76. Surah Al-Insaan

الانسانMan · 31 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

اس سورت کا نام الدہر بھی ہے اور الانسان بھی۔ دونوں نام پہلی ہی آیت کے الفاظ ھل اتٰی علی الانسان اور حین من الدھر سے ماخوذ ہیں۔

زمانہ نزول

اکثر مفسرین اس کو مکی قرار دیتے ہیں۔ علامہ زمخشری، امام رازی، قاضی بیضاوی، علامہ نظام الدین نیسا بوری، حافظ ابن کثیر اور دوسرے بہت سے مفسرین نے اسے مکی ہی لکھا ہے، اور علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ یہی جمہور کا قول ہے لیکن بعض دوسرے مفسرین نے پوری سورت کو مدنی کہا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ سورت ہے تو مکی مگر آیات 8 تا 10 مدینے میں نازل ہوئی ہیں۔ جہاں تک اس سورت کے مضامین اور انداز بیاں کا تعلق ہے، وہ مدنی سورتوں کے مضامین اور انداز بیان سے بہت مختلف ہے، بلکہ اس پر غور کرنے سے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف مکی ہے بلکہ مکہ معظمہ کے بھی اس دور میں نازل ہوئی ہے جو سورة مدثر کی ابتدائی سات آیات کے بعد شروع ہوا تھا۔ رہیں آیات 8 تا 10 تو وہ پوری سورت کے سلسلۂ بیان میں اس طرح پیوست ہیں کہ سیاق وسباق کے ساتھ کوئی ان کو پڑھے تو ہرگز یہ محسوس نہیں کرسکتا کہ ان سے پہلے اور بعد کا مضمون تو 15 – 16 سال پہلے نازل ہوا تھا اور اس کے کئی سال بعد نازل ہونے والی یہ تین آیتیں یہاں لا کر ثبت کردی گئیں۔ دراصل جس بنا پر اس سورت کے، یا اس کی بعض آیات کے مدنی ہونے کا خیال پیدا ہوا ہے وہ ایک روایت ہے جو عطاء نے ابن عباس (رض) سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرات حسن و حسین (رض) بیمار ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بہت سے صحابہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ بعض صحابہ نے حضرت علی (رض) کو مشورہ دیا کہ آپ دونوں بچوں کی شفا کے لیے اللہ تعالیٰ سے کوئی نذر مانیں۔ چناچہ حضرت علی (رض)، حضرت فاطمہ (رض) اور ان کی خادمہ فضہ (رض) نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے دونوں بچوں کو شفا عطا فرما دی تو یہ سب شکرانے کے طور پر تین دن کے روزے رکھیں گے۔ اللہ کا فضل ہوا کہ دونوں تندرست ہوگئے اور تینوں صاحبوں نے نذر کے روزے رکھنے شروع کردیے۔ حضرت علی (رض) کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ انہوں نے تین صاع جو خرید لیے (اور ایک روایت میں ہے کہ محنت مزدوری کر کے حاصل کیے) پہلا روزہ کھول کر جب کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک مسکین نے کھانا مانگا۔ گھر والوں نے سارا کھانا اسے دے دیا اور خود پانی پی کر سو رہے۔ دوسرے دن پھر افطار کے بعد کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک یتیم آگیا اور اس نے سوال کیا۔ اس روز بھی سارا کھانا انہوں نے اس کو دے دیا اور پانی پی کر سو رہے۔ تیسرے دن روزہ کھول کر ابھی کھانے کو بیٹھے ہی تھے کہ ایک قیدی نے آ کر وہی سوال کردیا اور اس روز کا بھی پورا کھانا اسے دے دیا گیا۔ چوتھے روز حضرت علی (رض) دونوں بچوں کو لیے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے دیکھا کہ بھوک کی شدت سے تینوں باپ بیٹوں کا برا حال ہو رہا ہے۔ آپ اٹھ کر ان کے ساتھ حضرت فاطمہ (رض) کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ بھی ایک کونے میں بھوک سے نڈھال پڑی ہیں۔ یہ حال دیکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رقت طاری ہوگئی۔ اتنے میں جبریل (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ لیجیے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اہل بیت کے معاملہ میں آپ کو مبارک باد دی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب میں یہ پوری سورت آپ کو پڑھ کر سنائی (ابن مہران کی روایت میں ہے کہ آیت " ان الابرار یشربون " سے لے کر آخر تک آیات سنائیں گئیں مگر ابن مردویہ نے ابن عباس سے جو روایت نقل کی ہے اس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آیت " و یطعمون الطعام "۔۔۔ حضرت علی اور حضرت فاطمہ (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس قصے کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ) یہ پورا قصہ علی بن احمد الواحدی نے اپنی تفسیر البسیط میں بیان کیا ہے اور غالباً اسی سے زمخشری، رازی اور نیسا بوری وغیرہم نے اسے نقل کیا ہے۔ یہ روایت اول تو سند کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے۔ پھر درایت کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسکین، ایک یتیم اور ایک قیدی اگر آ کر کھانا مانگتا ہے تو گھر کے پانچوں افراد کا پورا کھانا اس کو دے دینے کی کیا معقول وجہ ہو سکتی ہے ؟ ایک آدمی کا کھانا اس کو دے کر گھر کے پانچ افراد چار آدمیوں کے کھانے پر اکتفا کرسکتے تھے۔ پھر یہ بھی باور کرنا مشکل ہے کہ دو بچے جو ابھی ابھی بیماری سے اٹھے تھے اور کمزوری کی حالت میں تھے، انہیں بھی تین دن بھوکا رکھنے کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ جیسی کامل فہم دین رکھنے والی ہستیوں نے نیکی کا کام سمجھا ہوگا۔ اس کے علاوہ قیدیوں کے معاملے میں یہ طریقہ اسلامی حکومت کے دور میں کبھی نہیں رہا کہ انہیں بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ وہ اگر حکومت کی قید میں ہوتے تو حکومت ان کی خوراک اور لباس کا انتظام کرتی تھی، اور کسی شخص کے سپرد کیے جاتے تو وہ شخص انہیں کھانے پلانے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ اس لیے مدینہ طیبہ میں یہ بات ممکن نہ تھی کہ کوئی قیدی بھیک مانگنے کے لیے نکلتا۔ تاہم ان تمام نقلی اور عقلی کمزوریوں کو نظر انداز کر کے اگر اس قصے کو بالکل صحیح ہی مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ اس سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس نیک عمل کا صدور ہوا تو جبریل (علیہ السلام) نے آ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کے اہل بیت کا یہ فعل بہت مقبول ہوا ہے، کیونکہ انہوں نے ٹھیک وہی پسندیدہ کام کیا ہے جس کی تعریف اللہ تعالیٰ نے سورة دہر کی ان آیات میں فرمائی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیات نازل بھی اسی موقع پر ہوئی تھیں۔ شان نزول کے بارے میں بہت سی روایات کا حال یہی ہے کہ کسی آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو دراصل اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ آیت اس واقعہ پر ٹھیک چسپاں ہوتی ہے۔ امام سیوطی نے اتقان میں حافظ ابن تیمیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” راوی جب یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے تو کبھی اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہی معاملہ اس کے نزول کا سبب ہے، اور کبھی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے اگرچہ وہ اس کے نزول کا سبب نہ ہو “ آگے چل کر وہ امام بدر الدین زرکشی کا قول ان کی کتاب البرہان فی علوم القرآن سے نقل کرتے ہیں کہ ” صحابہ اور تابعین کی یہ عادت معروف ہے کہ ان میں سے کوئی شخص جب یہ کہتا ہے کہ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس آیت کا حکم اس معاملہ پر چسپاں ہوتا ہے، نہ یہ کہ وہی اس واقعہ کے نزول کا سبب ہے۔ پس دراصل اس کی نوعیت آیت کے حکم سے استدلال کی ہوتی ہے نہ کہ بیان واقعہ کی“

موضوع اور مضمون

اس سورت کا موضوع انسان کو دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت سے آگاہ کرنا اور یہ بتانا ہے کہ اگر وہ اپنی اس حیثیت کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر شکر کا رویہ اختیار کرے تو اس کا انجام کیا ہوگا اور کفر کی راہ چلے تو کس انجام سے وہ دوچار ہوگا۔ قرآن کی بڑی سورتوں میں تو یہ مضمون بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، لیکن ابتدائی مکی دور کی سورتوں کا یہ خاص انداز بیان ہے کہ جو باتیں بعد کے دور میں مفصل ارشاد ہوئی ہیں، وہی اس دور میں بڑے مختصر مگر انتہائی موثر طریقے سے ذہن نشین کرائی گئی ہیں اور ایسے چھوٹے چھوٹے خوبصورت فقرے استعمال کیے گئے ہیں جو سننے والوں کی زبان پر خود بخود چڑھ جائیں۔ اس میں سب سے پہلے انسان کو یاد دلایا گيا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب وہ کچھ نہ تھا، پھر ایک مخلوط نطفے سے اس کی ایسی حقیر سے ابتدا کی گئی کہ اس کی ماں تک کو خبر نہ تھی کہ اس کے وجود کی بنا پر پڑگئی ہے اور کوئی اس خورد بینی وجود کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ کوئی انسان ہے جو آگے چل کر اس زمین پر اشرف المخلوقات بننے والا ہے۔ اس کے بعد انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ تیری تخلیق اس طرح کر کے تجھے یہ کچھ ہم نے اس لیے بنایا ہے کہ ہم دنیا میں رکھ کر تیرا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ اسی لیے دوسری مخلوقات کے برعکس تجھے ہوش گوش رکھنے والا بنایا گیا ہے اور تیرے سامنے شکر اور کفر کے دونوں راستے کھول کر رکھ دیے گئے تاکہ یہاں کام کرنے کا جو وقت تجھے دیا گیا ہے اس میں تو دکھا دے کہ اس امتحان سے شاکر بن کر نکلا ہے یا کافر بندہ بن کر۔ پھر صرف ایک آیت میں دو ٹوک طریقے سے بتادیا گیا ہے کہ جو لوگ اس امتحان سے کافر بن کر نکلیں گے انہیں آخرت میں کیا انجام دیکھنا ہوگا۔ اس کے بعد آیت نمبر 5 سے 22 تک مسلسل ان انعامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جن سے وہ لوگ اپنے رب کے ہاں نوازے جائیں گے جنہوں نے یہاں بندگی کا حق ادا کیا ہے۔ ان آیات میں صرف ان کی بہترین جزا بتانے ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ مختصراً یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ ان کے وہ کیا اعمال ہیں جن کی بنا پر وہ اس جزا کے مستحق ہوں گے۔ مکی دور کی ابتدائی سورتوں کی خصوصیات میں سے ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں اسلام کے بنیادی عقائد اور تصورات کا مختصر تعارف کرانے کے ساتھ ساتھ کہیں وہ اخلاقی اوصاف اور نیک اعمال بھی بیان کیے گئے ہیں جو اسلام کی نگاہ میں قابل قدر ہیں، اور کہیں اعمال و اخلاق کی ان برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اسلام انسان کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اس لحاظ سے بیان نہیں کی گئی ہیں کہ ان کا کیا اچھا یا برا نتیجہ دنیا کی اس عارضی زندگی سے نکلتا ہے، بلکہ صرف اس حیثیت سے ان کا ذکر کیا ہے کہ آخرت کی ابدی اور پائیدار زندگی میں ان کا مستقل نتیجہ کیا ہوگا قطع نظر اس سے کہ دنیا میں کوئی بری صفت مفید ہو یا کوئی اچھی صفت نقصان دہ ثابت ہو۔ یہ پہلے رکوع کا مضمون ہے۔ اس کے بعد دوسرے رکوع میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ دراصل یہ ہم ہی ہیں جو اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے تم پر نازل کر رہے ہیں، اور اس سے مقصود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں بلکہ کفار کو خبردار کرنا ہے کہ یہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود اپنے دل سے نہیں گھڑ رہے ہیں بلکہ اس کے نازل کرنے والے " ہم " ہیں اور ہماری حکمت ہی اس کی مقتضی ہے کہ اسے یک بارگی نہیں بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کریں۔ دوسری بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ فرمائی گئی ہے کہ تمہارے رب کا فیصلہ صادر ہونے میں خواہ کتنی ہی دیر لگے، اور اس دوران میں تم پر خواہ کچھ ہی گزر جائے، بہرحال تم صبر کے ساتھ اپنا فریضۂ رسالت انجام دیے چلے جاؤ اور کبھی ان بد عمل اور منکر حق لوگوں میں سے کسی کے دباؤ میں نہ آؤ۔ تیسری بات آپ سے یہ فرمائی گئی ہے کہ شب و روز اللہ کو یاد کرو، نماز پڑھو اور راتیں اللہ کی عبادت میں گزارو، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس سے کفر کی طغیانی کے مقابلے میں اللہ کی طرف بلانے والوں کو ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے۔ پھر ایک فقرے میں کفار کے غلط رویے کی اصل وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ آخرت کو بھول کر دنیا پر فریفتہ ہوگئے ہیں، اور دوسرے فقرے میں ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم خود نہیں بن گئے ہو، ہم نے تمہیں بنایا ہے، یہ چوڑے چکلے سینے اور مضبوط ہاتھ پاؤں تم نے خود اپنے لیے نہیں بنا لیے ہیں، ان کے بنانے والے بھی ہم ہی ہیں، اور یہ بات ہر وقت ہماری قدرت میں ہے کہ جو کچھ ہم تمہارے ساتھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ تمہاری شکلیں بگاڑ سکتے ہیں، تمہیں ہلاک کر کے کوئی دوسری قوم تمہاری جگہ لا سکتے ہیں۔ تمہیں مار کر دوبارہ جس شکل میں چاہیں تمہیں پیدا کرسکتے ہیں۔ آخر میں کلام اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ یہ ایک کلمۂ نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اسے قبول کر کے اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ مگر دنیا میں انسان کی چاہت ہی سب کچھ نہیں ہے۔ کسی کی چاہت بھی پوری نہیں ہو سکتی جب تک اللہ نہ چاہے، اور اللہ کی چاہت اندھا دھند نہیں ہے، وہ جو کچھ بھی چاہتا ہے اپنے علم اور اپنی حکمت کی بنا پر چاہتا ہے۔ اس علم اور حکمت کی بنا پر جسے وہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھتا ہے اسے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور جسے وہ ظالم پاتا ہے اس کے لیے دردناک عذاب کا انتظام اس نے کر رکھا ہے۔

Ayah 76:1

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا Open ayah 76:1 in the Quran reader

کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟ 1

سورة الدَّهْر 1 پہلا فقرہ ہے ھل اتی علی الانسان۔ اکثر مفسرین و مترجمین نے یہاں ھل کو قد کے معنی میں لیا ہے۔ اور وہ اس کے معنی یہ لیتے ہیں کہ بیشک یا بلا شبہ انسان پر ایسا ایک وقت آیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ ھل عربی زبان میں " کیا " کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے، اور اس سے مقصود ہر حال میں سوال ہی نہیں ہوتا بلکہ مختلف مواقع پر یہ بظاہر سوالیہ لفظ مختلف معنوں میں بولا جاتا ہے۔ مثلاً کبھی تو ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فلاں واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں اور کسی سے پوچھتے ہیں " کیا یہ واقعہ پیش آیا ہے ؟ " کبھی ہمارا مقصود سوال کرنا نہیں ہوتا بلکہ کسی بات کا انکار کرنا ہوتا ہے اور یہ انکار ہم اس انداز میں کرتے ہیں کہ " کیا یہ کام کوئی اور بھی کرسکتا ہے ؟ " کبھی ہم ایک شخص سے کسی بات کا اقرار کرانا چاہتے ہیں اور اس غرض کے لیے اس سے پوچھتے ہیں کہ " کیا میں نے تمہاری رقم ادا کردی ہے ؟ " اور کبھی ہمارا مقصود محض اقرار ہی کرانا نہیں ہوتا بلکہ سوال ہم اس غرض کے لیے کرتے ہیں کہ مخاطب کے ذہن کو ایک اور بات سوچنے پر مجبور کردیں جو لازماً اس کے اقرار سے بطور نتیجہ پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً ہم کسی سے پوچھتے ہیں " کیا میں نے تمہارے ساتھ کوئی برائی کی ہے ؟ " اس سے مقصود صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ اس بات کا اقرار کرے کہ آپ نے اس کے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے، بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی مقصود ہوتا ہے کہ جس نے میرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی ہے اس کے ساتھ میں برائی کرنے میں کہاں تک حق بجانب ہوں۔ آیت زیر بحث میں سوالیہ فقرہ دراصل اسی آخری معنی میں ارشاد ہوا ہے۔ اس سے مقصود انسان سے صرف یہی اقرار کرانا نہیں ہے کہ فی الواقع اس پر ایک وقت ایسا گزرا ہے، بلکہ اسے یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہے کہ جس خدا نے اس کی تخلیق کا آغاز ایسی حقیر سی حالت سے کر کے اسے پورا انسان بنا کھڑا کیا وہ آخر اسے دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز ہوگا ؟ دوسرا فقرہ ہے حین من الدھر۔ دھر سے مراد وہ لامتناہی زمانہ ہے جس کی نہ ابتدا انسان کو معلوم ہے نہ انتہا، اور حین سے مراد وہ خاص وقت ہے جو اس لا متناہی زمانے کے اندر کبھی پیش آیا ہو۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس لا متناہی زمانے کے اندر ایک طویل مدت تو ایسی گزری ہے جب سرے سے نوع انسانی ہی موجود نہ تھی۔ پھر اس میں ایک وقت ایسا آیا جب انسان نام کی ایک نوع کا آغاز کیا گیا۔ اور اسی زمانے کے اندر ہر شخص پر ایک ایسا وقت آیا ہے جب اسے عدم سے وجود میں لانے کی ابتدا کی گئی۔ تیسرا فقرہ ہے لم یکن شیئا مذکوراً ، یعنی اس وقت وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ اس کا ایک حصہ باپ کے نطفے میں ایک خورد بینی کیڑے کی شکل میں اور دوسرا حصہ ماں کے نطفے میں ایک خورد بینی بیضے کی شکل میں موجود تھا۔ مدتہائے دراز تک تو انسان یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ دراصل وہ اس کیڑے اور بیضے کے ملنے سے وجود میں آتا ہے۔ اب طاقتور خورد بینوں سے ان دونوں کو دیکھ تو لیا گیا ہے لیکن اب بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتنا انسان باپ کے اس کیڑے میں اور کتنا ماں کے اس بیضے میں موجود ہوتا ہے۔ پھر استقرار حمل کے وقت ان دونوں کے ملنے سے جو ابتدائی خلیہ (Cell) وجود میں آتا ہے وہ ایک ایسا ذرہ بےمقدار ہوتا ہے کہ بہت طاقتور خورد بین ہی سے نظر آسکتا ہے کہ اس حقیر سی ابتداء سے نشوو نما پا کر کوئی انسان اگر بنے گا بھی تو وہ کس قد و قامت، کس شکل و صورت، کس قابلیت اور شخصیت کا انسان ہوگا۔ یہی مطلب ہے اس ارشاد کا کہ اس وقت وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا اگرچہ انسان ہونے کی حیثیت سے اس کے و جود کا آغاز ہوگیا تھا۔ سورة الدَّهْر 2 " ایک مخلوط نطفے " سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پیدائش مرد اور عورت کے دو الگ الگ نطفوں سے نہیں ہوئی بلکہ دونوں نطفے مل کر جب ایک ہوگئے تب اس مرکب نطفے سے انسان پیدا ہوا۔
Ayah 76:2

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 76:2 in the Quran reader

ہم نے انسان کو ایک مخلُوط نُطفے سے پیدا کیا 2 تاکہ اس کا امتحان لیں 3 اور اِس غرض کے لیے ہم نے اسے سُننے اور دیکھنے والا بنایا۔ 4

سورة الدَّهْر 3 یہ ہے دنیا میں انسان، اور انسان کے لیے دنیا کی اصل حیثیت۔ وہ درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد تخلیق یہیں پورا ہوجائے اور قانون فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کا کام کر کے وہ یہیں مر کر فنا ہوجائے۔ نیز یہ دنیا اس کے لیے نہ دار العذاب ہے، جیسا کہ راہب سمجھتے ہیں، نہ دار الجزا ہے جیسا کہ تناسخ کے قائلین سمجھتے ہیں، نہ چراگاہ اور تفرگاہ ہے، جیسا کہ مادہ پرست سمجھتے ہیں اور نہ رزم گاہ، جیسا کہ ڈارون اور مارکس کے پیرو سمجھتے ہیں، بلکہ دراصل یہ اس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔ وہ جس چیز کو عمر سمجھتا ہے حقیقت میں وہ امتحان کا وقت ہے جو اسے یہاں دیا گیا ہے۔ دنیا میں جو قوتیں اور صلاحتیں بھی اس کو دی گئی ہیں، جن چیزوں پر بھی اس کو تصرف کے مواقع دیے گئے ہیں، جن حیثیتوں میں بھی وہ یہاں کام کر رہا ہے اور جو تعلقات بھی اس کے اور دوسرے انسانوں کے درمیان ہیں، وہ سب اصل میں امتحان کے بیشمار پرچے ہیں، اور زندگی کے آخری سانس تک اس امتحان کا سلسلہ جاری ہے۔ نتیجہ اس کا دنیا میں نہیں نکلنا ہے بلکہ آخرت میں اس کے تمام پرچوں کو جانچ کر یہ فیصلہ ہونا ہے کہ وہ کامیاب ہوا ہے یا ناکام۔ اور اس کی کامیابی و ناکامی کا سارا انحصار اس پر ہے کہ اس نے اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہوئے یہاں کام کیا، اور کس طرح امتحان کے وہ پرچے کیے جو اسے یہاں دیے گئے تھے۔ اگر اس نے اپنے آپ کو بے خدایا بہت سے خداؤوں کا بندہ سمجھا، اور سارے پرچے یہ سمجھتے ہوئے کیے کہ آخرت میں اسے اپنے خالق کے سامنے کوئی جوابدہی نہیں کرنی ہے، تو اس کا سارا کارنامہ زندگی غلط ہوگیا اور اگر اس نے اپنے آپ کو خدائے واحد کا بندہ سمجھ کر اس طریقے پر کام کیا جو خدا کی مرضی کے مطابق ہو اور آخرت کی جوابدہی کو پیش نظر رکھا تو وہ امتحان میں کامیاب ہوگیا۔ (یہ مضمون قرآن مجید میں اس کثرت کے ساتھ اور اتنی تفصیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ان سب مقامات کا حوالہ دینا یہاں مشکل ہے۔ جو حضرات اسے پوری طرح سمجھنا چاہتے ہوں وہ تفہیم القرآن کی ہر جلد کے آخر میں فہرست موضوعات کے اندر لفظ " آزمائش " نکال کر وہ تمام مقامات دیکھ لیں جہاں قرآن میں مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ قرآن کے سوا دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں یہ حقیقت اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہو)۔ سورة الدَّهْر 4 اصل میں فرمایا گیا ہے " ہم نے اسے سمیع وبصیر بنایا "۔ اس کا مفہوم صحیح طور پر " ہوش گوش رکھنے والا بنایا " سے ادا ہوتا ہے، لیکن ہم نے ترجمے کی رعایت سے سمیع کے معنی " سننے والا " اور بصیر کے معنی " دیکھنے والا " کیے ہیں۔ اگرچہ عربی زبان کے ان الفاظ کا لفظی ترجمہ یہی ہے مگر ہر عربی دان جانتا ہے کہ حیوان کے لیے سمیع اور بصیر کے الفاظ کبھی استعمال نہیں ہوتے، حالانکہ وہ بھی سننے اور دیکھنے والا ہوتا ہے۔ پس سننے اور دیکھنے سے مراد یہاں سماعت اور بینائی کی وہ قوتیں نہیں ہیں جو حیوانات کو بھی دی گئی ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا اور پھر اس سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ علاوہ بریں سماعت اور بصارت انسان کے ذرائع علم میں چونکہ سب سے زیادہ اہم ہیں اس لیے اختصار کے طور پر صرف انہی کا ذکر کیا گیا ہے، ورنہ اصل مراد انسان کو وہ تمام حواس عطا کرنا ہے جن کے ذریعہ سے وہ معلومات حاصل کرتا ہے۔ پھر انسان کو جو حواس دیے گئے ہیں وہ اپنی نوعیت میں ان حواس سے بالکل مختلف ہیں جو حیوانات کو دیئے گئے ہیں کیونکہ اس کے ہر حاسہ کے پیچھے ایک سوچنے والا دماغ موجود ہوتا ہے جو حواس کے ذریعہ سے آنے والی معلومات کو جمع کر کے اور ان کو ترتیب دے کر ان سے نتائج نکالتا ہے، رائے قائم کرتا ہے اور پھر کچھ فیصلوں پر پہنچتا ہے جن پر اس کا رویہ زندگی مبنی ہوتا ہے۔ لہذا یہ کہنے کے بعد کہ انسان کو پیدا کر کے ہم اس کا امتحان لینا چاہتے تھے یہ ارشاد فرمانا کہ اسی غرض کے لیے ہم نے اسے سمیع وبصیر بنایا، دراصل یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم اور عقل کی طاقتیں دیں تاکہ وہ ا متحان دینے کے قابل ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ اگر مقصود کلام یہ نہ ہو اور سمیع وبصیر بنانے کا مطلب محض سماعت و بینائی کی قوتیں رکھنے والا ہی ہو تو ایک اندھا اور بہرا آدمی تو پھر امتحان سے مستثنیٰ ہوجاتا ہے حالانکہ جب تک کوئی علم و عقل سے بالکل محروم نہ ہو، امتحان سے اس کے مستثنیٰ ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
Ayahs 76:3–4

اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا Open ayah 76:3 in the Quran reader

ہم نے اُسے راستہ دکھایا ، خواہ شُکر کرنے والا بنے یا کُفر کرنے والا۔ 5

اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا Open ayah 76:4 in the Quran reader

کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے

سورة الدَّهْر 5 یعنی ہم نے اسے محض علم و عقل کی قوتیں دے کر ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ شکر کا راستہ کونسا ہے اور کفر کا راستہ کونسا، اور اس کے بعد جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کا ذمہ دار وہ خود ہو۔ سورة بلد میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وھدینہ النجدین۔ " اور ہم نے اسے دونوں راستے (یعنی خیر و شر کے راستے) نمایاں کر کے بتا دیے "۔ اور سورة شمس میں یہی بات اس طرح بیان کی گئی ہے و نفس و ما سوھا فالھمھا فجورھا و تقوھا، " اور قسم ہے (انسان کے) نفس کو اور اس ذات کی جس نے اسے (تمام ظاہری و باطنی قوتوں کے ساتھ) استوار کیا، پھر اس کا فجور اور اس کا تقوی دونوں اس پر الہام کردیے "۔ ان تمام تصریحات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے اور ساتھ ساتھ قرآن مجید کے ان تفصیلی بیانات کو بھی نگاہ میں رکھا جائے جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے دنیا میں کیا کیا انتظامات کیے ہیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس آیت میں " راستہ دکھانے " سے مراد رہنمائی کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے بلکہ بہت سی صورتیں ہیں جن کی کوئی حدو نہایت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر (1) ہر انسان کو علم و عقل کی صلاحیتیں دینے کے ساتھ ایک اخلاقی حس بھی دی گئی ہے جس کی بدولت وہ فطری طور پر بھلائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے بعض افعال اور اوصاف کو برا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان میں مبتلا ہو، اور بعض افعال و اوصاف کو اچھا جانتا ہے اگرچہ وہ خود ان سے اجتناب کر رہا ہو۔ حتی کہ جن لوگوں نے اپنی اغراض و خواہشات کی خاطر ایسے فلسفے گھڑ لیے ہیں جن کی بنا پر بہت سی برائیوں کو انہوں نے اپنے لیے حلال کرلیا ہے، ان کا حال بھی یہ ہے کہ و ہی برائیاں اگر کوئی دوسرا ان کے ساتھ کرے تو وہ اس پر چیخ اٹھتے ہیں اور اس وقت معلوم ہوجاتا ہے کہ اپنے جھوٹے فلسفوں کے باوجود حقیقت میں وہ ان کو برا ہی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح نیک اعمال و اوصاف کو خواہ کسی نے جہالت اور حماقت اور دقیانوسیت ہی قرار دے رکھا ہو، لیکن جب کسی انسان سے خود اس کی ذات کو کسی نیک سلوک کا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی فطرت اسے قابل قدر سمجھنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ (2) ہر انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے ضمیر (نفس لوامہ) نام کی ایک چیز رکھ دی ہے جو اسے ہر اس موقع پر ٹوکتی ہے جب وہ کوئی برائی کرنے والا ہو یا کر رہا ہو یا کرچکا ہو۔ اس ضمیر کو خواہ انسان کتنی ہی تھپکیاں دے کر سلائے، اور اس کو بےحس بنانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کرلے، لیکن وہ اسے بالکل فنا کردینے پر قادر نہیں ہے۔ وہ دنیا میں ڈھیٹ بن کر اپنے آپ کو قطعی بےضمیر ثابت کرسکتا ہے، وہ حجتیں بگھار کر دنیا کو دھوکا دینے کی بھی ہر کوشش کرسکتا ہے، وہ اپنے نفس کو بھی فریب دینے کے لیے اپنے افعال کے لیے بیشمار عذرات تراش سکتا ہے، مگر اس کے باوجود اللہ نے اس کی فطرت میں جو محاسب بٹھا رکھا ہے وہ اتنا جاندار ہے کہ کسی برے انسان سے یہ بات چھپی نہیں رہتی کہ وہ حقیقت میں کیا ہے۔ یہی بات ہے جو سورة قیامہ میں فرمائی گئی ہے کہ " انسان خود اپنے آپ کو خوب جانتا ہے خواہ وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے "۔ (آیت 15)۔ (3) انسان کے اپنے وجود میں اور اس کے گرد و پیش زمین سے لے کر آسمان تک ساری کائنات میں ہر طرف ایسی بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو خبر دے رہی ہیں کہ یہ سب کچھ کسی خدا کے بغیر نہیں ہو سکتا، نہ بہت سے خدا اس کارخانہ ہستی کے بنانے والے اور چلانے والے ہو سکتے ہیں۔ اس طرح آفاق اور انفس کی یہی نشانیاں قیامت اور آخرت پر بھی صریح دلالت کر رہی ہیں۔ انسان اگر ان سے آنکھیں بند کرلے، یا اپنی عقل سے کام لے کر ان پر غور نہ کرے، یا جن حقائق کی نشاندہی یہ کر رہی ہیں ان کو تسلیم کرنے سے جی چرائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے تو حقیقت کی خبر دینے والے نشانات اس کے سامنے رکھ دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ (4) انسان کی اپنی زندگی میں، اس کی ہم عصر دنیا میں، اور اس سے پہلے گزری ہوئی تاریخ کے تجربات میں بیشمار واقعات ایسے پیش آتے ہیں اور آتے رہے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک بالا تر حکومت اس پر اور ساری کائنات پر فرمانروائی کر رہی ہے، جس کے آگے وہ بالکل بےبس ہے، جس کی مشیت ہر چیز پر غالب ہے، اور جس کی مدد کا وہ محتاج ہے۔ یہ تجربات و مشاہدات صرف خارج ہی میں اس حقیقت کی خبر دینے والے نہیں ہیں، بلکہ انسان کی اپنی فطرت میں بھی اس بالاتر حکومت کے وجود کی شہادت موجود ہے جس کی بنا پر بڑے سے بڑا دہریہ بھی برا وقت آنے پر خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے، اور سخت سے سخت مشرک بھی سارے جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ایک خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ (5) انسان کی عقل اور اس کی فطرت قطعی طور پر حکم لگاتی ہے کہ جرم کی سزا اور عمدہ خدمات کا صلہ ملنا ضروری ہے۔ اسی بنا پر تو دنیا کے ہر معاشرے میں عدالت کا نظام کسی نہ کسی صورت میں قائم کیا جاتا ہے اور جن خدمات کو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے ان کا صلہ دینے کی بھی کوئی نہ کوئی شکل اختیار کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اخلاق اور قانون مکافات کے درمیان ایک ایسا لازمی تعلق ہے جس سے انکار کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اب اگر یہ مسلم ہے کہ اس دنیا میں بیشمار جرائم ایسے ہیں جن کی پوری سزا تو درکنار سرے سے کوئی سزا ہی نہیں دی جاسکتی، اور بیشمار خدمات بھی ایسی ہیں جن کا پورا صلہ تو کیا، کوئی صلہ بھی خدمت کرنے والے کو نہیں مل سکتا، تو آخرت کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، الا یہ کہ کوئی بیوقوف یہ فرض کرلے، یا کوئی ہٹ دھرم یہ رائے قائم کرنے پر اصرار کرے کہ انصاف کا تصور رکھنے والا انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوگیا ہے جو بجائے خود انصاف کے تصور سے خالی ہے۔ اور پھر اس سوال کا جواب اس کے ذمہ رہ جاتا ہے کہ ایسی دنیا میں پیدا ہونے والے انسان کے اندر یہ انصاف کا تصور آخر کہاں سے آگیا ؟ (6) ان تمام ذرائع رہنمائی کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کی صریح اور واضح رہنمائی کے لیے دنیا میں انبیاء بھیجے اور کتابیں نازل کیں جن میں صاف صاف بتادیا گیا کہ شکر کی راہ کون سی ہے اور کفر کی راہ کونسی اور ان دونوں راہوں پر چلنے کے نتائج کیا ہیں۔ انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی یہ تعلیمات، بیشمار محسوس اور غیر محفوس طریقوں سے اتنے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں پھیلی ہیں کہ کوئی انسانی آبادی بھی خدا کے تصور، آخرت کے تصور، نیکی اور بدی کے فرق، اور ان کے پیش کردہ اخلاقی اصولوں اور قانونی احکام سے ناواقف نہیں رہ گئی ہے، خواہ اسے یہ معلوم ہو یا نہ ہو کہ یہ علم اسے انبیاء اور کتابوں کی لائی ہوئی تعلیمات ہی سے حاصل ہوا ہے۔ آج جو لوگ انبیاء اور کتابوں کے منکر ہیں، یا ان سے بالکل بیخبر ہیں، وہ بھی ان بہت سی چیزوں کی پیروی کر رہے ہیں جو دراصل انہی کی تعلیمات سے چھن چھن کر ان تک پہنچی ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ ان چیزوں کا اصل ماخذ کونسا ہے۔
Ayah 76:5

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ Open ayah 76:5 in the Quran reader

نیک لوگ 6 (جنّت میں)شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آبِ کافور کی آمیزش ہوگی

سورة الدَّهْر 6 اصل میں لفظ ابرار استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی اطاعت کا حق ادا کیا ہو، اس کے عائد کیے ہوئے فرائض بجا لائے ہوں، اور اس کے منع کیے ہوئے افعال سے اجتناب کیا ہو۔
Ayah 76:6

عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا Open ayah 76:6 in the Quran reader

یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا 7 جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے 8 شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہُولت اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ 9

سورة الدَّهْر 7 یعنی وہ کافور ملا ہوا پانی نہ ہوگا بلکہ ایسا قدرتی چشمہ ہوگا جس کے پانی کی صفائی اور ٹھنڈک اور خوشبو کافور سے ملتی جلتی ہوگی۔ سورة الدَّهْر 8 عباد اللہ (اللہ کے بندے) یا عبادالرحمن (رحمن کے بندے) کے الفاظ اگرچہ لغوی طور پر تمام انسانوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، کیونکہ سب ہی خدا کے بندے ہیں، لیکن قرآن میں جہاں بھی یہ الفاظ آئے ہیں ان سے نیک بندے ہی مراد ہیں۔ گو یا کہ بد لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو بندگی سے خارج کر رکھا ہو، اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنے اسم گرامی کی طرف منسوب کرتے ہوئے عباد اللہ یا عبدالرحمن کے معزز خطاب سے نوازے۔ سورة الدَّهْر 9 یہ مطلب نہیں ہے کہ وہاں وہ کدال پھاوڑے لے کر نالیاں کھودیں گے اور اس طرح اس چشمے کا پانی جہاں لے جانا چاہیں گے لے جائیں گے، بلکہ ان کا ایک حکم اور اشارہ اس کے لیے کافی ہوگا کہ جنت میں جہاں وہ چاہیں اسی جگہ وہ چشمہ پھوٹ بہے۔ بسہولت نکال لینے کے الفاظ اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
Ayah 76:7

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا Open ayah 76:7 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہونگے جو (دُنیا میں)نذر پُوری کرتے ہیں، 10 اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی

سورة الدَّهْر 10 نذر پوری کرنے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی پر واجب کیا گیا ہو اسے وہ پورا کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے خود اپنے اوپر واجب کرلیا ہو، یا بالفاظ دیگر جس کام کے کرنے کا اس نے عہد کیا ہو، اسے وہ پورا کرے۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی پر واجب ہو، ، خواہ وہ اس پر واجب کیا گیا ہو یا اس نے خود اپنے اوپر واجب کرلیا ہو، اسے وہ پورا کرے۔ ان تینوں مفہومات میں سے زیادہ معروف مفہوم دوسرا ہے اور عام طور پر لفظ نذر سے وہی مراد لیا جاتا ہے۔ بہرحال یہاں ان لوگوں کی تعریف یا تو اس لحاظ سے کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ واجبات کو پورا کرتے ہیں، یا اس لحاظ سے کی گئی ہے کہ وہ ایسے نیک لوگ ہیں کہ جو خیر اور بھلائی کے کام اللہ نے ان پر واجب نہیں کیے ہیں ان کو بھی انجام دینے کا جب وہ اللہ سے عہد کرلیتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں، کجا کہ ان واجبات کو ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی کریں جو اللہ نے ان پر عائد فرمائے ہیں۔ جہاں تک نذر کے احکام کا تعلق ہے، ان کو مختصر طور پر ہم تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 310 میں بیان کرچکے ہیں، لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے یہاں ان کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کردیا جائے تاکہ لوگ نذر کے معاملہ میں جو غلطیاں کرتے ہیں یا جو غلط فہمیاں لوگوں میں پائی جاتی ہیں ان سے بچ سکیں اور نذر کے صحیح قواعد سے واقف ہوجائیں۔ (1) فقہاء نے نذر کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک آدمی اللہ سے یہ عہد کرے کہ وہ اس کی رضا کی خاطر فلاں نیک کام کرے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ اس بات کی نذر مانے کہ اگر اللہ نے میری فلاں حاجت پوری کردی تو میں شکرانے میں فلاں نیک کام کروں گا۔ ان دونوں قسم کی نذروں کو فقہاء کی اصطلاح میں نذر تبرر (نیکی کی نذر) کہتے ہیں اور اس پر اتفاق ہے کہ اسے پورا کرنا واجب ہے۔ تیسرے یہ کہ آدمی کوئی ناجائز کام کرنے یا کوئی واجب کام نہ کرنے کا عہد کرلے۔ چوتھے یہ کہ آدمی کوئی مباح کام کرنے کو اپنے اوپر لازم کرلے، یا کوئی مستحب کام نہ کرنے کا کوئی خلاف اولی کام کرنے کا عہد کرلے۔ ان دونوں قسموں کی نذروں کو فقہاء کی اصطلاح میں نذر لجاج (جہالت اور جھگڑالو پن اور ضد کی نذر) کہتے ہیں۔ ان میں سے تیسری قسم کی نذر کے متعلق اتفاق ہے کہ وہ منعقد ہی نہیں ہوتی۔ اور چوتھی قسم کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے پورا کرنا چاہیے۔ بعض کہتے ہیں کہ قسم توڑنے کا کفارہ ادا کردینا چاہیے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ آدمی کو اختیار ہے، خواہ نذر پوری کر دے، یا کفارہ ادا کر دے۔ شافعیوں اور مالکیوں کے نزدیک یہ نذر بھی سرے سے منعقد نہیں ہوتی۔ اور حنفیوں کے نزدیک دونوں قسموں کی نذروں پر کفارہ لازم آتا ہے۔ (عمدۃ القاری)۔ (2) متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے ایسی نذر ماننے سے منع فرمایا ہے جو یہ سمجھتے ہوئے مانی جائے کہ اس سے تقدیر بدل جائے گی، یا جس میں کوئی نیک کام اللہ کی رضا کے لیے بطور شکر کرنے کے بجائے آدمی اللہ تعالیٰ کو بطور معاوضہ یہ پیشکش کرے کہ آپ میرا یہ کام کردیں تو میں آپ کے لیے فلاں نیک کام کر دوں گا۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ اخذ رسول اللہ ﷺ ینھی عن النذر و یقول انہ لا یرد شیئاً وانما یستخرج بہ من البخیل۔ " رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ نذر ماننے سے منع کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ وہ کسی ہونے والی چیز کو پھیر نہیں سکتی، البتہ اس کے ذریعہ سے کچھ مال بخیل سے نکلوا لیا جاتا ہے "۔ (مسلم۔ ابو داؤد)۔ حدیث کے آخری فقرے کا مطلب یہ ہے کہ بخیل یوں تو راہ خدا میں مال نکالنے والا نہ تھا، نذر کے ذریعہ سے اس لالچ میں وہ کچھ خیرات کردیتا ہے کہ شاہد یہ معاوضہ قبول کر کے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تقدیر بدل دے۔ دوسری روایت حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا النذر لا یقدم شیئاً ولا یوخرہ وانما یستخرج بہ من البخیل۔ " نذر نہ کوئی کام پہلے کرا سکتی ہے، نہ کسی ہوتے کام میں تاخیر کرا سکتی ہے۔ البتہ اس کے ذریعہ سے کچھ مال بخیل کے ہاتھ سے نکلوا لیا جاتا ہے " (بخاری و مسلم)۔ ایک اور روایت میں وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا انہ لا یاتی بخیر وانما یستخرج بہ من البخیل۔ " اس سے کوئی کام بنتا نہیں ہے البتہ اس کے ذریعے سے کچھ مال بخیل سے نکلوا لیا جاتا ہے " (بخاری و مسلم)۔ تقریباً اسی مضمون کی متعدد روایات مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے نقل کی ہیں، اور ایک روایت بخاری و مسلم دونوں نے نقل کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ان النذر لا یقرب من ابن ادم شیئا لم یکن اللہ قدرہ لہ ولکن النذر یوافق القدر فیخرج بذالک من البخیل ما لم یکن البخیل یرید ان یخرج۔ " درحقیقت نذر ابن آدم کو کوئی ایسی چیز نہیں دلوا سکتی جو اللہ نے اس کے لیے مقدر نہ فرمائی ہو، لیکن نذر ہوتی تقدیر کے مطابق ہی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تقدیر الہی وہ چیز بخیل کے پاس سے نکال لاتی ہے جسے وہ کسی اور طرح نکالنے والا نہ تھا "۔ اسی مضمون پر مزید روشنی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی اس روایت سے پڑتی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا انما النذر ما ابتغی بہ وجہ اللہ۔ " اصل نذر تو وہ ہے جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو "۔ (طحاوی)۔ (3) نذر کے معاملہ میں ایک اور قاعدہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ صرف وہ نذر پوری کرنی چاہیے جو اللہ کی اطاعت میں ہو۔ اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر ہرگز پوری نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح ایسی چیز میں کوئی نذر نہیں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو، یا ایسے کام میں کوئی نذر نہیں ہے جو انسان کے بس میں نہ ہو۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا من نذر ان یطیع اللہ فلیطعہ و من نذر ان یعص اللہ فلا یعصہ۔ " جس نے یہ نذر مانی ہو کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اس کی اطاعت کرنی چاہیے، اور جس نے یہ نذر مانی ہو کہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہیے " (بخاری، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، طحاوی)۔ ثابت بن ضحاک کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیھا لا یملک ابن ادم۔ " اللہ کی نافرمانی میں کسی نذر کے پورا کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، نہ کسی ایسی چیز میں جو آدمی کی ملکیت میں نہ ہو "۔ (ابو داؤد)۔ مسلم نے اسی مضمون کی روایت حضرت عمران بن حصین سے نقل کی ہے۔ اور ابو داؤد میں حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص کی روایت اس سے زیادہ مفصل ہے جس میں وہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ لا نذر ولا یمین فی ما لا یملک ابن ادم، ولا فی معصیۃ اللہ، ولا فی قطیعۃ رحم۔ " کوئی نذر اور کوئی قسم کسی ایسے کام میں نہیں ہے جو آدمی کے بس میں نہ ہو، یا اللہ کی نافرمانی میں ہو، یا قطع رحمی کے لیے ہو "۔ (4) جس کام میں بجائے خود کوئی نیکی نہیں ہے اور آدمی نے خواہ مخواہ کسی فضول کام، ناقابل برداشت مشقت یا محض تعذیب نفس کو نیکی سمجھ کر اپنے اوپر لازم کرلیا ہو اس کی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے۔ اس معاملہ میں نبی ﷺ کے ارشادات بالکل واضح ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک صاحب دھوپ میں کھڑے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے اور کیسے کھڑے ہیں ؟ عرض کیا گیا یہ ابو اسرائیل ہیں، انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے رہیں، بیٹھیں گے نہیں، نہ سایہ کریں گے، نہ کسی سے بات کریں، اور روزہ رکھیں گے۔ اس پر آپ نے فرمایا مروہ فلیکلم ولیستظل ولیقعد، ولیتم صومہ۔ " ان سے کہو بات کریں، سایہ میں آئیں، البتہ روزہ پورا کریں "۔ (بخاری، ابو داؤد، ابن ماجہ، موطا) حضرت عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ میری بہن نے ننگے پاؤں پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور یہ نذر بھی مانی کہ اس سفر میں سر پر کپڑا بھی نہ ڈالیں گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسے کہو کہ سواری پر جائے اور سر ڈھانکے (ابو داؤد۔ مسلم نے اس مضمون کی متعدد روایات نقل کی ہیں جن میں کچھ لفظی اختلاف ہے)۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے عقبہ بن عامر کی بہن کا یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے حضور ﷺ کے جو الفاظ نقل کیے ہیں وہ یہ ہیں ان اللہ لغنی عن نذرھا، مرھا فلترکب۔ " اللہ کو اس کی اس نذر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے کہو کہ سواری پر جائے " (ابو داؤد)۔ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا، میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے حضور ﷺ نے فرمایا ان اللہ لا یصنع بشقاء اختک شیئا فلتحج راکبۃ۔ " تیری بہن کے مشقت میں پڑنے کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں پڑی ہے۔ اسے سواری پر حج کرنا چاہیے "۔ (ابو داؤد)۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے (غالباً سفر حج) میں دیکھا کہ ایک بڑے میاں کو ان کے دو بیٹے سنبھالے لیے چل رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا گیا کہ انہوں نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا ان اللہ لغنی عن تعذیب ھذا نفسہ، و امرہ ان یرکب۔ " اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کہ یہ شخص اپنے نفس کو عذاب میں ڈالے "۔ پھر آپ نے اسے حکم دیا کہ سوا ہو۔ (بخاری، مسلم، ابو داؤد۔ مسلم میں اسی مضمون کی حدیث حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے)۔ (5) اگر کسی نذر کو پورا کرنا عملاً ممکن نہ ہو تو اسے کسی دوسری صورت میں پورا کیا جاسکتا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز ایک شخص نے اٹھ کر عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ ، میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مکہ آپ کے ہاتھ پر فتح کردیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت نماز پڑھوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہیں پڑھ لے۔ اس نے پھر پوچھا۔ آپ نے پھر وہی جواب دیا۔ اس نے پھر پوچھا۔ آپ نے فرمایا شانک اذاً ، " اچھا تو تیری مرضی " دوسری ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا والذی بعث محمد بالحق، لو صلیت ھھنا لا جزا عنک صلوۃ فی بیت المقدس۔ " قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر تو یہیں نماز پڑھ لے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے بدلے یہ تیرے لیے کافی ہوگی "۔ (ابوداؤد)۔ (6) اگر کسی نے اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی نذر مان لی ہو تو اس کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے کہ اسے ایک تہائی مال دے دینا چاہیے، اور مالکیہ میں سے سحنون کا قول ہے کہ اسے اتنا مال دے دینا چاہیے جسے دینے کے بعد تکلیف میں نہ پڑجائے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر یہ نذر تبرر کی نوعیت کی ہو تو ا سے سارا مال دے دینا چاہیے، اور اگر یہ نذر لحاج ہو تو اسے اختیار ہے کہ نذر پوری کرے یا قسم کا کفارہ ادا کرے۔ امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ اسے اپنا وہ سب مال دے دینا چاہیے جس میں زکوٰۃ عائد ہوتی ہو، لیکن جس مال میں زکوٰۃ نہیں ہے مثلاً مکان یا ایسی ہی دوسری املاک، اس پر اس نذر کا اطلاق نہ ہوگا۔ حنفیہ میں سے امام زفر کا قول ہے کہ اپنے اہل و عیال کے لیے دو مہینے کا نفقہ رکھ کر باقی سب صدقہ کر دے۔ (عمدۃ القاری۔ شرح مؤطاء از شاہ ولی اللہ صاحب)۔ حدیث میں اس مسئلے کے متعلق جو روایات آئی ہیں وہ یہ ہیں حضرت کعب بن مالک کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے کی وجہ سے جو عتاب مجھ پر ہوا تھا اس کی جب معافی مل گئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میری توبہ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ میں اپنے سارے مال سے دست بردار ہو کر اسے اللہ اور رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں ایسا نہ کرو۔ میں نے عرض کیا، پھر آدھا مال ؟ فرمایا، نہیں۔ میں نے عرض کیا، پھر ایک تہائی ؟ فرمایا ہاں (ابو داؤود)۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا تم اپنا کچھ مال اپنے لیے روک رکھو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے (بخاری۔ امام زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت ابو لبابہ نے (جن پر اسی غزوہ تبوک کے معاملہ میں عتاب ہوا تھا، حضور نے عرض کیا، میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کے طور پر اپنے سارے مال سے دست بردار ہوتا ہوں۔ حضور نے جواب دیا تمہارے لیے اس میں سے صرف ایک تہائی دے دینا کافی ہے (مؤطا)۔ (7) اسلام قبول کرنے سے پہلے اگر کسی شخص نے کسی نیک کام کی نذر مانی ہو تو کیا اسلام قبول کرنے کے بعد اسے پورا کیا جائے ؟ نبی ﷺ کا فتویٰ اس بارے میں یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ بخاری، ابو داؤد اور طحاوی میں حضرت عمر کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات (اور بروایت بعض ایک دن) مسجد حرام میں اعتکاف کریں گے۔ اسلام لانے کے بعد انہوں نے حضور سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا اوف بنذرک " اپنی نذری پوری کرو "۔ بعض فقہاء نے حضور کے اس ارشاد کا یہ مطلب لیا ہے کہ ایسا کرنا واجب ہے، اور بعض نے یہ مطلب لیا ہے کہ یہ مستحب ہے۔ (8) میت کے ذمہ اگر کوئی نذر رہ گئی ہو تو اسے پورا کرنا وارثوں پر واجب ہے یا نہیں ؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام احمد، اسحاق بن راہویہ، ابو ثور اور ظاہریہ کہتے ہیں کہ میت کے ذمہ اگر روزے یا نماز کی نذر رہ گئی ہو تو وارثوں پر اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ نذر اگر بدنی عبادت (نماز یا روزہ) کی ہو تو وارثوں پر اس کا پورا کرنا و اجب نہیں ہے، اور اگر مالی عبادت کی ہو اور مرنے والے نے اپنے وارثوں کو اسے پورا کرنے کی وصیت نہ کی ہو تو اسے پورا کرنا واجب نہیں، البتہ اگر اس نے وصیت کی ہو تو اس کے ترکے میں سے ایک تہائی کی حد تک نذر پوری کرنی واجب ہوگی۔ مالکیہ کا مذہب بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ نذر اگر غیر مالی عبادت کی ہو، یا مالی عبادت کی ہو اور میت نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا ہو، تو اسے پورا کرنا وارثوں پر واجب نہیں ہے۔ اور اگر میت نے ترکہ چھوڑا ہو تو وارثوں پر مالی عبادت کی نذر پوری کرنا واجب ہے، خواہ اس نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو (شرح مسلم للنوی۔ بذل المجہود شرح ابی داؤد)۔ حدیث میں اس مسئلے کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تھی۔ حضور نے فرمایا تم اس کی طرف سے پوری کردو (ابو داؤد۔ مسلم)۔ دوسری روایت ابن عباس سے یہ ہے کہ ایک عورت نے بحری سفر کیا اور نذر مانی کہ اگر میں زندہ سلامت واپس گھر پہنچ گئی تو ایک مہینے کے روزے رکھوں گی۔ واپس آنے کے بعد اس کا انتقال ہوگیا اور وہ مر گئی۔ اس کی بہن یا بیٹی نے آ کر رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا اور آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف سے تو روزے رکھ لے (ابو داؤد)۔ ایسی ہی ایک روایت ابوداؤد نے حضرت بریدہ سے نقل کی ہے کہ ایک عورت نے حضور سے اسی طرح کا مسئلہ پوچھا اور آپ نے اسے وہی جواب دیا جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ ان روایات میں چونکہ یہ بات صاف نہیں ہے کہ حضور کے یہ ارشادات وجوب کے معنی میں تھے یا استجاب کے معنی ہیں، اور حضرت سعد بن عبادہ کی والدہ کی نذر کے معاملہ میں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ مالی عبادت کے بارے میں تھی یا بدنی عبادت کے بارے میں، اسی بنا پر فقہاء کے درمیان اس مسئلے میں اختلافات ہوئے ہیں۔ (9) غلط اور نائز نوعیت کی نذر کے معاملہ میں یہ بات تو صاف ہے کہ اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ اس پر کفارہ لازم آتا ہے یا نہیں۔ اس مسئلے میں چونکہ روایات مختلف ہیں اس لیے فقہاء کے مسالک بھی مختلف ہیں۔ ایک قسم کی روایات میں یہ آیا ہے کہ حضور نے ایسی صورت میں کفارہ کا حکم دیا ہے۔ مثلاً ، حضرت عائشہ کی یہ روایت کہ حضور نے فرمایا لا نذر فی معصیۃ و کفارتہ کفارۃ یمین، " معصیت میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے " (ابوداؤد)۔ عقبہ بن عامر جہنی کی بہن کے معاملہ میں (جس کا ذکر اوپر نمبر 4) میں گزر چکا ہے) نبی ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اپنی نذر توڑ دیں اور تین دن کے روزے رکھیں (مسلم۔ ابو داؤد)۔ ایک اور عورت کے معاملہ میں بھی جس نے پیدل حج کی نذر مانی تھی، حضور نے حکم دیا کہ وہ سواری پر حج کے لیے جائے اور قسم کا کفارہ ادا کر دے (ابوداؤد)۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا من نذر نذراً لم یسمہ فکفارتہ کفارۃ یمین، و من نذر نذراً فی معصیۃ فکفارتہ کفارۃ یمین، و من نذر نذراً لا یطیقہ فکفارتہ کفارۃ یمین، و من نذ نذراً اطاقہ فلیف بہ۔ " جس نے ایک نذر مان لی اور اس بات کا تعین نہ کیا کہ کس بات کی نذر مانی ہے وہ قسم کا کفارہ دے۔ اور جس نے معصیت کی نذر مانی وہ قسم کا کفارہ دے۔ اور جس نے ایسی نذر مانی جسے پورا کرنے کی وہ قدرت نہ رکھتا ہو وہ قسم کا کفارہ دے۔ اور جس نے ایسی نذر مانی جسے وہ پورا کرسکتا ہو وہ اسے پورا کرے " (ابوداؤد)۔ دوسری طرف وہ احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں کفارہ نہیں ہے۔ اوپر نمبر 4 میں جن صاحب کا ذکر آیا ہے کہ انہوں نے دھوپ میں کھڑے رہنے اور کسی سے بات نہ کرنے کی نذر مانی تھی، ان کا قصہ نقل کر کے امام مالک نے مؤطا میں لکھا ہے کہ مجھے کسی ذریعہ سے بھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ حضور نے ان کو نذر توڑنے کا حکم دینے کے ساتھ یہ بھی حکم دیا ہو کہ وہ کفارہ ادا کریں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من حلف علی یمین فراٰی غیرھا خیراً منھا فلیدعھا ولیات الذی ھو خیر فان ترکھا کفار تھا، " جس نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں وہ دیکھے کہ اس سے بہتر بات دوسری ہے تو وہ اسے چھوڑ دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہو اور اسے چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ") ابوداؤد)۔ بیہقی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اور حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت کہ " جو کام بہتر ہے وہ کرے اور یہی اس کا کفارہ ہے "۔ ثابت نہیں ہے)۔ امام نووی ان احادیث پر بحث کرتے ہوئے شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ امام مالک، شافعی ابوحنیفہ، داؤد ظاہری اور جمہور علماء رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ معصیت کی نذر باطل ہے اور اسے پورا نہ کرنے پر کفارہ لازم نہیں آتا۔ اور امام احمد کہتے ہیں کہ کفارہ لازم آتا ہے۔
Ayah 76:8

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا Open ayah 76:8 in the Quran reader

اور اللہ کی محبت 11 میں مسکین اور یتیم اور قیدی 12 کو کھانا کھلاتے ہیں 13

سورة الدَّهْر 11 اصل الفاظ ہیں علی حبہ۔ اکثر مفسرین نے حبہ کی ضمیر کا مرجع کھانے کو قرار دیا ہے، اور وہ اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ کھانے کے محبوب اور دل پسند ہونے اور خود اس کے حاجت مند ہونے کے باوجود دوسروں کو کھلا دیتے ہیں۔ ابن عباس اور مجاہد کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے علی حب الاطعام، یعنی غریبوں کو کھانا کھلانے کے شوق میں وہ ایسا کرتے ہیں۔ اور حضرت فضیل بن عیاض اور ابو سلیمان الدارانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں وہ یہ کام کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ہمارے نزدیک بعد کا یہ فقرہ کہ انما نطعمکم لوجہ اللہ (ہم تو اللہ کی خوشنودی کی خاطر تمہیں کھلا رہے ہیں) اسی معنی کی تائید کرتا ہے۔ سورة الدَّهْر 12 قدیم زمانے میں دستور یہ تھا کہ قیدیوں کو ہتھکڑی اور بیڑیاں لگا کر روزانہ باہر نکالا جاتا تھا اور وہ سڑکوں پر یا محلوں میں بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے تھے۔ بعد میں اسلامی حکومت نے یہ طریقہ بند کیا (کتاب الخراج، امام ابو یوسف، صفحہ 150۔ طبع 1382 ھ اس آیت میں قیدی سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قید میں ہو، خواہ کافر ہو یا مسلمان، خواہ جنگی قیدی ہو، یا کسی جرم میں قید کیا گیا ہو، خواہ اسے قید کی حالت میں کھانا دیا جاتا ہو یا بھیک منگوائی جاتی ہو، ہر حالت میں ایک بےبس آدمی کو جو اپنی روزی کے لیے خود کوئی کوشش نہ کرسکتا ہو، کھانا کھلانا ایک بڑی نیکی کا کام ہے۔ سورة الدَّهْر 13 اگرچہ بجائے خود کسی غریب کو کھانا کھلانا بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے، لیکن کسی حاجت مند کی دوسری حاجتیں پوری کرنا بھی ویسا ہی نیک کام ہے جیسا بھوکے کو کھانا کھلانا۔ مثلاً کوئی کپڑے کا محتاج ہے، یا کوئی بیمار ہے اور علاج کا محتاج ہے، یا کوئی قرضدار ہے اور قرض خواہ اسے پریشان کر رہا ہے، تو اس کی مدد کرنا کھانا کھلانے سے کم درجے کی نیکی نہیں ہے۔ اس لیے اس آیت میں نیکی کی ایک خاص صورت کو اس کی اہمیت کے لحاظ سے بطور مثال پیش کیا گیا ہے، ورنہ اصل مقصود حاجت مندوں کی مدد کرنا ہے۔
Ayahs 76:9–10

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا Open ayah 76:9 in the Quran reader

(اور اُن سے کہتے ہیں کہ)ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کِھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، 14

اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا Open ayah 76:10 in the Quran reader

ہمیں تو اپنے رب سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا

سورة الدَّهْر 14 ضروری نہیں ہے کہ غریب کو کھانا کھلاتے ہوئے زبان ہی سے یہ بات کہی جائے۔ دل میں بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کی بھی وہی حیثیت ہے جو زبان سے کہنے کی ہے۔ لیکن زبان سے یہ بات کہنے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ جس کی مدد کی جائے اس کو یہ اطمینان دلا دیا جائے کہ ہم اس سے کسی قسم کا شکریہ یا بدلہ نہیں چاہتے، تاکہ وہ بےفکر ہو کر کھائے۔
Ayah 76:11

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ Open ayah 76:11 in the Quran reader

پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سُرور بخشے گا 15

سورة الدَّهْر 15 یعنی چہروں کی تازگی اور دل کا سرور۔ دوسرے الفاظ میں روز قیامت کی ساری سختیاں اور ہولناکیاں صرف کفار و مجرمین کے لیے ہوں گی، نیک لوگ اس دن ہر تکلیف سے محفوظ اور نہایت خوش و خرم ہوں گے۔ یہی بات سورة انبیاء میں بیان کی گئی ہے کہ " وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا " (آیت 103) اور اسی کی صراحت سورة نمل میں کی گئی ہے کہ " جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے "۔ (آیت 89)۔
Ayahs 76:12–14

وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ Open ayah 76:12 in the Quran reader

اور اُن کے صبر کے بدلے میں 16 اُنہیں جنّت اور ریشمی لباس عطا کرے گا

مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ Open ayah 76:13 in the Quran reader

وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہونگے نہ اُنہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹھر

وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا Open ayah 76:14 in the Quran reader

جنت کی چھاؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کر رہی ہوگی، اور اُس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑ لیں)

سورة الدَّهْر 16 یہاں صبر بڑے وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے، بلکہ در حقیقت صالح اہل ایمان کی پوری دنیوی زندگی ہی کو صبر کی زندگی قرار دیا گیا ہے۔ ہوش سنبھالنے یا ایمان لانے کے بعد سے مرتے دم تک کسی شخص کا اپنی ناجائز خواہشوں کو دبانا، اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی پابندی کرنا، اللہ کے عائد کیے ہوئے فرائض کو بجا لانا، اللہ کی خوشنودی کے لیے اپنا وقت، اپنا مال، اپنی محنتیں، اپنی قوتیں اور قابلتیں، حتی کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک قربان کردینا، ہر اس لالچ اور ترغیب کو ٹھکرا دینا جو اللہ کی راہ سے ہٹانے کے لیے سامنے آئے، ہر اس خطرے اور تکلیف کو برداشت کرلینا جو راہ راست پر چلنے میں پیش آئے، ہر اس فائدے اور لذت سے دست بردار ہوجانا جو حرام طریقوں سے حاصل ہو، ہر اس نقصان اور رنج اور اذیت کو انگیز کر جانا جو حق پرستی کی وجہ سے پہنچے، اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے کرنا کہ اس نیک رویے کے ثمرات اس دنیا میں نہیں بلکہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ملیں گے، ایک ایسا طرز عمل ہے جو مومن کی پوری زندگی کو صبر کی زندگی بنا دیتا ہے۔ یہ ہر وقت کا صبر ہے، دائمی صبر ہے۔ ہمہ گیر صبر ہے اور عمر بھر کا صبر ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ حاشیہ 60۔ آل عمرا، حواشی 13، 107، 131۔ الانعام، حاشیہ 23۔ جلد دوم، الانفال، حواشی 37، 47، یونس، حاشیہ 9۔ ہود، حاشیہ 11۔ الرعد، حاشیہ 39۔ النحل، حاشیہ 98۔ جلد سوم، مریم، حاشیہ 40۔ الفرقان، حاشیہ 94۔ القصص، حواشی 75، 100، العنکبوت، 97۔ جلد چہارم، لقمان، حواشی 29، 56۔ السجدہ، حاشیہ 37۔ الاحزاب، حاشیہ 58۔ الزمر، حاشیہ 32۔ حم السجدہ، حاشیہ 38۔ الشوری، حاشیہ 53)۔
Ayah 76:15

وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ Open ayah 76:15 in the Quran reader

اُن کے آگے چاندی کے برتن 17 اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے

سورة الدَّهْر 17 سورة زخرف آیت 71 میں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے آگے سونے کے برتن گردش کرائے جا رہے ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی وہاں سونے کے برتن استعمال ہوں گے اور کبھی چاندی گے۔
Ayahs 76:16–17

قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا Open ayah 76:16 in the Quran reader

شیشے بھی وہ جو چاندی کی قِسم کے ہونگے، 18 اور ان کو(منتظمینِ جنّت نے)ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔ 19

وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ Open ayah 76:17 in the Quran reader

ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

سورة الدَّهْر 18 یعنی وہ ہوگی تو چاندی کی مگر شیشے کی طرف شفاف ہوگی۔ چاندی کی یہ قسم اس دنیا میں نہیں پائی جاتی۔ یہ صرف جنت کی خصوصیت ہوگی کہ وہاں شیشے جیسی شفاف چاندی کے برتن اہل جنت کے دسترخوان پر پیش کیے جائیں گے۔ سورة الدَّهْر 19 یعنی ہر شخص کے لیے اس کی خواہش کے ٹھیک اندازے کے مطابق ساغر بھر بھر کردیے جائیں گے۔ نہ وہ اس کی خواہش سے کم ہوں گے نہ زیادہ۔ بالفاظ دیگر اہل جنت کے خدام اس قدر ہوشیار اور تمیزدار ہوں گے کہ وہ جس کی خدمت میں جام شراب پیش کریں گے اس کے متعلق ان کو پورا اندازہ ہوگا کہ وہ کتنی شراب پینا چاہتا ہے۔ (جنت کی شراب کی خصوصیات کے متعلق ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الصافات، آیات 45 تا 47، حواشی 24 تا 27۔ جلد پنجم، سورة محمد، آیت 15، حاشیہ 22۔ الطور، آیت 23، حاشیہ 18۔ الواقعہ، آیت 19، حاشیہ 10)۔
Ayah 76:18

عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا Open ayah 76:18 in the Quran reader

یہ جنّت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ 20

سورة الدَّهْر 20 اہل عرب چونکہ شراب کے ساتھ سونٹھ ملے ہوئے پانی کی آمیزش کو پسند کرتے تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں ان کو وہ شراب پلائی جائے گی جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔ لیکن اس کی آمیزش کی صورت یہ نہ ہوگی کہ اس کے اندر سونٹھ ملا کر پانی ڈالا جائے گا، بلکہ یہ ایک قدرتی چشمہ ہوگا جس میں سونٹھ کی خوشبو تو ہوگی مگر اس کی تلخی نہ ہوگی، اس لیے اس کا نام سلسبیل ہوگا۔ سلسبیل سے مراد ایسا پانی ہے جو میٹھا، ہلکا اور خوش ذائقہ ہونے کی بنا پر حلق سے بسہولت گزر جائے۔ مفسرین کی اکثریت کا خیال یہ ہے کہ یہاں سلسبیل کا لفظ اس چشمے کے لیے بطور صفت استعمال ہوا ہے نہ کہ بطور اسم۔
Ayah 76:19

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا Open ayah 76:19 in the Quran reader

ان کے خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ 21

سورة الدَّهْر 21 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الصفت، حاشیہ 26۔ جلد پنجم الطور، حاشیہ 19، الواقعہ حاشیہ 9۔)
Ayah 76:20

وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا Open ayah 76:20 in the Quran reader

وہاں جِدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا۔ 22

سورة الدَّهْر 22 یعنی دنیا میں خواہ کوئی شخص فقیر بےنواہی کیوں نہ رہا ہو، جب وہ اپنے اعمال خیر کی بنا پر جنت میں جائے گا تو وہاں اس شان سے رہے گا کہ گویا وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا مالک ہے۔
Ayah 76:21

عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا Open ayah 76:21 in the Quran reader

اُن کے اوپر باریک ریشم کےسبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے،23 ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، 24 اور ان کا ربّ ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ 25

سورة الدَّهْر 23 یہی مضمون سورة کہف آیت 31 میں گزر چکا ہے کہ ویلبسون ثیابا خضرا من سندس و استبرق متکئین فیھا علی الارائک۔ " وہ (اہل جنت) باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے "۔ اس بنا پر ان مفسرین کی رائے صحیح نہیں معلوم ہوتی جنہوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سے مراد وہ کپڑے ہیں جو ان کی مسندوں یا مسہریوں کے اوپر لٹکے ہوئے ہوں گے، یا یہ ان لڑکوں کا لباس ہوگا جو ان کی خدمت میں دوڑے پھر رہے ہوں گے۔ سورة الدَّهْر 24 سورة کہف آیت 31 میں فرمایا گیا ہے یحلون فیھا من اساور من ذھب " وہ وہاں سونے کے گنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے "۔ یہی مضمون سورة حج آیت 23، اور سورة فاطر آیت 33 میں بھی ارشاد ہوا ہے۔ ان سب آیتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو تین صورتیں ممکن محسوس ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ کبھی وہ چاہیں گے تو سونے کے کنگن پہنیں گے اور کبھی چاہیں گے تو چاندی کے کنگن پہن لیں گے۔ دونوں چیزیں ان کے حسب خواہش موجود ہوں گی۔ دوسرے یہ کہ سونے اور چاندی کے کنگن وہ بیک وقت پہنیں گے، کیونکہ دونوں کو ملا دینے سے حسن دو بالا ہوجاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ جس کا جی چاہیے گا سونے کے کنگن پہنے گا اور جو چاہے گا چاندی کے کنگن استعمال کرے گا۔ رہا یہ سوال کہ زیور تو عورتیں پہنتی ہیں، مردوں کو زیور پہنانے کا کیا موقع ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں بادشاہوں اور رئیسوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہاتھوں اور گلے اور سر کے تاجوں میں طرح طرح کے زیورات استعمال کرتے تھے، بلکہ ہمارے زمانے میں برطانوی ہند کے راجاؤں اور نوابوں تک میں یہ دستور رائج رہا ہے۔ سورة زخرف میں بیان ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ جب اپنے سادہ لباس میں بس ایک لاٹھی لیے ہوئے فرعون کے دربار میں پہنچے اور اس سے کہا کہ میں اللہ رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں تو اس نے اپنے درباریوں سے کہا کہ یہ اچھا سفیر ہے جو اس حالت میں میرے سامنے آیا ہے، فلو لا القی علیہ اسورۃ من ذھب اوجاء معہ الملئکۃ مقترنین۔ (آیت 53)۔ یعنی اگر یہ زمین و آسمان کے بادشاہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوتا تو کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا ملائکہ کا کوئی لشکر اس کی اردلی میں آتا۔ سورة الدَّهْر 25 پہلے دو شرابوں کا ذکر گزر چکا ہے۔ ایک وہ جس میں آب چشمئہ کافور کی آمیزش ہوگی۔ دوسری وہ جس میں آب چشمئہ زنجیل کی آمیزش ہوگی۔ ان دونوں شرابوں کے بعد اب پھر ایک شراب کا ذکر کرنا اور یہ فرمانا کہ ان کا رب انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا، یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ کوئی اور بہترین نوعیت کی شراب ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل خاص کے طور پر انہیں پلائی جائے گی۔
Ayah 76:22

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ Open ayah 76:22 in the Quran reader

یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابلِ قدر ٹھہری ہے۔ 26

سورة الدَّهْر 26 اصل الفاظ ہیں کان سعیکم مشکورا۔ یعنی تمہاری سعی مشکور ہوئی۔ سعی سے مراد وہ پورا کارنامہ حیات ہے جو بندے نے دنیا میں انجام دیا۔ جن کاموں میں اس نے محنتیں اور جن مقاصد کے لیے اس نے اپنی کوششیں صرف کیں ان سب کا مجموعہ اس کی سعی ہے اور اس کے مشکور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ قابل قدر قرار پائی۔ شکریہ جب بندے کی طرف سے خدا کے لیے ہو تو اس سے مراد اس کی نعمتوں پر احسان مندی ہوتی ہے، اور جب خدا کی طرف سے بندے کے لیے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خدمات کی قدر فرمائی۔ آقا کی یہ بہت بڑی عنایت ہے کہ بندہ جب اس کی مرضی کے مطابق اپنا فرض انجام دے تو وہ اس کا شکریہ ادا کر۔
Ayah 76:23

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ Open ayah 76:23 in the Quran reader

اے نبی ؐ ، ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے، 27

سورة الدَّهْر 27 یہاں مخاطب بظاہر نبی ﷺ ہیں، لیکن دراصل روئے سخن کفار کی طرف ہے۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ یہ قرآن خود سوچ سوچ کر بنا رہے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرمان آتا تو اکٹھا ایک ہی مرتبہ آجاتا۔ قرآن مجید میں بعض مقامات پر ان کا یہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی 102۔ 104۔ 105۔ 106۔ بنی اسرائیل، 119) اور یہاں اسے نقل کیے بغیر اللہ تعالیٰ نے پورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اس کے نازل کرنے والے ہم ہیں، یعنی محمد ﷺ اس کے مصنف نہیں ہیں اور ہم ہی اس کو بتدریج نازل کر رہے ہیں، یعنی یہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے کہ اپنا پیغام بیک وقت ایک کتاب کی شکل میں نازل نہ کردیں، بلکہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے بھیجیں۔
Ayahs 76:24–26

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ Open ayah 76:24 in the Quran reader

لہٰذا تم اپنے ربّ کے حکم پر صبر کرو، 28 اور اِن میں سے کسی بد عمل یا منکرِ حق کی بات نہ مانو۔ 29

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ Open ayah 76:25 in the Quran reader

اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو

وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا Open ayah 76:26 in the Quran reader

رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے رہو۔ 30

سورة الدَّهْر 28 یعنی تمارے رب نے جس کار عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو، جو کچھ بھی تم پر گزر جائے اسے پا مردی کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ اور پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دو۔ سورة الدَّهْر 29 یعنی ان میں سے کسی سے دب کر دین حق کی تبلیغ سے باز نہ آؤ، اور کسی بد عمل کی خاطر دین کی اخلاقی تعلیمات میں، یا کسی منکر حق کی خاطر دین کے عقائد میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ جو کچھ حرام و ناجائز ہے اسے بر ملا حرام و ناجائز کہو، خواہ کوئی بد کار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی مذمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو۔ اور جو عقائد باطل ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور جو حق ہیں انہیں علانیہ حق کہو، چاہے کفار تمہارا منہ بند کرنے، یا اس معاملہ میں کچھ نرمی اختیار کرلینے کے لیے تم پر کتنا ہی دباؤ ڈالیں۔ سورة الدَّهْر 30 قرآن کا قاعدہ ہے کہ جہاں بھی کفار کے مقابلہ میں صبر و ثبات کی تلقین کی گئی ہے وہاں اس کے معاً بعد اللہ کے ذکر اور نماز کا حکم دیا گیا ہے، جس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دین حق کی راہ میں دشمنان حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اسی چیز سے حاصل ہوتی ہے، صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے سے مراد ہمیشہ اللہ کو یاد کرنا بھی ہوسکتا ہے، مگر جب اللہ کی یاد کا حکم اوقات کے تعین کے ساتھ دیا جائے تو پھر اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ آیت میں سب سے پہلے فرمایا اذکر اسم ربک بکرۃ و اصیلا۔ بکرہ عربی زبان میں صبح کو کہتے ہیں اصیل کا لفظ زوال کے وقت سے غروب تک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں ظہر اور عصر کے اوقات آجاتے ہیں۔ پھر فرمایا و من الیل فاسجد لہ۔ رات کا وقت غروب آفتاب کے بعد شروع ہوجاتا ہے، اس لیے رات کو سجدہ کرنے کے حکم میں مغرب اور عشاء، دونوں وقتوں کی نمازیں شامل ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ ارشاد کہ رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو، نماز تہجد کی طرف صاف اشارہ کرتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل حواشی 92 تا 97۔ جلد ششم، المزمل، حاشیہ 2)۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے یہی اوقات ابتدا سے اسلام میں تھے، البتہ اوقات اور رکعتوں کے تعین کے ساتھ پنجوقتہ نماز کی فرضیت کا حکم معراج کے موقع پر دیا گیا ہے۔
Ayah 76:27

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا Open ayah 76:27 in the Quran reader

یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دُنیا)سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 31

سورة الدَّهْر 31 یعنی یہ کفار قریش جس وجہ سے اخلاق اور عقائد کی گمراہیوں پر مصر ہیں، اور جس بنا پر آپ کی دعوت حق کے لیے ان کے کان بہرے ہوگئے ہیں، وہ دراصل ان کی دنیا پرستی اور آخرت سے بےفکری و بےنیازی ہے۔ اس لیے ایک سچے خدا پرست انسان کا راستہ ان کے راستے سے اتنا الگ ہے کہ دونوں کے درمیان کسی مصالحت کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayahs 76:28–29

نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا Open ayah 76:28 in the Quran reader

ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں اِن کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں۔ 32

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے

سورة الدَّهْر 32 اصل الفاظ ہیں اذا شئنا بدلنا امثالھم تبدیلاً۔ اس فقرے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم جب چاہیں انہیں ہلاک کر کے انہی کے جنس کے دوسرے لوگ ان کی جگہ لا سکتے ہیں جو اپنے کردار میں ان سے مختلف ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ ہم جب چاہیں ان کی شکلیں تبدیل کرسکتے ہیں، یعنی جس طرح ہم کسی کو تندرست اور سلیم الاعضاء بنا سکتے ہیں اسی طرح ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ کسی کو مفلوج کردیں، کسی کو لقوہ مار جائے اور کوئی کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو کر اپاہج ہوجائے۔ تیسرے یہ کہ ہم جب چاہیں موت کے بعد ان کو دوبارہ کسی اور شکل میں پیدا کرسکتے ہیں۔
Ayah 76:30

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader

اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ 33 یقیناً اللہ بڑا علیم و حکیم ہے

سورة الدَّهْر 33 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المدثر، حاشیہ 41۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 1، صفحہ 576)۔
Ayah 76:31

یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader

اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 34

سورة الدَّهْر 34 اس کی تشریح ہم اسی سورة کے دیباچہ میں کرچکے ہیں۔ (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر 2، صفحہ نمبر 577)۔