے۔ لیکن نمازیوں میں سے نہ ہونے کو دوزخ میں جانے کا سبب قرار دے کر یہ بات واضح کردی گئی کہ ایمان لا کر بھی آدمی دوزخ سے نہیں بچ سکتا اگر وہ تارک نماز ہو۔
Ayahs 74:44–46سورة الْمُدَّثِّر 34
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کو بھوک میں مبتلا دیکھنا اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو کھانا نہ کھلانا اسلام کی نگاہ میں کتنا بڑا گناہ ہے کہ آدمی کے دوزخی ہونے کے اسباب میں خاص طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 74:47سورة الْمُدَّثِّر 35
یعنی مرتے دم تک ہم اسی روش پر قائم رہے یہاں تک کہ وہ یقینی چیز ہمارے سامنے آگئی جس سے ہم غافل تھے۔ یقینی چیز سے مراد موت بھی ہے اور آخرت بھی۔
Ayahs 74:48–50سورة الْمُدَّثِّر 36
یعنی ایسے لوگ جنہوں نے مرتے دم تک یہ روش اختیار کیے رکھی ہو ان کے حق میں اگر کوئی شفاعت کرنے والا شفاعت کرے بھی تو اسے معافی نہیں مل سکتی۔ شفاعت کے مسئلے کو قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ شفاعت کون کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکتا، کس حالت میں کی جاسکتی ہے اور کس حالت میں نہیں کی جاسکتی، کس کے لیے کی جاسکتی ہے اور کس کے لیے نہیں کی جاسکتی، اور کس کے حق میں وہ نافع ہے اور کس کے حق میں نافع نہیں ہے۔ دنیا میں چونکہ لوگوں کی گمراہی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب شفاعت کے بارے میں غلط عقائد بھی ہیں، اس لیے قرآن نے اس مسئلے کو اتنا کھول کر بیان کردیا ہے کہ اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ مثال کے طور پر آیات ذیل ملاحظہ ہوں البقرہ، 255۔ الانعام، 94۔ الاعراف، 53۔ یونس، 3۔ 18۔ مریم، 78۔ طٰہٰ ، 109۔ الانبیاء، 28۔ سبا، 23۔ الزمر، 43۔ 44۔ المؤمن، 18۔ الدخان، 86۔ النجم 62۔ النبا، 37۔ 38۔ تفہیم القرآن میں جہاں جہاں یہ آیات آئی ہیں ہم نے ان کی اچھی طرح تشریح کردی ہے۔
Ayah 74:51سورة الْمُدَّثِّر 37
یہ ایک عربی محاورہ ہے۔ جنگی گدھوں کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ خطرہ بھانپتے ہی وہ اس قدر بد حواس ہو کر بھاگتے ہیں کہ کوئی دوسرا جانور اس طرح نہیں بھاگتا۔ اس لیے اہل عرب غیر معمولی طور پر بد حواس ہو کر بھاگنے والے کو ان جنگلی گدھوں سے تشبیہ دیتے ہیں جو شیر کی بوُ یا شکاری کی آہٹ پاتے ہی بھاگ پڑے ہوں۔
Ayah 74:52سورة الْمُدَّثِّر 38
یعنی یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر واقعی محمد ﷺ کو نبی مقرر فرمایا ہے تو وہ مکہ کے ایک سردار اور ایک ایک شیخ کے نام خط لکھ کر بھیجے کہ محمد ہمارے نبی ہیں، تم ان کی پیروی قبول کرو۔ اور یہ خط ایسے ہوں جنہیں دیکھ کر انہیں یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ لکھ کر بھیجے ہیں۔ ایک اور مقام پر قرآن مجید میں کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ " ہم نہ مانیں گے جب تک وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے "۔ (الانعام، 124)۔ ایک دوسری جگہ ان کا یہ مطالبہ نقل کیا گیا ہے کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور وہاں سے ایک لکھی ہوئی کتاب لا کر ہمیں دیں جسے ہم پڑھیں (بنی اسرائیل۔ 93)۔
Ayah 74:53سورة الْمُدَّثِّر 39
یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے مطالبے پورے نہیں کیے جاتے، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت سے بےخوف ہیں۔ انہوں نے سب کچھ اسی دنیا کو سمجھ رکھا ہے اور انہیں یہ خیال نہیں ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی بھی ہے جس میں ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اسی چیز نے ان کو دنیا میں بےفکر اور غیر ذمہ دار بنادیا ہے۔ یہ حق اور باطل کے سوال کو سرے سے بےمعنی سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کو دنیا میں کوئی حق ایسا نظر نہیں آتا جس کی پیروی کا نتیجہ لازما دنیا میں اچھا ہی نکلتا ہو۔ اور نہ کوئی باطل ایسا نظر آتا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ضرور برا ہی نکلا کرتا ہو۔ اس لیے یہ اس مسئلے پر غور کرنا لا حاصل سمجھتے ہیں کہ فی الواقع حق کیا ہے اور باطل کیا۔ یہ مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ قابل غور اگر ہوسکتا ہے تو صرف اس شخص کے لیے جو دنیا کی موجودہ زندگی کو ایک عارضی زندگی سمجھتا ہو اور یہ تسلیم کرتا ہو کہ اصلی اور ابدی زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں حق کا انجام لازماً اچھا اور باطل کا انجام لازماً برا ہوگا۔ ایسا شخص تو ان معقول دلائل اور ان پاکیزہ تعلیمات کو دیکھ کر ایمان لائے گا جو قرآن میں پیش کی گئی ہیں اور اپنی عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ قرآن جن عقائد اور اعمال کو غلط کہہ رہا ہے ان میں فی الواقع کیا غلطی ہے۔ لیکن آخرت کا منکر جو سرے سے تلاش حق میں سنجیدہ ہی نہیں ہے وہ ایمان نہ لانے کے لیے آئے دن نت نئے مطالبے پیش کرے گا۔ حالانکہ اس کا خواہ کوئی مطالبہ بھی پورا کردیا جائے، وہ انکار کرنے کے لیے کوئی دوسرا بہانا ڈھونڈ نکالے گا۔ یہی بات ہے جو سورة انعام میں فرمائی گئی ہے کہ " اے نبی، اگر ہم تمہارے اوپر کاغذ میں لکھی لکھائی کوئی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جنہوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے "۔ (الانعام، 7)۔
Ayahs 74:54–55سورة الْمُدَّثِّر 40
یعنی ان کا ایسا کوئی مطالبہ ہرگز پورا نہ کیا جائے گا۔
Ayah 74:56سورة الْمُدَّثِّر 41
یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت ہی پر موقوف نہیں ہے، بلکہ اسے نصیحت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب کہ اللہ کی مشیت بھی یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ دوسرے الفاظ میں یہاں اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مشیت سے ظہور میں نہیں آتا، بلکہ ہر فعل اسی وقت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جب خدا کی مشیت بندے کی مشیت سے مل جائے۔ یہ ایک نہایت نازک مسئلہ ہے جسے نہ سمجھنے سے انسانی فکر بکثرت ٹھوکریں کھاتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر اس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے اللہ کی مشیت ساری مشیتوں پر غالب ہے۔ انسان جو کچھ بھی کرنا چاہے وہ اسی وقت کرسکتا ہے جبکہ اللہ بھی یہ چاہے کہ انسان کو وہ کام کرنے دیا جائے۔ یہی معاملہ ہدایت اور ضلالت کا بھی ہے۔ انسان کا محض خود ہدایت چاہنا اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ اسے ہدایت مل جائے، بلکہ اسے ہدایت اس وقت ملتی ہے جب اللہ اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ اس طرح ضلالت کی خواہش بھی محض بندے کی طرف سے ہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ جب اللہ اس کے اندر گمراہی کی طلب پا کر یہ فیصلہ کرد یتا ہے کہ اسے غلط راستوں میں بھٹکنے دیا جائے تب وہ ان راہوں میں بھٹک نکلتا ہے جن پر اللہ اسے جانے کا موقع دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی چور بننا چاہے تو محض اس کی یہ خواہش اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ جہاں جس کے گھر میں گھس کر وہ جو کچھ چاہے چرالے جائے، بلکہ اللہ اپنی عظیم حکمتوں اور مصلحتوں کے مطابق اس کی اس خواہش کو جب اور جس قدر اور جس شکل میں پورا کرنے کا موقع دیتا ہے اسی حد تک وہ اسے پورا کرسکتا ہے۔
سورة الْمُدَّثِّر 42
یعنی تمہیں اللہ کی ناراضی سے بچنے کی جو نصیحت کی جا رہی ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ کو اس کی ضرورت ہے اور اگر تم ایسا نہ کرو تو اس سے اللہ کا کوئی نقصان ہوتا ہے، بلکہ یہ نصیحت اس بنا پر کی جا رہی ہے کہ اللہ کا یہ حق ہے کہ اس کے بندے اس کی رضا چاہیں اور اس کی مرضی کے خلاف نہ چلیں۔
سورة الْمُدَّثِّر 43
یعنی یہ اللہ ہی کو زیب دیتا ہے کہ کسی نے خواہ اس کی کتنی ہی نافرمانیاں کی ہوں، جس وقت بھی وہ اپنی اس روش سے باز آجائے اللہ اپنا دامن رحمت اس کے لیے کشادہ کردیتا ہے۔ اپنے بندوں کے لیے کوئی جذبہ انتقام وہ اپنے اندر نہیں رکھتا کہ ان کے قصوروں سے وہ کسی حال میں در گزر ہی نہ کرے اور انہیں سزا دیے بغیر نہ چھوڑے۔